پٹرول کی قیمت میں 25 روپے کا اضافہ، ایک بال سے دو وکٹیں

ہمارے ویژنری کپتان نے ایک مرتبہ پھر ماسٹر سٹروک کھیل دیا اور ایک ہی بال سے دو اہداف کو ایسا زور سے نشانہ بنایا کہ لوگ شائیں شائیں کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ شائیں عربی کا لفظ ہے۔ اردو میں اس کا تلفظ کچھ مختلف ادا کیا جاتا ہے۔

بہرحال اس وقت ملک خدا داد کو دو بڑے مسائل درپیش تھے۔ پہلا مسئلہ کرونا کی وبا کا تھا۔ کپتان نے لاکھ سمجھایا کہ ٹک کر گھر بیٹھو۔ اس سے بیماری نہیں پھیلے گی۔ اور یہ بھی بتا دیا کہ کپتان کسی قیمت پر لاک ڈاؤن نہیں کرے گا کیونکہ اس سے غریب بھوکا مر جاتا ہے۔ اشرافیہ نے ٹل کا زور لگا لیا مگر کپتان نے لاک ڈاؤن نہیں کیا۔ ہاں بعض مقامات پر سمارٹ لاک ڈاؤن ضرور کیا۔ عام لاک ڈاؤن اور سمارٹ لاک ڈاؤن میں فرق یہ ہے کہ سمارٹ لاک ڈاؤن صرف سمارٹ لوگ ہی دیکھ سکتے ہیں، یہ عام لوگوں کو دکھائی نہیں دیتا۔ یہ پرانی حکمت ہے۔ اس سے پہلے ایک بادشاہ بھی سمارٹ کپڑے سلوا کر پہن چکا ہے اور جب بھی عقل و دانش کا ذکر ہو تو اسی کی مثال دی جاتی ہے۔

Read more

زلفی بخاری نے دس لاکھ پاکستانی باہر بھیج دیے

خبر رساں ادارے اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کے خصوصی مشیر برائے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں، جناب سید ذوالفقار عباس بخاری نے وزیراعظم کو بتایا کہ گزشتہ اٹھارہ ماہ کے دوران دس لاکھ پاکستانیوں کو باہر بھیج دیا گیا ہے۔ وزیراعظم ایک میٹنگ کی صدارت کر رہے تھے جس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ترغیبات دینے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا تھا۔

اس سے ہمیں ایک دوسری میٹنگ یاد آ گئی۔ ممتاز مورخ شفیق الرحمان اپنی کتاب ”مزید حماقتیں“ میں ”محمد شاہ کا دربار“ کے نام سے ایک فصل میں لکھتے ہیں :۔

مسز محمد شاہ لال قلعے میں اس دھوم دھڑلے سے رہتی ہیں کہ کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ سیاسی دنگے فساد میں ہمیشہ ان کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ملک کی خارجی اور اندرونی پالیسی (جب کبھی اتفاق سے ہوتی ہے ) وہ خود ترتیب دیتی ہیں۔ یہاں تک کہ اعلیٰ حکام کی پوسٹنگ وغیرہ بھی وہ خود ہی کرتی ہیں۔ وہ فارسی، سنسکرت اور مدراسی بول سکتی ہیں لیکن دیگر بیگمات کا خیال ہے کہ وہ سمجھ ایک زبان نہیں نہیں سکتیں۔ (ویسے دیگر بیگمات کا ہمیشہ کچھ اور ہی خیال ہوا کرتا ہے ) ۔ صبح شام شہر کی چیدہ چیدہ خواتین حاضر ہو کر آداب بجا لاتی ہیں اور شہر کی دوسری چیدہ چیدہ خواتین کے بارے میں تازہ ترین افواہیں سناتی ہیں۔

عزیزی محمد شاہ بھی لال قلعے ہی میں وہیں کہیں رہتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ وہ ہندوستان کا بادشاہ ہے لہذا اپنے تئیں شہنشاہ ہند کہلاتا ہے۔ رنگین خواب دیکھتا ہے، رنگین لباس پہنتا ہے، رجعت پسند ادب اور تنزل پسند شاعری کا گرویدہ ہے لیکن حرکتیں سب ترقی پسند کرتا ہے۔

Read more

راجہ کا شیر جاہل نکلا

پیارے بچو، بہت ہی زیادہ پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ اندھیر نگری میں چوپٹ مہاراج نامی ایک راجہ حکومت کرتا تھا۔ راجہ کو جانور پالنے کا بہت شوق تھا۔ لیکن معاملہ یہ تھا کہ اگر وہ بکری یا گائے بھینس پالتا تو پرجا بھد اڑاتی کہ یہ مہاراجہ ہے یا گڈریا؟ آج بکری بھینس پالی ہے تو کل دودھ دہی بیچنا شروع کر دے گا۔ آخر ایک دن چوپٹ مہاراج نے سوچا کہ کیوں نا شیر پالا جائے، راجہ مہاراجہ شیر کی کھال اوڑھتے ہیں تو ان کے رعب میں اضافہ ہوتا ہے، اور اگر ہم کتوں کی بجائے محل کی حفاظت کے لیے بھی شیر رکھیں گے تو سب ہم سے بہت ڈرا کریں گے۔

چوپٹ مہاراج نے ایک خوب پلا ہوا شیر محل میں رکھ لیا۔ اسے خوب کھلایا پلایا جاتا۔ مگر شیر کوئی کتا تو تھا نہیں کہ جو راتب ڈالا جاتا، چپ چاپ کھا جاتا۔ اسے شکار کرنا پسند تھا۔ سو ایک دن وہ محل سے باہر نکلا اور بازار میں بندھی ایک غریب کسان کی بکری مار کر کھا گیا۔ کسان اگلے دن دربار میں فریاد کرتا ہوا آیا کہ ”مہاراج آپ کے شیر نے میری بکری کھا لی ہے۔“

Read more

جاہلوں اور ان کی حکومت میں ایک سیانا، ندیم افضل چن

ڈاکٹر یاسمین راشد فرماتی ہیں ’ہمارا موازنہ باہر کے لوگوں کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔ ہم ایسی قوم ہیں جو بالکل بات نہیں مانتے۔ خاص طور پر لاہوریے ایک علیحدہ مخلوق ہیں اللہ کی۔ وہ تو بالکل کوئی بات سننے کو تیار ہی نہیں ہوتے اور ہر چیز کو بطور تماشا دیکھتے ہیں جو کہ بہت افسوسناک ہے۔ ۔ ۔‘ ان کا مزید کہنا تھا ’بتائیے یہ کوئی بات ہے کہنے والی، ہم کس طرح کے لوگ ہیں۔ ۔ ۔ بالکل جہالت۔ میں تو کہتی ہوں شاید کم ہی کوئی قوم اتنی جاہل ہو گی جس طرح کے ہم لوگ ہیں۔‘

پیر کی رات شو میں ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا ’ہم نے لوگوں کو سمجھانے اور بتانے کی پوری کوشش کر لی کہ شاید سوا مہینے کے اندر عوام ہماری کوئی بات سن لے لیکن اب ہم نے دوبارہ اپنے اوپر ذمہ داری لے لی ہے۔ ۔ ۔ مجھے پتا چلا ہے کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ کیونکہ تحریک انصاف نے کہا ہے ماسک پہننا ہے اس لیے ہم نہیں پہنیں گے۔ ۔ ۔‘

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریک انصاف کی کابینہ ابھی یکم اپریل کو مریخ سے اتری ہے جو انہیں اپنے عوام کا نہیں پتہ؟ اپنے عوام کو نہیں جانتے تو یہ کیسے سیاست دان ہیں۔ پھر تو ان سے بہت بہتر ندیم افضل چن ہیں، جو کرونا پھوٹنے سے پہلے ہی عوامی زبان میں مختیارے کو معاملات کی سنگینی سمجھا رہے تھے۔

Read more

پنجاب میں گورنر لگنے کے لیے اسلامی علوم میں مہارت لازم قرار دی جائے

پنجاب میں ایک نہایت ہی اچھا کام ہوا ہے۔ نوٹیفیکیشن جاری ہوا ہے کہ پنجاب کی تمام جامعات میں لیکچرار طلبا کو ترجمہ کے ساتھ قرآن پڑھائیں گے اور طلبا کے لیے اس لیکچرر میں شرکت کرنا اتنا ہی لازمی ہوگا جتنا ان دنیاوی علوم کے لیکچروں میں ہوتا ہے جن میں مہارت حاصل کرنے کے لیے وہ یونیورسٹی میں داخل ہوئے ہیں۔ اس نیک کام کے روح رواں گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کہا ہے کہ قرآن مجید ہمارے لیے اصل رہنمائی کا ذریعہ ہے قرآن پاک کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی دنیا اور آخرت سنواری جا سکتی ہے۔

ماہ مئی میں گورنر ہاؤس لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیاز اختر، جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اصغر زیدی، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر خالد مسعود گوندل سمیت دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ قرآن پاک ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اب پنجاب بھر کی یونیورسٹیز میں قرآن پاک ترجمہ کے ساتھ پڑھانے کو لازمی قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ قرآن مجید کو ترجمے کے ساتھ پڑھے بغیر ڈگری نہیں ملے گی۔

Read more

غفور صاحب کے گھر کرونا سیزن میں مہمان آیا

غفور صاحب نے فون رکھا اور صدا لگائی ”اجی سنتی ہو، جلدی سے کچھ تیاری کر لو۔ گھنٹے بھر میں بھائی شکور آ رہے ہیں“ ۔

باورچی خانے سے تھال گرنے کی جھنکار سنائی دی اور پھر بیگم غفور اسی تیزی اور طنطنے کے ساتھ دھواں چھوڑتی آگ اگلتی برآمد ہوئیں جیسے شب برات پر شرلی۔ ”کیا کہا؟ کیا آپ نے انہیں مطلع نہیں کیا کہ کرونا پھیلا ہوا ہے اور ہم مکمل طور پر قرنطینہ میں ہیں؟ میل جول سے ہی وائرس پھیلتا ہے۔ شکور بھائی ٹک کر اپنے گھر کیوں نہیں بیٹھتے؟“ ۔

غفور صاحب کچھ ہڑبڑائے۔ شکور بھائی ایک نہایت بذلہ سنج عزیز تھے اور بیگم غفور نے ہمیشہ ان کی آمد پر خوشی ظاہر کی تھی۔ یہ ردعمل ان کی توقعات کے خلاف تھا۔ ”دیکھو بیگم تم جانتی ہی ہو کہ شکور بھائی کتنے ملنسار ہیں۔ لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔ سب کا حال چال پوچھتے ہیں۔ خود چاہے تکلیف میں ہی مبتلا ہوں مگر کسی خوشی غمی کا سنیں تو فوراً پہنچتے ہیں۔ بتا رہے تھے کہ چار گلیاں چھوڑ کر ان کے پھوپھا کے بہنوئی کا گھر ہے، ہفتہ دس دن پہلے ان کے جنازے میں شرکت کی تھی اور آج ان کے دسویں میں آئے ہوئے ہیں اور فارغ ہو کر ہماری خیر خیریت پوچھنے آئیں گے“ ۔

Read more

آصف زرداری اور نواز شریف کا بھیانک منصوبہ

کہا جاتا ہے کہ ایک زرداری سب پر بھاری۔ یہ ایسے ہی نہیں کہا جاتا۔ آصف علی زرداری کی ذہانت کا اعتراف دوست تو کرتے ہی ہیں، دشمن بھی ایول کی پخ لگا کر انہیں جینئیس تسلیم کرتے ہیں۔ بڑے بڑے منصوبہ سازوں کے منصوبے وہ اسی بے نیازی سے تلپٹ کرتے ہیں جیسے شطرنج کا جینئس کیپابلانکا بظاہر کوئی خاص چال چلے ہی شطرنج کی بازی جیت کر اٹھتا تھا اور مخالف ٹاپتا ہی رہ جاتا تھا کہ میرے ساتھ ہوا کیا ہے۔

Read more

’اتحاد، یقین محکم، اور تنظیم‘ سے ’ایمان، اتحاد، تنظیم‘ تک کا سفر

سید اختر وقار عظیم کی کتاب ’ہم بھی وہیں موجود تھے‘ سے اقتباس پیش کرتا ہوں جو ٹی وی کی تاریخ بتاتے بتاتے درمیان میں کہتے ہیں کہ ’قوم کا مزاج کچھ ایسا بن گیا کہ سچ بولنے اور سچ سننے کی عادت نہیں رہی‘ ۔

Read more

قصہ غفور صاحب کے کھانے کا

غفور صاحب کھانے پینے کے معاملے میں نہایت حساس تھے۔ مسالے میں ہلدی کے تین دانے زیادہ گر جائیں تو ان کا پارہ چڑھ جاتا تھا۔ کھانے میں پرفیکٹ مسالے اور بہترین خوشبو ان کی ڈیمانڈ تھی۔ ان کی اماں نے یہی دیکھتے ہوئے ایسی لڑکی ڈھونڈ کر دی جس میں حسن صورت تو کوئی ایسا خاص نہیں تھا مگر کھانا پکاتی تو کھانے والے انگلیاں چاٹتے رہ جاتے۔ غفور صاحب جیسا نازک مزاج شخص بھی ان کے کھانے میں کبھی نقص نا نکال پایا۔ کھانا پکاتیں تو محلے بھر میں خوشبو جاتی، چائے بناتیں تو پہلی چسکی لینے سے پہلے ہی غفور صاحب خوش ہو جاتے۔ پتی، چینی دودھ سب پرفیکٹ ہوتے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ کرونا کی وبا کے باعث دفتروں میں چھٹی ہو گئی اور غفور صاحب بھی گھر میں تڑ گئے۔

