گلگت بلتستان انتخابات: اس علاقے سے الیکشن لڑنے والی خاتون جہاں خواتین کو ووٹ ڈالنے کی بھی اجازت نہیں ملتی

پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر گلگت بلتستان کے ضلع تانگیر سے پہلی بار کوئی خاتون الیکشن لڑ رہی ہیں اور یہ وہ علاقہ ہے جہاں خواتین کا ووٹ ڈالنا تو دور کی بات انھیں گھر سے نکلنے اور نامحرم سے بات تک کرنے کی اجازت نہیں۔

Read more

نواب محمد احمد خان قصوری: 46 برس قبل ہونے والا ایک قتل جو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی وجہ بنا

11 نومبر کو لاہور میں نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل کی روداد جس کے الزام میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دی گئی۔

Read more

تاریخ کی غلام گردشوں میں پاور پالیٹیکس اور اختیار کی جنگ

آئیے تاریخ کی غلام گردشوں میں گھومتے ہیں۔ ملک آزاد ہوا تو ہمیں بیوروکریسی بھی انگریزوں کی دی ہوئی ملی۔ ریاستی ڈھانچہ بھی انہی کا بنایا ہوا تھا۔ بیوروکریسی، سول اور ملٹری، دونوں ملکہ برطانیہ کی وفادار تھیں۔ پاکستان بننے کے فوری بعد اس بیوروکریسی نے اپنے پر پرزے نکالنا شروع کر دیے جب کہ پاکستان کے سیاست دان ابھی کمزور تھے۔ پاکستان بننے کے چند ہی سالوں میں اسی بیوروکریسی نے سیاست دانوں کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتدار پر کلی طور پر قبضہ کر لیا۔

ایک صاحب ہوا کرتے تھے ملک غلام محمد۔ آپ انڈیا کی وزارت خزانہ میں فانینشل اڈیٹر کے عہدے پر کام کرتے رہے۔ 1947 ء میں آپ انڈین ریلوے سروسز میں آ گئے۔ جو بیوروکریسی پاکستان کے حصے میں آئی اس کا حصہ آپ بھی تھے۔ 15 اگست 1947 ء کو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے جو کابینہ بنائی اس میں آپ کو وزارت خزانہ کا قلم دان سونپ دیا گیا۔ محلاتی سازشوں کے ذریعے آپ 17 اکتوبر 1951 ء کو پاکستان کے گورنر جنرل بن گئے۔

Read more

گلگت بلتستان الیکشن 2020: گلگت بلتستان میں تیر چلے گا، شیر دھاڑے گا یا پھر بلا سب پر بھاری رہے گا؟

گلگت بلتستان میں انتخابی مہم پورے جوش و خروش سے جاری ہے اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے سربراہان نے اس خطے میں ڈیرے جما رکھے ہیں۔ بی بی سی کی فرحت جاوید نے حال ہی میں اس خطے کا دورہ کیا اور ووٹرز سے جاننے کی کوشش کی کہ وہ ان انتخابات کو کیسے دیکھ رہے اور اس مرتبہ کس جماعت کا ساتھ دیں گے۔

Read more

نام لینے کی اجازت نہیں

استاذی قیوم نظر نے ہمارا آشوب لکھا تھا، ’مجھ پہ آئی کہاں ٹلی ہے ابھی‘۔ اِدھر ادھر سے اچھی خبروں کی لین ڈوری بندھی ہے۔ ’پھول کھلے ہیں گلشن گلشن، لیکن اپنا اپنا دامن‘۔ ڈونلڈ ٹرمپ انتخاب ہار گئے۔ یہ ری پبلکن پارٹی کی ہار نہیں، طاقت، دھونس اور دھمکی کے بل پر اجتماعی اخلاقی ذمہ داری روندنے کی شکست ہے۔ ہمارے خطے میں افغانستان سے لداخ تک بچھی بساط پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ قلمروئے روس سے

Read more

گلگت بلتستان الیکشن۔ مذہبی جماعتیں کس موڑ پر ہیں؟

یوں تو ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔ ان جماعتوں نے اخلاقی بالیدگی، اصلاح معاشرہ کے ساتھ ساتھ سیاست کو بھی اپنے دائرہ کار میں شامل کیا ہے اور ملک میں رائج مغربی طرز جمہوریت میں اپنی من پسند تعبیر کے تحت الیکشنز میں حصہ لیتی رہی ہیں۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کا نام سر فہرست ہے۔ جماعت اسلامی کے بانی سید مودودی صاحب نے تو باقاعدہ اسلامی ریاست

Read more

ایوب خان: کیا واقعی پاکستان کے پہلے فوجی حکمران کی حکومت مہنگی چینی کی وجہ سے گری؟

چینی کا بحران ایوب خان حکومت کے خاتمے کی اہم وجوہات میں سے تھا لیکن متعدد دیگر واقعات ایسے بھی تھے جنھوں نے ان کے عہد کے خاتمے کی راہ ہموار کی۔

Read more

بلاول بھٹو زرداری: ’فوجی قیادت کا نام لینا نواز شریف کا ذاتی فیصلہ، انتظار ہے کہ وہ کب ثبوت پیش کریں گے‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی کُل جماعتی کانفرنس میں یہ اتفاق ہوا تھا کہ کسی ایک ادارے کا نام نہیں لیا جائے گا بلکہ صرف ’اسٹیبلیشمنٹ‘ کہا جائے گا۔

Read more

نیلا چاند اور ممکنہ المیے

پس ثابت ہوا کہ اردو ہی نہیں دنیا کی ہر زبان بقول داغ دہلوی ”آتے آتے“ آیا کرتی ہے۔ انگریزی سے سطحی واقفیت کی وجہ سے میں نے ہمیشہ یہ باور کیا کہ ”Once in a Blue Moon“ والا جو محاورہ ہے وہ اچانک نصیب ہوئی اس خوشی کو بیان کرتا ہے جو مصیبتوں کا مارا کوئی شخص تصور میں بھی نہیں لاسکتا۔ چند دن قبل مگردریافت یہ ہونا شروع ہوا ہے کہ ”بلیو مون یا نیلا چاند“ کبھی کبھار نمودار ضرور ہوتا ہے مگر ہمیشہ ”خیر“ کی خبر نہیں لیتا۔ اس کی نمائش بسا اوقات اذیت دہ انہونیوں کا باعث بھی ہوتی ہے۔

Read more

میاں صاحب! عوام طاقت کا سرچشمہ نہیں

سیاست میں بیانیہ روح کی حیثیت رکھتا ہے۔ بیانیہ کی جاندار ی اور جامعیت سیاستدانوں کو طاقت اور پذیرائی بخشتی ہے۔ بیانیہ محض اظہاریہ نہیں ہوتا ہے کہ کسی سیاسی رہنما نے تقریر کردی تو اس خطاب کو بیانیہ قرار دے دیا جائے۔ سیاسی اصطلاح میں بیانیہ ایک جامع سیاسی پروگرم ہوتا ہے۔ جس سے یہ امر واضح کیا جاتا ہے کہ سیاست اور سیاسی فلسفہ کیا ہوگا۔ معاشی وسماجی طریق کیسا ہوگا۔ داخلی و خارجی پالیسی کیا ہوگی۔ جس

Read more

اردوغان یا محمد بن سلمان: کیا پاکستان سعودی عرب کو چھوڑ کر ترکی سے قربتیں بڑھا رہا ہے؟

سفارتی حلقوں میں کئی مہینوں سے یہ بازگشت جاری ہے کہ پاکستان کے خارجہ تعلقات میں ایک ’پالیسی شفٹ‘ آیا ہے، اسلام آباد کا جھکاؤ اب ترکی کی جانب ہے اور یہ کہ پاکستان سعودی عرب کے مقابلے میں اب ترکی کو فوقیت دے رہا ہے۔

Read more

محمود خان اچکزئی کا بیانیہ

کہا تو یہ جاتا ہے کہ پاکستان میں حکومتیں اسٹبلشمنٹ کی منشا کے خلاف بن ہی نہیں سکتی۔ یہاں جو بھی حکومت آتی ہے اس میں اسٹبلشمنٹ کی مرضی ناگزیر ہے۔ اور دوسری طرف اگر کوئی حکومت اسٹبلشمنٹ کھنچے ہوئے دائرہ سے ذرا بھی باہر نکلے تو اس حکومت کا حکومت سے نکل جانا اٹل ہے۔ ان اٹل فیصلوں کے شکار ذوالفقار علی بھٹو، محمد خان جونیجو، بینظیر بھٹو شہید، نواز شریف، ظفراللہ خان جمالی، یوسف رضا گیلانی اور دیگر رہے ہیں۔

Read more

عمران خان: ’ابھی 26 مہینے ہوئے ہیں اور لوگ کہتے ہیں عمران صاحب کدھر گیا نیا پاکستان‘

عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے طبی عملے نے نہایت قابلِ فخر انداز میں کورونا کی پہلی لہر کا مقابلہ کیا لیکن اب دوسری لہر کے اشارے مل رہے ہیں۔

Read more

بھٹو کا گورکھ ہلز

کراچی میں مقیم دوستوں سے جنوبی پنجاب کے نظر انداز سیاحتی اور ٹھنڈے مقام فورٹ منرو اور ماڑی کی طرح سندھ میں ذوالفقار علی بھٹو سے منسوب گورکھ ہلز کا نام سنا تو فوری پروگرام بنا کر رخت سفر باندھ لیا۔ حیدر آباد سے قافلے کی صورت میں روانہ ہوئے تو راستے میں معروف مقامات جامشورو سے انڈس ہائی وے شروع ہوتی ہے جو پنجاب تک جاتی ہے اور مورو تک یہ ہائی وے سنگل روڈ پر مشتمل ہے جہاں اب تک سینکڑوں حادثوں میں ہزاروں افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں اور اپنی زندگی میں بھٹو کا نام لیتے رہے لیکن بھٹو کے نام پر حکومت میں آنے والوں نے اس سڑک کی توسیع نہیں کی ہے۔

Read more

آپریشن جبرالٹر: جنرل محمد موسیٰ کا فوجی کیریئر اور عسکری مہمات کے وہ منصوبے جن کا کوئی مالک نہیں

ماہ اکتوبر کے آخری دنوں کے آتے آتے پاکستان میں بھی بہت کچھ تبدیل ہوا، مارشل لا لگا اور ایوب خان اس کے ناظم اعلیٰ بنائے گئے اور وزرات عظمیٰ کا منصب بھی اُن ہی کی بھاری بھر کم شخصیت میں سما گیا۔

Read more

میں ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ اور بی بی کا بیٹا ہوں

حالیہ گلگت بلتستان کے انتخابی دورے کے موقع پر ایک جلسے میں بلال بھٹو زرداری نے یہ الفاظ ایک بار پھر دہرائے ہیں کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ اور بی بی کا بیٹا ہے، وہ کوئی کھلاڑی نہیں ہیں کہ یو ٹرن لے گا۔ بلاول نے یو ٹرن تو نہیں لیا ہے لیکن یوں ٹرن لیا ہے اور وہ یوں کہ آصف علی زرداری کی دریا دلی سمجھے یا ان کی سیاسی دور اندیشی کہ بلاول کو صرف

Read more

روایتی سیاست اور حکومت!

