کرکٹ کا جنون اور ہمارے ارمانوں کا خون

اس میں کوئی شک نہیں کہ مذہب اور قومی زبان کے علاوہ تیسری اہم ترین چیز کرکٹ کا کھیل ہے جس نے پاکستانی قوم کو باہم مربوط اور جوڑ کر رکھا ہوا ہے۔ پاکستانی قوم کرکٹ اور کرکٹ سٹارز کی دیوانی ہے۔ مرد، خواتین، بچے، معمر افراد سبھی کرکٹ کے بخار میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ بات کرکٹ کی ہو اور موقع عالمی کپ کے سنسنی خیز اور دلچسپ مقابلوں کا ہو اور میچ پاک انڈیا کی روایتی حریف ٹیموں کے درمیان ہو تو سرحد کے دونوں طرف جنگ کی سی کیفیت برپا ہوجاتی ہے۔ بلاشبہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کھیلا جانے والا میچ ایک ارب سے زائد شائقینِ کرکٹ دیکھتے ہیں اور اپنی اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کو دل کھول کے اور ہاتھ چھوڑ کے داد دیتے ہیں۔

Read more

کپتان کا خیالی اور حقیقی بجٹ

بجٹ کے پیچیدہ اعداد و شمار، گنجلگ گوشواروں اور ادق اصطلاحوں کو پیشِ نظر رکھ کر ہی کسی سیانے نے کہا تھا کہ جھوٹ کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔ جھوٹ، سفید جھوٹ اور میزانیہ (بجٹ) ۔ یوں توہماری مختصر تاریخ کا ہر بجٹ ہی غریب کُش، عوام دشمن اور زہرناک ہوتا ہے مگر جدید ریاستِ مدینہ کے ماڈرن ”خلیفہ“ کے عہدِ خلافت میں پیش کیا جانے والا حالیہ بجٹ حقیقت میں بجٹ سے زیادہ ٹیکس و محصولات نامہ ہے۔ اشیائے خور و نوش میں سے شاید ہی کوئی چیز بچی ہو جس پر ٹیکس نہ لگایا گیا ہو۔ مفلس اور مفلوک الحال عوام کو اب کھانے کے لیے غم اور پینے کے لیے آنسوؤں کے سوا کچھ میسر نہیں ہو گا۔ اس موقعے پر ہمیں مشہور شاعر جناب انور مسعود کی بجٹ پر کہی گئی نظم باوجود کہنگی کے یاد آرہی ہے۔ کچھ شعر آپ بھی سن لیں۔

Read more

میرے خلاف بہت بڑی سازش کی گئی;کپتان کا انکشاف

میرے پاکستانیو! میں آج آپ کواپنے خلاف ہونے والی پے در پے سازشوں کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ سازشوں کی نوعیت اور ماہیت کے بارے میں بتانے سے پہلے میں بھی بتاتا چلوں کہ میرے خلاف خطرناک اور المناک سازشوں کا جال نواز شریف اور اس کے حواریوں نے مودی اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر بچھایا ہے۔

Read more

”جورا لنبڑ“ رضاکار تھا یا مکار؟

سکول کے زمانے میں ہمارا ایک ہم جماعت ہوتا تھا۔ نام تو اس کا منظور تھا مگر ”جورا“ کے نام سے مشہور تھا۔ بہت لحیم شحیم، بھاری بھرکم، دیو ہیکل اور ہتھ چھٹ واقع ہوا تھا۔ اپنی طاقت و توانائی پر گھمنڈ تھا۔ کچھ عرصے بعد اس نے ہم جیسے نحیف و نزار اور ڈرپوک ہم مکتبوں کے لنچ باکس پر بھی چوری چھپے ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیے۔ اس اضافی ہنر مندی کی وجہ سے سکول میں اس کے نام کے ساتھ ”لنبڑ“ کا لاحقہ بھی لگ گیا۔ اب اسے ”جورا لنبڑ“ کے نام سے شہرتِ عام اور بقائے دوام مل گئی تھی۔ مگر کسی کی کیا مجال کہ اس کے روبرو اسے اس نام سے پکار سکے۔ البتہ اس کی عدم موجودگی میں سب اسے ”جورا لنبڑ“ ہی کہتے تھے۔

Read more

نواز شریف، محسن داوڑ، علی وزیر اور جسٹس فائز عیسٰی وغیرہ

کون جانتا تھا کہ 21 مارچ 2009 کو ن لیگ اور وکلا کے ساتھ باہم مل کر جناب افتخار محمد چودھری کو ایک فیصلہ کن احتجاجی جلوس کے نتیجے میں بحال کروانے والے نواز شریف آج پابندِ سلاسل اور جناب عمران خان وزارتِ عظٰمی کی کرسی پر متمکن ہو کر اپنے اقتدار کے پہلے ہی سال وہی غلطی کریں گے جو جنرل مشرف جیسے ڈکٹیٹر نے اقتدار پر قابض ہونے کے آٹھ سال بعد کی تھی۔ عوام کو یاد ہوگا دو سالا وکلا تحریک میں بے شمار وکیلوں نے دھماکوں اور آتشزنی کے واقعات میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔

Read more

پی ٹی ایم بمقابلہ ریاستی ادارے اور حکومت

 کسی واقعے یا حادثے کے ردعمل کے حوالے سے شدت پسندانہ اور یک طرفہ نقطہ نظر شاید ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ ہم نتیجہ پہلے اخذ کرتے ہیں واقعے کے بارے میں معلومات بعد میں حاصل کرتے ہیں۔ خوب و زشت، جائز و ناجائز اور وفاداری و غداری کے بھی ہمارے اپنے پیمانے ہیں جو معروضی حالات کے تحت نہیں بلکہ ہماری اپنی پسند و ناپسند اور افتادِ طبع سے جنم لیتے ہیں۔ میران شاہ چیک پوسٹ واقعے کے

Read more

ایک اور ورلڈ کپ: خدا خیر کرے

بلا شبہ کرکٹ پوری دنیا کا مقبول اور معروف کھیل ہے۔ پاکستانیوں کو تو کرکٹ سے جنون کی حد تک لگاؤ ہے۔ مذہب، افواج اور قومی زبان کے علاوہ جس چیز نے پاکستانیوں کو باہم متحد اور جوڑ کر رکھا ہوا ہے وہ کرکٹ ہے۔ مجھے وہ دن کبھی نہیں بھولتا جب ستائیس سال قبل پاکستان نے عمران خان کی قیادت میں ملبورن کے تاریخی میدان میں انگلینڈ کو بائیس رنز سے ہرا کر پانچواں ورلڈ کپ جیتا تھا۔ ہر

Read more

روحانیت بمقابلہ نحوست و آسیب!

روحانی و خلائی مخلوق سمیت ہر کوئی شدت سے منتظر تھا کہ 25 جولائی کو دشمن طاقتوں کو ووٹ کی قوت سے شکستِ فاش ہوگی اور ہر طرف برس ہا برس سے بنجر سر زمین پر تبدیلی کے سوتے پھوٹیں گے۔ پل بھر میں جنگل کا جنگل ہرا ہو جائے گا کیونکہ بنی گالہ کی روحانی طاقتوں کے علاوہ خلائی اور بالائی مخلوق بھی 2018 کو زائچہ دیکھ کر تبدیلی کا سال قرار دے چکی تھی۔ اصحاب غیب، رجالِ رشید اور تمام مافوق الفطرت طاقتیں بھی اپنے اپنے محاذ اور مورچے سنبھال چکے تھے۔

Read more

چیئرمین نیب کی رخصتی کا گجر بج چکا!

اگر راقم الحروف مکافاتِ عمل اور جیسی کرنی ویسی بھرنی جیسے مقولوں پر کما حقہ یقین رکھتا ہوتا تو آج ببانگ دہل چئیرمین نیب کے مبینہ سکینڈل پر یہ نعرہ بلند کرتا کہ کارسازِ قضا و قدرت کی طرف سے ن لیگ کو ہر جمعے عدالتوں میں ذلیل و خوار کرنے والے کا اپنا یوم حساب جمعہ ہی مقرر کیا گیا ہے اور جمعہ بھی رمضان البارک کا۔ مخالفین کا سر سے پاؤں تک احتساب کرنے والا ایک خاتون کو

Read more

لاشوں پر سیاست کرنے والے کم ظرف گدھ

قمر زماں کائرہ صاحب کے جواں سال برخودار کی ناگہانی موت پر ہر دردِ دل رکھنے والا آدمی اشک بار ہے۔ میری اہلیہ اسامہ کی موت کی خبر سن کر کئی بار فرط جذبات سے آنسو بہا چکی ہیں۔ بچے بھی ملول و مغموم ہیں۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر قمر زمان کائرہ بلا شبہ ان سنجیدہ و فہمیدہ سیاستدانوں میں سے ایک ہیں جو پارٹی وابستگی سے بالا تقریباً تمام لوگوں کے لیے قابل قبول ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی مسئلے پر ان کا تجزیہ نہایت منطقی، مربوط، صائب اور حسب حال ہوتا ہے۔

Read more

مائیں کیوں مر جاتی ہیں؟

 ادھر 22 فروری 2006 کا سورج مارگلہ کے پہاڑوں کی اوٹ میں غروب ہو رہا تھا اور ادھر پمز ہسپتال کے میڈیکل وارڈ کے ایک کمرے میں ماں نے آخری ہچکی لی۔ ماں جی کے جسمانی عوارض، قلبی نا آسودگیوں اور روحانی بے قراریوں کو گویا قرار آ گیا تھا۔ کم و بیش بیس برس سے بے شمار بیماریوں کا پا مردی سے مقابلہ کرتے کرتے وہ بہت تھک گئی تھیں۔ اس تھکن اور بیماری کے آزار کے اثرات ان

Read more

حکومت چلانے اور باتیں بنانے میں فرق ہے!

فلم نیا پاکستان کے رائیٹر، پروڈیوسرز، ڈائریکٹرز اور اداکار اب بھی بضد ہیں کہ وطن عزیز میں گذشتہ نو ماہ سے نظم اجتماعی کے نام پر بد نظمی، آپا دھاپی، معاشی زبوں حالی، بے ترتیبی، اقربا پروری، دھونس، دھاندلی، گالم گلوچ، سیاسی مخالفین کی کردار کشی، بے یقینی، نفسانفسی، مہنگائی، بے روزگاری اور ابتری کا جو سلسلہ چل رہا ہے عوام اس پر حکومت کی تہمت دھریں اور صوبائی و وفاقی اداروں کی بدترین کارکردگی کو حکومت کے چلنے سے

Read more

نواز شریف ہمیں تم پر فخر ہے!

ابہام ایقان میں، تذبذب تیقن میں، گمان یقین میں، شک اعتماد میں اور الجھاؤ سلجھاؤ میں بدلتا ہوا بڑا واضح طور پر نظر آرہا ہے۔ سیاسی میدان میں صف بندی ہو رہی ہے۔ ایک طرف جمہوریت کی سپہ کی قطار بندی ہو رہی ہے جس کی قیادت نواز شریف کے آہنی ہاتھوں میں ہے۔ دوسری جانب آمریت کے چاپلوسی و خوشامدی دستے بے ہنگم ہجوم بنا کر بے ترتیب کھڑے ہیں۔ اس مفاداتی ٹولے کی سربراہی مطلق العنان اور ابن

Read more

کپتان کی زبان کی پھسلن اور روحانی طاقتیں!

