ماں کا دن بمقابلہ ماں کی دین

کچھ موضوعات پر بات کرنا یا لکھنا بے حد مشکل ہوتا ہے۔ میرے لیے یا تو ان شخصیات، لوگوں اور موضوعات کے حوالے سے بات کرنا کٹھن ہوتا ہے، جن کے بارے میں میری معلومات بالکل کم ہوں، یا پھر ان کے بارے میں، جن کو آپ بہت زیادہ جانتے ہوں، یا جو دل کے بہت قریب ہوں۔ دوسرے قسم کے موضوعات کے حوالے سے یہی فیصلہ کرنا ایک مشکل امر ہوتا ہے کہ بات شروع کہاں سے کی جائے۔

اور جب دل کے قریب رہنے والی ہستیوں میں سے سب سے ممتاز کردار پر لکھنے کی بات ہو، جو اس دنیا میں ہمارے ظاہری وجود برپا کرنے کی وجہ بنی ہے، تب تو تحریر و تقریر کے تمام تر گر، دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، اور اپنی ہر تحریر پھیکی محسوس ہوتی ہے۔ سچ بھی یہی ہے کہ ”ماں“ ایک ایسا موضوع ہے، جس پر میکسم گورکی کی طرح کوئی فصاحت و بلاغت، فن اور ہنر کے دریا بہا دے، مگر پھر بھی قلمکار کو لگے گا کہ وہ اس موضوع کے ساتھ انصاف نہیں کر سکا۔ اور اس مضمون کا حق بھی یہی ہے کہ حق ادا نہ ہو۔

Read more

غیر پیشہ ور صحافی اور عالمی یومِ آزادیٔ صحافت

تین مئی کو پوری دنیا نے ”آزادی صحافت کا عالمی دن“ منایا۔ پاکستان جیسے ممالک کی تو بات ہی چھوڑ دیں، دنیا بھر کے سدھرے ہوئے معاشرے بھی یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کو اظہار کی مکمل آزادی حاصل نہیں ہے۔ بادشاہتوں کا تو ذکر ہی نہیں کرتے، ذرا اپنے پڑوس میں ایران اور چین میں ہی جھانک لیں۔ کیا روایتی میڈیا، کیا سوشل میڈیا۔ آپ کو ”آزادی اظہار“ کا لگ پتا جائے گا۔ خود دنیا بھر کے حقوق

Read more

خاکی جویو کی خود نوشت ”جن پڑھایو پانڑ“ (جس نے خود کو پڑھایا)۔

سندھ کے معروف شاعر، نثر نویس، سیاسی کارکن و دانشور، صحافی اور سندھی میں پندرہ وار رسالے ”سانجاھ“ کے مدیر، خاکی جویو 8 مارچ 1942 ء کو ضلع دادو میں پیدا ہوئے اور تین برس قبل، 2 مئی 2017 ء کو کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں اپنی آخری سانسیں لے کر اس دار فانی سے کوچ کر گئے اور ضلع جامشورو میں ”سن“ شہر کے تاریخی قبرستان میں دریائے سندھ کے کنارے کے قریب ابدی آرامی ہوئے۔ انہوں نے

Read more

محمّد اسمٰعیل عُرسانی۔ سندھی علم و ادب کا روشن حوالہ

یہ ہر دور میں ہر خطّے کی سماجی، سیاسی، ادبی خواہ ثقافتی تاریخ کا المیہ کہیے، یا فطرت کا دستور، کہ تاریخ ہمیشہ ہر دور کے چند ہی ناموں کو رہتی دُنیا تک یاد رکھتی ہے، جبکہ اُس دور کے کئی اور نام وقت کی دھول میں گمگشتہ ہو جاتے ہیں، جنہوں نے اپنے اپنے شعبے میں کارہائے نمایاں تو انجام دیے ہوتے ہیں، اور اپنے شعبے کی تاریخ کی تعمیر میں اُن کا بہت بڑا حصّہ بھی ہوتا ہے،

Read more

اچُھوت خُون (سندھی افسانے کا اردُو ترجمہ)

تحریر: انیلا ’نِیل‘ ترجمہ: یاسر قاضی * * * * * * * * * * ”تَنُو! او تَنُو۔ ! شام ہو چلی۔ یہ لڑکا نہ جانے کہاں غائب ہے۔ کہا بھی تھا کہ وقت پر دوائی لے کر سیدھے گھر آنا۔ مگر مجال ہے کہ یہ کوئی بھی کام وقت پر کرے۔ ”بیگم صاحبہ نے بِلا توّقف بڑبڑاتے، تَنُو کو پکارتے ہوئے، زور سے سرونٹ کوارٹر کا دروازہ کھولا۔ بوسیدہ دروازے کے طاق نے بیگم صاحبہ کی بے رحمی

Read more

میرا کوئی دیس نہیں ہے، میرا دیس جہان

سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری زمین ساڑھے 4 ارب سال قدیم ہے، جبکہ اس پر زندگی کے آثار اندازاً 3.77 ارب سالوں سے لے کر ہیں۔ زمین کے مقابلے میں یہ کائنات 9.3 ارب سال پرانی ہے، یعنی سائنس کے اندازے کے مطابق کائنات کی کل عمر 13.8 ارب سال ہے۔ اس کُرّہء ارض پر سمندروں (پانی) کا وجُود 4.41 ارب سال پرانا ہے۔ یہاں پانی کی دستیابی کے فوراً بعد ہمیں زندگی کے وجود کے آثار بھی ملتے

Read more

کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر

کتاب انسان کا بہترین دوست ہی نہیں، بلکہ ہم میں سے ہر کسی کے ساتھ بالواسطہ یا بلا واسطہ وابستہ ایک ایسا ساتھی ہے، جس کے ساتھ ہمارا تعلق عُمر بھر کا ہے۔ مذہبی اور الہامی کتب، گرنتھوں اور پستکوں سے لے کر نصابی کتابوں تک، ادب، تاریخ، ثقافت اور تہذیب کی دستاویزات سے لے کر پیشاورانہ معلومات دینے والے مجموعوں تک، لگ بھگ ہر انسان کا واسطہ کتاب سے پڑتا رہتا ہے، چاہے وہ تعلیم یافتہ فرد ہو نہ

Read more

سندھ کے معروف ناشر، پوکر داس تھانور داس شکارپوری

سر زمینِ سندھ کی بے پناہ انفرادی حیثیتوں میں سے ایک ممتاز حیثیت یہ ہے، کہ برِ صغیر میں چھپائی اور اشاعت کا آغاز ”سندھ کے پیرس“ شکار پور سے ہوا۔ پاک و ہند میں سب سے پہلے چھاپا خانے کی تنصیب شکار پور میں ہوئی۔ شکار پور کی اور بھی بہت سی منفرد حیثتیں ہیں، جن کو قلم  بند کیا جائے، تو اِس جیسی سیکڑوں نگارشات اور کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ برِ صغیر کی پہلی لیڈی ڈاکٹر، سارہ

Read more

مقصُود گل کی منفرد قلمی کاوش: سچّل سرمست کے فارسی کلام کا منظوم اردو ترجمہ

مقصود گل کا شمار سندھ کے قادرالکلام شعراء میں ہوتا ہے، جنہوں نے شعر و سخن کے ساتھ ساتھ نثرکے میدان میں بھی اپنے قلمی کارنامے انجام دیے۔ انہوں نے کالم نویس، افسانہ نگار، محقق، مترجم، صحافی، بچّوں کے ادیب، خاکہ نویس اور ڈرامہ نگار کی حیثیت سے اپنی نمایاں ادبی خدمات کی وجہ سے شہرت پائی۔ وہ شاعر ابنِ شاعر تھے۔ ان کی پیدائش، 70 برس قبل 15 اپریل 1950 ء کو لاڑکانے ضلع کے شہر ”رتودیرو“ میں ہوئی،

Read more

سندھڑی دا، سہون دا، سخی شہباز قلندرؒ

اگر دنیا بھر میں کورونا کی وبا پھیلی ہوئی نہ ہوتی تو، اتوار 12 اپریل 2020 ء، 18 شعبان المُعظّم 1441 ہ سے دینِ حق کا پیغام افغانستان تا سندھ پہنچانے والے جلیل القدر بزرگِ دین اور جیّد ولی اللہ، حضرت لال شہباز قلندرؒ کا 768 واں سالانہ عُرس مبارک سہون شریف میں شروع ہو چکا ہوتا۔ اگر ہم پاکستان کے بڑے فیسٹیولز اور عوامی اجتماعات کا ذکر کریں تو یہ عرس، ملک کا غالباً سب سے زیادہ تعداد میں