آج سے دو سال قبل جب عمران خان کی سیاسی جماعت تحریک انصاف نے انتخابی میدان میں کامیابی حاصل کی اور عمران خان نے بطور وزیراعظم زمام اقتدار سنبھال لیا تو کل کی حکمران اور آج کی اپوزیشن دو بڑی قومی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے ماضی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ان انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیا اور تحریک انصاف کی کامیابی پر عوام کامینڈیٹ چرانے کا الزام لگا کر درپردہ اسٹیبلشمنٹ کو

Read more

کوئٹہ جلسہ: اب عدالت کو آگے بڑھنا پڑے گا

اپوزیشن کی طرف سے آئین کے احترام کا جو اصول بیان کیا جا رہا ہے، وہی اس ملک میں حکمرانی کے نظام کی اصلاح کا واحد راستہ ہے۔ اس کے برعکس وفاقی حکومت کے نمائندے اپوزیشن کے احتجاج اور سیاسی مطالبوں پر جس بے چینی سے شدید رد عمل ظاہر کر رہے ہیں وہ ملک کو تصادم اور انتشار کی طرف دھکیلنے کی افسوس ناک کوششوں کا حصہ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اب بدکلامی سے گریز کرتے ہوئے

Read more

‎کیا سیاست سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے!

‎پاکستان میں سیاست کی تاریخ کی عمر تقریباً 70 سال کے قریب ہے۔ آزادی کے پہلے تین سال تو مہاجرین کی آبادکاری میں ہی گزر گئے۔ آزادی کے بعد پہلا صدمہ 11 ستمبر 1948 ء کو قائداعظم محمد علی جناح کی وفات کے طور پر ملا۔ اس کے بعد 16 اکتوبر 1951 ء کو پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کا قتل کمپنی باغ راولپنڈی میں ہوا۔ قاتل ایک افغان سعد اکبر نامی شخص تھا جس کے خاندان نے بھارت میں سیاسی پناہ حاصل کر رکھی تھی۔

Read more

’’غداری‘‘ کے پرچے اور عوام کا محسوس نہ ہونے والا درد

عملی سیاست سے عرصہ ہوا ریٹائر ہوئے چودھری انور عزیز محض ایک فرد نہیں تابدارروایت بھی ہیں۔مجسم شفقت جو مجھ ایسے لوگوں کو زندگی کی ہرمشکل سے نبردآزما ہونے کا حوصلہ بخشتی ہے۔حال ہی میں انہیں ہماری بہن پروفیسر کرن عزیز کی بے وقت موت کے سانحے کا سامنا کرنا پڑا۔ چودھری صاحب اس کے باوجود اپنی ہی نہیں ہماری ہمت بھی جواں رکھے ہوئے ہیں۔ طویل عرصے کے بعد وہ اسلام آباد آئے تو میری بیوی اور بچیوں کے

Read more

آخری شو ڈاؤن کا ’ریفری‘ موجود نہیں

اپوزیشن اور حکومت آمنے سامنے ہیں۔ اپوزیشن عدلیہ اور فوج کی غیر جانبداری پر سوال اٹھا کر پوچھ رہی ہے کہ موجودہ صورت حال کا ذمہ دار کون ہے اور اس کی اصلاح کرنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ اس کے جواب میں وفاق کے وزیر اطلاعات ایک نئی پریس کانفرنس میں پرانے الزامات کو دہرا کر شرم کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ملک کی سیاسی قوتوں میں اس آخری شو ڈاؤن کا ’ریفری‘ موجود نہیں

Read more

فیک نیوز: انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا پر پاکستان میں ’خانہ جنگی‘ کی جھوٹی خبریں، ’ٹوئٹر کب جاگے گا‘

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ‘فیک نیوز’ اور ‘ڈس انفارمیشن’ کے حوالے سے تنازعات نئے نہیں ہیں اور بالخصوص پاکستان اور انڈیا میں اس نوعیت کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں ان پلیٹ فارمز پر منظم طریقے سے ‘فیک نیوز’ کا پرچار کیا جاتا رہا ہے۔

Read more

سید جعفر شاہ: سیاست میں وضع داری اور شرافت کی روشن علامت

سائل نے ہاتھ بڑھا کر فیس حوالے کر دی۔ بغیر گنے رقم جیب میں ڈال دی، تو سائل نے ہچکچاہٹ کے ساتھ کے ساتھ رقم کم ہونے کا اعتراف کیا۔ شاہ صاحب ہنسے اور کہا کہ آج تک ہم نے کسی سے نہ فیس کا تقاضا کیا اور نا ہی کبھی پوری فیس ملی، جو ملا اسی پہ اکتفا کیا۔ میں حیران ہوا کہ اتنا بڑا وکیل اور اتنی درویشی۔ یہ غالباً 1999ء کی بات ہے، جب میں اپنے چچا، ممتاز کاروباری اور سماجی شخصیت حاجی محمد اکبر خان کے ساتھ شاہ صاحب کے نگرل میں واقع لیگل چیمبر میں موجود تھا اور سید جعفر شاہ صاحب سے پہلا پہلا بالمشافہ تعارف تھا۔

ان کی ذات کے حوالے سے بہت کچھ سن رکھا تھا۔ ہمارے خاندان کے بیش تر افراد کا شاہ صاحب سے قریبی خاندانی تعلقات اور نیاز مندی کا رشتہ رہا ہے۔ ان عزیزوں میں خاص طور پر حاجی محمد اکبر خان کے ذریعے شاہ صاحب کا غائبانہ تعارف اور ان کی شخصیت کے کئی پہلو سے آگہی حاصل تھی اور پھر 1999ء میں ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی اور پھر ہمیشہ کے لئے ان کے گرویدہ ہوئے۔

Read more

صفحہ کون پلٹے گا؟

بھٹو صاحب اور میاں نواز شریف میں یہ قدر مشترک ہے کہ دونوں نے ’سیاسی پختگی‘ کے بعد اپنے راستے اسٹیبلشمنٹ سے جُدا کیے۔ بات بھٹو صاحب کو ذرا جلدی سمجھ میں آئی جبکہ میاں صاحب کو چند سال لگ گئے: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

از کجا می آید ایں آواز دوست

جناب نواز شریف نے چپ کا روزہ کیا توڑا، سیاسی ماحول یکایک تلاطم خیز ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی مخالفین کے وہ طعن و تشنیع بھی زور پکڑنے لگے ہیں، کہ وہ ملک سے باہر رہ کر (یا بقول ان کے فرار ہو کر) سیاست کیوں کر رہے ہیں، ملک میں آ کر مردانہ وار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیوں نہیں کر رہے۔ ماضی میں مشرف دور میں ان کی جلا وطنی بھی ان کے لئے ایک سٹگما کی حیثیت رکھتی ہے، جس پر مسلم لیگ کے رہنما اور سپورٹر بہر حال معذرت خواہانہ انداز اختیار کیے رہتے ہیں۔

سیاسی عمل میں مردانگی اور مصلحت اندیشی کے مابین کیا تناسب ہونا چاہیے، یہ ایک دل چسپ بحث ہے۔ میاں صاحب کے ناقدین ہمیشہ ان پر تنقید کرتے ہوئے بھٹو خاندان کی شہادتوں کو ایک بہادرانہ طرز عمل قرار دیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی بجا طور پر ان شہادتوں پر فخر کر سکتی ہے۔ اسے اپنی سیاسی طاقت کا منبع قرار دیتی ہے۔ اس بحث میں پڑے بغیر کہ ذوالفقار علی بھٹو کے پاس پھانسی قبول کرنے کے علاوہ کوئی آپشن موجود تھی بھی یا نہیں، یعنی کیا ان کو جاں بخشی کی کوئی آفر میسر بھی تھی یا نہیں، ذرا چشم تصور سے دیکھیے کہ 1986ء میں بے نظیر کی بجائے ذوالفقار علی بھٹو پاکستان تشریف لاتے، اور 1988ء کے الیکشن کے بعد ایک نا تجربہ کار بے نظیر بھٹو کی بجائے غلام اسحاق خان کو، ذوالفقار علی بھٹو سے معاملات طے کرنا پڑتے، تو ملک کی سیاسی تقدیر کتنی مختلف ہوتی۔ اسی طرح اگر 2008ء میں مشرف کو نواز شریف کے ساتھ ساتھ بے نظیر کا بھی سامنا ہوتا تو اس کے لئے معاملات کتنے مشکل ہو جاتے۔

Read more

آئین پاکستان: نوجوانوں کے ساتھ ایک مکالمہ

۔ ”کیا آئین میں لکھی باتیں صرف آئین کے لئے ہی ہوتی ہیں۔ عملی زندگی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا“ یہ سوال شعبہ ابلاغیات میں ماسٹر ز کی کلاس کے ایک طالب علم نے پوچھا۔ میں نے اسے بتایا کہ ایسی بات نہیں۔ آئین کسی بھی قوم کی سب سے بڑی مقدس دستاویز ہوتی ہے۔ اسے بہت سوچ سمجھ کر تیار کیا جاتا ہے۔ یہ ملک کے سماجی، نظریاتی، تہذیبی، معاشرتی اور تاریخی تصورات پر مبنی ایک ”نصابی

Read more

دی پارٹی از ناٹ اوور

جمہوریت اقتدار کی پر امن منتقلی کا اکلوتا طریقہ ہے۔ بے شک ہر سیاسی نظام کی طرح جمہوریت کی بھی اپنی محدودات ہیں، مگر تاریخ کے اوراق تصدیق کرتے ہیں کہ سوائے جمہوری نظام کے انسانی فکر ایسا کوئی ڈھانچا متعارف نہیں کرا سکی، جس میں اقتدار کی موثر اور پر امن منتقلی کا امکان موجود ہو۔ ورنہ بادشاہت ہو آمریت یا پھر انقلاب، اقتدار کی منتقلی نے ہمیشہ خون سے اپنی پیاس بجھائی ہے، اور لاشوں کے پہاڑ سر کیے ہیں۔

