میرے ایک دوست کے بڑے بھائی سویڈش ایمبسی میں ملازمت کررہے ہیں۔ ملازمت کے دوران میں انہوں نے اپنے مکان کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ تعمیراتی لاگت ان کے تخمینے سے بڑھ گئی۔ لہٰذا انہوں نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے لیے اپلائی کر لیا تاکہ ریاٹئرمنٹ پر ملنے والی رقم سے مکان کی تعمیر کا کام مکمل کیا جا سکے۔ افسران بالا کو جب ریٹائرمنٹ کی اصل وجہ معلوم ہوئی توانہوں نے کمل مہربانی سے ریٹائرمنٹ کی درخواست قبول کر کے انہیں رقم دینے کے بعد ایڈہاک پر تقریباً اسی تنخواہ پر دوبارہ کام پر رکھ لیا تا کہ ان کا مکان بھی تعمیر ہو سکے، بچے بھی حصول تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکیں اور ان کے گھر کا کچن بھی چلتا رہے۔
ایک ”کافر“ ملک کی ایمبسی نے اپنے ایک پاکستانی ملازم سے یہ مثالی سلوک اس لیے کیا کہ اس نے اسے بیس سال تک اپنی خدمات دی تھیں۔ مہذب، ترقی یافتہ اور خوشحال ملک اپنے لیے سرو کرنے والے لوگوں سے بلا امتیاز ایسا ہی قابل ستائش سلوک کرتے ہیں۔ سویڈن اور ان جیسے دوسرے ممالک کی ہوش ربا ترقی، امن و امان اور دیرپا خوش حالی کی بڑی وجہ ایسی ہی انسان دوست پا لیسیاں ہیں۔
اب ذرا تیسری دنیا کے ممالک میں شامل ”مملکت خداداد“ اور ”اسلام کے قلعے“ کے اداروں کی اپنے ملازمین سے روا رکھے جانے والے سلوک کی بھی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیں۔ پروفیسر ابوذر ہمارے نہایت محنتی، تجربہ کار، ہر دل عزیز اور بے لوث استاد تھے۔ فوجی فاؤنڈیشن کالج میں پچیس سال پہلے انہوں نے گورنمنٹ کی ملازمت ترک کر کے کیرئیر جاب یہ سوچ کر شروع کی تھی کہ یہ پیشہء پیغمبری ہے۔ ان پچیس برسوں میں وہ سب سے شاندار نتائج دینے اور سب سے کم چھٹیاں کرنے والے پروفیسر تھے۔
Read more