گھر میں دوسرا دن تھا کہ ان کی بیگم نے دوپہر کا کھانا سامنے لا سجایا۔ غفور صاحب نے پہلا نوالا لیا اور چنگھاڑے ”یہ کیا ہے؟ کھانے میں نمک ڈالا ہے یا زہر؟ اتنا زیادہ نمک کیسے کوئی کھا سکتا ہے؟ کچھ اور ہے یا یہی زہر کھانا پڑے گا؟“

Read more

اعلیٰ عدالتیں اور کرونا وائرس سے متعلقہ مقدمات

عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ میں کرونا سے متعلق چند مقدمات میں عدالتی کارروائی ہمارے پڑھنے والوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہو گی۔ موقر صحافتی اداروں مثلاً بی بی سی، وائس آف امریکہ، ڈان اور ایکسپریس کی کوریج کی ایک ٹائم لائن پیش ہے۔ اپریل، مئی اور جون کی سماعتوں میں عدالتوں نے وسیع تر ملکی مفاد اور عوامی فلاح و بہبود کی خاطر حکومت کو حکم دیا کہ وہ بیوٹی پارلر اور نائی کی دکانیں بند کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے، شاپنگ مال اور بازار کھولے تاکہ لوگ نئے کپڑے خرید سکیں۔

بتایا کہ مارکیٹس اور کاروباری سرگرمیوں کو ہفتہ اور اتوار بند رکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے، حکومتوں کو سفری پابندیاں لگانے سے منع کیا، حفاظتی کٹ کا مطالبہ کرنے والے ڈاکٹروں کو سوشل میڈیا پر شہرت کا متمنی قرار دے کر جرمانہ کیا۔ یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں کرونا اتنا سنگین نہیں جتنی رقم خرچ کی جا رہی۔ اور اب 8 جون کو حکم دیا کہ ڈاکٹرز کو حفاظتی سامان ہر حال میں دستیاب ہونا چاہیے، ہفتہ اور اتوار کو مارکیٹیں کھولنے کا حکم واپس لے لیا، بتایا کہ کرونا وائرس لوگوں کو مار رہا ہے، اب وقت نہیں رہا، ایک لاکھ سے زائد کرونا مثبت کیس آ گئے ہیں۔

Read more

خوفزدہ عوام اور سمارٹ لاک ڈاؤن

ویسے تو حکومتی پالیسی نہایت مبہم سی ہے اور ہمیں نہیں معلوم کہ نامعولم اشرافیہ، حکومت کو کس قسم کے لاک ڈاؤن پر مجبور کر رہی ہے، لیکن ایک چیز تو واضح ہے کہ حکومت خود بھی سمارٹ لاک ڈاؤن کی خواہاں ہے۔ اس کی حکومتی وضاحت تو ہماری نظر سے ہیں گزری کہ یہ کیا ہوتا ہے، لیکن نریندر مودی کے سمارٹ لاک ڈاؤن سے کچھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کیا ہو گا۔

چوبیس مارچ 2020 کو مودی نے جب ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تو کہا کہ ”جان ہے تو جہان ہے“ ۔ لیکن جب معاملہ لمبا چلتا دکھائی دیا تو سمارٹ لاک ڈاؤن کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا اور کہا کہ ”جان بھی جہان بھی“ ۔ پندرہ اپریل کو مشاورت کے بعد انڈیا میں یہ سمارٹ لاک ڈاؤن شروع کرنے کا اعلان سامنے آیا۔ اس میں مودی سرکار کی پالیسی یہ تھی کہ مختلف علاقوں کا ڈیٹا اکٹھا کر کے انہیں وبا کی شدت کے لحاظ سے سبز، نارنجی اور سرخ علاقوں میں بانٹا جائے اور ہر علاقے میں اس کے درجے کے حساب سے نرم یا سخت پابندیاں نافذ کی جائیں۔

Read more

عظمیٰ خان کا قاتل گلاس اور نواز شریف کا کافی کپ

وائرل ویڈیوز آئیں اور پورا سوشل میڈیا غم و غصے سے بپھر گیا۔ ہر ایک کی ہمدردیاں عظمیٰ خان کے ساتھ ہو گئیں۔ عظمیٰ خان نے بھی بہت شور مچایا کہ ملک ریاض کی امیر کبیر بیٹیوں نے ان کے گھر میں گھس کر انہیں مارا پیٹا، سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں، پچاس لاکھ روپے کا سامان بشمول رولیکس کی گھڑی، دو آئی فون، حتیٰ کہ لنڈے کے سیکنڈ ہینڈ جوتے اور بیگ بھی اٹھا کر لے گئیں۔ گزشتہ جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں عظمیٰ خان کے وکیل میاں علی اشفاق نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ ان کی مؤکلہ کو جان کا خطرہ ہے لہذا حکومت انھیں فوری طور پر سکیورٹی فراہم کرے۔ اس دوران لین دین اور صلح سے متعلق ایک سوال پر عظمیٰ خان نے کہا تھا کہ اگر ایسا کچھ ہوتا تو ”آج یہاں نہ ہوتی“ ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر انہیں بات ختم کرنا ہوتی اور لین دین ہی کرنا ہوتا تو وہ یہ مقدمہ ہی درج نہ کراتیں۔

Read more

ٹھیکیدار کی بیٹی اور اداکارہ کا جھگڑا

سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چل رہا ”ٹھیکیدار کی بیٹی“ ۔ یہ ٹرینڈ ایک ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد شروع ہوا جس میں اداکارہ اور ماڈل عظمیٰ خان اور ان کی بہن سے سے مار پیٹ کی جا رہی ہے۔ اس پر مین سٹریم میڈیا تو بجا طور پر خاموش رہا کہ مار پیٹ کرنے کا الزام ملک ریاض کی بیٹیوں اور گارڈوں پر لگایا جا رہا تھا، مگر سوشل میڈیا نے اتنا پریشر پیدا کیا کہ مرکزی نامزد ملزمہ آمنہ عثمان ملک اپنا موقف دینے پر مجبور ہو گئیں۔

انہوں نے سب سے پہلے تو یہ واضح کیا کہ ان کے شوہر عثمان ملک کا ملک ریاض سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ ان کے قریبی خاندان کا حصہ نہیں ہیں۔ نا ہی ان کا ملک ریاض سے کوئی لینا دینا ہے۔ نیز یہ ان کے شوہر کا گھر ہے جہاں وہ اس کا پیچھا کرتے ہوئے گھسی ہیں اور یہ ان کا حق ہے۔ اور سب سے زیادہ غلطی ان کے شوہر کی ہے، جسے انہوں نے چھوڑ دیا ہے۔

Read more

فواد کا فساد اور مفتی منیب کا حساب

ہر عید رمضان پر چاند دکھائی دینے پر فساد برپا ہوتا ہے۔ ہر بڑے گروہ کو دوسرے گروہ کا چاند دکھائی نہیں دیتا۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی منیب اپنا چاند اس وقت دیکھتے ہیں جب ان سے ایک دن قبل ہی پشاور کی مسجد قاسم خان کے مفتی شہاب الدین پوپلزئی اپنا چاند دیکھ چکے ہوتے ہیں۔ کئی وزیرستانی علما تو مفتی پوپلزئی سے بھی ایک دن قبل چاند دیکھنے میں کامیاب ہو چکے ہوتے ہیں۔ یہ معاملہ یوں ہی خیر خوبی سے چل رہا تھا کہ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری بھی اس دعوے کے ساتھ اس میں کود پڑے کہ چاند اور دیگر خلائی مخلوقات ان کی وزارت کے تحت آتی ہیں اور وہی انہیں ٹھیک سے دیکھنے پر قادر ہیں۔

Read more

وہ نائی تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے؟

کئی لوگ ہم جیسے بھی ہوتے ہیں جو سال بھر میں عید کے عید نہاتے اور بال کٹواتے ہیں۔ اگر عید سے قبل وہ بال کٹوانے کی شش ماہی مہم پر بازار جائیں اور نائی کی دکان بند پائیں تو ان کا کیا حال ہو گا؟ ہمارے لیے تو یہ بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔ اگر نائی ہی نا ہو تو کیا آپشن باقی رہ جاتی ہے؟ کتنے لوگ ایسے ہیں جو اپنی اپنی بیگم کے ہاتھ میں استرا اور قینچی تھما کر اس کے سامنے سر جھکا سکتے ہیں؟ اردو میں تو شوہر کو کہا بھی خصم جاتا ہے جس کو حسبِ رواج بغیر اعراب کے لکھا جائے تو اس کا مطلب دشمن نکلتا ہے۔ کون ذی شعور شخص ایسا ہے جو دشمن کو قینچی استرا تھما کر جان اس کے ہاتھ میں دینے کا حوصلہ یہ رجز پڑھتے ہوئے رکھتا:۔

ہم نے ان کے سامنے اول تو ”استرا“ رکھ دیا
پھر کلیجا رکھ دیا دل رکھ دیا سر رکھ دیا

Read more

ارطغرل کی حلیمہ سلطان کی بے پردہ تصویر

ارطغرل ایک لہو گرما دینے والا بہترین ڈرامہ ہے جس نے تیونس کے ساحل سے لے کر کاشغر تک ایک ولولہ طاری کر دیا ہے۔ نوجوان اب بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے کو بے قرار پھر رہے ہیں تاکہ دوبارہ وہ عظمت رفتہ پائی جا سکے جس نے کئی صدیوں تک یورپ کو لرزہ براندام رکھا۔ اس میں جہاں ارطغرل غازی کا کردار اہم ہے وہیں حلیمہ سلطان بھی بہادری، جفاکشی، وفاداری، عفت اور گھڑسواری کا ایک نمونہ بن کر لہو گرم کر رہی ہیں۔

نسیم حجازی مرحوم کے بعد سے ایسا کردار کسی نے تخلیق نہیں کیا جو عظمت رفتہ کو یوں خیالات کی دنیا میں زندہ جاوید کر دے۔ ڈرامے کی ہر قسط دیکھ کر پوری پاکستانی امت کو یقین ہوتا جا رہا تھا کہ اگر ان کرداروں نے اپنی پاکبازی، جرات، بہادری، اسلام سے محبت اور بے داغ کردار سے امت کو +ان سب خوبیوں کی محبت میں مبتلا کر دیا ہے، تو وہ یہ کردار ادا کرنے کے سبب خود بھی ایک نہایت عابد و زاہد مسلمان بن چکے ہوں گے۔

Read more

راجہ داہر کی پریشانی اور منتری بدھیمن کا سرسبز دنبہ

نجومی نے کہا کہ اس کے حساب کے مطابق مایین کو کبھِی اروڑ کے قلعے سے باہر نہیں جانا چاہیے اور اس سے صرف اسے شادی کرنی ہو گی جو پورے ہندوستان کا مہاراجہ ہو گا۔
اب داہر پریشان ہو گیا کہ کیا کروں۔ بہن کو رائے بھاٹیہ کے ساتھ رخصت کرتا ہوں تو اپنا تخت بھی ساتھ رخصت ہوتا ہے۔ اس نے راجہ چچ کے زمانے سے چلے آ رہے منتری بدھیمن سے مشورہ کیا جس کی عقل و دانش کا زمانہ معترف تھا۔

بدھیمن نے کہا کہ بادشاہ تو سلطنت کے لئے بھائیوں اور عزیزوں کی جان لے لیتے ہیں۔ بادشاہ اگر بادشاہی سے کنارہ کر لے تو پھر عام آدمیوں کے برابر ہے۔ اب نجومی نے یہ حکم لگایا ہے تو بہن سے خود شادی کرو اور بیوی بنا کر تخت پر بٹھاؤ۔

Read more

محمد بن قاسم اور لڑکی کا خط

ہم نے تاریخ وغیرہ کی الگ سے تو کوئی کتابیں نہیں پڑھیں، لیکن معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان میں اتنی تاریخ بہرحال ہم نے پڑھی ہے کہ ہمیں علم ہے محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کیوں کیا تھا۔ ہوا یہ تھا کہ سراندیپ میں مسلمان اور عرب تاجر رہتے تھے۔ سراندیپ کے راجہ نے حجاج کے پاس بہت سے ہیرے جواہرات، حبشی غلام اور خوبصورت لونڈیاں تحفے میں بھیجیں۔ انہیں جہازوں پر کچھ مسلمان عورتیں بھی سوار ہو

Read more

آئیے دکھی انسانیت کے مسیحا مارکس کو یاد کرتے ہیں

مارکس سے کون واقف نہیں ہے۔ اس نے گزشتہ صدی میں وہ شہرت پائی کہ چہار دانگ عالم میں اس کا نام ہوا۔ اب وہ پرانا ہو گیا ہے تو لوگوں نے اسے پڑھنا چھوڑ دیا ہے اور اس کے نظریات کو ترک کر دیا ہے۔ ہمیں علم ہوا کہ پانچ مئی کو بھی مارکس نامی ایک شخص کا یوم پیدائش ہے تو ہم نے مناسب سمجھا کہ اپنے پسندیدہ مارکس کے چند ایسے اقوال کا اردو میں ترجمہ کر

