مذہبی روادری کیسے کیسے نبھائی گئی

گرو تیغ بہادر سکھوں کے نویں گرو تھے۔ اورنگ زیب کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ ان کے حالات کے بارے میں ان کے بیٹے گرو گوبند سنگھ کا بیان سکھوں کی مذہبی مجالس میں پڑھا جاتا ہے کہ اورنگزیب عالم گیر بادشاہ وقت تھے۔ کشمیر کے ہندو پنڈتوں کو مذہبی تعصب کا نشانہ بنایا گیا۔ گرو صاحب اپنے وقت بااثر شخصیت تھے۔ پنڈت غریب مسئلہ لے کر ان کے پاس پہنچ گئے۔ گرو کہنے لگے بادشاہ سے کہہ دو ہم گرو

Read more

جنید جمشید بچ گیا ماں!

جنید جمشید کی موت پر مجھے آج زہرہ نگاہ سے سنی ہوئی ایک نظم یاد آ گئی ’’میں بچ گئی ماں‘‘۔ نظم ایک ایسی بیٹی کی زبان میں کہی گئی ہے جسے پیدا ہو کر سماج کی گندگی کی نذر ہونا ہے، مگر جسے ماں اس گندگی کی نذر ہونے سے پہلے ہی اپنی کوکھ میں ضائع کر دیتی ہے۔ اب وہ ضائع ہو چکی بیٹی زہرہ نگاہ کی نظم میں کہہ رہی ہے کہ ’’میں بچ گئی ماں‘‘۔

ایسا لگ رہا ہے کہ جنید جمشید کو بھی اسے تخلیق کرنے والے نے اوپر ہی فضا کی کوکھ میں ضائع کر دیا، ہمارے ہاتھوں مزید گندا ہونے سے پہلے اور ہم ہاتھ ملتے رہ گئے اور وہ اب کہیں بیٹھا کہہ رہا ہے کہ ’’میں بچ گیا ماں‘‘۔

Read more

تخلیقی ذہن پہ تبلیغی اثرات ۔۔۔۔ جنید جمشید اور دوسرے مشاہیر کا نفسیاتی جائزہ

دسمبر 2016 میں جنید جمشید کا اپنی دوسری بیوی نیہا سمیت جہاز کے حادثے میں جاں بحق ہونا بہت سے لوگوں کے لئے شدید صدمے کا باعث بنا۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو جنید جمشید کو اس کی جوانی کے دنوں میں اس کے خوبصورت خد و خال اور میوزک گروپ کی وجہ سے چاہتے تھے۔ وہ بھی تھے جن کا تعلق اس مذہبی جماعت سے تھا جس نے اسے ایک ”تبلغی سکالر“ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کچھ کا تعلق ائر فورس سے تھا جنہوں نے اس کی میت کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ قومی پرچم میں لپیٹ کر اس کی آخری رسومات ادا کیں۔

جنید جمشید کا سوگ منانے والوں میں اس کی پہلی بیوی عائشہ اور اس کے رشتہ دار بھی شامل تھے۔ اور اس ہجوم میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے نے آج سے 20 سال پہلے ہی ایک آرٹسٹ جنید جمشید کا سوگ منا لیا تھا جب اس نے اپنے خوبصورت لمبے بال کاٹ کر، لمبی سی داڑھی رکھ کر اور تبلیغی جماعت میں شمولیت اختیار کر کے اپنا حلیہ بدل لیا تھا۔

ایک دوپہر میرے سماجی کارکن دوست منیر سامی کا فون آیا اور انہوں نے پوچھا کہ ڈاکٹر خالد سہیل کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ معروف و مقبول لوگ مذہبی شدت پسند کیوں بن جاتے ہیں؟

Read more

روحانی بابوں کی تلاش میں ہم پہ جو گزری۔۔۔

بابوں اور روحانیت کے بارے میں کیا لکھا جائے، سب کچھ تو شہاب، اشفاق احمد، واصف علی واصف، ممتاز مفتی، بانو قدسیہ، بابا یحیی لکھ چکے ہیں۔ رہی سہی کسر جاوید چوہدری، اوریا مقبول جان، صفدر محمود، ہارون رشید، عطاءالحق قاسمی، اور بیشتر اردو کالم نگار وقتاً فوقتاً پوری کرتے رہتے ہیں۔ اور ان سب لوگوں کی باتوں کو ناکافی سمجھتے ہوئے بابوں نے خود بھی میدان میں اتر کر کتابیں شائع کرنا شروع کر دی ہیں۔ میرے خیال سے

Read more

عقیدوں کی جنگ سے کلچر کے تصادم تک

حال ہی میں سوئٹزر لینڈ میں دو مسلم لڑکیوں کو شہریت دینے سے انکار کر دیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لڑکیوں نے اسکول میں لڑکوں کی موجودگی میں سوئمنگ پول میں نہانے سے انکار دیا تھا۔ سوئمنگ کی یہ پریکٹس دراصل اسکول کے نصاب کا حصہ ہے۔ لڑکیوں کا موقف تھا کہ ان کا مذہب اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ نا محرم کے سامنے یا ساتھ سوئمنگ پول میں نہایا جائے۔ سوئس حکومت

Read more