یہ درست کہ تاریخ کے چند مراحل پر انقلاب بنیادی مطالبہ بن کر ابھرا۔ فرانس ہو یا امریکی انقلاب، یا پھر گزشتہ صدی میں سوویت یونین اور پھر چین میں بپا ہونے والا سوشلسٹ انقلاب۔ بلاشبہ سوشلسٹ انقلاب کے وسیلے عالمی سیاست اور جغرافیے میں بڑی تبدیلیاں آئیں، مگر اس نئے نظام میں اقتدار کی موثر منتقلی نہ ہونے کے باعث چند عشروں بعد دراڑ پڑ گئی۔ سوویت یونین ہو یا چین، بعد کے برسوں میں ایک نیم آمرانہ نظام وجود میں آیا، جس کی باقیات اب بھی موجود ہیں۔

Read more

حکمت یار: افغانستان کی سیاسی اور مزاحمتی تحریک کے اہم کردار

افغانستان کی سیاست کے اہم نام اور حزبِ اسلامی کے رہنما انجینئر گلبدین حکمت یار ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں۔ حکمت یار ایسے وقت میں پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

بیرونی جارحیت، سیاسی، قبائلی اور مذہبی قائدین کے آپس کے اختلافات کے باعث جنگ سے تباہ حال افغانستان کے سیاسی اور مذہبی حلقوں میں انجینئر گلبدین حکمت یار کا ایک اہم مقام ہے۔

Read more

امریکی صدارتی انتخابات 2020: علاقائی تناؤ کم کرنے سے لے کر طیارے میں تیل بھروانے تک، امریکہ کے صدر پاکستان کب کب آئے؟

قیام پاکستان سے اب تک جمہوریت کی علم بردار عالمی طاقت امریکہ کے پانچ صدور نے دورۂ پاکستان کے لیے ہمیشہ ایسے وقت کا انتخاب کیا جب اقتدار پر فوج قابض تھی۔

Read more

شرارتی بکرے نے شیر کے کان میں کہا

سنا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں دوستی اور دشمنی مستقل نہیں ہوتی۔ کل کے دوست آج کے دشمن اور آج کے دشمن کل کے دوست ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے یہ تاریخی سچائی بین الاقوامی سیاسی تعلقات کی بجائے اندرونی سیاسی تعلقات کے حوالے سے زیادہ سچی لگتی ہے۔ مثلاً: امریکا، چین، ترکی اور عرب ہمارے دوست تھے لیکن مشرقی پاکستان بنگلا دیش بن گیا۔ امریکا، چین، ترکی اور عرب ذوالفقار علی بھٹو کے دوست تھے، لیکن پھر بھی انہیں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

امریکا، چین، ترکی اور عرب پاکستان کے دوست تھے، لیکن ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کا نام آتا رہا۔ امریکا، چین، ترکی اور عرب نواز شریف کے دوست تھے، لیکن پھر بھی انہیں اقتدار سے نکال دیا گیا۔ بھارت پاکستان کا دشمن ہمسایہ تھا اور برادر اسلامی ہمسایہ افغانستان بھی دوست نہ تھا۔ بھارت اب بھی دشمن ہمسایہ ہے اور برادر اسلامی ہمسائے افغانستان سے پاکستان کو اب بھی خطرہ ہے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان جتنے شکوک و شبہات پہلے تھے، اتنے ہی شاید اب بھی ہیں۔

Read more

سیاست میں پرسیپشن بدل چکا

امریکا میں صدارتی انتخابات کا معرکہ شروع ہونے کو ہے لیکن یہاں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ کچھ پرانا ہے، یوں کہیے کہ کچھ زیادہ ہی پرانا۔ حریف جیسا کہ ہوتا ہے، حتمی نامزدگی سے پہلے ہی اپنا اپنا منشور پیش کر کے رائے دہندگان کی توجہ کے حصول کی کوشش کرتے ہیں اور پارٹی کے اندر اثر و رسوخ  بڑھانے کی بھی۔ اس واقعے کا تعلق بھی نامزدگی کے اسی مرحلے سے ہے۔ ایک صاحب جو نسبتاً زیادہ

Read more

دراصل بازار عمران خان کا حقیقی دشمن ہے

اس وقت سب سے قابل رحم حالت ذرائع ابلاغ کی ہے۔ وہ یہ تو نہیں بتا یا دکھا پا رہے کہ نواز شریف نے دراصل آرمی چیف یا آئی ایس آئی کے سربراہ کے بارے میں کیا کہا مگر جو بھی کہا اس پر تنقید و تجزئیات کو ضرور نمایاں کرنے پر مجبور ہیں۔

یہی کچھ چند ہفتے قبل کسی ویب سائٹ پر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کے اہل خانہ کے مبینہ سمندر پار اثاثوں سے متعلق رپورٹ کے ساتھ بھی ہوا۔ اصل رپورٹ کسی چینل یا اخبار نے نہیں دکھائی یا چھاپی، البتہ رپورٹ کی صداقت کو چیلنج کرنے کے لیے میڈیا کو ضرور آزادی میسر رہی۔

Read more

دراصل بازار عمران خان کا حقیقی دشمن ہے

حزبِ اختلاف کی موجودہ تحریک عمران حکومت کو کمزور تو کر سکتی ہے ختم نہیں کر سکتی۔ جیسے 2014 کے عمرانی دھرنے نے نواز شریف کو کمزور ضرور کیا مگر ختم نہیں کر سکا۔

Read more

حزب اختلاف اتحاد کا اتوار کو کراچی میں جلسہ، بیانہ کیا ہوگا؟

گیارہ جماعتی اتحاد پی ڈی اے نے گذشتہ روز گوجرانولہ میں اپنے پہلے مشترکہ جلسے کا انعقاد کیا۔ اسی سلسلے میں اتوار کو کراچی میں جلسے کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس کی میزبان پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔

Read more

پنجاب کے پہلے غدار کی للکار

میاں نواز شریف صاحب کی یہ بات تو درست ہے کہ وہ اس ملک کے پہلے سیاسی رہنما نہیں ہیں جن پر ملک سے غداری کا الزام لگایا گیا ہے۔ مگر وہ اس لحاظ سے ضرور منفرد ہیں کہ وہ سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے پہلے غدار قرار پائے ہیں کیونکہ اس سے پہلے قیام پاکستان سے لے کر جتنے بھی سیاسی رہنماؤں کو یہ شرف بخشا گیا ہے ان سب کا تعلق مشرقی پاکستان یا دیگر صوبوں سے تھا۔ مثلاً ملک کے پہلے وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل، قرارداد لاہور پیش کرنے والے مولوی فضل الحق، ملک کے پانچویں وزیراعظم حسین شہید سہروردی اور شیخ مجیب الرحمٰن، جن کو غدار کہا گیا ان سب کا تعلق مشرقی پاکستان سے ہے۔

Read more

آٹھویں آئینی ترمیم: رات کی تاریکی میں منظور کی جانے والی ترمیم، جس کے شکار کئی منتخب وزرائے اعظم بنے

فوجی آمر ضیاالحق کے دور میں آئین میں آٹھویں ترمیم کر کے ملک میں رائج پارلیمانی نظام حکومت کو صدارتی نظام کی جانب لے جانے کی کوشش کی گئی اور بعدازاں اس آئینی ترمیم کا شکار ملک کے متعدد منتخب وزرائے اعظم بنے۔ یہ ترمیم کیسے اور کس کے کہنے پر منظور ہوئی پڑھیے اس تفصیلی رپورٹ میں۔

Read more

پہلے پاکستانی فوجی صدر کا امریکہ میں فقیدالمثال استقبال کیوں ہوا؟

ساٹھ کی دہائی میں صدر ایوب خان کا امریکہ میں زبردست استقبال دراصل امریکہ کی اس خطے میں سرد جنگ کی پالیسی کا حصہ تھا جس میں چاہے کوئی فوجی آمر ہو یا مطلق العنان بادشاہ، اگر وہ کمیونزم کے خلاف ہے تو وہ امریکی اتحادی ہوگا۔

Read more

گلگت بلتستان کی حیثیت میں تبدیلی۔ حقیقت یا فسانہ

جب سے شیخ رشید نے گلگت بلتستان کے بارے میں سات پردوں کے پیچھے کی جانے والی سرگوشی کی ہانڈی بیچ چوراہا پھوڑ دی ہے پہلا سوال تو یہ ذہن میں آتا ہے کہ کیا شیخ صاحب نے خود سے ایسا کیا ہے یا یہ بھی اس سکرپٹ کا حصہ تھا جس میں وہ مہمان اداکار کے طور پر بلائے گئے تھے۔ گلگت بلتستان اور کشمیر کے موضوع پر سرگرم عمل لوگوں کا ایک ہی سوال ہے کہ اگر گلگت

Read more

پروفیسر منظور احمد کی وفات: ترقی پسند تعلیمی ادارے ’شاہ حسین کالج‘ کا باب بند ہو گیا

پروفیسر منظور احمد گذشتہ روز لاہور میں 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انھوں نے لاہور کے شاہ حسین کالج کی بنیاد رکھی جس نے اگلی کئی دہائیوں کے لیے پاکستانی معاشرے اور سول سوسائٹی کو ایک لبرل بیانیہ دیا۔

Read more

آصف زرداری سے ہوئی ’’مفروضہ‘‘ ملاقاتیں

جولائی 2018میں ہوئے انتخاب کے نتیجے میں جو حکومتی ڈھانچہ نمودار ہوا اس کے تحفظ کو روایتی اور سوشل میڈیا پر حاوی عمران حکومت کے سرکاری اور رضا کار ترجمان بہت بے چین رہتے ہیں۔میں ذاتی طورپر اگرچہ ان کی پریشانی کی وجوہات ابھی تک دریافت نہیں کرسکا۔ حکومتوں کے بارے میں ہمارے ہاں آزاد اور بے باک میڈیا کی بدولت 2008 سے ’’صبح گیا یا شام گیا‘‘ والا تاثر موجود رہا ہے۔ کرپشن کے خلاف افتخار چودھری کی بحالی

Read more

اکتوبر کا مہینہ اور سیاسی ہلچل

اپوزیشن نے اکتوبر کے مہینے میں جلسوں اور اس کے بعد ریلی کا اعلان کیا تو اکتوبر کے مہینے میں رونما ہونے والے سیاسی واقعات یاد آنے لگے۔ اس لیے سوچا آپ سے بھی شیئر کر دوں۔ اکتوبر کا مہینہ پاکستان کی سیاسی اور تاریخی اعتبار سے ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ 27 اکتوبر 1947 ء کو انڈیا کی افواج پہلی مرتبہ کشمیر میں داخل ہوئیں۔ نواب زادہ لیاقت علی خان جو کہ اکتوبر 1895 ء میں پیدا ہوئے اور پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بنے، ان کو اکتوبر ہی کی 16 تاریخ کو 1951 میں شہید کیا گیا۔

انہیں قائد ملت اور شہید ملت کے خطابات سے یاد کیا جاتا ہے۔ اگلے دن یعنی 17 اکتوبر 1951 کو ان کی جگہ خواجہ نظام الدین وزیر اعظم اور ملک غلام محمد گورنر جنرل بن گئے۔ اور 24 اکتوبر کو گورنر جنرل غلام محمد نے پاکستان کی قومی اسمبلی برخاست کر دی۔ 6 اکتوبر 1955 ء کو غلام محمد کا استعفی قبول ہوا اور ان کی جگہ سکندر مرزا نے سنبھال لی۔

Read more

اللہ جمہوریت کے مستقبل پر رحم فرمائے!