Read more

تحریر کا عنوان اور ڈیجیٹل جوتا چھپائی کی رسم

ادبی، اخباری اور ڈیجیٹل دنیا بہت مختلف ہیں۔ جس نے پلے سے پیسہ خرچ کر کے اخبار یا رسالہ خرید لیا وہ اسے چاٹنے پر مجبور ہے۔ جو ادیب یا کالم نگار بڑا نام بن گئے ان کا نام ہی بہت ہے۔ نام کو دیکھ کر ہی بندہ پڑھ لیتا ہے کہ کیا لکھا ہے۔ ویسے بھی ایک اخبار میں دس کالم ہوتے ہیں۔ ایک جریدے میں دس سے بیس مضمون ہوتے ہیں۔ ڈائجسٹ کا بھی یہی حال ہے۔ جس

Read more

افسوس ”جاہل سندھیوں“ نے لاٹ صاحب کو بیمار کر ڈالا

سندھ کے لاٹ صاحب عمران اسماعیل نے 27 اپریل کو اپنے ٹویٹر پر اعلان کیا تھا کہ ان کا کرونا ٹیسٹ مثبت آ گیا ہے۔ آج ٹی وی کے مطابق انہوں نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اندرون سندھ کے لوگ پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ میرے دورے کے دوران وہ میرے بہت قریب آ گئے جس کی وجہ سے مجھے کرونا لگ گیا۔ (آج ٹی وی پر 28 اپریل کو ساڑھے آٹھ بجے چلنے والے ٹکرز کے مطابق

Read more

مولانا خادم رضوی، مولانا طارق جمیل اور علامہ ضمیر اختر نقوی

عصر حاضر میں تین علما نے جو عروج پایا ہے وہ قابلِ دید ہے۔ اپنے دلچسپ اور معلوماتی بیانات سے یہ علما سوشل میڈیا پر ہر وقت چھائے رہتے ہیں۔ ان کے اثر کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی وجہ سے اردو زبان کو بعض نئے محاورات اور روزمرہ نصیب ہو گئے ہیں۔ مرشد خادم رضوی اپنی ولولہ انگیز تقاریر میں اس دنیا کے معاملات کا ذکر کرتے ہیں۔ ادھر کوئی فرعونیت دکھائے تو

Read more

مولانا طارق جمیل اور کرونا وائرس نے بتا دیا بے حیا کون ہے

جب مولانا طارق جمیل نے اپنے مشہور زمانہ بیان میں فرمایا کہ ”22 کروڑ لوگوں میں سچے کتنے ہیں؟ 22 کروڑ لوگوں میں دیانت دار کتنے ہیں؟ میری قوم جھوٹ چھوڑ دے۔ میری قوم بد دیانتی چھوڑ دے۔ میری قوم بے حیائی چھوڑ دے“ تو سب لوگ دائیں بائیں دیکھنے لگے کہ کس کا ذکر ہو رہا ہے۔ جھوٹوں کی اس قوم میں مولانا ہی سچے آدمی ہیں، سچ کے سوا کچھ نہیں بولتے، ظاہر ہے کہ انہیں اپنے ارد

Read more

پشین کو کرونا کی سزا بدست کیسکو

روایت ہے کہ گزرے وقتوں میں ایک فارسی سپیکنگ صوفی صاحب ہوتے تھے۔ ان کا کمال یہ تھا کہ ایک وظیفہ پڑھ کر کسی بھی مردے کو قبر سے نکال کر اس سے مذاکرات کر سکتے تھے، اور مذاکرات کے خاتمے پر دوسرا وظیفہ پڑھ کر اسے واپس قبر میں بھیج دیتے تھے۔ ان صوفی صاحب کا ایک خلیفہ ان سے بہت اصرار کرتا تھا کہ پیر صاحب، یہ وظیفے مجھے بھی سکھا دیں۔ میں گڑے مردے اکھاڑ کر ان

Read more

مولانا طارق جمیل کہتے ہیں کہ جھوٹوں کی قوم کا سردار سچا ہے

مولانا طارق جمیل نے چندہ جمع کرنے کی ٹی وی میراتھون پر ایک فکر انگیز اور رقت آمیز خطاب کیا۔ مولانا کی اس خوبی کا اعتراف ان کے مخالف بھی کرتے ہیں کہ وہ حق بیان کرتے ہوئے جھجکتے نہیں ہیں خواہ اس کی زد میں حاکمِ وقت آئے یا ان کی اپنی ذات۔ انہوں نے اپنی قوم کی پارسائی کی قلعی کھولتے ہوئے فرمایا کہ ”اب مجھے بتائیں ہمارے سارے اینکرز بیٹھے ہیں، سارے ہمارے وزیراعظم بیٹھے ہیں، ہم

Read more

پابندی مت لگائیں، مساجد میں جانے کا پاس جاری کریں

گزشتہ چند دنوں سے بے بس حکومت اور طاقتور علما کے درمیان رسہ کشی چل رہی ہے۔ حکومت کہتی ہے کرونا پھیل رہا ہے، ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ زیادہ پھیلاؤ کی صورت میں علاج فراہم کر سکیں، علما کہتے ہیں کہ تمہاری جرات کیسے ہوئی کہ مساجد میں باجماعت عبادات سے روکو، وہ بھی رمضان جیسے مبارک مہینے میں جب عوام کا رجحان نیک اعمال کرنے اور راہ خدا میں خرچنے کی طرف ہوتا ہے۔ سارے سال کا

Read more

تیل کی قیمت منفی ہونے کے پیچھے ایک پاکستانی کا ہاتھ ہے

آپ میں سے بہت سے لوگ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ تیل کی قیمت کیوں منفی ہوئی؟ نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تیل کی منڈی میں اگر کوئی کمپنی مئی کے مستقبل کے سودوں میں ایک بیرل تیل بیچتی ہے تو اسے خریدار کو اپنے پلے سے 30 ڈالر بھی ساتھ دینے پڑ رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ تیل کی ریفائنریاں خام تیل خرید کر اس کا پٹرول، ڈیزل

Read more

لاک ڈاؤن اعلامیہ: حکومت کا نہلا اور علما کا دہلا

گزشتہ دنوں عجیب فساد مچا ہوا تھا۔ حکومت نے لاک ڈاؤن کا کہا تو علما کی ایک بڑی تعداد نے کراچی پریس کلب میں اس کے خلاف بیان دے دیا۔ تحریری بیان میں تو ”مطالبہ“ کیا گیا تھا کہ مساجد کا لاک ڈاؤن نا کیا جائے مگر تقریری بیان میں اعلان کر دیا گیا کہ ہم حکومت کو خاطر میں نا لاتے ہوئے لاک ڈاؤن ختم کر رہے ہیں، مساجد میں باجماعت نماز بھی ہو گی اور تراویح بھی۔ اس

Read more

ہمیں تہذیب کا ایک بڑا چیلنج درپیش ہے

مشہور تاریخ دان آرنلڈ جوزف ٹائن بی کا کہنا ہے کہ ہر تہذیب کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہوتا ہے۔ وہ اس چیلنج میں جیت جائے تو عروج پا لیتی ہے ہار جائے تو خاک ہو جاتی ہے۔ تہذیب نسلی یا ماحولیاتی عناصر کی وجہ سے عظمت نہیں پاتی بلکہ مختلف چیلنجوں جیسا کہ مشکل زمینی حالات اور دوسری تہذیبوں سے مقابلے وغیرہ کا کامیابی سے سامنا کرنے کے نتیجے میں طاقت پاتی ہے۔ ٹائن بی کہتا ہے کہ

Read more

علمائے کرام کی جرات کو سلام

کل کراچی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان صاحب نے حکومتی پابندیوں کو خاطر میں نا لاتے ہوئے واشگاف الفاظ میں فرمایا کہ آج سے مساجد پر لاک ڈاؤن کا اطلاق نہیں ہوگا اور رمضان المبارک کے دوران مساجد میں نماز تراویح اور اعتکاف کا سلسلہ جاری رہے گا۔ مفتی تقی عثمانی صاحب نے بھی علما کا مشترکہ اعلامیہ پڑھتے ہوئے فرمایا کہ ”وبا سے متاثر ہونے والے اور لاک ڈاؤن سے بیروزگار ہونے والے سب لوگوں

Read more

پیر صاحب کرپٹ نہیں تھے

پیر پور کے لوگ نہایت سیدھے سادے تھے۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ ان پر خدا کے کسی نیک بندے کی نظر کرم ہو جائے تو مالی پریشانی، تنگ دستی، فصل کی بربادی، مقدمے بازی، جنات اور آسیب سے چھٹکارا، شادی بیاہ میں بندش، محبوب کی بے رخی، اور نزلے زکام سے لے کر کینسر جیسی بیماری تک سے ایک تعویذ یا دم انہیں نجات دے دیتا ہے۔ لیکن ان دنوں وہ کچھ پریشان تھے۔ فصل کو بے موسمی بارش

Read more

گیان کی شکتی اور شکتی کا گیان

کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں چار دوست ہوا کرتے تھے۔ تین دوست نہایت پڑھے لکھے تھے۔ ایک جین مت کا گیانی تھا۔ دوسرا بدھ جوگی تھا۔ تیسرا ہندو اچاریہ تھا۔ تینوں پنڈتوں نے اپنے مذہب کی کتابوں، جاپوں اور منتروں میں کمال پایا تھا۔ اشلوک پڑھ کر کچھ کا کچھ کر دیتے تھے۔ لیکن دنیاوی معاملات میں ذرا بھگوان لوک تھے۔ چوتھا دوست نرا جاہل تھا۔ لیکن بدھی مان تھا۔ عقل سلیم خوب رکھتا تھا۔ تو ہوا یہ کہ

Read more

چین کی ترقی کا راز 400 کرپٹ ٹائیگر وزیر پکڑنا ہے

کپتان نے اکتوبر 2019 کے شروع میں چین کا دورہ کیا۔ ادھر چین یعنی ملک ختا میں صدر ژی جن پنگ حکمران ہیں جو کرپشن کے خلاف زبردست مہم چلائے ہوئے ہیں۔

کپتان نے بیجنگ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ”صدر ژی کی صلیبی جنگوں میں سے ایک کرپشن کے خلاف ہے اور میں نے سنا ہے گزشتہ پانچ برسوں میں وزیر کے لیول کے چار سو افراد کو کرپشن کے الزام میں سزا سنا کر جیل بھیجا گیا ہے“۔ کپتان نے اپنی تمنا ظاہر کی کہ ”میری خواہش ہے کہ کاش میں صدر ژی کی مثال کی تقلید کر سکتا اور پاکستان میں پانچ سو کرپٹ افراد کو جیل میں ڈال سکتا“۔

Read more

کسی بھوکے کو راشن دو گے تو سیدھے جیل جاؤ گے

لاک ڈاؤن کی وجہ سے کھاتے پیتے لوگ جان بچا کر اپنے اپنے گھروں میں قلعہ بند ہو گئے۔ اس فیصلے کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ وہ اتنے تعلیم یافتہ تھے کہ جان سکتے کہ کرونا ایک موذی وائرس ہے اور اس سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ میل جول اور گھومنا پھرنا کم کر دیا جائے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ان کے نعمت خانے اور فرج میں اتنا سامان اور بینک اکاؤنٹ میں اتنے پیسے تھے کہ انہیں کھانے پینے کی طرف سے بے فکری تھی۔ مگر ان لوگوں کے لے لاک ڈاؤن ایک بڑی مشکل بن کر ابھرا جو روز کے روز کماتے اور کھاتے تھے۔ جب دکانیں اور چھابڑیاں بند کروا دی گئیں تو ان کی روزی تو گئی۔ جب تعمیراتی اور دوسرا کام بند ہوا اور کام دینے والا طبقہ اتنا خوفزدہ ہوا کہ اپنے گھریلو ملازمین سے بھی بچنے لگا تو وہ انجانوں کو مزدوری کے لیے اپنے گھر دفتر میں کیوں گھساتا؟

Read more

کرپٹ وزیر کابینہ میں رکھنے کا فائدہ

ملک نیمروز میں جب پیر تجلی شاہ کی حکومت قائم ہوئی تو ان کی ساری توجہ اس بات پر مرکوز تھی کہ ملک سے سرکاری عمال کی رشوت ستانی کا خاتمہ ہو اور ان کی حکومت شفافیت کی ایک مثال بن کر ابھرے۔ اس سلسلے میں انہوں نے بہت سختی سے کام لیا۔ پرانے بادشاہوں کے زمانے میں جو امیر وزیر تھے، تجلی شاہ انہیں کرپشن کا واہمہ تک ہونے پر بندی خانے میں ڈال دیتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بہت جلد عمالِ حکومت کرپشن سے اتنا گھبرانے لگے کہ تمام کام دھندا چھوڑ کر فارغ بیٹھنے میں عافیت جاننے لگے۔

لیکن ایسا نہیں تھا کہ پیر تجلی شاہ کے دل میں رحم کا جذبہ نہیں تھا۔ وہ ان عظیم بادشاہوں میں سے تھے جو آدمی دیکھ کر فیصلہ کیا کرتے تھے کہ اس کے قصور پر سزا دینی ہے یا چشم پوشی سے کام لیتے ہوئے درگرز سے کام لینا ہے۔ اغیار کے حق میں عموماً پہلا کلیہ استعمال کیا جاتا تھا لیکن جن افراد کی صلاحیتوں کے تجلی شاہ ذاتی طور پر معترف تھے کہ ان کے ساتھ دن رات کا اٹھنا بیٹھنا تھا، انہیں سدھرنے کا موقع بار بار دیا جاتا تھا۔

