آہ! مشاہد اللہ خان
اعلیٰ نثر نگاری کا کبھی دعویٰ نہیں رہا الفاظ ہمیشہ ٹوٹے پھوٹے ہی محسوس ہوئے مگر آج اگر آپ کو الفاظ کی شکستگی اور محسوس ہو تو خیال کیجیے کہ اس لمحے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں ، دل کی دھڑکنیں بے ربط محسوس ہو رہی ہیں، آنکھیں آنسوؤں سے بوجھل ہیں۔ فون اٹھایا ، میسج پڑھا اور فون ہاتھوں سے چھوٹ گیا۔ مشاہد اللہ خان چل بسے ، وہاں جا کر بس گئے ہیں جہاں سے ہم بے خبر ہیں۔ یہ مشرف دور کے بالکل ابتدائی دنوں کی بات ہے ، مشاہد اللہ خان کے نام سے شناسا تھا مگر ان سے ملاقات نہیں تھی۔
جاوید ہاشمی کی مشاہد اللہ خان سے بہت قربت تھی اور میری بھی ان سے نیاز مندی تھی ۔ انہی کی بدولت مشاہد اللہ خان سے پہلا تعارف ہوا جو پھر ان کی زندگی کے آخری لمحے تک قائم رہا۔ مشاہد اللہ خان مشرف دور کے اولین اسیروں میں سے تھے اور میں بھی مشرف کی آمریت کے خلاف جوش سے بھرپور تھا ، یوں دوستی خوب پروان چڑھی۔ ان سے پہلی ملاقات کے بعد آخری دم تک وہ جب کبھی بھی لاہور تشریف لائے ، ان سے ضرور ملاقات ہوئی جبکہ میں جب کبھی بھی اسلام آباد گیا تو ضرور ان کی زیارت کی۔
Read more



