ادیب تاج جویو نے حسن کارکردگی کا صدارتی تمغہ لینے سے انکار کیوں کیا؟

تاج جویو کو صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازے جانے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم انھوں نے بعض اعتراضات کی بنا پر یہ ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا ہے۔

Read more

مریم نواز کو کیا کرنا چاہیے؟

پاکستانی عوام، مزاجا وراثتی سیاست کی امین ہیں۔ یہاں کوئی بھی پارٹی الیکشن کروا دے، ووٹ اسی کو ملتے ہیں، جو خود کو سابق پارٹی لیڈر کا وارث ثابت کر دے۔ اہل سادات کی حرمت کا دم بھرنے والی قوم کو یہ سمجھانا کہ وراثتی سیاست میں کوئی حرج نہیں، کیا مشکل ہے!؟ اگر عوام بھٹو کی بیٹی، نواز شریف کی بیٹی کو اپنا لیڈر مانتے ہیں، تو کسی فرد یا محکمے کو اس پر اعتراض ہی کیوں ہو؟ کیا

Read more

میجر عامر: فوج، سیاستدان اور افغان جہاد

عید کا دوسرا دن تھا اور دوستوں کے ساتھ گاؤں میں نشست اور گپ شپ جاری تھی۔ اتنے میں فون کی گھنٹی بجی۔ میجر ریٹائرڈ عامر لائن پر تھے۔ ”آپ کل ساتھیوں سمیت گیارہ بجے پنج پیر صوابی آجائیے۔ دوسرے مہمان بھی ہوں گے۔ بات چیت بھی ہو جائے گی اور لنچ بھی“ ۔ انکار کی مجال کہاں۔ افغان جہاد کے دوران تاریخی شہرت حاصل کرنے والے آئی ایس آئی کے عظیم اہلکار، جن کی ان گنت کہانیاں پڑھ سن

Read more

گیارہ اگست اور ہماری اقلیتیں

آج سے تہتر سال قبل جب یہ مملکت وجود میں آئی تو یہاں کے باشندوں کی ایک بڑی اکثریت تو ظاہر ہے مسلمانوں کی تھی لیکن اس کی ساتھ ایک بہت بڑی تعداد یہاں بسنے والے غیر مسلم باشندوں کی بھی تھی۔ تقسیم کے ہنگام جب سرحد کے دونوں طرف بڑے پیمانے پر ہجرت ہوئی تو اس کے باوجود بھی غیر مسلموں کی ایک قابل ذکر تعداد نے اسی سر زمین کو اپنا مسکن بنایا اور یہیں کے شہری بن کر رہنے کو ترجیح دی۔ پاکستان کی پہلی کابینہ کے ارکان پر اگر نظر دوڑائی جائے تو اس میں اقلیتوں کی بھر پور نمائندگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اس ملک کے بانیان کے اذہان میں یہ بات بالکل واضح تھی کہ اس ملک میں مذہب کی بنیاد پر کسی سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔

ہمارے قومی پرچم کا سفید رنگ بھی اسی بات کی تصدیق کرتا نظر آتا ہے اور سب سے بڑھ کر بابائے قوم کی سن سنتالیس میں آج کے ہی دن کی گئی تقریر سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ پاکستان کے شہریوں میں کسی بھی قسم کی کوئی تقسیم نہیں ہو گی۔ آئیے ایک مرتبہ پھر آپ کو بور کرتے ہیں اور بابائے قوم کی اس تقریر کا وہ اقتباس پیش کرتے ہیں جو آج ہمارے ملی اور مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچاتا ہے۔

Read more

یوٹیوب سیاپا، خارجہ پالیسی اور تاریخ

خدارا اب تو جان لیجیے کہ یوٹیوب کے ذریعے فقط دلوں کی بھڑاس نکالی جا سکتی ہے۔ اپنے تئیں ریاست و حکومت پاکستان کے ”ترجمان“ ہوئے حق گو افراد اس ایپ کی بدولت بنائے چینلوں کے ذریعے ہماری خارجہ پالیسی طے نہیں کر سکتے۔ اس ضمن میں حتمی فیصلہ سازی ریاست کے دائمی اداروں کے پاس ہی رہتی ہے۔ کوئی ایک فرد خواہ وہ کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو ان اداروں کی ترجیحات میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی طاقت سے ہمیشہ محروم رہتا ہے۔

Read more

شاہ محمود کا ”ورنہ“

شاہ محمود قریشی ماشاء اللہ اپنی کرسی پر خوب جچتے ہیں۔ بنے بنائے وزیر خارجہ۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، خاندانی وجاہت بھی وافر مقدار میں میسر ہے۔ بڑے زمیندار ہونے کے ساتھ ساتھ مخدوم بہاؤالدین ذکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کے سجادہ نشین ہیں۔ گویا دین و دُنیا دونوں سے گاڑھی چھنتی ہے۔ مریدوں کا وسیع سلسلہ، اندرون اور بیرون مُلک پھیلا ہوا ہے، سندھ میں بھی وہ ہزاروں کی تعداد میں آباد ہیں۔ اکثر ان کے مداح (جن میں