Read more

سندھ حکومت سست پڑ گئی: کیا ”انیل کپُور“ کو کسی ”امریش پُوری“ نے ڈرایا ہے؟

22 مارچ 2020 والے وزیر اعلیٰ سندھ کہاں گئے؟ وہ جوش، جذبہ، وِیژن، وبا سے لڑنے کا عزم، عقل اور دُوراندیشی والی حکمتِ عملی کہاں غائب ہو گئی؟ اور ہفتے ڈیڑھ سے ایک عجیب سکُوت سا کیوں طاری ہے؟ لاک ڈاؤن سے لے کر ٹیسٹنگ تک ڈھکوسلا سا کیوں نظر آ رہا ہے؟ جو فرق ملک کا ہر عام سے عام فرد بھی محسوس کر سکتا ہے۔ ہماری سندھ، جو ہر فیصلے میں بروقت حفاظتی و احتیاطی اقدامات کر کے،

Read more

کووڈ 19 سے متعلق عالمی طبّی ماہرین کے چند بنیادی ابتدائی مشاہدات

”کووڈ۔ 19“ کے اس وبائی مرض میں تین ماہ کے تجربے کے بعد، لوگوں کی معلومات میں اضافہ کرنے کے لیے ڈاکٹرز مستحکم پوزیشن میں ہیں۔ اب طبّی پیشہ ور افراد ”کووڈ 19“ کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں۔ نیو یارک کے کچھ طبّی ماہرین نے ”نوول کورونا وائرس“ کے حوالے سے کچھ بنیادی سوالوں کے جواب دیے ہیں، جن کو ترجمہ کر کے آپ تک پہنچایا جا رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ ان میں سے کچھ

Read more

کورونا کے بحران کے دوران ہر ذہن میں اُٹھنے والے چند بنیادی سوالات

ہر ذہن میں ہر حوالے سے کئی سوالات ابھرتے رہتے ہیں، سوال منطقی ہو یا بے تکا، اس کو ابھرنے دیا جانا، شعور کی افزائش کے لیے بیحد ضروری ہوتا ہے۔ اتفاق سے ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں، جہاں سوال اٹھانے کو گناہ تصوّر کیا جاتا ہے، اس لیے ہم بچپن سے بچّے کو سوال کرنے سے روکتے ہوئے، اس کی ذہنی پرورش میں رکاوٹیں حائل کرتے ہیں، نتیجتاً ان کے ذہنوں میں عمر بھر کئی سوالات پیدا

Read more

دس پندرہ دن: الہداد میرانی کے سندھی افسانے کا اردو ترجمہ

معمول کے مطابق میں رات دس بجے سو گیا۔ آنکھ لگے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی اور کسی اچھے خواب میں غلطان تھا کہ دروازے کی کال بیل ایسے بجنے لگی جیسے ہنگامی حالات نافذ ہو گئے ہوں۔ نیند اُڑ گئی۔ گھڑی کی طرف دیکھا تو ابھی ساڑھے گیارہ ہی بجے تھے۔ میں تیز تیز قدموں سے دروازے کی طرف بڑھا۔ ”کون ہے؟ “ اندر سے ہی دریافت کیا۔ ”میں ہوں۔ دروازہ کھولیے“ باہر سے جواب ملا۔ میں نے آواز

Read more

2 اپریل: بچّوں کی کتب کا عالمی دن

2 اپریل کو ”بچّوں کی کتب کے عالمی دن“ کے طور پر منایا جاتا ہے، جبکہ اسی مہینے کے دوران ہی اس دن کے 20 دن بعد 23 اپریل کو اقوامِ مُتحدہ کی جانب سے ”کتب اور کاپی رائٹ کا عالمی دن“ منایا جاتا ہے۔ ”کتب اور کاپی رائٹ کا عالمی دن“ 1995 ء سے منایا جاتا ہے، جبکہ ”بچّوں کی کتب کا عالمی دن“ ایک بین الاقوامی غیر سرکاری ادارے ”انٹرنیشنل بورڈ آن بُکس فار یَنگ پیپل“ (آئی بی

Read more

ایک وقت کا کھانا

”بس دو منٹ بیٹھو۔ میں ابھی اے ٹی ایم استعمال کر کے آیا۔ “ شہر کے مصروف کمرشل روڈ پر، دو بنکوں کے سامنے کھڑی کئی موٹر سائکلوں کے درمیان، مشکل سے ”عارضی پارکنگ“ کی جگہ ڈھونڈھتے ہوئے، عدنان نے گاڑی کھڑی کی اور مکرّم کو تاکید کرتے ہوئے، گاڑی سے اُتر گیا۔ روڈ کراس کر کے، اُس پار جا کر، ایک اور بنک کے ’اے ٹی ایم سے‘ اپنی ضرورت کے مطابق کچھ رقم نکلوا کر، واپس سڑک عبور

Read more

کورونا کے خلاف ”پَیسِو امیونائیزیشن“ اور رہنماؤں میں انا کا وائرس

آج جب کورونا وائرس دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ اور چیلینج بنا ہوا ہے اور تمام دنیا کے طبّی ماہرین اس مرض سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہر چھوٹے بڑے طریقے خواہ علاج کی تلاش میں مصرُوفِ عمل ہیں اور ہر قسم کے تجربات کر رہے ہیں، ایسی صورتحال میں پاکستان کے نامور اور باصلاحیت فزیشن، ماہرِ امراضِ خُون (ہیماٹالاجسٹ) اور ”نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈزیزز“ (این آئی بی ڈی) کے ڈِین اور ڈائریکٹر، ڈاکٹر طاہر شمسی نے،

Read more

ہٹلر۔ بحیثیت ایک مُصوّر

بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہوگا کہ کروڑوں مرد، خواتین اور بچوں کے قتل کا ذمہ دار اور ایک ظالم آمر کے طور پر عالمی شہرت رکھنے والا جرمن سیاستدان اور نازی پارٹی کا ہٹ دھرم رہنما ”ایڈولف ہٹلر“، جس کی پہچان ایک قوم پرست اور نسل پرست نظریاتی حکمران اور امتیازی سلوک اور خاتمے کی پالیسی کے روحِ رواں کی تھی، جس نے مختلف نسلی، سیاسی اور معاشرتی گروہوں کو منفی انداز میں متاثر کیا، وہی سابق جرمن

Read more

چین سے امریکی صحافیوں کا انخلا اور کورونا سے جڑے سیاسی سوالات

کورونا وائرس کی وبا (پینڈیمک) پورے عالم کو اپنی گرفت میں قابُو کر چکی ہے۔ اس وبا کے پھیلنے کے جہاں پر طبّی، معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی اسباب ہیں اور اثرات مرتب ہوئے ہیں، وہیں اس کے سفارتی نتائج بھی برآمد ہو رہے ہیں، جو باقی عوامل کی طرح گہرے اور دُور رس ہوں گے۔ اس وبا پھیلنے کا محرّک کیا تھا! اس پر بھی دنیا کے اذہان سوچیں گے، صرف وہ فی الحال اس انسان کُش وبا سے بچاؤ

Read more

ذہانتَ (افسانہ)

”بابا! اس سامنے والے جہاز میں کھڑکیاں کیوں نہیں ہیں! ؟ “ جہاز کی کھڑکی والی سِیٹ پر بیٹھی حرِیم نے، جہاز اُڑنے سے قبل، ٹیکسی کے دوران، کھڑکی سے نظر آنے والے، ایئرپورٹ پر کھڑے، دوسرے جہاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے ابا سے حیرتَ کے مارے دریافت کیا۔ شاید اس نے ایسا جہاز، اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ”بابا، یہ کارگو کا جہاز ہے، اس لیے۔ “ جہاز کی گلی کی سائیڈ والی سیٹ (آئل

Read more

ڈیوٹی

ماسٹر رفیق کی آدم شماری کی دس روزہ ڈیوٹی کے آخری دن کا آخری گھنٹہ تھا۔ اس کے ساتھ سپاہی قیُوم رانا کی ڈیوٹی بھی لگی تھی۔ سہ پہر کے قریب جب وہ دونوں، آخُوند معشُوق صاحب کے گھر کی مردم شماری اور گھر کے افراد کا اندراج کرنے کے لیے پہنچے تو ماسٹر رفیق، جو بہت تھک چکا تھا، آخُوند صاحب کے گھر کے سامنے لگے انگریزی ببُول کے پیڑ کے نیچے رکھی لکڑی کی ٹوٹی ہوئی بنچ پر

Read more

اپنی خاک پہ نازاں۔ خاکی جویو

قلمکار، قوموں کے انقلابوں کے نقیب ہوا کرتے ہیں، مگر ان میں سے کچھ ایسے میر ہائے کاروانِ قلم بھی ہوا کرتے ہیں، جو علم کے ساتھ ساتھ، عمل کے میدان میں بھی جدوجہد کے ساتھ شعُور کی وہ شمعیں روشن کیا کرتے ہیں، جن کے اُجالے آنے والے زمانوں تک، آنے والی نسلوں تک کی رہنمائی کے لیے کارگر ثابت ہوتے ہیں۔ فکری طرح سے تاریک نسلیں پیدا کرنے کی کوشش ہر دور میں ہوتی رہتی ہے، مگر پھر

