سندھ کی سہ رخی شخصیت ممتاز مرزا

سندھی ادب، ثقافت اور تاریخ کے حوالے سے خدمات سر انجام دینے والی شخصیات کا جب بھی ذکر آئے گا تب ممتاز مرزا کا نام لازمی لیا جائے گا۔ جن کی شخصیت سہ رخی بن کر ابھری اور ہر شعبے میں اپنا نام نمایاں کیا۔ ممتاز مرزا کی علمی، ادبی اور ثقافتی خدمات پر ایک مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ ممتاز مرزا کا تعلق حیدرآباد کے قدیم علاقے ٹنڈو آغا سے تھا۔ ان کے آبا و اجداد اٹھارہویں صدی

Read more

میں خدا پرست ہوں

  سائیں امر جلیل کہتے ہیں ”میں مسلمان ہوں اس لئے کہ میں نے مسلمان کے گھر میں جنم لیا اگر میں کسی ہندو یا عیسائی کے گھر جنم لیتا تو یقیناً ہندو یا عیسائی ہوتا“ میں خدا پرست ہوں میرے پاس خدا کے انکار کی کوئی دلیل نہیں ہے، نہ ہی میرے پاس اس کے ہونے کا کوئی مادی ثبوت ہے۔ مذاہب کہتے ہیں وہ عقل سے ماورا ہے، سائنس کہتی ہے جو مشاہدے اور تجربے سے ثابت ہو

Read more

کے ایل سیگل کی گائیکی کا سوز

(کندن لال سیگل پر محترم صحافی علی احمد خان کی یہ تحریر قریب 19 برس قبل بی بی سی اردو پر شائع ہوئی تھی۔) کندن لال سیگل 1904 میں پیدا ہوئے۔ مقام پیدائش کے بارے میں اختلاف ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ جموں میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد تحصیلدار تھے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ جالندھر میں پیدا ہوئے۔ میں اس بحث میں پڑنا نہی چاہتا اس لیے کہ ان جیسا فنکار یا انسان جہاں بھی پیدا

Read more

شاہراہ دستور پر لٹکا ہوا آئین

اس مرتبہ کے منگل وار سے نجانے کیا ہوا ہے کہ ”شاہراہ دستور“ پر وقت اور ساعتیں اپنی چلت پھرت کھو چکی ہیں۔ شاہراہ دستور پر چار سو سناٹے ایک پر ہول منظر پیش کر رہے ہیں۔ انصاف کے قانون میں لپٹے خوف کے سائے فرد کی ہمتوں میں پیوست کر کے ان میں پسپائی کے بے ثمر بیج بونے کی کوششیں جاری ہیں۔ سرد مائل خنک موسم بھی گھروں میں اضطرابی کیفیت سے گھوم رہا ہے۔ ملگجی موسم کی

Read more

شیما کرمانی۔ رقص اور مزاحمت

تحریک نسواں کی پنتالیسویں ( 45 ) سالگرہ پر شیما کرمانی نے نئے سال کے پہلے مہینے میں طلسم تھیٹر اینڈ ڈانس فیسٹیول 6 تا 22 جنوری منعقد کیا۔ ذرا سوچیں سترہ دن تک روز ایک پروگرام پیش کرنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ آرٹس کونسل کراچی کے احمد شاہ نے اپنا بڑا آڈیٹوریم فراہم کیے رکھا۔ اس کی بھی داد دینی چاہیے۔ ویسے تو سارے ڈرامے ایک سے بڑھ کر ایک تھے مگر اٹھارہ جنوری کو امر جلیل

Read more

صدر کلنٹن کی رپورٹ اور آفات کے بعد کی تعمیرات

ہر گزرتا ہوا دن موسمیاتی بدلاؤ کے شدید اثرات پوری دنیا میں ظاہر کرتا نظر آ رہا ہے۔ اک بات جو محققین کی نظر میں اہم بن گئی وہ یہ کسی بھی آفت کے بعد میں جو تعمیر اور بحالی کے کام تھے۔ وہ اتنے بہتر نہ تھے ؛ اس لیے ہر آنے والی نئی آفت سخت و تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔ اس لیے Building Back Better (BBB) کی حکمت عملی پر کافی کام ہوا ہے۔ جب میں