پکڑ دھکڑ اور تھوک کے حساب سے اپوزیشن کے خلاف انکوائریوں اور مقدمات کے علاوہ حال ہی میں پی ٹی آئی کے ایک متنازعہ شخص کی جانب سے بغاوت کی ایف آئی آر درج کرانے کے منظرنامے میں وزیراعظم کی یہ خواہش کہ وہ ایسا پاکستان چاہتے ہیں جو عالمی طاقت بن کر ابھرے، بڑی نیک خواہش ہے اور کون پاکستانی ذی شعور ہو گا، جو اس سے اختلاف کرے گا لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ تحریک انصاف کے دو سال سے زائد عرصے کے دور حکومت میں صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی چلی گئی۔

عالمی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اقتصادی صورتحال مسلسل روبہ زوال ہے، غربت میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے حتیٰ کہ اقتصادی شرح نمو مالی سال 2021 میں کم ہونے کی توقع ہے اور 0.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جو گزشتہ تین برس میں چار فیصد تھی۔ رپورٹ کے مطابق اقتصادی نمو توقع سے کم یعنی مالی سال 2021۔ 22 ء میں اوسطاً 1.3 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ پاکستان کے بارے میں رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے جی ڈی پی کی حقیقی نمو مالی سال 2019 ء کی 1.9 فیصد سے کم ہو کر 2020 ء میں 1.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جو کئی دہائیوں کے بعد بدترین کمی ہے۔

Read more

غداری کے فتوے اور بغاوت کے سرٹیفکیٹ

شہید ذوالفقار علی بھٹو محسن پاکستان تھے انہیں نے ہند و پاک جنگ کے دوران قیدی بنائے گئے 93 ہزار جنگی قیدی رہا کروائے اور قبضہ کیا گیا سیکڑوں میل ملکی رقبہ ہندستان سے واگزار کروایا، پھر ٹوٹے پھوٹے دولخت منتشر ارض پاک کو متحد، منظم و مستحکم کیا، ادارے بنائے، تباہ حال اداروں کی بحالی اور تنظیم نو کی۔ پاکستان کی افواج کا پستیوں میں گرا ہوا مورال بلند کیا، انہیں جدید ہتھیاروں سے لیس کیا، ایک شکست خوردہ

Read more

کیا آپ یونس کو جانتے ہیں؟

میں نے جب پوچھا کہ کیا آپ یونس کو جانتے ہیں؟ تو زیادہ تر نے ٹیسٹ کرکٹ کے باکمال اور پاکستان کے ممتاز بلے باز یونس خان کا بتایا۔ جو تھوڑی پکی عمر کے تھے انہوں نے ایک اور باصلاحیت لیکن سرکش بلے باز یونس احمد کا نام اٹھایا۔ چند شوقین مزاج سمجھے میں نے ”مولا جٹ“ کے ہدایت کار یونس ملک کا پوچھا ہے۔ دو تین انٹیلکچوئل ٹائپ نے بنگالی مرد دانا اور گرامین بینک کے روح رواں محمد

Read more

لال حویلی والے شیخ رشید: ٹیکنیکل سکول سے سیاست کی ابتدا کرنے والے شیخ رشید کی ملکی سیاست سے متعلق یادداشتیں

شیخ رشید احمد نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’لال حویلی سے اقوام متحدہ تک فرزند پاکستان شیخ رشید احمد کے پچاس سال‘ میں پیپلز پارٹی کی قیادت سے تعلقات اور اختلافات کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔

Read more

آزاد ریاست جموں و کشمیر سیاحوں کے لئے جنت، مگر کیسے؟ (2)

آزاد ریاست جموں و کشمیر کو اللہ تعالی نے خوبصورت اور حسین وادیوں، سرسبز جنگلات اور دلکش دریاؤں سے نوازا ہے۔ اسی لئے اسے جنت نظیر کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ریاست قدیم تاریخی ورثے کی مالک بھی ہے۔ سیاحتی نقطہ نظر سے یہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لئے ایک جنت ہے۔ اس کی وادیاں اور ان میں واقع قدرتی جھیلیں کسی بھی یورپین ملک سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ اس کا قدیم ترین تاریخی ورثہ کسی

Read more

شیخ عزیز: تین زبانوں کے منجھے ہوئے منفرد صحافی، محقق و مصنف

اس ملک میں صحافی تو بہت پیدا ہوئے ہیں، جن میں سے کئی ایک عظمت کے رتبوں پر بھی فائز ہوئے، مگر شیخ عزیز صاحب جیسے کثیر اللسانی، با صلاحیت اور ہمہ جہت صحافی، صاحب قلم، محقق، ماہر موسیقی اور کئی کتب کے مصنف کی صحافیانہ و قلمی خدمات کو یہ ملک ہرگز با آسانی فراموش نہیں کر سکتا۔

نامور و ممتاز صحافی اور قلم کار، شیخ عزیز نے، 9 دسمبر 1938ء کو سندھ کے دوسرے بڑے شہر اور سندھ کے ثقافتی دار الحکومت، حیدر آباد میں آنکھ کھولی۔ شیخ عزیز کا تعلق ایک علمی و ادبی خانوادے سے تھا۔ ان کے ایک بھائی، شیخ محمد اسمٰعیل، سندھی زبان و ادب کے معروف محقق تھے، جب کہ دوسرے بھائی، شیخ محمد ابراہیم، معروف براڈ کاسٹر گزرے ہیں، جو ریڈیو پاکستان حیدر آباد اور کراچی سے اپنے دور کے ڈرامے کے معروف پروڈیوسر کے طور پر جانے پہچانے گئے، اور دونوں اسٹیشنز کے ”پروگرام مینیجر“ بھی رہے۔

Read more

حب الوطنی کی اسناد اور  شبلی فراز:  … نور دیدہ اش روشن کند چشم زلیخا را

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے دریافت کیا ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ ’حب الوطنی‘ کے سرٹیفکیٹ کہاں سے ملتے ہیں۔ وہ اگرچہ ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں تاہم وہ بھی یہ سرٹیفکیٹ لینا چاہیں گے۔ انہوں نے یہ بات گزشتہ چند روز کے دوران نواز شریف کو ملک دشمن اور بھارتی ایجنڈے پر گامزن قرار دینے کے تناظر میں شاید استہزائیہ انداز میں پوچھی ہے۔ لیکن اگر سنجیدگی سے اس معاملہ پر غور کیا جائے

Read more

تصادم کی جانب بڑھتا سیاسی ڈیڈ لاک

ملک میں موجودہ سیاسی ڈیڈ لاک پر جن حلقوں کا خیال ہے کہ یہ آگے بڑھ کر تصادم کی شکل اختیار نہیں کرے گا، ان کے پاس اس بارے میں اگر کوئی دلیل ہے، تو صرف ماضی کے وہی حالات و واقعات ہیں، جن میں سیاسی قوتوں نے کئی قدم پیچھے ہٹ کر ملکی مفاد میں پسپائی اختیار کی اور افہام و تفہیم کو ترجیح دیتے ہوئے، پالیسی سازوں کی بالا دستی کو یہ سمجھتے ہوئے تسلیم کیا کہ آنے والا وقت بلآخر بالا دست قوتوں کو آئین و قانون کی پاسداری پر آمادہ کر ہی لے گا۔

اس مصلحت کوشی نے 69 برس تک انتظار کروایا، جو ہنوز جاری ہے۔ ملکی تاریخ پر نظر رکھنے والے لوگ 16 اکتوبر 1951ء کا وہ اندوہناک واقعہ یادوں میں تازہ رکھے ہوئے ہیں، جس دن پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو زندگی کے افق سے ہمیشہ کے لیے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد اس سمت میں ایک سلسلہ جاری ہو گیا، سیاسی قائدین کو غدار وطن ٹھہرانا، راستے سے ہٹانے کے انتظامات اور اقتدار پر مکمل قبضے کی کارروائیاں اب تک جاری ہیں۔

Read more

نواز شریف پاکستان واپس کیوں نہیں آتے؟

معاملہ جب دلیل سے بدزبانی، الزام تراشی اور بغاوت کے مقدمات قائم کرنے پر آجائے تو سمجھ لینا چاہئے کہ حکومتِ وقت کی زنبیل خالی ہے اور وہ عوام کی ضرورتیں پوری کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ نواز شریف کی تقریروں اور ٹوئٹ پیغامات نے حکمران جماعت پر خوف طاری کردیا ہے۔ وزیر اعظم سے لے کر وزیروں کے بیانات اور اب بغاوت کے مقدمے قائم کرنے سے اس کا اظہار دیکھنے میں آرہا ہے۔ یوں تو پاکستانی سیاست کبھی

Read more

گرفتاریاں، ضمانتیں اور فراریاں

یوں تو تو پاکستان کی سیاسی تاریخ گرفتاریوں اور جیلوں سے بھری پڑی ہے۔ کوئی بھی سیاستدان تب تک حقیقی سیاستدان نہیں بن سکتا جب تک اس نے جیل کی ہوا نا کھائی ہو۔ ہم نے تاریخ میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی گرفتاری اور پھر ان کو پھانسی لگتے دیکھا، مگر بھٹو اپنے اندر ایک عظیم قائدانہ صلاحیت رکھتے تھے اور حقیقی معنوں میں عوام کے نمائندہ کے طور پر ابھرے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں جہاں نصرت بھٹو پر ظلم ڈھائے گئے وہیں بے نظیر بھٹو نے بھی مشکلات کا سامنا کیا۔

اسی طرح آصف زرداری نے بھی جیل میں کافی عرصہ گزارا۔ 1999 کے مارشل لا کے بعد میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کو پابند سلاسل کیا گیا اور پھر ہم نے دیکھا کہ کیسے میاں صاحبان معاہدہ کر کہ سعودی عرب روانہ ہوئے تھے۔ اسی طرح پانامہ لیک کے بعد سابق نا اہل وزیر اعظم نواز شریف صاحب کو وزارت عظمیٰ سے ہٹایا گیا تو اسی طرح بعد ازاں انھیں پارٹی صدارت سے بھی فارغ کیا گیا۔ اعلیٰ عدلیہ نے اس نا اہلی کے فیصلے کے ساتھ ساتھ نواز شریف صاحب کے خلاف نیب کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کا بھی حکم دیا جس کے نتیجہ میں نواز شریف صاحب کو 10 سال قید، مریم نواز کو 7 سال جبکہ کیپٹن ر صفدر کو 5 سال قید با مشقت کا فیصلہ سنایا۔