Read more

ملک نیمروز کے سردار کو بیماری نہیں لگے گی

روایت ہے کہ ایک مرتبہ ملک نیمروز کے بادشاہ نے نے اپنا دربار لگایا اور سب امرا وزرا کے سامنے ایک گمبھیر مسئلہ رکھا۔ شمالی سرحد کے دور دراز کے گھنے جنگلات میں ڈاکوؤں اور باغیوں نے سر اٹھایا ہوا تھا، نا صرف یہ کہ وہ گینڈوں کے سینگ اور ہاتھیوں کے دانت کاٹ کر بیچ دیتے تھے، بلکہ ملک نیمروز کے تجارتی قافلوں کو بھی لوٹ لیتے تھے اور کوئی سرکاری اہلکار ملتا تو اسے اغوا کر کے حکومت سے تاوان طلب کیا کرتے تھے۔ یہ باغی نہایت ہی شریر تھے۔ تاوان کے لیے کسی کو اغوا کرتے تو اسے مارتے نہیں تھے، ایک انجیکشن دکھا کر کہتے کہ تاوان کا بندوبست کرو ورنہ تمہیں ایڈز کا انجیکشن لگا دیں گے، پھر سسک سسک کر مرنا۔

Read more

شوگر ایک موذی شے ہے

شوگر ایک موذی شے ہے۔ اردو میں اس کا لفظی ترجمہ چینی بنتا ہے۔ اس بیماری میں مبتلا شخص کا جسم آہستہ آہستہ گھلنے لگتا ہے، وزن کم ہوتا رہتا ہے۔ بھوک غیر معمولی طور پر زیادہ ہو جاتی ہے۔ جسم کی توانائی کی ضرورت پوری کرنے کی خاطر جسم چربی کے علاوہ عضلات بھی کھانے لگتا ہے۔ بیرونی حملہ آوروں کے خلاف دفاعی نظام موثر نہیں رہتا۔ کوئی زخم لگ جائے تو ناسور بن سکتا ہے۔ بلکہ زخم لگے بغیر جسم میں خود بخود پھوڑے پھنسیاں بنتے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ زیادہ بگاڑ پیدا ہونے کی صورت میں جان بچانے کی خاطر شوگر کی علت میں مبتلا جسمانی عناصر کو کاٹ کر پھینکنا بھی پڑ جاتا ہے

Read more

کرونا کے دنوں میں فراڈیوں کی عید

ہم پاکستانی چونکہ دنیا کی ذہین ترین قوم ہیں اس لیے مشکل ترین حالات میں بھی اپنے فائدے کے لیے مواقع پیدا کر لیتے ہیں۔ اب یہی دیکھیں کہ دنیا سہمی جا رہی ہے کہ کرونا کی وجہ سے معیشت تباہ و برباد ہو جائے گی اور لوگوں کی آمدنی کے ذرائع ختم ہو جائیں گے، اور ہم نے اس وبا کو ہی چار پیسے بنانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ اسلام آباد سے کرونا کے نام پر فراڈ کی دو خبریں ملی ہیں۔

ایک گروہ نے اپنا نمبر مشتہر کیا ہوا ہے کہ جسے راشن چاہیے اس نمبر پر فون کرے اور مفت راشن لے۔ ضرورت مند فون کرتے ہیں تو وہ لمبی چوڑی لسٹ بتاتے ہیں کہ یہ دیں گے وہ دیں گے۔ آٹھ دس ہزار کا راشن انگلیوں پر گنا دیتے ہیں اور فون کرنے والے کا دل تسلی پاتا ہے اور شکرگزاری کے احساس سے بھر جاتا ہے۔ اس کے بعد مزید فرماتے ہیں کہ راشن بالکل مفت ہے لیکن اسے بھیجنے کے لیے کورئیر کا خرچہ (بلٹی) آپ کو دینا ہو گا، اس لیے ایک ہزار روپے ایزی پیسہ کر دیں۔ لوگ کر رہے ہیں۔ اس کے بعد نا راشن کا کچھ پتہ چلتا ہے نا ہزار روپلی کی کوئی خبر ملتی ہے۔

Read more

پیر تجلی شاہ کی حکومت

کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں ملک نیمروز پر ایسے بادشاہ حکومت کیا کرتے تھے جنہیں عوام کی فلاح کا خیال نہیں تھا۔ وہ اپنا خزانہ اپنی عیاشی اور بادشاہ گروں کی خوشنودی کے لیے لٹاتے تھے۔ بادشاہ گروں کا کھیل بھی عجیب تھا، دو ڈھائی سال کے لیے کسی شہزادے کو تخت پر بٹھاتے تھے اور اس کے بعد بندی خانے میں ڈال دیا کرتے تھے اور کسی دوسرے شہزادے کے سر پر تاج رکھ دیا کرتے تھے۔ بادشاہ ان کے آگے چوں بھی نہیں کر سکتا تھا، جو کرتا اس کا چوں چوں کا مربہ بنا دیا جاتا تھا۔

ایک وقت آیا کہ عوام ان بادشاہوں سے اکتا گئے۔ اس پر بادشاہ گروں نے فیصلہ کیا کہ عوام کی روحانیت میں کچھ کمی آ رہی ہے، اس لیے کسی پیر فقیر کو حکومت دینی چاہیے کہ ایسا درویش اپنی ذات سے بے نیاز ہوتا ہے اور خلق خدا سے مانگ تانگ کر روکھی سوکھی کھانے کی وجہ سے ان سے رابطے میں بھی رہتا ہے اور ان کا دکھ درد بھی سمجھ سکتا ہے۔ مزید یہ توقع بھی تھی کہ ایک پیر تو غریب ترین طبقات سے بھی نذرانہ وصول کر لیتا ہے تو وہ امیروں کو کہاں بخشے گا، اور یوں محصولات کی ایسی ریل پیل ہو گی کہ خالی خزانے بھر جائیں گے۔

ایک بڑی خانقاہ کے خلیفہ کو بادشاہ بنا کر تخت پر بٹھا دیا گیا اور اس نے تجلی شاہ کا لقب اختیار کیا۔ یہ لقب تھا بھی برحق، بیٹھے بیٹھے اس کے خالی دماغ میں کسی اچھوتے خیال کی ایسی برق چمکتی تھی کہ دشمن حیران اور دوست پریشان ہو جاتے تھے۔

Read more

بھیا ڈھکن فسادی نے گاڑی خریدی

بھیا ڈھکن فسادی تڑاک سے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئے۔ ان کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔ اندر آتے ہی بولے ”بس آج تو فوراً ہی منہ میٹھا کرا دو۔ ہم تو فسق و فجور میں پڑی ہوئی اور لہو و لعب میں ڈوبی ہوئی اس قوم سے مایوس ہو چلے تھے لیکن شکر ہے کہ ابھی بھی اس تن مردہ میں کچھ جان باقی ہے“۔

یہ کہہ کر وہ فوراً فرج پر ٹوٹ پڑے اور جلد ہی وہ میز پر بیٹھ کر چار کلو آموں کو تن تنہا کھانے میں مشغول ہو گئے۔

”کیا ہوا بھیا۔ کچھ ہمیں بھی تو پتہ چلے؟ “
”میاں تمہارے بھائی نے آخر کار گاڑی خرید ہی لی۔ اور اس پر پہلی ہی سواری بہت مبارک ثابت ہوئی“

Read more

بھیا ڈھکن فسادی نے وبا میں ولیمہ کیا

عاجز یعنی بھیا ڈھکن فسادی ایک وقفے کے بعد دوبارہ اپنی ڈائری سمیت حاضر ہے۔ ہمارے منجھلے سالے کی شادی تھی کہ یہ نامراد کرونا وائرس ٹوٹ پڑا اور حکومت نے شادی ہال بند کرنے کے ساتھ ساتھ گھروں میں بھی شادی بیاہ اور دیگر تقریبات پر پابندی عائد کر دی۔ یعنی ہماری بھاری سلامی ضائع ہونے کا مکمل بندوبست کر دیا گیا تھا۔ ہمارا تجربہ ہے کہ ولیمے میں بندہ دل کھول کر کھا لے تو سلامی کا غم جاتا رہتا ہے بلکہ حساب کیا جائے تو الحمدللہ الٹا ہمارا پلڑا بہت بھاری نکلتا ہے۔ خدا نے جوانی دی ہے اور ہاضمہ بھی تو کفران نعمت کیوں کیا جائے؟

Read more

بٹ صاحب کو بھوک لگی ہے

ہم سیاحت کے شوق میں ہر برس کہیں نا کہیں جا نکلتے ہیں۔ پہاڑ, دریا دور دیس بہت دیکھ لیے، اب گزشتہ چھے ماہ سے ہم مختلف ہسپتالوں کی سیاحت کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں اس مرتبہ ایک نہایت اچھے سرکاری ہسپتال جا نکلے۔ گو ہم نے اپنا تعارف نہیں کروایا تھا مگر ڈاکٹر بھی ہماری شخصیت کے ایسے گرویدہ نکلے کہ کہنے لگے آپ کو علیحدہ کمرے میں نہیں جانے دینا، یہ ہماری آنکھوں کے عین سامنے وارڈ میں فروکش ہوں جہاں آپ کی مسلسل دید سے ہمارے کلیجے میں ٹھنڈک پڑے۔

Read more

معصوم ماریہ بی، کرونا کک اور پنجاب پولیس

مشہور و معروف فیشن ڈیزائنر ماریہ بی کے ساتھ پنجاب پولیس نے کچھ اچھا نہیں کیا۔ چغتائی لیب والوں نے انہیں بتایا تھا کہ ماریہ بی کے گھر میں کرونا کا ایک کنفرم مریض ہے تو اس میں پریشانی کی بھلا کیا بات تھی؟ سکون سے وقت لے کر ہفتے دس دن بعد چلے جاتے اور خیر خیریت پوچھ لیتے۔ یہ کیا کہ فون پر رابطہ کیا اور ماریہ بی کے یہ بتانے پر کہ ان کا کک تو اپنے گاؤں جا چکا ہے، رات بارہ ساڑھے بارہ بجے چھاپا مار کر ان کے شوہر طاہر سعید کو ہی گرفتار کر لیا اور پرچہ کاٹ دیا کہ اس بندے نے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے پر بیماری چھپا کر حکام کو مطلع کرنے کی بجائے اسے بذریعہ بس وہاڑی بھجوا دیا اور مزید کئی انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے، اب اس ملازم کا پورا گاؤں لاک ڈاؤن ہو گا۔

Read more

ہم جھگڑا پسند کرنے والا ہجوم ہیں

ہم دوسروں کے موقف کو ہمدردی سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا اس موقف کی بنیاد پر اس سے لڑنا ہے یا اس کے ساتھ مل کر لڑنا ہے۔

فرض کریں کہ سڑک پر ایک مرد اور عورت بحث کر رہے ہیں۔ عورت بات کاٹ کاٹ کر مرد کو زچ کر دیتی ہے اور مرد اشتعال میں آ کر اس سے گالم گلوچ شروع کر دیتا ہے تو وہاں موجود تمام خواتین و حضرات اس عورت کی حمایت میں لڑنے مرنے کو تیار ہوں گے اور بعید نہیں کہ عورت سے بدتمیزی کرنے پر مرد کا ملیدہ بنا دیا جائے۔ ہماری روایت یہی ہے کہ مجمع عورت کو کمزور سمجھ کر مرد کے مقابلے میں اس کا ساتھ دیتا ہے۔

اگر یہی منظر ٹی وی پر دکھائی دے، عورت کا نام ماروی سرمد ہو اور مرد کا خلیل الرحمان قمر تو اکثریت قمر پرست دکھائی دے گی۔

Read more

پہلے یہ تو طے کر لیا جائے کہ عورت انسان ہے بھی یا نہیں

گزشتہ دو چار برس سے خواتین کے ایک گروہ نے حقوق پانے کے نام پر دن منانا شروع کر دیا ہے۔ پہلے تو ذی شعور لوگوں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ انہیں جتنے حقوق درکار تھے وہ انہیں دیے جا چکے ہیں، مزید کی توقع مت رکھیں اور انہیں نظرانداز کر دیا۔ مگر وہ مارچ کرتی رہیں۔ پھر ان کا خوب مذاق اڑایا گیا کہ گھر میں بیٹھی عورت ملکہ ہوتی ہے اور گلی میں نکلنے والی بہت بری۔ مگر وہ مارچ کرتی رہیں۔ پھر انہیں خوب ڈرایا دھمکایا گیا کہ انہیں کسی قیمت پر مارچ نہیں کرنے دیا جائے گا، مگر وہ مارچ کرتی رہیں۔ اور اب مخالفین خود اس دن گھر بیٹھنے کی بجائے اپنی عورتیں گلی میں لا کر عورت مارچ کرنے لگے ہیں گو ان کے حقوق کا سیٹ مختلف ہے۔

اب یہ معاملہ تو طے ہوا ہے کہ دونوں گروہ اس بات پر متفق ہیں کہ عورتوں کو کسی قسم کے حقوق کی ضرورت ہے، مگر اس بات پر اتفاق نہیں ہو پا رہا ہے کہ وہ حقوق کیا ہوں گے جو انہیں دیے جائیں۔ اس لئے پہلے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کن حقوق کی بات کی جا رہی ہے۔ عورت کے حقوق کا تعین کرنے سے پہلے یہ تو طے کر لیا جائے کہ ہمارے معاشرے میں عورت انسان ہے بھی یا نہیں