Read more

! کہیں سے مجھے کھموں ملاح لادو

بلوچستان، سندھ، جنوبی پنجاب اور اب کے پی، سب ڈوب رہے ہیں۔ بے یاری و مددگاری اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ پورے پاکستان میں زندگی بوجھ لگنے لگی ہے۔ میں اپنے شہر گھوٹکی سے لے کر زیرو پوائنٹ بدین تک، سب کچھ پانی کے حوالے ہوتے ہوتے دیکھ رہا ہوں۔ حکومتی لوگ، تنظیمیں اور ادارے شاید کچھ نہ کچھ کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ امید کی کرن بنے ہوئے ہیں۔ پر کہیں بھی مجھے کھموں ملاح نظر نہیں آ

Read more

توہین خدا، حافظ خدا بخش اور امر جلیل

خبر ہے سندھ کے ضلع مٹیاری کے نواحی گاؤں اڈیرو لال میں واقع ایک مسجد کے پیش امام حافظ خدا بخش چھٹو کے خلاف مسجد میں ایک 12 سالہ بچے شاہزیب کے ساتھ زبردستی بدفعلی کے الزام میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 اور 377 کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق زیادتی کا نشانہ بننے والے بچے کے والد اللہ جڑیو کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں یہ اطلاع

Read more

قلم کے دھنی

صاحبان قلم کا ایک اژدھام ہے اخبارات کے ادارتی صفحے بھرے پڑے ہیں مختلف موضوعات پر خامہ فرسائی ہو رہی ہے ارباب قلم میں طبقہ اناث نے بھی اپنا حصہ ڈالا ہوا اپنے استعداد کے مطابق لکھ رہی ہیں یہ ایک خوش آئند بات ہے ایک جمہوری ریاست میں ان کا بھی حق ہے وہ اپنا نکتہ نظر بیاں کر سکیں۔ بلاشبہ ہر ایک کا اپنا طرز تحریر ہے۔ جس طرح میں نے پہلے بھی کہا کہ لکھنے والوں کی کمی

Read more

جنرل مرزا اسلم بیگ کی مجبوریاں

اگر کسی مجبوری کے تحت آپ کو اقتدار کی مجبوریاں پڑھنی پڑھ جائے تو میری طرح شاید آپ کے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہو کہ اللہ وہ دن ہم سب پر لائے جب ہم اپنے باس کو کہہ سکیں اللہ حافظ، میں تو اپنے جہاز پر جا رہا ہوں: پڑھیے محمد حنیف کا کالم

Read more

نورالہدیٰ شاہ سندھ ہے

یہ 1976 کی یہی رت یہی زمانہ تھا جب میں اور میرا دوست اور روم میٹ منظور عباسی اس نوجوان سندھی خاتون کی تحریر و تصاویر سے قتیل ہوئے تھے، جو حیدرآباد سے نثار حسینی اور اس کی ٹیم کی طرف سے شائع ہونے والے جریدے “؛نئون نیاپو” (نیا پیغام) میں چھپی تھیں۔ اتنی جرات مند کہانیاں اور انٹرویو! کون ہیں یہ، خاتون؟ کسی نے کہا کہ یہ لاہور اور جدہ میں پلی بڑھی ہیں لیکن ان کا تعلق ٹکھڑ