Read more

حکومتیں، جمہوریت اور کشمیر

ہمارے ہاں سیاستدانوں نے ملکی سالمیت کے متعلق غیر ضروری اور غیر ذمہ دارانہ بیانات جاری کر کے حساسیت پیدا کر دی ہے۔ کشمیر پر بجا طور پر سیاسی قیادت کی کارکردگی فوجی آمروں سے بہتر رہی لیکن یہ بھی پیش نظر رہے کہ عوام نے ان سانپوں کو بار بار دودھ پلایا جو جمہوریت کو ڈس لیتے ہیں، ایسے خاندان نظام کو مسحکم نہیں ہونے دیتے یوں آپ چاہیں تو اس عدم استحکام کو تنازع کشمیر کے حل میں تاخیر سے جوڑ کر دیکھ سکتے ہیں۔

خاص طور پر انیس سو نوے کے عشرے میں مسلم لیگ ن کے پروپیگنڈا سیل نے بے نظیر بھٹو کو جس طرح سکیورٹی رسک قرار دیا وہ آج بھی یاد ہے، ن لیگ کے میڈیا سیل نے عمران خان کے خلاف سیتا وائٹ سکینڈل اٹھانے کے لئے ایک اخبار سے پیکیج ڈیل کی۔ پھر آصف علی زرداری کو مسٹر ٹین پرسنٹ کا نام دیا۔ بہرحال یہ اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے ہتھکنڈے تھے۔ اسامہ بن لادن سے رقم لینے، آئی جے آئی کی تشکیل اور سرکاری خزانے سے سیاستدانوں کی خریداری کے معاملات پر جب بھی بات ہوئی ایک درجہ پر آ کر رک گئی۔

Read more

”نئے نقشے“ میں جوناگڑھ کی موجودگی

سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کے لوگ میرے کالم کے بارے میں جو فیڈ بیک دیتے ہیں میں اسے بہت سنجیدگی سے لیتا ہوں۔ جمعرات کی صبح چھپے کالم کو پڑھنے کے بعد ان کی کافی تعداد نے اس امر کو سراہا کہ میں نے سرکریک کی سٹریٹیجک اہمیت کو اجاگر کیا۔ اردو میں اسے ”تزویراتی“ پکارتے ہیں۔ ایمانداری کی بات ہے کہ فقط ”تزویراتی“ کسی سیاق وسباق کے بغیر لکھا ہو تو میں ذاتی طور پر اسے سمجھ نہیں پاؤں گا۔ اسی باعث اردو کالم لکھتے ہوئے بھی انگریزی میں سٹریٹیجک لکھنے کی عادت اپنائی ہوئی ہے۔ شدھ زبان کے متوالوں کے لئے یہ قابل اعتراض بات ہو گی۔ ان کی سوچ کا دل سے احترام۔ اردو مگر میری مادری زبان نہیں ہے۔ اسے سیکھنے کی کوشش کی ہے اور داغؔ دہلوی نے فرمایا تھا کہ ”آتی ہے اردو زبان آتے آتے“ ۔ عمر گزاردی گئی لیکن یہ زبان گرفت میں نہ آسکی۔

Read more

یوم استحصال کشمیر، 5 اگست

جنت نظیر وادی کشمیر گزشتہ 72 سالوں سے لہو لہان ہے، بھارتی ظلم و جبر کا شکار نہتے کشمیری بھارتی فوج کے ہاتھوں یرغمال ہیں اور اپنی آزادی و بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں، ان 72 سالوں میں کشمیریوں کا مورال کمزور ہوا نہ ہی پاکستان سے محبت، حسرت آزادی کا دیپ جلائے نہتے کشمیری گزشتہ ایک سال سے تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم جبراً نظر بند ہیں، وادی کا دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔ آج 5 اگست

Read more

چین میں تبدیلی کب اور کیسے آئی؟

ہمارے بڑوں نے جب ڈیفنس فیز ون کراچی میں رئیر ایڈمرل حاجی محمد صدیق پاکستان کے پہلے کمانڈر ان چیف کے سمجھانے پر فیز ون میں ایک پلاٹ خریدا تو خاندان کے غیر عسکری ممبرز نے انہیں سمجھایا کہ اتنے میں تو سنگاپور میں بھی پلاٹ کیا گھر بھی مل جاتا ہے۔ ابوالکلام آزاد کی بات مت سنو مگر جناح صاحب نے یہ کب ضد کی تھی کہ ڈیفنس کراچی میں رہو۔ نہیں مانے۔ بہت بعد میں بستر مرگ پر

Read more

اور اب پیر سید کرم علی شاہ بھی ہم میں نہ رہے

کیا ہی غضب کا سال ہے ایک ایک کر کے سب ہی رخصت ہوئے جا رہے ہیں، ابھی سلطان مدد، راجہ عادل غیاث، ملک مسکین، حاجی جانباز، سعید افضل اور پروفیسر حشمت الہامی کے قبروں کی مٹی بھی نہ سوکھی تھی کہ گلگت بلتستان کی ایک اور بلند قامت سیاسی، سماجی و روحانی شخصیت پیر سید کرم علی شاہ بھی نہ رہے۔ ان کا سیاسی سفر ناردرن ایریاز کی مشاورتی کونسل سے گلگت بلتستان کی گورنری کے سنگھاسن تک پھیلا ہوا ہے جس میں ان کو چالیس سال تک سیاست کی بساط پر ناقابل شکست رہنے اور اس علاقے کا پہلا ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو منتخب ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