کپتان کی زبان پلاسٹک کے چپل یا ان کے دل کی طرح مسلسل پھسلتی ہی چلی جارہی ہے۔ حالانکہ آج کے خطاب کے دوران میں انہوں نے نواز شریف کی طرح پرچی نہیں بلکہ پرچہ ہاتھ میں تھام رکھا تھا۔ موضوع بھی بنی گالہ کی ماورائی اور خلائی طاقتوں کا مرغوب و محبوب تھا۔ سچی بات ہے کہ کپتان کی بے ربط، مبہم، بے محل، روکھی پھیکی اور ان کی اپنی شخصیت کی طرح الجھی ہوئی تقریروں کو چند منٹ کے لیے بھی سننا بڑے دل گردے اور حوصلے کا کام ہے۔

Read more

نواز اندر، شہباز باہر، میاں لطیف اور رانا تنویر وغیرہ

تین عشروں سے زائد پاکستانی سیاست پر چھائے نواز شریف کے ذکر کے بغیر آج بھی کاروبار سیاست میں کوئی جاذبیت، کشش اور گرم جوشی نہیں۔ جب سے فیصلہ کن قوتوں نے نواز شریف کو ان کی گستاخی پر سیاسی حوالے سے نشانِ عبرت بنانے کی شعوری اور بڑی حد تک احمقانہ کاوشوں کا آغاز کیا ہے، تب سے ان کی سیاست اور سیاسی کردار مزید اہم، دو ٹوک اور فیصلہ کن ہوتا جا رہا ہے۔

Read more

تحریک لبیک کی ناز برداری سے ڈنڈا برداری تک

ناموسِ رسالت کے علم برداروں کو جب لفافہ برداروں نے نازبرداری کا مستحق سمجھا تھا تو ہم جیسے نادانوں اور دیوانوں نے ریاست کے کارپردازوں کے سامنے جان کی امان طلب کرتے ہوئے عرض کی تھی کہ ان کی یہ عنایت خسروانہ اور اسلوب شاہانہ کل ان کے گلے پڑ جائے گا۔ مگر شیر انڈے دے یا بچے، ہم آپ اس کی فیصلہ سازی پر حرف گیری کرنے والے کون ہوتے ہیں؟ تب معتوب، مغضوب اور غدارِ وطن کی کرپٹ

Read more

کپتان کھیل کے نام پر کھلواڑ کر رہے ہیں

عمران خان شروع ہی سے سیاست کے لیے کرکٹ کی اصطلاحات استعمال کرتے رہے ہیں۔ انہوں ایک کرکٹر کی حیثیت سے بلاشبہ دنیا میں شہرت عام اور بقائے دوام حاصل کی ہے۔ اللہ تعالٰی نے مردانہ وجاہت اور حسن و جمال سے بھی نوازا۔ وقت کے ساتھ ساتھ بخت نے بھی یاوری کی اور بائیس سالہ سیاسی جدوجہد کے بعد تخت شاہی پر بھی متمکن ہوئے۔ کرکٹ کے عروج کے زمانے میں اندرون اور بیرون ملک لوگ ان کے دیوانے

Read more

صاحبہ: زبان نہیں پھسلتی، دماغ کھسکا ہوا ہے

ہمارے وزیراعظم صاحب خیر سے شروع ہی سے زبان درازی، الزام تراشی اور دشنام بازی میں کچھ کم نہ تھے مگر سیاست میں آمد کے بعد جناب شیخ رشید، فواد چودھری اور فیاض الحسن چوہان جیسے نابغہء روزگار مصاحبین کی صحبت نے سونے پر سہاگے کا کام کیا اور ماشا اللہ ان کاہر بیان اور خطاب زہر میں بجھے ہوئے تیر کی مانند ہوتا ہے۔ زہر اگلنے اور دشنام گوئی میں رفتہ رفتہ ان کی مہارت سب کو پیچھے چھوڑتی چلی جارہی ہے۔ جاپان، جرمنی کی مشترکہ سرحدوں اور ایران میں پاکستان سے گئے دہشت گردوں کی کارروائیوں کے اعترافی بیان کی صدائے بازگشت ابھی فضا میں تھی کہ موصوف نے وانا میں جلسہء عام میں خطاب کے دوران ایک مرتبہ پھر گل افشانی فرمائی ہے۔ انہوں نے طنز و تعریض سے معمور انتہائی معنی خیز انداز میں جناب بلاول بھٹو زرداری کے لیے صاحبہ کا لفظ استعمال کیا اور پھر داد طلب نظروں سے مجمعِ عام کی طرف دیکھا۔

Read more

بلاول بھٹو انگریزی زبان ہی میں تقریر کر لیا کریں

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اکثر زبان غیر یعنی انگریزی میں تقریر کیا کرتے تھے۔ انگریزی زبان سے بہت کم لوگ واقف تھے۔ مگر اس کے باوجود لوگ ساکت و جامد پورے انہماک اور یکسوئی سے قائد کی تقریریں سنا کرتے تھے۔ ایسے ہی کسی جلسے کے دوران مجمع پوری توجہ اور دھیان سے قائد کی تقریر سننے میں مگن تھا۔ حاضرین میں ایک عمر رسیدہ بابا جی بھی نہایت دلچسپی اور محویت کے عالم میں قائد کی

Read more

نواز شریف پر ڈیل کے الزامات کی حقیقت!

کچھ تجزیہ نگار نواز شریف اور ن لیگ کے چند راہنماؤں کو ملنے والے عدالتی ریلیف اور حمزہ شہباز کو نیب کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے ملنے والی ضمانت کو کسی ممکنہ ڈیل اور ڈھیل سے تعبیر کرکے نواز شریف کے ووٹ کو عزت دو والے اصولی بیانیے پر سمجھوتے کا الزام لگا رہے ہیں۔ ان کے خیال میں نواز شریف نے اپنی بیماری پر عدالت سے ضمانت لے کر اپنے نظریاتی ہو جانے والے مؤقف کو پسِ پشت ڈال کر ایک مرتبہ پھر ملک کی مقتدر قوتوں کے آگے جھکنے کی روش اپنا کر ن لیگ کے سچے و کھرے کارکنان و قائدین اور حامیوں کو مایوس کیا ہے۔

Read more

اسد عمر کی رخصتی اور بادشاہ گروں کی مشکلات

ابھی وزیر اطلاعات و خارجہ اور تبدیلی سرکار کے دوسرے جادو بیان لاؤڈ سپیکروں کے بیانات کی بازگشت فضا میں موجود تھی کہ وزیر خزانہ جناب اسد عمر نے اپنے کپتان کے حکم پر وزارت سے مستعفی ہونے کی خوش خبری سنا دی۔ ان کی بصد خواری و رسوائی اپنے عہدے سے رخصتی سب پاکستانیوں کے لیے خوش کن اور خوش آئند و باعث اطمینان ہے۔ ابھی دو تین روز پہلے ہی اسد عمر نے اس طرح کی خبروں پر طنز آمیز پیرائے میں مرزا غالب کی مشہور غزل کے مطلع کا پہلا مصرع پڑھا تھا جو یہ تھا

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

آج راقم ان کی خدمت میں اسی غزل کا ایک شعر پیش کرنا چاہتا ہے جو صوتی اور معنوی گہرائی کی وجہ سے ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے

Read more

بنی گالہ کی روحانی قوتوں کا کمال اور کپتان کی مُردوں سے ملاقاتیں

جو لوگ کپتان کی پوشیدہ، خوابیدہ اور پراسرارطاقتوں اور روحانی ترفع و بالیدگی کے اعلٰی ترین درجوں سے بوجہ بغض و بخل انکار کرتے تھے، شہریار آفریدی کا حالیہ چشم کشا بیان ان کے منہ بلکہ فٹے منہ پر زوردار طمانچہ ہے۔ ابھی تو معترضین اور حاسدین کا یہ رونا دھونا ہی ختم نہیں ہوا تھا کہ کپتان کی پہنچ براہ راست رجال غیب اور روحانی زور پر ملک کو چلانے والوں کے درباروں تک ہے، شہر یار آفریدی کے

Read more

زخمی گال،خستہ حال ارباب اور ارباب اختیار!

ارباب کے گال تھپڑوں اور گھونسوں سے لال کرنے والا لعلوں کے لعل کا بھی کمال کا جاہ و جلال ہے۔ سیاست دانوں، مدرسے کے کمزور مولویوں، بے بس و مظلوم اساتذہ اور دہاڑی دار ٹھیلے والوں اور ریڑھی بانوں، بمشکل جسم و روح کا رشتہ برقرار رکھنے والے ڈھابوں اور چھوٹے موٹے ہوٹلوں میں اپنی ”مسلح“ ٹیم لے کر کیمروں سمیت پاتال تک اترنے والے حق و انصاف کے علمبردار اور طاقتور کے خلاف کلمہء حق بلند کرنے کے

Read more

تعلیم بالغاں،وزیراعظم ہاؤس یونیورسٹی اور کپتان کے معجزے!

کسی زمانے میں جہاد افغانستان، ہیروئن، کلاشن کوف اور بوری بند لاشوں کے کلچر کے بانی مرد مومن مرد حق نے مملکت خدادا میں علم و تعلیم کے چراغ جلانے کے لیے جگہ جگہ تعلیم بالغاں کے ادارے کھولے تھے۔ تعلیم بالغاں کے اداروں میں درس و تدریس کا آغاز دن گیارہ بجے کے بعد کیا جاتا تھا اور ہر عمر اور جنس کے طالبان علم و حکمت اور جویانِ شعور و آگہی اپنی اپنی استعداد کے مطابق اپنی جھولیاں بھرتے تھے۔ایسے ہی کسی ادارے میں استاد صاحب جو عام طور پر مسجد کے مولوی صاحب ہوا کرتے تھے، نے ایک شادی شدہ نوجوان طالب علم کی مسلسل تین دن غیر حاضری لگا دی۔

Read more

تصویر کہانی کہتی ہے!

کہتے ہیں ایک تصویر ہزارلفظوں پر مشتمل فکر انگیز مضمون پر بھاری ہوتی ہے۔ تاریخ میں بے شمار تصویریں نہ صرف دنیا کے جغرافیے اور تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کر چکی ہیں بلکہ بہت سے مشہور انقلابات کی بنیاد بھی رکھ چکی ہیں۔ مثلاً عرب بہار سے منسوب تیونس، لیبیا اور مصر وغیرہ جیسے عرب ممالک میں آنے والی انقلاب آفرین تبدیلیوں کے پسِ پردہ محمد بو عزیزی نامی ایک گریجویٹ نوجوان کی آتش بجاں تصویر کی دلخراش کہانی

Read more

بزرگ دانش فروش کا اعتراف جرم اور نیا پاکستان!

ارادہ تو نئے پاکستان کی جدید ترین علمی درسگاہ ”وزیراعظم ہاؤس“ یونیورسٹی کے متعلق لکھنے کا تھا کہ جہاں سنا ہے خیر سے کلاسز کا اجرا کردیا گیا ہے اور ارسطوئے زماں جناب عمران احمد خان نیازی نے ملکی اور غیر ملکی طلبہ کو اپنے لیکچروں سے مستفید کرنا شروع کردیا ہے مگر مقطعے میں سخن گسترانہ بات یہ آگئی کہ رنگین مزاج فکری رہبر و راہنما یعنی بزرگ کالم نویس، صحافی اور دانشور جناب ایاز امیر کا کالم نظر

Read more

میں ”کپتان“ ہوں میرا اعتبار مت کرنا

جج نے پھانسی کے مجرم سے اس کی آخری خواہش پوچھی۔ مجرم نے لجاجت سے جواب دیا کہ جج صاحب! وزیراعظم عمران خان کو عقل کی بات کرتے ہوئے دیکھنا اورسننا چاہتا ہوں۔ جج نے کہا کہ بڑے سیانے ہو ہمیشہ زندہ رہنا چاہتے ہو! ایک اور جج نے پھانسی ہی کے کسی دوسرے مجرم سے اس کی آخری خواہش پوچھی تو اس نے کہا کہ پشاور میٹرو بس پر سفر کرنا چاہتا ہوں۔ جج نے زیر لب مسکراتے ہوئے متذکرہ بالا جواب ہی دیا۔ یہ تو خیر ہلکے پھلکے لطیفے ہیں لیکن اگر غیر جانب داری اور دیانت داری سے ان کا تجزیہ کیا جائے تو عمران خان صاحب کے سابقہ اور حالیہ اقوال میں اتنا تضاد دکھائی دیتا ہے کہ الامان و الحفیظ۔ قول کے ساتھ فعل کے تضاد کا ذکر بے محل اور فضول ہے کیونکہ وزیر اعظم صاحب نے ابھی بجز بد فعلی کوئی فعل انجام ہی نہیں دیا۔

Read more

آپریشن رد و بدل، انوکھا لاڈلا اور لے پالک دانش فروش

خواب آگیں اور خوش کن امیدوں کی زمین پر بیٹھ کر سہانے اور مسحور کن مستقبل کا خیالی پلاؤ پکانے والوں کی معصومیت اپنی جگہ۔ موہوم خبر کو اپنی خواہش کا زرق برق لباس زیب تن کروا کر خاکی سامراج سے خالص جمہوری راج و رواج کی برآمدگی کی دلکش لفظی پیکر تراشی بھی کوئی جرم نہیں۔  نو ماہ میں ہی بہار آفریں گلشن کی بربادی کے نوحے سنا کر صیّاد کو اپنے کیے پر کفِ افسوس ملتے ہوئے فیصلے