Read more

مولوی، عورت مارچ اور کرونا وائرس

جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کے علما و فضلا اس مرتبہ عورت مارچ کے خلاف مولوی مارچ کی تیاری پکڑ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سکھر سے جنگ شروع ہو گی۔ عورت آزادی مارچ کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس برس سکھر سے مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر سکھر میں جمعیت علمائے اسلام نے عورت آزادی مارچ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے آئین قانون اور مشرقی روایات کے خلاف قرار دیتے ہوئے روکنے کا اعلان کیا ہے۔ مولانا راشد محمود سومرو نے تو یہ بھی بتایا ہے کہ ”میرا جسم میری مرضی“ جیسی مہم کے ذریعے ملک کو سیکولر ریاست بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

Read more

ایک ظالم بادشاہ کی عبرتناک شکست اور گدھے کی ولولہ انگیز تقریر

پیارے بچو۔ بہت پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ملک نیمروز پر ایک نہایت ظالم بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اسے خون بہانے کا بہت شوق تھا۔ اڑوس پڑوس کی ریاستوں پر لشکرکشی کرتا رہتا تھا اور مفتوحہ شہروں میں کھوپڑیوں کے مینار بناتا تھا۔ جن دنوں تفریح کا موڈ ہوتا تو چھٹی لے کر کسی جنگل میں شکار کھیلنے نکل جاتا۔

ایک مرتبہ اس رعایا نے فریاد کی کہ قریبی جنگل میں ایک آدم خور شیر آ گیا ہے جو ان کے ڈھور ڈنگر مارنے کے بعد اب انسانوں پر بھی حملے کرنے لگا ہے۔ یہ سنتے ہی اس ظالم بادشاہ نے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ جنگل کا رخ کیا۔ اعلان تو اس نے شیر مارنے کا کیا تھا مگر ہاتھی گھوڑا بکرا خرگوش جو بھی سامنے آیا، اس نے مار ڈالا۔ دس ہرن کھاتا اور سو ہرنوں کو محض خون بہانے کے شوق میں ہلاک کر ڈالتا۔

Read more

پولیو کے بعد کرونا ویکسین کی اسرائیلی سازش

اسرائیلی لیب میگال نے کرونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس لیب کی فنڈنگ اسرائیلی محکمہ زراعت اور سائنس نے کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ چار برس سے مرغیوں کے زکام کی ویکسین تیار کرنے پر کام کر رہی تھی کہ اسے اچانک یہ پتہ چلا کہ ناول کرونا وائرس تو بالکل مرغیوں کے زکامی وائرس کی طرح کا ہے۔ میگال نے ویکسین کو انسانوں کے جسم کے مطابق بنایا اور اب وہ اپنی ویکسین کو نوے دن میں مارکیٹ میں لا سکتے ہیں۔

ظاہر ہے کہ یہ بھی یہود و نصاریٰ کی گزشتہ سازش یعنی پولیو ویکسین کی طرح مسلمان مجاہدین کو قوت مردمی سے محروم کرنے کی بھیانک کوشش ہو گی۔ اس خدشے کو اس امر سے بھی تقویت ملتی ہے کہ پولیو کی ویکسین کی طرح یہ بھی قطروں کی صورت میں پلائی جائے گی۔

Read more

قلندر تو ہار جیت سے بے نیاز مست فقیر ہوتے ہیں

پانچواں برس ہے کہ بعض لوگ مسلسل لاہوری قلندروں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ وہ میچ کیوں نہیں جیتتے۔ ان ناقدین کو قلندروں کی روایات کا ہی علم نہیں ہے۔ انہیں کیا پتہ کہ ایک قلندر کی نگاہ میں فتح کیا ہوتی ہے اور شکست کا پیمانہ کیا ہے؟ قلندر بالکل ملنگ ہوتے ہیں۔ انہیں ہار جیت کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ اپنی دنیا میں مگن رہتے ہیں۔ نہ کسی کا فائدہ کرتے ہیں اور نہ نقصان۔ وہ تو سب کا بھلا چاہتے ہیں۔ اب ایک میچ میں دوسری ٹیم کا نقصان کرنے کی بجائے اس کا بھلا چاہا جائے تو میچ جیتنے کا تو سوال ہی نہیں، ہارا ہی جائے گا۔ اسی وجہ سے لاہور قلندر ہمیشہ ہارتے ہیں۔

Read more

کبھی نہ پکڑا جا سکنے والا باغی پکڑا گیا

دونوں ہاتھ نیچے لٹکائے ہوئے وہ طمانیت بھرے انداز میں ایسے کھڑا ہوتا تھا جیسے پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے بعد کھوکھے پر پان لگوا رہا ہو۔ لیکن اس کے ہاتھوں پر بندھے باکسنگ کے دستانے کچھ اور چغلی کھا رہے ہوتے تھے۔ مقابل باکسنگ کی دنیا کے ایسے نام ہوتے تھے جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ان سے زیادہ قاتل مکا مارنے والا چشم فلک نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ باکسنگ کے تجزیہ کار

Read more

بے نیازی سے مسکراتی حکومت اور روتے بسورتے عوام

ایک تصویر دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ ایک بڑھیا رو پیٹ رہی ہے کہ اس کے بچے کی جان بچائی جائے۔ غم سے اس کی بری حالت ہے۔ شدت غم سے اس نے اپنی آخری امید یعنی وفاقی حکومت کے وزیر مملکت برائے صحت، ڈاکٹر ظفر مرزا کے دونوں بازو پکڑ رکھے ہیں اور ان سے اپنے بچے کی چین سے واپسی کے لئے فریاد کر رہی ہے۔ ڈاکٹر صاحب ایک دانا شخص ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ صدمے اور غم کے شکار افراد کو کیسے ٹریٹ کیا جاتا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ خواہ وہ لپٹ ہی کیوں نہ جائیں، ان کی طرف دیکھا ہی نہ جائے تاکہ وہ شرمندہ نہ ہوں۔ دوسری بات یہ کہ زمانہ قدیم سے حکما بتاتے آئے ہیں کہ ہنسی سے بہتر کوئی دوا نہیں۔ ڈاکٹر بے نیازی سے کام لیتے ہوئے اس روتی ہوئی غمزدہ ماں کو یہی بہترین دوا دے رہے ہیں۔

Read more

تانیہ ایدروس کا ڈیجیٹل نیا پاکستان اور سوشل میڈیا کا انتقال

گوگل کی تانیہ ایدروس کے نئے ڈیجیٹل پاکستان میں ٹویٹر، فیس بک، یوٹیوب گوگل پلس، ڈیلی موشن، انسٹاگرام، سنیپ چیٹ، پنٹرسٹ، لنکڈ ان، ریڈٹ، اور ٹک ٹاک وغیرہ نہیں ہوں گے۔ نیا قانون تو یہی کہتا ہے۔ بلکہ یہ سب کیا، ڈیجیٹل اخبارات اور جرائد وغیرہ بھی نہیں ہوں گے یا پھر ان کے مضامین میں عوامی کمنٹس نہیں ہوں گے کیونکہ نئے قوانین میں سوشل میڈیا کمپنی کی تعریف میں کسی بھی ایسے مواصلاتی چینل کو شامل کیا گیا ہے جس میں کمیونٹی ان پُٹ، انٹرایکشن، اور مواد کو شیئر کرنے کا نظام ہو۔ یعنی یا تو ویب سائٹس اپنے صارفین کے کمنٹس بند کر دیں ورنہ وہ سوشل میڈیا قرار پائیں گی اور انہیں قرار واقعی سزا ملے گی۔ یہ ایک اچھا اقدام ہے کیونکہ اس سے ہم اسرائیلی اور انڈین سازشوں سے بچ سکیں گے کیونکہ وہی الٹے سیدھے کمنٹس کر کے معصوم پاکستانیوں کو بہکاتے ہیں۔

Read more

کیا نواز شریف ثواب سمجھ کر خود کو اذیت پہنچاتے ہیں؟

مسیحی راہبوں کا ایک طبقہ ایسا ہے جو خود کو اذیت پہنچاتا ہے تاکہ یسوع مسیح کے دکھ درد کا کچھ حصہ اسے ملے اور اسے مکتی ملے۔ ڈان براؤن کے بیسٹ سیلر ناول ”ڈاونچی کوڈ“ میں ولین ایک ایسے ہی مسیحی طبقے ”اوپس ڈے“ کا ممبر بتایا گیا تھا جو خود کو کوڑے مار کر اور ران پر خاردار زنجیر پہن کر خون نکالتا تھا تاکہ جسمانی خواہشوں اور اور گناہوں سے نجات ملے اور وہ مکتی پائے۔

نواز شریف کا فلسفہ بھی ایسا سا ہی ہے۔ وہ خود کو ایذا پہنچانے کا خود بندوبست کرتے ہیں۔ اب یہ دیکھ لیں کہ عمران خان کی کیسی بڑھ چڑھ کر حمایت کی۔ شوکت خانم کے لئے کیسے زمین دی۔ کیسے عمران خان کو سیاست میں لانے کی کوشش کرتے رہے۔ پھر جب عمران خان سیاست میں آ گئے تو وہی نواز شریف کو سب سے زیادہ مشکل میں ڈالنے کا سبب بنے۔

Read more

نواز شریف کے ضمانت پر رہا ہونے کے بعد جرائم میں اضافہ

ہر ذی شعور شہری کی طرح آپ بھی نوٹ کر رہے ہوں گے کہ موجودہ حکومت تن من دھن سے نئی ریاستِ مدینہ بنانے کے مشن میں لگی ہوئی ہے لیکن صورت حال دن بدن بگڑتی جا رہی ہے بلکہ اب تو بعض لوگ یہ شبہ بھی ظاہر کرنے کہ حکومت ہے بھی یا نہیں۔ ہم نے غور کیا ہے کہ جرائم اور معیشت کی صورت حال میں نمایاں ابتری اس وقت آنی شروع ہوئی جب نواز شریف کو اڈیالہ جیل سے کوٹ لکھ پت جیل منتقل کیا گیا اور حالات اس وقت کے بعد سے تو بہت زیادہ بگڑ گئے جب سے انہیں ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔

Read more

پشاور بس منصوبے پر کسے ٹانگا، کسے سکھایا جائے گا؟

کچھ بدخواہوں نے شرارت کی کوشش ضرور کی مگر ایک مرتبہ اساطیری چیف جسٹس ثاقب نثار نے نیب کو منع کر دیا کہ بی آر ٹی سے دور رہو، اور آج موجودہ سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کے حکم کو رد کرتے ہوئے ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے سے روک دیا ہے۔

پختونخوا حکومت کی قسمت ہی بہت اچھی ہے۔ مگر ہم ٹھہرے سدا کے قنوطی، نہ جانے کیوں لگ رہا ہے کہ اس چھبیس کلومیٹر لمبے چھپر پر کچھ امیروں وزیروں کو خوب دھو کر ٹانگا جائے گا اور کچھ کو سکھایا جائے گا۔

Read more

کرونا وائرس کا علاج انہوں نے ہم سے سیکھا ہے

تھائی لینڈ میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ شدید بیمار افراد کے علاج میں بعض ادویات استعمال کرنے سے ابتدائی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ہسپتال میں پھیپڑوں کے علاج کے ماہر ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ جن مریضوں کو دس دن پہلے کرائے گئے ٹیسٹ میں کورونا وائرس سے متاثرہ قرار دیا گیا تھا، ادویات پلانے کے دو دن بعد ان کے ٹیسٹ میں کورونا وائرس نہیں آیا۔

ظاہر ہے کہ دیگر سائنسی اور طبی ایجادات اور تحقیقات کی مانند اس ریسرچ کا ماخذ بھی ہمارے حکیم اور سائنسدان ہی ہوں گے۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ اہل مغرب نے راکٹ سائنس کا علم ابن خیام سے سیکھا تھا، ڈیجیٹل کیمرے اور کمپیوٹر کا ماخذ ابن الہیثم اور خوارزمی کے ایجاد کردہ علوم ہیں، اور طب کا تو یہ معاملہ ہے کہ جب یورپ ظلمت و گمراہی کا شکار تھا تو ابن سینا جیسا حکیم القانون فی الطب جیسا شاہکار لکھ رہا تھا۔

Read more

سی آئی اے جاسوس کیسے بھرتی کرتی ہے؟

آرٹ بکوالڈ ایک اہم کالم نگار سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے سیاسی تبصرے کٹیلے طنز کا شاہکار ہوتے تھے۔ یہ تحریر ان کے ایک کالم ”کمپنی کبھی جھوٹ نہیں بولتی“ کا ترجمہ مع کچھ تحریف ہے۔ سی آئی اے کو عرف عام میں ”کمپنی“ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ یہ بات دلچسپ ہے کہ آرٹ بکوالڈ نے سنہ اسی کی دہائی میں حساس ادارے سی آئی اے کو ”محکمہ زراعت“ کا نام دیا تھا۔

Read more

جب سکولوں میں تصوف پڑھائیں گے تو ٹیچر مرشد کہلائے گا یا پیر؟

وطن عزیز میں انتہا پسندی اور عدم برداشت بہت زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ جنرل مشرف کے زمانے میں امریکی ماہرین نے بتایا تھا کہ مذہبی انتہا پسندی کا یہ علاج ہے کہ صوفیت کو فروغ دیا جائے۔ جنرل مشرف کی بدقسمتی کہ ان کے سر پر کسی پیر کا ہاتھ نہیں تھا اس لئے وہ اس پراجیکٹ میں ناکام رہے مگر اب وزیراعظم عمران خان نے نہ صرف یہ کہ ایک نجی روحانی یونیورسٹی بنانے کا اعلان کر دیا ہے بلکہ تعلیمی اداروں میں صوفیت کی تعلیم دینے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