پیر سید کرم علی شاہ کے اجداد نے تاجکستان کے گورنو بدخشان، شمالی افغانستان، پاکستان میں چترال، یاسین اور ضلع غذر کے گاؤں چٹور کھنڈ تک کا سفر کیا۔ وسطی ایشیا بشمول افغانستان، چینی ترکستان اور پاکستان میں نہ صرف ان کے مریدین، معتقدین اور پیرو کاروں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے بلکہ ان کے خونی رشتے بھی موجود ہیں۔

Read more

انور کانگو اور انڈونیشیا کا قتل عام

تصور کیجیے کہ ایک قاتل جو قتل عام کا مرتکب ہوا ہو ۔ بے گناہوں کو اغوا، تشدد اور قتل کے بعد ان کی لاشیں ٹھکانے لگانا جس کا معمول ہو، اپنے گناہوں پر شرمندہ ہونا تو دور کی بات ان پر فخر محسوس کرے اور ان پر دوبارہ عمل پیرا ہونے کے لیے بے چین ہو۔ یہ 1965ء کا واقعہ ہے انڈونیشیا کا باشندہ انور کانگو نامی بے رحم قاتل جو بے گناہوں کو قتل کرنے کے بعد ان

Read more

کراچی کا مقدمہ

کراچی دنیا کے چند بڑے شہروں میں سے ایک اور پاکستان کی معاشی سرگرمیوں کا مین مرکز ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا کی چند ریاستوں کی آبادی سے زائد آبادی کا حامل شہر ہے۔ اس شہر کو لے کر آج کل میڈیا میں ایک ہجان برپا ہے۔ اتنے بڑے شہر کے مسائل دراصل اس رائج الوقت نظام کی دن بدن بڑھتی ناکامی کے ساتھ جڑے ہیں۔ کراچی اگر معاشی حب ہے تو پھر یقیناً محنت کشوں کا حب بھی

Read more

مفاہمت کا بادشاہ آصف علی زرداری: ایک قومی سرمایہ

وطن عزیز میں بہت سے سیاسی قد آور شخصیات گزری ہیں، جنہوں نے سیاست کے میدان میں اپنا نام بنایا۔ ان میں سے دو اہم شخصیات شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو دونوں کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے لیکن ایک شخصیت ایسی بھی ہے جو نہ صرف سیاسی بلکہ سماجی، اخلاقی، اصول پسندی، بہادری خواہ ہر محاذ پر فاتح رہا ہے اور یہ کوئی اور نہیں بلکہ قابل محترم جناب صدر آصف علی زرداری ہیں

Read more

سچل سر مست سائیں خیر پور بھٹو

پودا لگائیں تو پھل، سایہ، بیج، لکڑی اور کوئلے سے لے کر ہیر ے تک حاصل ہوتا ہے ؛ پودا علم کا ہو یا کسی بھی قسم کا ہو اس کی نمو اور ہیروں کی پہچان کے تمام مراحل اگر عالم کے ہاتھوں سے گزریں تو پھر یہ سلسلۂ علم اور وسیلۂ ملاقات دراصل نوید چشمۂ حیات بنتا ہے۔ منزل مراد تک پہنچنے کی کوششوں میں اگر علم ہی وسیلۂ محبت بنے تو پہاڑ، دریا، سمندر اور کسی بھی قسم

Read more

کیا عام شہری لاوارث ہے؟

یوں تو معاشرے کے کئی بنیادی اجزاء یا عناصر ہوتے ہیں لیکن جب انسان کسی خاص نظام کے تحت ایک ریاست کے اندر یکجا ہو جاتے ہیں تو وہ اپنی اجتماعی زندگی کے لئے ایک عہد نامہ کرتے ہیں۔ اس عہد نامے کو ہم عام طور پر کسی ریاست کا آئین یا دستور کہتے ہیں۔ آئین کے ذریعے ایک معاشرہ طے کرتا ہے کہ وہاں حکمرانی کا نظام کیا ہو گا؟ حکمران کس طرح چنے جائیں گے؟ انہیں کس کس

Read more

گلگت بلتستان الیکشن اور سیاسی ہجرت کا رحجان

کسی ایک آئیڈیالوجی کو تھامے رکھنا اور اسی کے اندر رہ کر سیاسی جدوجہد کرنے کی پاکستان میں تاریخ کچھ شاندار نہی۔ گو کہ اس ملک کا قیام ایک سیاسی جد وجہد کا نتیجہ تھا مگر بانی پاکستان کی رحلت کے بعد عنان اقتدار زیادہ تر طالع آزماؤں کے ہاتھ رہا اور انھوں نے سیاست کی پنیری میں اپنی پسند اور مرضی کے سیاست دان اگائے۔ اس طرح ایک دور ادوار کو چھوڑ کر پاکستان کی مجموعی سیاسی صورتحال ایک

Read more

سی پیک کریڈٹ کا تنازعہ

گزشتہ دو برس سے بہت سوچ بچار کے بعد دریافت یہ کیا ہے کہ بقول جون ایلیا ’’عمرگزاردی گئی‘‘ ہے۔جو بچی ہے اسے بتانے کے لئے رزق کمانا ضروری ہے اور مجھے اس ضمن میں لکھنے اور بولنے کے علاوہ کچھ آتا ہی نہیں۔ٹھنڈے دل سے ’’سیف-سیف‘‘ موضوعات پر لہٰذا ڈنگ ٹپائو کالم لکھو۔خود کو دانشور یا ہیرو ثابت کرنے کے خبط سے گریز بھی لازمی ہے۔چند واقعات مگر رونما ہوجاتے ہیںجو دل کو بے قرار بنادیتے ہیں۔ان کے بارے

