آہ! مشاہد اللہ خان

اعلیٰ نثر نگاری کا کبھی دعویٰ نہیں رہا الفاظ ہمیشہ ٹوٹے پھوٹے ہی محسوس ہوئے مگر آج اگر آپ کو الفاظ کی شکستگی اور محسوس ہو تو خیال کیجیے کہ اس لمحے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں ، دل کی دھڑکنیں بے ربط محسوس ہو رہی ہیں،  آنکھیں آنسوؤں سے بوجھل ہیں۔ فون اٹھایا ، میسج پڑھا اور فون ہاتھوں سے چھوٹ گیا۔ مشاہد اللہ خان چل بسے ، وہاں جا کر بس گئے ہیں جہاں سے ہم بے خبر ہیں۔ یہ مشرف دور کے بالکل ابتدائی دنوں کی بات ہے ، مشاہد اللہ خان کے نام سے شناسا تھا مگر ان سے ملاقات نہیں تھی۔

جاوید ہاشمی کی مشاہد اللہ خان سے بہت قربت تھی اور میری بھی ان سے نیاز مندی تھی ۔ انہی کی بدولت مشاہد اللہ خان سے پہلا تعارف ہوا جو پھر ان کی زندگی کے آخری لمحے تک قائم رہا۔ مشاہد اللہ خان مشرف دور کے اولین اسیروں میں سے تھے اور میں بھی مشرف کی آمریت کے خلاف جوش سے بھرپور تھا ، یوں دوستی خوب پروان چڑھی۔ ان سے پہلی ملاقات کے بعد آخری دم تک وہ جب کبھی بھی لاہور تشریف لائے ، ان سے ضرور ملاقات ہوئی جبکہ میں جب کبھی بھی اسلام آباد گیا تو ضرور ان کی زیارت کی۔

Read more

امریکہ جنوبی ایشیا پالیسی

بہرحال ٹرمپ سبکدوش ہو گئے اور جو بائیڈن امریکی منصب صدارت پر جلوہ افروز ہو گئے۔ میں نے انہی کالموں میں کچھ افراد کے حوالے سے خیال ظاہر کیا تھا کہ وہ نئی امریکی انتظامیہ کا حصہ ہوں گے اور میرا یہ خیال درست ثابت ہو گیا۔ اہم ترین سوال یہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کی جنوبی ایشیا بالخصوص وطن عزیز کے حوالے سے کیا حکمت عملی ہوگی؟ امریکہ میں سب کچھ ایک مربوط طریقہ کار سے ہوتا ہے اور

Read more

غداری بے نتیجہ نہیں رہتی

وطن عزیز کے مقتدر طبقات میں یہ سوال آزادی کے فوری بات سے گردش کرنے لگا تھا کہ ملک کے نظم و نسق میں ہمارا کردار کتنا طاقتور ہوگا؟ قائد اعظم اور دیگر مسلم لیگی قائدین کے ساتھ ساتھ اس وقت تک کی حزب اختلاف کے قائدین کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ ملک کسی فوجی آمریت کی قید میں جا سکتا ہے۔ وہ ایک دوسرے سے نئے حالات میں مقابلہ کرنے کے لیے کمر کس لیتے تھے مگر سیاسی میدان کے شہسواروں کے علاوہ دیگر طاقتور طبقات اپنا مسلمہ جمہوری روایات سے ہٹ کر کردار مانگ رہے تھے بلکہ با الفاظ دیگر ایسا کرنے کی ٹھان چکے تھے جس کی ایک جھلک قائداعظم کی جنرل اکبر خان سے وہ معروف گفتگو ہے جس کے بعد قائداعظم نے اپنی تقریر میں ضروری خیال کیا کہ افسران کے حلف کے الفاظ کو دوبارہ دوہرا کر ان کو ان کے حقیقی فرض تک محدود رکھنے اور رہنے کی تلقین اور نصیحت کی جائے۔

Read more

امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ، مشعل راہ

نظریات کی آبیاری ناصرف کے اپنے خون سے کی جاتی ہے بلکہ الزامات، دشنام تراشی کا مقابلہ بھی مردانہ وار کرنا ہی اس راہ میں بچھے کانٹے چننے کے لئے واحد راستہ ہے۔ جب بھی صاحبان طاقت کی طاقت کو کسی سے خطرہ درپیش ہوتا ہے تو غلط صحیح کی تمیز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہر حربہ اس خطرے کو رفع کرنے کی غرض سے اختیار کرتا ہے۔ وطن عزیز کی بھی یہی تاریخ ہے جو کوئی بھی غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہیں اس کے اوپر ہر قسم کا الزام ہر قسم کی گالی گلوچ اس کا راستہ روکنے کے لئے سامنے آ جاتی ہے لیکن ہمارا وتیرہ یہی ہونا چاہیے کہ ہم صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہے کیونکہ ہمیں طاقت سے ٹکرانے کا درس اپنے اسلاف سے بدرجہ اتم حاصل ہوا ہے۔

Read more

رؤف طاہر قطر اور سانحہ مچھ – مکمل کالم

جب میں یہ الفاظ تحریر کر رہا ہوں تو اس سے کسی قاری کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ امریکہ کے مقابلے میں پاکستان کیا ڈپلومیسی اختیار کر سکتا تھا؟ امریکہ کی طاقت بہت زیادہ ہے اور ہمارا ہچکولے لیتا سیاسی نظام مزید سہولت فراہم کر دیتا ہے۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے اگر ہم گرد و نواح پر نظر دوڑائیں اور قرب و جوار کے ممالک کی خارجہ حکمت عملی کا مطالعہ کریں تو قطر ایک ایسے ملک کے طور پر صاف نظر آئے گا کہ جس نے اپنے سے زیادہ طاقتور ملک کے سامنے جھکنے کی بجائے ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ اس سے معاملات سلجھنے کی جانب گامزن ہو چکے ہیں۔

Read more

ایک لقمے کی خاطر حکمران کیا کر گزرتے ہیں

عباسی خلیفہ ہارون رشید نے ایک دن شاہی باورچی خانے کے اپنے خاص باورچی کو طلب کیا اور اس سے دریافت کیا کہ کیا تمہارے پاس جزدر جو ایک نایاب جانور تھا اور اس کا گوشت بازار میں دستیاب نہ ہوتا تھا کا گوشت ہے؟ باورچی نے جواب دیا کہ جی مختلف قسم کا موجود ہے۔ ہارون رشید نے کہا کہ آج دسترخوان پر اس کو پیش کرو چنانچہ جب کھانا اس کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے جزدر کے گوشت کا ایک ٹکڑا اٹھایا اور منہ میں رکھ لیا۔

Read more

کچھ حاصل نہیں ہوگا

عرب دنیا میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا رواج تیزی سے زور پکڑ رہا ہے، ایسے میں اِس کا امکان سرے سے موجود نہیں تھا کہ یہی سوال پاکستان میں دوبارہ زیر بحث نہیں آئے گا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے ہمارا مؤقف کیا ہے اور کیا ہونا چاہئے؟ سوال یہ ہے کہ ہم نے اسرائیل کو اب تک تسلیم کیوں نہیں کیا ہے اور ہمارے اِس موقف سے ہمیں کیا فائدہ یا نقصان

Read more

نواز شریف کی پیشکش

پر امن معاشرے کے قیام کی اولین بنیاد بقائے باہمی کے اصول کو تسلیم کرنا ہوتا ہے اس کی مختلف تحریکیں سامنے آتی رہی ہے کہ کیسے ایک دوسرے کے نظریات کو برداشت کرتے ہوئے باہمی احترام و محبت کو قائم کیا جا سکتا ہے۔ پروفیسر سرور نے اپنی کتاب ”مولانا عبید اللہ سندھی حالات و افکار“ میں ابن عربی کے اشعار نقل کیے ہیں انسانی معاشرے کی بقا کے لیے کیا کمال کی پکار، ابن عربی نے فکر دی کہ ”آج کے دن سے پہلی میرا حال یہ تھا کہ جس ساتھی کا دین مجھ سے نہ ملتا میں اس کا انکار کرتا اور اسے اجنبی سمجھتا۔ لیکن اب میرا دل ہر صورت کو قبول کرتا ہے وہ چراگاہ بن گیا ہے غزالوں کی اور دیر راہبوں کے لیے، آگ پوجنے والوں کا آتش کدہ اور حج کا قصد کرنے والوں کا کعبہ، توریت کی الواح اور قرآن کا صحیفہ، میں اب مذہب عشق کا پرستار ہوں عشق کا قافلہ جدھر بھی مجھے لے جائے۔ میرا دین بھی عشق ہے میرا ایمان بھی عشق ہے“ انسانی معاشرے کے لیے کیا امن کا پیغام اس میں موجود ہے کمال ہے۔ ایک شاندار صوفیانہ رنگ اور اسی فکر کی سیاسی تعبیر معاشرے کا ایک عادلانہ عمرانی معاہدے میں بندھ جانا ہے۔

Read more

جو بائیڈن کا امریکہ اور پاکستان کی خارجہ حکمت عملی

امریکی انتخابات سے قبل اور اس کے بعد بھی پاکستان کے اردگرد تبدیلیاں بہت تیزی سے رونما ہو رہی ہے جو پاکستان پر براہ راست اثرانداز ہو رہی ہے یا ہو سکتی ہے۔ متحدہ عرب امارات کرونا وائرس کے سبب سے پاکستان ترکی اور ایران پر پابندیاں عائد کر رہا ہے مگر انڈیا اور اسرائیل جہاں کرونا ان ممالک سے کہیں زیادہ ہے وہاں کے حوالے سے رویہ دوسری طرح کا ہے۔ برسبیل تذکرہ چین کے صدر شی جن پنگ کی جی ٹوئنٹی کانفرنس میں کرونا ویکسین پر عالمی کوآپریشن کے بیان کا ذکر کروں گا کہ اس مسئلہ کو وہ صرف انسانی بنیادوں پر دیکھ رہے ہیں اور سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔

عرب دنیا میں ایک تبدیلی کی لہر اس حد تک ہے کہ نیوم میں اسرائیلی وزیراعظم، موساد کے سربراہ اور مائیک پومپیو کی ایک عرب شخصیت سے ملاقات کی خبریں گردش کر رہی ہے۔ ان حالات میں یہ جاننا اور سمجھنا بہت ضروری ہو جاتا ہے کہ امریکہ کی اگلی حکومت کی خارجہ پالیسی پاکستان اور خطے کے متعلق کیا ہوگی؟ تاکہ ان تمام چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کے پالیسی ساز اپنی ترجیحات کو متعین کریں یہ بات بہت اہمیت رکھتی ہے کہ امریکہ میں ایک تبدیلی ضرور رونما ہوگی کہ وائٹ ہاؤس سے براہ راست معاملات نبٹانے کی کوششوں کو ترک کر کے جو بائیڈن انتظامیہ اداروں کے ذریعے پالیسی سازی اور اس پر عمل درآمد کریں گی جس سے ایک بار دوبارہ ادارہ جاتی تعلقات بڑھ جائیں گے۔

Read more

جو بائیڈن کی پاکستان، کشمیر اور مشرق وسطیٰ کی پالیسی کیسی ہو گی

یہ دو ہزار آٹھ کی بات ہے امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن اس وقت پاکستان کے دورے پر آئے تھے۔ میری ان سے اسلام آباد میں ملاقات ہوئی۔ اس وقت سے ان کے متعلق ایک گہرا تاثر لیا کہ وہ ناصرف کے ان حالات سے آگاہ ہے جو پاکستان کی اسٹرٹیجک اہمیت کو اور امریکہ کے لیے اس کی ضرورت کو واضح کرتے ہیں بلکہ وہ پاکستان کی داخلی سیاست اور اس کی رمزوں سے بھی آشنا ہیں۔ ان کی گفتگو ایک سیاستدان کی کسی معاملے پر گہرے غور و خوض کی آئینہ دار تھی۔

گزشتہ برس بھی ان کے قریبی ساتھی ڈاکٹر ڈینیل مارکی سے ان کی نامزدگی پر بات ہو رہی تھی تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ نامزدگی کا عمل مکمل ہوتے ہی معاملات درست سمت میں رواں ہو جائے گے کیوں کہ یہ امریکی جمہوری کلچر بھی ہے اور جو بائیڈن میں یہ کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔ جو بائیڈن کو ٹرمپ کے مقابلے میں ایک معاملہ بہت گہرا فرق کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ جو بائیڈن نے اس مقام کو سینیٹر شپ اور اس سے وابستہ سیاست کرتے ہوئے حاصل کیا ہے جب کہ ٹرمپ کے پاس یہ تجربہ نہیں تھا بلکہ کلنٹن، بش جونیئر وغیرہ بھی گورنری سے صدارت تک آئے تھے اور ان کے پاس بھی سینٹ میں کام کرنے اور مختلف امور کو باریک بینی اور گہرائی سے دیکھنے کا تجربہ نہیں تھا دوسرے لفظوں میں وہ معاملات سے اس طرح وابستہ نہیں تھے کہ جیسے جو بائیڈن رہ چکے ہیں۔

Read more

انکل میرے بابا مر گئے ہیں

یہ پرویز مشرف کے اقتدار کا قصہ ہے میں کراچی موجود تھا۔ اپنے ایک دوست کے گھر پہنچا کے اس کو ہمراہ لے جانا تھا وقت طے تھا مگر انتظار کرنا پڑا میرا دوست وقت کا پابند تھا مگر دیر کر رہا تھا۔ سامنے آیا تو دیر کی سمجھ بھی آ گئی۔ اس کی گردن میں اس کا کوئی پونے سات برس کا بیٹا لٹکا تھا جو باپ سے بضد تھا کہ میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گا۔ یار میں کام سے جا رہا ہوں آپ کو ساتھ لے کر کیسے جاؤں۔ نہیں میں جاؤں گا باپ کی گردن اس نے مزید بھینچ لی۔

