ماہم اور نانی اماں کے بیچ بھی ایک ماں پڑتی ہے
میں جب کوئی امتحان دیتی، کسی کانفرنس میں شرکت کرنے دوسرے ملک جاتی، ماہم امی کے پاس پہنچ جاتی. امی اسے سینے سے لگاتیں، ساتھ سلاتیں، نہلاتی دھلاتیں، خود جھک کے پاؤں میں موزے پہناتیں، سکول بھجتیں، خرچ کرنے کو پیسے دیتیں، سکول واپسی پہ گیٹ پہ انتظار کرتی ملتیں، اس کی پسند کا کھانا بناتیں، اپنے ہاتھ سے کھلاتیں، لاڈ اٹھاتیں اور کافی حد تک بگاڑ کے دوبارہ میرے حوالے کرتیں۔
مجھے اور امی کو ہمیشہ ایک دوسرے سے گلہ رہا، ماہم کے حوالے سے۔ وہ ماہم کی ساری شکایتیں سن چکی ہوتیں اور انہیں میری سختی کرنے کی عادت سخت بری لگتی، جبکہ مجھے ان کی ہر بات ماننے والی عادت سے کوفت ہوتی۔ اس پہ وہ فورا کہتیں
” کیا میں نے تمہیں اس سختی سے پالا، اگر چہ تم ایک انتہائی بدتمیز بچہ تھیں “.
اس کے بعد وہ ماہم کو وہ سارے قصے سناتیں جب جب میری شرارتوں نے انہیں زچ کیا تھا۔ اور وہ میری ضد ماننے پہ مجبور ہوئی تھیں اور میرے تمام شوق پورے کرنے کے لیے کیا کیا نہ کیا تھا اور ماہم ان سارے قصوں کا استعمال بوقت ضرورت، بدرجہ اتم کرتی۔
کالم پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں۔
https://www.humsub.com.pk/237135/tahira-kazmi-22/
Read more