Read more

پنجاب کے اندر نئی آوازیں

اس سے قطع نظر کہ میاں نواز شریف کا حالیہ بیانیہ کس حد تک خطرناک ہے۔ آیا اس سے ریاست کے اندر ایک نیا مناقشہ اورتصادم شروع ہو گا جس کا نتیجہ ایک اور ڈائریکٹ کنٹرول کی صورت میں نکل سکتا ہے یا وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس کا انحصار میاں صاحب کی قوت ارادی اور دیگرسیاسی قوتوں کے رویہ پر ہوگا۔ غالباً یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ پنجاب سے ایک مقبول

Read more

پنجاب سے اٹھنے والا غدار بھاری پڑ سکتا ہے

یوں لگتا ہے کہ اس وقت پاکستان کو نواز شریف کی یک بیک سیاسی مستعدی کے علاوہ کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔ عمران خان کی ولولہ انگیز قیادت میں معاشی، سیاسی، سفارتی اور سیکورٹی مسائل حل کرلئے گئے ہیں ۔ بس اب پنجاب سے اٹھے ایک ’غدار‘ کا سر کچلنے کے لئے پوری حکومت یکسوئی سے سرگرم عمل ہے۔ وزیر اعظم کی قیادت میں نمایاں وزیروں پر مشتمل خصوصی کمیٹی کے اجلاس ہورہے ہیں اور ایک کے بعد دوسرا وزیر

Read more

اے غدارو گھبرانا نہیں ہے

وہ جو کہتے ہیں کہ گھوڑا گھاس سے یاری لگائے گا تو کھائے گا کیا؟ اسٹیبلشمنٹ کے نہ تو مستقل حریف اور نہ ہی مستقل حلیف ہوتے ہیں۔ دوستی یا دشمنی کا معیار بس یہ ہے کہ جب آپ کو ایک طے شدہ نظریہ پاکستان دے دیا گیا ہے تو پھر اپنا نظریہِ پاکستان الگ سے گھڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

اپنے اپنے مفادات نے ہم کو یکجا کیا

وطن عزیز پاکستان کی گزشتہ چالیس سالہ تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو انکشاف ہوتا ہے کہ یہاں اشرافیہ کے طبقہ سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی مجرم اپنے جرم کو اس کی اصل کے مطابق تسلیم کرنے سے ہمیشہ انکاری رہا ہے۔ نواب محمد احمد خان قتل کیس ذوالفقار علی بھٹو پر ڈالا گیا تو بھٹو صاحب نے اپنی عوامی اور بین الاقوامی مقبولیت کے زعم میں اس کو پہلے تو پرکاہ کے برابر حیثیت بھی نہ دی۔ ان کے وکیل یحییٰ بختیار بلاشبہ ایک عالی دماغ تھے۔ لیکن وہ بھی اس کیس کو اس کی اصل روح کے مطابق لڑنے میں ناکام رہے، ان کا سارا زور اسے سیاسی کیس ثابت کرنے پر صرف ہوتا رہا۔ جب یہ کیس اپنے آخری مراحل میں داخل ہوا تو پھر بھٹو صاحب سمیت ان کے سب حامیوں کو اندازہ ہوا کہ اب تیر کمان سے نکل چکا ہے اور چڑیاں سارا کھیت چگ چکی ہیں۔

یہی حال نواز شریف کا پاناما کیس میں رہا، ان کے خواجہ آصف جیسے نادان دوستوں نے انہیں یقین دلایا کہ یہ چند ہفتوں کا شور شرابا ہے، میاں صاحب، قوم جلد ہی اسے بھول جائے گی۔ جن کی خوشامد میں آ کر میاں صاحب نے قومی اسمبلی میں جھوٹ پر مبنی وہ تقریر کر ڈالی، جس میں کہا گیا تھا، کہ حضور یہ ہیں وہ ذرائع، جن سے لندن کے فلیٹ خریدے گئے۔

Read more

اقتدار کی جنگ ہے، امید سحر نہیں ہے

ملک نظریات، فکری سمت اور آئین کی بالادستی سے ترقی کرتے ہیں۔ وطن پاک میں اقتدار میں رہنے والی سیاسی جماعتوں اور غیر منتخب قوتوں نے ہمیشہ ڈنگ ٹپاؤ پالیسی سے کام چلانے کی کوشش کی ہے۔ موجودہ حکومت بھی سابقین کے نقش قدم پر کسی فکر، سیاسی و معاشی نظام اور نظریات کی بجائے این جی اوز کی طرز پر پراجیکٹ بنا کر عوام کو لالی پاپ دینے میں مصروف کار ہے۔ جس کے نتائج جنرل پرویز مشرف کی غیر آئینی اور غیر قانونی حکومت سمیت نواز شریف اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں سے مختلف بر آمد نہیں ہوں گے۔

حکمران جماعت اور ان کے اتحادیوں کی اب تک کی دو سالہ کارکردگی اس امر کا بین ثبوت ہے کہ حکومت کیا کر رہی ہے۔ یہ کوئی پہلی حکومت نہیں ہے، جس کو نا اہل، کرپٹ اور عوام دشمن قرار دیا جا رہا ہے۔ اقتدار سے باہر رہ جانے والے اقتدار کے پجاریوں کا ہر حکومت کے بارے میں یہی رویہ ہوتا ہے۔

Read more

وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات: اے غداروں گھبرانا نہیں ہے

وہ جو کہتے ہیں کہ گھوڑا گھاس سے یاری لگائے گا تو کھائے گا کیا؟ اسٹیبلشمنٹ کے نہ تو مستقل حریف اور نہ ہی مستقل حلیف ہوتے ہیں۔ دوستی یا دشمنی کا معیار بس یہ ہے کہ جب آپ کو ایک طے شدہ نظریہ پاکستان دے دیا گیا ہے تو پھر اپنا نظریہِ پاکستان الگ سے گھڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات: اے غداروں گھبرانا نہیں ہے

وہ جو کہتے ہیں کہ گھوڑا گھاس سے یاری لگائے گا تو کھائے گا کیا؟ اسٹیبلشمنٹ کے نہ تو مستقل حریف اور نہ ہی مستقل حلیف ہوتے ہیں۔ دوستی یا دشمنی کا معیار بس یہ ہے کہ جب آپ کو ایک طے شدہ نظریہ پاکستان دے دیا گیا ہے تو پھر اپنا نظریہِ پاکستان الگ سے گھڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

عدالت میں انصاف کا قتل

بھارت کی ایک عدالت نے بابری مسجد انہدام کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے تمام 32 ملزموں کو عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کر دیا، تو دُنیا بھر کی عدالتوں میں سرزد ہونے والی ناانصافیوں کی یاد تازہ ہو گئی۔ اپنے اپنے مطالعے اور مشاہدے کی بنیاد پر ”عدالتی وارداتوں‘‘ کو لوگ یاد کرنے لگے۔ بھارتی عدالت نے نہ صرف اخباری رپورٹوں کو مسترد کیا، بلکہ موقع واردات کی تصویری شہادتوں کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا

Read more

کرپشن کے بعد غداری: عوامی مینڈیٹ چوری کرنے کے ہتھکنڈے

عمران خان کی قیادت میں حکومت اور تحریک انصاف یہ ثابت کرنے پر کمربستہ ہیں کہ نواز شریف فوج کی پیداوار ہیں مگر عمران خان فوج کے حقیقی کماندار اور نگران ہیں۔ آرمی چیف، وزیر اعظم کی مرضی کے بغیر ایک قدم اٹھانے کی ’جرات‘ نہیں کر سکتے۔ یہ آئیڈیل صورت سننے میں جتنی سہانی لگتی ہے اگر حقیقت میں بھی ویسی ہی ہو تو نواز شریف کا سیاست میں فوجی مداخلت کے خلاف بیانیہ خود اپنی موت مر سکتا

Read more

نواز شریف کے الزامات پر عمران خان کے جوابی وار اور پیمرا کی پابندی، ہو کیا رہا ہے؟

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے حالیہ بیانات سے حکومتی اور سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے جس کے بعد عمران خان کے ایک انٹرویو نے اس بحث کو مزید پروان چڑھا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسی صورت حال میں حکومت اور حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کو احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ کیوں کہ ٹکراؤ کی صورت میں نقصان پاکستان کا ہی ہو گا۔

Read more

تنظیم سازی سے توبہ

وقت نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے، ماضی میں تنظیم سازی کا عمل بہت ہی عمدہ اور صف بندی سمجھا جاتا تھا لیکن طلال چوہدری نے اس کے معنی بدل کر رکھ دیے ہیں اور یقینی طور پر جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام سمیت دیگر مذہبی اور سیاسی جماعتیں اس کا متبادل تلاش کرنے میں جت گئی ہوں گی کیونکہ اب اگر کسی بھی پارٹی یا سیاسی رہنما کی طرف سے تنظیم سازی کا عمل شروع کرنے کا دعوی کیا گیا تو لوگ اس پر تھو تھو کریں گے اور وہ جماعت اور جماعت کا سربراہ پاکستانی معاشرے میں اپنا مقام اور مرتبہ کھو بیٹھے گا۔

Read more

مسلم لیگ (ن) اور اسٹیبلشمنٹ پھر سے مد مقابل، آگے کیا ہو گا؟

پاکستان میں حالیہ چند روز سے اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں اور ملک کی طاقت ور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اہم قومی اور سیاسی معاملات، تجزیہ کاروں کے مطابق، خلیج مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔

اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے سخت موقف نے جہاں ملکی سیاست میں بڑی ہلچل پیدا کی وہاں سیاست دانوں اور فوجی قیادت کی خفیہ ملاقاتوں کے انکشاف کے بعد ایک نئی صورت حال سامنے آئی ہے۔

Read more

پاکستان میں ججز کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی کا مطالبہ کیوں؟

کراچی۔ پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں کی حال ہی میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں جن نکات پر اتفاق ہوا ہے اور جنہیں قرارداد کا حصہ بنایا گیا ہے ان میں ایک نکتہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تقرری کا موجودہ طریقۂ کار تبدیل کیا جانا بھی ہے۔
اس ضمن میں پاکستان بار کونسل کی جانب سے کیے گئے مطالبے کی بھی حمایت کی گئی ہے۔

پاکستان بار کونسل نے 20 ستمبر کو ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس سے مطالبہ کیا تھا کہ ججوں کے تقرر کے لیے آئین کے آرٹیکل 175۔ اے میں درج طریقۂ کار پر نظر ثانی کی جائے۔