Read more

تبدیلی کی ہوا،چوتھا ستون اور نواز شریف

کچھ دن سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا تبدیل ہوتا رنگ، چند جیّد اور کہنہ مشق جغادری اور درباری اینکرز اور صحافیوں کا بدلا ہوا لب و لہجہ اور پرائیویٹ ٹی وی چینلز کے پروگراموں اور خبر ناموں میں نئے پاکستان کے نمائشی اور فرمائشی حکمرانوں کی نا اہلی، بد ترین کارکردگی اور کرہشن کی ہوش ربا داستانوں کو گلہ پھاڑ پھاڑ کر منظر عام پر لائے جانے کا منظم اور مربوط رجحان دیکھ کر لگتا ہے کہ سرپرستوں نے

Read more

جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کی لفظی گولہ باری اور کپتان

سال ہا سال سے بہاؤالدین ذکریا اور شاہ رکن الدین عالم کے درباروں کی گدی نشینی کے کاروبار سے کاروبار سیاست چلانے والے مخدوم کا ضمیر اچانک بیدار ہو گیا ہے یا ایک مدت سے گھاٹ گھاٹ کی سیاسی پارٹیوں کا پانی پینے والے نے کسی نئی شاخ پر نشیمن بنانے کا ارادہ کر لیا ہے؟ جہاندیدہ و تجربہ کار سیاست دان نے واقعی عمرانی اقتدار کی ڈولتی اور ہچکولے کھاتی کشتی سے چھلانگ لگانے کی تیاری کر کے دانشمندی اور سیاسی بصیرت افروزی کا ثبوت دیا ہے یا ملک پر مسلط مہنگائی، بیروزگاری، غیر یقینی اور معاشی و سیاسی بد حالی کی کریہہ اور ظالمانہ تصویر دیکھ کر مداری کی طرح ڈگڈگی بجا کر عوام کی توجہ بانٹنے کی کوشش کی ہے؟

ملکی اور عالمی سیاسی بساط کے پرانے کھلاڑی کو غیبی طاقتوں کی طرف سے ان ہاؤس تبدیلی کے نتیجے میں اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھائے جانے کا کوئی اشارہ ملا ہے یا کپتان نے نا اہل جہانگیر ترین کے ناروا اور بھاری بوجھ کو اتار پھینکنے کے لیے وہ آزمودہ ہٹھکنڈا اختیار کیا ہے جس کی ایک جھلک علیم خان کیس کے حوالے سے نظر آتی ہے؟ وجوہات کچھ بھی ہوں ملتان کے سجادہ نشین نے بظاہر بالانشینوں اور پردہ نشینوں کو یکبارگی حیران و پریشان کر دیا ہے۔

Read more

کم سِن بچیوں کا جنسی استحصال، انصاف اور والدین کی ذمہ داریاں

اپنے چھ بچوں کے ہمراہ راولپنڈی میں مقیم پشتو کی معروف گلوکارہ نازیہ اقبال، ان کی کمسن مظلوم بچیوں اور شوہر کو آخر کار انصاف مل ہی گیا۔ راولپنڈی کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہر اسلم نے بچیوں کے حقیقی ماموں اور درندہ صفت اوباش ملزم افتخار علی پر جرم ثابت ہونے پر اسے سزائے موت اور چھ لاکھ جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ اگرچہ مجرم کے پاس اس سے اعلٰی عدالت میں ابھی اپیل کا حق ہے مگر ہمیں اپنے عدالتی نظام پر اعتماد ہے کہ کوئی بھی عدالت نوخیز کلیوں کو بے دردی سے مسلنے کے جرم میں ملوث کسی درندے سے رعایت نہیں برتے گی۔

Read more

پچیس سو اساتذہ کا معاشی قتل اور طاقتور ادارے!

میرے ایک دوست کے بڑے بھائی سویڈش ایمبسی میں ملازمت کررہے ہیں۔ ملازمت کے دوران میں انہوں نے اپنے مکان کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ تعمیراتی لاگت ان کے تخمینے سے بڑھ گئی۔ لہٰذا انہوں نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے لیے اپلائی کر لیا تاکہ ریاٹئرمنٹ پر ملنے والی رقم سے مکان کی تعمیر کا کام مکمل کیا جا سکے۔ افسران بالا کو جب ریٹائرمنٹ کی اصل وجہ معلوم ہوئی توانہوں نے کمل مہربانی سے ریٹائرمنٹ کی درخواست قبول کر کے انہیں رقم دینے کے بعد ایڈہاک پر تقریباً اسی تنخواہ پر دوبارہ کام پر رکھ لیا تا کہ ان کا مکان بھی تعمیر ہو سکے، بچے بھی حصول تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکیں اور ان کے گھر کا کچن بھی چلتا رہے۔

ایک ”کافر“ ملک کی ایمبسی نے اپنے ایک پاکستانی ملازم سے یہ مثالی سلوک اس لیے کیا کہ اس نے اسے بیس سال تک اپنی خدمات دی تھیں۔ مہذب، ترقی یافتہ اور خوشحال ملک اپنے لیے سرو کرنے والے لوگوں سے بلا امتیاز ایسا ہی قابل ستائش سلوک کرتے ہیں۔ سویڈن اور ان جیسے دوسرے ممالک کی ہوش ربا ترقی، امن و امان اور دیرپا خوش حالی کی بڑی وجہ ایسی ہی انسان دوست پا لیسیاں ہیں۔

اب ذرا تیسری دنیا کے ممالک میں شامل ”مملکت خداداد“ اور ”اسلام کے قلعے“ کے اداروں کی اپنے ملازمین سے روا رکھے جانے والے سلوک کی بھی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیں۔ پروفیسر ابوذر ہمارے نہایت محنتی، تجربہ کار، ہر دل عزیز اور بے لوث استاد تھے۔ فوجی فاؤنڈیشن کالج میں پچیس سال پہلے انہوں نے گورنمنٹ کی ملازمت ترک کر کے کیرئیر جاب یہ سوچ کر شروع کی تھی کہ یہ پیشہء پیغمبری ہے۔ ان پچیس برسوں میں وہ سب سے شاندار نتائج دینے اور سب سے کم چھٹیاں کرنے والے پروفیسر تھے۔

Read more

ووٹ کو عزت دو بمقابلہ کرپشن کو عزت دو!

نشانِ پاکستان، نشانِ امتیاز، ستارہ پاکستان، ستارہ شجاعت، ستارہ امتیاز، صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی، ستارہ قائد اعظم، ستارہ خدمت، تمغہ شجاعت اور تمغہ امتیاز;یہ وہ اعزازات ہیں جو پاکستان کی حکومت ہر سال 23 مارچ کو مختلف شعبوں میں اعلٰی کارکردگی دکھانے والوں کو عطا کرتی ہے۔ اس بار حکومت نے 127 ملکیوں اورغیر ملکیوں کو اعزازات سے نوازا۔ نشانِ پاکستان حاصل کرنے والوں میں ملائشیا کے چورانے سالا صدر مہاتیر محمد بھی شامل تھے جو خصوصی طور پر

Read more

ضمانت کا فیصلہ:ووٹ کو عزت ملنے کے سفر کا آغاز!

ضمانت کا فیصلہ:ووٹ کو عزت ملنے کے سفر کا آغاز! نواز شریف صاحب کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی منظوری ن لیگ کے لیے بہت بڑی اخلاقی اور سیاسی فتح کی غماز ہے۔ آج ہی لاہور ہائی کورٹ نے شہباز شریف کا نام بھی ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے کر ن لیگیوں کو نہال کر دیا۔ اگرچہ عدالت نے نواز شریف کو بغرض علاج بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی مگر حقیقت یہ ہے کہ ضمانت کے لیے دی جانے والی درخواست میں بیرون ملک جانے کا ذکر بھی نہیں تھا۔

Read more

نظریہ اشد ضرورت برائے درہم و دینار!

یہ ہوتا ہے عدل، یہ ہوتا ہے انصاف، یہ ہوتی ہے دور اندیشی، یہ ہوتی ہے اصول پسندی، یہ ہوتی ہے حب الوطنی، یہ ہوتی ہے معاملہ فہمی اور امانت داری، یہ ہوتی ہے کاروباری فہم و فراست۔ قنوطی طبیعت کے ناقص العقل اور منفی سوچ رکھنے والے ملک دشمن اور غدارانِ وطن اگر اپنا خبث باطن دکھانے کے لیے سپریم کورٹ کے بحریہ ٹاؤن والے فیصلے پر نظریہ اشد ضرورت، بھتہ خوری، مک مکا، رشوت خوری یا دلالی جیسی

Read more

نیوزی لینڈ کو دیکھ کر دہشت گردوں کو کچھ تو شرم آنی چاہیے

نائن الیون کے بعد یورپ کے جس ملک نے دہشت گردوں کے ہاتھوں سب سے زیادہ زخم کھائے وہ فرانس ہے۔ مارچ 2012 میں فرانس کے جنوبی شہر میں مسلم شدت پسند تنظیم کے ایک جنگجو محمد مراح نے فائنرنگ کرکے سکول کے تین طلبہ، ایک ربّی اور تین فوجیوں کو ہلاک کردیا۔ نومبر 2015 میں فرانس کے دارالحکومت اور دنیا کے خوبصورت ترین شہر پیرس کے چھ مقامات دھماکوں سے گونج اٹھے۔ دولت اسلامیہ کے انسان دشمن درندوں نے ریستورا نوں، پبلک مقامات، پارکوں اور فٹ بال اسٹیڈیم میں میچ دیکھتے پر امن شہریوں کو سفاکی سے نشانہ بنایا۔

Read more

ساہیوال اور کرائسٹ چرچ: دو تصویروں کی کہانی

دو تصویریں میرے سامنے رکھی ہیں۔ ایک تصویر بڑی د ل فگار و دل گیر دوسری حوصلہ افزا و پرتاثیر، ایک قابلِ صد رشک دوسری باعث دل صد چاک، ایک دردِ دل کی غمّاز دوسری دل گرفتہ و دل گداز، ایک اخلاص و بے لوث خدمت کی بہترین مثال، دوسری ریا کاری و تصنع کا وبال، ایک روح پرور دوسری روح فرسا، ایک ریاستی قہر و سفاکی کی آئینہ دار دوسری ریاستی تحفظ و رٹ کی شاہکار۔ یہ دو تصویریں چیخ چیخ کر اعلان کر رہی ہیں کہ دو ریاستوں، مملکتوں اور معاشروں میں کتنا تفاوت ہے۔ یہ دو تصویریں نہیں درحقیقت دو ریاستوں کی کہانی ہے۔ دو تہذیبوں کی نشانی ہے۔ دو ملکوں کی ترجمانی ہے۔ دو معاشروں کی جولانی ہے۔ دو تمدنوں کا برملا و بے ساختہ اظہار ہے۔ دو سماجوں کے جینے کا برجستہ معیار ہے۔ دو طرح کے انسانوں کے رویوں کا بے تکلف شاہکار ہے۔

Read more

دو تصویروں کی کہانی!

دو تصویریں میرے سامنے رکھی ہیں۔ ایک تصویر بڑی د ل فگار و دل گیر، دوسری حوصلہ افزا و پرتاثیر۔ ایک قابلِ صد رشک دوسری باعث دل صد چاک۔ ایک دردِ دل کی غمّاز اور دوسری دل گرفتہ و دل گداز۔ ایک اخلاص و بے لوث خدمت کی بہترین مثال، دوسری ریا کاری و تصنع کا وبال۔ ایک روح پرور اور دوسری روح فرسا۔ ایک ریاستی قہر و سفاکی کی آئینہ دار، دوسری ریاستی تحفظ و رٹ کی شاہکار۔ یہ

Read more

نیوزی لینڈ میں گزرنے والی قیامتِ صغریٰ

نیوزی لینڈ کی مساجد میں ہونے والے قتل و غارت گری کے واقعات نہایت افسوسناک، اندوہناک اور سفاکیت سے معمور ہیں۔ دو فیصد سے بھی کم مسلم آبادی کے چند پر امن لوگوں پر عین حالت نماز میں اندھا دھند فائرنگ کر کے قتل عام کا اقدام انتہائی بزدلانہ، سنگدلانہ اور بے رحمانہ ہے۔ شہدا نے یقیناً میدان کربلا میں سجدے کی حالت میں مظلومانہ انداز سے جا ن جانِ آفریں کے سپرد کردینے والے ایمان افروز اور روح پرور سانحے کی یاد تازہ کر دی۔

مسلم امت کے ساتھ تمام انسانیت اس سفاک واقعے پر خون کے آنسو رو رہی ہے۔ نیوزی لینڈ میں 1990 کے بعد ہونے والا قتل و غارت گری کا یہ سب سے بڑا اور کرب انگیز واقعہ ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مغربی ممالک اور میڈیا نے اس سانحے کے حوالے سے وہ سرگرمی اور گرم جوشی نہیں دکھائی جو دنیا میں ایسے واقعات کے بعد عام طور پر دکھائی جاتی ہے۔ مگر اس کے باوجود نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم، حکومت، سکیورٹی اداروں کے کارکنان اور درد دل رکھنے والے شہریوں نے مسلمانوں سے بھرپور یکجہتی دکھائی۔

Read more

مودی کی سیاست،آرمی کیپ اور ہماری عبادت گزاری!