اچھا جب میں آفس میں کام سے چلا جاؤں گا تو آپ کہاں بیٹھوں گے؟ آپ کے ساتھ میں آفس چلا جاؤں گا پٹ پٹ کرتی زبان سے جواب حاضر تھا۔ اچھا چلیں میں انکل کے ساتھ بیٹھ جاؤں گا ان سے کہانی سن لوں گا۔ میری طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ ننھا فرشتہ بولا، باپ کی گردن سے اپنے سر کو ذرا پیچھے سرکاتے ہوئے مجھے آنکھ ماری اور اشارے سے ہاں میں ہاں ملانے کا اشارہ کیا میری ہنسی نکل گئی۔ اپنے دوست سے میں مخاطب ہوا کہ یار اپنے تیسرے دوست کو بھی ساتھ لے چلتے ہیں۔

Read more

ہر ملک مصر نہیں ہوتا

محمد مرسی مصر کی تاریخ میں حقیقی معنوں میں پہلے منتخب صدر تھے ۔ان کا تعلق اخوان المسلمین سے تھا جو اپنے نظریات پر کاربند رہتے ہوئے ایک طویل عرصے سے جدوجہد کر رہی تھی ۔ حسن البنا شہید اس کے پہلے قائد تھے ۔ پھر کیا ہوا ؟ مصر کے کچھ جرنیل اور ان کے ہم خیال ، جمہوری مزاج اور جمہوریت کی ترقی سے ہم خیال نہیں تھے ۔ عالمی سطح پر ایک سازش رچی گئی مغربی دنیا

Read more

پھر امام شافعی شہید ہو گئے – مکمل کالم

مذہبی معاملات میں جہاں غلطی جان بوجھ کر کی جائے یا غلطی ہو جائے اس کی قیمت معاشرے کا ہر طبقہ ادا کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے سبب سے بزرگ علما تہہ خاک سلا دیے جاتے ہیں مگر پھر بھی اس کی قیمت اور تقاضے کبھی نہیں تھمتے۔ امام شافعی کو ایک منفرد حیثیت حاصل ہے آپ امام مالک کے شاگرد ہیں، امام احمد بن حنبل آپ کے شاگرد ہیں جبکہ آپ نے امام ابوحنیفہ کے مایہ ناز شاگرد امام محمد سے کوفہ میں تحصیل علم کی۔ امام ابو حنیفہ کے بعد ان کے دو شاگرد ان کی مسند پر موجود تھے امام محمد اور امام ابو یوسف، جب مکہ سے طلب علم کے لیے امام شافعی مدینہ پہنچے تو امام مالک کے درس میں حاضر ہونا شروع ہو گئے امام مالک نے دیکھا کہ ایک نوعمر لڑکا ان کے درس کے دوران مسلسل تنکا منہ میں ڈالتا ہے اور ہاتھ پر مارنے لگتا ہے دوران درس وہ اس کو دیکھتے رہے مگر اس وقت نہیں ٹوکا۔

جب اس روز کا درس مکمل ہوا تو سب طالبعلموں کو جانے کی اجازت دے دی مگر اس نو عمر لڑکے کو روک لیا جو بعد میں امام شافعی بنا۔ اپنے پاس بلا لیا اور دریافت کیا کہ تم کون ہو حسب نسب پوچھا پھر بولے اچھے خاندان کے ہو مگر درس کے آداب میں بے ادبی کر رہے تھے۔ امام شافعی نے پوچھا کہ مجھ سے کیا بے ادبی سرزد ہو گئی؟ امام مالک نے منہ میں مسلسل تنکا لینے اور ہاتھ پر مارنے کا ذکر کیا امام شافعی نے جواب دیا کہ میرے پاس لکھنے کے لئے قلم وغیرہ نہیں ہے منہ کے لعاب سے آپ کی بیان کردہ احادیث مبارکہ اپنے ہاتھ پر تحریر کر رہا تھا امام مالک نے ہاتھ دیکھیے اور کہا کہ ان پر کہاں تحریر ہے؟

امام شافعی نے جواب دیا کہ ان پر تو موجود نہیں رہ سکتا مگر میرے حافظے میں موجود ہے۔ اچھا تو پھر سب نہ سہی ایک حدیث ہی سنا دو۔ مگر امام شافعی نے ایک نہیں بلکہ وہ پچیس احادیث مبارکہ سند کے ساتھ سنا دیں جو امام مالک نے اس درس میں بیان فرمائی تھی۔ امام مالک اپنے شاگرد کی قابلیت کو بھانپ گئے اس غریب الوطن کو اپنے گھر لے گئے اور جب تک امام شافعی مدینہ ٹھہرے اپنے استاد امام مالک کے گھر ٹھہرے۔ امام مالک اپنے شاگرد سے اتنی محبت کرتے تھے کہ جب امام شافعی مدینہ سے کوفہ روانہ ہونے لگے تو اپنے اس شاگرد کو رخصت کرنے مدینہ کے آخر تک خود تشریف لائے۔

Read more

گلگت بلتستان سے جڑی حساسیت

حساس نوعیت کے معاملات کی حساسیت کو بالاۓ طاق رکھتے ہوئے صرف اپنے وقتی سیاسی مفادات کی غرض سے ان کا استعمال کر ڈالنا حدر جے نامناسب اور غیر ذمہ دارانہ فعل ہوتا ہے ۔ بدقسمتی سے گلگت بلتستان سے جڑے حالیہ واقعات اور بحث میں اسی قسم کا رویہ اپنایا گیا ہے بریفنگ لینا یا بريفنگ  دینا اور اس کو صیغہ راز میں رکھنا اہم نوعیت کے قومی مفادات کے معاملات  میں ایک عمومی رویہ ہوتا ہے مگر اس

Read more

حمزہ شہباز کو کرونا کیوں ہوا؟

قید میں حمزہ شہباز کو کرونا ہو گیا ہے۔ حمزہ شہباز قید کے دوران جب کبھی بھی اسمبلی کے اجلاس میں نظر آئے تو انہوں نے مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کر رکھی تھی پھر مرض تو قید میں ہی کہیں آ کر چمٹ گیا مگر کیسے؟ کیا اس بات کی احتیاط سرکاری ملازم نہیں کر رہے تھے کہ پنجاب اسمبلی کے قائد حزب اختلاف کو اس وبا سے کیسے محفوظ رکھا جاسکے کہیں تو کوئی گڑبڑ ضرور ہوئی ہے جان بوجھ کر یا نادانستہ طور پر ایسا کچھ ہوا تو ہے۔

ایسا صرف اس لئے روا رکھا جا رہا ہے کہ کسی طرح نواز شریف کو توڑ ڈالا جائے بیٹوں کی مانند عزیز بھتیجے کو صعوبتیں دینے کا حربہ نواز شریف کو توڑنے کے لیے پہلی بار استعمال نہیں کیا جا رہا ہے ابھی حمزہ شہباز طالب علم ہی تھا کہ سیاست ہو یا دیگر معاملات زندگی اس سے جتنا کسی سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والے طالب علم کا تعلق ہو سکتا ہے اتنا ہی تعلق حمزہ شہباز کا بھی تھا۔ مگر انیس سو نوے کی دہائی کی جمہوریت اس سوجھ بوجھ سے عاری تھی کہ سیاسی نوعیت کی گرفتاری کسی کی وقتی انا کی تسکین اور دوسرے کے لئے تکلیف کا باعث بن سکتی ہے مگر اس سے کسی کے سیاسی قلعے میں، اس کی سیاسی حمایت میں نقب لگانا ممکن نہیں ہو سکتا ہے بلکہ یہ مستقبل میں مسائل میں اضافہ کا باعث ہو گا مگر اتنا سمجھنا اس وقت ممکن نہیں تھا۔

Read more

نواز شریف سے پرناب مكهر جی کی ایک یادگار ملاقات

کرونا کی وبا عالمی سطح پر پھیلی تو اس نے ایسی وبائی شکل اختیار کرلی کہ نہ بڑا  دیکھا نہ بچہ نہ امیر نہ غریب نہ کارکن نہ لیڈر اور یہی کچھ انڈیا میں بھی ہوا کہ وہاں پر روزانہ ہزاروں کی تعداد میں نہ صرف کے متاثرین آرہے ہیں بلکہ دنیا سے جا بھی رہے ہیں۔ اور ان جانے والوں میں انڈیا کے سابق صدر ( راشٹر پتی ) پرناب مكهرجی بھی شامل ہیں ۔ پرناب مکھر جی کی

Read more

اسرائیل پر ایک کالم جو ناقابل اشاعت ٹھہرا

متحدہ عرب امارات کا اسرائیل سے معاہدہ کوئی اچانک نہیں ہو گیا کہ دنیا کے لئے ورطہ حیرت میں ڈالنے والی خبر ہو بلکہ گزشتہ کچھ عرصے سے پے در پے ایسے واقعات رونما ہو رہے تھے ان سے نتیجہ اخذ کرنا آسان تھا کہ عرب کی ریاستوں میں کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے اور اس کا آغاز متحدہ عرب امارات سے ہوگا۔ نومبر 2018 میں اسرائیل کا قومی ترانہ اسرائیل کی وزیر کھیل کی موجودگی میں ابوظہبی سپورٹس ٹورنامنٹ میں بجایا گیا اسرائیل وزیر کھیل کی خلیج کے کسی ملک میں موجودگی کا پہلا واقعہ تھا اسرائیلی ترانہ بھی پہلی دفعہ بجایا گیا تھا۔

Read more

میر شکیل الرحمان کی گرفتاری

یہ میرشکیل الرحمان کی گرفتاری سے کوئی دو دن بعد کی بات ہوگی کہ اس وقت صحافتی برادری اس تازہ کارروائی کے سبب سے دم بخود تھی۔ اس کارروائی نے یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ ہتھکنڈے جو خالص آمریت میں روا رکھے جاتے ہیں وہ اب روا رکھے جا رہے ہیں۔ ایک اجلاس ہوا راقم الحروف اس اجلاس کے انعقاد کا ایک محرک تھا چند سینئر ترین صحافیوں کے اس اجلاس میں میڈیا کو درپیش مشکلات اور خطرات کا اس ذیل میں جائزہ لیا گیا کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری ذاتی عناد کے علاوہ اور کیا کیا مقاصد رکھتی ہے صحافیوں کے قلم توڑنے کا ایک حربہ اور اب اس حربے کے مقابلے میں لائحہ عمل طے کرنا تھا۔

کیونکہ میر شکیل الرحمٰن ایک علامت کے طور پر گرفتار ہوئے کہ اگر اختلاف کیا تو ملک کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے سربراہ کو بھی انتقام کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور اس صورتحال کا تدارک از حد ضروری ہے۔ اس لائحہ عمل کے تحت راقم الحروف نے ”میڈیا کو درپیش خطرات“ کے عنوان سے ایک مذاکرے کا انعقاد کیا۔ اس مذاکرے میں امریکہ کے پاکستانی امور پر ماہر، ولسن سنٹر واشنگٹن کے ڈپٹی ڈائریکٹر ساؤتھ ایشیا مائیکل کوگلمین نے ویڈیو کے ذریعے شرکت کی۔

Read more

امجد محمود چشتی کی کتاب ”سیاست کا جغرافیہ“ اور اینیمل فارم

پاکستان کی قومی سیاست کو ضابطہ تحریر میں لاؤ یا عالمی حالات حاضرہ کو زیر بحث، عموماً دونوں پر ہی دل جلتا ہے چنانچہ اس بار یہ طے کیا کہ جی چاہے جلے مگر جلانا نا تو سیاست کی ستم ظریفیوں پر ہے نہ ہی عالمی منظر نامے کی چیرہ دستیاں اس کا سبب بننا چاہیے۔ ادب اور وہ بھی عالمی ادب زمانہ طالب علمی سے ہی اس طالب علم کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ دل تو اس کو بھی پڑھ کر بسا اوقات بہت جلتا ہے لیکن فکشن کا تصور کر کے جی ہلکا بھی ہوجاتا ہے۔

Read more

کلبھوشن یادیو کی پھانسی

گزشتہ برس ان ہی دنوں کی بات ہے کہ میں امریکہ میں موجود تھا اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ اور وہائٹ ہاؤس کے حکام سے ملاقات طے تھی امریکی دانشوروں سے جو ان کے ہاں فیصلہ سازی میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں سے گفتگو ہو رہی تھی جانا تو اس مہینے بھی تھا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے کنونشن میں ایک مبصر طور پر شریک ہونا تھا مگر کرونا آڑے آ گیا۔ بہرحال ان تمام ملاقاتوں مباحثوں میں ایک بات بالکل واضح طور پر محسوس ہو رہی تھی کہ امریکہ میں یہ تصور بہت مضبوطی سے موجود ہے کہ بھارت کشمیر میں ایسا کھیل کھیلنے جا رہا ہے کہ جس سے وہ اس بات کی دھاک دنیا میں بٹھا سکیں کہ وہ جنوبی ایشیا میں ایک ایسی مملکت کا مقام حاصل کر چکا ہے کہ وہ جو چاہے کر گزرے اور جنوبی ایشیا میں موجود اس کے مد مقابل ملک پاکستان کے لیے یہ ممکن نہیں ہوگا کہ وہ کشمیر جیسے حساس انسانی اہمیت کے معاملے پر بھی بھارت کو اس کے عزائم سے روک سکے۔