Read more

پاکستان میں اظہار پر کڑی پابندیاں

لکھنا چاہتا تھا کہ ایک کامیاب سفارتکار ناکام صدر کیوں ثابت ہوا۔ آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان مقتدرہ کی چوائس اس لیے تھے کہ وہ عالمی برادری میں اپنے سفارتی تجربے کی بنیاد پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں گے بغیر لگی لپٹی کہ یہ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ وہ ناکام ترین صدر ثابت ہوئے۔ مگر اس وقت ذہن میں جو موضوع کچوکے لگا رہا ہے وہ ہے پاکستان میں اظہار پر کڑی پابندیاں۔ صدر

Read more

معراج محمد خان: روشنی کا مینار

معراج محمد خان بائیں بازوکی تحریک کے سرگرم کارکن تھے۔ انھوں نے کارل مارکس کے فلسفہ کو دل کی گہرائیوں کے ساتھ قبول کیا اورایک غیر طبقاتی سماج کے قیام کے لیے اپنی زندگی کو وقف کیا۔ ان کے بھائی منہاج محمد خان برنا ممبئی میں ترقی پسند تحریک میں شامل ہوئے۔ انھوں نے جامعہ ملیہ دہلی میں تعلیم حاصل کی، برنا صاحب جدوجہد کا استعارہ تھے۔ انھوں نے جامعہ ملیہ دہلی میں شرنارتھیوں کے داخلہ کے لیے ہڑتال کرائی۔

Read more

بدلنا بہار کا دائمی خزاں میں

راجشاہی میڈیکل کالج کے ہوسٹل کی بود و باش میں تقریباً سوا سال کا عرصہ بیت چکا تھا۔ اس دوران وہاں مقامی رہنے والوں سے دوستی اور تعلقات قائم ہو چکے تھے اور جہاں تک ویسٹ پاکستانی طالبعلموں کی بات ہے ہم ایک فیملی کی مانند تھے۔ آپس کی ہمدردی اور سینیئرز کی شفقت قابل رشک تھی۔ شروع شروع میں ایک روز چھٹی کے دن صبح صبح میں سیر کے لیے نکلا۔ اور واپس ہوسٹل پہنچنے تک ایک بج چکا

Read more

مختار مسعود سے وابستہ کچھ یادیں

ادبی حلقوں میں اور پاکستان کی سینئر بیوروکریسی میں مختار مسعود کا نام جانا پہچانا ہے۔ وہ پاکستان کی سول سروس کے اولین گروپ کا حصہ تھے۔ سکول کی تعلیم انہوں نے علی گڑھ کے اپنے سکول سے حاصل کی اور پھر اسی یونیورسٹی سے ایم اے اکنامکس کی تعلیم مکمل کی۔ گویا ان کی تعلیم و تربیت کا ایک طویل عرصہ علی گڑھ یونیورسٹی میں ہی گزرا، جس کی چھاپ ان کی شخصیت، خیالات اور تحریر پر نمایاں نظر

Read more

کیا تبدیلی کا بیانیہ پٹ گیا ہے؟

روٹی، کپڑا اور مکان پاکستان کی سیاسی تاریخ کا وہ طاقتور بیانیہ تھا جس نے انتخابات کے دوران مغربی پاکستان میں موجود ہر سیاسی بت کو منہ کے بل گرا دیا۔ قیام پاکستان سے لے کر 1970 تک کی مدت میں ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ کسی انتخابی مہم میں واضح طور پر عوام کی بنیادی ضروریات اور ان کے حقوق کی بات کی گئی۔ اور اس نعرے کا بھرپور فائدہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے

Read more

سید عبداللہ شاہ لکیاری۔ ایک نظریاتی سیاستدان، ایک کامیاب وزیر اعلیٰ

آج ہم سندھ کے بہادر، مدبر اور اپنے فیصلوں پر اٹل رہنے والے، نامور سیاستدان اور سندھ کے سابق وزیراعلیٰ، سید عبداللہ شاہ کا ذکر کر رہے ہیں۔ سید عبداللہ شاہ لکیاری، 1934 ء میں، سابقہ ضلع دادو اور موجودہ ضلع جامشورو کے تعلقہ سیوہن میں ’باجارہ‘ نامی گاؤں میں، مشہور زمیندار، سید مراد علی شاہ کے گھر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم باجارہ ہی میں حاصل کی، جبکہ میٹرک کا امتحان دادو کے گورنمنٹ پائلٹ ہائی اسکول

Read more

مطیع اللہ جان کے کارنامے

(برادر صحافی اسلم خان صاحب نے یہ تحریر آج صبح "ہم سب” کو ارسال کی تھی۔ یہ تحریر موصول ہونے کے بعد مطیع اللہ جان کے اغوا کی خبر آئی اور اس تحریر نے ایک نیا پس منظر اختیار کر لیا۔ "ادارہ ہم سب” کا اس تحریر کے سب مندرجات سے اتفاق ضروری نہیں لیکن ایک محترم صحافی کی یہ امانت پڑھنے والوں تک پہنچانا ہمارا فرض ہے۔ مدیر ) اصول، سچائی اور انصاف کے لئے ڈٹ کر کھڑے ہونے