سیاست تو صرف مودی ہی کر رہا ہے۔ کبھی مبمئی حملے کروا کے، کبھی پٹھان کوٹ پر یلغار کر کے، کبھی پارلیمنٹ پر حملہ کروا کے، کبھی اوڑی میں ٹانگ اڑا کے، کبھی گجرات میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل کے۔ اور اب پلوامہ میں اپنے نیم فوجی جوانوں کی لاشوں پر الیکشن کا تاج محل سجانا چاہتا ہے۔ مودی نہیں بلکہ سیاست گردی کا موذی کردار ہے جو پاکستان کے پہاڑی علاقے بالاکوٹ میں فضائی حملہ کر کے جیش محمد کے تین سو دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانے کا سہرا اپنے سر باندھ کر آنے والے الیکشن میں تین سو نشستیں حاصل کرنے کے درپے ہے۔اس نے تو الیکشن میں بہر صورت کامیابی حاصل کرنے کے لیے پوری دنیا کا امن داؤ پر لگا دیا ہے۔ مودی سیاست کاری کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ جب کہ اس کے ہم وطن حریف سیاست دان، ریٹائر جنرلز اور صحافی و تجزیہ کار دن رات مودی کی بازاری سیاست پر کیچڑ اچھال کے عین عبادت کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اپوزیشن لیڈر اور جناب عمران احمد نیازی کے دیرینہ دوست نوجوت سنگھ سدھو نے پلوامہ حملے کو ڈراما اور بالا کوٹ سرجیکل سٹرائیک کو سیاسی سٹنٹ قرار دے کر ان کی بھرپور مذمت کی ہے۔

Read more

نواز شریف کی بیماری اور حکومت کا بے رحمانہ رویہ!

بیماری اللہ تعالٰی کی طرف سے آتی ہے اور وہی شفا دیتا ہے مگر استطاعت اور دستیاب وسائل و اسباب کے مطابق علاج معالجہ کی سہولیات حاصل کرنا سنت رسول بھی ہے اور انسان کی اہم ترین ذمہ داری بھی۔ ملک کے تین مرتبہ منتخب وزیر اعظم آج محاورتاً نہیں حقیقتاً زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ حکومت کی طرف سے قاٰئم کردہ چار میڈیکل بورڈز ان کا فوری علاج تجویز کر چکے ہیں۔ غفلت کی صورت میں

Read more

نواز شریف کے بیانیے کی فتح اور دہشت گردوں کی شکست!

جب سے وزیر خارجہ کا پہلے اپنا گھر ٹھیک کرنے والا بیان پڑھا، حکومت کا پاکستان میں بروئے کار دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کے عزم اور انتہا پسندانہ رویوں کے سد باب کے لیے کاوشوں کے نئے سرے سے آغاز کے بارے میں جان کاری ہوئی ہے ہماری توجہ گاہے منیر نیازی کی مشہور زمانہ نظم کی طرف چلی جاتی ہے جس کا عنوان ہی یہ ہے کہ ”ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں“ اور گاہے مرزا غالب کے اس معرکتہ آلارا مصرع میں اٹک جاتا ہے کہ ”ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا“۔یہی نہیں بلکہ دنیا کے مکافات عمل کے اصول پر روایتی انداز سے ایمان نہ لانے کے باوجود ذہن کبھی کبھار اس نظریے کی طرف بھی منتقل ہو جاتا ہے کہ واقعی یہ قانون مکافات عمل ہی کا شاخسانہ نہ ہو یا ہمارے ہاں ایک اور تاریخی جملہ تواتر سے ایسے مواقعوں پر دھرایا جاتا ہے کہ ”تاریخ اپنے آپ کو دھراتی ہے“۔ اسی پر بس نہیں مختلف النوع خیالات کی وادیوں میں بھٹکنے والا ہمارا ذہن جناب وزیر خارجہ اور چیف جسٹس صاحب کے سنہری بیانات کی ٹائمنگ کے حسن اتفاق کی طرف بھی آوارہ گردی کرنے لگتا ہے کیونکہ جناب چیف جسٹس نے بھی کل ہی سے سچ کے نئے سفر کی بازیافت کا اعلان فرمایا ہے۔

Read more

جنگ، امن، خیر سگالی کا جذبہ اور نوبل انعام!

ہمارے ایک بذلہ سنج اور شگفتہ مزاج دوست نے ایک بار ایک لطیفہ سنایا تھا جو کچھ یوں تھا کہ کسی محلے میں ایک آدمی کو لوگ جج صاحب جج صاحب کہہ کرمخاطب کرتے تھے۔ جج صاحب کی ظاہری وضع قطع اور حال حلیہ ججوں والا ہرگز نہیں لگتا تھا۔ محلے میں ایک نو وارد یہ صورت حال دیکھ کر بہت سٹپٹایا کرتے۔ آخر ایک دن انہوں نے جج صاحب سے پوچھ ہی لیا کہ آپ کس عدالت کے جج رہے ہیں۔ جج صاحب نے بے تکلفی اور برجستگی سے جواب دیا کہ حضرت ایک مرتبہ محلے میں مرغوں کی لڑائی ہورہی تھی۔ مجھے تماشائیوں نے اصرار کرکے مرغوں کے مقابلے کاجج مقرر کردیا۔ بس اس دن کے بعد سے محلے بھر میں جج مشہور ہوگیا ہوں۔یہ لطیفہ ہمیں فاقی وزیر اطلاعات جناب فواد چودھری اور پی ٹی آئی کے چند دوسرے قائدین کی طرف سے قومی اسمبلی میں جمع کی گئی اس قرارداد کے بابت سن کر یاد آیا جس میں انہوں نے مطالبہ گیا ہے کہ خیر سگالی کے جذبے، امن اور انسانی ہمدردی کے تحت بھارت کے پائلٹ کو اپنے ملک واپس بھیجنے کے کارنامے پر جناب عمران خان کو امن کا نوبل انعام ملنا چاہیے۔ اگر ایک قیدی کو وطن مالوف بھیجنے کا صلہ نوبل انعام ہے تو پھر اندرا گاندھی کو تو امن کے ہزاروں نوبل انعامات ملنا چاہییں تھے جنہوں نے پاکستان کے تقریباً نوے ہزار جنگی قیدی اکہتر کی جنگ کے بعد ہمیں واہس کیے تھے۔

Read more

افسوس! کپتان چھکا لگانے کے بعد ہٹ وکٹ ہو گئے

ایک ایسا شخص شومی قسمت سے اگر اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہو کر سیاہ و سفید کا مالک بن کر ملک کے نازک اور حساس معاملات پر فیصلے کرنے کا اختیار استعمال کرنا شروع کردے جو اپنی افتاد طبع کے لحاظ سے اس درجہ انتہا پسندانہ رویے کا حامل ہو کہ ایک طرف عین حالت جنگ میں اپنے بدترین دشمن کے گرفتار افسر کو اگلے ہی دن اس ملک کے حوالے کردے مگر دوسری طرف جنگ سے نمٹنے کے

Read more

جنگی ماحول میں کپتان کا مودی کو امن کا پیغام

مہاراجہ اشوک اعظم موریہ خاندان کا تیسرا بادشاہ تھا۔ بادشاہ بننے کے آٹھویں سال اس نے ہندوستان کی مشرقی سرحدوں پر واقع ریاست کلنگا کو خوں ریز جنگ کے بعد حاصل کیا تھا۔ یہ جنگ تاریخ انسانی کی چند خوں ریز، ہولناک اور تباہ کن جنگوں میں سے ایک ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس جنگ میں ایک لاکھ انسان تہ تیغ ہوئے اور ا تنی ہی تعداد میں زخمی ہوئے۔ فتح کے بعد جب مہاراجہ اشوک نے میدان

Read more

اسد عمر: ہمارا نابغۂ روزگار اقتصادی جادوگر

مرزا غالب نے کہا تھا کہا
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک

غالب کا یہ شہرہء آفاق اور سدا بہار شعر ہمیں دور حاضر کے معاشی بقراط اور اقتصادی بزرجمہر جناب اسد عمر کا یہ بیان پڑھ کر یادآیا جس میں انہوں نے یہ جاں فزا خوش خبر ی سنائی ہے کہ پاکستان رواں صدی کے اختتام پر دنیا کی پانچ عظیم معیشتوں میں شامل ہو جائے گا۔ اس پر تو ہمیں وہ بدنام زمانہ کہاوت بھی شرمندہ بلکہ شرمندہء تعبیر اور کھسیانی لگی جس میں رادھا کے ناچنے کو نو من تیل کی فراہمی سے مشروط کیا گیا ہے۔

جناب اسد عمر کے اس لطیفے پر ہمیں 2008 تا 2013 پر محیط پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی ایسی ہی بوکھلاہٹیں اور بدحواسیاں یاد آ کر رہ جاتی ہیں جب اس کے وزیر برقیات جن کا نام ہی لوگوں نے وزیر لوڈ شیڈنگ رکھ دیا تھا، نے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی تھوک کے حساب سے ڈیڈ لائنیں دی تھیں مگر ان اعلانات کے پیچھے نہ کوئی مربوط منصوبہ بندی ہوتی تھی نہ اہلیت اور نہ ہی مطلوبہ مہارت ہوتی تھی اس لیے ہر بار پی پی حکومت کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

Read more

ہمیں پریشان ہی رہنے دیجیے حیران نہ کیجیے!

غیرت مند بریگیڈ کی چاندی ہے۔ پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے۔ امن کی آشا والوں کی تمام تر کاوشوں پر پانی پھر گیا ہے۔ ان کو ایک مرتبہ پھر منہ کی کھانا پڑی ہے۔ جنگی جنونیوں کی حویلیوں میں گھی کے چراغ روشن ہیں۔ دونوں طرف جنو نی، جنگجو، جنگ باز اور جنگ کی بھاشا بولنے والے چھا گئے ہیں۔ توپوں کے ساتھ زبانیں بھی شعلے اگلنی لگی ہیں۔ آنکھوں سے نفرت اور دشمنی کی چنگاریاں برس رہی ہیں۔ مسجدوں، امام باگاہوں اور دوسرے معبدوں میں لاؤڈ سپیکروں پر دشمن کے عزائم کو خاک میں ملانے کی رقت آمیز دعاؤں اور مناجاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ہر طرف حقارت اور عداوت کی آندھی چل رہی ہے۔ ہمارے محافظان کے ترجمانِ شیریں بیان کا یہ قول ِ زریں فضاؤں میں گونج رہا ہے کہ اس مرتبہ ہم پریشان ہی نہیں حیران بھی کر دیں گے۔ نئے پاکستان والوں نے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مبارزت طلب کی ہے۔ ان کے اس بے باکانہ انداز پر ہر طرف سے تحسین و آفرین کے ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں۔ البتہ یہ نہیں بتایا گیا کہ اس جنگ میں صرف نئے پاکستان کے محب وطن اور وفادار ہی داد شجاعت دیں گے یا پرانے پاکستان کے غداروں کو بھی اپنے پاپ دھونے کا موقع دیا جائے گا؟

Read more

دورے کا چورن کتنے دن بکے گا؟

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا طوفانی اور یادگار دورہ اختتام کو پہنچا۔ شہزادے کو شاہانہ پروٹوکول دیا گیا۔ بے تحاشا پیسہ خرچ کیا گیا۔ اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیے گئے۔ سعودی حکومت کی خوشنودی کی خاطر ہمارے ”، خوددار اور غیرت مند“ وزیر اعظم کو شہزادے کا ڈرائیور بھی بننا پڑا۔ یہ بیس گھنٹے کا دورہ ایک تہوار کی طرح منایا گیا۔ مہمان کا شاندار استقبال کرنا، اسے سر آنکھوں پر بٹھانا

Read more

مذکر،مؤنث کا سیاپا اور پروفیسر صاحب کی تحقیق!