Read more

تاریخی معاہدوں کی روشنی میں تبت ہندوستان کا حصہ ہے یا چین کا؟

چین اور بھارت کی حالیہ بد مزگی کو صرف کسی وقتی حکمت عملی یا طیش کی حالت قرار نہیں دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کسی چھوٹے سے علاقے پر ہے کہ جو اچانک سر اٹھا لیتے ہیں اور پھر دوبارہ فراموش کر دیے جاتے ہیں۔ بلکہ درحقیقت دونوں ممالک میں اختلافات کی جڑیں برصغیر میں برطانوی نوآبادیاتی دور سے جڑی ہوئی ہے اور چینی ایک مضبوط پس منظر کے ساتھ بھارت کے زیر قبضہ اروناچل پردیش جو درحقیقت جنوبی تبت ہے پر دعویٰ رکھتا ہے۔ اس دعوے میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ چین نے کبھی بھی اس حوالے سے کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا اور وہ ہمیشہ اپنے اس موقف پر قائم رہا ہے کہ تبت چین کا حصہ ہے اور چین برطانوی نوآبادیاتی دور سے لے کر آج تک اپنے اس دعوے پر مضبوطی سے جما ہوا ہے۔ اس دعوے کے تاریخی پس منظر کا ذکر کرنا چاہوں گا یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ تبت چین کا حصہ ایک طویل عرصے سے ہے اور جب میں تبت کا ذکر کر رہا ہوں تو دوہراتا چلوں کہ اس سے میری مراد موجودہ تبت اور جنوبی تبت دونوں ہے۔

Read more

بھارت کی لداخ میں پیش قدمی کی وجوہات کیا ہیں؟

چین اور بھارت کے تعلقات ایک عرصے سے اس نوعیت کے چل رہی ہے کہ جن میں کسی وقت بھی کشیدگی کا پہلو سامنے آ موجود ہوتا ہے اور جب سے بھارت کو یہ زعم ہو گیا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی طاقت ہے تو وہ اس وقت سے گمان کرنے لگا ہے کہ ہر معاملے میں اس کی اجارہ داری بھی ہونی چاہیے۔ جنوبی ایشیا کی حد تک بھی بھارت کا یہ زعم حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ پاکستان بھارت کے حوالے سے کبھی بھی یہ قبول نہیں کرتا کہ جنوبی ایشیا میں صرف بھارت طاقت ہے اور ضرورت کے مطابق پاکستان بھارت کو یہ احساس بھی دلاتا ہے اور اس کا ایک ثبوت ابھی نندن کو چائے پینے پر مجبور کر دینا بھی تھا۔

مگر جب سے نواز شریف حکومت کے دور میں سی پیک کا منصوبہ چین سے طے ہوا تو اس وقت سے تو بھارت کا پاگل پن آسمان کو چھونے لگا کیونکہ بھارت اچھی طرح سے جانتا ہے کہ سی پیک کی کامیابی کی صورت میں پاکستان معاشی طور پر بہت توانا ہو جائے گا۔ اور معاشی توانائی ہی مضبوط دفاع اور خارجہ پالیسی کی بنیاد ہوتی ہے اس لئے بھارت نے سی پیک کے آغاز کے وقت ہی چین سے اس کے روکنے کے حوالے سے بات کی مگر چین بھارتی خواہشات کو پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دے رہا تھا۔

Read more

چین، بھارت کشیدگی اور پاکستان کی خارجہ حکمت عملی

ایک گمان کیا جا رہا تھا کہ چین اور بھارت کے اعلی ترین فوجی مذاکرات کے بعد لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر جاری فوجی کشیدگی کو فوری طور پر کم تو نہیں کیا جا سکتا مگر اس کے بڑھاوے میں ضرور کمی آئے گی اور خطے میں جو صورت حال اس وقت قائم ہے کہ چین اور بھارت دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہیں اس سے کچھ نہ کچھ ریلیف ضرور مل جائے گا۔ یہ ریلیف اس لئے بھی ضروری ہے کہ پاکستان ان حالات سے براہ راست متاثر ہو سکتا ہے۔

کیوں کہ یہ تمام تر واقعہ بس پاکستان کے قریب ہی رونما ہو رہا ہے اور اس پر سے توجہ ہٹانے کی غرض سے بھارت لائن آف کنٹرول پر آزاد کشمیر کی جانب سے سول آبادی کو زیادہ شدت سے نشانہ بنا سکتا ہے بلکہ اب تو نشانہ بنا بھی رہا ہے مگر دیکھنے میں یہ آ رہا ہے کہ بھارت لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر بھی اپنے کل پرزے ایسے نکل رہا ہے جیسے کہ وہ نکالنا چاہتا ہے۔ بھارت بار بار لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور چینیوں کے صبر و تحمل کا امتحان لے رہا ہے۔

Read more

بھارت کی چین سے سرحدی معاہدوں کی خلاف ورزی

قوموں کے تعلقات کی بنیاد ان کے نفسیاتی مطالعہ پر ہوتی ہے اگر کسی قوم کے یا کسی ملک کے رہنما اپنے ادا کیے گئے الفاظ کی حفاظت نہ کرسکے تو ایسی صورت میں ان سے سرحدی یا معاشی طور پر تعلق رکھنے والی اقوام ان کی ہر چیز کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہیں اور اپنے دفاع کا اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کا حق رکھتے ہیں۔ چین اور بھارت کے حالیہ تنازعات میں بھی اصل مسئلہ یہی ہے۔ بھارت اپنی سرحدوں پر فوجی نوعیت کی تعمیرات میں مصروف ہے اور ان تعمیرات کی موجودگی میں یہ ممکن نہیں کہ ان کو نظر انداز کر دیا جائے۔

پاکستان کو تو بھارت سے ایک طویل تجربہ ہے اس لیے ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ بھارت کی امن دوستی کے پیچھے درحقیقت توسیع پسندی یا کم از کم اپنے ہمسائے کو تنگ کرنے کی خواہش ضرور موجود ہوتی ہے۔ لیکن یہ صرف پاکستان ہی نہیں جانتا بلکہ چین بھی اس کا اب ایک طویل تجربہ رکھتا ہے اور جیسے ہی اس نے محسوس کیا کہ بھارت ایل اے سی کے اس پاس ایسی فوجی نوعیت کی تعمیرات کر رہا ہے جو کہ مستقل خطرہ بن سکتی ہے تو اس نے اپنی فوجی موجودگی کو بڑھا دیا تاکہ بھارت کو اس بات کا اچھی طرح سے اندازہ ہو جائے کہ اگر شرارت کی گئی تو اس کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

Read more

لداخ میں حالیہ چین بھارت فوجی کشیدگی کی وجوہات

چین اور بھارت کے مابین جاری حالیہ فوجی کشیدگی کوئی غیر متوقع واقعہ نہیں ہے جب میں یہ تحریر کر رہا ہوں کہ یہ غیر متوقع واقعہ نہیں ہے تو اس سے میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ اس کی اہمیت موجود نہیں ہے۔ اہمیت مسلمہ ہے بلکہ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر یہ سلسلہ بدستور جاری ہے اور جاری رہے گا۔ اس جاری رہنے کی وجوہات میں سے اہم ترین وجہ چین اور پاکستان کے تعلقات بلکہ بڑھتے ہوئے تعلقات ہے جس کی اہم ترین نشانی سی پیک کی صورت میں سامنے آ رہی ہے حالانکہ بدقسمتی سے اس کی راہ میں وطن عزیز کے اندر سے بھی روڑے اٹکائے جا رہے ہیں اور جس نے ایٹمی دھماکوں سے لے کر سی پیک کی تعمیر کی ابتدا کی تھی ابھی تک اپنے ان ”جرائم“ کے سبب سے زیر عتاب بھی ہے۔

بہرحال یہ تو چین د معترضانہ جملے تھے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اس سارے تنازعہ میں کہاں سے آ گیا۔ اگر ہم اس تصادم کے مقام کا نقشے پر جائزہ لے اور وہاں کیے جانے والے بھارتی اقدامات کا تجزیہ کریں تو یہ واضح ہوگا کہ بھارتی فوجی اقدامات دراصل اس والی جگہ کو ہمہ وقت اپنے نشانے پر رکھے جانے کی خواہش کی عملی تصویر ہے کہ جس جگہ پر پاکستان اور چین کی افواج کا زمینی طور پر رابطہ آسانی سے ممکن ہو سکتا ہے اور وہ علاقہ لداخ اور اس کے گرد و نواح کا ہے۔

Read more

خالصتان تحریک زندہ ہے

بلوچستان میں پے در پے ہمارے جوانوں کی شہادتیں واضح کرتی ہے کہ بھارت کی مودی سرکار صرف کشمیر میں 370 دفعہ کے خاتمے اور پھر مسلسل ظالمانہ لاک ڈاؤن تک محدود نہیں رہے گی بلکہ نا صرف کے افغانستان کے راستے مداخلت بلکہ بلوچستان میں بھی بد امنی کو مسلسل بڑھاوا دینے کی حکمت عملی پر کاربند رہے گی۔ ممکن ہے کہ میری اس بات پر وہ دانشور اعتراضات کی بھرمار کر دیں جو ہر بات میں آج بھی بھارت کی مالا جپنے لگتے ہیں۔ اپنی تسلی کے لئے وہ صرف مودی کی لال قلعہ کے سائے تلے کی گئی وہ تقریر سن لیں جس میں اس نے بلوچستان کا ذکر کیا یعنی پاکستان کی طے شدہ بین الاقوامی سرحدوں کے اندر کے معاملات کا ذکر اور اپنے عزائم کا اظہار۔

Read more

کرونا سے ہٹ کے چند اہم معاملات

آج کل جو معاشرتی تبدیلیاں دنیا مشاہدہ کر رہی ہے اس کی توقع پچھلے سال کے اواخر تک کسی کو بھی نہیں تھی اور یہ معاملات اس طرح کب تک چلنے ہیں اس کا کسی کو اندازہ بھی نہیں ہے مگر اب کچھ اجتہادی مسائل داخلی وخارجی میں اپنی ذاتی رائے کا استعمال ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ دوست لوگ ہوں یا اجنبی کچھ مفروضوں کی بنیاد پر علم قیافہ کی روشنی میں ازراہ مہربانی رہنمائی فرما رہے ہیں یا ہماری آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔

اس وقت دنیا کی نظریں کرونا کے علاوہ کچھ دیکھ ہی نہیں رہی اور اس غل غپاڑے میں بہت کچھ سنائی بھی نہیں دے رہا سچ پوچھیے تو لاک ڈاؤن میں موجودہ پاکستانی حکمرانوں کی فیصلہ سازی پر ایک سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ غریب آدمی تو پس ہی گئے اور لاک ڈاؤن کے نام سے مشابہت بھی نہیں پیدا ہوسکی۔ ایسی صورتحال میں کرونا سے عوام تو خیر کیا بچتے وہ میڈیکل اسٹاف بھی نہیں بچ سکا جو کہ کرونا کے کیسز کو ڈیل بھی نہیں کر رہا تھا۔

Read more

ذرا ہٹ کے

ان دنوں مملکت خداداد کی حالت یک انار صد بیمار کی تصویر پیش کرتی ہے وسائل کی فراوانی ہو تو ہرمستحق تک پہنچا بھی جا سکتا ہے، مدد بھی ممکن ہیں اور اصول بھی یہ ہی ہے کہ یہ ریاست کی ذمہ داری بھی ہونی چاہیے مگر اس کے لئے اولین شرط نیت ہے کہ جس کا فقدان وسائل ہو یا نہ ہو سب پر بھاری ہوتا ہے۔ اس تاب و تب کی تو بات ہی کیا نارمل حالات میں

Read more

خواجہ سعد رفیق: وہی کہانی باربار دہرائی جائے گی

مشرف کی آمریت ابھی جوان تھی اور آمریت اگر بوڑھی بھی ہو بلکہ در پردہ بھی ہو تب بھی مخالفانہ آوازیں برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی۔ خواجہ سعد رفیق کی طبعیت میں شعلہ بیانی صاف محسوس ہوتی ہے۔ اس وقت تو آتش جواں بلکہ نوجواں تھا لہذا برداشت کیسے ہوتے دھرے گئے۔ نا صرف کہ دھرے گئے بلکہ تشدد کا بھی نشانہ بن گئے۔ ابھی وہ قید ہی تھے تو ایک دن ان سے ملاقات ہوئی۔ مشرف کے زمانے

Read more

رافع بن لیث ابھی بھی زندہ ہے: ناقابلِ اشاعت کالم

میر شکیل الرحمن ابھی پابند سلاسل ہے کہ ان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ میر جاوید الرحمن داغ مفارقت دے گئے۔ کتنا کرب ہوگا۔ الفاظ کی بساط سے بھاری ہے کہ بیان کر سکے۔ سیاسی گرفتاریاں اور قید کے دوران المیہ ہماری تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ ایک تواتر ہے کہ جو یہاں بدقسمتی سے موجود ہے۔ پھانسی کوڑے گرفتاریاں جبری جلاوطنی اور ساتھ ساتھ المیے سب ایسے باب ہیں کہ جن میں کئی چہرے صرف کرب کا عنوان بن چکے ہیں۔