Read more

پاکستان میں جمہوریت کا سفر

ایک پائیدار جمہوری نظام کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ناگزیر ہے۔ جب جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا جاتا تو اس کا پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس ملک کے ادارے کمزور ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے انصاف اور آزادی رائے ختم ہو جاتی ہے۔ کرپشن اور اقرباپروری بڑھتی ہے۔ با اثر افراد ملک میں قابص رہتے ہیں۔ ھمارا ملک پاکستان جب سے معرض وجود میں آیا ہے اس وقت سے لے کر آج

Read more

کچھ رحم کریں یہ ملک ہے آپ کی تجربہ گاہ نہیں

ہم میں سے وہ لوگ جنہوں نے سرکاری سکول یا کالج سے تعلیم حاصل کی اور میٹرک یا ایف، ایس، سی میں سائنس پڑھی ہوگی، وہ اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے کہ سائنس کے مضامین کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ ایک فرسودہ سی تجربہ گاہ میں برائے نام تجربے بھی کروائے جاتے تھے اور پھر سالانہ امتحانات میں پریکٹیکل کے امتحان کا ڈھونگ بھی رچایا جاتا تھا۔ جسے پاس کرنا لازم ہوتا تھا۔ ہم چونکہ ایک ایوریج سٹوڈنٹ ہوا کرتے تھے لہذا اکثر اوقات یہ پیریڈ انجوائے کرتے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوتی تھی کہ ہمارے ہاں اکثر سکولوں کی لیبارٹریز میں تجربے کرنے کے لئے سامان ضرورت سے کم ہوتا تھا اور جب تک ہماری باری آتی پیریڈ کا وقت ختم ہوچکا ہوتا اور ہم واپس اپنی کلاس میں پہنچ جاتے۔

لیکن سالانہ امتحانات میں کسی کی سفارش ہوتی تو پریکٹیکل میں بہتر نمبر مل جاتے ورنہ ایوریج نمبر سب کو ملتے تھے اور یوں سرٹیفیکیٹ کی شکل کچھ ہوجاتی۔ لیکن اگر آپ غور کریں تو سائنسی مضامین میں جو فارمولے اور تھیوری کوئی تین دہائیاں پہلے یعنی ہمارے زمانے میں پڑھائی گئی تھی، سلیبس آج بھی وہی ہے اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ہمارے اساتذہ نے بھی وہی پڑھا تھا اور آج ہمارے بچوں کو بھی وہی کچھ پڑھایا جا رہا ہے اور تجربہ گاہوں میں وہی تجربات کروائے جاتے ہیں۔

Read more

پیپلز پارٹی اور گلگت

پاکستان پیپلزپارٹی اور گلگت بلتستان کا برسوں پرانا رشتہ ہے۔ یہ پاکستان کا وہ پسماندہ علاقہ ہے جس سے ہمیشہ سوتیلی اولاد کا سا سلوک کیا گیا، گویا کہ اکیسویں صدی میں رہتے ہوئے بھی ہم سو سال پیچھے ہیں۔ اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو اس پر امن خطے نے جنگ آزادی اپنی مدد آپ لڑ کر خود پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ یہ وہ خوبصورت خطہ ہے جو اپنی اونچی چٹانوں، دلفریب سیاحتی مقامات اور

Read more

ہاکی اولمپیئن سمیع اللہ: چار ورلڈ کپس میں پاکستانی کی نمائندگی کرنے والے سمیع اللہ کو ’فلائنگ ہارس‘ کا خطاب کس نے دیا؟

سنہ 1975 میں ملائشیا میں منعقدہ تیسرے عالمی کپ ہاکی ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں پاکستان ہاکی ٹیم نے جرمنی کو ایک کے مقابلے میں پانچ گول سے ہرا دیا جس پر جرمن ٹیم کے کوچ پال لیزیک نے ایک بیان دیا کہ سمیع اللہ فلائنگ ہارس نے ہماری ٹیم کو تباہ کر کے رکھ دیا۔

Read more

پارلیمانی نظام سے جان چھڑانے کی خواہش

قومی اسمبلی کا اجلاس ہورہا ہو تو میں سینٹ کی کارروائی کو عموماََ نظرانداز کردیتا ہوں۔342 اراکین پر مشتمل ایوان زیریں میں کرونا کے باوجود اراکین مناسب تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ بجٹ اجلاس کے دنوں سے علی زیدی اور مراد سعید باہم مل کر پیپلز پارٹی کو عزیر بلوچ جیسے جرائم پیشہ افراد کے ’’حتمی سرپرست‘‘ قرار دے رہے ہیں۔انہیں للکارنے کو عبدالقادر پٹیل کھڑے ہوجاتے ہیں۔فریقین کی جانب سے لگائی رونق کے صدقے چسکہ فروشی کا

Read more

پاکستان میں صحافتی کتب کا المیہ (دوسرا حصہ)

اگر برصغیر میں اردو صحافت کی تاریخ کی بات کی جائے تو اس میں مولوی محبوب عالم کی 1903 میں تالیف کردہ فہرست اخبارات ہند کو ممتاز مقام حاصل ہے۔ جس کی تربیت اور مقدمہ و حواشی طاہر مسعود نے لکھ کر مغربی پاکستان اردو اکیڈمی سے 1992 میں شائع کی اور کتاب کا عنوان رکھا ”اردو صحافت کی ایک نادر تاریخ“ مگر سرورق پر طاہر مسعود صاحب نے صرف اپنا نام دیا ہے اور ٹائٹل سے اصل مولف مولوی

