راجا داہر کی محبت میں مقدس ہستیوں کو چارہ نہ بنائیں!

محمد بن قاسم دریائے سندھ کے کنارے کھڑا تھا اور اس کی نظریں دریا کے اس پار موجود ایک عظیم الشان قلعے پر گڑی ہوئی تھیں۔ یہ قلعہ اس کے لیے مزید فتوحات کی راہ میں مزاحم ایک بڑی رکاوٹ تھی۔ وہ جب بھی پیش قدمی کا ارادہ کرتا اس قلعے سے ان پر آگ کے گولوں اور پتھروں کی بارش شروع ہو جاتی۔ اس پار جانے کا راستہ بھی موجود نہیں تھا اور نہ ہی پل بنانے کا وقت اور موقع۔ آخرکار اس نے اپنے سپاہیوں کو جمع کیا اور ان سے خطاب کرنے کا فیصلہ کیا۔

تمام سپاہی میدان میں جمع ہو چکے تھے اور ان کے کانوں میں محمد بن قاسم کی ایمان افروز آواز گونج رہی تھی: میرے سپاہیو! مجھے اتنا بتاؤ کیا بحر اور برکا خدا ایک ہی ہے یا سمندر کا خدا الگ ہے اور خشکی کا خدا الگ؟ یہ کہہ کر وہ ان کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔ ”دونوں کا خدا ایک ہی ہے امیر محترم!“ تمام سپاہیوں نے یک زبان ہو کر جواب دیا۔ یہ سن کر محمد بن قاسم بولا: اگر ایسی بات ہے تو دشمن پر ٹوٹ پڑو اور یہ یقین رکھو کہ جس خدا نے ہمیں خشکی میں ذلیل و رسوا نہ کیا وہ اس سمندر میں بھی ہمارے لیے راستے ہموار بنائے گا۔

Read more

آیا صوفیہ، ارطغرل، مسجد قرطبہ

اگلے ہفتے ترکی کی اعلیٰ عدالت استنبول کے آیا صوفیہ میوزیم کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کی سرکاری درخواست پر فیصلہ سنانے والی ہے۔ آیا صوفیہ ڈیڑھ ہزار برس پرانی عمارت ہے اور پانچ سو سینتیس عیسوی میں مشرقی سلطنت روم کے شہنشاہ جسٹینین نے دارالحکومت قسطنطنیہ کے شایان شان بطور گرجا تعمیر کروائی۔ نو سو برس بعد عثمانی سلطان محمد دوم نے چودہ سو تریپن میں قسطنطنیہ فتح کیا تو دنیا کے سب سے بڑے گرجا گھر کی چھتوں اور گیلریوں میں کی گئی مذہبی مصوری کو ڈھانک دیا۔ اس عمارت میں نماز جمعہ کی امامت کی۔ بعدازاں معروف ترک ماہر تعمیرات سنان نے آیا صوفیہ پر اسلامی رنگ چڑھانے کے لیے عمارت میں میناروں کا اضافہ کروایا اور اسے باقاعدہ مسجد میں بدل دیا۔ اگلے پانچ سو برس تک یہاں نماز جاری رہی۔

آیا صوفیہ چرچ کے گنبد کا شکوہ اتنا متاثر کن تھا کہ جب سولہ سو سولہ میں استنبول میں عظیم الشان نیلی مسجد مکمل ہوئی تو اس کے ڈیزائن پر آیا صوفیہ کا آرکیٹیکچر غالب تھا۔ بعد ازاں عثمانی طرز تعمیر نے اسے اپنی تعمیراتی شناخت کا مستقل حصہ بنا لیا۔

Read more

نئی نسل کی تخلیقی صلاحیت اور جنگی جنون کے شعلے

دنیا کی ترقی یافتہ اور مہذب قومیں اپنے ماضی کی طرف پلٹ کر ضرور دیکھتی ہیں۔ ماضی کی تاریخ میں اگر خرابیاں ہیں، انسانیت کے خلاف جرائم ہیں۔ تو پھر ان غلطیوں سے سبق سیکھ کر مستقبل کی طرف دیکھا جاتا ہے۔ مستقبل کو بہتر سے بہتر بنا کر انسانیت کی فلاح و بہبود کے کام کیے جاتے ہیں۔ جنگ عظیم اول اور دوئم کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ یورپی اقوام سے ماضی میں جو جنگی جرائم سرزد ہوئے تھے ان سے سبق سیکھا گیا اور گزشتہ 75 سالوں میں اپنے تمام اختلافات بھلا کر ہر شعبہ ہائے زندگی میں اتنی ترقی کی کہ ماضی کی تمام غلطیوں کا ازالہ ہو گیا۔

Read more

دھرتی کے حقیقی سپوت یا لٹیرے کون

کچھ عرصہ سے سوشل میڈیا پر ایک خاص حلقے کی طرف سے گاہے گاہے یہ بحث چھیڑ دی جاتی ہے کہ اس دھرتی کا اصل سپوت کون ہے اور لٹیرا کون تھا۔ آج میں تحریر نہیں لکھوں گا بلکہ کچھ سوالات کے جوابات چاہوں گا۔