اسحاق ڈار کی جلاوطنی سعد رفیق سلمان رفیق کی قید کے جس کا جواز زبانی کلامی بھی ایسا پیش نہ ہوسکا جو کوئی دلیل رکھتا اور ہاں حمزہ شہباز، سب جانتے ہیں کہ نواز شریف کو ان سے کس قدر محبت ہے۔ یہ گرفتاری نواز شریف کو توڑنے کا ایک ہتھکنڈا ہے۔ ڈاکٹر دانش کے جن کا پروگرام ”سچ“ برداشت نا ہو سکا اور ان کا پروگرام بند کر دیا گیا، میڈیا کا منہ بند کر دیا گیا، اور کتنے نام تحریر کروں کہ جن کو گرفتار کیا گیا مگر عدالت میں آئیں، بائیں، شائیں کے علاوہ اور کچھ نظر نہ آیا۔

Read more

عقل گھاس چرنے گئی ہے

گونج سنائی تو دے رہی تھی مگر اس حد تک اقدام کر ڈالا جائے گا اس پر شبہ بر قرار تھا۔ مگر شبہ رفع کردیا گیا اور جو ناپسندیدگی کا اظہار جنگ گروپ اور ایک دوسرے میڈیا ہاؤس کے حوالے سے اعلانیہ اپنی تقاریر میں کیا جا رہا تھا اس پر عمل کر دیا گیا میر شکیل الرحمن گرفتار ہوگئے سفارتکار میر شکیل الرحمن کی گرفتاری اور اس کے پاکستانی سیاست پر اثرات کے حوالے سے جاننے کے لئے بے

Read more

قطر اور افغانستان سے تعلقات میں ایک نازک موڑ

یہ شاہد خاقان عباسی کی گرفتار ہونے سے کچھ عرصے قبل کی بات ہے میں اور عزیز دوست صحافی طارق عزیز شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی غرض سے ان کے گھر پر موجود تھے اس ملاقات میں یہ واضح طور پر محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اپنی سیاسی سوچ کے سبب سے اپنی گرفتاری کی کسی وقت بھی توقع کر رہے ہیں۔ ایل این جی معاہدے کے حوالے سے ایک ایک تفصیل ان کو ازبر تھی لیکن اس بات پر پریشان بھی تھے کہ ان کو ایک ایسے کیس میں الجھانے کی کوشش کی جارہی تھی کہ جس کے اثرات صرف پاکستان پر داخلی طور پر ہی نہیں تھے بلکہ قطر جیسے اہم ملک اور دیرینہ دوست کے حوالے سے خارجہ امور کے اثرات سامنے آسکتے تھے بہرحال اگر فیصلہ ساز اتنا سمجھنے کی صلاحیت رکھتے تو جو کچھ جولائی 2017 سے کھلے عام وطن عزیز کے ساتھ ہورہا ہے وہ نہ ہوتا۔

Read more

شوشہ گلے نہ پڑ جائے

صدر ٹرمپ اپنا بھارتی دورہ مکمل کر کے واپس چلے گئے ہیں اور توقع کے عین مطابق معاملات چلے۔ عام تصور چاہے ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے حوالے سے کچھ بھی ہو۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہو گا کہ انہوں نے اپنے اس دورے کے ذریعے جنوبی ایشیاء کے دونوں اہم ممالک کو خوش کرنے کی بھی کامیاب کوشش کی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے دونوں ممالک سے معاملات کو اسی طرح طے

Read more

ٹرمپ کا شوشہ گلے نہ پڑ جائے

صدر ٹرمپ اپنا بھارتی دورہ مکمل کر کے واپس چلے گئے ہیں اور توقع کے عین مطابق معاملات چلے۔ عام تصور چاہے ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے حوالے سے کچھ بھی ہو۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہو گا کہ انہوں نے اپنے اس دورے کے ذریعے جنوبی ایشیاء کے دونوں اہم ممالک کو خوش کرنے کی بھی کامیاب کوشش کی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے دونوں ممالک سے معاملات کو اسی طرح طے

Read more

صدر ٹرمپ کا دورہ بھارت

صدر ٹرمپ فروری کے آخری عشرے میں بھارت کا دورہ کر رہے ہیں۔ امریکی صدر کا دورہ بھارت ہر حال میں ہی اہمیت کا حامل ہونا تھا مگر صدر ٹرمپ اور ان کی پالیسیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر غور کیا جائے تو اس کی اہمیت زیادہ ہو جاتی ہے۔ امریکہ اور بھارت کے مابین پیار کی پینگوں کا آغاز اس غلطی کا نتیجہ ہے جو کارگل کے منصوبہ سازوں نے کوئی 21 برس قبل کی تھی۔ سرد جنگ

Read more

چین کی مشکل گھڑی اور پاکستان

کرونا وائرس کا معاملہ چین کی حالیہ تاریخ میں ایک ایسا قدرتی معاملہ ہے جس نے بلا شبہ چین کے عوام کو ایک غیر معمولی پریشانی میں مبتلا کر ڈالا ہے۔ شہروں میں باہمی آمدورفت کو روک دینا چینی حکومت کا ایک ایسا اقدام ہے کہ جس کے وجود میں آنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ چینی حکومت اس خطرے کو کس حد تک خطرہ تصور کر رہی ہے۔ اس مصیبت کی گھڑی میں پاکستان کی ریاست کو یا

Read more

سی پیک کی امریکہ بہت بڑی قیمت مانگ رہا ہے

وطن عزیز کی سیاسی کشتی ہے کہ کسی سمت کی جانب جو کہ مثبت ہو جاتے ہوئے سرے سے محسوس ہی نہیں ہو رہی۔ حالانکہ اس کی ضرورت بہت رفتار سے عوام کی زندگی پر پڑتے معاشی اثرات کے سبب سے بہت شدت کے ساتھ محسوس کی جا رہی ہے۔ سیاسی عدم استحکام ہے کہ تھمنے میں ہی نہیں آ رہا اور معاملہ ایک ایسی ضد کی جانب بڑھ چکا ہے کہ جس کی زبردست معاشی قیمت وطن عزیز کو

Read more

اسحاق ڈار تختہ مشق کیوں؟

گزشتہ سے پیوستہ کالم میں چین میں مقیم پاکستانی جو قید کی مدت پوری کر چکے ہیں کا مسئلہ بیان کیا۔ جس وقت گزشتہ ہفتے چینی سفیر نے اپنے گھر دعوت دے کر مجھے بتایا کہ ان کی کانگریس مارچ میں اس پر قانون سازی کرنے جا رہی ہے۔ امید ہے کہ اب اس انسانی نوعیت کے مسئلے پر مزید کوئی غیر ضروری تاخیر دونوں ممالک کی جانب سے نہیں کی جا ئے گی۔ گفتگو اس بار یہ ہے کہ

Read more

مشرق وسطیٰ، معاملہ فہمی کی ضرورت ہے

کرکوک میں امریکیوں پر حملہ اور پھر اس کے بعد عراق اور شام میں کرتائب حزب اللہ کے کیمپوں پر امریکی بمباری یہ واضح کر رہی تھی کہ صورتحال بہت تیز رفتاری سے خرابی کی جانب رواں دواں ہے لیکن امریکہ کی جانب سے جنرل قاسم سلیمانی کو براہ راست عراق کی سر زمین پر نشانہ بنانا ایک ایسا اقدام ہے کہ جس کے اثرات بہت دیر تک قائم رہیں گے۔ اور اس اقدام سے نہ تو امن قائم ہو جائے گا اور نہ ہی ایران جہاں پر اپنے قدم جما چکا ہے وہاں سے واپسی کی راہ لے گا۔

Read more

دباؤ میں لیے گئے یوٹرن خارجہ تعلقات کے لئے پریشان کن ہیں

پریشانی اِس پر بنتی ہے کہ ملائیشیا کا دورہ منسوخ کر دیا گیا۔ وہ دورہ منسوخ کر دیا گیا جس کے حوالے سے جب معاملات کو طے کیا جا رہا تھا تو اس وقت کم از کم پاکستان میں بریکنگ نیوز بنائی جا رہی تھی۔ گزشتہ کالم میں بڑے دکھی دل کے ساتھ یہ مصدقہ خبریں بیان کی تھیں کہ وزرا کی کابینہ میں شمولیت، اُن کی معزولی اور محکموں کی تبدیلی سے لے کر مقتدرہ میں حال ہی میں

Read more

مشرقی پاکستان کے استحصال کی حقیقت کیا تھی؟

سقوط ڈھاکہ ہماری قومی تاریخ کا ایسا المیہ ہے کہ جس نے قومی نفسیات پر گہرے نقوش ثبت کیے ہیں اور اس نفسیاتی کیفیت میں یہ تصور بہت مضبوطی سے جڑ پکڑ چکا ہے کہ سانحہ مشرقی پاکستان درحقیقت مغربی پاکستان یا موجودہ پاکستان کی جانب سے مشرقی بازو کے ساتھ روا رکھی جانے والی بے انصافی کا ایک فطری نتیجہ تھا۔ بنگالیوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ فوجی اور سول ملازمتوں میں اور اس کے ساتھ ساتھ سیاسی اداروں

Read more

سی پیک پر چینی امریکی کشمکش اور حکومتِ پاکستان

گفتگو ہے کہ اختتام پذیر ہونی کا نام ہی نہیں لے رہی کہ سی پیک پر تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟ اس کے وہ کون سے مفادات ہیں کہ جن کے سبب سے امریکہ بار بار سی پیک کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار پاکستانی مفادات کی آڑ میں کرتا رہتا ہے اور امریکی مخالفت یا تحفظات کو رفع کرنے کی غرض سے ایسے کون سے اقدامات ہے جو اٹھائے گئے ہیں کہ جن سے چین بھی ناخوش نا ہو اور ہمارا توازن امریکی معاملات کے حولے سے بھی نہ بگڑے کیوں کہ یہ ایک دائمی حقیقت ہے کہ خارجہ تعلقات کسی جذباتیت کے تحت نہیں نبھائے جاتے بلکہ قطعی طور پر غیر جذباتی انداز میں معاملات کو دیکھا جاتا ہے اور اس کو نبٹایا جاتا ہے۔

Read more

کرتار پور سے گلگت بلتستان تک

کرتار پور راہداری کا مسئلہ بلکہ اس کی تعمیر ایک ایسا معاملہ ہے کہ جس کو پاکستان میں تو حکومتی سطح پر مستقل ایک خاص اہمیت دی جا رہی ہے مگر اس کے برخلاف عالمی میڈیا یا اقوام عالم کے ارباب اختیار اس کو پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات کی تناظر میں کوئی اہمیت نہیں دے رہے۔ ویسے بھی ان کے خیال میں اس فیصلے کے جو اثرات مرتب ہونے تھے وہ ایک برس قبل جب اس کا اعلان

Read more

مولانا فضل الرحمٰن کامیاب ہو گئے

وطنِ عزیز کو ایک تجربہ گاہ بنا رہنا چاہئے یا مختلف تجربوں کے نچوڑ کے طور پر ایک طے شدہ سیاسی نظم و ضبط حاصل کرنا ہی سیاسی مقصد ہونا چاہئے۔ مولانا فضل الرحمٰن کا آزادی مارچ اِس سوال کا ایک واضح جواب ہے۔ یہ جواب ملک کی جمہوری طاقتوں کی جانب سے نہایت نپے تلے انداز میں دیا جا رہا ہے اور یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ رائے عامہ کا صبر و تحمل، اب پتلی تماشے پر

Read more

جو کھڑے ہیں وہ کالا پانی جھیلنے کو بھی تیار ہیں

پہلے تذکرہ جنگ کی یاد داشتوں میں اپنی اولین یاد داشت امتیاز علی راشد مرحوم کا کہ جنہوں نے مجھے جنگ کی سیڑھیاں چڑھنا سکھائیں، جو مجھ پر بس ایک قرض ہی رہا کہ دعائے مغفرت کے سوا انسان کے بس میں اب کیا ہے۔ صرف زبانی کلامی نہیں حقیقت میں حق مغفرت کرے۔ عجب آزاد مرد تھا۔ مولانا حسرت موہانی ؒ تحریک آزادی کے نامور رہنما تھے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے اردو معلی کے نام سے

Read more

امریکی ایشیا پیسیفک اسٹریٹجی اور بھارت

کشمیر میں بھارت جو کر رہا ہے اور دنیا جو چپ سادھے بیٹھی ہے اس کے پیچھے اس کی خارجہ پالیسی ہے اور بھارت کی خارجہ پالیسی کو سمجھنے کے لئے امریکہ کی ایشیاءپیسیفک کی حکمت عملی کو سمجھنا پڑے گا۔ یہ دیکھنا ہو گا کہ امریکہ بھارت کو کس نظر سے دیکھتا ہے اور ساتھ ساتھ اس بات پر بھی نظر رکھنی ہو گی کہ بھارت کی وہ کونسی ضروریات ہے کہ جن کی بناءپر وہ بہت تیزی سے

Read more

بھارت ریجن میں امریکی پالیسی کو فالو کر رہا ہے

کشمیر میں بھارت جو کر رہا ہے اور دنیا اُس پر جو چپ سادھے بیٹھی ہے اُس کے پیچھے بھارت کی خارجہ پالیسی ہے اور بھارت کی خارجہ پالیسی کو سمجھنے کے لئے امریکہ کی ایشیا پیسفک کی حکمت عملی کو سمجھنا پڑے گا۔ یہ امر بالکل واضح ہے کہ بھارت کے اپنے دونوں اہم ہمسایوں یعنی پاکستان اور چین سے تعلقات کسی اچھی راہ پر گامزن نہیں ہیں اور بالکل اسی طرح امریکہ بھی چین سے ایک واضح خطرہ