Read more

فیس بکی بلبلے اور رشتوں کی ڈوبتی ہوئی ناؤ

کچھ عرصہ سے سوشل میڈیا کا استعمال حد سے زیادہ بڑھ گیا ہے جس کے ہمارے معاشرے پر حسب معمول مثبت سے زیادہ منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ میں اپنا تجربہ شیئر کرتا ہوں۔ کتب بینی کا جنون کی حد تک شوق رکھتا تھا۔ فوج کے تعلقات عامہ کے سابق ڈی جی شہید صدیق سالک لکھتے ہیں جب انڈین جیل میں تھے تو مجھے سب سے زیادہ تکلیف کتابوں سے دوری سے ہوئی۔ پھر یہ کرتا کہ ہمیں واش روم

Read more

انارکی: ایسٹ انڈیا کمپنی سے بحریہ ٹاؤن تک

ولیم ڈال رمپل کی کتاب, "دی انارکی” پڑھنے کا موقع ملا. اس کتاب نے ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی سرکار کے کردار پر دنیا میں ایک نیا بحث چھیڑ دیا ہے. اس کتاب کی خاص خوبی یہ ہے کہ اس نے ہندوستاں میں برٹش راج کے ان پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے جو عمومی طور بہت کم زیر بحث رہے ہیں. یہ ہی وجہ ہے آج تک ہندوستان کی جدید تاریخ کہ مطلق جو بھی چند کتابیں پڑھنا نصیب ہوئی

Read more

یقیں محکم، عمل پیہم، جہالت فاتحِ عالم

اسی لیے اگر ہم اپنے ارد گرد بغور اور مسلسل دیکھیں تب کہیں یہ حقیقت کھلتی ہے کہ اہلِ علم تو اپنا دامن بازارو دانش کے چھینٹوں سے بچاتے ہوئے اکثر گوشہِ عافیت میں نظر آتے ہیں اور جہالت اور وہ بھی دو نمبر جہالت گلی گلی سینہ پھلائے پھرتی ہے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات۔

Read more

زندگی کا بجٹ موت پر لگانے والے ایٹمی پڑوسی

ستر برسوں کی جنگی مقابلہ بازیوں میں کبھی ایک نے برتری کا دعوی کیا تو کبھی دوسرے نے غلبے کے بھاشن دیے۔ فتح و نصرت اور عزم و ہمت کے کون کون سے حوالے ہیں، جو ان کے نصابوں، کہانیوں اور فلموں میں موجود نہیں ہیں۔

وقت پڑا تو معلوم ہوا کہ پون صدی سے یہ مقابلہ موت کی خیرات بانٹنے میں ہو رہا تھا۔ زندگی کے امتحان میں جب سانسوں کا سوال آیا تو بندہ بشر کو دینے کے لیے ان کے پاس نا تو آکسیجن سلینڈر تھا اور نہ ہی وینٹی لیٹر۔

مشکل یہ ہے کہ انڈو۔ پاک کے شفا خانوں میں بھاگتے دوڑتے تیمار دار اس حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گے کہ بازار میں سانسوں کا بحران اس لیے پیدا ہوا ہے کہ یہاں زندگی کا بجٹ موت پر لگ گیا ہے۔

Read more

امر تو امر ہے

امر کا ہندی زبان میں مطلب ہے جو کبھی فنا نہ ہو یعنی لافانی۔ امر جلیل سندھی زبان کا وہ لکھاری ہے جو برسوں سے نوجوان ہے۔ اس لیے ہی وہ امر ہیں۔ میں امر جلیل کی کتابیں اپنے اسکول کے دنوں سے پڑھتا آ رہا ہوں۔ ان کی ہر کہانی، افسانہ یا تحریر مجھے اپنی لگتی ہے۔ انہیں پڑھ کر ہی مجھے لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ میری امر جلیل سے کبھی رو بہ رو ملاقات نہیں ہوئی۔ ان