بار کونسل کا مطالبہ ہے کہ انیسویں آئینی ترمیم ختم کی جائے۔ نیز اس سے متعلق نیا فورم تشکیل دیا جائے جس میں پارلیمان کا کردار مزید موثر ہو اور تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول انتظامیہ، بار کونسلز اور عدلیہ عددی برابری کے ساتھ ایک ہی پلیٹ فارم پر مل بیٹھ کر شفاف انداز میں خالصتاً میرٹ پر تقرر سے متعلق فیصلے کریں۔

Read more

گلگت بلتستان: پاکستان کی جانب سے خطے کو صوبے کی حیثیت دینے کی تجویز اور انتخابات پر انڈیا کا احتجاج

انڈیا کی حکومت نے پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان میں انتخابات کرانے اور اسے صوبے کی حیثیت دینے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس علاقے پر غیر قانونی قبضہ کر رہا ہے۔

Read more

پاکستان کی خارجہ پالیسی ۔ گزشتہ نصف صدی کا مختصر خاکہ

انگریزی سے ترجمہ : محمد نادر دھونس، دھاندلی اور ریاستی مشینری کو استعمال کرکے جنرل ایوب نے صدارتی الیکشن میں کامیابی کا اعلان کر دیا تھا مگر گرتی ہوئی مقبولیت کو بحال کرنے کے لیے کشمیر میں در اندازی شروع کروا دی جس کا نتیجہ تباہ کن جنگ میں نکلا۔ 1965 کی جنگ اور الیکشن میں حاصل ہونے والی نام نہاد کامیابی کے بدولت ایوب خان صدارتی عہدے پر براجمان ہوگیے۔ مگر اب وہ امریکا سے ناراض تھے۔ 60ء کی

Read more

’’بس بھئی بس۔ زیادہ بات نہیں۔‘‘

کچھ فقرے ایسے ہوتے ہیں جو برجستہ اور عام سنائی دیتے ہیں۔جن ڈرامائی پس منظر میں انہیں ادا کیا جاتا ہے ان کی بدولت مگر سننے والے کے ذہن میں چپک کے رہ جاتے ہیں۔ 1975میں ایک مرتبہ ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ایسے ہی چند کلمات ادا کئے تھے۔ گزشتہ تین دنوں سے ’’ملاقاتیں جو ہوتی ہیں‘‘ کے بارے میں ہمارے روایتی اور سوشل میڈیا پر جو شوروغل برپا ہے اس

Read more

گلگت بلتستان: کیا خطے کی آئینی و قانونی حیثیت بدلنے جا رہی ہے؟

سیاسی ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان کو پاکستان میں ضم کرنے کا فیصلہ ملک کی سلامتی مفادات کے پیش نظر کیا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان چاہتا ہے کہ سی پیک کے راستے کو محفوظ کیا جائے، مگر دوسری جانب انڈیا اس خطے کو متنازع علاقہ قرار دیتا ہے۔

Read more

بنگلا دیش کی عدلیہ پاکستان کے راستے پر

پاکستان میں تو انتظامیہ اور عدلیہ کی رسی کشی کی تاریخ خاصی پرانی ہے مگر اب لگتا ہے بنگلا دیش بھی اسی راستے پر چل رہا ہے۔ کچھ عرصے پیشتر بنگلا دیش سے یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ وہاں کے چیف جسٹس سریندر کمارسہنا نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ گوکہ اس بارے میں اتنظامیہ اور عدلیہ دونوں نے زیادہ تفصیلات نہیں بتائیں پھر بھی اس اعلان کے پیچھے بہت کچھ پوشیدہ ہے۔ سریندر کمار سہنا بنگلا دیش کے پہلے

Read more

عاصمہ شیرازی کا کالم: نواز شریف کی سیاست کا آغاز یا اختتام

نواز شریف کی تقریر کے دو جملوں نے جیسے سکتہ طاری کر دیا ہے، ’ریاست سے اوپر ریاست اور مد مقابل عمران خان نہیں اُن کے لانے والے‘ نواز شریف نے یہ کیوں کہا؟ کیا نواز شریف اب بھی کسی ڈیل کے چکر میں ہیں اسی لیے اسٹیبلشمنٹ کو دباؤ میں لا کر فیصلہ کروانا چاہتے ہیں: عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

عمران خان فریق نہیں ہیں

(ذیل کی تحریر 28 اگست 2018 کو روز نامہ جنگ اور "ہم سب آن لائن” پر شائع ہوئی) جب یہ سطور تحریر کی جا رہی ہیں تو صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا وقت ختم ہونے کو ہے۔ اعتزاز احسن کے کاغذات جمع ہو گئے۔ مولانا فضل الرحمن کے کاغذات نامزدگی کچھ دیر میں داخل کر دیے جائیں گے۔ 4 ستمبر کو تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی صدر پاکستان کا انتخاب جیت جائیں گے۔ آنے

Read more

علامتی طور پر بے عنوان کالم

حکومت نے ابھی کچھ کیا ہو اور وہ غلط ہو تبھی تنقید کی جا سکتی ہے نا۔ اس بیچاری نے تو اب تک جو کیا، یا تو کر کے مکر جانا کیا یا جو کیا وہ ایسا کیا کہ اس پر طنز کیا جا سکتا ہے یا اس کا مضحکہ اڑایا جا سکتا ہے جیسے بارہ بھینسوں، لگژری کاروں کی جگہ دس سے بیس سال پرانی کاروں اور ناکارہ ہیلی کاپٹروں کی نیلامی کا اعلان کرنا یا پھر جو کہا تھا اس کی نفی کر کے تاویلیں پیش کرنا جیسے روٹ لگانے اور پروٹوکول دیے جانے سے متعلق تو ان پر ہنسا ہی جا سکتا ہے یا زیادہ سے زیادہ اگر جذباتی ہونا ہو تو اظہار تاسف کیا جا سکتا ہے۔

معاشرے میں پھیلی برائیوں، نا انصافی، معاشی ناہمواری، عدم تحفظ، عسرت اور بے بسی کا رونا روئیں تو اس سے کیا ہوگا۔ کب سے چیخ و پکار جاری ہے مگر یہ سب برائیاں ویسے کی ویسے ہی نہیں بلکہ روز بروز بڑھتی ہی چلی گئی ہیں۔ جب دولت چار چار روپے فی کلو شکر کے حساب سے پانچ کروڑ لوگوں کے ہاتھ سے پانچ افراد کے ہاتھوں میں ایک ہی روز میں چار چار کروڑ روپے ہو کر پہنچ جائے گی تو خلیج یونہی گہری ہوگی۔

Read more

1965 کی پاکستان انڈیا جنگ اور ایوب خان کا خفیہ دورۂِ چین

ایوب خان کے اس دورے کو مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا اور پاکستان میں بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہوسکا۔ ایوان صدر میں روزمرہ کے معمول کو سختی سے برقرار رکھا گیا۔ ایوب خان کے لیے صبح کی چائے لے جانے والا اسی طرح برتن سجا کر ان کے کمرے تک لے گیا اور خالی ٹرے واپس لایا۔

Read more

مرتضیٰ بھٹّو: ذوالفقار علی بھٹّو کے ’حقیقی سیاسی جانشین‘ جو اپنی ہی بہن بےنظیر کے دورِ حکومت میں مارے گئے

والد کی پھانسی بعد مرتضیٰ بھٹّو اور ان کے بھائی شاہنواز نے ذولفقار علی بھٹو کی موت کا بدلہ لینے کی ٹھانی اور مبینہ طور پر ’الذوالفقار‘ نامی تنظیم قائم کی۔ البتہ مرتضیٰ بھٹو کا خاندان اس حوالے سے ان کا دفاع کرتے ہوئے آج تک اس بات کی تردید کرتا ہے کہ ان کا اس نظیم سے کوئی تعلق تھا بھی یا نہیں۔

Read more

بائیں بازو والے

اب اس کی بھلا کیا وضاحت کرنی کہ بائیں بازو والے کن کو کہا جاتا تھا اور غلطی سے اب تک کہا جا رہا ہے۔ لوگ تو بس یہی سمجھتے تھے کہ جو ملک میں انقلاب لانا چاہتا ہے ( جو خونی ہی ہو سکتا تھا) جو خدا کو نہیں مانتا، جو سب عورتوں اور آدمیوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا چاہتا ہے اور جو جماعت اسلامی اور امریکہ کا کٹر مخالف ہے اسے بائیں بازو کے ماننے والا یا پھر بائیں بازو والا سمجھنا چاہیے۔

جماعت اسلامی کے کٹر مخالف تو بہت تھے لیکن آج کی طرح انقلاب لانے کے داعی نہیں تھے۔ خدا کو نہ ماننے والے آج بھی بہت زیادہ ہیں یہ اور بات ہے کہ نجی محفلوں میں وہ ملحد ہوتے ہیں اور جلوت میں مومن لیکن جن کی ہم بات کر رہے ہیں وہ منافقت سے کام نہیں لیا کرتے تھے۔ جب وہ خدا سے ہی نہیں ڈرتے تھے ( کیونکہ ان کے خیال کے مطابق عدم وجود کا خوف چہ معنی دارد والا معاملہ تھا ) تو وہ لوگوں سے بھلا کیوں ہراساں ہوتے۔

Read more

فلم انڈسٹری: وہ دور جب کراچی کے ہر کونے میں ایک سینما تھا

پاکستانی سینما کی بربادی کا باقاعدہ آغاز سنہ 1979 میں ہوا جب جنرل محمد ضیا الحق کے دورمیں پانچ سو سے زائد فلموں کے تمام سنسر سرٹیفکیٹ منسوخ کر کے ان فلموں پر پابندی لگا دی گئی۔

Read more

دیانت کی دھند اور کرپشن کا کہرا

وسطی یورپ میں چیک رپبلک نام کا ملک ساٹھ کی دہائی میں پیدا ہونے والی ہماری نسل کے لئے فکری حریت اور شہری آزادیوں کے استعارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ چاروں طرف سے آسٹریا، جرمنی اور پولینڈ جیسے ممالک میں گھرے ہونے کے باعث براہ راست بحری رسائی سے محروم یہ ملک دنیا کے نقشے پر جنوری 1993 میں نمودار ہوا۔ قبل ازیں یہ وارسا بلاک کے رکن ملک چیکوسلاواکیہ کا حصہ تھا۔ نومبر 1989 میں مشرقی یورپ کی آزادی

Read more

اردو کمیونٹی اور جیتو جمالی کی متنازعہ ویڈیو

وفاق کی نمائندہ جماعت پاکستان پیپلز پارٹی جو اپنی جدوجہد اور قربانیوں کی شاندار مثال رکھتی ہے اور 53 سال سے اس پارٹی کا وجود عوام میں برقرار ہے، ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی ہمیں پیپلز پارٹی کا جیالے باآسانی مل جاتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی شاندار سفر میں ملک بھر کے جیالے اور عوام کا بھرپور کردار ہے جو پیپلز پارٹی پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی جو کہ فیڈریشن کا نعرہ لگاتی ہے اور خود کو چاروں صوبوں کی زنجیر قرار دیتی ہے۔