بتائیں کیا ہندو راجے اور مہاراجے اپنی عیش و عشرت کا سامان جمع رکھنے کے لیے اس مٹی کے اصل وارث غریب کسانوں پہ ظلم کے پہاڑ نہیں توڑتے تھے؟

بتائیں کیا مسلم فاتحین سے پہلے برہمن راج نے ظلم اور سفاکیت سے اس خطے کے انسان کو انسان رہنے دیا تھا؟

Read more

خوشونت سنگھ اور ڈیفنس اتھارٹی کراچی کا اتوار بازار

ڈیفنس کراچی کے فیز آٹھ میں دو سال پہلے تک ایک پررونق اتوار بازار لگا کرتا تھا۔ اب نہیں لگتا۔ بازار کا ٹھیکیدار بے ایمان تھا۔ آپ تو جانتے ہیں سویلین کی بے ایمانی خود سویلین سے برداشت نہیں ہوتی۔ دوسرے اسے کیوں کر چپ چاپ پی جائیں گے۔ ڈیفنس ہاﺅسنگ اتھارٹی کراچی کے مجاز افسران کہنے کو انجئنیرنگ کور کے جوان ہی سہی مگر شیر کا بچہ بھی آخر شیر ہی ہوتا ہے۔ سو عالی مقام مالک اراضی سخت

Read more

راجہ داہر کی دو بیٹیاں اور محمد بن قاسم کی موت

بنو امیہ کے دور میں محمد بن قاسم کی قیادت میں عرب افواج نے سندھ پر حملہ کیا۔ آخر کار راجہ داہر کی افواج کو شکست ہوئی اور سندھ عرب سلطنت کا حصہ بن گیا۔ آج تک ان تاریخی واقعات کے متعلق بہت سی دلچسپ بحثیں جاری ہیں۔ ان میں سے ایک اہم واقعہ محمد بن قاسم کی موت کا ڈرامائی واقعہ ہے۔ اس کے متعلق جو کہانی بیان کی جاتی ہے وہ ”چچ نامہ“ سے لی گئی ہے اور اس کتاب کو ”فتح نامہ سندھ“ بھی کہا جاتا ہے۔ کوئی تبصرہ کرنے سے قبل اس کتاب میں محمد بن قاسم کی موت کے بارے میں جو واقعات لکھے ہیں ان کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

اس کتاب میں لکھا ہے کہ جب راجہ داہر جنگ میں مارے گئے تو محمد بن قاسم نے ان کی دو کنواری بیٹیوں کو حبشہ کے غلاموں کی قیادت میں بغداد بھجوا دیا تا کہ انہیں بنو امیہ کے بادشاہ ولید بن عبد المالک کی خدمت میں پیش کیا جائے۔ بادشاہ نے ہدایت دی کہ انہیں چند دن آرام کرا کے ان کی خوابگاہ میں بھجوا دیا جائے۔ کچھ دن کے بعد بادشاہ نے لڑکیوں کو یاد فرمایا اور ہدایت دی کہ دونوں بہنوں کو بادشاہ کی خوابگاہ میں بھجوایا جائے۔ [یہ بھی خوب ہے کہ دونوں کو اکٹھا ہی بلا لیا]

Read more

حامد میر سے معذرت کے ساتھ: فتح سندھ کے وقت محمد بن قاسم کی عمر

ملک پاکستان کے مایہ ناز صحافی برادرم حامدمیر نے محمد بن قاسم پر ایک بہت ہی عمدہ کالم بعنوان ”نسیم حجازی سے معذرت کے ساتھ“ لکھا جس کے مطابق سندھ پر حملے وقت ان کی عمر 28 سال تھی۔ اگرچہ عمر کی تحقیق اور اس کا تعین ایک الگ مستقل ریسرچ آرٹیکل کا تقاضا کرتا ہے لیکن مختصراً عرض ہے کہ یہ کہنا کہ ”سندھ پر حملے کے وقت محمد بن قاسم کی عمر 28 سال تھی“ بالکل غلط ہے۔

Read more

چودہ دن کی روٹی

کہانی بہت دردناک و المناک ہو چکی۔ ۔ ۔ محمد خالد شاندار دانشور تھے، حلقہ ارباب ذوق آتے تو ان کی گفتگو سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا، لیکن کورونا وائرس نے انہیں نگل لیا۔ ۔ ۔ صغیر تبسم ہمارے دوست ہیں، پنجابی کے بہت اچھے شاعر اور استاد ہیں، ان کی والدہ ماجدہ بھی انتقال کر گئیں۔ بالی ووڈ کے خوبصورت ینگ ایکٹر سوشانت سنگھ راجپوت کئی دن سے قرنطینہ میں تھے، بالاخر خودکشی کرکے مر گئے۔ ریلوے کے