Read more

ڈاکٹر عاصم کا حور بنانے والا جادوئی ٹیکا

ہم حیران ہوتے تھے کہ ڈاکٹر عاصم کے نام میں ایسے کیا گن ہیں کہ سب ان سے یوں الفت رکھتے ہیں اور ان کی قدر کرتے ہیں۔ پھر کل وزیراعظم عمران خان نے بھی جب کراچی میں ”کامیاب نوجوان“ پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عاصم کی تعریفیں کیں تو اصل بات کھلی۔ پتہ چلا کہ ڈاکٹر عاصم کے پاس ایسا ٹیکا موجود ہے جو لگانے کے بعد ایک عام سی ارضی نرس بھی جنت کی حور دکھائی دینے لگتی ہے۔ گمان ہے کہ کپتان کی یہ تقریر سنتے ہی شوکت خانم ہسپتال پر خواتین نے دھاوا بول دیا ہو گا کہ انہیں بھی وہ ٹیکا فراہم کیا جائے جو لگتے ہی ایک عام سی خاتون بھی حور بن جاتی ہے۔

Read more

قیامت خیز ہے سرخی یہ پانوں کی لب تر میں

پرانے زمانے میں پان کی سرخی سے ہی شاعروں کے دل تباہ و برباد ہو جاتے تھے۔ اب یہ فریضہ لپ سٹک نے سنبھال لیا ہے۔ ویسے بھی آج کی ماڈرن حسینہ کے لئے اپنے بیگ میں ننھی سی تین انچ کی لپ سٹک اٹھائے پھرنا آسان ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ ایک ہاتھ میں بیگ اور دوسرے میں پاندان اٹھائے پھرے اور جب بھی لبوں کی سرخی تازہ کرنی ہو تو پہلے پاندان کھول کر سروتا سنبھالے اور چھالیہ کترنے سے لال لال لہرانے کی مہم کا آغاز کرے۔

Read more

کیا ”میرے پاس تم ہو“ انگریزی فلم انڈیسنٹ پروپوزل کا چربہ ہے؟

بعض لوگ یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ پاکستانی ڈرامہ تاریخ کے سوپر ڈوپر ہٹ ڈراموں میں سے ایک ”میرے پاس تم ہو“ درحقیقت ایک انگریزی فلم ”انڈیسنٹ پروپوزل عرف غیر اخلاقی پیغامِ شادی“ کا چربہ ہے۔

Read more

مکار این جی اوز، صالح مذہبی تنظیمیں اور مدرسے میں بچے کا ریپ

دسمبر کے آخری عشرے میں ایک خبر میڈیا پر چلی کہ مانسہرہ میں ایک مدرسے میں ایک بچے کو مبینہ طور پر سو مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے، اس کی حالت غیر ہو گئی ہے اور آنکھوں سے بھی خون رس رہا ہے۔ بچے کے لواحقین نے مدرسے کے استاد قاری شمس الدین کو مجرم ٹھہرایا۔ بچہ ہسپتال میں ہوش میں آیا تو اس نے بھی یہی کہا۔

قاری شمس الدین غائب تھے۔ پھر وہ جمعیت علمائے اسلام کے مانسہرہ کے امیر مفتی کفایت اللہ کے پاس سے برآمد ہوئے۔ مفتی صاحب نہایت ناراض تھے۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ مدرسے میں ایک بچہ شمس الدین بھی ہے، اس کی متاثرہ بچے سے لڑائی ہو گئی تھی اس لئے چوٹ شوٹ لگ گئی ہو گی۔ بچے کے والدین کو قانون کا پتہ نہیں اس لئے ایسی ایف آئی آر درج کروا دی ہے۔ یعنی سزا دینی ہے تو اس دوسرے بچے کو دے دو۔ ظاہر ہے کہ مدرسے کے متعلق منفی خبر آئے تو ذمہ دار ایک ہی ہوتا ہے۔ مفتی کفایت اللہ نے بتا دیا کہ ”یہ سب کچھ این جی اوز کی ایما پر کیا جا رہا ہے“۔

Read more

فقیر حکمران اورنگ زیب کیسے گزارا کرتا تھا؟

کپتان پہلا درویش حکمران نہیں ہے جو فقر میں بادشاہی کرتا ہے۔ اس سے پہلے اورنگ زیب عالمگیر نے بھی کشورِ ہندوستان کا تخت سنبھالا اور تاج سر پر رکھا تو فقر اختیار کر لیا، اور ایسے بادشاہت کی کہ اس کے مخالف بھی اس کی تعریف کرنے پر مجبور ہوئے۔ خیر ہمارے خونی لبرل تو دیسی مورخین کی بات نہیں مانیں گے، انہیں مشہور برطانوی مورخ مورخ سٹینلے لین پول کی کتاب ”اورنگ زیب اور مغل سلطنت کا گلاؤ سڑاؤ“ سے اورنگ زیب کی عظمت کا حال بتاتے ہیں۔

Read more

نواز شریف نے کم تنخواہ میں کیسے گزارا کیا؟

وزیراعظم عمران خان صاحب نے مہنگائی کا شکوہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تنخواہ میں ان کا گزارا نہیں ہوتا۔ وزیراعظم کی مارچ 2019 کی تنخواہ کی رسید اخبارات میں شائع ہوئی تھی جس کے مطابق انہیں تقریباً دو لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ ملتی ہے۔ اسمبلی کے اجلاس وغیرہ کے سلسلے میں کچھ اوپر کے پیسے بھی ملتے ہیں۔ کوتاہ بین لوگ کہہ سکتے ہیں کہ وزیراعظم کی گاڑی اور جہاز کا خرچہ ریاست دیتی ہے، بجلی اور فون کا بل حکومت ادا کرتی ہے، دوا دارو مفت ہے، کچن بھی سرکاری کھاتے سے چلتا ہے، تو یہ دو لاکھ تو نری بچت ہیں۔ مگر کیا ان معترضین نے کبھی یہ سوچا ہے کہ مہنگائی کتنی زیادہ ہو گئی ہے اور اوپر کے دیگر خرچے کتنے ہوتے ہیں؟

Read more

اس شہر میں بھی فرشتوں پر نیت خراب ہوتی ہے

مقدس صحیفوں میں لکھا ہے کہ فسق و فجور میں مبتلا ایک شہر میں ایک پیغمبر رہتے تھے۔ پیغمبر کے پاس انسانی روپ میں چند فرشتے آئے تو شہر کے بدکار لوگوں کی نیت ان پر خراب ہوئی۔ پیغمبر نے لاکھ منع کیا اور بدکاروں کو توبہ کے لئے کہا مگر ان کی نیت خراب ہی رہی۔ نتیجہ یہ کہ شہر پر قہر الہی آگ کی صورت برسا اور وہ نابود ہوا۔ اب آخری پیغمبر کو رخصت ہوئے کوئی ڈیڑھ ہزار برس گزر گئے ہیں۔ اب شہروں پر آگ کی صورت عذاب نہیں برستے۔ اب ننھے فرشتوں کو بدکاروں سے بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ اب ہمارے اس شہر میں بھی فرشتوں پر نیت خراب ہوتی ہے۔

Read more

پاکستانی شہری اب کرپشن سے پریشان نہیں ہیں

جب کپتان نے کرپشن کے خاتمے کے نعرے کے ساتھ کارزارِ سیاست میں قدم رکھا تھا تو کسی کو یقین نہیں آیا تھا کہ اتنے زیادہ کرپٹ معاشرے میں کوئی شخص کرپشن کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ مگر یہ دنیا دار لوگ بھول گئے کہ جس برگزیدہ حکمران کے سر پر بزرگوں کا ہاتھ ہو وہ ناممکن کو ممکن بنا کر دکھا دیتا ہے۔ جب کپتان وزیراعظم بنا تو پونے دو کروڑ ووٹروں نے اسے کرپشن ختم کرنے کے نام پر ووٹ دیا، اور آج کپتان کی حکومت کو دو برس بھی نہیں گزرے کہ صرف دو فیصد پاکستانی اب کرپشن کو اپنی بڑی پریشانی قرار دیتے ہیں۔ یہ نتائج کسی بکی ہوئی مقامی ایجنسی کے نہیں ہیں بلکہ دنیا کی تیسری بڑی مارکیٹنگ ریسرچ کمپنی اپسوس نے پاکستان کے 120 سے زائد شہروں اور دیہات میں سروے کے بعد یہ ڈیٹا فراہم کیا ہے۔

Read more

کیا نون لیگ میں شریف خاندان کا متبادل لیڈر ابھر رہا ہے؟

مسلم لیگ نون کے ایکسٹینشن کے حق میں غیر مشروط ووٹ دینے کے فیصلے نے اس کے حامیوں کو بہت مایوس کیا۔ گزشتہ دو برس سے نواز شریف کا بیانیہ تھا کہ ”ووٹ کو عزت دو“ مگر جب ووٹ کو عزت دینے کے لئے سٹینڈ لینے کی باری آئی تو پارٹی نے اپنی عزت دے دی۔ اس کے بعد نون لیگ کے حامیوں میں تو مایوسی دکھائی دی ہی تھی مگر اس کی لیڈر شپ میں قربانیاں دینے والے افراد بھی مایوس دکھائی دیے۔

Read more

سیاسی ماہرین کے بارے میں ایک ولایتی لطیفہ اور دیسی سبق

روایت ہے کہ سات سمندر پار امریکہ میں ایک مردک کہ نام اس کا جیک تھا، اپنی گاڑی میں ایک دور دراز کے دیہاتی علاقے سے گزر رہا تھا۔ سڑک کے ارد گرد بڑے بڑے فارم کہ امریکہ میں رانچ کہلاتے ہیں، دکھائی دے رہے تھے مگر دور دور تک آدم تھا نہ آدم زاد۔ اچانک گاڑی نے چند جھٹکے کھائے اور بند ہو گئی۔ جیک اپنی قسمت کو کوستا ہوا باہر نکلا۔ پھر جیسا کہ مرد ذات کا طور ہے، گاڑی کا بونٹ کھول کر انجن کو اس طرح گھورنے لگا جیسے اس کی نگاہوں کی تاب نہ لا کر متاثرہ پرزہ خود پکار اٹھے گا کہ ہاں میں ہوں مجرم۔

Read more

ایران سے سیکھے شیوہ مردانگی کوئی

آپ نے داستانِ امیر حمزہ پڑھ رکھی ہو تو آپ بخوبی واقف ہوں گے کہ غیرت مند پہلوان دشمن پر وار کرنے سے پہلے اپنا نام بتاتے تھے اور کچھ اس طرح کے جملوں سے لڑائی کا آغاز کرتے تھے ”منم لندھور بن سعدان، اے ملعون، میرا وار آیا ہی چاہتا ہے، بچ سکتا ہے تو بچ جا، پھر نہ کہنا کہ خبر نہ کی“۔ اس کے بعد ڈز سے اپنا گرز مار دیتے تھے۔ بلکہ جو زیادہ بڑے چیمپئن ہوتے تھے وہ پہلے دشمن کو وار کرنے کی دعوت دیتے تھے کہ لا جو حربہ ہے وہ دکھا اور اس کے بعد اپنا وار کیا کرتے تھے۔

Read more

ایران کا حملہ اصلی تھا یا نمائشی؟

گزشتہ دنوں امریکی صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں ایرانی سٹریٹجی کے معمار جنرل قاسم سلیمانی کو میزائل حملے میں ہلاک کر دیا۔ جنرل قاسم کو ایران میں ایک ہیرو کی حیثیت حاصل تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ اتنے اہم تھے کہ گزشتہ امریکی صدور ان کے کارناموں پر دانت تو خوب پیستے تھے مگر ان کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے انہیں چھونے کا حوصلہ نہیں کر پاتے تھے۔ ایران میں بجا طور پر اس قتل کے خلاف بے

Read more

بہادر نواز شریف قول کا پکا نکلا

لگتا ہے کہ اس کلجگ میں ہر لیڈر ہی دھوکے کا پتلا ہے، مکر کا مادہ گوندھ کر اس کا خمیر بنایا گیا ہے، فریب کا خمیر اس کی ذات کا جزو ہے، نام جمہوریت کا لیتا ہے مگر آمریت کا خوگر ہے۔ ایسے میں اگر نواز شریف جیسا نمایاں لیڈر نہ ہوتا تو قوم مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتی۔

Read more

نابینا افراد کے مسائل کا ایک حل

آپ اپنی آنکھیں بند کیجئے اور صرف ایک لمحے کے لئے سوچیئے کہ آپ کو دنیاکیسی دکھائی دے رہی ہے۔ یقیناً اس لمحے میں رنگ، روشنی، پھول اور منظر سب گم ہو جائیں گے۔ اس لمحے صرف اندھیرے کی کیفیت آپ کو درپیش ہوگی۔ البتہ آپ کو آوازیں زیادہ واضح سنائی دیں گی۔ صرف قدموں کی چاپ ہی آپ کے لئے لوگوں کی شناخت کا ذریعہ ہوگی۔ لوگوں کے لہجے کی تبدیلی آپ کو زیادہ محسوس ہو گی۔ پنکھے کے

