دنیا میں پچاس برس گزارنے کے بعد جب میں کسی حد تک کچھ باتوں کو تھوڑا بہت سمجھنے لگی تو میں نے محسوس کیا کہ میں بھی لکھ سکتی ہوں۔ اپنی یادوں کے بارے میں۔ اُن یادوں کے حوالے سے جن میں ایک عورت تھی۔ ایک عورت جس کے پاس مخصوص اور مختلف یادیں تھیں۔ ایک منفرد ماضی تھا۔
لکھنے سے مجھے لگا کہ میرا حال میرے ماضی سے الگ ہو رہا ہے۔ اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایک عورت تھی جس نے لکھنا شروع کیا اور اس نے محسوس کیا کہ وہ اپنی یادوں کے بارے میں لکھ سکتی ہے کیوں کہ ان یادوں میں ایک عورت تھی جو اس سے ملتی جلتی تھی، شباہت میں بھی اور حالات میں بھی۔ وہ عورت مجھ سے باتیں کرتی تھی اور مجھے اپنے بارے میں بتاتی تھی اور جو بھی وہ مجھے اپنے بارے میں بتاتی تھی مجھے لگتا تھا کہ وہ سب بہت جانا پہچانا، بہت دیکھا دیکھا اور بہت بیتا برتا سا ہے۔
اس نے مجھے بتایا اُسے اُس کے جسم سے نکال دیا گیا ہے اور اب وہ بے جسم ہے۔ اس نے کہا باڈی لسBodyless، تو تم سمجھتی ہی ہو گی لیکن میرا یہ بے جسمی پن یا باڈی لسنیس (Body lessness) بھوتوں پریتوں والا یا آواگوون اور روحوں والا نہیں، حقیقی ہے، بالکل حقیقی۔ تم مجھے چھو کر دیکھ سکتی ہو۔
Read more