Read more

ظلم کی بہت سی صورتیں ہیں

ایک طرف تو دنیا کرونا کی وبا کی زد میں ہے اور نحوست اور مایوسی کے سائے دن بدن گہرے ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں تو دوسری طرف امریکہ سمیت پوری دنیا میں جارج فلائڈ کی موت سے اٹھنے والی اک لہر ہے جو آسٹریلیا تک آ پہنچی ہے۔ ملبورن میں منظم احتجاج کا یہ دوسرا ہفتہ ہے اور دو نوجوان لڑکیوں نے سڈنی شہر میں آسٹریلیا کو دریافت کرنے والے کیپٹن جیمز کک کے مجسمے پر سپرے کر

Read more

میری شناخت اور اساس

میں اپنی شناخت کی تلاش میں ہوں، آپ کو ملے تو مجھے ضرور بتائیے گا۔ میرا ملک 14 اگست 1947 کو وجود میں آیا اس دن سے اب تک میری شناخت اور اساس کا معمہ حل نہیں ہو سکا۔ میرے دانشوروں اور سیاست دانوں کے مطابق میری شناخت کے تانے بانے جناب فاتح سندھ محمد بن قاسم سے ملتے ہیں۔ لیکن جب میں اپنے عرب بھائیوں سے تعلق جوڑنے لگتا ہوں تو وہ مجھے اپنانے سے مکمل انکار کرتے ہیں

Read more

علم تاریخ، تمثیل اور نوجوان نسل

انسانی علوم میں علم تاریخ کی اہمیت اس لئے بھی مسلمہ ہے کہ اس کے مطالعے سے نہ صرف انسان اور معاشرہ مستقبل کا لائحہ عمل طے کرتا ہے بلکہ کچھ تاریخی واقعات اقوام عالم کے لئے ایک تازیانہ کا کام کرتے ہیں اور اپنے رستے سے بھولی بھٹکی قوم کے لئے اپنی منزل کے تعین میں ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں۔ یہ علم نہ صرف کسی قوم کے تہذیب و تمدن اور ثقافت کا امین ہے بلکہ نوجوان

Read more

قائد اعظم اور اتا ترک میں ایک فرق

ارطغرل کی مقبولیت کے اس دور میں جب ڈراموں سمیت ترکی سے متعلق ہر چیز کے بھاؤ چڑھے ہوئے ہیں دونوں ملکوں کے قائدین کا براہ راست موازنہ خطرے سے خالی نہیں۔ خاص طور پر اس وقت تو بالکل بھی نہیں جب ہمارے یہاں راجہ داہر اور محمد بن قاسم میں سے ہیرو اور ولن کا انتخاب مشکل ہو رہا ہو لیکن سلیمان شاہ اور عثمان اول کی عظمت کے گن گانے والوں میں دن دگنا اور رات چوگنا اضافہ

Read more

محمد بن قاسم سندھ کیوں آیا تھا؟

کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ محمد بن قاسم کو ”گھس بیٹھیا“ اور راجا (عموماً راجہ لکھا جاتا ہے جو اردو قواعد کے لحاظ سے غلط ہے ) قومی ہیرو کا درجہ دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے مختلف سطح پر ان کی کوششیں جاری رہی ہیں۔ اسی سلسلے کی تازہ کڑی حالیہ دنوں میں ایک بار پھر سامنے آئی ہے جب اس مذموم مقصد کے لیے اہل بیت کا نام استعمال کر کے کہا گیا کہ محمد بن قاسم سندھ

Read more

ارتغرل ڈرامہ: آخر پرابلم کیا ہے

ارطغرل تیرہویں صدی کا ایک عظیم کردار ہے جس نے اپنے مضبوط حوصلے، یقین محکم، کامل ایمان اور بہادری سے ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی جو 600 سالوں تک دنیا پر راج کرتی رہی۔ اگر مسلمانوں کی 14 سو سالوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو وہ ایسے بے شمار کرداروں سے بھری پری ہے۔ جنہوں نے اسلام کا پرچم مضبوطی سے تھامے رکھا اور ظلم کے خلاف لڑتے رہے چاہے کتنی ہی اذیتیں ان کے سامنے کیوں نہ ہو وہ اپنے حق دین کے راستے سے کبھی نہیں بھٹکے اور نہ ہی کبھی اپنے دین سے منحرف ہوئے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی، طارق بن زیاد، سلطان محمد فاتح، خالد بن ولید، محمود غزنوی، محمد بن قاسم، ٹیپو سلطان، بہادر شاہ ظفر اور ایسے بے شمار نام ملتے ہیں جو مسلمانوں کے عروج کی گواہی دیتے ہیں لیکن آج کا مسلمان زوال کا شکار ہے اور نہ ہی اپنے ماضی کے ان ہیروز کے بارے میں جانتا ہے۔