جیّد کالم نگار اور منفرد کہانی نویس جناب مبشر زیدی کا تذکیر و تانیث کے حوالے سے دلچسپ، شگفتہ اور معلوماتی کالم نظر سے گزرا تو ہمارے ذہن میں بھی اس حوالے سے کچھ باتیں انگڑائیاں لینے لگیں۔ مذکر اور مؤنث کا استعمال پشتو بولنے والے احباب کے لیے سب سے زیادہ پر یشانی کا باعث بنتا ہے۔ مگر اردو زبان و ادب کی تاریخ اور مشاہیر کے واقعات و لطائف بتاتے ہیں کہ یہ کافی پرانا قضیہ ہے۔ اردو زبان کے معروف صوفی شاعر میر درد کا ایک مشہور شعر ہمارے نصاب میں شامل ہے۔ شعر یہ ہے

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

Read more

شہباز شریف کی ضمانت اور آنے والے کل کی تصویر!

لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس ملک شہزاد احمد کی سر براہی میں قائم دو رکنی بینچ نے شہباز شریف کو رمضان شوگر ملز اور آشیانہ ہاؤس سکیم کیسز میں ضمانت ہر رہا کرنے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ فواد حسن فواد کو آشیانہ کیس میں ضمانت مل گئی جب کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کے کیس میں ا ن کے وکیل عدالت کو مطمئین نہیں کر سکے۔ سابق وزیر اعلٰی کو تین ماہ پہلے نیب نے صاف پانی کیس

Read more

ذرا این آر او دینے والوں کی اپنی اوقات تو دیکھیے!

یوں تو  علی زیب کی بے وفائی، کج روی، کم نگاہی اور بے توجہی ہمیشہ ہی زویہ کے لیے سوہانَ روح بنی رہتی تھی مگر اب تو زویہ اس کی بے نیازی کو اپنی تذلیل و تحقیر سمجھنے لگی تھی۔ زویہ جس قدر التفات برتتی، علی زیب کے رویے میں اتنا ہی اجتناب ہوتا۔ وہ جس قدر دل داری کرتی وہ اتنی ہی دل آزاری کرتا۔ وہ جس قدر قریب آتی وہ اسی قدر دور ہوتا جاتا۔ ادھر دلربائی تو

Read more

ایک کی چوکھٹ پر حاضری دوسرے کو ہتھکڑیاں: کپتان صاحب! یہ ماجرا کیا ہے؟

یوں تو نئے پاکستان میں عجیب و غریب واقعات و سانحات رونما ہو رہے ہیں جن کو دیکھ کر گاہے نئے پاکستان کے بانی کی بے بسی اور بے چارگی پر رحم آتا ہے اور گاہے مظلوم و مجبور پاکستانیوں کی مفلو ک الحالی اور حالت زار پر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ جناب عمران خان نے نئے پاکستان کی بنیاد رکھتے وقت عوام سے وعدہ کیا تھا کہ نئے پاکستان میں دودھ و شہد کی نہریں بہنے کے علاوہ عدل اجتماعی اور سماجی مساوات کا یہ عالم ہو گا کہ شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پئیں گے۔

انصاف کا بول بالا اور ظلم و جبر کا منہ کالا ہو گا۔ کشمیر سے کراچی تک شب دیجور میں سونے چاندی سے لدھی پھندی عورت بغیر کسی خوف و خطر چلی جائے گی اور کوئی مائی کا لال اسے میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکے گا۔ ملک کی معیشت اس طرح بام عروج پر پہنچے گی اور خوشحالی کا ایسا دور دورہ ہو گا کہ زکات لینے والا کوئی نہیں ہو گا۔ اللہ کے فضل سے اب نواز شریف وزارت عظمٰی سے معزول ہونے کے بعد تا حیات نا اہل ہو کر جیل میں اپنی زندگی کے بچے کھچے دن کاٹ رہا ہے اور چوروں، ڈاکوؤں اور لٹیروں کی جگہ صدیقین، صا لحین اور مجاہدین کی حکومت قائم ہو چکی ہے۔

Read more

علاج نواز شریف کا نہیں، ان کا ہونا چاہیے!

بیمار نواز شریف نہیں، بیمار وہ دریدہ دہن، عیب جُو اور طعنہ باز ہیں جو اس مضبوط اعصاب، بلند نگہ، اصول پسند اور باحوصلہ انسان پر ہمہ وقت طعن و تشنیع اور سب و شتم کے تیر برساتے رہتے ہیں۔ بیمار کلثوم نواز مرحومہ بھی نہیں تھی بلکہ ذہنی و فکری اپاہچ اور نفسیاتی عوارض میں وہ سیاسی مخالفین مبتلا رہے جو اس مشرقی روایات کی امین، وضع دار اور شریف النفس خاتون کا تمسخر اڑاتے رہے۔ میں نے اپنی

Read more

آج جج نہیں، جج کا فیصلہ بولا ہے!

  سکوت نہیں، ہر طرف سکوتِ مرگ طاری ہے۔ خاموشی نہیں، مجرمانہ خاموشی جاری ہے۔ تجاہل نہیں، تجاہلِ عارفانہ کی ضربِ کاری ہے۔ جبر نہیں، جبرِ ناروا کی سنگ باری ہے اور اختیاری نہیں، بے اختیاری کی ملمّع کاری ہے۔ جو الیکٹرانک میڈیا کسی سیاستدان کی معمولی کرپشن کی خبر پر قیامت کا ہنگامہ برپا کر دیتا ہے، فیض آباد دھرنے کا فیصلہ آنے پر اس کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ جو اولوالعزم اور محب وطن اینکرز پاناما کیس کی

Read more

کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور مسئلہ کشمیر!

میں نے مسئلہکشمیر پر جس قدر بھی غور و فکر کیا، حقیقت کی جگہ حکایت، حقائق کی جگہ جذبات، خبر کے بجائے خواہش، تعبیر کے بجائے خواب اور سلجھاؤ کی جگہ الجھاؤ ہی دکھائی دیا۔ عالمی طاقتوں کو تو خیر شاید کشمیر کے نام سے ہی زیادہ آگاہی نہیں، مجھے تو خود پاکستان کے کردار اور مؤقف کی ٹھیک طریقے سے سمجھ نہ آ سکی۔ اس حوالے سے میں اپنی فہم ناقص اور فکری کوتاہی و تاریخی حقائق سے غفلت

Read more

روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی رے

پروفیسروں اور فلسفیوں کی غائب الدماغی اور بد حواسیوں کے لطائف تو سبھی نے کثرت سے سن رکھے ہیں مگر جب سے ہمارے کپتان صاحب نے کارزار سیاست میں قدم رکھا ہے، بے دماغی اور حواس باختگی میں فلسفیوں اور پروفیسروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مشاق یوسفی نے تو ناحق پروفیسروں کو بدنام کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ آدمی ایک مرتبہ پروفیسر ہوجائے تو ساری زندگی پروفیسر ہی کہلائے گا، چاہے اس کے بعد وہ عقلمندی کی باتیں

Read more

کپتان صاحب!تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے!

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سرسری جائزہ بھی لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ ملک کے سربراہ کے طور پر باگ ڈور سنبھالنے والوں میں جس سربراہ مملکت اور سیاستدان نے سب سے زیادہ بے دردی، اصراف اور لغو انداز میں اپنی زبان بلکہ بد زبانی کا استعمال کیا ہے وہ عمران احمد نیازی ہیں۔ اللہ تعالٰی نے انسان کو جن عظیم نعمتوں سے نواز رکھا ہے ان میں نطق، قوت گویائی اور زبان ایک اہم انعام ہے۔ دنیا کی ہر زبان میں زبان کے سوچ سمجھ کر استعمال کے حوالے سے بے شمار انمول، زریں اور گراں مایہ اقوال، اشعار، ضرب الامثال اور محاورات انسانیت کا مشترک قیمتی اثاثہ بن کر دمک رہے ہیں۔

Read more

نسلی اور صنفی تعصب کا شکار ہمارا معاشرہ

یہ دسمبرکی ایک ٹھٹھرتی شام تھی۔ ادھیڑعمرکی ایک سیاہ فام خاتون دن بھرکی جانکاہ مشقت کے بعدگھرجانے کے لیے بس سٹینڈپرکھڑی تھی۔ پندرہ بیس منٹ کے انتظارکے بعدبس آگئی اوروہ وہ ایک خالی نشست پربیٹھ کرعمیق سوچوں میں گم ہوگئی۔ بس چلتی رہی اورہرسٹاپ پرمسافربیٹھتے رہے۔ رش کی وجہ سے کچھ مسافراندرکھڑے بھی تھے۔ معاً ایک وجیہ و شکیل نوجوان نے خاتون کواس کے لیے نشست خالی کرنے کوکہا۔ خاتون نے خلاف روایت و خلاف توقع نشست خالی کرنے سے انکارکردیا۔

پھرکیاتھابس میں ایک ہنگامہ برپاہوگیا۔ سب گوری چمڑے والے اس خاتون پرپل پڑے اوربرابھلاکہنے لگے۔ مگرخاتون نے کمال ہمت، جواں مردی اوربہادری کامظاہرہ کرتے ہوئے نشست خالی کرنے سے انکارکردیا۔ ڈرائیوربس کومنزل مقصودکی طرف لے جانے کے بجائے سیدھاپولیس سٹیشن لے گیا۔ خاتون پرمقدمہ درج کیاگیا۔ اس پر بھاری جرمانہ کیاگیا اورجیل میں ڈال دیاگیا۔ یہ آہنی اعصاب اورعزم و ہمت کی پیکرسیاہ فام خاتون روزاپارکس تھی۔ شہرتھامنٹگمری اورواقعہ دسمبر 1953 کاہے اوراس کا یہ حرف انکارتاریخ کے چندعظیم اورٹرننگ پوائنٹ انکاروں میں شامل ہے۔

Read more

ادھر کاکے پہ کاکا چل رہا ہے

کوئی اسے منی بجٹ کہتا ہے، کوئی اصلاحاتی پیکج کا نام دے رہا ہے، کوئی اس سال کا تیسرابجٹ قرار دے رہ اہے اور کچھ ایسے قنوطی بھی ہیں جواسے ایک اورمہنگائی بم سے تعبیر کر رہے ہیں۔ نام جو بھی دے دیں اس ناہنجاربجٹ نے نتیجہ ایک ہی دینا ہوتا ہے۔ معاشی سرگرمیاں اس پیکج سے روبہ صحت ہو کر کلکاریاں مارتی ہیں اور غیرملکی سرمایہ کاروں کے جم غفیرکے ساتھ دوسرے ملکوں سے ملازمتوں کے حصول کے لیے

Read more

ووٹ کو عزت دیے بغیر وزیراعظم کو عزت نہیں ملے گی!