حالیہ دنوں شہر قائد کراچی پر سیاست ایک بار پھر گرم ہے، اس گرما گرمی میں سندھ حکومت اور وفاق بھی آمنے سامنے آچکے ہیں، جہاں متحدہ قومی موومنٹ کا برسوں پرانا مطالبہ اور نعرہ ”مہاجر صوبہ“ اور ”سندھ کی تقسیم“ ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے تو وہی اس مطالبے اور نعرے کے خلاف سندھ کی عوام میں شدید غم و غصہ بھی پایا جاتا ہے۔ اس متنازع مطالبے پر اب تحریک انصاف بھی ایم کیو ایم کے ساتھ کھڑی ہے، تحریک انصاف کے کراچی سے منتخب نمائندگان بھی اس مطالبے اور نعرے کو تقویت دیتے دکھائی دیتے ہیں، تحریک انصاف کے رہنما کراچی کے مسائل کو بنیاد بنا کر کبھی کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو کبھی دبے الفاظ میں کراچی کی تقسیم کی بات کرتے ہیں، ایسے میں ایم کیو ایم اور مہاجر قومی موومنٹ کے رہنما بھی سندھ مخالف بیانات دے کر ماحول کو گرم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Read more

کسی انہونی تک یہ انتظام چلتا رہے گا

وزیر اعظم عمران خان نے ایک حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ ان کے فوج کے ساتھ تعلقات بہت خوشگوار ہیں، غالباً اپوزیشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ لوگوں کی بڑی خواہش ہے کہ ان کے فوج کے ساتھ تعلقات خراب ہوجائیں۔ خان صاحب نے یہ کوئی بڑی خبر نہیں دی۔ ہر ذی شعور پاکستانی کو علم ہے کہ موجودہ حکومت اور افواج پاکستان ایک ہی صفحے پر ہیں۔ ماضی کی سویلین

Read more

پینسٹھ کی جنگ، دوسرا رخ

پاکستان میں سکولی نصاب کے مطابق بھارت نے چھ ستمبر کو رات کی تاریکی میں چھپ کر پاکستان پر حملہ کیا۔ مگر کیوں کیا؟ بھارت پر اچانک کوئی دماغی دورہ پڑا یا حملے کی کوئی خاص وجہ تھی ؟ بچوں کو اس بابت کچھ نہیں بتایا جاتا۔ اور نہ ہی یہ بتایا جاتا ہے کہ اسے کامیاب جنگ کیوں کہا جاتا ہے؟ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات۔

Read more

نوشابہ کی ڈائری 17: عظیم طارق کے قتل پر ہر ایک دکھی ہے

اس شہر کی قسمت میں شاید یہی ہے، مکمل سناٹا یا پھر گولیوں کی دل دہلاتی آواز۔ کئی مہینے ایسا سکوت رہا کہ آپریشن کرنے والوں کے امن قائم کردینے کے دعوے پر یقین آنے لگا تھا۔ ہم لوگ بندوقوں کی دھائیں دھائیں اور موت کی خبروں کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ کچھ دن گولی نہ چلے اور کسی کے قتل کی اطلاع نہ ملے تو طبیعت بے چین ہوجاتی ہے، لگتا ہے اب کچھ زیادہ برا ہونے والا ہے۔

ذیشان کو آنے میں ذرا دیر ہو جائے تو میں اور میری ساس پریشان ہوجاتی ہیں۔ ذیشان کچھ بدلے بدلے سے لگنے لگے ہیں۔ انھیں غصہ بہت کم آتا تھا، ہر وقت ہنساتے ہنساتے رہتے تھے، بے فکر، اپنی ذات اور میری اور گھر والوں کی محبت میں مگن، مگر اب خاموش اور بے زار سے رہتے ہیں، بات بات پر چیخ پڑتے ہیں، پھر معافیاں مانگ مانگ کر مجھے مناتے ہیں۔ جب انھیں پتا چلا تھا کہ باپ بننے والے ہیں تو کتنا خوش تھے، کبھی میرے لیے پھل لا رہے ہیں کبھی ناریل کا پانی ”پیو پیو، بچہ گورا ہوگا“ مجھے زبردستی پلاتے، خوش تو اب بھی ہیں، میرے کھانے پینے کا خیال بھی اسی طرح رکھتے ہیں، لیکن وہ بات نہیں۔ شاید وہ واقعہ ان پر بہت اثرانداز ہوا ہے۔

Read more

الزامات کی برسات

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے اپنے خلاف سوشل میڈیا کا ایک بڑا حملہ (تادم تحریر) ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے معاون خصوصی کے طور پر کام کرنے سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کی خدمت میں پیش کردیا تھا۔ ارادہ ظاہر کیا گیا تھاکہ صرف سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کے طور پر خدمات جاری رکھی جائیں گی، اور سیاسی معاملات سے دوری اختیار کر لی جائے گی ’ہر چند کہ اُنہیں کسی

Read more

خدا ہماری مدد کو آ گیا اور اکھنور بچ گیا: بھارتی جنرل جوگندر سنگھ

درسی تاریخ یہ ہی بتاتی ہے کہ 6 ستمبر 1965 کی صبح لاہور کے لوگ باہر نکلے تو ان کے مشاہدے میں یہ آیا کہ مکار دشمن نے رات کی تاریکی میں لاہو ر پہ حملہ کر دیا ہے۔ اس دوران صدر مملکت ایوب خان کا مختصر خطاب بھی ریڈیو پہ نشر ہو چکا تھا۔ لیکن یہ بات کس حد تک درست ہے کہ یہ حملہ بھارت کی جانب سے جنگی پہل تھی اس کا درسی کتب کی حد تک

Read more

بے باک صحافت

بارہا اس کالم میں فریاد کرتا رہتا ہوں کہ صحافی کسی سیاسی تحریک کو جنم نہیں دیا کرتے۔ تاہم وہ برپا ہوجائے تو اسے رپورٹ کیا کرتے ہیں۔ اپنے کالموں اور ٹی وی پروگراموں کے ذریعے اس کی وجوہات اور امکانات بیان کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ وطنِ عزیز میں البتہ اس صدی کے آغاز میں ٹی وی صحافت متعارف ہوگئی۔ اس نے سکرینوں پر گفتار کے غازی چند اینکر خواتین وحضرات کو Starsبنادیا۔ اپنی پذیرائی سے شاداں ہوئے یہ

Read more

سیکولرازم، کمیونزم اور سوشل ازم کے بارے میں چند سوالات کے جوابات

میں کراچی یونیورسٹی میں ”بین الاقوامی تعلقات“ کا نو وارد طالب علم ہوں۔ مختلف نظریات (Ideologies ) میرے پسندیدہ موضوع ہیں۔
جن میں سیکولرازم، لبرل ازم، کیپیٹل ازم، کمیونزم اور سوشل ازم وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن ابھی تک صرف دو کو کسی حد تک سمجھ پایا ہوں۔ سیکولرازم اور لبرل ازم کو، باقی ابھی تک تشنہ تکمیل ہے۔

لہذا اس سلسلے میں چند سوالات کے جوابات درکار تھے۔ کمیونزم اور سوشلزم کے حوالے سے کیونکہ آپ ایک ایسے ملک میں رہائش پذیر ہیں جہاں وہ اس نظام کو پریکٹس کر رہے ہیں۔ اور اس کے نتائج سے بھی بہرہ ور ہوچکے ہیں۔

Read more

بارشوں سے تباہی

اس کالم میں گزشتہ برس کے اپریل سے گندم کی فصل کے حوالے سے بے موسم کی بارشوں کا ذکر تواتر سے ہوا۔ چند قارئین اس کی وجہ سے ناراض بھی ہوئے۔شکایات شروع ہوگئیں کہ ان کی نظر میں ’’اہم ترین‘‘ سیاسی موضوعات کو نظراندازکرتے ہوئے میں ’’موسم کا حال‘‘ بتانا شروع ہوگیا ہوں۔ دورِحاضر کا کالم نویس سوشل میڈیا پر اپنی تحریروں کے لئے زیادہ سے زیادہ Likesاور Sharesحاصل کرنے کا محتاج ہے۔ چند دن ’’اڑی‘‘ دکھانے کے بعد

Read more

راول پنڈی: جیسا میں نے دیکھا

یہ کوئی بہت پرانی بات نہیں کہ جب راولپنڈی ایک چھوٹا اور انتہائی پرسکون شہر ہوا کرتا تھا۔ 1980 ء کی دہائی تک شہر مریڑ چوک سے شروع ہو کر سکستھ روڈ پر ختم ہو جاتا تھا۔ اس وقت راولپنڈی میں نہ تو بے ہنگم ٹریفک کا اژدھام تھا نہ ہی صفائی ستھرائی کی ابتر حالت۔ تقریباً ہر چھوٹے بڑے گھر میں درخت اور پودے عام ہوا کرتے تھے۔ زیر زمین پانی کے وافر ذخائر کی وجہ سے شہر میں پانی کی کوئی قلت نہ تھی۔ تقریباً ہر دوسرے تیسرے گھر میں کنواں ہوا کرتا تھا بلکہ ہر محلے میں بھی ایک بڑا کنواں عام تھا جہاں سے بہشتی جنہیں پنڈی میں ماشکی کہا جاتا تھا چمڑے کے مشکیزوں میں گھر گھر پانی پہنچاتے تھے۔ ایسا ہی ایک بڑا کنواں چاہ سلطان تھا جس کی وجہ سے پورے علاقے کا نام سلطان دا کھوہ مشہور ہوگیا۔

Read more

بلاول بھٹو اور عمران خان کے نام ایک غیر خوشامدی کھلا خط

پاکستان بننے کے بعد جناح کا زندہ جوہر سیاست صرف ذوالفقار علی بھٹو ہے، جس کی سیاسی فرزندی کا خواب مدینہ اور جواب کوفہ سے مشابہ ہے۔ مدینہ کا خواب حسینیت کی تڑپ بن کر زندہ رہتا ہے اور جواب کوفہ ابن زیاد کی عداوت بن کر اوجھل ہو جاتا ہے۔ اسلامی سیاست کا جوہر زمین کربلا کا ستارہ بن کر چمکتا ہے اور سیاسی اسلام کا زور تیور زینب کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے سامان دربار سمیت ڈھیر ہو جاتا ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے کانگریس چھوڑ کر اور اس کے مقابل خم ٹھونک کر مسلم لیگ کی طرف آ کر اس کی سیاسی قیادت سنبھالی۔ ذوالفقار علی بھٹو ایوبی اقتدار سے بغاوت اپنا کر اور اس کے نظام سیاست و حکومت کے لیے چیلنج بن کر اپنی قیادت میں نئی پارٹی سامنے لائے۔ کلید اقتدار اس وقت تھمائی گئی جب ملک شکست خوردہ اور قوم ماتم کناں تھی۔ فوج بے دست و پا؛ نظام بے آئین اور ملکی بقا بھارتی خطرات کی پیش قدمی سے دوچار تھی۔

