آئین تو زندوں کے لیے ہوا کرتا ہے

تھامس جیفرسن فرماتے ہیں کہ ”ہمارے خالق نے یہ دنیا زندہ لوگوں کے رہنے کے لیے بنائی ہے، مردوں کے لیے نہیں۔ یہ بات درست نہیں ہے کہ جو موجود ہیں اس پر کوئی حق نہیں رکھتے ہیں، اس پر کوئی اختیار یا طاقت نہیں رکھتے ہیں، کہ ایک نسل انسانی دوسری کے لیے یہ حق باطل کر دے یا اسے کسی بوجھ کے تلے دبا دے جبکہ نئی نسل خود بھی خدا کے احسان سے یہ حق رکھتی ہو۔ کوئی بھی پہلی نسل کسی بعد میں آنے والی نسل کو اپنے بنائے ہوئے معاہدے میں نہیں جکڑ سکتی ہے۔ لوگ اپنے اصول اپنی موجودہ نسل کی اکثریت سے اخذ کرتے ہیں، اور جب یہ اکثریت گزر جاتی ہے تو ایک نئی نسل اس کی جگہ آ جاتی ہے جو کہ اسی پرانی نسل کے برابر اختیار رکھتی ہے کہ اپنے لیے قانون اور اصول بنائے۔ “

”یہ دنیا اور جو کچھ بھی اس پر ہے، اس کے موجودہ باشندوں کی ملکیت ہے۔ صرف وہی یہ حق رکھتے ہیں کہ فیصلہ کریں کہ انہوں نے اپنے مسائل سے کیسے نمٹنا ہے۔ اور یہ فیصلہ ان کی اکثریت کرتی ہے۔ حکومت کرنے کا یہ طریقہ نقائص سے مکمل طور پر پاک نہیں ہے، لیکن اقلیت کی جانب سے کی گئی فیصلہ سازی، یا پھر ایک ہی شخص کی حکومت اس طریقے سے کہیں زیادہ خراب ہیں اور وہ ایک بڑی برائی کا منبع ہیں۔ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے، اکثریت کے فیصلے کسی ایک طبقے کی بجائے سب افراد کے بہترین مفاد میں ہونے چاہئیں۔ “

Read more

امیر دشمن، صحت دوست بجٹ پیش کر دیا گیا

آج پاکستان کی تاریخ کا سب سے بہترین بجٹ پیش کر دیا گیا ہے جو غریبوں کی مشکلات میں اضافہ نہیں کرے گا بلکہ امیر افراد سے پیسہ نکلوائے گا۔ اس کے علاوہ اس بجٹ کا ایک بڑا مقصد لوگوں کی صحت کو بہتر کرنا ہے۔ لیکن مزید تفصیل میں جانے سے پہلے ہم یہ طے کر لیں کہ امیر کون ہے اور غریب کون۔ خوش قسمتی سے بجٹ میں یہ بتا دیا گیا ہے اور ہمیں اپنا قیمتی دماغ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

بجٹ میں بتایا گیا ہے کہ ”چکن، مٹن، بیف اور مچھلی کے گوشت کی سیمی پراسیسڈ اور پکی ہوئی اشیا کی کھپت میں کافی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ اشیا عمومی طور پر خوشحال افراد کے استعمال میں آتی ہیں۔ تجویز ہے کہ ان اشیا پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا جائے“۔ یعنی اب یہ تعین کرنا آسان ہو گیا ہے کہ جو شخص بھی پکی ہوئی مرغی، بکرا، گائے بھینس یا مچھلی کھاتا ہے وہ امیر ہے اور جو انہیں کچا ہی کھا جاتا ہے وہ غریب ہے۔ اسی وجہ سے گیس پر درآمدی ٹیکس کو بڑھایا گیا ہے۔ امیر آدمی ہی کھانے کو پکا کر کھاتا ہے۔ غریب تو کچا ہی کھاتے ہیں۔ یوں گیس مہنگی ہونے سے غریب متاثر نہیں ہو گا۔

Read more

معیشت کے بعد اب بینک بھی ڈبو دیں

وزیراعظم نے آج صبح قوم سے خطاب کی ریکارڈنگ نشر کی ہے۔ وزیراعظم نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستانیوں کے بینک اکاؤنٹس کی معلومات آرہی ہیں جو پہلے کبھی کسی حکومت کے پاس نہیں تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ عوام سے کہتا ہوں کہ جن کا پیسہ باہر پڑا ہوا ہے وہ 30 جون تک اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم میں شریک ہوں اور اس سے فائدہ اٹھائیں اس کے بعد انہیں موقع نہیں ملے گا۔