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوان اپوزیشن لیڈرنے جناب وزیراعظم پر سلیکٹڈ وزیراعظم کی پھبتی کسی، ادھرتحریک انصاف کے جذباتی اورہتھ چھٹ رہنما نے جواب آں غزل کے طورپرغصے سے بھرا ٹویٹ کیا جس میں اپوزیشن لیڈر کے آئندہ کے اجلاسوں میں پروڈکشن آرڈرجاری نہ کرنے کی دھمکی دے دی۔ انہوں نے غیظ و غضب کو مہمیز دیتے ہوئے مزید فرمایا کہ اگر اپوزیشن لیڈر اپنے بڑے بھائی سمیت ساری زندگی جیل میں سڑنے سے بچنا چاہتے ہیں تو مستقبل

Read more

جناب وزیراعظم! آپ کا بیانیہ ہے کیا؟

خبرگرم ہے کہ جناب وزیراعظم اس بات پربہت بے کل اور مضطرب ہیں کہ حکومت کا بیانیہ مؤثراورجامع انداز میں عوام تک نہیں پہنچ پا رہا۔ حکومت کو پارلیمینٹ کے اندر اور باہر سخت صورت حال کا سامنا ہے۔ حالانک آج کی اپوزیشن پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کی چند کمزور اور نحیف ونزار اپوزیشن میں شمار ہوتی ہے۔ اپوزیشن میں شامل دونوں بڑی پارٹیوں کی اعٰلی قیادت کو میگا کرپشن کے کیسز کا سامنا ہے۔ ن لیگ کے روحِ رواں

Read more

سانحہ ساہیوال: کچھ حقیقت پسندی کی ضرورت ہے

سانحہء ساہیوال کا احوال رقم کرنا بے شک بڑے دل گردے کا کام ہے۔ دل لہو اور انگلیاں فگار کرنا پڑتی ہیں۔ یہ سانحہ بلا شبہ اپنی سفاکی، زہرناکی اور سنگدلی میں اپنی مثال آپ ہے۔ جس نے بھی دیکھا، سنا خون کے آنسو رویا۔ پورے ملک کی فضا سوگوار اور جذباتی ہے۔ پنجاب اور وفاقی حکومت نے مظلوم خاندانوں کو بہت جلد انصاف فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ معصوم اور ننھی پریوں کی تصویریں دیکھ کر پتھرسے پتھر

Read more

تین’ نثار‘ اور تینوں شرمسار، بے اعتبار اور خوار

فلکِ کج رفتار نے کیسی عجیب چال چلی کہ تینوں ”نثار“ ہی شرم سار و دل فگار دکھائی دیتے ہیں۔ ایک کے ہاتھ میں قریب قریب دس سال تک میزانِ عدل رہی جسے اس نے خاص طور پر ایک سیاسی جماعت کے خلاف مسلسل دو دھاری تلوار بنائے رکھا۔ اس تمام عرصے میں اس نے عدل و انصاف کا بول بالا نہیں کیا بلکہ عدل اور مساوات کے اصولوں کو تہ و بالا کیا۔ ”ڈنڈا برداروں“ کی محفلوں کی رونق

Read more

چیف جسٹس کی ریٹائر منٹ: سورج غروب ہوتا ہے

مسیحائے زماں، خضرِ راہِ دوراں، پاسبانِ ملتِ بیضا، فاتحِ روایاتِ جمہوریت، حامی لشکرِ بے اماں، محافظِ بساطِ عدل و انصاف، خورشیدِ مساواتِ روشن و روایاتِ کہن، دشمنِ اربابِ سیاست، حبیبِ صفِ دوستاں و رقیبِ نظامِ ملکِ پاکستاں ; عزت مآب، فخرِ شعور و آگہی چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کا آج عدالتِ عالیہ میں آخری دن ہے۔ عدل و انصاف کے وسیع و عریض ایوان حسرت و یاس کی تصویر بنے ہیں۔ درو و دیوار سے حسرت ٹپک رہی ہے۔

Read more

بے لاگ احتساب کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے!

جوں جوں وقت گزرتا جارہاہے، نئے پاکستان کے دعویداروں کا اصل چہرہ سامنے آتا جارہاہے۔ جناب وزیراعظم، وزرا، حکمرانوں کے ساتھ ساتھ عامتہ الناس پر بھی یہ تلخ حقیقت کھلتی جارہی ہے کہ ہتھیلی پر سرسوں جمانا ناممکن کام ہے۔ نئے پاکستان والوں کے ہاتھ ان خوابوں کی کرچیوں سے آئے دن بری طرح زخمی ہو رہے ہیں جو وہ الیکشن سے قبل سادہ لوح اور جذباتی لوگوں کو دکھاتے رہے ہیں۔ حکومت کے ساتھ عوام پر بھی کھلتا جارہاہے کہ سیاسی وعدے اور دعوے نبھانے کے لیے نہیں سبز باغ دکھانے کے لیے ہوتے ہیں۔

اشیائے ضروریہ کے نرخ آسمان ہر پہنچ چکے ہیں۔ پٹرول، گیس، بجلی کی قیمتیں ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکی ہیں۔ گذشتہ تین سال کے دوران پہلی مرتبہ گیس کے علاوہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے شہری پریشان ہیں۔ روپے کی قیمت کم کرنے کے باوجود درآمدات میں کمی کا رجحان جاری ہے۔ اندرونی اور بیرونی قرضہ جات میں ہوش ربا اضافہ ہو چکا ہے۔ پانچ ماہ کی مدت کے اندر دوسرا منی بجٹ مفلوک الحال عوام پر تازیانہ بن کر برس رہا ہے۔

Read more

وزیراعظم صاحب!مبارک باد ضرور دیں مگر۔۔۔۔۔

وزیراعظم پاکستان نے آسٹریلیا میں تاریخی فتح حاصل کرنے پر بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان اور عظیم بیٹسمین ویرات کوہلی کو مبارک باددی ہے۔ ان کے اس اقدام کی تحسین و توصیف بھی ہو رہی ہے اور مذمت بھی۔ پاک بھارت تعلقات دونوں طرف ہر دور میں ایک کٹھن اور کانٹوں بھرا راستہ رہے ہیں۔ ہمارے ہاں خاص طور پر سیاست کی بساط اکثر اسی سلگتے ہوئے دیرینہ مسئلے پر بچھائی جاتی ہے۔ پاک بھارت مراسم ہمارے لیے زندگی موت کا مسئلہ بن جاتے ہیں۔

جہاں دونوں طرف مذہب، تہذیب، نظریے، حب الوطنی اور قومیت کی بنیاد پر ایک دوسرے کو صفحہء ہستی سے مٹادینے کے خونخوار قسم کے عزائم پائے جاتے ہوں وہاں پاکستان کے کسی نئے نویلے وزیراعظم کے لیے اس طرح کے بیانات اس کی شہرت اور ساکھ کو بری طرح متاثر کرنے اور زک پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔

Read more

شیشے میں دیکھیے نہ کہ آئینے میں!

بڑے منصب کی خواہش ہر انسان کی فطرت میں ہے مگر منصب کے مطابق ظرف کا عطا ہونا اللہ کی خاص عنایات میں سے ایک ہے۔ کسی عہدے پر براجمان آدمی کے لیے معاملہ فہمی، تحمل، بردباری، ٹھراؤ، صبر و ثبات، عجز وانکسار، نرم خوئی، بلند نگہی، دوراندیشی، نیک نیتی اور اعلٰی ظرفی جیسے اوصاف کا ہونا ازحدضروری ہے۔ اگر یہ اوصاف نہ ہوں تو عہدے پر متمکن شخص اپنے لیے بھی اور اپنے ماتحتوں کے لیے بھی مسائل کھڑے کرتا رہے گا اور فضا ہمیشہ مکّدراور گھٹی گھٹی رہے گی۔

ماتحتوں کو بھی چاہیے کہ وہ انتظامی منصب پر بیٹھے شخص کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور مستعدی، جانفشانی، دیانتداری، تندہی اور خلوص نیت سے فرائض منصبی ادا کریں مگر مجموعی طور پر فضا کو خوشگوار رکھنا سربراہ کی ذمہ داری ہے۔ غیر ضروری جلدبازی، غیض و غضب اور متلون مزاجی بعض اوقات معاملات کو بری طرح بگاڑ دیتے ہیں۔ اسی لیے بہادر شاہ ظفر نے کہا تھا

Read more

چیف جسٹس پر تنقید کرنے والے ملک دشمن ہیں

چیف جیسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے جوہر ٹاؤن اور دوسری جائیدادوں پر قبضوں کے کیس میں دھواں دھار فیصلہ کرتے ہوئے اینٹی کرپشن کو کھوکھر برادران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔ ان کا جلال، رعب ودبدبہ اورآتشیں لب ولہجہ قابل دید و داد تھا۔ انہوں نے وزیراعظم ہاؤس کی طرح چالیس کنال پر محیط کھوکھر پیلس کو درسگاہ میں بدلنے کا حکم دے کر دس دن کے اندر یعنی سترہ جنوری سے پہلے رپورٹ ان

Read more

استادکی عزت: خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا!

آج سویرے جو آنکھ میری کھلی تو دنیا ہی بدل چکی تھی۔ گیراج میں نئے ماڈل کی چمچماتی ہوئی کار کسی نئی نویلی دلہن کی طرح سجی سجائی میری منتظر تھی۔ وفورِ شوق میں ناشتہ کرنے کا دھیان بھی نہ رہا۔ کپڑوں کی الماری پھلوری تو نئی نویلی گاڑی کے شایان نشان کوئی سوٹ نہیں تھا۔ مجبوراً ان میں سے نستاً نیا سوٹ زیب تن کیا۔ میچنگ ٹائی باندھی۔ جوتے تھے تو پرانے مگر اچھی طرح پالش کرنے پر ان کی چمک اور نکھار بھی قابل رشک نہ سہی قابل قبول ضرور ہو گیا۔

بوٹ اگر پوری نیک نیتی اور عرق ریزی و خشوع و خضوع سے پالش کیے جائیں تو انسان کہاں سے کہاں پہنچ سکتا ہے۔ گاڑی پر بیٹھ کر صدر بازار سے پٹھان کی ریڑھی سے سو روپے میں خریدی گئی کالے رنگ کی دھوپ کی عینک پہنی، آئینے میں ایک نظر اپنے سراپے پر ڈالی;فخریہ انداز سے ہلکی سی سیٹی بجا کر اپنی خوش بختی کا اظہار کیا۔ مین روڈ پر پہنچ کر سوچا پٹرول ذلوا لینا چاہیے۔ جونہی پٹرول پمپ پر پہنچا مجھے دیکھتے ہی تمام گاڑی والوں نے اپنی گاڑیاں ایک طرف لگائیں اور نیچے اتر کر مجھے سلام پیش کرنے لگے۔ میں نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے سر کی ہلکی سی جنبش سے ان کا شکریہ ادا کیا۔ یہ دیکھ کر یک گونا طمانیت ہوئی کہ میری گاڑی جب تک نظروں سے اوجھل ہوتی تمام لوگ اسی طرح مؤدب کھڑے تھے۔

Read more

سیاست کو سیاست سمجھیں، نواز شریف کی طرح حق و باطل کا معرکہ نہیں!

جاوید میانداد دنیائے کرکٹ کے عظیم بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ 1975 سے 1996 تک ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میں پاکستان کی بھرپور نمائندگی کرنے کے علاوہ ملک کے کامیاب کپتان بھی رہے ہیں۔ کرکٹ شائقین کو 1986 میں شارجہ کرکٹ سٹیڈیم میں بھارت کے خلاف چتن شرما کی آخری گیندپر ان کا یادگار چھکا ہمیشہ یاد رہے گا۔ میانداد اپنے زمانہء عروج میں ایک مرتبہ کسی میچ میں امپائر کے متنازعہ فیصلے کا شکار بن گئے۔ امپائر نے لیگ اسٹمپ سے باہر جاتی ہوئی گیند پر انہیں ایل بی ڈبلیو قرار دے دیا۔

اس زمانے میں کرکٹ میں ابھی تھرڈ امپائر کی خدمات متعارف نہیں کی گئی تھیں۔ امپائر کا ہر فیصلہ حتمی سمجھا جاتا تھا۔ بعد میں ایکشن ری پلے سے پتہ چلا کہ میانداد آؤٹ نہیں تھے۔ متنازعہ فیصلے سے قطع نظر میانداد کے ناقدین نے ان سے ہمدردی کرنے کے بجائے یہ اعتراض جڑ دیا کہ امپائر کا فیصلہ اپنی جگہ مگر جاویدمیانداد جیسے منجھے ہوئے اور ماہر بلے باز نے گیند پیڈز پر لگنے ہی کیوں دی؟

Read more

اصغر خان کیس میں نئے پاکستان والوں کا پِتّہ پانی ہو گیا

کسی نے اگر نئے پاکستان کے اصل احتساب کا چہرہ دیکھنا ہو تو وہ اصغر خان کیس کا ”انجام“ دیکھ لے۔ جس کیس کو انجام دینے سے ملک کے اصل اور بڑے طاقتور انجام کو پہنچ جاتے، وزیر اعظم کی ایف آئی اے نے اسے ختم کر کے داخل دفتر کرنے کی سفارش کر لی ہے۔ اس لیے کہ اصغر کے کیس میں کچھ ”اکابر“ کا نام بھی آ رہے تھے۔ وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ پچیس سال قبل بینک ریکارڈ تلاش کرنا ممکن نہیں۔ یاد رہے کہ یہ وہی احتساب کا نظام ہے جس میں نواز شریف کے کیس میں چالیس برس پہلے کی بینک ٹرانزیکشنز مانگی گئی تھیں۔

ہم نئے پاکستان کے بانی سے کیا شکوہ کریں کہ وہ جن کے کاندھوں پر سوار ہو کر اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ہیں، ان کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرتے ہوئے ان کے پر جل جاتے ہیں۔ ہماری قوم کا حافظہ کمزور سہی مگر اسے ماضی قریب میں عمران خان کے اصغر خان کیس پر دیے جانے والے بیانات اور ”اصولی“ سٹینڈ تو اچھی طرح یاد ہو گا۔ نواز شریف کو سزا دلوا کر وہ اس زعم میں مبتلا ہو گئے تھے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی طاقتور کو سزا ملی ہے حالانکہ اصل طاقتور ان کے سامنے سی ایم ایچ سے کمر درد کا بہانہ بنا کر دم دبا کر بھاگ نکلا تھا اور سیدھا دبئی جا کر دم لیا تھا۔

Read more

سوال تو اٹھیں گے!