Read more

مقصُود گل کی پانچویں برسی کی تقریب

کراچی پریس کلب کی جانب سے، مقصُود گل اکیڈمی سندھ کے تعاون سے، سندھ کے نامور شاعر، دانشور، عالم، افسانہ نویس، کالم نویس، صحافی اور حضرت سچل سرمست رحہ کے شارح و مترجم، مقصُود گل کی پانچویں برسی کے موقع پر، انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے کراچی پریس کلب کے کانفرنس ہال میں، ایک پُروقار ادبی تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس کی صدارت نامور شاعر، صحافی اور تاریخدان یوسف شاہین نے کی، جبکہ تقریب کی مہمانِ خصُوصی،

Read more

مادری زبانوں سے دُور ہوتے ہم اور مادری زبانوں کا عالمی دن

پچھلے دنوں 21 فروری کو پوری دنیا نے ”مادری زبانوں کا عالمی دن“ منایا۔ پُوری دنیا میں اس وقت لگ بھگ 6 ہزار 500 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ان زبانوں میں سے تقریباً 2000 ایسی زبانیں ہیں، جن کے بولنے والوں کی تعداد خطرناک حد تک کم ہے، یعنی ان 2000 زبانوں میں سے ہر زبان کے بولنے والوں کی تعداد ایک ہزار کے اندر ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ ان زبانوں میں سے کئی سو زبانیں ایسی ہیں،

Read more

کراچی میں زہریلی گیس کا مُعمّہ اور حکُومتی غیر سنجیدگی

ملک کے سب سے بڑے شہر میں لوگ لاوارث مر رہے ہیں۔ جیسے عام آدمی کی جان کی کوئی قیمت ہی نہ ہو۔ پیر اور منگل کے دوران ( 48 گھنٹوں میں ) 14 لوگ لقمہء اجل بن گئے۔ کم و بیش 200 افراد کی حالت غیر ہوئی اور وہ ہسپتال جا پہنچے ہسپتالوں میں ایمرجنسیز نافذ ہو گئیں۔ لوگوں میں خوف اور دہشت طاری ہے۔ کیماڑی کا علاقہ، چین کے شہر ”وُوہان“ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ لوگ

Read more

سرمد کھوسو کی تعلیمی تحریروں پر مشتمل سندھی کتاب: ”تنیں کھے تعلیم جی“

اس شکایت کی کوئی بنیاد نہیں ہے کہ ”آج کل ہمارے یہاں قاری مر گیا ہے۔ “ قاری جاوداں ہے اور زندہ رہے گا، جب تک خوبصورت ادب تحریر ہوتا رہے گا اور خوبصورت ادب رہتی دنیا تک تحریر ہوتا رہے گا۔ وقت کے تغیّرات کاغذ، قلم، دوات، کتاب اور اخبار کی اہمیت کو کم نہیں کر سکتے۔ دنیا بھر میں فکشن اور نان فکشن میں عظیم ترین ادب تخلیق ہو رہا ہے اور آج بھی دنیا بھر کے قارعین

Read more

آغا سلیم: وفات کے چار برس بعد

آغا سلیم چار برس قبل اُس دیس چلے گئے، جہاں سے کوئی آج تک واپس نہیں آیا۔ آغا سلیم نہ صرف سندھی، بلکہ اُردو اور انگریزی کے معروف اور معتبر دانشور، عالم، افسانہ نویس، ناول نگار، مترجم، شاعر، صحافی، براڈکاسٹر اوردیگر متعدد علمی و ادبی خوبیوں سے مالا مال ایک ایسی شخصیت تھے، جن کا صحیح قد اُنہی کو معلوم ہو سکتا ہے، جنہوں نے اُن کے کام کو پڑھا اور دیکھا ہے۔ 7 اپریل 1935 ء کو سندھ کے

Read more

غالبِ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں!

151 برس بیت گئے، اُسے گئے۔ اس ڈیڑھ صدی میں ہم نے اس کے کلام سے روشنی کی راہداریاں کتنی ڈھونڈھیں اور ”فُٹّا“ اور باٹ لے کر ناپ تول کتنی کی کہ فلاں اس سے بڑا شاعر ہے یا فلاں۔ ”مِیر“ کا تغزل غالب سے بھرپور ہے، یا ”داغ“ کی اردو۔ ”مومن“ کی فصاحت کے نمبر ”اسد“ کی بلاغت سے زیادہ ہیں، یا شیخ ابراہیم ”ذوق“ کی فکری گہرائی ”نوشہ“ پر بھاری ہے۔ اس کھینچا تانی میں ہم نے غالب

Read more

مقصُود گل: جدائی کے پانچ برس

اور پتہ ہی نہ چلا۔ پانچ برس بِیت گئے۔ ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے کہ جب ”خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسم، بچھڑ گیا تیری صُورت بہار کا موسم“۔ کہ جب سندھی اور اردو کے معرُوف شاعر و ادیب، عالم و دانشور، کالم نویس و افسانہ نگار، ریڈیو اور ٹیلی وژن کے گیت نگار و اسکرپٹ رائٹر، بچّوں کے ادیب اور حضرت سچل سرمستؒ کے شارح اور مترجم، جنابِ مقصُود گل ہم سے اچانک بچھڑے

Read more

نشریاتی غربت کا شکار مُلک اور ریڈیو کا عالمی دن

ہم عام طور پر یہ جانتے ہیں کہ ریڈیو ”گوگلیلمو مارکونی“ نے ایجاد کیا، مگر وہ صرف مارکونی ہی نہیں تھے، جنہوں نے ریڈیو کو موجودہ شکل میں ہم تک پہنچایا، مگر مارکونی کے ایجاد کردہ ریڈیو کو بھی کئی سائنسدانوں اور برقی ماہرین کے (کامیاب خواہ ناکام) کئی تجربوں کا سہارا ملا۔ اس ضمن میں پہلا تجربہ ”ہنس کرسچن اوسٹیڈ“ (پیدائش: 14 اگست 1777 ء۔ وفات: 9 مارچ 1851 ء) نامی ڈینمارک سے متعلق طبعیات دان اور کیمیا دان

Read more

شہید حضرت مخدوم بلاول باغبانیؒ

تاریخ میں ویسے تو سینکڑوں کردار یادگار ہیں لیکن ایسے کردار ہمیشہ کے لیے تاریخ کے اوراق میں اپنے انمٹ نقُوش چھوڑنے میں کامیاب رہے ہیں جنہوں نے صداقت کا ساتھ دیتے ہوئے، اپنی اس عارضی زندگی کو بچانے کے لیے، کسی مصلحت سے کام نہیں لیا بلکہ حق کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی گُریز نہیں کیا اور فخریہ اندازمیں اپنی جان قربان کرنے کو ترجیح دی۔ ایسی عظیم شخصیات دنیا بھر کے ہرخطّے

Read more

علم و عمل کی تصویر، نامور تعلیمدان۔ پروفیسر مُحمّد حسن دھونئرُو

نامور تعلیمدان اور مثالی مُعلّم، پروفیسر مُحمّد حسن دھونئرُو تھے تو سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام میں ریاضی کے اُستاد، مگر اُن کا شمار بجا طور پر اُن اساتذہ میں ہوتا تھا، جو طلبہ و طالبات کی کردار سازی کو اپنی پیشہ ورانہ ذمّہ داریوں کا اہم حصّہ سمجھتے ہیں، اسی وجہ سے مذکُورہ مادرِعلمی سے فارغ التحصیل ہونے والا ہر طالب یا طالبہ نہ صرف پروفیسر دھونئرُو کے نام، بلکہ اُن کے اعلیٰ کردار اور اوصاف کو نہ صرف جانتا

Read more

سائل کو خالی نہ لوٹاؤ! (سندھی افسانے کا اردُو ترجمہ)

تحریر: انیلا ”نیل“ میرانی ۔۔۔ ترجمہ: یاسر قاضی * * * * * اُس دن گرمی کی شدّت اپنے عروج پر تھی اور شام ڈھلنے کے باوجود تپش ابھی تک برقرار تھی۔ لیکن موسموں کی سختی ہمیشہ غریبوں اور مسکینوں کے لیے ہی ہوا کرتی ہے اور ان ہی کو جھیلنی پڑتی ہے۔ امراء کی لُغت میں تو شاید اس چیز کا نام و نشان ہی نہیں ہوتا کہ ان کی دولت موسمِ گرما کو سرما اور جاڑے کو گرمیوں میں