Read more

کہیں حریم شاہ نے تو اپوزیشن لیڈروں سے ہاں نہیں کروا دی؟

اپوزیشن پارٹیاں بہت پکی تھیں کہ وہ ووٹ کو عزت دلوا کر رہیں گی۔ اس مقصد کی خاطر میاں نواز شریف اپنی محبوب اہلیہ کے آخری لمحات میں ساتھ نہیں رہے اور مریم نے اپنی ماں کے پہلو کی بجائے جیل کی کوٹھڑی قبول کی۔ سال ڈیڑھ سال نواز شریف نے صعوبتیں برداشت کیں مگر ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ لگاتے رہے۔ آصف علی زرداری اور فریال تالپور نے فالودے والے سکینڈل سے لے کر لچھے والی باتوں تک

Read more

کاکڑ، دنبہ اور وسی بابا

گزشتہ دنوں ید بیضا کاکڑ میری بیماری کی خبر سن کر اپنے ساتھ وسی بابے نان کاکڑ کو لے کر عیادت کے لئے آیا تھا۔ گو میں نے عیادت قبول نہیں کی اور واشگاف الفاظ میں بتا دیا کہ عیادت کے لئے آتے ہوئے ڈرائی یا کم از کم تازے فروٹ لانے لازم ہوتے ہیں اس لئے پشین سے آنے والے تیمار دار کے ساتھ اگر چلغوزوں کی بوری یا قندھاری اناروں کی پیٹی نہ ہو تو مجھ جیسا مریض اپنی صحت نہایت گری ہوئی محسوس کرتا ہے۔

Read more

لاہور رنگ روڈ پر مسافروں سے فراڈ

ہم ہمیشہ داد دیا کرتے تھے کہ بنانے والوں نے لاہور رنگ روڈ بھی کیا خوب بنائی ہے اور اب داد دے رہے ہیں کہ اسے چلانے والے بھی کیا خوب بے وقوف بنا رہے ہیں۔ آپ نہایت خوش خوش گھر سے نکلتے ہیں اور ائیرپورٹ یا ڈیفینس کا رخ کرتے ہیں۔ یہ سوچ کر کہ آپ خوش ہی رہیں، نہر اور مال روڈ کے رش سے بچنے کی خاطر لاہور رنگ روڈ کا رخ کرتے ہیں کہ چلو زیادہ

Read more

ایک سارنگی نواز ساحر اور بے حیا چیتے کی کہانی

کہتے ہیں کہ میاں تان سین کے زمانے میں ایک ایسا سارنگی نواز ہوا کرتا تھا جس کا جواب نہیں تھا۔ وہ ایک سر چھیڑتا اور اسے سننے والا بے اختیار وجد میں آ کر اس کا حکم بجا لانے پر مجبور ہو جاتا تھا۔ کوئی انسان ایسا نہیں تھا جو اس کی آواز کے سحر سے بچ سکتا ہو۔ جس تک اس کا پیام پہنچتا وہ ڈھیر ہو جاتا یا پھر کہیں دور دیس بھاگ جانے میں عافیت پاتا۔

Read more

جب پیار کیا تو ڈرنا کیا

پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ملک ہندوستان ایک بہت رعب دبدبے والا بادشاہ ہوا کرتا تھا جس کی وسیع سلطنت کنیا کماری سے راس کماری تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کا نام جلال الدین محمد اکبر تھا۔ وہ بہت کم عمری میں ہی بادشاہ بن گیا۔ پھر اپنے اتالیق خانخاناں بیرم خان کو کامیابی سے حج پر بھیجنے کے بعد وہ بااختیار بادشاہ بھی بن گیا۔ وہ نہایت دانش مند تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا اتالیق حج سے واپس نہیں آیا، بلکہ راستے میں ہی خدائے بزرگ و برتر کے پاس پہنچ گیا۔

Read more

وکلا کے سب ہی دشمن ہوئے کھڑے ہیں

وکلا نے پی آئی سی پر حملہ کر دیا۔ ڈاکٹروں کی پارٹی میں گیٹ کریش کر کے شامل ہوئے اور مریضوں سے بھی ملے۔ وکلا کی مانیں تو وہ تو محض مریضوں کی عیادت کر رہے تھے لیکن میڈیا کی رپورٹس اور سوشل میڈیا کی ویڈیوز دکھا رہی ہیں کہ وہ ان کا علاج کر رہے تھے۔ بہت سے مریض تو چند منٹ کے اندر اندر ہی ڈسچارج ہو گئے۔

حکومت نے کئی گھنٹے تو پی آئی سی کی حفاظت کی طرف توجہ نہیں دی۔ وکلا کئی میل پیدل چل کر وہاں پہنچے۔ ہنگامہ ہوا۔ جب میڈیا پر شور مچا تو پھر ہی حکومت کو خیال آیا کہ امن امان قائم رکھنا اس کی ذمہ داری ہے۔ پھر پہلے تو ہسپتال میں ہی پولیس نے آپریشن شروع کر دیا۔ اور آج اطلاعات مل رہی ہیں کہ وکلا کو گھروں کے علاوہ کچہریوں سے بھی پکڑا جا رہا ہے۔ وکلا کے مطابق جس نے بھی کالا کوٹ پہنا ہو وہ پکڑا جا رہا ہے۔ ان کی گاڑیوں کے شیشے توڑے جا رہے ہیں اور انہیں موٹرسائیکلوں سے گھسیٹا جا رہا ہے۔

Read more

دفاعی منصوبہ بندی

جوانوں کے چہرے جوش سے تمتما رہے تھے۔ ان میں سے کچھ اپنے ہتھیار سہلا رہے تھے، کچھ فخر سے سر بلند کیے کھڑے تھے اور اپنے کمانڈر کی طرف پرعزم انداز میں دیکھ رہے تھے کہ وہ حکم دے اور وہ بجا لائیں۔ ان کی برسوں کی سروس کے بعد آخر وہ لمحہ آ گیا تھا جس کے وہ منتظر تھے۔ آخر کمانڈر گویا ہوا۔

Read more

ہاتھیوں کو ڈرانا بند کرو

روایت ہے کہ ایک ریل گاڑی میں ایک نہایت ہی دانشور دکھائی دینے والا نوجوان کاغذ پر اپنا کاروبار شروع کرنے کا عظیم الشان منصوبہ تشکیل دے رہا تھا۔ ساتھ ہی کھڑکی کے ساتھ بیٹھے ایک نہایت دانشور دکھائی دینے والے بزرگ بھی کاغذی صنعت کا استعمال کر رہے تھے۔ مگر وہ کاغذ پر کچھ لکھنے کی بجائے ایک صفحہ پھاڑتے، اس کے ننھے ننھے پرزے کرتے، اور پھر ان پرزوں کو کھڑکی سے باہر اچھال دیتے۔ نوجوان نے شیخ سعدی کی گلستان بوستان پڑھ رکھی تھی اور بلاوجہ ہی ہر بزرگ کو دانا سمجھ کر حکمت سیکھنے تل پڑتا تھا۔

Read more

طلبہ یکجہتی مارچ میں حجاب والی طالبات پر اعتراض

کل ملک بھر کے اہم شہروں میں طلبہ یکجہتی مارچ ہوا۔ اس میں مختلف طلبہ تنظیمیں شریک ہوئیں مگر بحیثیت مجموعی اس میں سرخ رنگ غالب تھا۔ اس مارچ میں طالبات کی شرکت نمایاں تھی اور ان طالبات میں دوپٹے یا حجاب سے سر ڈھانپنے والیاں بھی شامل تھیں۔ اس پر بعض حلقوں کی طرف سے اعتراض سامنے آیا کہ یہ کیسی سرخ ہیں جو حجاب پہنتی ہیں؟

ان معترضین کو یہ جان کر شدید صدمہ ہو گا کہ ہماری تاریخ کے ایک بڑے مشہور کمیونسٹ لیڈر حسرت موہانی تھے۔ وہ پکے کمیونسٹ ہونے کے علاوہ اتنے پکے مسلمان تھے کہ مولانا کہلاتے تھے اور انہوں نے تیرہ حج کر رکھے تھے۔

Read more

ایکسٹینشن اور بابو کا انتقام

ہر خاص و عام اس امر سے آگاہ ہے کہ گزشتہ سال ڈیڑھ سال میں بیوروکریسی کو خوب خوفزدہ کیا گیا ہے۔ افسر پہلے پہل تو چھٹی لے کر گھر بیٹھے پھر ایسی پوسٹنگ کروانے لگے جہاں دن بھر مکھیاں مارنے کے سوا کوئی کام نہ ہو، اور پھر اب گو سلو ہر چلنے لگے ہیں یعنی دفتر تو آتے ہیں مگر کوئی عملی کام کرنے کی بجائے دن بھر ایک دوسرے سے فائلوں کا تبادلہ کرتے اور کام لٹکاتے ہیں۔ ترقیاتی بجٹ خرچ نہیں ہوتا اور سال کے آخر میں واپس کر دیا جاتا ہے۔

Read more

بذریعہ لیدر فوراً امیر ہونے کا آزمودہ نسخہ

کیا آپ ایک سفید پوش نوجوان ہیں جس کی خواہش ہے کہ اسے طبقہ امرا میں سے ایک سمجھا جائے تاکہ کچھ بھرم بنا رہے؟ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ جب لوگوں کے ہجوم میں جائیں تو آپ کی شخصیت، تصویر یا ویڈیو دیکھ کر سب پکاریں کہ یہ ایک برگر ہے؟ تو اپنی نوجوانی ضائع کرتے ہوئے اگلے بیس تیس برس جی جان سے محنت کرنے اور پچاس برس کی عمر میں خوشحال ہونے کا انتظار مت کریں۔ ہمارے بتائے ہوئے آزمودہ نسخے سے آپ ایک نہایت واجبی سی رقم خرچ کر کے ایک برگر بن سکتے ہیں۔

Read more

وجاہت مسعود سے اوریا مقبول تک، چند مشہور کالم نگاروں کا ذکر

وجاہت مسعود۔ اعلی درجے کی زبان لکھتے ہیں۔ تلخ بات کو شوگر کوٹ کر کے کہنے کا ہنر رکھنے کا ہنر رکھتے۔ تحریر میں ایسے اشارے استعمال کرتے ہیں جن کا ریفرینس حالات حاضرہ اور تاریخ سے واقف افراد کے پاس ہوتا ہے اور وہی اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ سماجی مسائل اور رویوں پر کبھی کبھار لکھتے ہیں، لیکن جب بھی لکھتے ہیں کمال کر دیتے ہیں۔ ان کا مطالعہ اور یادداشت حیرت انگیز ہے۔

Read more

کپتان نے نواز شریف کو صرف پچاس روپے لے کر کیوں چھوڑا؟

گزشتہ دنوں لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالے جانے کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے انہیں پچاس روپے کے سٹامپ پیپر پر دیے گئے بیان پر ہی باہر جانے کی اجازت دے دی۔ حکومتی وکلا نے اس کی برائے نام مخالفت ہی کی اور اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا ارادہ بھی ظاہر نہیں کیا۔ بلکہ الٹا عمران خان سب مصروفیات ترک کر کے دو دن کی چھٹی پر چلے گئے کہ نواز شریف کو باہر لے جاؤ پھر میں کام کروں گا۔ حالانکہ پہلے انہوں نے اپنے ووٹر کو مطمئن کرنے کی خاطر نواز شریف سے باہر جانے کے عیوض سات ارب روپے کا شورٹی بانڈ مانگا تھا۔ اس پر تحریک انصاف کے حامی پریشان ہیں۔ اگر انہوں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہوتا تو جان جاتے کہ عمران خان نے نواز شریف سے پچاس روپے کا سٹامپ پیپر لے کر ان کو رسوا کر ڈالا ہے۔

Read more

نواز شریف سے فروغ نسیم شورٹی بانڈ کس وجہ سے مانگ رہے ہیں؟

بہت سے لوگ حیران ہیں کہ وزیراعظم اور پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی تصدیق کے باوجود کہ نواز شریف کی صحت خراب ہے اور یہ سیاست کا نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کا معاملہ ہے، کیا وجہ ہے کہ وزیر قانون جناب فروغ نسیم اس بات کی مخالفت کر رہے ہیں کہ نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے غیر مشروط طور پر نکالا جائے بلکہ وہ نواز شریف سے سات ارب روپے کا شورٹی بانڈ بھروانا چاہتے ہیں۔ کیا ان کا یہ مطالبہ بلاجواز ہے یا پھر اس کے پیچھے ٹھوس وجوہات موجود ہیں؟

Read more

سوشل میڈیا پر سیاسی شدت پسندی کی لہر

کیا آپ نوٹ کر رہے ہیں کہ سال ڈیڑھ سال پہلے سوشل میڈیا پر جو اچھے بھلے سمجھدار افراد معتدل ہوا کرتے تھے وہ سیاسی شدت پسندی کی لہر میں بہہ چکے ہیں؟ ایک لطف انگیز ماحول پر اب ہر طرف نفرت اور انتہا پسندی چھائی دکھائی دینے لگی ہے۔ پہلے موضوعات میں تنوع ہوا کرتا تھا اور اب بیشتر افراد صرف سیاست پر ایک شدت پسند پوزیشن لینے کے بعد خامہ فرسائی کرتے ہیں؟ کیا ہمیں اپنے اس رویے کا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہے؟