Read more

جون 1818۔ سقوط ملتان

سرزمین اولیا ملتان اس جہان تگ و دو میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ اور نا ہی ملتان کا حوالہ صرف گرد، گرما اور گورستان ہے۔ بلکہ ملتان کی مٹی میں جذبہ حریت، یہاں کے پانی میں عزم وہمت اور یہاں کی سخت آب وہوا میں مٹی سے محبت کی ٹھنڈک اور بیرونی حملہ آوروں کے خلاف نفرت کی لو بھی شامل ہے۔ وادی سندھ کا تہذیبی و ثقافتی مسکن ملتان نے ہر عہد میں ایک نئے بحران کا

Read more

حقیقت میں ارطغرل غازی مسلمان تھے یا بت پرست؟

وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر پی ٹی وی پر چلنے والے شہرہ آفاق ڈرامے ارطغرل غازی سے اس وقت پاکستان کا بچہ بچہ نا صرف واقف ہو چکا ہے بلکہ وہ نسل جو تصوراتی اور افسانوی ہیروز کے سحر سے باہر نہیں نکلتی تھی وہ بھی اب ارطغرل، بامسی اور ترگت کو اپنا ہیرو ماننے لگ گئی ہے۔ جہاں نوجوان لڑکے حلیمہ جیسی صابر، وفا شعار اور بہادر لڑکی کے خواب دیکھنے لگ گئے ہیں تو وہیں دوسری طرف لڑکیاں بھی ارطغرل جیسا دلیر، ذہین اور دھن کا پکا مرد اپنے خوابوں میں سجائے بیٹھی ہیں۔ ایسے میں اچانک اس سوال کا جنم لینا بے حد معنی خیز ہے کہ کیا حقیقت میں ارطغرل غازی ایسے ہی تھے یا ان سب باتوں کے بالکل برعکس وہ ایک بت پرست تھے؟

Read more

ٹھیکے دار کی بیٹی کا متبادل بیانیہ

حاجی الیاس پٹیل کی واٹس اپ پر مس کال آئی تو ہم نے عشا کی نماز سے فارغ ہوکر کال بیک کیا۔ وہ اُن میمن بوڑھوں میں سے ہیں جو ایمبولنس اور فائر بریگیڈ کو بھی مس کال مارتے ہیں۔ ہمارے بڑے قیام پاکستان کے وقت جب ممبئی ایرپورٹ سے کراچی کا سفر کرتے تھے، حاجی الیاس کے بڑے بزرگ فلم” دل لگی“ میں ثریا اور شیام کا گیت ’تو میرا چاند میں تیری چاندنی‘ گاتے ہوئے رم پی کر

Read more

ڈھائی روپے کا برگر اور ”آئیکون ٹاور“

لاہور کی ”سولہ سو ایکڑ سکیم“ جو بعد میں علامہ اقبال ٹاؤن کہلائی، اس میں پہلی بار جانے کا اتفاق منفرد فلم ڈائریکٹر بنگالی نژاد نذر الاسلام دادا کے انٹرویو کے لئے ہوا۔ واپسی پر مون مارکیٹ میں پرانے رحیم سٹور کے باہر ایک جوان شخص کاٹن کا اجلا سفید کرتا پہنے سیخ کباب کے ”اڈے“ پر کھڑا کباب لگا ریا تھا بعد میں جس کا باربی کیو ریسٹورنٹ ”عارف ہوٹل“ مون مارکیٹ کا سب سے بڑا اور سب سے مشہور ریسٹورنٹ بن گیا تھا۔

Read more

سوچنا جرم ہے

ایک سال قبل صدا کاری کا جنون عروج پہ تھا۔ جب میں نے احمد ندیم قاسمی صاحب کی ایک آزاد نظم ”ایک درخواست کو احتجاجی لہجے میں ریکارڈ کرنے کی کوشش کی جس کے ابتدائیہ مصرعے کچھ یوں تھے

”دیکھنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حد نظر سے آگے بڑھ کے دیکھنا بھی جرم ہے
سوچنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے یقینوں اور گمانوں سے نکل کر سوچنا بھی جرم ہے ”

Read more

جماعت اسلامی کے ایک پڑھے لکھے دانشور کا المیہ!

محترم شاہ نواز فاروقی۔۔۔ جماعت اسلامی کے پڑھے لکھے افراد میں شمار ہوتے ہیں اور جماعت کے آرگن روزنامہ جسارت میں کالم لکھتے ہیں۔ ان سے میرا غائبانہ تعارف ہے اور میں ان کی مختلف وڈیوز دیکھتی رہتی ہوں اسی لئے مجھے ان کی فکر سے کچھ آگہی ہے بالخصوص ان کی سر سید احمد خان پر تنقید اورتحریک علی گڑھ کے منفی نتائج۔ موصوف کا ایک حالیہ کالم روزنامہ جسارت میں مورخہ17 مئی 2020ء کو شائع ہوا ہے (https://www.jasarat.com/2020/05/17/200517-03-7/)