Read more

’شکارپور۔ تاریخ کے آئینے میں‘ ۔ ایک اہم تاریخی کتاب

’سندھ کا پَیرس‘ کہلانے والا شہر، شکارپور، بہت سے تاریخی حوالوں سے انتہائی یکتا اہمیت کا حامل ہے، جس کی انفرادی پہچان کے کئی حوالے ہیں۔ ایک طرف برِصغیر میں چھاپہ خانوں کا آغاز شکارپور سے ہوتا ہے، تو دُوسری طرف اس خطّے کو روڈ کے اُوپر سے گزرنے والے پُل (فلائی اوور) کا تصوّربھی یہی شہر فراہم کرتا ہے۔ برِصغیر ہندوپاک کی پہلی لیڈی ڈاکٹر، سارہ صدیقی بھی اسی شہر میں پیدا ہوتی ہیں، تو پاکستان ہندوستان کا سب

Read more

مخدوم محمّد معین ٹھٹویؒ اور محمّد ہاشم ٹھٹویؒ: اپنے عہد کے دو جیّد عالم

آج 18 ویں صدی کی، سندھ کی، دو انتہائی معتبر اور اہم شخصیات کا ذکر مقصُود ہے، جن کی علمی خدمات آنے والے زمانوں تک فراموش کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ ان دونوں شخصیات کا تعلق ٹھٹہ کی اُس عظیم سر زمین سے ہے، جو آج کل تو پان گُٹکے کے استعمال کے لحاظ سے پاکستان کے بدنام ترین شہروں میں سے ایک ہے، جہاں کی عمارتوں کی دیواروں پر کوئی بھی رنگ کروا دیں، اُس کی بنیادوں نے بہر

Read more

عالمی ڈَر اور امن کی خواہش

چوری، دھوکا دہی، جھوٹ، غلط بیانی کے ساتھ ساتھ جرم وسزا کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے، جتنی صدق، ایمانداری، دیانتداری اور مثبت روایات کی۔ گویا قدرت نے شروع ہی سے تمام مثبت چیزوں کی اضداد بنائی ہوئی ہیں، تاکہ اس مثبت امر کی قدر ہو سکے۔ ہم میں سے کئی راوی صرف مثبت روایات کا پرچار کرتے ہوئے منفی چیزوں کے ذکر تک کی دلشکنی کرتے ہیں اور اس طرزِ فکر کی حمایت کرتے ہیں، کہ ایسی منفی

Read more

جامع مسجد خدا آباد

کراچی سے انڈس ہائی وے (شاہراہِ مہران) کے ذریعے، بالائی (شمالی) سندھ کے شہروں کی طرف سفر کرتے ہوئے جب ہم سیوھن کے عظیم تاریخی شہر کو عبُور کرنے کے بعد دادو کی طرف بڑھتے ہیں، تو بھان سیّدآباد کا چھوٹا سا قصبہ عبُور کرنے کے بعد دادُو سے پہلے، سڑک کی دائیں جانب (مشرق میں ) ایک بہت ہی خوبصُورت مسجد ہر آنے جانے والے کی توّجہ اپنی طرف مبذُول کرانے میں کامیاب رہتی ہے، اور اس سڑک سے

Read more

این جے وی ہائی اسکول اور این ای ڈی انجنیئرنگ یونیورسٹی، کراچی: مختصر تاریخ

برِصغیر ہندوپاک کے تعلیمی اداروں کی تاریخ بھی اِس خطّے کی تاریخ کا وہ باب ہے، جس پر الگ سے قلم نہیں اُٹھایا گیا۔ تقسیم سے پہلے اور بعد میں بہت سارے علم دوستوں اور اللہ کے نیک بندوں نے جس بے لوث انداز میں تعلیمی ادارے قائم کر کے، قوم کی آنے والی نسلوں کو علم و آگہی سے سرشار کرنے کا اہتمام کیا، وہ عمل نسلوں کی ذہنی پرورش میں معاون، ایک ناقابلِ فراموش عمل ثابت ہوا۔ اس

Read more

خُدا بخش سانگی۔ سندھ کے گمنام تعلیمی خدمتگار

سندھ کی یہ خوشقسمتی رہی ہے کہ یہاں ہر دور میں ہر شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات پیدا ہوتی رہی ہیں، مگر ساتھ ساتھ یہ ہماری بد قسمتی بھی رہی ہے کہ سوائے چند شعبوں میں اپنی خدمات انجام دینے والوں کے، باقیوں کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں، کیونکہ ادب، صحافت اور ایسے ہی چند اور شعبوں کے علاوھ باقی لگ بھگ تمام شعبوں سے وابستہ شخصیات کے حوالے سے نہ اُن کی زندگیوں

Read more

غلام رسول میمن: ادبی، صحافتی اور اشاعتی محاذ کا گمنام سپاہی

پچھلے دنوں، 17 جنوری 2020 ء کو سندھ کے نامور صحافی، اشاعت کار اور نثر نویس، غلام رسول میمن کو ہم سے بچھڑے 6 برس مکمل ہوئے۔ جب ہم غلام رسول میمن کا ذکر کرتے ہیں تو وہ قصہ صحافت کی دُنیا کے اُس گمنام سپاہی کا ہے، جو اپنی زندگی کی 75 بہاریں سندھی ادب، صحافت اور اشاعت کی دُنیا کو سونپ کر چُپ چاپ اس جہاں سے چلے گئے، اور آج اُن کی برسی شان و شوکت کے

Read more

غلام نبی ”گُل“۔ سندھی اور اُردو کے قابلِ قدر ادیب اور دانشور

یہ ایک کڑوی حقیقت ہے کہ اس سر زمین کے بہت سارے عظیم انسان اپنی ستائش کی تمنّا نہ ہونے کے پیشِ نظر خود کو نمایاں نہ رکھنے کی غرض سے بہت سارے لوگوں اور ذرائعِ ابلاغ سے دُور رہنے کی وجہ سے اپنے کام کی وہ ستائش نہیں پاسکے، جو اُنہیں ان کے کام کی وجہ سے ملنی چاہیے تھی۔ اُس کے برعکس ہمیں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ایسے بہت سارے ”مشہور لوگ“ نظر آتے ہیں، جن کو

Read more

پانچویں سَمت [ سندھی افسانے کا اردُو ترجمہ ]

افسانہ: منوّر سراج         ترجمہ: یاسر قاضی * * * * * ”سنو! ؟ “ ”ہُوں! “ ”جاگ رہی ہو؟ “ ”ہاں۔ “ ”ایک بات تو بتاؤ۔ “ ”ہُوں۔ کہو! “ ”وہ کون تھا؟ “ ”کون وہ؟ “ ”وہ، جو آیا تھا۔ “ ”کون آیا تھا؟ “ ”کوئی تو تھا۔ “ ”پتا نہیں۔ “ ”بتاؤ، کون تھا؟ “ ”پتا نہیں، کون تھا۔ “ ”کہاں سے آیا تھا؟ “ ”پتا نہیں۔ “ ”مجھے پریشان ناں کرو۔ بتاؤ! “ ”کیا؟

Read more

تیرا میرا مول

[ سندھی افسانے کا اردُو ترجمہ ] (تحریر: امر جلیل | ترجمہ: یاسر قاضی) ہمارے اڑوس پڑوس والوں نے جب سے ڈِیپ فریزر خریدے ہیں، تب سے عید الاضحی کے موقع پر انہوں نے پابندی کے ساتھ ایک عدد جانور کی قربانی کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ عید سے کچھ دن قبل ان کا جذبہ دیدنی ہوتا ہے ؛ بلکہ رُوح پرور ہوتا ہے۔ اونٹ، بیل، گائے، بھینسیں، سانڈ، بکرے اور دُنبے خرید لاتے ہیں۔ جانوروں کو رنگ روپ

Read more

شیخ ایاز۔ وفات کی بائیسویں یاد

28 دسمبر 2019 ء کو سندھی جدید ادب کے امام سمجھے جانے والے سندھی اور اردو کے نامور شاعر اور دانشور شیخ ایاز کو ہم سے بچھڑے 22 برس مکمل ہوئے۔ اس حوالے سے آج کی تحریر میں شیخ ایاز صاحب کی زندگی و ادبی خدمات کا مختصراً احاطہ کرنے کی کوشش کروں گا۔ شیخ ایاز، 2 مارچ 1923 ء کو سندھ کے پیرس سمجھے جانے والے شہر شکارپور کے شیخ محلے میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد، شیخ غلام

Read more

کالم کہانی: میاں صاحب باہر جا رہے ہیں؟

”شیدے! “ ”بول میدے۔ “ ”میاں صاحب جاسی؟ “ ”اردو میں بول ناں۔ “ ”تینوں تے پتا اے، مینوں اردو نئیں آؤندی۔ “ ”اور مجھے پنجابی نہیں آتی۔ “ ”میں پوچھ ریاں آں۔ میاں صاحب جا رہے ہیں؟ “ ”جا رہے ہیں۔ “ ”کب؟ “ ”بس دو ایک دن میں۔ “ ”واپس آنے کے لیے؟ “ ”یہ تو نہیں پتا۔ “ ”پتا تو نہیں۔ امکان کیا ہیں؟ “ ”لگتا تو نہیں۔ “ ”اچھا؟ اوہ کیویں؟ “ ”مطلب؟ “ ”مطلب۔ وہ