ہماری قوم ٹیکس دینے والی قوم نہیں ہے۔ اب 5 لاکھ سے زیادہ بیلنس والے اکاؤنٹ کو ٹیکس وصول کرنے کے لیے مارک کیا جائے گا تو کیا ہو گا؟ صرف ملازمت پیشہ غریب غربا مہینے کے شروع میں کچھ رقم جمع کروائیں گے جو مہینے کے آخر تک ختم ہو جایا کرے گی۔ کاروباری حضرات تو پہلے ہی پرچی اور کیش پر اپنا کاروبار منتقل کر رہے تھے۔ اب بچت بھی لاکر میں اور سونے کی شکل میں رکھی جائے گی۔ باقی معیشت تو 6.2 فیصد کے ہدف سے ترقی کرنے کی بجائے 3.3 فیصد رہی تھی، مگر بینکنگ سیکٹر کچھ سانس لے رہا تھا۔ اب اس کی بھی انا للہ پڑھ لیں۔ عوام اور سرمایہ داروں کو بینکوں سے دور بھگانے کا یہ بہترین نسخہ ہے۔

Read more

مودی کو بار بار خط لکھ کر منتیں کرنا شرمناک ہے

ہمارے وزیراعظم اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح نریند مودی ان کے ساتھ مذاکرات کر لے۔ کبھی خط لکھتے ہیں۔ کبھی فون کرتے ہیں۔ کبھی ٹویٹ کرتے ہیں۔ پھر وہ لفٹ نہیں کراتا تو کڑھتے ہیں کہ چھوٹے عہدوں پر فائز ہو گئے ہیں۔ اور اس کے بعد دوبارہ خط لکھ کر امن مذاکرات کی دعوت دے دیتے ہیں۔

مودی کو بار بار خط لکھ کر منتیں کرنا شرمناک ہے اور ایک ایسے ملک کے باحمیت حکمران کو زیب نہیں دیتا جو عالم اسلام کی سب سے بڑی ایٹمی طاقت ہو۔ مودی ایسے اکڑ کر دکھا رہا ہے جیسے ہمیشہ جنگ وہ جیتتا رہا ہو اور ہم ہارتے رہے ہوں۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانی فاتحین نے نریندر مودی کے بھارت کو ہمیشہ شکست دی ہے۔

Read more

تیسرے جولاہے نے عقل لڑا کر سسرال میں عزت بچائی

This entry is part 3 of 4 in the series چار جولاہے

تیسرے جولاہے نے اپنا قصہ شروع کیا: بلاشبہ ان دونوں کی ذہانت بے مثال ہے مگر میری عقل نے بھی میرے سسرال میں میری خوب عزت بنائی ہے۔میری بیوی پہلے ہی اپنے میکے جا چکی تھی۔ میں اپنے سسرال کی طرف چلا تو ساتھ دینے کو گاؤں کے نائی کو بھی ساتھ لے لیا۔ جب ہم سسرال پہنچے تو میری ساس نے نئی چادریں چارپائی پر بچھائیں اور ہمیں عزت سے بٹھایا۔ پھر پوچھا ”اتنے سفر کے بعد تمہیں بھوک تو بہت لگی ہو گی؟ “

Read more

دوسرے جولاہے نے عقل لڑا کر سسرال میں عزت بچائی

This entry is part 2 of 4 in the series چار جولاہے

دوسرا جولاہا بولا: یہ بات ٹھیک ہے کہ تم اچھے بھلے عقلمند ہو مگر جب میری دانشمندی کی کہانی سنو گے تو تم یہ بات تسلیم کر لو گے کہ میں تم سے کہیں زیادہ عقلمند ہوں اور ان پیسوں پر میرا ہی حق بنتا ہے۔جب شادی کے بعد میں نے روایت کے مطابق سسرال جانے کا ارادہ کیا تو یہ فیصلہ کیا کہ سسرالیوں کو خوب شان و شوکت دکھاؤں گا۔ میں نے ایک ہمسائے سے گھوڑا ادھار مانگا، دوسرے سے ہتھیار لئے اور تیسرے سے کچھ زیورات۔ تو خوب سج بن کر گھوڑے پر سوار ہوا اور راستے پر نکلا تو جس مسافر کے پاس سے بھی گزرتا وہ یہی کہتا ”واہ، کیا ذی وقار اور دولت مند جولاہا ہے“۔ راستے میں تیز بارش نے آ لیا تو مجھے چند گھنٹے ایک گاؤں میں رکنا پڑا۔ بارش رکنے پر میں آگے چلا مگر اپنے سسرالی گاؤں تک پہنچتے پہنچتے رات ہو گئی۔ مجھے خیال آیا کہ اگر میں اس وقت سسرال میں گیا تو اندھیرے میں میری شان و شوکت کو کوئی نہیں دیکھ پائے گا لیکن اگر میں انتظار کر لوں اور دن کی روشنی میں گاؤں میں داخل ہوں تو سب گاؤں والے یہی کہیں گے کہ انہوں نے کتنا بہترین داماد پایا ہے۔