Read more

پاکستان اور ارطغرل غازی

ارطغرل غازی سے ہمارا واسطہ کیا ہے؟ ہم پاکستانی یہ ڈرامہ کیوں دیکھیں؟ آئیے پہلے واسطہ سمجھیے۔ پاکستان کا خواب دیکھنے والے شاعر مشرق ”ڈاکٹر علامہ محمد اقبال“ سلطنت عثمانیہ کے زوال کے غم اور ارطغرل غازی بارے کیا لکھتے ہیں اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

Read more

ہیرو کی تلاش میں بھٹکنے والی قوم

ہیرو وہ ہوتا ہے جو ودیعت کی گئی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی ذات سے بالاتر ہو کر مخلوق خدا کی فلاح کے لیے کوئی ایسا کار خیر سرانجام دے جس سے بنی نوع انسان فیض یاب ہوں ورنہ عام انسان تو صرف اپنے لیے خوشیاں تلاش کرتے زندگی کی شام کر دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں پچھلے دنوں ایک فضول بحث کا آغاز ہوا کہ ہمارا ہیرو راجہ داہر ہے یا محمد بن قاسم؟ راجہ داہر

Read more

ہیرو ایسے نہیں بنائے جاتے – مکمل کالم

ہیرو کا تو پتا نہیں البتہ ہیروئن کے بارے میں میرا تصور بالکل واضح ہے۔ ایک مرتبہ دوستوں کے ساتھ یہ بحث ہوئی کہ کون سی فلمی ہیروئن زیادہ خوبصورت ہے، وہ کالج کے دن تھے، مادھوری اپنے عروج پر تھی، میں نے مادھوری کا نام لیا مگر پھر خیال آیا کہ تبو بھی کم نہیں سو ساتھ ہی اس کا نام بھی جوڑ دیا، پھر یکایک میری پاکستانیت جاگی اور میں نے کہا کہ نیلی کا کوئی مقابلہ نہیں۔ اگلے پانچ منٹ میں میرا بیان تبدیل ہو کر کچھ یوں ہو چکا تھا کہ پاک و ہند کی کوئی ایسی ہیروئن نہیں جس کے حسن پر تنقید کی جا سکے، ایک باریش اور متقی دوست نے اس بیان میں ہالی وڈ کا اضافہ بھی کر دیا۔ اس کے بعد یہ میٹنگ ان بیبیوں کے حق میں دعائے خیر و جملہ پوشیدہ و پیچیدہ خواہشات کے ساتھ برخاست ہو گئی۔

Read more

ہیرو کون؟ راجہ داہر یا محمد بن قاسم

آپ نے کئی اردو اور پنجابی فلموں میں یہ منظر دیکھا ہو گا کہ ایک لڑکی چیخیں مار کر بھاگ رہی ہے۔ اور اس کے پیچھے ایک بد شکل ولن وحشیانہ قہقہے مارتے ہوئے بھاگ رہا ہے۔ یکلخت ایک خوش شکل ہیرو نہ جانے کہاں سے ٹپک پڑتا ہے اور مار مار کر اس ولن کا بھرکس نکال دیتا ہے۔ اور لڑکی کو پہلی نظر میں ہی محبت ہو جاتی ہے۔

اگر یہ سب کچھ صرف فلموں میں ہوتا تو شاید گزارا ہو جاتا لیکن ہم نے برصغیر کی تاریخ کو بھی اس قسم کی رومانوی فلم بنا دیا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں سندھ کی تاریخ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔ محمد بن قاسم ہیرو ہے یا راجہ داہر ہیرو ہے؟ حالانکہ یہ بھی تو ممکن ہے کہ دونوں نہ ہیرو ہوں اور نہ ولن ہوں بلکہ اپنے دور کے معمول کے حکمران ہوں۔

Read more

کورونا وائرس اس وقت کیا سوچ رہا ہے؟

یار مجھے تو ڈر لگ رہا ہے یہ کیسی قوم ہے جسے ہم ڈرا ہی نہیں سکے، بھائی یہ کون سا ملک ہے۔ تمھیں نہیں پتہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، یہاں ہمارا مقابلہ بڑے سخت جان لوگوں سے ہے انھیں تو موت کا خوف بھی نہیں، پچھلے چھ مہینوں سے ہم نے دنیا بھر میں خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے، ساری دنیا میں لوگ ہمارے خوف سے گھروں میں بند تھے اور ہماری کارکردگی سے شہروں پر موت کے سائے منڈلا رہے تھے ان لوگوں نے تمام اصولوں پر عمل کرکے ہمارے قدم اکھاڑ دیے، رہنے سہنے کے نئے رنگ ڈھنگ اپنا لیے، ہاتھ دھونا، لوگوں سے فاصلہ رکھنا، دور دور سے ہیلو، ہائے اور بائے کہہ رہے ہیں لیکن سلام ہے اس پاکستانی قوم کو جتنا میں کاری وار کر رہا ہوں اتنی ہی یہ نڈر ہو رہی ہے۔