Read more

امر جلیل کا خدا اور ہمارا

پہلے دل میں خیال آیا کہ بڑا رائٹر ہے پھڈا بھی بڑے سے ہی لیا ہو گا۔ لیکن پھر قتل کی دھمکیاں اور اُمت اخبار کی ہیڈ لائنیں دیکھیں تو دل خوف سے بھر گیا۔ امر جلیل کے لیے بھی اور اپنے لیے بھی۔ سوچنے لگا کہ کیا ہمیں اب اپنے خدا سے بات کرنے کے لیے بھی ٹوئٹر پر توہین تلاش کرتے لونڈوں سے اجازت لینی پڑے گی؟ پڑھیے محمد حنیف کا کالم

Read more

کیا امر جلیل صاحب کی تحریر نطشے کی تمثیل کی بازگشت ہے؟

امر جلیل صاحب کی ایک تحریر ”خدا گم گیا ہے“ آج کل بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ اس تحریر پر طرح طرح کے تبصرے پڑھنے اور سننے کو مل رہے ہیں۔ لیکن کسی بھی تحریر یا نظریے پر دلائل کے ساتھ بحث ہونی چاہیے۔ کچھ لوگ اس تحریر یا نظریہ کے حق میں ہوں گے اور کچھ لوگ اس کے خلاف ہوں گے۔ صرف مقدموں کی دھمکیاں دینے سے اور الزام تراشی سے کوئی علمی بحث نہیں ہو سکتی۔

Read more

ٹھرکی بڈھے

پیاری تحریم، سویٹ لبنی مرزا، درویش خالد سہیل، امر جلیل صاحب اور ریاست مدینہ کے خلیفہ وقت سب محبت قبول کیجئے۔ تحریم آج بات سب سے کرنی ہے۔ مگر شروع تم سے کرتے ہیں کہ تم ہم سب سے چھوٹی ہو۔ تم وہ یوتھ ہو، جس کے لئے ہم نے دھرنا دھرنا کھیلا تھا۔ اور ملکی تاریخ میں سنا ہے جتنی فحاشی تب ریکارڈ کی گئی، کبھی نہیں ہوئی۔ آج ہم اسی کے ثمرات سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔

Read more

خُدا کی گمشدگی کا مقدمہ

امر جلیل ایک ہمہ جہت فنکار ہیں۔ میں اُنہیں اُردو کے کالم نگار کے طور پر ہی جانتا تھا اور برسوں اُن کی پُر مغز تحریروں سے لطف اندوز ہوتا رہا ہوں لیکن بھلا ہو یا بُرا ہو اِس پردیس کا کہ اُس نے مجھے پاکستانی صحافت کے اثرات سے دور اور محفوظ کردیا ہے۔ اب اُتنا ہی پڑھ پاتا ہوں جتنا انٹرنیٹ پر دستیاب ہو اور چونکہ پردیس اور عمر رسیدگی کے اپنے الگ تقاضے ہیں اس لیے امرجلیل

Read more

خدا گم نہیں ہوا

کسی کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی دوسرے سے وہ آزادی چھین لے جو خود خدا نے اس کو دی ہے۔ انسان کو اتنا پابند سلاسل نہ کیا جائے کہ وہ اپنے ہی خالق سے گلے شکوے نہ کر سکے، سوالات نہ پوچھ سکے اور جستجو کر کے اس کی پہچان نہ کر سکے۔ اگر انسان اپنے وجود، مقصد تخلیق، فلسفۂ حیات، قضیۂ مکان و لامکاں، ہنگامۂ ہست و نیست اور اس طرح اور بہت سارے گورکھ دھندے خدا سے ڈسکس نہ کرے تو کیا اپنی ہی جیسی مخلوق سے ڈسکس کرے جو خود خدا کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہے اور یا خدا کی غلط پہچان کر کے اسی پر اکتفا کر بیٹھی ہے؟