Read more

حضورِاکرمﷺ اور سندھ

سندھ کو ”باب الاسلام“ کہہ کر جان چھڑانے والے یہ نہیں جانتے، یا دوسروں کو نہیں جاننے دینا چاہتے، کہ اس خطّے میں اسلام کا ظہور عربوں کے حملے سے بہت پہلے ہی ہو چکا تھا، جس کی متعدد دلیلوں میں سے ایک واضح دلیل بھنبھور میں واقع ایشیاء کی سب سے پرانی مسجد ہے، جو عربوں کے سندھ پر حملے سے کافی عرصہ پہلے نہ صرف تعمیر ہوئی، بلکہ اُن کے یہاں آ چکنے کے بعد تک بھی بسی

Read more

سعید میمن۔ جدید سندھی ادب کے نمائندہ، جواں مرگ شاعر

ویسے تو ہر نفس کی موت کا ایک دم مُعیّن ہے، مگر سندھی ادب ماضی قریب میں یکے بعد دیگرے جن شخصیات کے داغ ہائے مفارقت سے دو چار ہوا ہے، اُن شخصیات کے خلا بھرنے میں طویل مُدّتیں درکار ہوں گی۔ پچھلے چند ایک برس میں جہاں ڈاکٹرموتی پرکاش، مقصودگل، عبدالواحد آریسر، منیرسولنگی، بشیرسیتائی، مخدُوم امین فہیم، آغا سلیم، علی بابا، غلام نبی گُل، پروانو بھٹی، محمّد ابراہیم جویو، رسول بخش پلیجو جیسے اہم شعراء اور ادیب ہم سے

Read more

عقيدہ

”بابا!“ ”جی بیٹا!“ ”بابا، بہت ٹھنڈ لگ رہی ہے۔“ ”بیٹا! الله کو پُکارو!“ ”پھر سردی نہیں لگے گی بابا؟“ ”ہاں بیٹا! پھر ٹھنڈ اتر جائے گی۔“ ”تو پھر کیا بارش بھی بند ہو جائے گی؟“ ”ہاں بیٹا! بارش بھی رُک جائے گی۔“ ”اور بابا! ہماری جھونپڑی کے اندر بارش کا پانی بھی نہیں آئے گا؟“ ”ہاں بیٹا! خُدا نے چاہا تو رہنے کے لیے ایک اچھی جگہ بھی مل جائے گی۔“ ”اور وہ کب ملے گی بابا؟“ ”بیٹا! جب خُدا

Read more

چار دُشنام [ سندھی افسانے کا اردو ترجمہ ]۔

( افسانہ نگار: جبّار آزاد منگی | ترجمہ: یاسر قاضی ) آج مجھے دو جرائم کا فیصلہ سُنانا ہے۔ آج مجھے انصاف کرنا ہے۔ ایک قتل کا جرم، جس جرم میں ایک غریب کسان ملزم ہے، جس کے بیل کی ٹکر سے گاؤں کے سرغُنے کا بیٹا ہلاک ہو گیا ہے۔ ملک کے قانون نے بیل سے سرزد ہونے والے گناہ کی سزا بُھگتنے کے لیے اس بیل کے مالک کو گرفتار کر لیا تھا، وہ اس لیے کہ اس

Read more

اندر میں ابلیس

وہ بہت معزز، شریف اور نیک مرد کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔ مُحلّے کی مسجد کا پیش امام تھا۔ اس کے چہرے پر سیاہ ریش کے زیادہ تر بال کچھ سفید بالوں کے ساتھ نمایاں تھے۔ سر پر سفید جالی والی ٹوپی پہنتا تھا، جبکہ اس کے کندھوں پر رومال رکھا ہوتا تھا۔ پڑوس کے لوگ دین کے تمام معاملات و مسائل اسی سے پوچھنے آیا کرتے تھے۔ جمعے کی نماز سے پہلے والی اس کی تقریر اکثر طویل ہُوا کرتی تھی، جس میں وہ اکثر جنّت اور دوزخ کے موضوع کا ذکر کیا کرتا تھا۔ حاضرین اس کی تقریر سے بیحد متاثر ہوا کرتے تھے۔ اس کا کردار بظاہر ایک بزرگ اور معلم والا تھا۔ ہر کوئی اس پر اندھا اعتماد کیا کرتا تھا۔

Read more

جنابِ والا، ٹُول بکس خالی ہے

18  اگست 2018ء سے لے کر ہم عوام کو اور بھلے انگنت مصائب و مسائل و مشکلات کا سامنا رہا ہو، جِینا اجیرن ہو گیا ہو، تنخواہ میں گزارا ہونا مشکل ہوگیا ہو، کئيوں کے روزگار تک چِهن گئے ہوں، یا اور کسی معاشی یا معاشرتی افتاد کا سامنا ہو، مگر ایک مزہ ضرور ہے کہ روز ایک نیا تماشہ دیکھنے کو ضرور ملتا ہے- صبح نہیں تو شام، اسمبلی کے اندر نہیں تو اسمبلی سے باہر، کابینہ کے اجلاس

Read more

بہرُوپیا

( سندھی افسانے کا اردو ترجمہ ) تحریر: ڈاکٹر ایاز قادری ترجمہ: یاسر قاضی شکیلہ کا ہاتھ آہستہ آہستہ اپنے بالوں کی طرف بڑھا۔ اس کی چوٹی میں گلاب کا تازہ کِھلا ہوا پُھول ظلمات میں نُور کی کرنوں کی طرح چمک رہا تھا۔ اس نے اپنے بالوں سے گلاب کو کھینچ کر نکالا۔ آہستہ آھستہ ہاتھ بڑھا کر، اس نے وہ گلاب مجید کے سفید کوٹ کے کالر میں سَجا دیا۔ مجید تھوڑا مُسکرایا۔ ”یہ تمہارے بالوں میں زیادھ خوبصورت

Read more

پیرپَٹھوؒ

برِصغیر ہندوپاک، بزرگانِ دین کی آماجگاہ رہا ہے۔ یہاں اسلام ہی نہیں، بلکہ دیگر کئی مذاہب کے بزرگان، صدیوں سے نیکی کے پیغام کو عام کرنے کے لئے اپنی زندگیاں وقف کرتے رہے۔ افسوس ہے کہ ہمارے پاس اپنے خطے میں جنم لینے والے یا باہر سے آکر یہاں وفات پانے اور مُستقل طور پر آرامی ہونے والے بُزگان کی تاریخِ پیدائش اور تاریخِ وفات کی حد تک بھی (کم از کم) تاریخی ٹائم لائن تک موجُود نہیں ہے۔ آپ

Read more

ڈاکٹرجارج ابراہم گریئرسَن۔ برِصغیر کی لسانیات کا محسن

ویسے تو سندھی ادب و ثقافت کے فروغ کو نظر میں رکھتے ہوئے سُومرا دورِ حکومت کے بعد کلہوڑا دورِ حکومت کو سُنہرا دور کہا جاتا ہے، جس نے ہمیں حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ جیسا شاعری کا خاورِ درخشاں دیا، لیکن اس کے باوجود سندھی زبان کے گرامر، ادب اور بذاتِ خود رسم الخط پر جتنا کام انگریز سرکار کے دور میں انگریزوں اور جرمن عالموں نے کیا، اُس کی نذیر کسی اور دور میں نہیں ملتی۔ لہٰذا اگر

Read more

قومی اداروں کا زوال۔ فکر کس کو ہے؟

بد قسمتی سے ہمارے یہاں دیگر بے شمار باتوں اور اصطلاحات کی طرح لفظ ”قومی“ کے بھی صحیح معنی اور تعریف مروج نہیں ہے۔ ہم لفظ ”قومی“ (کے جُز کی بجائے اُس) کی ضد ”صوبائی“ یا ”علاقائی“ سمجھتے ہیں، جبکہ مختلف صوبوں اور خطّوں میں بسنے والے انسان بھی اپنی الگ الگ قوم کی حیثیت رکھتے ہیں، جو سب مل کر ”پاکستانی قوم“ کو تشکیل دیتے ہیں۔ بالکل اُسی طرح، جس طرح بحیثیت ”پاکستانی ثقافت“ کوئی چیز وجُود نہیں رکھتی، بلکہ پاکستان کے مختلف خطوں، علاقوں اور صوبوں کی ثقافتیں ملک کر وہ گلدستہ بناتی ہیں، جس کو ہم ”پاکستانی ثقافت“ کہتے ہیں۔