Read more

ارطغرل غازی نے کئی نقاب سرکا دیے ہیں

آپ نے شتر مرغ کا نام ہی نہیں سنا ہو گا بلکہ یقیناً اسے دیکھا ہوا بھی ہوگا۔ جتنا یہ خود عجیب ہے اتنا ہی اس کا نام بھی عجیب ہے۔ شتر مرغ فارسی زبان کا لفظ ہے جو دو الفاظ ”شتر“ اور ”مرغ“ کا مجموعہ ہے۔ شتر کا معنی اونٹ جبکہ مرغ کا معنی ہے پرندہ۔ اس لحاظ سے شتر مرغ کا مطلب ہوا اونٹ نما پرندہ یا پرندہ نما اونٹ۔ کسی نے اس سے پوچھا :تم شتر ہو یا مرغ؟ اس نے جواب دیا : میں شتر (اونٹ) ہوں۔ پوچھنے والے نے پوچھا : شتر ہو تو بوجھ کیوں نہیں اٹھاتے؟ اس نے جواب دیا : نہیں! میں مرغ (پرندہ) ہوں۔ پوچھنے والے پھر سوال داغا:اگر مرغ ہوتو اڑتے کیوں نہیں؟ اس نے دیدے گھماتے ہوئے جواب دیا: کیونکہ میں شتر ہوں۔ یعنی جب بوجھ اٹھانے کا وقت آئے تو یہ مرغ بن جاتا ہے اور جب اڑنے کا وقت آئے تو شتر بن جاتا ہے یعنی کام سے بھاگتا ہے۔

Read more

عمران خان صاحب! محمد بن قاسم بننے سے بہتر ٹیپو سلطان بن جائیں

پرویز مشرف نے ریاست کو قبضے میں لے کر غیر آئینی حکومت بنا کر عوام کو کئی نان ایشوز کے گرد گمایا۔ غیرسیاسی ذہن سازی کے لئے روشن خیالی کے نام پر مرا تھن ریس اور کئی ڈھکوسلے کیے گئے۔ مارشل لاء کو جمہوریت کی چھتری میں چھپانے کے لئے ملک بھر سے ایم این ایز اور ایم پی ایز خرید کر اسمبلیاں تخلیق کیں۔ ظفر اللہ جمالی اور شوکت عزیز کو وزیر اعظم بھرتی کیا۔ ملکی مسائل حل کرنے

Read more

جبران ناصر کا ارتغرل

جبران ناصر صاحب مجھے پسند ہیں۔ وہ بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں۔ انہوں نے ماشا اللہ پچھلے انتخابات میں حصہ بھی لیا تھا۔ آپ ’این۔ اے۔ دو سو سینتالس‘ اور ’پی۔ ایس۔ ایک سو گیارہ‘ سے کھڑے ہوئے تھے۔ قومی اسمبلی کی سیٹ پر آپ نے ماشااللہ چھے ہزار چار سو باسٹھ ووٹ لئے تھے اور صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر آپ نے چھے ہزار ایک سو نو ووٹ حاصل کیے تھے۔ آپ اپنے حلقوں میں ماشا اللہ سے چوتھے

Read more

راجا داہر سے ارطغرل تک

کرونا کی وبا کے علاوہ آج کل سوشل میڈیا پر دو ہی ایشو ہیں۔ راجا داہر اور محمد بن قاسم میں سے اصل ہیرو کون اور ترک ڈراما ارطغرل۔ اس بہ ظاہر انتہائی معمولی اور مکمل طور پر غیر ضروری بحث کے باعث لبرل اور مذہبی حلقوں کے نقطہ نظر میں ایک واضح اور پریشان کن تقسیم دکھائی دے رہی ہے۔ رہی سہی کسر ارطغرل کی ہیروئن اسرا بلیگچ کی سوشل میڈیا پر جاری تصاویر نے پوری کر دی اور مضحکہ خیز اور لا حاصل بحث کو نیا رخ دے ڈالا۔

Read more

مفروضہ قوم کا ہیرو:محمد بن قاسم یا راجہ ڈاہر؟

ہیرو کیا ہوتا ہے؟ اگر ہم لغوی معانی دیکھیں تو کوئی بھی ایسا شخص جو اپنی اعلیٰ خدمات پر یاد رکھا جائے اسے ہیرو کہتے ہیں۔ تو کسی شخص کی کون سی خدمات کو یاد رکھا جائے تو وہ ہیرو ہے؟ اور کب تک خدمات کو یاد رکھا جائے تو وہ ہیرو ہے؟ قومی ہیرو کون ہے؟ حقیقی ہیرو کون ہے؟ ہیرو کون ہے؟

ان دنوں ان سوالات کے جواب ڈھونڈنا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ ہیرو کی تعریف ہی اصل ہیرو کی پہچان دے گی۔ مثلاً مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ ”جوانی پھر نہیں آنی“ کا ہمایوں سعید ہمارا قومی ہیرو ہے یا ”پنجاب نہیں جاؤں کی“ کی صدراتی ایوارڈ یافتہ مہوش حیات ہماری قومی ہیرو۔ اگر ہیرو کی تعریف مل جائے تو ہیرو کو بھی تلاش لیا جائے گا۔