Read more

ملک بھر کے دانشوروں اور سول سوسائٹی کا امر جلیل کی حمایت میں بیان

ہم زیر دستخطی، ملک بھر کے مختلف حصوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے ادیب، شاعر، دانشور، انسانی حقوق کے کارکن، وکلاء، صحافی، ڈاکٹر، اساتذہ، طلباء اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شہری حالیہ دنوں میں ملک کے معروف ادیب،کالم نگار اورمفکر جناب امر جلیل صاحب کو دی جانے والی دھمکیوں اور ان کے خلاف نفرت انگیز اور اشتعال انگیز پروپیگنڈے کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ ہم ریاستِ پاکستان، وفاقی حکومت اور حکومتِ سندھ سے جناب

Read more

”بے سمتی کے دن“ کی بے چہرگی

مجھے کیا معلوم تھا کہ آج صبح جب میں ”بے سمتی کے دن“ کھولوں گا تو ایک جہان حیرت میں غرق ہو جاؤں گا۔ آج کی صبح کا منظر بہت جان لیوا تھا۔ ہلکی ہلکی بوندیں گر رہی تھیں اور نیو ہاسٹل کے لان میں لگے پام کے درخت رقصاں تھے۔ بادلوں نے سایہ کر رکھا تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا نے اپریل کی گرماہٹ کو زیر کر رکھا تھا۔ ایسے میں عرفان شہود کی آزاد نظموں کی پہلی کتاب ”بے

Read more

روزنامہ امت، پاکستانی صحافت اور آگ کا دریا

برصغیر پر ڈھائی ہزار برس کی حکمرانی، فتوحات، پرانی تہذیبوں کا اجڑنا، نئی تہذیبوں کا جنم لینا، اسکول کے دنوں میں قرۃ العین حیدر کے مشہور ناول ’آگ کا دریا‘ میں یہ سب پڑھنے کا موقع ملا۔ انگریزوں کا قبضہ، برطانوی راج میں آزادی کی جنگ کو ظالمانہ انداز میں کچلا جانا، پھر بٹوارہ اور خون خرابہ۔

Read more

امرجلیل تو امر ہے

پرویزعلی ہود بھائی نے ”مسلمان اور سائنس“ کے عنوان سے ایک کتاب لکھ رکھی ہے۔ اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں : امام احمد بن حنبل کے پوتے عبدالسلام نے فلسفہ میں دلچسپی ظاہر کی تو اس کے دشمنوں نے اسے برباد کر دیا۔ خانہ تلاشی کے دوران اس کے گھر سے اخوان الصفا کے رسالے، جادو، جوتش اور نجوم پر کتابیں اور سیاروں کے لئے دعاؤں کے کتابچے برآمد ہوئے۔ یہ سب عبدالسلام کے ہاتھ کے لکھے ہوئے تھے۔

Read more

امر جلیل اور ممتاز مفتی کا خدا

ہمارے پہاڑوں میں ایک کہاوت مشہور ہے۔ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں ایک گڈریا نظر آیا جو ریوڑ کو چرنے کے لیے چھوڑ کر خود ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام قریب گئے اور ان کی باتیں سننے لگے۔ گڈریا کہہ رہا تھا کہ اے خدا تو میرے پاس ہوتا تو میں تیرے بالوں پر تیل لگاتا، کنگھی کرتا، تیرے آنکھوں میں سرما ڈالتا،

Read more

علامہ ابن کثیر سے لے کر امر جلیل تک

حضرت موسیٰ علیہ السلام کسی مقام سے گزر رہے تھے کہ ان کی نظر ایک چرواہے پر پڑی۔ وہ اپنے خدا کے ساتھ محو گفتگو تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ یا اللہ اگر تو میرے پاس ہو تو میں تیرے بالوں میں کنگھی کروں، تیری جوئیں نکالوں، تیری خدمت کروں، تجھے کھانے پینے کے لیے کچھ پیش کروں، اگر تو بیمار ہو تو تیری تیمار داری کروں، اگر مجھے تیری رہائش کا علم ہو تو میں صبح شام تمہارے

