تین کلو تقریر اور پانچ لیٹر خطاب

تاریخ شناسی اور ”تاریخ سازی“ میں فرق کرنا ہو تو عدنان کاکڑ صاحب سے زیادہ با اعتماد اور بھروسے والا آدمی کون ہو سکتا ہے، جو کئی نو آموز کالم نگاروں کے علاوہ بے شمار کہنہ مشق اور تجربہ کار لکھاریوں کو ”تاریخ سازی“ کرتے بارہا رنگے ہاتھوں پکڑ چکے ہیں۔ ہم بھی ایک دو…

Read more

کچھ عمران خان کی تقریر کے بارے میں۔ ۔ ۔

وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے جنرل اسمبلی میں کی جانے والی تقریر کئی حوالوں سے قابل تعریف تھی۔ اس میں جوش تھا، دردمندی تھی، خلوص تھا، سوز و گداز تھا، دھوم دھام تھی، دھمکی تھی، دھونس تھی، خود اعتمادی تھی، رعب و دبدبہ تھا، طنطنہ تھا، رنجش تھی وغیرہ۔ مسئلہ کشمیر کو بھی اٹھایا گیا مگر تاریخی شعور کے بغیر۔ امت مسلمہ کے جذبات کو دیکھتے ہوئے مذہب اور امت مسلمہ کو ایک بار پھر بیساکھی بنایا گیا۔ لگتا ہے کہ کپتان میں ٹیپو سلطان، حیدر علی، عبدالحمید ثانی، جمال الدین افغانی، علامہ اقبال، ذوالفقار علی بھٹو اور شاہ فیصل کی روحیں حلول کر گئی ہیں۔

Read more

وزیر اعظم کا بیان، ملت اسلامیہ کا سیاپا، ڈان لیکس اور دفاعی بجٹ وغیرہ

وزیراعظم پاکستان نے سعودی عرب اور امریکہ کے اہم دوروں سے قبل کہا ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر سے جو لوگ جہاد کے نام پر لڑنے کے لیے مقبوضہ کشمیر جائیں گے وہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم کریں گے اور پاکستان کے بھی دشمن ہوں گے۔ امریکی صدر نے وزیر اعظم پاکستان…

Read more

کیا نواز شریف سول بالادستی کی جنگ جیت پائیں گے؟

ان دنوں ایک مرتبہ پھر ڈیل اور ڈھیل کی خبریں زوروں پر ہیں۔ نواز شریف کے مخالفین ان پر حکومت سے بارہ ارب ڈالرز کے بدلے بیرون ملک روانگی کا پروانہ حاصل کرنے کی مصدقہ اور مستند خبروں پر مصر ہیں۔ دوسری طرف نواز شریف کے حامی مسلسل کہہ رہے ہیں کہ اب کی بار ڈیل کی حاجت نواز شریف کو نہیں بلکہ لاڈلوں اوران کی کٹھ پتلی حکومت کو ہے۔ جج ارشد ملک کی ویڈیوز آنے کے بعد نواز فیملی اور سابق حکمران جماعت کے خلاف رچائے گئے احتساب ڈرامے کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو گئی ہے۔

Read more

کشمیر امت مسلمہ کا نہیں، کشمیریوں کا مسئلہ ہے

مودی کی طرف سے کشمیر میں آرٹیکل 70 اور 35 اے کے عملی نفاذ کے بعد جب اہل کشمیر کو ان کے گھروں میں محصور کرکے ان پر عرصہٕ حیات تنگ کیا جارہا تھا اور پاکستانی ارباب اختیار غصے اور بے بسی سے پیچ و تاب کھا رہے تھے تو عین انہیں دنوں حرم کے…

Read more

تمہارے باپ کا پیسہ تھا؟

پاکستانی ہی بلکہ عمران خان دنیا کی سیاسی تاریخ کا واحد حکمران ہے جس کی حکومت گرانے کے لیے کسی خارجی تحریک کی نہیں بلکہ اس کے ماضی قریب کے ہزاروں دعوے، وعدے اور بیانات ہی کافی ہیں۔ بقول ناصر کاظمی آج ان وعدوں اور دعووں کا حال یہ ہوچکا ہے میرے دعوے، تیرے وعدے…

Read more

جی کا جانا ٹھہر گیا ہے: تبدیلی تبدیلی کی زد میں

شہر اقتدار کی غلام گردشوں میں تازہ خبروں کے خوشہ چینوں نے باخبر حلقوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ فیصلہ ساز اپنے فیصلے پر سخت نادم و پشیمان ہیں۔ مقتدر حلقوں کے علاوہ سیاسی راہداریوں اور بیورو کریسی کے یخ بستہ ایوانوں میں بھی تبدیلی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور تبدیلی خود…

Read more

رجلِ رشید کی دعا کرنے والوں کو شیخ رشید مل گئے

پاکستان کی تاریخ کے بد تمیز، بد تہذیب اور منہ پھٹ سیاستدانوں کی فہرست مرتب کی جائے تو شیخ رشید کانام سر فہرست ہوگا جو بدزبانی اور دریدہ دہنی میں یکتائے روزگار ہیں۔ حال ہی میں انہیں برطانیہ کے دورے میں اسی گالم گلوچ اور شعلہ نوائی کی وجہ سے چند مہم جوٶں کی طرف…

Read more

وہی منصفوں کی روایتیں، وہی فیصلوں کی عبارتیں

بجا کہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان کے سر جج ارشد ملک کے مس کنڈیکٹ کی وجہ سے جھکے ہوئے تھے مگر زبانیں کیوں خاموش تھیں۔ ضمیر پر بوجھ کا اندیشہ ضرور ہو گا مگر پچیس صفحات پر مشتمل فیصلے یا ان کے چیدہ نکات عدالت مین بتانے میں کیا  امر مانع تھا؟ کیا اب…

Read more

یو ٹرن نہیں اباٶٹ ٹرن

آخر کار وزیر اعظم نے عین توقع کے مطابق آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسوسیع کر دی ہے۔ باخبر حلقوں اور راز درون خانہ سے آشنا لوگوں کے علاوہ سارا پاکستان جانتا تھا کہ جنرل باوجوہ کو توسیع دینے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ جن چند عاقبت نا اندیش اور وقت کی نبض سے نا آشنا سادہ لوح پاکستانی وزیراعظم کے پچھلے بیانات کی بنیاد پر اس توسیع میں شک و شبہ کا اظہار کر رہے تھے کہ شاید کپتان صاحب پہلی اور آخری بار یو ٹرن نہ لے کر اپنے چاہنے والوں کو سرخرو کر لیں مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ مگر ان کو بھی امریکہ میں جنرل صاحب کی غیر معمولی پذیرائی کے مناظر دیکھ کر یقین ہو گیا تھا کہ اب مدت ملازمت میں توسیع یقینی امر ہے کیونکہ امریکہ میں تین ماہ بعد ڈوبنے والے ممکنہ ستاروں کا اس شاہانہ انداز سے استقبال نہیں کیا جاتا۔

Read more