Read more

اقوام متحدہ میں سولہ ووٹوں کی کہانی دردناک ہے

کشمیریوں کی مایوسی کا احساس چین میں بھی موجود ہے۔ عمران خان کی جنرل اسمبلی کی تقریر کا اگر جائزہ لیا جائے تو صاف محسوس ہو گا کہ ان کی گفتگو ان کے کیے گئے اقدامات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ جب آسیہ بی بی کے معاملے پر ملک میں ہیجان برپا ہو گیا تو حکومت نے ان مظاہرین سے معاہدہ کیا۔ یہ معاملہ مذہبی تھا، سیاسی تھا یا قانونی تھا؟ یقینی طور پر مذہبی تھا جس کو قانونی فریم ورک میں حل کرنے پر اتفاق کیا گیا مگر ہوا کیا؟

Read more

وزیراعظم کے دورہ چین میں انہیں کن تلخ سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا؟

عمران خان چین ان حالات میں جا رہے ہیں جبکہ یہ تصور بہت تیزی سے مضبوط جڑیں پکڑ رہا ہے کہ سی پیک پر دانستہ طور پر کام کی رفتار کو سست روی کا شکار کر دیا گیا ہے۔

پھر سی پیک کے منصوبوں میں بد عنوانی کے الزامات بھی موجودہ حکومت کے وزراء کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں اور ایسے الزامات کے سامنے آنے کے بعد چینی سفارتکاروں اور وزارت خارجہ کے افراد میں تلخی در آنا ایک معمول کی بات ہے وہ جب کبھی بھی ملتے ہیں تو فوراً پوچھتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت سی پیک کے تحت جاری منصوبوں میں بد عنوانی کے الزامات عائد کرتی رہی ہے مگر کیا کہیں پر کسی بے ضابطگی کی باقاعدہ نشاندہی کی گئی ہے؟

Read more

جنگ ستمبر کی یادیں اور آج

الطاف حسین قریشی پاکستانی تاریخ کا چلتا پھرتا ایک ایسا ذخیرہ ہے کہ جس سے جتنا بھی استفادہ بھی کیا جائے محسوس پھر بھی یہ ہوتا ہے کہ ابھی تو اسی سمندر کا لمس ہی محسوس ہوا ہے۔ گہرائی میں ابھی نہ جانے کیا کیا پنہاں ہے۔ اسی لئے ان کے متعلق ایک گراں قدر کتاب ”الطاف صحافت“ تحریر کی گئی ہے۔ جبکہ الطاف حسین قریشی نے جنگ ستمبر کی یادوں میں ایک ایسی کتاب تخلیق کی ہے کہ جو خون کو آج بھی جوش دلا دیتی ہے۔ کتاب کا عنوان ”جنگ ستمبر کی یادیں“ ہے۔

Read more

افغانستان، گلے میں پھنسی ہڈی نہ بن جائے

تاریخ جب کروٹ بدل رہی ہوتی ہے تو ہر کس وناکس کو اس کا احساس نہیں ہوتا بلکہ جو ہورہا ہوتا ہے اس کو عام افراد ایک معمول کی سرگزشت کے طور پر دیکھ رہے ہوتے ہیں مگر اہل دانش لمحہ لمحہ کی بدلتی صورت حال کے صدیوں تلک موجود رہنے والے اثرات پر نگاہ مرکوذ رکھتے ہیں اور بسا اوقات اہل دانش طالبعلموں سے اس لمحہ لمحہ کی کہانی پر رائے دینی کی فرمائش بھی کر ڈالتے ہیں مجھے

Read more

پاکستان امریکن کمیونٹی۔ مسائل اور امکانات

امریکہ سب کا ہمسایہ ہے اور بعض مقامات پر ہمسائے سے بڑھ کر شراکت دار بھی ہے۔ ایسا شراکت دار جو زیادہ تگڑا ہو مگر بد قسمتی کی بات ہے کہ عشروں سے موجود پاکستانی کمیونٹی نے نہ تو امریکہ میں بطور امریکی اپنی ایسی شناخت قائم کی کہ جو ہزاروں کلو میٹر دور موجود پاکستان کے لئے فائدہ مند ہوتی اور شناخت تو بہت دور کی بات ہے وہ تو امریکی معاشرے میں ان کے ہمسائے کا بھی کردار حاصل نہ کر سکیں۔ پاکستانی امریکن کمیونٹی کی خوشی کے مواقع ہو یا خدانخواستہ کوئی تکلیف ہو عام امریکی ان کے امور سے غافل ہیں اور یہ غفلت لا تعلقی کو جنم دیتی ہے جو کہ اب بہت توانا طور پر محسوس ہو رہی ہے۔

Read more

امریکہ معاہدوں کی پاسداری کرتا رہا ہے یا بے وفائی؟

سوال یہ ہے کہ ٹرمپ نے ثالثی کا شوشہ کیوں چھوڑا اور وہ بھی اس حوالے کے ساتھ کہ مودی با الفاظ دیگر انڈین حکومت کی خواہش سے مشروط کر دیا۔ جواب واضح ہے کہ امریکہ افغانستان میں ایسی نئی بساط بچھانا چاہتا ہے کہ جس کے ذریعے وہ اپنی عوام کو باور کروا دیں کہ افغانستان کے راستے سے امریکہ میں اب کسی دہشت گردی کا امکان سرے سے موجود ہی نہیں رہا ہے اور اگر کسی نے ایسی کوشش کی تو جو لوگ پہلے ایسے لوگوں کو پناہ دیتے تھے وہی اب ان کو کیفر کردار تک پہنچا دیں گے۔

Read more

امریکہ میں سی پیک کا بوریا بسترا گول کرنے پر خوشی

سٹیو آرنون امریکہ میں پاکستان کے حوالے سے مثبت سوچ رکھنے والے دانشور ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ امریکہ میں موجود پاکستانیوں سے زیادہ میل ملاپ نہیں رکھتے۔ ان سے میرے گزشتہ ڈھائی عشرے سے زیادہ پر محیط روابط ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر حسن عسکری، ڈاکٹر رسول بخش رئیس، ڈاکٹر عباد راشدی اور میرا مسکن نیو یارک میں انہی کے پاس ہوتا ہے۔ اس لئے یہ یقین کی حد تک جانتا ہوں کہ وہ پاکستان سے ایک غیر معمولی انسیت رکھتے ہیں لیکن امریکی پاکستانیوں سے اجنبیت، میں نے سوال کر ڈالا کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے۔

Read more

مولوی باقر کو مارنے کا تہیہ کر لیا گیا ہے

برصغیر میں جب کبھی بھی صحافت، اور صحافتی نظریات کی بناء پر موت کو چومنے والوں کا تذکرہ ہو گا تو یہ تذکرہ مولوی باقر کے ذکر سے خالی نہیں ہو گا۔ مولوی اکبر کے صاحبزادے اور مولانا محمد حسین آزاد کے والد گرامی مولوی باقر، دلچسپ بات یہ ہے کہ میں مولوی باقر کا تذکرہ واشنگٹن میں کر رہا تھا۔ واشنگٹن میں، میں نے پاک امریکہ تعلقات خطے کے حالات اور اس کے پاکستان پر اثرات پر ایک سیمینار کا انعقاد کرایا تھا۔ جس میں مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے پاکستان افغان امور کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مارون، کارنیج انڈومنٹ کے جنوبی ایشیاء پر محقق، جیمز شولز مین، یونائیٹڈ اسٹیٹس انسٹیٹیوٹ آف پیس کے سینئر ایڈیٹر جیمز راپرٹ، مواحد حسین شاہ، ڈاکٹر منظور اعجاز اور پاکستان امریکن کانگریس کے صدر اسد چوہدری سمیت احباب نے شرکت کی۔

Read more

بیجنگ سے نیویارک ایک ہی پریشانی

بابائے لبرل ازم جون لاک نے کہا تھا کہ ”تمام انسان آزاد ہیں اور برابر برابر ہیں کوئی بھی شخص یا ادارہ کسی دوسرے فرد کی زندگی، صحت، آزادی اور ملکیت کو نقصان نہیں پہنچا سکتا“ یہ تصور اس لیے بھی درست ہے کہ جب کوئی کسی کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کرکے اقدامات کر رہا ہوتا ہے تو اس وقت وہ دوسرے کے دل میں ایسے جذبات کا محرک بن رہا ہوتا ہے کہ جو بہرحال اس کے خلاف ہو اور اگر کوئی حکومت اپنے شہریوں کی یا ان کے کسی طبقے کی آزادی میں مداخلت شروع کر دے تو ایسی صورت میں وہ پورا معاشرہ اور اس کی بنیادوں پر کھڑی ریاست وحکومت بذات خود خطرات میں بتدریج گرفتار ہو جاتے ہیں۔

Read more

چینی ہم سے مایوس ہیں ؟

چین میں ساہیوال کول پاور پلانٹ مکمل کرنیوالی چینی کمپنی کے مرکزی دفتر میں داخل ہو رہا تھا۔ ان کی انتظامیہ سے ہماری ملاقات طے تھی۔ چلتے چلتے اچانک میری نظر ان کے دفتر میں لگی دو تصویروں پر ٹھہر گئی۔ یہ کیا نواز شریف اور شہباز شریف کی تصاویر وہ بھی اقتدار سے روانگی کے اتنے عرصے بعد تک۔ اقتدار میں ہوں تو تصویر نظر آ سکتی ہے مگر اب آخر ماجرا کیا ہے۔ گفتگو کے آغاز میں ہی

Read more

نواز شریف اور زرداری کے خلاف وائٹ پیپر تو آئے گا

اس زمانے میں ابھی نجی ٹی وی چینلز تو ہوتے نہیں تھے۔ حکومت کا سارا پراپیگنڈا سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر جاری ہوا کرتا تھا۔ 24 جولائی 1978 کی رات اچانک پاکستان کے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر ایک بھونچال سا آ گیا۔ آج کی زبان میں بریکنگ نیوز دینی شروع کر دی گئی تھی۔ جنرل ضیاء کی آمرانہ حکومت نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف قرطاس ابیض، وائٹ پیپر تیار کر لیا ہے۔ اس وائٹ پیپر کو عنوان دی کنڈکٹ آن جنرل الیکشنز ان مارچ 1977 دیا گیا۔

یہ ایک ہزار چوالیس صفحات پر مشتمل دستاویز تھی جس میں تین سو بیالیس ضمیمہ جات تھے۔ اس ساری دستاویز کا اصل مقصد صرف ایک تھا کہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ 1977 کے عام انتخابات مکمل طور پر دھاندلی زدہ تھے اور بھٹو حکومت درحقیقت عوامی مقبولیت کی حامل نہیں تھی۔ وائٹ پیپر 25 جولائی کو سامنے لایا گیا اس وقت تک بھٹو حکومت ختم ہوئے 385 دن گزر چکے تھے اور وہ وقت تھا کہ جب ذوالفقار علی بھٹو پر مقدمہ قتل کی کارروائی اپنے حتمی انجام کی طرف بڑھ رہی تھی۔

Read more

گاندھی کا قاتل جیت گیا

بھارت میں جاری جنونیت کہاں جا کر ٹھہرے گی اور بھارت اور اس خطے میں کیا قہر سامانی قائم کرے گی اس کے متعلق سمجھنے کے لیے اس تصور کو سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ جس کے زیر اثر معاملہ یہاں تک آپہنچا ہے کہ بھارت میں متواتر یہ دوسرا مرحلہ ہے کہ وہاں بسنے والی دوسری بڑی قوم مسلمانوں کا کوئی ایک نمائندہ بھی حکمران جماعت کی پارلیمانی پارٹی میں شامل نہیں ہوگا۔ یہ وضاحت نہایت ضروری ہے کہ جب ہم انتہا پسند سوچ کا تجزیہ کرنے لگتے ہیں تو اس سے ہماری مراد بھارت میں بسنے والی اقوام اور ان کی سیاسی حرکیات سے ہو کر نہ کہ پاکستان میں بسنے والے محب وطن ہندوؤں سے ہو گی۔

Read more

چین سے تعلقات میں بڑھتی ہوئی عوامی غلط فہمیاں

چوتھی صدی عیسویں میں فاہیان جبکہ اس کے 2 سو سال بعد ہو این تسانگ نے اس خطے کا سفر کیا۔ فاہیان کا سفر دراصل اس کے مذہبی جذبات کی بناء پر شروع ہوا تھا۔ گوتم بدھ کی دھرتی ہندوستان تھی اور چین میں اس کا خاطر خواہ اثر پہنچ چکا تھا۔ مگر چینیوں کو علم ہوا کہ گوتم بدھ سے وابستہ نادر اشیاء اور دستاویزات ضائع ہو رہی ہیں لہٰذا فاہیان نے ہندوستان کے سفر کے لئے کمر باندھ لی۔ اور اپنی مقدس اشیاء کو تحفظ کرنے کی غرض سے کہ ان کو چین لے آئے وہ چل پڑا یہ بات یہاں کے باسیوں کے لئے بڑی حیران کن تھی کہ کوئی مذہبی کی کھوج کے لئے اتنا سفر کر سکتا ہے۔

اس بات کا اظہار اس سے پرجیت ون میں قائم بدھ وہار کے سنیاسیوں نے کیا تھا کہ جہاں پر کبھی گوتم بدھ تعلیم دیا کرتا تھا۔ اس نے اپنا سفر ادیان یعنی چمن کے آس پاس سے شروع کیا۔ گاندھار، ٹیکسلا اور پشاور سے ہوتے ہوئے وہ دریائے سندھ کو پار کرکے جمنا کے کنار متھرا میں پہنچا۔ سنکاشیہ، قنوج اور شراوستی گیا۔ اس نے گوتم بدھ کی جائے پیدائش کپل وستو دیکھی۔ گنگا کو پار کر کے پاٹلی پتر آیا اور وہاں پر موجود خیراتی ہسپتالوں کو دیکھ کر دم بخود رہ گیا۔