Read more

وتایو فقیر، امر جلیل اور خدا

پہلی بار ممتاز مفتی کا سفرنامہ لبیک پڑھا اور کعبے کے لیے کوٹھے کا استعارہ اور اللہ سے آنکھ مٹکے کی بات دیکھ کر چار سو چالیس وولٹ کا جھٹکا لگا مگر پھر مولوی احمد دین کا سنایا ہوا موسیٰ اور گڈریے کا قصہ یاد آ گیا۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

خدا کی بستی میں بستا سائیں امر جلیل

پولیس کے چاق و چوبند دستے گاڑیوں سے اتر رہے ہیں اور پھرتی سے یہاں وہاں پوزیشن سنبھال رہے ہیں۔ نیچے سڑک پر اوپر عمارتوں پر شکرا نظر بندوقچی سانس بند انداز میں کھڑے ہو گئے ہیں۔ خاتون نے گھر کی طرف بڑھتے بڑھتے ایک اچھلتے پھدکتے افسر سے سہمے ہوئے انداز میں پوچھا، خیر تو ہے کون سا قیامت آ گیا ہے؟ افسر بولا، وزیر اعظم آ رہا ہے۔ یہ سنتے ہی خاتون کی سانس بحال ہو گئی۔ طنزیہ سے انداز میں مسکرائی اور بولی، مڑا اچھل کود تو تم لوگوں نے ایسا لگا رکھا ہے، جیسے ڈپٹی کمشنر آ رہا ہے۔

Read more

امر جلیل فتووں کی زد میں

چند دنوں سے تنگ نظری کی توپوں کا رخ سندھ کے نامور ادیب اور صوفی منش انسان امر جلیل کی طرف ہے، اعتراض ان کا ایک افسانہ بعنوان ”خدا گم ہو گیا ہے“ پر ہے۔ الزامات کی زد میں آنے کی وجہ سے اس افسانہ کو پڑھنے کا اتفاق ہوا مگر اس میں کوئی قابل اعتراض بات نظر نہیں آئی سوائے شعوری ارتقا کے، دانشور سماج کا آئینہ ہوتے ہیں اور ان کی یہ منشا ہوتی ہے کہ ان کے قارئین بھی آہستہ آہستہ شعوری بلندیاں چڑھیں تاکہ وہ بھی اس نظر سے کائنات کے رموز و اسرار کو پرکھیں جس سے پوری تصویر واضح ہو۔

Read more

امر جلیل کی کہانی پر ردعمل

امر جلیل سندھی ادیب ہیں، میں نے کبھی اس کا کوئی افسانہ نہیں پڑھا ہے، ایک زمانے میں روزنامہ جنگ میں ان کی فکاہیہ و طنزیہ تحریریں پڑھتا رہا ہوں، سماجی مسائل پر اپنے مخصوص انداز میں لکھتے ہیں، صوفی منش اور اپنی دنیا میں مگن رہنے والے انسان ہیں، ان کی شخصیت کی کئی پرتیں اور کئی پہلو ہوں گے، سوچنے لکھنے، پڑھنے اور بولنے کا اپنا انداز ہوگا، جن سب سے نہ ہم واقف ہیں اور نہ ہی واقف ہونے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

Read more

میرا خدا تمہاری مرضی لیکن کیوں

جب سے آنکھ کھولی تو خدا سے میرا پہلا تعارف یہ ہوا کہ اگر کچھ بھی غلط کیا تو تم جہنم میں جاؤ گی کیونکہ جو بچے بات نہیں مانتے ان کو اللہ تعالی کی جانب سے بھی سخت سزا ملتی ہے۔ اگر اللہ تعالی ناراض ہوں تو پھر بات نہیں سنتے یہ نہیں بتایا کہ اس کی ذات تو رحیم اور کریم ہے ستر ماؤں سے بڑھ کر چاہتی ہے۔ یہ نہیں بتایا کہ خالق اور مخلوق کے درمیان خوف کا نہیں محبت کا رشتہ ہے۔

Read more