Read more

محمد حنیف اور پرویز ہودبھائی پر غداری کا الزام لگانے والے صحافی کا اپنا کردار

1977 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزام کے ساتھ ملک کی اہم اپوزیشن سیاسی قوتیں ’پاکستان نیشنل الائنس‘ (پی این اے ) کے نام سے ایک اتحاد تشکیل دے کر مشترکہ پلیٹ فارم سے ”اینٹی بھٹو موومنٹ“ کا آغاز کر چکی تھیں جو دراصل یک نکاتی ایجنڈے پر امریکی سی آئی اے سپانسرڈ تحریک تھی، جس کا واحد مقصد ایٹمی پروگرام سے دستبردار نہ ہونے کی امریکی ڈکٹیشن قبول کرنے سے انکار پر پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم

Read more

پانچ جولائی: بھٹو کی جمہوریت سے ضیاء کی آمریت تک کا سفر

سانحات اچانک رونما نہیں ہوا کرتے۔ برسوں واقعات کی ایسی لڑی بنتی رہتی ہے کہ جن کے نتائج سانحات کی صورت ہمارے سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں۔ سانحات کا رونما ہونا ہرگز اچنبھے کی بات نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم بطور سماج سانحات سے سبق حاصل نہیں کرتے، بلکہ ایسے ”کارنامے“ شدو مد سے ”سر انجام“ دیتے رہتے ہیں جن کے نتائج بد دیر پا اور اثرات جس کے دہائیوں پہ پھیلے ہوتے ہیں۔ ہند کے عبد الرحیم اجمیری،

Read more

صدارتی نظام کے خواب

نااہل انسان کی بنیادی تعریف یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی حال میں خوش نہیں ہوتا۔ سیاست دستیاب حالات میں بہترین پرفارمنس دینے کو کہتے ہیں۔ جب غیر سیاسی اذہان سیاسی عمل میں اتار دیے جاتے ہیں۔ تو وہ ” ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا ” کے مصداق نظام پر اعتراض کرنے کے علاوہ کوئی پرفارمنس نہیں دے پاتے۔ سیاسی عمل سے ناواقف لوگ دراصل تاریخ کا انکار کرنے والے ہوتے ہیں۔ تاریخ کا انکار بھی وہ جہالت کی وجہ

Read more

اور راجہ نے "سزا” بھگت لی !

محنت کرنے کے عادی کو محض ثمرات سمیٹنے ہی پر خوشی نہیں ہوتی وہ محنت کے لمحات سے بھی لطف اندوز ہوتا ہے. بات ہے سنہ 2017 کی جب راجہ پرویز اشرف پنجاب کی تنظیم سازی کے دورہ پر تھے۔ ان کی ہم قدم ٹیم بھی ان کی رفاقت کے سبب پراعتماد تھی۔ جب پوچھا گیا کہ صاحب پنجاب میں مایوسی کا سامنا کس ضلع میں ہوا تو جواب ملا کہ میانوالی اور بھکر کے اضلاع میں چیلنجز ہیں تاہم مایوسی

Read more

سیاست سڑکوں پر، خطرہ حکومت کو

پاکستان ایک طرف کورونا کی عالمی وبا کے خلاف جنگ میں مصروف ہے، الحمدللہ کہ ہماری تمام تر بے اعتدالیوں اور بے ضابطگیوں کے باوجود اس کا پھیلاؤ محدود ہو رہا ہے۔ تاجروں اور دکان داروں سے لے کر مفتیان کرام تک نے اس کی ”حوصلہ افزائی“ میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی۔ جب دنیا بھر کی مسجدوں میں معمول کے مطابق نماز ادا نہیں کی جا رہی تھی، یہاں تک کہ بیت اللہ اور مسجد نبوی میں بھی نمازیوں کی تعداد انتہائی محدود کر دی گئی تھی، تراویح کا اہتمام ممکن نہ رہا تھا اور عید کی نماز بھی گھروں پر ادا کرنے کی تلقین کی جا رہی تھی، پاکستان کے مفتیان عظام ایک دوسری روش اپنائے ہوئے تھے۔

ایک انتہائی جید مفتی صاحب کورونا وائرس کے خطرے کو موہوم قرار دے رہے تھے، اور تراویح اور عید کے اجتماعات کو محدود کرنے کی اہمیت سمجھنے پر تیار نہیں تھے۔ تاجر اور دکان دار عید کے موقع پر بازار اور مال مسلسل کھلے رکھنے پر اصرار کر رہے تھے، اور حکومتوں کو احتجاجی تحریک چلانے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ عدالتی ایوان سے بھی عید کی شاپنگ کے حق میں ریمارکس دیے گئے۔ عوام کی بڑی تعداد بھی بگٹٹ تھی۔ عورتیں، بچے، بزرگ سب گھروں سے بے لگام باہر نکل کر خریداری پر تلے ہوئے تھے۔

Read more

بدلتے حالات میں پیپلزپارٹی کا کردار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( 2 )