Read more

راجا داہر، محمد بن قاسم، جاری بحث پر طنزیہ تحریر

” 1001 دن، داستان“ کوا جاتی

جنگل میں عدالت لگی ہوئی تھی۔ مخبر چوہوں نے شیر بادشاہ کو آگاہ کردیا تھا کہ کوا وہ واحد پرندہ ہے جو انسانوں میں جاکر ان کی منڈیروں پہ بیٹھا، بھانت بھانت کی خبریں ان انسانوں میں ”کائیں کائیں“ کر کے پہنچایا کرتا ہے، جو سیانے ہیں اسے بیٹھنے نہیں دیتے اور جو سیانے نہیں، وہ اس کی کائیں کائیں بڑی دھیان سے سنتے، آہیں بھرتے ہیں کہ ”کوئی وارد، نووارد ہوا“ ۔

Read more

شاہ فیصل سے ارطغرل تک، پاکستانیوں کے بدلتے تیور

عجیب اتفاق ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ہمارے بچپن میں لگائے ہوئے تاریخ کے رٹے سخت مشکلات کی زد میں ہیں اور محمد بن قاسم سمیت ہمارے کئی فیورٹ کردار تنقید کی زد میں ہیں، وطن عزیز میں چپکے چپکے ایک نیا تاریخی بیانیہ تشکیل پا رہا ہے۔ اعلی تعلیم یافتہ، امن پسند قائداعظم کے پاکستانیوں کو یک لخت جنگجو ترک قبائلی سردار ارطغرل میں اپنا نیا ہیرو نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر مقبول

Read more

راجہ داہر اور رنجیت سنگھ کو ہیرو سمجھنے والے

راجہ داہر سندھ کا آخری ہندو حکمران تھا۔ وہ سندھ کے برہمن خاندان میں پیدا ہوا۔ راجہ داہر نے حکمران بننے کے بعد اپنی سلطنت کو وسیع کرنا شروع کیا۔ نزدیک کئی چھوٹی ریاستیں اس کے رشتہ داروں کی تھیں۔ سندھ میں عربوں کی فتوحات کی سب سے پرانی دستاویز چچ نامہ کو سمجھا جاتا ہے۔ یہ کتاب محمد بن قاسم کے رشتہ دار خاندان نے لکھی اور اسے عربی سے فارسی میں ترجمہ 1216 میں محمد علی بن حامد بن ابوبکر کوفی نے کیا۔

Read more

منصب سازی میں کے زعم میں مبتلا بھکاری قوم

دل درد سے معمور ہے۔ رات کے پچھلے پہر طالب علم کاذہن جب یہ الفاظ اگل رہا ہے تو انتشار فکری کے باوجود اس بات پر مرکوز ہے کہ دنیا بھر کے وسائل سے نواز دی گئی یہ قوم عقل سے کام کیوں نہیں لیتی؟ کہتے ہیں خالق جب کسی سے کوئی چیز چھیننا چاہے تو عقل چھین لیتا ہے۔ بے نیازخالق کا آئین اٹل ہے۔ کوئی ترمیم اس میں ممکن نہیں کہ الیوم اکملت لکم کا فل سٹاپ لگا دیا گیاہے۔ خالق کے اس آئین کا بنیادی اصول یہ ہے کہ علم اور جدوجہد کرنے والا فرد ہو یا قوم اس کی محنت کبھی ضائع نہیں کرتا۔

Read more

راجہ داہر کی بحث کیوں؟

کوئی پوچھے ہم سب سے زیادہ کس بیماری کو پھیلاتے ہیں تو جواب ہو گا، سنی سنائی تاریخ۔ سندھ میں چند درجن لوگوں نے راجہ داہر کا دن منایا۔ راجہ داہر مسلمانوں کا ولن ہے۔ ضروری نہیں غیر مسلم سندھی اس سے لاتعلق ہو جائیں۔ ہندوستان کی حکومت کو ہم مسلمان حکمرانوں کی یادگاریں محفوظ رکھنے کا کہتے ہیں لیکن خود الٹ کرتے ہیں۔ کچھ اسی طرح کی صورت حال رنجیت سنگھ کی نسبت پنجاب میں ہے۔ رنجیت سنگھ سے پہلے لاہور پر تین سکھ سرداروں کی حکومت تھی۔

Read more

بیرونی حملہ آور اور مقامی شناختی بحران

حملہ آور صرف مال و دولت لوٹ کر نہیں لے جاتے رہے یا دھرتی کے بیٹیوں، بیٹیوں اور بچوں کو صرف غلام بنا کے نہیں لے جاتے رہے بلکہ اس سے بھی بڑا ظلم یہ کر گئے ہیں کہ آنے والی نسلوں تک سے بھی شناخت چھین کر گہرے اجتماعی نفسیاتی بحران میں پھینک گئے ہیں۔ مفتوح اپنی شناخت سے بھاگتے رہتے ہیں اور ذلیل و بے توقیر کیے گئے مفتوح کی بجائے طاقتور، بارعب اور پرتمکنت حملہ آور کے ساتھ اپنی شناخت جوڑنے میں نفسیاتی طورپر زیادہ آسودگی محسوس کرتے ہیں۔