Read more

دریائے سندھ کی سیر کا پہلا راقم، انگریز جاسُوس الیگزینڈر برنس

دریائے سندھ کا وجود صدیوں سے ہے۔ اس کی تاریخ یقیناً اتنی ہی پرانی ہے، جتنی نمکین (سمندری) پانی سے ہمارے سیّارے کے خشک حصّے نمودار ہونے کی تاریخ۔ دریائے سندھ کے کناروں پر آباد ہونے والی ہماری تہذیب (وادیء سندھ کی تہذیب) دنیا کی چار قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ ہماری تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اس کے بیشتر حصّے سے لاعلم ہیں۔ (یاد رہے کہ ’تاریخ‘ کی تعریف یہ ہے کہ ’جو کچھ بِیت چکا ہے‘ ، نہ یہ کہ ’اس بپتا میں سے جو کچھ قلمبند کیا جا چکا ہے یا جو کچھ ہم جانتے ہیں۔‘ )

Read more

راہِ نجات

[ سندھی افسانے کا اردُو ترجمہ ]
تحریر: نجم عبّاسی
ترجمہ: یاسر قاضی

وہ خیالوں کے طُوفان سے پیچھا نہیں چُھڑا پا رہا تھا۔ اس نے اُٹھ کر ریڈیو لگایا۔ اور اُس کی آواز بلند کر دی۔ مگر اس کے کان، باہر کی آواز کی جانب مُتوجّہ نہیں ہو پائے۔ وہ نہانی تذبذُب کی سرگوشیاں سن رہے تھے۔

Read more

گِرتی ہوئی دیواریں

(سندھی افسانے کا اردُو ترجمہ۔۔۔ تحریر: شوکت حسین شورو /  ترجمہ: یاسر قاضی) دیواریں گِر رہی تھیں! وہ اپنے قیمتی لباس کو سبھالتے ہوئے پاس آئی۔ جب اُنگلی اس کے ہونٹوں پر آئی۔ ”یہ تو گِر رہی ہیں۔ “ دیواریں خاموش تھیں۔ دیواروں کو زبان کہاں! ”شکر ہے کہ میں اس گھر میں نہیں آئی۔ “ ہاں دیواریں گِر رہی ہیں۔ دیواریں گِر رہی ہیں۔ اُس نے ششدر ہو کر دیکھا۔ دیواریں نہیں بولی تھیں، صرف ہوا کی سرسراہٹ تھی۔ دیواروں

Read more

اُستاد اور شاگرد

( سندھی افسانے کا اردو ترجمہ۔۔۔ تحریر: نسیم کَھرل ۔۔۔ ترجمہ: یاسر قاضی) ”بھائی نہیں ہو! “ اس نے اس کی منّت سماجت کی۔ ”نہیں، میں نہیں۔“ چھوٹے لڑکے نے مُنہ پُھلاتے ہوئے انکار کیا۔ ”بھائی نہیں ہو میرے؟ “ ”ہُوں۔ “ ”پھر یہ دو ناں جا کر اُسے۔“ اس نے نیلا لفافہ اس کے معصوم ہاتھوں میں تھمایا۔ ”مجھے مارے گی۔“ چھوٹے لڑکے کو خوف نے گھیر لیا۔ ”خدا کی قسم نہیں مارے گی، اُلٹا خوش ہوگی۔ تم بس

Read more

بدتمیز: جمال ابڑو کا سلگتا ہوا سندھی افسانہ

(سندھی افسانے کا اردو ترجمہ: تحریر: جمال ابڑو،  ترجمہ: یاسر قاضی) میں میجسڻریٹ ہوں۔ پیسے والا ہوں، اچھا کھانے پینے اوڑھنے پہننے والا اور کچھ اثر و رسُوخ والا بھی۔ میری بچّی بیمار ہو گئی۔ سورج غرُوب ہو رہا تھا، دوڑتا ہوا ڈاکٹر کے پاس پہنچا۔ ڈاکٹر صاحب کی کمائی کا سیزن تھا، اس لیے اس کے مزاج ہی نہیں مل رہے تھے۔ ماتھے پر بَل، بات بات پر خفا خفا سے ہوئے جا رہے تھے۔ مریضوں کی پُوچھ پُوچھ

Read more

ندا [ سندھی افسانے کا اُردو ترجمہ ]۔

افسانہ نویس: رسُول میمن ترجمہ: یاسر قاضی وہ کمرا ایک پُر اسرار حقیقت تھا۔ کمرا کیا تھا! رُوحوں کا پنجرہ تھا۔ اُوپر جالے لگے ہوئے تھے۔ جن میں مکڑیاں مَری ہوئی تھیں، جن کو پَتنگے کھا رہے تھے۔ بائیں جانب دیوار کو ٹیک لگا کر الماری ایسے کھڑی تھی، جیسے کوئی خاموشی اور افسوس کے مارے اپنی ٹھوڑی پہ ہاتھ رکھے، اُس پلنگ کو دیکھ رہا ہو، جس پر کبھی اسکول ماسٹر نُور الامین نوروز اپنی بیوی کے ساتھ سویا

Read more

علی بابا۔ سندھی فکشن کا نجمِ درخشاں

یہ وہ علی بابا نہیں تھے، جو چالیس چوروں کے سرغنہ تھے، بلکہ اِس علی بابا نے سندھی فکشن کے اُس قافلے کے رُوحِ رواں کی حیثیت سے باگ ڈور سنبھال کے رکھی تھی، جس قافلے کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اَن گنت قلمکار آج بہت معیاری افسانے، ناول اور ڈرامے تحریر کر رہے ہیں اور علی بابا کا فکری تسلسل بنے ہوئے ہیں۔ سندھی ادب کے اس یگانے افسانہ نویس، ڈرامہ نگاراور ناولسٹ کا اصل نام علی مُحمّد

Read more

کراچی کی ٹرام کہانی

ہم نے چند ماہ قبل، اس برس 26 اپریل کو کراچی میں ٹرام وے سسٹم کی 44 ویں برسی منائی۔ جی ہاں! 30 اپریل 1975 ء وہ تاریخ تھی، جب 44 برس قبل، پاکستان کے سب سے بڑے شہر اورسندھ کے دارالحکُومت کراچی میں ٹرام وے سرشتے کا اختتام ہوا۔ گویا ٹرام وے کو پاکستان میں مرے لگ بھگ آدھی صدی ہونے کو ہے۔ پاکستان نے ترقی کی راہ پر (اُلٹا) چلتے ہوئے پچھلی تین چار دہائیوں میں جو کچھ کھویا، اس میں کراچی کا یہ منفرد ٹرام وے نظام بھی ہے۔

Read more

ایسٹ انڈیا کمپنی۔ کچھ حقائق، کچھ غلط فہمیاں

1947 ء کا ہندوستان کا بٹوارا (جس کو بیشتر شعورمند حلقے ”غیر فطری“ قرار دیتے ہیں ) ، ایک دن کی رُوداد نہیں تھی، بلکہ ”وقت کرتا ہے پرورش برسوں، حادثہ ایک دم نہیں ہوتا! “ کے عین مصداق ایک ایسا واقعہ تھا، جس کے لئے پیدا ہونے والے عوامل کے ذمہ دار خود یہیں کے باشندے تھے، چاہے وہ مانیں یا ناں مانیں! چاہے وہ اُنیسویں صدی کے وسط تک حکومت کرنے والے مغل ہوں، انگریزوں سے دُگنی فوج ہونے کے باوجود ”میانی“ اور ”دُبے“ کے میدان میں جنگ اُن ہی کے حوالے کر کے آنے والے تالپُوروں کے لشکر کے غدّار ہوں، یا پھر موجودہ ہندوستان اور پاکستان کے کئی بظاہر حُبّ الوطن سیاسی کارکن، اِس واقعے (یا پھر کچھ حلقوں کے مطابق ”المیے“ ) کے ذمہ دار زیادہ تر تو یہیں کے لوگ ہی ہیں۔

Read more

’سبزوار‘ اور ’سبزواری‘

جس طرح ہر شخص ایک کہانی ہے، اسی طرح ہر نام بھی ایک تاریخ ہے۔ خواہ وہ نام کسی فرد کا ہو، شہر کا، علاقے کا، تحریک کا، یا قبیلے کا۔ ہر نام نے کوئی نہ کوئی ارتقائی اور تاریخی سفر ضرور طے کیا ہوا ہوتا ہے، یہ اور بات ہے کہ ہمیں اس ارتقائی سفر کی جُزیات اور اصلیت معلوم ہو یا نہ ہو۔ بہت سے نام دلچسپ تاریخی پسمنظر رکھتے ہیں اور ان کو صحیح معنوں میں جاننے