بے نظیر بھٹو کے بعد پنجاب سے پیپلز پارٹی کی بیدخلی کی سب سے بڑی وجہ مفاہمت کی پالیسی تھی۔ اگرچہ یہ نعرہ خود محترمہ نے لگایا لیکن وہ اس کا مطلب سیاسی پسپائی نہیں لیتی تھیں۔ آصف علی زرداری کو صدر منتخب ہونے کے لئے بہت سی قوتوں سے مصالحت کرنا پڑی۔ ایسے وقت میں جب بے نظیر بھٹو دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں آصف علی زرداری کو وہ شرائط یاد کروائی گئیں جو جنرل پرویز مشرف کی ٹیم نے رہا کرتے وقت ان سے منوائی تھیں۔

آصف علی زرداری نے ایک مشکل وقت میں پارٹی کو اقتدار دلایا لیکن ان کے اتحادیوں کی فرمائشوں نے ان کے مخالفین کو ایک بار پھر موقع دیا کہ وہ آصف علی زرداری پر کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگا سکیں۔ آصف علی زرداری نے کسی کو ناراض نہیں ہونے دیا۔ نواز شریف کی خواہش تھی کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی ان کی حریف نہ رہے۔ نواز شریف کی یہ خواہش پوری ہو گئی۔ پیپلز پارٹی کے جن کارکنوں اور رہنماؤں نے برسہا برس تک ضیاء الحق اور پھر نواز شریف سے لڑائی کی تھی ان کے لئے مفاہمت کی نئی تشریح ناقابل قبول تھی۔

Read more

نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کا ”مشترکہ“ جج کون تھا؟

عدلیہ سے بنا کے رکھنے اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو راضی اور ہو سکے تو اپنی جیب میں رکھنے کے رویہ کے حوالے سے نواز شریف اور شہید بے نظیر بھٹو، دونوں کا مائنڈ سیٹ ایک اور سیاسی کردار یکساں رہا ہے، بدقسمتی سے 90 ء کے بعد کی دو دہائیوں میں اس ملک میں ’نون‘ لیگ اور پیپلزپارٹی، دونوں ہی بڑی سیاسی جماعتوں کی تاریخ یکساں ”روشن“ ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس دور میں پنجاب میں ایف آئی اے کا ایک افسر احمد ریاض شیخ جو بعد میں کسی نہ کسی طرح ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کے عہدہ تک پہنچا اور پی پی پی کی شرمیلا فاروقی کا سسر ہے، اور لاہور ہائی کورٹ کا ایک جج

Read more

بدلتے حالات میں پیپلزپارٹی کا کردار

حکومت کی کمزور ہوتی گرفت اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے سرپرستی کم ہونے کی خبروں نے مولانا فضل الرحمان‘ شہباز شریف‘ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کو الگ الگ سطح پر متحرک کر دیا ہے۔ مولانا نے اختر مینگل والا محاذ سنبھالا‘بلاول نے پی ٹی ایم کے منتخب افراد سے رابطے کئے۔ شہباز شریف کورونا کی آڑ میں آرمی چیف سے صحت یابی کی دعا بذریعہ فون لے چکے ہیں۔ انہیں ایسے امکانات دکھائی دے رہے ہیں کہ سول

Read more

یہ انتظار کا موسم

دیکھیں جی سب کچھ آپ کے وجود سے جڑا ہوا ہے، کم از کم آپ کے شعور کی حد تک، مذہب سے لے کر کے سیاست تک۔ اگر آپ ہیں ہی نہیں، یعنی آپ کا اس کرہ ارض پر کبھی وجود ہی نہیں رہا تب تو بات ہی کرنے کی ضرورت نہیں، کون سا مذہب اور کون سی سیاست سب ”بلیک ہول“ ہے اور اگر آپ اس ارض پہ وارد ہوئے اور معدوم ہو گئے تب مذہب سے متعلق کچھ عرصے تک زندہ رہنے کے لیے آپ کا کم از کم غامدی ہونا لازم ہوگا اور سیاست میں زندہ رہنے کے لیے کم از کم ذوالفقار علی بھٹو۔

Read more

کشمیر کو بچا لو: جبار مرزا کا کشمیری نوحہ

کون با ذوق قاری ہو گا جو جبار مرزا کو نہیں جانتا۔ آپ انہیں دنیائے شعر و ادب اور تحقیقی صحافت کے امام کا درجہ سکتے ہیں۔ اعلیٰ پایہ کے نثر نگا ر سینئر صحافی، محقق، مورخ، سوانح نویس، مدیر اور کالم نگار یہ آپ کی شخصیت کے مستند حوالے ہیں۔ ” کشمیر کو بچا لو“ جبار مرزا کی 21 ویں اہم اور تاریخی دستاویز پر مشتمل کتاب ہے۔ جو حالیہ کرونائی عہد میں لکھی گئی ہے۔ کشمیر جبار مرزا

Read more

’’مرشد مروا نہ دینا‘‘

5 جولائی آیا اور گزر گیا صرف پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اس روز 43 سال قبل اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹنے کے دن کو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔ بلاول بھٹو کی بات اصولی طور پر درست ہے۔ شاید سانحہ مشرقی پاکستان جسے ایک آمر فیلڈ مارشل ایوب خان کی پالیسیوں کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے کے علاوہ 5 جولائی1977ء