Read more

حکومت کی جبری تبدیلی ہوئی تو پرامن نہیں ہو گی

سیاسی حالات دلچسپ ہوتے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں صرف دھرنوں اور جلسے جلوسوں سے حکومت نہیں جاتی۔ ہاں اگر ان دھرنوں اور جلسے جلوسوں کے پیچھے کوئی بڑی طاقت ہو تو پھر دوسری بات ہوتی ہے، پھر جنرل ایوب، بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کی طاقتور حکومت بھی چلی جاتی ہے۔ یاد پڑتا ہے کہ نصرت جاوید صاحب نے لکھا تھا کہ وہ بھٹو کے خلاف تحریک نظام مصطفٰی کا جی جان سے حصہ تھے۔ بھٹو حکومت کے رخصت ہونے کے کئی دہائیوں بعد انہیں پتہ چلا کہ عوامی دکھائی دینے والی تحریک نظام مصطفیٰ کسی کے اشارے پر تھی۔ یعنی اس کا ظاہر کچھ تھا اور باطن کچھ۔

Read more

کپتان کی جیت اور شاہ محمود قریشی کی ہار

شاہ محمود قریشی اور کپتان کی ٹسل چل رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی کے بارے میں مسلسل اطلاعات آ رہی ہیں کہ وہ کپتان کو ہٹا کر خود وزیراعظم بننے کی دڑک میں ہیں۔ کبھی وہ مقامی حلقوں میں جوڑ توڑ کرتے دکھائی دیتے ہیں تو کبھی اہم غیر ملکی طاقتوں کے پاس جا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔ بہت سنجیدہ اور معتبر سمجھے جانے والے تجزیہ کار بھی کہہ رہے ہیں کہ کپتان کو ہٹا کر شاہ محمود قریشی کو وزیراعظم بنانے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ اقتدار کی سب سے سنگین لڑائی ہے جو کپتان لڑ رہا ہے کیونکہ اس میں اسے اپنی پارٹی کے اندر سے ہی باہر کرنے کی طاقتور مہم چلائی جا رہی ہے۔

Read more

اقرا عزیز کی اشتعال انگیز تصویر

اقرا عزیز نے قومی جذبات کو مستقل آگ لگائی ہوئی ہے۔ پہلے وہ لاکھوں دیکھنے والوں کو سلگاتے ہوئے لکس ایوارڈز کی تقریب کے دوران یاسر حسین کے ہاتھوں یوں سرعام پروپوز ہو گئیں جیسے یاسر حسین انہیں پروپوز نہ کر رہے ہوں بلکہ بقول یوسفی قلمی آم چوس رہے ہوں۔ ان دونوں کو مشرقی اقدار کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔ بہتر ہوتا کہ یاسر حسین اپنے بزرگوں کو اقرا عزیز کے گھر بھیجتے اور وہ شگن اقرا کے ہاتھ پر رکھ کر بات پکی کر آتے۔ اب یہ کیا حرکت کی انہوں نے؟ کیا انہوں نے سوچا کہ ان کے بزرگ تو ٹی وی پر اپنے بچوں کی ایسی منگنی دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے ہوں گے۔ نوجوان نسل نے اس منگنی کا کیا اثر لیا ہو گا؟ وہ بزرگوں سے چھپ چھپ کر اپنی منگنیاں کیسے کر رہی ہو گی؟ اور ننھے منے معصوم بچے اب تخمی آم کو کس نظر سے دیکھنے لگے ہوں گے؟

Read more

ہینڈسم تمہارے خاندان میں ہاتھِی کا شکار نہیں کیا جاتا

ایک جنگل میں ایک شیر اور شیرنی رہتے تھے۔ شیرنی نے دو جڑواں بچوں کو جنم دیا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ شیرنی اب بچوں کا خیال رکھے گی اور شیر شکار کر کے لایا کرے گا۔ کئی دن تک ایسا ہوتا رہا کہ شیر ہرن یا نیل گائے مار کر لاتا اور سب پیٹ بھر کر کھاتے۔

پھر ایک دن ایسا ہوا کہ سارا دن شکار کی تلاش کے باوجود شیر کو شکار نہیں ملا۔ چلتے چلتے جنگل میں اسے ایک گیدڑ کا بچہ بھٹکتا ہوا ملا۔ شیر نے اسے دیکھا تو اسے بہت رحم آیا۔ اس نے سوچا کہ جنگل میں اسے کوئی بھی مار ڈالے گا، اس لئے شیر نے اسے نرمی سے اپنے منہ میں پکڑا اور اپنی کچھار میں لے آیا۔

Read more

نیب، معزز سیٹھ، بدمعاش اساتذہ اور بدقماش سیاستدان

چیئرمین نیب جاوید اقبال نے کہا کہ وہ تفتیش مکمل ہوئے بغیر کسی بھی کاروباری شخص کو گرفتار کرنے کی منظوری نہیں دیں گے۔ یہ ایک نہایت معقول فیصلہ ہے۔ چیئرمین نیب جیسا ذی شعور اور کسی انسان پر محض سرتاپا ایک نگاہ ڈال کر اس کے مجرم یا بے گناہ ہونے کا فیصلہ کر سکنے والا شخص ہی ایسا فیصلہ کرنے کا اہل ہے۔

سیٹھ ایک نہایت ہی معزز اور حساس شخص ہوتا ہے۔ اس کی عزت نفس کو ضرب پہنچے تو وہ بہت زیادہ ہرٹ ہوتا ہے۔ ذرا سی بھی ریاستی سختی یا کسی کی دادا گیری برداشت نہیں کر سکتا۔ حکومت الٹے سیدھے کام کرے تو وہ روٹھ کر اپنے پیسے مارکیٹ سے نکال لیتا ہے اور اٹواٹی کھٹواٹی لے کر اپنے گھر میں پڑ رہتا ہے۔

Read more

سیٹھوں کی سپہ سالار سے ملاقات اور معیشت کے مثبت پہلو

معتبر انگریزی اخبارات ”دی نیوز“ اور ”پاکستان ٹوڈے“ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان بزنس کونسل سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے ڈیڑھ دو درجن بڑے سیٹھوں نے ملک کی معاشی صورت حال پر سپہ سالار سے ملاقات کی اور اپنے کاروبار کے بارے میں انہیں مطلع کیا۔

سب سے پہلے تو یہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ ہماری انگریزی کوئی خاص اچھی نہیں ہے اور ہمارا ذہن بھی مثبت سوچ کو ترجیح دیتا ہے۔ ہمیں یہ خبریں پڑھ کر جو کچھ سمجھ آیا ہے وہ بتا دیتے ہیں۔

Read more

باقی سب کو دیکھ لیا مولانا کو بھی ایک چانس دے کر دیکھ لیتے ہیں

قوم موروثی سیاست، جمہوریت کے نام پر پارٹیوں میں مطلق العنانیت، کرپشن اور نا اہلی سے تنگ آ چکی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ تبدیلی کا غلغلہ ایسا بلند ہوا کہ سیاست کے میدان میں گدھے کا ہل چل گیا۔

پہلے پیپلز پارٹی کو دیکھ لیتے ہیں۔ دیکھیں یہ بات تو قوم کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ پیپلز پارٹی بہت ہی زیادہ کرپٹ ہے۔ ٹھیک ہے وہ قانون سازی اچھِی کر لیتی ہے، اقتدار کا لالچ نہیں کرتی، اس کا صدر اپنے اختیارات وزیراعظم کو سونپ دیتا ہے وغیرہ وغیرہ، لیکن گزشتہ تیس برس سے اخبارات اور ٹی وی کے ذریعے باخبر رکھا جانے والا ہر شخص جانتا ہے کہ آصف زرداری پہلے مسٹر ٹین پرسنٹ تھے، پھر مسٹر سینٹ پرسنٹ ہو گئے، اس سے بھی دل نہیں بھرا تو ایک ماڈل کے ذریعے چار پانچ لاکھ ڈالر کی منی لانڈرنگ کرنے لگے، انہوں نے خفیہ شادی کر رکھی ہے جس سے ان کا بچہ بھی ہے، اور اب وہ پکڑے گئے ہیں تو وزیراعظم عمران خان کی منت خوشامد کر رہے ہیں کہ آئی ایم ایف سے چھے ارب ڈالر اور عربوں سے تین تین ارب ڈالر ادھار مانگنے کی بجائے ان سے دس بارہ ارب ڈالر جرمانہ وصول کر کے ڈیل کر لیں مگر وزیراعظم این آر او کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ اب ان الزامات کا ثبوت ملے نہ ملے مگر زبان خلق کو نقارہ خدا بنا کر بجا دیا گیا ہے تو ثبوت کا کیا کرنا ہے۔

Read more

عمران خان کی تقریر مغربی عوام کے لئے تھی یا پاکستانی؟

کیا وجہ ہے کہ عمران خان کی تقریر پر لوگ اتنے جذباتی ہو رہے ہیں؟ خوب مخالفت بھی کی جا رہی ہے اور حمایت بھی۔ بلکہ حمایت کرنے والے تو اس حد تک پہنچے ہوئے ہیں کہ تقریر پر تنقید کرنے والوں کو پاکستان دشمن اور اسلام مخالف قرار دیتے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک اچھی تقریر تھی، اچھے موضوعات کا ذکر کیا، لیکن اس میں دنیا کو بہت زیادہ متاثر کرنے والی کیا بات تھی؟ کیا یہ ان تقریروں میں سے ایک تھِی جو تاریخ کا دھارا بدل دیتی ہیں یا ان میں سے تھی جو سن کر بھلا دی جاتی ہیں؟ آئیے اس تقریر پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ اس میں چار اہم موضوعات کو زیر بحث لایا گیا تھا۔

Read more

نائی کی چالاک بیوی اور سات چوروں کی کہانی

پرانے زمانے کا قصہ ہے کہ ایک ایسا بے وقوف سا نائی تھا جو کوئی کام سیدھا نہیں کر سکتا تھا۔ حتی کہ بال کاٹتے وقت وہ کان کاٹ دیتا تھا اور حجامت کرتے وقت گلا۔ نتیجہ یہ کہ اس کا کام ٹھپ ہوتا گیا اور وہ اپنی چیزیں بیچ کر گزارا کرنے پر مجبور ہو گیا۔ رفتہ رفتہ ایسا وقت آیا کہ اس کے گھر میں صرف دو چیزیں باقی بچیں، اس کا استرا اور اس کی بیوی، اور یہ فیصلہ کرنا دشوار تھا کہ ان میں سے زیادہ تیز کون ہے۔

ایک دن نائی کی بیوی اسے بے وقوفیوں پر طعنے دے رہی تھی کہ وہ بے بسی سے بولا ”یہ سب بار بار کہنے کا کیا فائدہ ہے؟ میں تم سے متفق ہوں، میں نے کبھی خود سے کچھ نہیں کمایا، میں کبھی خود سے کچھ نہیں کما سکتا، اور میں کبھی کسی کو کمانے بھی نہیں دوں گا۔ یہ حقیقت ہے“۔

Read more

طالبات جمعیت کے خلاف احتجاج مت کریں

اس سے اگلے دن طلبہ اور طالبات کی ایک بڑی تعداد نے جلوس نکال دیا کہ پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کی غنڈہ گردی بند کی جائے، بلوچ پشتون اور سندھی طلبہ پر تشدد بند کیا جائے، وغیرہ وغیرہ۔

زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان جلوسوں میں طالبات کی بڑی تعداد نمایاں تھی اور وہی جلوس کو لیڈ کر رہی تھیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ زیادہ تر طالبات کے سر پر دوپٹہ اور بہت سوں کے منہ پر نقاب گواہی دے رہا تھا کہ وہ بہت مشرقی سوچ رکھتی ہیں اور نہایت شرم حیا والی ہیں اور اس کے باوجود وہ مشرقی اقدار اور طالبات کی واحد محافظ اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف جلوس نکال رہی تھیں۔

Read more

اسلاموفوبیا چینل، ڈاکٹر شاہد مسعود، صابر شاکر اور اوریا مقبول جان

ہمارے محبوب وزیراعظم جناب عمران احمد خان نیازی نے ٹویٹر پر تمام دنیا کو مطلع کیا کہ انہوں نے عالم اسلام کے دیگر دو مقبول، بیدار مغز اور ذی شعور حکمرانوں سیدی رجب طیب ایردوان اور مہاتیر محمد کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ تینوں ممالک ملک کر ایک ایسا انگریزی چینل شروع کریں گے جو اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرے گا اور اسلامی دنیا کی تاریخ سے غیر اسلامی دنیا کو روشناس کروائے گا۔

یہ اعلان پڑھ کر دل خوش ہو گیا ہے۔ انگریزی زبان میں ابھی تک کوئی ایسا چینل موجود نہیں تھا جو حق بیان کرتا۔ لیکن وزیراعظم کو چینل کے ماڈل پر تفکر کرنا چاہیے۔ ہمارے پاس دو بہترین ماڈل موجود ہیں۔ پہلا تو مدنی چینل کا ہے۔

Read more

معصوم گیڈر اور عیار تیتر کی کہانی

ایک گیدڑ اور تیتر میں دوستی کے عہد و پیمان ہو گئے اور انہوں نے دوسرے کے پسینے کی جگہ اپنا خون بہانے کا عہد کیا لیکن گیدڑ دوستی کے بدلے میں بہت کچھ طلب کرنے والا اور حاسد فطرت تھا۔ کچھ عرصے بعد اس نے تیتر کو کہا ”تم دوستی کی باتیں تو بہت بگھارتے ہو لیکن میرے مقابلے میں آدھا بھی نہیں کرتے۔ میرے نزدیک دوست وہ ہے جو مجھے ہنسانے اور خوب دکھی کر کے رلانے پر قادر ہو، جو مجھے خوب اچھا کھلائے پلائے اور ضرورت پڑے تو میری زندگی بچائے۔ تم یہ سب کچھ نہیں کر سکتے“۔

Read more