Read more

خزانہ سنبھالنے کمپنی بہادر کا ریزیڈنٹ آ گیا

بعض واقعات تاریخ کا دھارا موڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ ان واقعات کے وقوع پذیر ہونے کے بعد برسوں نہیں بلکہ بسا اوقات صدیوں تلک حالات انہی واقعات کے گرد گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔ بنگال کے نواب سراج الدولہ برصغیر کی تاریخ میں ایک ایسی شخصیت گزری ہے کہ اگر وہ انگریزوں کے خلاف اپنوں کی بیوفائی کے سبب سے شکست نہ کھا جاتے تو ناصرف کے برصغیر کی تاریخ دوسری طرح تحریر کی جاتی بلکہ عالمی منظر نامہ بھی کچھ اور ہی ہوتا۔

جنگ پلاسی میں کامیابی کے بعد جہاں انگریز برصغیر میں اپنے قدم مضبوطی سے جمانے لگ گئے وہیں پر انہوں نے اس خطے کی سماجی حرکیات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے اقتدار کو قائم کرنے اور دوام بخشنے کی غرض سے ایک نیا عہدہ تخلیق کیا اور اس عہدے کا نام ریذیڈنٹ رکھا گیا۔ ریذیڈنٹ کی قانونی پوزیشن کو ایک سفارتکار کی تھی مگر یہ صرف کتابوں میں ہی لکھا ہوا تھا۔ جیسے ہمارے ہاں آئین میں سول بالا دستی لکھی ہوئی ہے۔ بہرحال انگریزوں نے برصغیر کے تمام حصوں پر براہ راست حکمرانی کی بجائے دیسی ریاستیں بھی قائم رہنے دیں اور قانون کے اعتبار سے یہ دیسی حکمران، حکمران ہی تھے مگر ان کے ساتھ اپنا ریذیڈنٹ بھی مقرر کر دیا۔

Read more

شاعر کا رکشہ اور ادھار کا کفن

میرا دوست کراچی کے ایک دلخراش منظر کی منظر کشی کر رہا تھا۔ علامہ اقبال کی کتاب "علم اقتصاد ” کے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے تھے۔ علامہ اقبال نے معیشت پر تحریر کردہ اپنی کتاب "علم اقتصاد” میں فرمایا تھا کہ "غریبی قویٰ انسانی پر بہت برا اثر ڈالتی ہے۔ بلکہ بسا اوقات انسانی روح کے مجلا آئینہ کو اس قدر زنگ آلود کر دیتی ہے کہ اخلاقی اور تمدنی لحاظ سے اس کا وجود و عدم برابر

Read more

حمزہ شہباز کے انکار کی قیمت

نواز شریف سے مسئلہ کیا ہے کہ جس کے سبب سے اس کے خلاف اقدامات ذاتی دشمنی سے بھی بڑھ کر کیے جا رہے ہیں۔ جواب صاف ہے کہ وہ ”نہیں“ کہنا جانتا ہے۔ شام کے معاملے میں طاقت سے حکومت گرانے کے رویے کی مخالفت، یمن جنگ میں غیر جانبداری اور دہشت گردی کے خلاف بلا تفریق کارروائی سی پیک پر ڈٹے رہنا نہیں کہنے کے کھلے مظاہرے تھے مگر اس نہیں کہنے کی قیمت بھی بہت بھاری ہوتی ہے۔ جو کہ نواز شریف صرف خود ہی نہیں بلکہ ان کا خاندان بھی ادا کر رہا ہے۔

حمزہ شہباز کے خلاف تازہ کارروائی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جیلیں، تکلیفیں طاقتوروں کے مقابلے میں کھڑے ہونے کی صورت میں سامنے کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ ڈینیل اور فلپ امریکہ کی تاریخ میں 2 ایسے بھائی ہیں کہ جنہوں نے امریکی ایٹمی اسلحے کے خلاف مہم چلائی اور نہیں کہنا شروع کر دیا۔ اس سلسلے میں 100 بار سے زائد گرفتار بھی ہوئے۔ ان دونوں بھائیوں نے 7 دیگر افراد کے ہمراہ 17 مئی 1968 کو کینٹن ولا میری لینڈ میں ویت نام جنگ کی مخالفت میں امریکی ڈرافٹ فائلیں دیسی قسم کے نیپام بم سے جلا ڈالیں۔

Read more

نواز شریف کسی کو ”باپو“ تسلیم کرنے سے انکاری ہیں

اختلافات کہاں پیدا ہوتے ہیں اور اختلافات ختم کیوں نہیں ہو پاتے۔ سیاسی معاملات میں پوائنٹ آف نو ریٹرن کہاں اور کیوں آ جاتا ہے۔ یہ سوالات اس وقت پاکستان کی موجودہ سیاسی حالات میں جواب کے منتظر ہیں۔ نواز شریف اس حد تک کیوں چلے گئے کہ عارضہ قلب جیسی سنگین بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود وہ سخت ترین حالات کا سامنے کرنے کے لئے سینہ سپر نظر آتے ہیں۔ آج اس صورتحال کو سمجھنے کے لئے ذرا سو سال قبل کی طرف چلتے ہیں۔ لیکن اس بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ ہر دور کے اپنے حالات ہوتے ہیں اور کسی لیڈر کا کسی دوسرے لیڈر سے تقابل نہیں بنتا اور نہ ہی میں یہ تقابل کرنے لگا ہوں۔

قائد اعظم ؒ کانگریس کے چوٹی کے رہنماؤں میں شامل تھے۔ اختلاف رائے ممکن تھا مگر کسی کی شخصی پیروی کا تصور کانگریس میں بھی موجود نہیں تھا۔ اسی دوران ہندوستان کی سیاست میں گاندھی جی کی اینٹری ہوتی ہے اور تلک کی موت کے بعد وہ اہم ترین رہنماء بن جاتے ہیں اور اپنی گرفت مضبوط کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اتنی مضبوط کہ اب جو وہ کہیں گے وہی سچ ہو گا۔ کانگریس کے دیگر رہنما ان کی شخصیت کے زیر اثر آ جاتے ہیں مگر قائد اعظمؒ کسی کی مطلق العانیت کو تسلیم کرنے سے انکاری تھے۔ یہاں اسے قائد اعظمؒ اور گاندھی کے اختلافات شروع ہوئے کہ قائد اعظمؒ کسی کو باپو نہیں مانتے تھے۔

Read more

لیون کا قصائی اور نیب

بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر کا کفن میں لپٹا وجود کیا چند دنوں میں ایک ماضی کے قصے کی مانند رہ جائے گا کہ جن کو یاد کر کے کبھی کبھی کالموں کا پیٹ بھرا جائے گا یا اس واقعہ کی بدولت یہ واضح ہو گیا ہے کہ نیب کا ادارہ اس سرخ نشان کو عبور کر چکا ہے کہ جس کے بعد مستقبل کی تاریخ میں آج کی تاریخ صرف ندامت بن کر زندہ ہو گی کہ جس ندامت کی حیثیت صرف بے حیثیت ہو گی۔ اداروں کو اس انداز میں چلانے اور برقرار رکھنے کے کہ جس کی وجہ سے لوگ خود کشی تک پر مجبور ہو جائیں وقتی طور پر تو طاقتوروں کے لئے طاقت کے اس مظاہرے پر سوائے خوش ہونے اور اس کو اپنی کامیابی قرار دینے کے اور کچھ نہیں ہوتا لیکن حقیقت میں بہت کچھ اور بھی ہوتا ہے۔

جرمنی میں ہٹلر کی حکومت دوسری جنگ عظیم میں وقتی طور پر کامیابیاں سمیٹ رہی تھی۔ فرانس کے وسیع علاقے پر قبضہ کر چکنے کے باوجود فرانس کے شہر لیون میں فرانس کی مقامی آبادی کی مزاحمت بہت زیادہ تھی۔ برسبیل تذکرہ بیان کرتا چلوں کہ ان مزاحمت کاروں سے میری اپنی بھی لیون میں ملاقاتیں رہیں اور درد کہانیاں جن پر بیتیں ان سے سنیں۔ اس مزاحمت کو کچلنے کے لئے جرمنی کی اسوقت کی انٹیلی جنس گسٹاپو نے اپنے ایک نوجوان افسر کلازباربی کو 1942 ؁ء میں فرانس بھیجا اور لیون میں گسٹاپو کا سربراہ مقرر کر دیا۔

Read more

پاک بھارت کشیدگی بین الاقوامی تناظر میں

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بہت زیادہ ہونے کے بعد اب معاملات بہتری کی طرف جا رہے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کشیدگی صرف اس وجہ سے ہوئی کہ پلوامہ میں بھارتی فوجیوں پر حملہ ہو گیا اور بھارت نے اس کے اثرات زائل کرنے کے لئے اپنی فضائی فوج تک کے استعمال کا فیصلہ کر لیا؟ یا یہ سب کچھ صرف بھارت میں ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی غرض

Read more

انڈیا، دہشت گردی، سعودی عرب اور وقتی مزہ

بین الاقوامی تعلقات میں یہ زبانی کلامی تو دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہمارے تعلقات باہمی بھائی چارے پر مبنی ہیں لیکن اس حقیقت سے بہرحال پردہ پوشی ممکن ہی نہیں ہوتی کہ یہ تعلقات دو طرفہ مفادات اور باہمی اغراض کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان سے وابستہ 3 ایسے واقعات ہوئے کہ جن سے وطن عزیز کے مفادات براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔ پلوامہ واقعہ، سعودی ولی عہد کا دورہ پھر افغانستان کی صورتحال تو ہمہ وقت ہمارے ساتھ ساتھ ہی رہتی ہیں۔یہ تمام معاملات بظاہر جدا جدا ہیں لیکن ان کے اثرات باہمی پیوستہ ہیں۔ پلوامہ واقعہ پر بھارت کا جو رد عمل سامنے آیا ایسا رد عمل وہ اکثر و بیشتر واقعات پر دیتا ہی رہتا ہے۔ اور اس کا ماسوائے اس کے اور کوئی مقصد نہیں کہ اپنی اور بین الاقوامی رائے عامہ میں اس تصور کو پختہ کیا جائے کہ پاکستان بقول اس کے دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ اور اس ذریعے سے وہ پاکستان میں اپنی دہشت گردی جس کا ایک ثبوت کلبوشن یادیو ہے پر سے دنیا کی نظروں کو ہٹانا چاہتا ہے۔

Read more

بینکاروں پر تکیہ نقصان دہ؟

پلوامہ واقعہ پر بھارت کا جو ردِ عمل سامنے آیا، یہی توقع کی جا رہی تھی کہ بھارت کی جانب سے بڑھکبازی شروع کر دی جائے گی کیونکہ بھارتی انتخابات کی آمد آمد ہے اور وہاں پر انتخابات پر کامیابی کا ایک موثر گُر پاکستان دشمنی ہے۔ پھر بھارت کو اُس وقت اِس کا زعم بھی بہت ہے کہ وہ عالمی برادری میں ایک مقام حاصل کر چکا ہے۔ اس ردِ عمل کا اِس کے علاوہ اور کوئی مقصد نہیں

Read more

سب جل جائے گا۔ غیر سینسر شدہ مکمل کالم

جرمنی کی تاریخ میں 27 فروری 1933 کا دن ایک قومی المیے اور اس سے جڑے مزید المیوں کی ابتداء کے طور پر ایک غیر معمولی دن کے طور پر تاریخ میں نقش ہے۔ اس دن جرمن پارلیمنٹ کی عمارت میں سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ پارلیمنٹ جس کے اختیارات پہلے ہی محدود کیے جا چکے تھے۔ آگ کا انگارہ دکھائی دے رہی تھی۔

اس واقعے سے قبل 30 جنوری 1933 کو ہٹلر ایک غیر آئینی طریقہ کار سے کہ جس کے متعلق دعویٰ یہ کیا جا رہا تھا کہ یہ عین آئینی طریقہ کار ہے، برسر اقتدار آ چکا تھا۔ ہٹلر بذات خود پارلیمنٹ پہنچا اور اخبار نویسوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ”یہ ایک قسم کا خدائی اشارہ ہے اور اب ہم کمیونسٹوں پر کاری ضرب لگا سکیں گے“۔

اس شام سرکاری طور پر اعلان کر دیا گیا کہ کمیونسٹوں نے پارلیمنٹ کو آگ لگا دی ہے۔ ہٹلری میڈیا اس سرکاری بیان کو ثابت کرنے میں جت گیا اور نتیجتاً ہزاروں مزدور رہنماء اور مزدور حقوق کی تحریک سے وابستہ افراد نازیوں کے ہاتھوں قتل کر دیے گئے۔

Read more

قطر میں وزیراعظم کے دورے میں کیا ہوا؟ افغان مسئلے پر پیش رفت

مُلا برادرز کی افغان طالبان کے قطر کی سیاسی شعبے کے سربراہ کے طور پر تعیناتی ایک ایسی خبر ہے کہ جس سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ افغانستان میں ایک نیا منظر نامہ تشکیل دیے جانے کی غرض سے کوششیں برق رفتاری سے جاری ہیں۔ زبانی کلامی گفتگو کو ایک طرف کرتے ہوئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ موجودہ حکومت اس سلسلے میں کیا تیاریاں جاری ہیں اور وہ ان حالات میں پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنے کی غرض سے کس حد تک صلاحیتوں کو اپنے اندر پاتے ہیں اس کو سمجھنے کی غرض سے حکومت کی گزشتہ پانچ ماہ کی کارکردگی اور بالخصوص حالیہ ترکی، امارات اور قطر کے دوروں میں صلاحیت اور سنجیدگی کے عنصر کو پر کھا جا سکتا ہے۔ جو بدقسمتی سے سرے سے موجود نہیں ہے۔