Read more

ایک جولاہے نے عقل لڑا کر سسرال میں عزت بچائی

This entry is part 1 of 4 in the series چار جولاہے

چار غریب جولاہے ایک مرتبہ راہگزر کنارے بیٹھے تھے کہ ادھر سے ایک مسافر گزرا۔ اس نے ان کو غریب جان کر چار پیسے ان کی طرف اچھال دیے اور اپنی راہ پر چلتا رہا۔ ایک جولاہا سب سے پھرتیلا تھا، اس نے چاروں پیسے اچک لئے۔ باقی تینوں اس سے اپنے حصے کے لئے لڑنے لگے۔ ادھر سے ایک بابا گزرا اور اس نے جھگڑے کی وجہ جاننا چاہی۔

تین جولائے بولے ”اس مسافر نے چار پیسے ہم چاروں کی طرف اچھالے تھے۔ ظاہر ہے کہ ہر ایک کو ایک پیسہ دیا تھا۔ اس نے چاروں پیسے اچک لئے ہیں اور ہمارا حصہ دینے سے انکاری ہے“۔چوتھے جولاہے نے کہا ”نہیں یہ چاروں پیسے میرے ہیں۔ مسافر نے قسمت پر چھوڑ کر اچھال دیے تھے کہ جس کی قسمت میں ہوں وہ پا لے گا“۔

جھگڑا دوبارہ شروع ہونے کو تھا کہ بابے نے کہا ”وہ مسافر زیادہ دور نہیں گیا ہے۔ دوڑ کر جاؤ اور اس سے فیصلہ کرا لو۔ “ چاروں جولاہوں کی سمجھ میں یہ بات آ گئی اور انہوں نے دوڑ کر مسافر کو جا لیا۔

Read more

کبھی کبھی بلاوجہ ہی نیکی کر دینی چاہیے

کئی چھوٹے چھوٹے سے بظاہر غیر اہم واقعات ذہن پر ہمیشہ کے لئے نقش ہو جاتے ہیں۔ اگر میں آپ کو یہ بتاؤں کہ ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو جوس کا ایک ڈبہ اور ایک کیک پیس خرید کر دیا تھا اور یہ بات بیس بائیس سال بعد بھی مجھے یاد ہے تو آپ کو کیسا لگے گا؟ لیکن اس زمانے میں خرچ کیے گئے یہ آٹھ دس روپے یاد رکھنے کی ایک وجہ ہے۔ ایک شخص کے آنسو۔

Read more

عمران خان کے خلاف سازش کون کر رہا ہے؟

زرتاج گل۔ نعیم الحق۔ اور اب ایک اور بھی۔ اور پنجاب سے مزید ایک۔ پہلے تو ہمیں لگ رہا تھا کہ خدانخواستہ تحریک انصاف اقربا پروری کر رہی ہے۔ لیکن شکر ہے کہ محترمہ زرتاج گل نے وضاحت کر دی۔ نیکٹا کا موقف بھی سامنے آیا جس سے ہمیں علم ہوا کہ محترمہ زرتاج گل کی سفارش کو نیکٹا نے جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے مسترد کر دیا اور میرٹ پر شبنم گل کا تقرر کیا۔

Read more

اوئے تھانیدار، یہ تھانہ میں چلاؤں گا

فرض کریں کہ آپ کے علاقے میں جرائم بہت بڑھ گئے ہیں۔ بہت لوٹ مار ہونے لگی ہے۔ ایک طرف بدمعاش بھتہ لینے تو دوسری طرف ہر دو مہینے بعد آپ کا موبائل چھین لیا جاتا ہے۔ آپ مقامی تھانیدار کی نا اہلی پر شدید ناراض ہو جاتے ہیں۔ سیدھا تھانے کا رخ کرتے ہیں اور مولا جٹ کے انداز میں بڑھک لگاتے ہیں ”اوئے تھانیدار، یہ تھانہ میں چلاؤں گا“۔ اگر آپ کی قسمت اچھی ہے تو یہ بڑھک سن کر تھانیدار ہنسنے لگے گا۔ ورنہ آپ رونے لگیں گے۔ یہ حرکت کارِ سرکار میں بے جا مداخلت کہلاتی ہے۔

Read more