Read more

دلّی دُور اَست

یہ ہے مغلوں کا فخر، موجودہ بھارت اور سابق ہندوستان کا بارعب دارالحکومت، مشرق کے کلاسیکی حُسن کو صدیوں سے سمیٹے ہوئے، تعمیرات خواہ شاہی شکوہ کے لحاظ سے لاہور کی بہن، دہلی (جس کو لکھا ’دہلی‘ اور پڑھا ’دلّی‘ جاتا ہے ) ، جس کے وسط میں ایک طرف جہاں شیر شاہ سُوری کے قلعے کی باقیات اپنے شاندار ماضی کی داستان سُنا رہی ہیں، تو دُوسری طرف جلال الدین محمّد اکبر کے والد اپنے پُر شکوہ مقبرے میں

Read more

قاضی عبدالحئی قائل

سرزمینِ سندھ بہت سے حوالوں سے دُنیا کے باقی بے تحاشا خطوں سے زیادہ خوشقسمت رہی ہے، جس میں اس سرزمینِ خاص کے خمیر سے جنم لینے والے فرزندان کا اہم کردار ہے، جن میں سے ایک کثیر تعداد، نہ صرف ادارہ ساز اور ادوار ساز رہی، بلکہ شخصیت سازی اور اخلاق سازی کے میدان میں بھی اپنے کارہائے نمایاں انجام دینے والے لوگوں نے یہاں پیدا ہو کر، پرورش پا کر اور اس سرزمینِ یکتا کے لئے خدمات انجام

Read more

بے نام یادگار اور مشاہیر کی قدر کی ضرورت

ہر قوم کو پہچان دینے والی ان گنت شخصیات ہوتی ہیں، جو کسی بھی خطے کی بنیاد پڑنے سے لے کر مختلف شعبہء ہائے زندگی میں اُس ملک اور اس میں رہنے والی اقوام کے لئے اپنی نمایاں خدمات کی وجہ سے اس درجہ ممتاز ہوجایا کرتی ہیں، کہ وہ قومیں ان کی خدمات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یاد رکھنے کا بالخصُوص اہتمام کیا کرتی ہیں اور اس ضمن میں نہ صرف پہلے سے موجودعمارات اور راستوں وغیرہ کو

Read more

ڈاکٹر الہداد ’عاصم‘ بوہیو۔ علم و عمل کے مُجسّم، قلمکار اور تعلیمدان

اشفاق احمد نے ایک جگہ لکھا ہے کہ: ”ڈگریاں در حقیقت، تعلیمی اخراجات کی رسیدیں ہیں۔ ورنہ علم تو وہی ہے، جو انسان کے عمل سے ظاہر ہو“۔ اس بے حد سچّے قول پر پُوری اُترنے والی شخصیات میں سے اِس سرزمین سے پیدا ہونے والے جواہرِ یکتا میں سے سندھی زبان و اکمّلدب کے عظیم خدمتگذار، نامور مُحقق، نقاد، ماہرِتعلیم، ماہرِ لسانیات اور کامیاب تعلیمی مُنتظم، ڈاکٹر الہداد بوہیو بھی ایک ہیں، جن کو 16 جولائی کو ہم سے

Read more

سُروں پر سَر قربان کرنے والا حاتم طائی سے زیادہ سخی بادشاہ

ہر معاشرے اور اس سے وابستہ زبانوں کے ادب میں کئی لوک داستانیں مقبُول ہوتی ہیں، جن پر سو فیصد سچ کا گمان کرنا خام خیالی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ تَوہمّات کی طرح یہ لوک داستانیں بھی مشرق تا مغرب ہر معاشرے میں پائی جاتی ہیں، چاہے وہ معاشرہ کتنا ہی بالغ نظر اور سُدھرا ہُوا کیوں نہ ہو۔ ہر خطّے کی طرح ہماری سرزمین کے ادیبوں نے بھی ان لوک رومانوی داستانوں، قصّوں، کہانیوں اور باتوں کو یکسر

Read more

سندھ سمیت دنیا بھر میں ملنے والے انسانی نقوشِ قدم کے فوسلز

’احفُور‘ ، ’کنجور‘ ، ’سنگوارا‘ ، ’رکاز‘ یا ’فوسل‘ کی سب سے عام فہم بلکہ طفل فہم تعریف یہ ہے کہ، زمین سے کھود کر نکالے ہوئے، کسی بھی جاندار (جانور یا پودے ) کے وہ محفوظ باقیات یا آثار، جو انتہائی قدیم ادوار سے متعلق ہوں۔ یا دُوسرے الفاظ میں کوئی بھی جاندار یا اُس کے ایسے نشان، جو موسمی اثرات سے لاکھوں برس تک بچے رہیں، تو وہ پتھر بن جاتے ہیں، جن کو ’احفُور‘ (فوسل) کہا جاتا

Read more

اِس موج کے ماتم میں، روتی ہے بھنور کی آنکھ

اقدار کی پاسداری اقوام کا فرض ہُوا کرتی ہے اور اقوام، افراد سے بنتی ہیں۔ فرد کی تربیت میں جہاں حسب و نسب کے ساتھ ساتھ اُس کی سنگت و صحبت کار فرما رہتی ہے، وہیں جس دور میں وہ جی رہا ہوتا ہے، اُس دورکے حالات و واقعات بھی اُس کی شخصیت پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ جینیاتی ماہرین تو یہ تک بھی کہتے ہیں کہ کسی بھی فرد کی عادات و اتوار میں کوئی قوی عادت یا جبلّت اُس کے ددھیال یا ننھیال کی بیسویں پُشت تک سے بھی اُس پر بدرجہء اُتم اثر انداز ہو سکتی ہے، تو کبھی اُس کے فوری والدین کی بھی کوئی عادت اُس میں نہ ہو، یہ بھی عین ممکن ہے۔

Read more

صحیح اور غلط کی تکرار

ویسے تو صحیح اور غلط کا تضاد اوریہ تکرار بہت قدیم ہے، یقینًا اُتنی ہی قدیم، جتنی یہ کائنات۔ صحیح اور غلط کی کسوٹی دور کی لحاظ سی بھی بدلتی رہتی ہے، تو ہر دور میں فرد سے فرد تک بھی اُس کی تعریف بدلتی رہتی ہے۔ عمُومی طور پر ”صحیح“ اور ”غلط“ کی تعریف وہی صحیح سمجھی جاتی ہے، جو لوگوں کی اکثریت کی لئے قابلِ قبول ہو۔ کچھ مثالیں ایسی بھی ملتی ہیں، جہاں پر کوئی غلط چیز اکثریت کے لئے قابلِ قبول ہوتی ہے، اس لئے وہ ”معیار“ بن جاتی ہے۔

Read more

”خوشیوں کے باغ“ سے گِرا ہوا اداس پُھول۔ ڈاکٹر انور سجّاد

ایک اور کمال کا ذہن، ہماری بے حسی کی بھینٹ چڑہ گیا۔ ہم نے ایک اور ورسٹائل، متنّوع کلاکار گنوا دیا۔ جس نے اپنے فن کے کئی رخوں پر مشتمل رنگوں سے ان گنت اداروں خواہ افراد کے بھاگ سنوارے، ہم نے تو اسے کافی عرصہ قبل، ان کے جیتے جی ہی مار دیا تھا اور اب تو وہ اپنی طبعی سانسیں بھی پوری کر کے ہم سے بچھڑ گئے۔ ڈاکٹر انور سجّاد بھی رخصت ہوگئے۔ وہ اسی پائے کے فکشن قلمکار، افسانہ نویس، ڈراما نگار، ناول نگار، اداکار اور صداکار تھے، جس لیول کے لوگوں کے نام کے ساتھ مغربی دنیا میں ”دی“ کا لفظ لگایا جاتا ہے، جو ”انجمن“ قرار دی جانے والی شخصیات ہوا کرتی ہیں، جن کے جینے کے تمام اخراجات برداشت کرنا، وہاں کی ریاست کے ذمّے ہوا کرتا ہے اور ان کی سانسیں ان پر بوجھ نہیں ہوتیں۔ مگر ہمارے یہاں ہر دوسرا فنکار اپنے جیون کی آخری سانسیں، ڈاکٹر انور سجّاد کی طرح کسمپرسی میں لے کر، بے یارومددگار چلا جاتا ہے۔

Read more

چُوڑیاں

حسبِ معمُول وہ سودا لینے گئی۔ اُس دن چھ آنے نہ جانے کیسے بچ گئے۔ سوچنے لگی کہ ان چھ آنوں سے کیا خریدوں۔ چلتے چلتے، اُس کی نظر، راستے کے کونے پر بیٹھے ایک سرخی پوڈر فروش کی صندوق پر پڑی۔ اُس صندُوق کے اُوپر طرح طرح کی رنگین چُوڑیاں رکھی ہوئی تھیں۔ اس نے اپنی ویران کلائیوں کی طرف دیکھا، جو کئی دنوں سے چُوڑیوں سے محروم تھیں۔ اس نے چُپ چاپ اپنے لئے چھ چُوڑیاں خریدیں اور گھر چلی آئی۔ گھر پہنچ کر، اُس نے اپنے بیٹے کو، جو اس کے کندھے پر ہی سو چکا تھا، چارپائی پر لیٹایا اور خود بیٹھ کر اپنی کلائیوں کو دیکھنے لگی۔ سوچنے لگی کہ جب اس کا شوہر اس کی چوڑیاں دیکھے گا، تو وہ ضرُور خوش ہوکر اُس سے ان چُوڑیوں کے بارے میں دریافت کرے گا۔