کرپشن ایک کثیر المعانی اور وسیع المفہوم لفظ ہے۔ لیکن ہم میں سے اکثر اسے صرف مالی معاملات میں خرد برد اور غبن کی حد تک لیتے ہیں۔ کرپشن کو ہم نے بدقسمتی سے سیاسی نعرہ بنا کر محض سیاستدانوں کو غیض و غضب کا نشانہ بنانا شروع کر رکھا ہے۔ کچھ لوگ کرپشن کو مذہبی و اخلاقی مسئلہ بنا کر اسے اسلامی تعلیمات سے ناآشنائی کا شاخسانہ بھی قرار دیتے ہیں۔ مگر سماجی اور معاشرتی علوم کے ماہرین اسے سماجی مسئلہ قرار دیتے ہیں اور کسی بھی سماج میں اس کی کمی یا سنگینی کو سماجی شعور اور اخلاقی تربیت کے کمتر یا بہتر معیار سے جوڑتے ہیں۔

Read more

یہ چور ہیں،انہوں نے ملک لوٹا ہے!

بابا بخشو بھی آج بہت خوش تھا۔ خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔ آنکھوں میں نفرت،انتقام،ہٹ دھرمی،تندی،سختی اور سفاکی کی ملی جلی چمک تھی۔ وہ بھی ہم سب کے ساتھ ان سیکڑوں لوگوں میں شامل تھا جو سڑک کے دونوں طرف کھڑے نواز شریف کے مختصر قافلے کو اڈیالہ جیل جاتا دیکھ رہے تھے۔ اکثر ن لیگ کے حامی تھے جو نواز شریف کی سزا کو سراسر انتقامی کارروائی اور نہایت مضحکہ خیز قرار دے رہے تھے

Read more

دستِ قتل کے شایاں رہا کون ہے!

کیا قیامت ہے کہ ادھر نئے پاکستان کے سربراہ معماران قوم کی تکریم و پذیرائی کے لیے ان کی گاڑیوں پر مخصوص سٹکر چسپاں کرکے انہیں سلامی دینے کے احکامات صادر کر رہے ہیں، وزیر اعظم ہاؤس کو علم و تحقیق اور حکمت و آگہی کا گہوارہ بنانے کے منصوبے بنا رہے ہیں، معاشرے میں فروغ علم اور قومی زبان کو اپنا جائز مقام دلوانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں اور ادھر ایک جواں سال اور حرماں نصیب استاد کی زنجیروں میں جکڑی لاش نئے پاکستان کے منہ پر زوردار طمانچہ رسید کر رہی ہے۔ ان حالات میں علم و آگہی کے فروغ کی شمعیں جلانا کیسے ممکن ہے

Read more

آیا ہے اب مزاج ترا امتحان پر!

جناب وزیراعظم نے اپنے وزیران باتدبیر سے سو یوم کے بعد ہی امتحان لینا شروع کر دیا ہے۔ اول تو امتحان دینے والے خواتین و حضرات کئی سال کے بعد آج دوبارہ اس تلخ اور منحوس تجربے سے گزر رہے ہیں جسے امتحان کہتے ہیں اور دوم یہ کہ تیاری کے لیے نصاب لامحدود، استاد زمانہ اور خودسر ووٹرز، امتحانی بورڈ مختلف، پیپر سیٹرز سخت گیر و بے رحم، نگران عملہ مستعد اور عقابی نظروں والا، پرچہ تقریباً آؤٹ آف

Read more

کھلکھلا کے ہنسنا اور کھل کے رونا!

نواز شریف نے نیب پیشی کے دوران صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت میں ایک سوال کے جواب میں یہ معنی خیز جملہ کہا کہ ہنسنا کیسا ہم تو کھل کے رو بھی نہیں سکے۔ اہلِ درد جانتے ہیں کہ اس مختصر سے جملے میں درد و کرب کی کتنی گہرائیاں، محرومی و نامرادی کی کتنی وسعتیں، رنج و حرماں بختی کی کتنی سلوٹیں، ہجر و فراق کی کتنی صدیوں کی تلخیاں، ناسپاسی اور نارسائی کی کتنی پہنائیاں، غم و اندوہ کی کتنی انگڑائیاں، اضطراب و بے قراری کے کتنے خون آلود دکھڑے، بے یقینی اور بے اعتباری کے کتنے ہولناک تپھیڑے، بے بسی اور بے کسی کے کتنے بے مہر موسموں کی سختیاں اور جدائی کی کتنی خلشیں پنہاں ہیں۔

Read more

ہارن بجانے کے لیے ہے اذیت رسانی کے لیے نہیں!

آج تو حد ہی ہو گئی تھی۔ میرا بھی صبر کا پیمانہ لب ریز ہو گیا تھا۔ انسانیت، تہذیب، شایستگی، مروت، لحاظ، شرافت، زبان کی حرمت؛ سب مستحسن اقدار و روایات کو بالائے طاق رکھنے کو جی چا ہتا تھا۔ ہوا یہ کہ ابھی چند ہی لمحے قبل والد صاحب کو رات بھر کے جگ رتے کے بعد دو گھڑی کے لیے آنکھ لگی تھی۔ وہ خاصے عرصے سے بہت سی بیماریوں کی یورش کا ہدف تھے اور رات بھر کھانسی کے پے در پے دوروں سے نڈھال رہتے تھے۔ آج بھی نمازِ فجر کے بعد جونھی ان کی آنکھ لگی، گلی میں پریشر ہارن اور ساتھ بے ہنگم موسیقی کی تکلیف دہ اور اذیت ناک آواز نے کانوں کے پردے پھاڑنا شروع کر دیے اور والد صاحب کی آنکھ فوراً کھل گئی۔

Read more

آئینہ جھوٹ بولتا ہی نہیں

تو ثابت ہوا سارا قصور میڈیا کا ہے۔ ملک میں برپا افراتفری، نفسانفسی، سیاسی کشمکش، معاشی بدحالی، غربت، اقرباپروری، کرپشن، بے روزگاری، مہنگائی، ذخیرہ اندوزی، بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ، حکمران جماعت اور اپوزیشن راہنماؤں کی برافروختگی و شعلہ نوائی، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی، اخلاقی گراوٹ، معاشرتی و سماجی اقدار کی پائمالی، آبادی میں ہوش ربا اضافہ، صحت عامہ وتعلیمی میدان کی خستہ حالی، دہشت گردی کی لہر کا از سر نو سر اٹھانا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ

Read more

بات کیجیے سرِ بازار غلط

جناب نواز شریف اگر 33 سال پرانے واقعے کے حوالے سے اپنی لاعلمی کا اظہار کریں تو یہ بات منطقی اور سمجھ میں آنے والی ھے مگر کوئی وزیراعظم دو دن قبل اپنی ہی حکومت کی ناک کے نیچے وقوع پذیر ہونے والے اہم اور دور رس حادثے کے متعلق اپنی بے خبری ظاہر کرے تو یہ امر صریحاً اس کی نااہلی اور ریاستی و حکومتی معاملات میں اس کی گرفت کے انتہائی کمزور ہونے کی علامت ہو گا۔ ملک

Read more

مرغ باد نما اور مرغبانی کا خیالی منصوبہ!

پاکستانی وزیراعظم نے ملک کی معیشت کی بحالی اور قرضوں کی واپسی کا انڈے،مرغیوں اور کٹوں والا فارمولہ دیا تو انہیں شدت سے تمسخر اور تماشےکا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے جواب میں انہوں نے ولیم ہنری گیٹس کے ایسے ہی ایک منصوبے کا سرسری حوالہ دے کر تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور انہیں نو آبادیاتی ذہنیت کا غلام کہہ کر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔ دراصل عمران خان اور ان کے حامیوں کا مسئلہ

Read more

انڈے مرغی کا کاروبار اور قرض کی واپسی

وزیراعظم پاکستان نے انڈے مرغیوں اور کٹوں کے ذریعے معیشت کی بحالی کا ذکر کیا کر دیا، سب لٹھ لے کر ان کے پیچھے ہی پڑ گئے۔ کسی نے شیخ چلی کی واپسی کی پھبتی کسی، کسی نے گرم انڈے بیچنے والے کا طعنہ دیا، کسی نے ککڑی پی ایم کے طنز کے تیر برسائے۔ کسی نے انہیں شیخ چلی کی انڈے بھری ٹوکری اٹھانے والا قرار دے دیا۔ کوئی ستم ظریف یوں طعنہ زن ہوا کہ پوری دنیا کے

Read more

تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔۔۔۔۔

سو دن کسی حکومت کی کارکردگی جانچنے کا سفاک اوربے رحم معیار ہوسکتاہے مگر یہ کارکردگی اتنی بھی نادیدہ، بے صوت اور غیر محسوس نہیں ہونی چاہیے کہ وزیرِ اعظم، وزرا اور اس کے حامیوں کو اسے دکھانے کے لیے لمبی لمبی بے ربط تقریریں کرنا پڑیں۔ اس موضوع پر بات کرنے سے قبل بہتر ہے کہ اس حکومت کے ان اہداف کا ذکر کر لیا جائے جو عمران خان نے سو دن قبل مقرر کیے تھے۔ یاد رہے کہ یہ اہداف اس حکومت نے خود ہی بغیر کسی بیرونی سیاسی دباؤ کے مقرر کیے تھے۔

پہلا ہدف پانچ سال کے دوران ایک کروڑ ملازمتوں کی فراہمی کے لیے جامع، ٹھوس اور قابل عمل حکمت عملی مرتب کرنے کا تھا تاکہ ملک سے بیروزگاری کا خاتمہ کیا جاسکے۔ اس حوالے سے سو دنوں کی کارکردگی یہ بتا رہی ہے کہ مختلف اداروں اور محکموں سے پرانے ملازمین کو فارغ کر کے بیروزگاری میں اضافہ کیا جارہاہے۔ دوسرا ہدف پیداواری شعبے کی بحالی اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو تیزی سے ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے سازگار حالات کی فراہمی اور ٹھوس اقدامات کی شروعات تھی۔

Read more

کام ایک ہی لیکن نتائج مختلف

ابھی چند ہی روز قبل ایک جیّد کالم نگار نے نظریہء اضافت کے پرچارک اور مشہور فلسفی و سائنس دان البرٹ آئن سٹائن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ دیوانگی اور جنون یہ ہے کہ آپ ایک ہی کام بار بار کر رہے ہیں لیکن اس سے مختلف نتائج کی توقع رکھتے ہیں۔ آج یہ تاریخ ساز سائنسدان حیات ہوتا تو نئے پاکستان کے انقلاب آفرین و ولولہ انگیز حالات و واقعات دیکھ کر اپنا سر پیٹ کر رہ جاتا کیونکہ کم و بیش ڈیڑھ صدی تک اس کا یہ نظریہ حرف بہ حرف درست رہنے کے بعد آج بری طرح پٹ گیا ہے۔

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ جب ہم ماضی قریب کے پرانے پاکستان اور نئے پاکستان کے معروضی حالات کا سرسری تجزیہ بھی کرتے ہیں تو ہمیں پرانے پاکستان کے مقابلے میں نئے پاکستان میں آگ پانی کا ملاپ نظر آتا ہے۔ شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے دکھائی دیتے ہیں۔ سیاہ سفید اور سفید سیاہ میں بدلتا نظر آتا ہے۔ خوب زشت اور زشت خوب کے روپ میں ڈھلتا محسوس ہوتا ہے۔ بہار خزاں اور خزاں بہار بنتی دکھائی دیتی ہے۔ شاعر نے تو رسماً ہی خوب کو ناخوب اور ناخوب کو خوب میں ڈھلنے کے محیرالعقول عمل پر بتدریج کی تہمت دھری تھی، نئے پاکستان میں تو چیزیں آناًفاناً اور پلک جھپکتے ہی ایک سو اسی درجے زاویہ پر بدل رہی ہیں۔