متحدہ عرب امارات میں ایک برادر اسلامی ملک کے صدر کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ گفتگو اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ نا پختہ کاری سے عمران خان کو بہت قربت کا رشتہ ہے جس کو وہ نبھا بھی رہے ہیں۔ اسی طرح قطر میں بھی وہ معاملات کو حل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے بلکہ بیان کرنے والے تو یہ بھی بیان کر رہے ہیں کہ ان سے سوال کیا گیا کہ آپ ہمیں پاکستان کی عدالتوں میں کیوں بلانا چاہتے تھے اور ہماری تحریر پر اُدھر کیوں بھروسا نہیں کیا گیا تیاری موجود نہیں تھی لہذا جواب نہ کوئی بن پڑا۔

Read more

نواز شریف، اذان ضرور ہو گی

قانونی موشگافی کیا رہتی ہے اس کا تعلق عوامی رائے سے قائم نہیں ہو پاتا ہے۔ بالخصوص اس کیفیت میں کہ جب رائے عامہ میں حمایت اور مخالفت کرنے والے دونوں طبقات سیاسی رہنماء کی سیاسی زندگی کے اتار چڑھاؤ کا معاملہ اس کے طاقت کے مراکز سے تعلقات میں تلاش کر رہے ہوں۔ یہی معاملہ اس وقت پاکستان کو در پیش ہے۔ نواز شریف کی سیاسی زندگی اس وقت جس موڑ پر آ پہنچی ہے اس کے متعلق یہ تاثر قائم رکھنا کہ وہ خود اس کی توقع نہیں کر رہے تھے، حالات کے معاملے میں اپنی آنکھیں بلکہ کان اور دماغ بھی بند کر لینے کے مترادف ہو گا۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ حالات کس رخ جا سکتے ہیں۔ کسی کو بھی سپر پرائم منسٹر تسلیم نہ کرنے کے بیان نے یہ طے کر دیا تھا کہ ووٹ کی طاقت کا تصادم اینٹی پولیٹیکل سوچ سے ضرور ہو گا۔ نتیجتاً تجربات پھر دہرائے جائیں گئے۔ اور فی الواقعہ ایسا ہوا بھی۔ لیکن ہمارے سامنے اصل سوال یہ موجود ہے کہ ان تجربات کی بنا پر جو سیاسی بناء پڑتی ہے اس سے اس وقت وطن عزیز کس طرح نبرد آزما ہے۔

Read more

افغانستان سے پاکستان تک: ذمہ داری کی ضرورت

افغانستان ایک بار پھر اُس دوراہے پر کھڑا ہے کہ اگر راستہ درست نہ اختیار کیا گیا تو ایسی صورت میں افغان سرزمین تو خونی غسل کرتی ہی رہے گی مگر پاکستان بھی اس کے اثرات سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکے گا۔ افغانستان میں کسی حل تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ اس بات کا مکمل ادراک موجود ہو کہ حالات اس حد تک خراب کیوں ہو گئے اس کے لیے ماضی کو ہلکا سا کریدنا ہو گا۔ ظاہر شاہ کی حکومت افغانستان میں رواں دواں تھی دوسرے لفظوں میں ایک ریاست موجود تھی اس کا ایک آئینی سربراہ بھی موجود تھا مگر عوام کو نئے نئے لولی پاپ دینے والوں نے اس بات کی پروا کیے بنا ء کہ اگر یہ نظام ٹوٹ گیا تو اس کی جگہ کون سا نظام آئے گا یا بے یقینی اور بدامنی مستقل ڈیرے ڈال لے گی، سوشلسٹ نظریات کی بنیاد پر ظاہر شاہ کی آئینی حکومت کو سردار داؤد کے ذریعے ماضی کا قصہ بنادیا۔

Read more

حکومت اور مکڑی کا جالا

فرانس میں ایک قابل لحاظ طبقے نے سڑکوں پر احتجاج کی راہ لی اور نظام مملکت اس حد تک ابتر کر دیا کہ فرانس کے صدر مکرون کو اپنے ٹیکسز میں اضافے کے فیصلہ کو سر دست واپس لینا پڑا۔ لیکن اس سب کے دوران معاملات اتنے دگرگوں ہو گئے کہ سی این این جیسے نشریاتی ادارے کو یہ سوال اٹھانا پڑ گیا کہ کیا مغربی جمہوریتوں کو بحران کا سامنا ہے؟

یہ ایک ایسا سوال ہے کہ اگر اس کا جواب مثبت ہوا تو دنیا میں غیر معمولی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو سکتی ہیں۔ اگر غور کرے تو تبدیلی کا آغاز برطانیہ کے بریگزٹ کے فیصلے سے شروع بھی ہو چکا ہے۔ برطانیہ نے جب بریگزٹ کا فیصلہ کیا تو اس وقت سے برطانوی سیاست میں ایک ارتعاش کی کیفیت موجود ہے۔ موجودہ وزیر اعظم تھریسا مے ابھی اقتدار سے بیدخل ہونے کے قریب تھی بہرحال اعتماد کا ووٹ تو لے گئی لیکن بریگزٹ پر رائے شماری کو تاخیر میں ڈالنا پڑا۔

Read more

چینی کونسلیٹ پر حملہ اور کرتار پور راہداری

کرتار پور راہداری کا معاملہ واضح طور پر لگ رہا تھا کہ یہ ہونا ہی ہے۔ اسی دوران کراچی میں چینی کونسلیٹ پر حملے نے یہ بھی واضح کر دیا کہ دوسری طرف کیا گل کھلانے کی مزید تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ان دونوں واقعات کے لئے وقت کا تعین کوئی اتفاقی امر نہیں ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے اور بلوچستان میں شورش پسند اس کو چھپاتے بھی نہیں تھے۔ ان کی توقعات کا محور بھارت ہے۔ اس لئے جب 15 اگست کی تقریر میں نریندر مودی نے بلوچستان کا ذکر کیا تو یہ طبقہ خوشی سے نہال ہو گیا۔

دوسرے لفظوں میں یہ بھارت کی حکمت عملی کو جو پاکستان میں وہ روا رکھنا چاہتا ہے کو آگے بڑھانے کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔ اسلم اچھو گذشتہ تقریباً ایک عشرے سے کچھ کم سے بلوچستان میں تشدد کے واقعات میں ملوث رہا ہے۔ کوئٹہ سبی اور قلات میں یہ بہت زیادہ متحرک رہا اور اس نے پاکستان میں رہائش کے دوران اور جب سے یہ قندھار میں 2012 ؁ء سے رہائش پذیر ہے اس کے باوجود اپنے زیر اثر علاقوں میں جہاں اس کا حامی بی ایل اے کا گروپ موجود ہے یہ آتا جاتا رہتا ہے۔

Read more

نواب زادہ نصراللہ خان کی خواہش

مشرف کے اقتدار کے تاریک دن وطن عزیز پر مسلط تھے اور سیاسی جماعتیں نواب زادہ نصراللہ خان مرحوم کی قیادت میں ان دنوں کو روشن ایام میں تبدیل کرنے کی جدو جہد میں مشغول تھی انہی دنوں میں ایک ٹیلی ویثرن انٹرویو کے دوران نواب زادہ نصر اللہ خان مرحوم نے فرمایا کہ ہم یہ کہہ رہے ہے کہ اسی پارلیمنٹ کو ساورن (با اختیار ) کر دو۔ میں چونک گیا ایک ایسی پارلیمنٹ جو کسی حجاب کے بناء آمریت کی پیدا وار اور حاشیہ بردار ہو اُسکے لئے اس خواہش کا اظہار اور وہ بھی ایسے شخص کی جانب سے کہ جو قافلہ جمہوریت کا سالار ہو ایک زمانہ دیکھ چکا ہوں، نواب زادہ نصراللہ خان مرحوم مجھ پر بہت شفقت فرماتے تھے چند دنوں بعد میں نے ایک پروگرام منعقد کیا نواب زادہ مرحوم کو صدارت کی دعوت دی اور انہوں نے کمالِ مہر بانی سے میری اُس دعوت کو قبول فرما لیا اور وقت مقررہ پر تشریف لے آئے۔

Read more

امریکہ دنیا میں سب کا ہمسایہ ہے

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ہی امریکی سیاست اور نظم مملکت میں بہت بڑی تو نہی لیکن ایک نوعیت کی تبدیلی وقوع پذیر ہو گئی ہے۔ اور اس تبدیلی کی ہمارے واسطے اہمیت یہ ہے کہ امریکہ دنیا میں سب کا ہمسایہ ہے سو ہمارا بھی ہمسایہ ہے۔ ان انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کو سینٹ اور ایوان نمائندگان دونوں میں اکثریت حاصل تھی جس کے سبب سے ان کو قانون سازی اور بجٹ کی منظوری کے لئے بہت آسانی حاصل تھی۔

مگر حالیہ انتخابات کے بعد ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو اکثریت حاصل ہو گئی ہے اور اس اکثریت کے بل بوتے پر وہ منصب صدارت کی جانب سے اٹھائے اقدامات کی ایوان میں چھان پھٹک کر سکتے ہیں۔ لیکن ریپبلکنز کو سینٹ میں بدستور اکثریت حاصل ہے کہ جس کے سبب سے صدر ٹرمپ کے لئے اعلیٰ حکام کی تقرریوں کی منظوری لینے میں حسب سابق مشکلات نہیں ہو گی۔ لیکن اب ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے لئے ممکن ہو گا کہ نا صرف کہ وہ ایوان کی مختلف کمیٹیوں کے رکن ہوں گے بلکہ ان کمیٹیوں کا ایجنڈا طے کرنے کا اختیار بھی ان کو حاصل ہو گا۔

Read more

دورہ چین کے تاثرات: سب اچھا نہیں ہے

پاکستان میں سیاسی تبدیلی کے وقوع پذیر ہونے سے جن معاملات میں سب سے زیادہ خدشات کا سامنا ہوا ان میں سے سر فہرست سی پیک کی مکمل تعمیر ہے۔ یہ بالکل درست ہے کہ موجودہ حکومت نے اب تک سی پیک کے حوالے سے یہ موقف ہی پیش کیا ہے کہ وہ اس منصوبے کے ساتھ ساتھ ہے مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ پر موجود ہے کہ حکومتی حلقوں کی جانب سے ہی معاہدوں پر دوبارہ غوروخوض، آئی

Read more

خارجہ پالیسی کا چاک چاک گریباں

گزشتہ انتخابات سے قبل تحریک انصاف اپنے انتخابی جلسے اور جلسوں میں سابق فوجی آمر ایوب خان کا امریکہ میں استقبال کی ویڈیو کو اس دعوے کے ساتھ دکھاتی تھی کہ اس وقت اقوام عالم میں ہمارا احترام کتنا زیادہ تھا اور اب یہ احترام کافور ہو گیا ہے۔ حالانکہ اس احترام کی بدولت ہی ہم آج تک مصائب کا شکار ہیں بہرحال انتخابات میں دعوے کرنے پر ان کے حامی یہ دعویٰ کرتے نظر آتے تھے کہ عمران خان

Read more

بنگلہ دیش میں بھارتی قدم

جنوبی ایشیاء میں بھارتی بالا دستی قائم کرنے کی غرض سے بھارت سبک رفتاری سے مختلف ممالک میں اپنے مفادات کو ان ممالک کے مفادات سے اس انداز میں جوڑ رہا ہے کہ اگر وہاں پر کوئی سیاسی تبدیلی وقوع پذیر ہو بھی جائے تو بھی ان کے لیے بھارتی چنگل سے آزاد ہونا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو۔ اس سلسلے کی تازہ ترین مثال انڈیا، بنگلہ دیش، فرینڈ شپ پائپ لائن پراجیکٹ ہے اس پائپ لائن کے ذریعے

Read more

بنگلہ دیش میں حالیہ مظاہرے اور سیاسی بے چینی

بنگلہ دیش میں چند دنوں قبل دس یوم پر محیط طلبہ کی جانب سے کیے گئے ہنگاموں کو ریاستی طاقت کے زور پر دبا لیا گیا۔ لیکن خیال یہ ہے کہ یہ اشتعال اس حد تک بنگلہ دیش کے معاشرے میں اس وقت موجود ہے کہ جو دوبارہ بہت جلد کسی وقت پھٹ پڑ سکتا ہے۔ ان مظاہروں کا آغاز تو اس بے چینی سے شروع ہوا جو دو نوجوان طلبہ کی بس کے حادثے میں انتقال سے ہوا تھا۔

Read more

خارجہ پالیسی: قصے کہانیوں کو چھوڑ کر حقائق سمجھنے کی ضرورت ہے

اوسوالڈ سپنگلر کی کتاب Decline of the West نے پوری دنیا اور بالخصوص مغربی دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیا تھا۔ بلکہ اس تہلکے کے آثار آج تک محسوس ہو رہے ہیں۔ تہذیبوں اور ممالک کی جہاں پر زوال کی وہ نشانیاں بیان کرتا ہے وہاں اس نے رومی جمہوریہ کے زوال کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ ” یہ مقولہ سیزر سے قبل تمام رومی تاریخ (250 ق م) مکمل طور پر جعلسازی ہے بالکل درست ہے۔