Read more

کرکٹ کا بارہواں عالمی میلہ

انگلنڈ اور ویلز کے میدانوں پر دنیا کا بارہواں کرکٹ ورلڈ کپ جمعرات، 30 جون سے شروع ہو چکا۔ ہر چار برس بعد منعقد ہونے والا یہ ورلڈ کپ، گزشتہ بار 2015 ء میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں منعقد ہوا تھا۔ 1975 ء میں برطانیہ ہی سے ورلڈ کپ کے انعقاد کا شروع ہونے والا سفر، 44 برس بعد پھر برطانیہ پہنچا ہے۔ برطانیہ اس بار پانچویں مرتبہ ورلڈ کپ کی میزبانی کر رہا ہے۔ پہلے تینوں عالمی کرکٹ کپ تواتر کے ساتھ ( 1975 ء، 1979 ء اور 1983 ء میں ) برطانیہ کی زیرِمیزبانی منعقد ہوئے، جو صرف انگلنڈ ہی کے مختلف کرکٹ میدانوں میں کھیلے گئے، جبکہ اس کے بعد 1999 ء میں جب برطانیہ نے چوتھی بار ورلڈ کپ کی میزبانی کی، تو اس کے میچز صرف انگلنڈ ہی میں نہیں، بلکہ ’ویلز‘ (جو برطانیہ ہی کی ریاست ہے ) سمیت یورپ کے دیگر تین ممالک آئرلینڈ، نیدرلینڈز اور اسکاٹ لینڈ میں بھی کھیلے گئے۔

Read more

اور سندھ کے دوسرے پہاڑ (The Mount of Pub) کوہِ پب

ایک بار، سندھ میں ضلع جامشورو میں سہون شریف کے قریب ’لکی‘ اور ’کِھیرتھر‘ کے پہاڑی سلسلے کے دامن سے براستہ سڑک گاڑی میں گزرتے ہوئے، تخلیقی رو میں بہتے ہوئے ایسے ہی یہ بات ذہن میں آئی تھی، کہ اگر پہاڑوں اور پہاڑی سلسلوں کی زبان ہوتی، اور اُن سے اِس زمین پر گُزرنے والے موسمی، ماحولیاتی، سیاسی، سماجی و دیگر انقلابوں کے بارے میں پُوچھا جاتا، اور اگر یہ دیو قامت وجُود جواباً لب کُشائی کرتے تو کیا

Read more

چاند اور روٹی

[ سندھی افسانے کا اردو ترجمہ ] (افسانہ: علی بابا | ترجمہ: یاسر قاضی)تب میں بہت چھوٹا تھا۔ مُجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے۔ ایک دن میری ماں بہت پریشان تھی۔ میں صبح سے بُھوکا تھا۔ ہمارے گھر کا سارا راشن ختم ہوگیا تھا۔ صبح کو ماں نے مُجھے ایک باسی روٹی کا ٹکڑا، بکری کے کھارے دُودھ کے ساتھ کھانے کو دیا تھا اور سَر پر شام آن پہنچی تھی۔ بُھوک کے مارے میرا پیٹ کَٹ رہا تھا۔ ماں نے مُجھے پڑوسن سے ادھار آٹا مانگنے کے لئے بھی بھیجا، مگر وہاں سے بھی انکار ہی پلے پڑا تھا۔ اماں پورا دن اپنی مِیٹھی اور لطیف باتوں سے میرا دل بہلاتی رہی، جن سے تھوڑی دیر کو میری بھوک کا احساس کچھ کم ضرور ہُوا۔

Read more

تذکرہء اولیائے سندھ

ویسے تو برِّصغیرکی سرزمین، اولیاء اور صُوفیوں کی دھرتی سمجھی جاتی ہے، مگر سرزمینِ سندھ بھی اپنے سینے میں لاکھوں لعلوں کو بَسائے ہوئے ہے، جنہوں نے امن اور یگانگت کے پیغام کی تروِیج سے، مُحبّت اور اخوّت کا درس عام کیا اور لوگوں کے دلوں سے نفرتوں کو دھویا۔ آج کی اس مختصر نوشت میں ہم سندھ کی دھرتی سے متعلق کچھ اولیاء کا ذکر کر رہے ہیں۔ حضرت ابُو مُعشر ’نجیع‘ سندھی: ابُو مُعشر ’نجیع‘ سندھی، برِّصغیر کے

Read more

قابلیت اور ذہانت میں فرق

ملک کے معروف دانشور اور عالم، آغا سلیم صاحب بڑی پتے کی بات کہا کرتے تھے کہ ”کوئی دور تھا، جب لوگوں کے پاس“ شعور ”تھا۔ اس کے بعد ہمارا (ان کا) دور آیا، جس میں ایک سطح کم ہوئی اور شعورمند لوگ تو کم ہوگئے، البتہ باعلم اور عالم لوگ پھر بھی تھے۔ یعنی لوگوں کے پاس علم باقی رہ گیا۔ مگر اب آپ لوگوں (ہمیں مخاطب ہوتے ہوئے کہا کرتے تھے ) کا دور آیا ہے، جس میں بس معلومات (انفارمیشن) ہی رہ گئی ہے۔ تم لوگ (ہم لوگ) معلومات کے پیچھے دوڑتے رہتے ہو۔

Read more

سچل سائیں میرا

سندھ کی اساسی شاعری کے انتہائی اہم شاعر اور بعض روایات کے مُطابق، حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ کے بقول اُن کی چڑھائی ہوئی دیگچی کا ڈھکنا اُتارنے والے، حضرت سچل سرمستؒ کا 198 واں عُرسِ مُبارک، پیر، 20 مئی ( 14 رمضان المُبارک) اور منگل، 21 مئی ( 15 رمضان المُبارک) کوضلع خیرپُور کے تعلقہ گمبٹ میں واقع، اُن کے آبائی مسکن، ’درازا شریف‘ (جس کو ہم جیسے طالب العلم ’درِراز‘ بھی کہتے ہیں ) میں منایا جا رہا ہے۔(یہاں پر میں ’روایتی جوش و خروش‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کرُوں گا، جو اس قسم کے مواقع کو رپورٹ کرتے ہوئے، تقریباً تمام اخبارات اور چینلز کا ایک روایتی (اسڻیریو ڻائپ) جُملہ ہُوا کرتا ہے ) ، کیونکہ مجھے ہر برس اس ’روایتی‘ جوش و خروش میں بھی بتدریج کمی ہی نظر آتی ہے۔ میں تو زیادہ سے زیادہ گذشتہ 2 دہائیوں سے اس میلے کی تقریبات کو دیکھنے کا شرف حاصل کررہا ہُوں، اس ضمن میں جو لوگ اس سے بھی پہلے سے اس میلے کو دیکھتے آرہے ہیں، اُن کا تجربہ شاید میرے مشاہدے سے بھی زیادہ تلخ ہو۔

Read more

دُنیا کے عجائبات اور اُن کے عجیب گھر

(عجائب گھروں کے عالمی دن کی مناسبت سے ) ویسے تو یہ دنیا خود ہی ایک ”عجائب گھر“ ہے، مگر اس ارض کے گولے پر گزرنے والی تاریخ (جس کا ایک قلیل حصّہ صدیوں سے ایک معمّہ ہے ) کو جاننے کی کوشش کے تحت تاریخ اور آثارِقدیمہ سے پیار کرنے والوں نے پوری دنیا میں جگہ جگہ ایسے مقامات بَنا رکھے ہیں، جہاں ایسے نوادرات رکھے جاتے ہیں، جو ہمیں کسی نہ کسی طرح سے ہمارے ماضی کا کوئی

Read more

ماں! تُو مجھ سے خوش تو ہے ناں!

ہر سال یہ دن آتا ہے اور آکے چلا جاتا ہے۔ ایک طرف ہم زیرِ الزام کہ ”ہم صرف دن ہی منایا کرتے ہیں اور عملاً کچھہ نہیں کرتے۔ “ اور دُوسری طرف یہ کوسنا کہ ”ہم مغرب کی اندھی تقلید میں مگن ہیں۔ وہ جو کرتے ہیں، ہم بھی آنکھیں بند کیے، بس وہی۔ بِلا تفکّر و جِھجھک کیے جاتے ہیں۔ ہَمیں الاں دن نہیں منانا چاہیے۔ فلاں تہوار یاد نہیں رکھنا چاہیے۔ “ کسی طرف سے یہ نَوائیں

Read more