Read more

یوٹرن: حکمتِ عملی میں تبدیلی یااصولوں سے انحراف؟

آج کل وزیراعظم پاکستان کے مشہورِ زمانہ یو ٹرن والے دلچسپ بیان پر ہر سطح پر بحث و مباحثہ جاری ہے۔ کسی بڑے منصب پر براجمان شخصیت کے معمولی اشارہء ابرو اور چھوٹی سی بات کی بھی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ یہی بیان اگر کسی عام آدمی سے منسوب ہوتا تو ہرگز اتنی پذیرائی حاصل نہ کر سکتا۔ تمھاری زلف تک پہنچی تو حسن کہلائی وہ تیرگی جو میرے نامہء سیاہ میں تھی ان کے حامی اور مخالفین اپنے اپنے

Read more

قائدانہ صلاحیتیں

کل میرے دیرینہ پڑوسی خورشید صاحب غریب خانے پر تشریف لائے توخلاف توقع کافی پریشان تھے۔ چہرے اترا ہوا، رنگ متغیر، باتوں میں اداسی، لہجہ پرُ ملال اور آوازگھمبیر تھی۔ ہم نے اس ہیئت کذائی اورکایا کلپ کی شانِ نزول دریافت کی تو تاسف سے گویا ہوئے کہ کیا بتاؤں آج کل سب سے چھوٹے اور لاڈلے لختِ جگر اور نورِ نظر نے بہت ہی پریشان کررکھا ہے۔ اگلے دن دروازے کی گھنٹی بجی۔ میں نے کہا دیکھو کون آیا

Read more

یو ٹرن یا ٹرننگ پوائنٹ

کوئی سیاستدان سراپا خیرہے نہ کوئی سرتاپا شر۔ مگر ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ بحیثیت قوم ہم نے اعتدال، توازن اور معقولیت کو خیر باد کہہ رکھا ہے۔ کسی کی خوبیوں کی تعریف مقصود ہو تو ساری دنیا کے محاسن اس کی ذات سے وابستہ کر کے اسے فرشتہ ثابت کرتے میں جت جاتے ہیں اور کسی کو معتوب ومغضوب ٹھہرانا ہو تو دنیا جہاں کی برائیاں اور خرابیاں اس سے منسوب کر کے شیطان بنا دیتے ہیں۔ اب وزیر

Read more

لاف کاف بکنے کو فنون لطیفہ میں شامل کر لیں!

سعادت حسن منٹو کو اردو افسانہ نگاری کا امام مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اردو افسانے کو موضوعات اور اسالیب کے لحاظ سے بے مثال رنگا رنگی اور تنوع عطا کیا ہے۔ مذہبی ٹھیکیدار اور ثنا خوان تقدیس مشرق انہیں بیمار ذہنیت کا نمائیندہ اور فحش نگاری کا بدزبان و بدتہذیب ترجمان خیال کرتے ہیں۔ فحش گوئی کے حوالے سے ان پر عدالت میں مقدمات بھی چلے جن کا دفاع انہوں نے بڑی پامردی اور حقیقت پسندانہ انداز سے کیا۔

Read more

جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی

ہمارے نئے وزیر اعظم دیگر چیزوں کے علاوہ سابق وزیر اعظم نواز شریف پر ”پرچی“ وزیر اعظم کی پھبتی اس قدر تواتر اور تسلسل سے کستے آئے ہیں کہ اب اگر خود دیکھ کر خطاب کریں گے تو سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر موقعے پر فی البدیہ تقریر فرما کر اپنی قابلیت اور خطابت کے جوہر دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر بد قسمتی سے اس حوالے سے ان کا ہر وار ہی اوچھا

Read more

سرمایہ کاری کی دعوت کا بہترین طریقہ!

جناب احسن اقبال موجودہ سیاسی افق پر ایک اعلی تعلیم یافتہ، مہذب، شائستہ، نرم خو، صلح جو، حلیم الطبع اور سلیم الفطرت شخص ہیں۔ کوئی موقع محل ہو، کیسی ہی محفل ہو ، کتنا ہی فکر انگیز یا جذباتی سیاسی موضوع ہو انہوں نے گفتار کے اسلوب کو ہمیشہ قابو میں رکھا اور اپنی زبان کو کبھی دشنام ، الزام اور اتہام سے آلودہ نہیں کیا۔ وہ مدلل اور مؤثر انداز سے موضوع زیر بحث پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان

Read more

آزاد کشمیر کے آسمان سیاست کا چمکتا ستارا ڈوب گیا!

اکہتر برس قبل 5 نومبرکو سردار ملی خان اور سبز علی خان جیسے بہادر، غیور، خوددار اور سرفروش لوگوں کی فطری حسن سے مالا مال دھرتی کی آغوش میں آنکھیں کھولنے والا سپوت سردار خالد ابراہیم 5 نومبر ہی کو کشمیر کی مٹی اوڑھ کر ابدی نیند سو گیا۔ ان کا جنازہ کشمیر کی تاریخ کے چند بڑے اور یادگار جنازوں میں شامل ہے۔ اہل کشمیر ٹھٹھرتی اور اداس شام کے سایے میں جب آزادکشمیر کی سیاست کے شاید سب

Read more

ظلم اور جہل پر اصرار کرو گے کب تک

آسیہ نورین بی بی کے حق میں آنے والے فیصلے کے خلاف علامہ خادم رضوی اور ان کی ہم خیال مذہبی جماعتیں زبردست احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر تھیں۔ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو پاکستانی حکومت اور مقتدر اداروں کے یہود و نصاری سے ملی بھگت اور گھناؤنی سازش کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ وزیر اعظم، چیف جسٹس اور آرمی چیف پر گھناؤنے اور خطرناک الزام لگا رہے ہیں۔ دو دن سے معمولات زندگی درہم برہم ہیں۔

Read more

نواز شریف کی خاموشی

محترمہ کلثوم نواز کے سانحہء ارتحال کے بعد نواز شریف بالکل چپ ہیں۔ محترمہ کے قید حیات و بند غم سے رہا ہونے کے کچھ ہی دن بعد نواز شریف کے لیے بھی عارضی طور پر قفس کے دروازے وا کر دیے گئے اور وہ جاتی امرا میں گوشہ نشین ہو کر اپنی وفادار، مخلص، بہادر اور فہمیدہ و جہاندیدہ اہلیہ کے ساتھ گزارے طویل ماہ و سال کی یادوں کی راکھ کریدنے بیٹھ گئے۔ لوگوں نے اپنی اپنی سمجھ

Read more

داستان گو خاموش ہو گیا

میں آج تک فیصلہ نہیں کر سکا کہ وہ خوش خلقی میں منفرد تھے یا خوش لباسی میں، خوش گفتاری میں ممتاز تھے یا خوش اخلاقی میں، خوش ذوقی میں بے مثال تھے یا خوب صورتی میں؟ شاید حقیقت یہ ہے کہ وہ ان تمام خوبیوں میں لاجواب تھے۔ ان کی جوانی کی تصویریں دیکھیں تو وہ کسی پاکستانی فلمی ہیرو کی طرح نظر آتے ہیں۔ گورا رنگ، کھلکھلاتا چہرہ، دل آویز مسکراہٹ، گہری نیلی آنکھوں میں بلا کی کشش،

Read more

مستند ہے میرا فرمایا ہوا

پاکستان میں جب سے "جدید ریاست مدینہ” قائم ہوئی ہے، ہر طرف امن، مساوات، عدل و انصاف اور رواداری کا دور دورہ ہے۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پینے لگے ہیں۔ ماضی کے جابر، غاصب اور ظالم حکمران ظل الہی کے زیر عتاب ہیں۔ ان کی ز بانیں گنگ، حواس مختل، دل گرفتہ، قدم لرزیدہ، نم دیدہ اور سر غرور خمیدہ ہو رہے ہیں۔ "طاقتوروں” کو پابجولاں سر بازار رُسوا کن انداز سے چلا کر عبرت کا نشان

Read more

بستی میں ہمیں بھی رہنے دو

جسٹس شوکت صدیقی جو دل یزداں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے لگے تھے آخر کار عین توقع کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کی اوٹ و آڑ لے کر رسوا کن طریقے سے اپنے عہدے سے برطرف کر دیے گئے۔ انہیں اسلام آباد بار میں ایک متنازعہ تقریر کرنے کی پاداش میں اس انجام سے دوچار ہونا پڑا۔ یاد رہے کہ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ مقتدر حلقے کے اعلی افسران مقدمات کے حوالے سے براہ راست احکامات صادر کر

Read more

کشمیر: خزاں کی بہاروں کے رنگ

اس بار کشمیر جنت نظیر کا چکر مختصر ضرور تھا مگر کئی لحاظ سے یادگار اور قابل ذکربھی تھا۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ سال ہا سال کے سفر مسلسل کے باوجود مسافر کے نزدیک سفر اور زندگی کے حوالے سے کچھ گوشے اور پہلو تشنہ ہی رہتے ہیں۔ پھر کسی دن اچاک کسی آگہی کے لمحے کے دوران رازوں بھرے گوشے انسانی شعور پر منکشف ہوتے جاتے ہیں۔ حیات، ذات اور کائنات کے اسرار کھلتے ہیں اور

Read more

اداروں کو متنازعہ نہ بنائیے

آج کل نئی نویلی حکومت کی ناقص اور نابالغ قسم کی کارکردگی ہر جگہ زیر بحث ہے۔ حکومت جس قدر اپنی کارگزاری کو بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کرتی ہے اسی قدر آئے دن خارجہ اور داخلہ محاذ پر ایک سے بڑھ کر ایک ہزیمت کا سامنا کر رہی ہے۔ کہہ مکرنیو ں اور یو ٹرنوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام کو ریلیف دینے کی دعویدار حکومت بری طرح عوامی مسائل میں اضافے کا

Read more

اب مودی کی خیر نہیں

مودی سرکار نے توقع کے عین مطابق ہمارے کپتان کے پریم پتر کا جواب روایتی سرد مہری، بے اعتنائی اور بے رخی سے دے کر نئے پاکستان کے معماروں، مزدوروں اور ٹھیکیداروں کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ ہمارے ”سرفروش“قسم کے تجزیہ کار اس خط کے مثبت جواب کے حوالے سے یوں بھی امید سے تھے کہ یہ خط ہمارے کپتان نے امریکی وزیر خارجہ کے پاک بھارت دوروں کے بعد لکھا تھا۔ سب کا خیال تھا کہ امریکہ کی

Read more

بھینسوں کی قسمت کا تارا اوج پر ہے

جب سے ہمیں وزیر اعظم ہاؤس کی شاہانہ اور والہانہ زندگی گزارنے والی بھنیسوں کے کے بارے میں پتہ چلا ہے، ہم رشک و حسد کے احساسات سے مرے جا رہے ہیں۔ کہاں پی ایم ہاؤس کی گراں قدر و عالی نسب 8 عدد بھینسیں اور کہاں بائیس کروڑ اللہ میاں کی گائیں؟ کسی دل جلے نے اپنے دل کےپھپھولے کیا خوب پھوڑے ہیں کہ بدقسمتی سے ہم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں نواز شریف کی بھینسیں، زرداری کے

Read more

خدا سے کیا ستم و جور ناخدا کہیے

میرا مسئلہ نواز شریف ہے، مریم نواز ہے، کیپٹن صفدر ہے، عمران نیازی ہے، وکلا ہیں، ن لیگی ہیں نہ میڈیا سمیت دورسرے فریقین۔ میرا مسئلہ دشنام، انتقام، اتہام اور الزام ہیں۔ اسیران اڈیالہ جیل کی سزاؤں کی معطلی کا فیصلہ آ چکا ہے۔ ن لیگ کی صفوں میں بجا طور پر خوشی کے شادیانے اور پرجوش ترانے بج رہے ہیں۔ ہر کارکن نشاط و مسرت میں ڈوبا ہوا ہے۔ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر اسیران کی رہائی کی

Read more