Read more

بھٹو ہوں یا ضیاالحق

جنرل محمد ضیاالحق اور ان کے رفقا کے حوالے سے (گزشتہ کالم میں) یہ عرض کیا گیا تھاکہ افغانستان سے سوویت فوجوں کی واپسی اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تکمیل ان کی دو ایسی کامیابیاں (Achievements) ہیںکہ پاکستانی قوم اور اس کے اداروں نے جن کے اعتراف کا حق ادا نہیں کیا۔ اس کا ہمارے بعض دوستوں نے بہت بُرا منایا، سوشل میڈیا پر بھی دِل کے پھپھولے پھوڑے گئے اور باقاعدہ کالم آرائی کرکے بھی غبار نکالا (یا

Read more

راجہ تری دیو رائے نے مجھے شرمندہ کر دیا

مقررہ دن اور وقت پر ہماری فائنل ملاقات شروع ہوئی اور ان کی خواہش پر لائبریری سے حاصل کردہ کتاب، میں نے انھیں تھما دی اور وہ میری لائی ہوئی کتاب پڑھنے میں محو ہوئے اور میں ان کا چہرہ! دراصل وہ ایک مختصر دورانیہ کا پروگرام تھا جو مہاتما بدھ کے حوالے سے منایا جانے والے Festival of Lights کے موقع پر، 1980 کی دہائی میں تیار کیا جانا تھا۔ عام طور پر ایسے پروگراموں کے لئے، سکرپٹ رائٹر

Read more

شریر سیاسی خاکے: میاں محمد نواز شریف

پچیس دسمبر کو میاں محمد نواز شریف لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کی سالگرہ پر دنیا بھر میں چراغاں ہوتا ہے اور پاکستان کے علاوہ پورے یورپ اور امریکہ میں اس دن سرکاری چھٹی بھی ہوتی ہے۔ ان کا تعلق ایک ایسے کشمیری خاندان سے ہے جو اننت ناگ سے ترک وطن کر کے امرتسر میں آباد ہوا تھا۔ میاں صاحب کی آنکھوں میں جو مقابل کو مسحور کر دینے کی صلاحیت ہے، شاید اس کی وجہ اننت ناگ سے تعلق ہی ہو۔

Read more

چودہ اگست کے بعد سترہ اگست

 آج جنرل محمد ضیا الحق کو جسمانی طور پر رخصت ہوئے تینتیسواں برس لگ گیا اور پرویز مشرف کو سبکدوش ہوئے بارہ برس مکمل ہو گئے۔وہ الگ بات کہ ضیا الحق جیسا کوئی نہیں۔نہ ان سے پہلے نہ بعد میں۔ ان کی روح پاکستان کے قومی جسد میں تینتالیس برس سے حلول ہے۔جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو کم ازکم فانی زندگی سے معزول ہو کر گڑھی خدا بخش جانا پڑا۔مگر ضیا الحق نے

Read more

مک مکا نہیں‘ درمیانی راہ

پارلیمانی نظام کا اصل مقصد کوئی ’’درمیانی راہ‘‘ نکالنا ہی ہوتا ہے۔ہم لوگ مگر خود کو ’’اصول پرست‘‘ ثابت کرنے کے زعم میں مبتلا رہتے ہیں۔اسی باعث ’’درمیانی راہ‘‘ کو حقارت سے ’’مک مکا‘‘ پکارتے رہتے ہیں۔پنجابی محاورے والی ہاتھ سے لگائیں گرہیں مگر اس تناظر میں بسااوقات دانتوں سے کھولنا پڑتی ہیں۔ ہماری دو بڑی اپوزیشن جماعتیں- مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی- ان دنوں ایسی ہی مشقت کا سامنا کررہی ہیں۔پیر کے روز ہوئے سینٹ کے اجلاس میں

Read more

پرستاران تحریک انصاف کو سلام

ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا ہم گھاس کھالیں گے لیکن ایٹم بم بنا کر ہی دم لیں گے۔ اب یہ تو معلوم نہیں کہ قوم واقعی گھاس کھانے کے لئے تیار بھی تھی یا نہیں لیکن سلام پی ٹی آئی کے ووٹروں اور حامیوں کو جو معلوم نہیں خود گھاس کھا رہے ہیں یا نہیں لیکن قوم کو انھوں نے وہاں تک ضرور پہنچا دیا ہے جہاں زندہ رہنے کے لئے شاید گھاس ہی کھانی پڑے لیکن مجھے ڈر

Read more

عمران خان اور سویلین بالادستی

موجودہ پاکستان میں قائد اعظم کے بعد جن چار سیاست دانوں کو عوام نے بے پناہ چاہا اور ان پہ اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے وہ ہیں ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور عمران خان۔ کرشماتی شخصیت کے مالک عمران خان اس وقت ملک کے وزیراعظم ہیں۔ ان کے پاکستانی سیاست میں قدم رکھنے کی وجہ سے عوام کی ایک بڑی تعداد نے سیاست میں دلچسپی لینا شروع کی۔ وہ خواتین ووٹرز کو الیکشنز کی طرف

Read more

سارنگ جویو: ’رہائی سے قبل سوچا آج گولی مارکر لاش پھینک دی جائے گی

سارنگ جویو کو جب رات کو ساتھ چلنے کو کہا گیا تو ان کا خیال تھا کہ انھیں گولی مارکر لاش پھینک دی جائے گی لیکن اس خدشے کے برعکس انھیں زندہ رہا کر دیا گیا۔

Read more

فیصلے کی گھڑی

انڈیا اور امریکہ کی بڑھتی قربت کے بیچ چین اور انڈیا کا سرحدی تنازعہ، عرب امارات اور اسرائیل کے مابین جگری یاری، سعودی عرب اور پاکستان کے مابین ہلکی پھلکی موسیقی انہی تبدیلیوں کا شاخسانہ ہے: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

جنرل ضیا الحق، اختر عبد الرحمن اور خاقان عباسی

1988 کا ذکر ہے۔ قریبی عزیزہ نے پوچھا: تالپور صاحب کی برسی میں چلو گے، جنرل ضیاء الحق بھی آئیں گے؟ چند لمحے سوچا، دونوں شخصیات سے کوئی انسیت اور نسبت تو تھی نہیں، پھر بھی یہ سوچ کر کہ اکیلی کیسے جائیں گی۔ برسی میں جانے کی ہامی بھر لی۔ برسی والے دن بتایا گیا کہ پہلے میر علی احمد تالپور مرحوم کی بیگم کے گھر جائیں گے اور پھر وہاں سے ان کے ساتھ مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب میں۔ سو برسی والے دن بیگم تالپور کے گھر پہنچے اور تھوڑے انتظار کے بعد وہاں سے روانہ ہوئے۔

ہوٹل کے اطراف میں کڑے حفاظتی اقدامات تھے۔ ہم چونکہ بیگم تالپور کی معیت میں پہنچے تھے۔ اس وجہ سے بآسانی ہوٹل کی حدود میں داخل ہو گئے۔ خواتین تو اندر تشریف لے گئیں۔ اور ہم ہوٹل کی لابی اور دکانوں میں گھومتے پھرتے، ہوٹل سے باہر نکل آئے۔ کراچی کے نو منتخب شدہ میئر کا ان دنوں خوب چرچا تھا۔ چونکہ ایم کیو ایم نے پہلی دفعہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا تھا اور عظیم الشان کامیابی سے ہم کنار ہوئی تھی۔ ہوٹل کے باہر ہی تھے، کہ میئر فاروق ستار بھی نئی نویلی کالی گاڑی میں سوٹڈ بوٹڈ وارد ہوئے۔ الطاف حسین کے بعد آمنے سامنے کسی بھی ایم کیو ایم رہنما کو دیکھنے کا پہلا اتفاق تھا۔ میئر کو دیکھنے کے بعد متحیر ہی کھڑے تھے، کہ جنرل ضیاء الحق کی آمد ہو گئی۔

Read more

ملائیت کے 73 سال

پاکستان کو بنے 73 سال بیت گئے ہیں۔ ان 73 سالوں میں بحث ہمیشہ یہی رہی کہ پاکستان میں کون سا نظام ہونا چاہیے۔ پارلیمانی یا صدارتی۔ جوں جوں پاکستان کی عمر بڑھتی گئی یہ بحث بھی بڑھتی گئی۔ پچھلی دو دہائیوں سے بحث کا زور اس بات پر رہا کہ پاکستان کو تباہ کس نے کیا۔ جمہوریت نے یا آمریت نے۔ سیاسی جماعتیں آمریت کو جی بھر کر گالیاں دیتی ہیں لیکن اقتدار کی خواہش ان سب سیاسی جماعتوں

Read more

”فیلڈ مارشل“ ضیا الحق کا شکریہ

جنرل محمد ضیا الحق کو اس دنیا سے رخصت ہوئے بتیس سال بیت گئے۔ 1988 ء کے ماہ اگست کی سترہ تاریخ کو ان کا فوجی طیارہ بہاولپور کے نزدیک حادثے کا شکار ہوا، اور وہ ٹینکوں کا ایک نمائشی مظاہرہ دیکھنے کے بعد اسلام آباد واپس آنے کی بجائے وہاں پہنچ گئے، جہاں جانا تو سب کو ہے، واپس کسی نے نہیں آنا۔ جنرل صاحب کے ساتھ جان دینے والوں میں چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل اختر عبدالرحمن کے علاوہ ایک لیفٹیننٹ جنرل، تین میجر جنرل اور پانچ بریگیڈیئر بھی شامل تھے۔

پاکستان میں متعین امریکی سفیر اور پینٹاگون کے ایک نمائندہ فوجی افسر بھی اس بدقسمت طیارے میں سوار تھے۔ ابھی تک اس طیارے کی تباہی کے اسباب کا تعین نہیں کیا جاسکا، نہ وہ ہاتھ تلاش کیے جا سکے ہیں جو اس کے ذمہ دار تھے۔ انہوں نے جو دستانے پہن رکھے تھے، وہ لہو کی تلاش میں رکاوٹ بن گئے۔ ان میں سے کون ابھی زندہ ہے، اور کون کون اپنی فرد عمل کے ساتھ منصف حقیقی کے روبرو پیش ہو چکا، اس بارے میں بھی قطعیت کے ساتھ کچھ کہنا ممکن نہیں۔

Read more