Read more

محمد بن قاسم یا راجا داہر : ہیرو کون

پچھلے کچھ دنوں سے محمد بن قاسم اور راجا داہر کے متعلق بحث چھڑی ہوئی ہے۔ اک طبقہ ہے جس کا ماننا ہے کہ محمد بن قاسم بیرونی حملہ آور تھا اور اس کے آنے سے قبل اسلام ہندوستان میں پہنچ چکا تھا۔ جبکہ ہمارا مطالعہ پاکستان کہتا ہے کہ محمد بن قاسم 712 ء میں اک مظلوم لڑکی کی فریاد پہ اس راجا داہر جیسے ڈاکو سے چھڑانے سندھ میں وارد ہوئے۔ ان کی عمر تب سترہ سال تھی وہ ہندوستان میں اسلام لائے۔

کچھ لوگ گڑے مردے اکھاڑے جانے پہ شکوہ کناں ہیں کہ یہ لاحاصل بحث ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔

Read more

بادشاہوں کے مذہب نہیں ہوتے

ہمارا مسئلہ پتا کیا ہے؟ ہم آج تک مسلمان حملہ آور اور اسلام کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کر پائے، ہمیں لگتا ہے مسلمان حملہ آور اور لٹریرے کا مخالف اسلام کا مخالف ہے۔ یعنی جس کو محمد بن قاسم، غزنوی، غوری یا دیگر وغیرہ پسند نہیں وہ خدانخواستہ اسلام سے ہی بیزار ہے۔ ادھر ہم مولوی اور اسلام کو لازم وملزوم سمجھ کے ایک ہی تصویر کے دو رخ سمجھتے ہے۔ لہذا کسی مولوی کا مخالف اسلام کا

Read more

برصغیر کے پہلے مسلمان کی فکری صلاحیت اور بصیرت

محمد بن قاسم کا سندھ پر حملہ اور راجہ داہر کی شکست کے ساتھ ہی ہماری غلامی کا آغاز ہوچکا تھا۔ یہ جسمانی غلامی کے علاوہ فکری اور شعوری غلامی بھی تھی جس نے ہمیں ہندوستان کی ثقافت سے منہ موڑ کرہزاروں میل دور عربوں کی ثقافت میں جکڑنے کے لیے ذہنی طور پر قائل کیا۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہمارے اباواجداد میں سے اس وقت کے پہلے شخص نے کس بنیاد پر مذہب کی تبدیلی کو قبول کیا

Read more

کیا فتح سندھ ایک عرب سامراجی سازش تھی؟

سائیں جی ایم سید اپنی کتاب سندھی کلچر میں لکھتے ہیں کہ میرے کانوں میں آج بھی اہم سیاسی لیڈروں کی آوازیں گونجتی ہیں کہ چھوٹا صوبہ چھوٹے دماغوں والے لوگوں (سردار پٹیل)، سندھیوں کا کلچر گدھے ہانکنے اور اونٹ چرانے والوں کا ہے (لیاقت علی خان) ۔ یاد رہے کہ جی ایم سید سندھ اسمبلی سے سب سے پہلے قرارداد پاکستان منظور کرانے والے شخص تھے۔ سندھو دیش کا نعرہ لگانے کے بعد ان کا شمار باغیوں میں ہونے

Read more

محمد بن قاسم اور لڑکی کا خط

ہم نے تاریخ وغیرہ کی الگ سے تو کوئی کتابیں نہیں پڑھیں، لیکن معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان میں اتنی تاریخ بہرحال ہم نے پڑھی ہے کہ ہمیں علم ہے محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کیوں کیا تھا۔ ہوا یہ تھا کہ سراندیپ میں مسلمان اور عرب تاجر رہتے تھے۔ سراندیپ کے راجہ نے حجاج کے پاس بہت سے ہیرے جواہرات، حبشی غلام اور خوبصورت لونڈیاں تحفے میں بھیجیں۔ انہیں جہازوں پر کچھ مسلمان عورتیں بھی سوار ہو

Read more

پاکستانی بھولے کا اسلام۔ حصہ دوم

پیشِ تحریر: ”ہم سب“ والوں کو کہنا یہ ہے کہ جنابانِ من، آپ بڑے بڑے نابغوں کی نابغانہ چوہدراہٹی عقل کے بغیر ہی، اور صرف اپنی محنت و ذہانت کی بنیاد پر ہم سب کو اک مقام پر لے کر آئے تھے۔ اس کی ندرت اور بنیادی خیال کو زندہ رکھیں۔ آپ کی ویب سائٹ پر ٹریفک اور ہِٹس کی بلاشبہ اپنی اہمیت ہے۔ اس پر جو شائع ہوتا ہے، اس کی بھی بہرحال اپنی اہمیت ہے۔ خیال، تخلیق، خواب،

Read more