تذکرہء اولیائے سندھ

ویسے تو برِّصغیرکی سرزمین، اولیاء اور صُوفیوں کی دھرتی سمجھی جاتی ہے، مگر سرزمینِ سندھ بھی اپنے سینے میں لاکھوں لعلوں کو بَسائے ہوئے ہے، جنہوں نے امن اور یگانگت کے پیغام کی تروِیج سے، مُحبّت اور اخوّت کا درس عام کیا اور لوگوں کے دلوں سے نفرتوں کو دھویا۔ آج کی اس مختصر نوشت…

Read more

قابلیت اور ذہانت میں فرق

ملک کے معروف دانشور اور عالم، آغا سلیم صاحب بڑی پتے کی بات کہا کرتے تھے کہ ”کوئی دور تھا، جب لوگوں کے پاس“ شعور ”تھا۔ اس کے بعد ہمارا (ان کا) دور آیا، جس میں ایک سطح کم ہوئی اور شعورمند لوگ تو کم ہوگئے، البتہ باعلم اور عالم لوگ پھر بھی تھے۔ یعنی لوگوں کے پاس علم باقی رہ گیا۔ مگر اب آپ لوگوں (ہمیں مخاطب ہوتے ہوئے کہا کرتے تھے ) کا دور آیا ہے، جس میں بس معلومات (انفارمیشن) ہی رہ گئی ہے۔ تم لوگ (ہم لوگ) معلومات کے پیچھے دوڑتے رہتے ہو۔

Read more

سچل سائیں میرا

سندھ کی اساسی شاعری کے انتہائی اہم شاعر اور بعض روایات کے مُطابق، حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ کے بقول اُن کی چڑھائی ہوئی دیگچی کا ڈھکنا اُتارنے والے، حضرت سچل سرمستؒ کا 198 واں عُرسِ مُبارک، پیر، 20 مئی ( 14 رمضان المُبارک) اور منگل، 21 مئی ( 15 رمضان المُبارک) کوضلع خیرپُور کے تعلقہ گمبٹ میں واقع، اُن کے آبائی مسکن، ’درازا شریف‘ (جس کو ہم جیسے طالب العلم ’درِراز‘ بھی کہتے ہیں ) میں منایا جا رہا ہے۔(یہاں پر میں ’روایتی جوش و خروش‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کرُوں گا، جو اس قسم کے مواقع کو رپورٹ کرتے ہوئے، تقریباً تمام اخبارات اور چینلز کا ایک روایتی (اسڻیریو ڻائپ) جُملہ ہُوا کرتا ہے ) ، کیونکہ مجھے ہر برس اس ’روایتی‘ جوش و خروش میں بھی بتدریج کمی ہی نظر آتی ہے۔ میں تو زیادہ سے زیادہ گذشتہ 2 دہائیوں سے اس میلے کی تقریبات کو دیکھنے کا شرف حاصل کررہا ہُوں، اس ضمن میں جو لوگ اس سے بھی پہلے سے اس میلے کو دیکھتے آرہے ہیں، اُن کا تجربہ شاید میرے مشاہدے سے بھی زیادہ تلخ ہو۔

Read more

دُنیا کے عجائبات اور اُن کے عجیب گھر

(عجائب گھروں کے عالمی دن کی مناسبت سے ) ویسے تو یہ دنیا خود ہی ایک ”عجائب گھر“ ہے، مگر اس ارض کے گولے پر گزرنے والی تاریخ (جس کا ایک قلیل حصّہ صدیوں سے ایک معمّہ ہے ) کو جاننے کی کوشش کے تحت تاریخ اور آثارِقدیمہ سے پیار کرنے والوں نے پوری دنیا…

Read more

ماں! تُو مجھ سے خوش تو ہے ناں!

ہر سال یہ دن آتا ہے اور آکے چلا جاتا ہے۔ ایک طرف ہم زیرِ الزام کہ ”ہم صرف دن ہی منایا کرتے ہیں اور عملاً کچھہ نہیں کرتے۔ “ اور دُوسری طرف یہ کوسنا کہ ”ہم مغرب کی اندھی تقلید میں مگن ہیں۔ وہ جو کرتے ہیں، ہم بھی آنکھیں بند کیے، بس وہی۔…

Read more