Read more

ذکر صحافتی تاریخ کے اساطیری نیوز ایڈیٹر کا۔ ۔ ۔

ہماری خوش بختی کہ گزشتہ روز برادرم اسلم ہمشیرہ اور عزیزم اصغر جھبیل جیسے اساتذہ کرام نے اپنے قدوم میمنت لزوم سے کتاب سرائے کو رونق بخشی۔ مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے لیجنڈ فنکار اور شاعر طارق عزیز صاحب کا تذکرہ چھڑ گیا۔ ”ذکر یار“ سے شروع ہونے والی بات ان کی وفات کے حوالے سے اخبارات کی سرخیوں تک اور وہاں سے عباس اطہر صاحب تک جا پہنچی۔ کچھ معاصر اخبارات نے طارق عزیز صاحب کی وفات

Read more

ضیاء کا مارشل لاء ، مائنس ون اور پھلجڑیاں

حقیقت فقط اتنی ہے کہ گزرے اتوار کی صبح اُٹھا تو احساس ہوا کہ آج 5جولائی ہے۔اس حوالے سے جولائی 1977کی یاد آگئی۔ذہن میں کسی فلم کے سین کی طرح وہ لمحات گھومنا شروع ہوگئے جب تین ’’دانشور‘‘ بزرگوں کے ہمراہ بیٹھ کر جنرل ضیاء کی ’’میرے عزیز ہم وطنو…‘‘ والی تقریر سنی تھی۔اس خطاب کے ختم ہوتے ہی میرے سینئرز نے متفقہ اعلان کردیا کہ ہوشیار اور چالاک ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ضیاء کو سازشی انداز میں مارشل

Read more

5 جولائی 77:خوش گمانیوں کا سفرِ ناتمام

موضوع اس کالم کا کچھ اور سوچ رکھا تھا۔اتوارکی صبح اُٹھا تو جانے کیوں یاد آگیا کہ آج پانچ جولائی ہے۔ یہ دن 1977میں بھی آیا تھا۔زندگی کے کئی برس اس کے اثرات سے نبردآزما ہونے میں خرچ ہوگئے۔اپنے تئیں جو ’’مزاحمت‘‘ برپا کی تھی اس کے حوالے سے خود کو ’’ہیرو‘‘ تصور کرنے کی علت بھی پال رکھی تھی۔عمر کے آخری حصے میں داخل ہوا تو دیانت داری سے اس نتیجے پر پہنچا کہ جھک ماری تھی۔خواہ مخواہ زندگی

Read more

آپریشن ”ان“ فیئر پلے

”اٹھو جاگو فوراً کپڑے پہنو“ پنکی کے کان میں نصرت بھٹو کی آواز پڑتی ہے۔ ”فوج نے قبضہ کر لیا ہے“

7 مارچ 77 کے انتخابات کے نتائج کے خلاف احتجاجاً پی این اے نے 10 مارچ کو ہونے والے صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا۔ 11 مارچ جمعے کا دن تھا۔ مساجد سے جلوسوں کی ابتدا ہو گئی۔ ”پٹکا مرکنٹائل“ آگے آگے تھی۔ (پٹکا مرکنٹائل کی اصطلاح ان تاجروں، آڑھتیوں اور دکانداروں وغیرہ کے لیے تھی جو کندھے پر چار خانہ پٹکا ڈالے مذہبی تنظیموں کی مالی سرپرستی کرتے تھے )

Read more

4 اپریل 1979ء: ایک ملتانی کی یادداشت میں

سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کے تین روزہ تاریخی بیان نے ایک طرف تو اس سے والہانہ محبت کرنے والوں کے دل گرما دیے مگر دوسری طرف جہاں دیدہ لوگوں کو عالمی تاریخ کے اوراق پلٹ کر کسی حد تک باور کرا دیا تھا کہ ایک بڑا المیہ اقتدار پر فائز سانپ جیسی آنکھوں والے کے بدنیت کارندوں کے سبب ذیب کی طرف بڑھ رہا ہے مگر اندر سے امید کا ایک دیا تھا جو بجھتا نہیں تھا کہ

Read more

معزز لوگوں کو مقروض کر کے خالد درزی مر گیا

ہم صبح ، شام، ویلے کویلے ایک اداس سرگوشی سنتے ہیں کہ’ وہ بھی چل بسا ، یا چل بسی‘، تب ہم میکانکی طریقے سے فاتحہ کے لئے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں اور مغفرت کی امید پر ایک وعدہ باری تعالیٰ کو یاد دلا دیتے ہیں جنہیں تیری دنیا کے طاقت وروں نے نہیں بخشا انہیں مولیٰ توُ تو بخش دے۔ رہ گئے پس ماندگان تو ان کے لئے ہمارے پاس سوائے تلقینِ صبر کچھ نہیں۔ اس لئے اگر میں

Read more

ظفر اقبال فاروقی: ایک رندِ پارسا

  یہ عجیب نمازِ جنازہ تھی، عام طور پر مولوی پہلے جنازہ پڑھنے کا طریقہ بتاتے ہیں یا تھوڑا بہت قربِ قیامت کے آثار پر گریہ آوری کی کوشش کرتے ہیں، اگر مرحوم کا ذکر کریں تو عام طور ان کے فضائل گنواتے ہیں یا ان کے قرض خواہوں سے مرحوم کے پس ماندگان کے حق میں در گزر یا حسنِ سلوک کی درخواست کرتے ہیں، مگر یہاں تو مولوی صاحب فرما رہے تھے:  ’’ مسلمانو! وقت بہت کم ہے

Read more