Read more

آہ بیگم کلثوم نواز

یہ 1985ء کے عام انتخابات کا موقع تھا۔ میں سکول کا طالب علم تھا کہ پتہ چلا کہ انتخابی مہم کے سلسلے میں میاں نوازشریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز صاحبہ ہمارے علاقے میں تشریف لائی ہیں۔ بچہ تھا لیکن سیاست کا شوق بھاگم بھاگ وہاں پہنچ گیا کہ جہاں پر بیگم صاحبہ موجود تھیں۔ ایک باوقار چہرہ جس کی نرم گفتاری ٹھٹ کے ٹھٹ لگائے وہاں موجود خواتین کو اپنے حصار میں لے رہی تھیں۔ یہ بیگم کلثوم نواز

Read more

بیگم کلثوم نواز کی چند باتیں چند ملاقاتیں

یہ 1985؁ء کے عام انتخابات کا موقع تھا۔ میں سکول کا طالب علم تھا کہ پتہ چلا کہ انتخابی مہم کے سلسلے میں میاں نوازشریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز صاحبہ ہمارے علاقے میں تشریف لائی ہیں۔ بچہ تھا لیکن سیاست کا شوق بھاگم بھاگ وہاں پہنچ گیا کہ جہاں پر بیگم صاحبہ موجود تھیں۔ ایک باوقار چہرہ جس کی نرم گفتاری ٹھٹ کے ٹھٹ لگائے وہاں موجود خواتین کو اپنے حصار میں لے رہی تھیں۔ یہ بیگم کلثوم نواز

Read more

وزیر اعظم سے مائیک پومپیو نے کیا مطالبہ کیا؟

امریکی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد سے چند دن قبل کی بات ہے کہ الطاف حسن قریشی نے امریکہ سے آئےپاکستانی اسکولوں کی حالت زار بہتر بنانے کی غرض سے قائم تنظیم ’’علم و ادب‘‘ کے طلحہ خان اور ان کے ساتھیوں کے اعزاز میں دعوت کا اہتمام کر رکھا تھا۔ ان پاکستانی امریکیوں سے اس موضوع پر گفتگو کا سلسلہ چل نکلا کہ آیا وہ کون سی وجوہات ہیں کہ جن کے سبب سے بھارتی اثرات تو امریکی پالیسی

Read more

خالصتان تحریک کا احیا اور پاکستان کا کردار

پاکستانیوں پر باہمی عزت ذلت کے فتوے لگانے کے بعد اب اپنے گردو پیش کی خبر لینا مزید از حد ضروری ہو گیا ہے۔ انڈیا صرف کشمیر اور اس سے منسلک معاملات میں ہی پاکستان کے حوالے سے واویلا نہیں کر رہا بلکہ کینیڈا اور برطانیہ میں خاصلتان کے حامی سکھوں کے اقدامات کو پاکستان کی سازش قرار دے رہا ہے۔ تا کہ طاقت کے زور پر دبائے گئے مشرقی پنجاب اور اس سے جڑے ہوئے علاقوں میں موجود سکھوں

Read more

ریاست پاکستان کی ساکھ کا سوال

خارجہ معاملات میں مبہم کیفیت کا قائم ہو جانا ایک دوسرے کی بات کی تردید کر ڈالنا یا اپنی بات کی وضاحت اس وقت پیش کرنا کہ جب وقت گزر چکا ہو۔ ذہنی الجھن یا سمت کے متعین نہ ہونے کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اور نوزائیدہ حکومت کے لئے ان واقعات کا ظہور پذیر ہونا سخت نا مناسب ہے۔ میری مراد مائیک پومپیو کی ٹیلی فون کال کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال اور کچھ دیگر پے در پے

Read more

غزنی حملہ اور افغان صدر اشرف غنی کے پاکستان پر الزامات

غزنی پر ہوئے افغان طالبان کے تازہ حملے کے بعد افغان صدر اشرف غنی جس طرح پاکستان پر اپنے غصے کا اظہار کرتے رہے اور انہوں نے پاکستان کی حکومت اس کے اداروں، سیاسی قیادت اور صحافیوں کا نام لے کر الزامات عائد کیے وہ اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ افغان طالبان کے مقابلے میں فتح نہیں پارہے افغانستان نے اپنی ناکامی چھپانے کی غرض سے تمام توپوں کا رخ پاکستان کی جانب موڑ دیا ہے۔ حالانکہ

Read more

ترکی میں امریکی پادری کی گرفتاری اور امریکہ سے بگڑتے تعلقات

ترکی اورامریکہ کے بگڑے تعلقات پاکستان کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں اول تو دونوں ممالک امریکہ اور ترکی سے پاکستان کے تعلقات کی ایک اہمیت موجودہے دوئم ترکی سے گہرے ذہنی روابط بھی پاکستانی اور پاکستان کے لیے ایک اہم امر ہے۔ یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ پاکستانی ابھی سے ترکی کرنسی لیرا خریدنے پر اتر آئے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر العظیم تو لاہور میں اس مہم کی قیادت بھی کر رہے ہیں امریکہ اور ترکی

Read more

صدر ٹرمپ، امریکی میڈیا اور پاکستانی میڈیا

امریکی معاشرے میں یہ تصور نہایت راسخ ہے کہ امریکی معاشرے کی ترقی اور ارتقا میں بنیادی نوعیت کی اہمیت آزادی اظہار کو حاصل ہے اور اگر اس آزادی کو سلب کر لیا گیا یا ایسا تاثر بھی قائم کر دیا گیا کہ بات کرنے کی آزادی خطرے میں ہے یا قصہ پارینہ بنائی جا سکتی ہے تو دو صدیوں پر محیط امریکی جمہوریت ڈانواں ڈول بلکہ خود ماضی کی داستان بن کر رہ جائے گی امریکی صدر ٹرمپ جب

Read more

اڈیالہ کے قیدی سے ملاقات – کچھ مشاہدات

میاں نواز شریف سے براہ راست رابطہ ان کی لندن سے پاکستان روانگی سے چند گھنٹے قبل تک رہا ۔ پھر اس کے بعد جب وہ وطن عزیز کی سرزمین پر پہنچے تو ان تک رسائی کو طاقتوروں نے نا ممکن بنا دیا۔ جیل میں مقید کر کے یہ خیال باندھ لیا گیا کہ شاید ان کی قیادت میں آئین کی بالادستی کی خاطر لڑنے والے ان سے ملاقات کی کوششوں کو اس خوف سے ترک کر دیں گے کہ

Read more

بھارتی آئین کی شق 35 اے اور کشمیر

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال قیام پاکستان سے لے کر آج تک ایک معلق کیفیت میں موجود ہے۔ نریندر مودی کی حکومت ایک خاص نوعیت کا تعصب پھیلا کر اپنے بہت سے سارے مفادات کو حاصل کرنے کی کوشش میں لگی رہتی ہے۔ اس نوعیت کی ایک کوشش آج کل مقبوضہ کشمیر میں جاری و ساری ہے۔ ایک این جی او اور ایک خاتون وکیل چروں کھنہ کی جانب سے متفرق درخواستیں بھارتی سپریم کورٹ میں دلوائی گئی ہیں کہ جس

Read more

پاکستانی فوجی افسروں کی امریکہ کی بجائے روس میں تربیت

پاکستان میں عالمی سطح پر اور پاکستان کے گردو پیش میں لمحہ بہ لمحہ واقعات اس رفتار سے وقوع پذیر ہو رہے ہیں کہ عالمی معاملات پر قلم جگہ جگہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ روس اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات کہ جن کی جہت اس وقت عسکری نوعیت کی زیادہ ہے۔ ایسا ہی ایک معاملہ ہے۔ روس کے نائب وزیر دفاع پاکستان کے دورہ پر اسلام آباد میں موجود تھے اور دونوں ممالک ماضی کی تلخیوں کو دفن

Read more

امریکہ کا دفاعی بجٹ

امریکہ کا دفاعی بجٹ بالآخر کانگرس نے منظور کر لیا اس بجٹ کی منظور ی سے قبل ری پبلکنزاور ڈیمو کریٹس کے درمیان بار بار مذاکرات کے ادوار برپا ہوئے اور پھر بالاخر سینٹ میں اکثریتی لیڈر سینٹر میک کینل نے اعلان کیا کہ سینٹ میں ڈیمو کریٹس سے معاہدہ ہو گیا ہے اس میں اہم ترین امر یہ ہے کہ قانون سازوں نے وائٹ ہاؤس کی بہت ساری تجاویز کو یا تو کلیتاً مسترد کر دی ہے یا اس

Read more

نواز شریف سے جیل میں ملاقات اور سیاسی جماعتوں کا کردار

وقت کا دھارا ہمہ وقت تبدیل ہوتا رہتا ہے میں تاریخ میں زندہ رہنے کے سبب سے اقدامات کی بات نہیں کرونگاکیونکہ حال میں زندہ رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا ہی تاریخ میں زندگی کا سبب بنتا ہے عام انتخابات کا انعقاد ہو چکا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں نے اسمبلیوں میں اپنا کردار ادا کرنے کی ٹھان لی۔ سوال یہ ہی۔ کہ کردار کیا ہونا چاہیے؟ اور موجودہ حالات میں یہ کردار کیا ہو سکتا ہے؟ جن حالات

Read more

عمران خان پاکستان کے میئر ہونگے

انتخابی نتائج کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا اور جو کچھ پولنگ کے آخری 2 گھنٹوں اور بعد میں روا رکھا گیا تھا اس کے مطابق ہی طاقتوروں کے حسب منشاء نتائج سامنے آ رہے تھے اور مجھے کسی مغربی مفکر کا یہ قول یاد آ رہا تھا کہ ” فیصلہ وہ نہیں کرتے جو ووٹ ڈالتے ہیں بلکہ فیصلہ وہ کرتے ہیں جو ووٹ گنتے ہیں“۔ ان انتخابات کا عوامی رائے سے کتنا تعلق ہے اس کو

Read more

شامی خانہ جنگی کا خاتمہ اور یورپ کی ہٹ دھرمی

شام میں جاری خانہ جنگی جس نے ہزاروں المیہ دانستانوں کو جنم دیا اور تاریخ میں لہو لہو واقعات کے طور پر زندہ رہیگی کا سات سال بعد اختتام قریب تر نظر آتا ہے۔ بشار الاسد کی حکومت تا حال شام کے تمام علاقوں پر اپنی عملداری قائم کرنے میں تو کامیاب نہیں ہو سکتی ہے لیکن داعش کی شکست اور باغیوں کی جانب سے ہتھیار پھینکنے کے بعد یہ امید بہت قوی ہو گئی ہے کہ شام میں دمش

Read more

چین اور متحدہ عرب امارات میں تیزی سے بڑھتی ہوئی قربت

چین اپنی نرم حکمت عملی کے ذریعے دیگر ممالک کو تیزی سے اپنی معیشت کے ساتھ اس طرح وابستہ کر رہا ہے کہ وہ ممالک تیزی سے اپنی معیشت کا دارومدار چین کی معاشی ترقی سے مشروط کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر گزشتہ ہفتے چین کے صدر شی نے یو اے ای کا سرکار دورہ کیا۔ یہ ان کا یو اے ای کا پہلا سرکاری دورہ تھا اور تین دن پر محیط رہا۔ یو

Read more

ہٹلر کی سوچ

سوال بہت اہم ہے کہ کیا صرف مخلص ہونا قوم کے مسائل میں اپنی رائے کو مسلط کر دینے کا حق کسی انسان یا ادارے کو عطا کر دیتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کو شکست ہو گئی ہٹلر اور چرچل کامیابی اور ناکامی کی دو علامتوں کے طور پر دنیا کی تاریخ اور سیاست پر غیر معمولی نقوش چھوڑ گئے۔ کیا ہٹلر کی اپنے وطن سے محبت اس کے ساتھ مخلص ہونے کے آگے کبھی کوئی سوالیہ نشان

Read more

ٹرمپ کا دورہ یورپ ، پیوٹن سے ملاقات

امریکی صدر ڈولنڈ ٹرمپ اپنے ساتویں سات ملکی دورے پر یورپ پر موجود تھے اور انہوں نے ہیلسنکی میں روس کے صدر پیوٹن سے بھی مذاکرات کیے۔ صدر ٹرمپ کا یہ دورہ اس لحاظ سے بہت اہم تھا کہ اس کے آغاز میں وہ بریسلز گئے جہاں پر انہوں نے نیٹو کانفرنس میں شرکت کی۔ وہ گذشتہ برس بھی نیٹو کانفرنس میں شرکت کرنے کی غرض سے بریسلز گئے تھے۔ صدر ٹرمپ کا رویہ نیٹو کے حوالے سے اپنے پیش

Read more

غیر ملکی سفارت کار کسے وزیراعظم بنتا دیکھ رہے ہیں؟

یہ اس رات کا قصہ ہے جب اچانک ہی لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے عہدیداروں، کارکنوں اور بلدیاتی نمائندوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہو گئی۔ ابھی ٹیلی ویثرن لگائے ابتدائی خبریں ہی دیکھ رہا تھا کہ موبائل کی گھنٹی بجنے لگی۔ نمبر دیکھا تو دنیا کے اہم ترین ممالک میں سے ایک ملک کے سفیر کے ذاتی نمبر سے کال آ رہی تھی۔ اس وقت کال؟ حیران رہ گیا۔ بہرحال فون اٹھایا تو انہوں نے برجستہ پوچھا کہ یہ

Read more