پہلے یہ تو طے کر لیا جائے کہ عورت انسان ہے بھی یا نہیں

گزشتہ دو چار برس سے خواتین کے ایک گروہ نے حقوق پانے کے نام پر دن منانا شروع کر دیا ہے۔ پہلے تو ذی شعور لوگوں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ انہیں جتنے حقوق درکار تھے وہ انہیں دیے جا چکے ہیں، مزید کی توقع مت رکھیں اور انہیں نظرانداز کر دیا۔ مگر وہ مارچ کرتی رہیں۔ پھر ان کا خوب مذاق اڑایا گیا کہ گھر میں بیٹھی عورت ملکہ ہوتی ہے اور گلی میں نکلنے والی بہت بری۔ مگر وہ مارچ کرتی رہیں۔ پھر انہیں خوب ڈرایا دھمکایا گیا کہ انہیں کسی قیمت پر مارچ نہیں کرنے دیا جائے گا، مگر وہ مارچ کرتی رہیں۔ اور اب مخالفین خود اس دن گھر بیٹھنے کی بجائے اپنی عورتیں گلی میں لا کر عورت مارچ کرنے لگے ہیں گو ان کے حقوق کا سیٹ مختلف ہے۔

اب یہ معاملہ تو طے ہوا ہے کہ دونوں گروہ اس بات پر متفق ہیں کہ عورتوں کو کسی قسم کے حقوق کی ضرورت ہے، مگر اس بات پر اتفاق نہیں ہو پا رہا ہے کہ وہ حقوق کیا ہوں گے جو انہیں دیے جائیں۔ اس لئے پہلے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کن حقوق کی بات کی جا رہی ہے۔ عورت کے حقوق کا تعین کرنے سے پہلے یہ تو طے کر لیا جائے کہ ہمارے معاشرے میں عورت انسان ہے بھی یا نہیں

Read more

مولوی، عورت مارچ اور کرونا وائرس

جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کے علما و فضلا اس مرتبہ عورت مارچ کے خلاف مولوی مارچ کی تیاری پکڑ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سکھر سے جنگ شروع ہو گی۔ عورت آزادی مارچ کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس برس سکھر سے مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر سکھر میں جمعیت علمائے اسلام نے عورت آزادی مارچ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے آئین قانون اور مشرقی روایات کے خلاف قرار دیتے ہوئے روکنے کا اعلان کیا ہے۔ مولانا راشد محمود سومرو نے تو یہ بھی بتایا ہے کہ ”میرا جسم میری مرضی“ جیسی مہم کے ذریعے ملک کو سیکولر ریاست بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

Read more

ایک ظالم بادشاہ کی عبرتناک شکست اور گدھے کی ولولہ انگیز تقریر

پیارے بچو۔ بہت پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ملک نیمروز پر ایک نہایت ظالم بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اسے خون بہانے کا بہت شوق تھا۔ اڑوس پڑوس کی ریاستوں پر لشکرکشی کرتا رہتا تھا اور مفتوحہ شہروں میں کھوپڑیوں کے مینار بناتا تھا۔ جن دنوں تفریح کا موڈ ہوتا تو چھٹی لے کر کسی جنگل میں شکار کھیلنے نکل جاتا۔

ایک مرتبہ اس رعایا نے فریاد کی کہ قریبی جنگل میں ایک آدم خور شیر آ گیا ہے جو ان کے ڈھور ڈنگر مارنے کے بعد اب انسانوں پر بھی حملے کرنے لگا ہے۔ یہ سنتے ہی اس ظالم بادشاہ نے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ جنگل کا رخ کیا۔ اعلان تو اس نے شیر مارنے کا کیا تھا مگر ہاتھی گھوڑا بکرا خرگوش جو بھی سامنے آیا، اس نے مار ڈالا۔ دس ہرن کھاتا اور سو ہرنوں کو محض خون بہانے کے شوق میں ہلاک کر ڈالتا۔

Read more

پولیو کے بعد کرونا ویکسین کی اسرائیلی سازش

اسرائیلی لیب میگال نے کرونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس لیب کی فنڈنگ اسرائیلی محکمہ زراعت اور سائنس نے کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ چار برس سے مرغیوں کے زکام کی ویکسین تیار کرنے پر کام کر رہی تھی کہ اسے اچانک یہ پتہ چلا کہ ناول کرونا وائرس تو بالکل مرغیوں کے زکامی وائرس کی طرح کا ہے۔ میگال نے ویکسین کو انسانوں کے جسم کے مطابق بنایا اور اب وہ اپنی ویکسین کو نوے دن میں مارکیٹ میں لا سکتے ہیں۔

ظاہر ہے کہ یہ بھی یہود و نصاریٰ کی گزشتہ سازش یعنی پولیو ویکسین کی طرح مسلمان مجاہدین کو قوت مردمی سے محروم کرنے کی بھیانک کوشش ہو گی۔ اس خدشے کو اس امر سے بھی تقویت ملتی ہے کہ پولیو کی ویکسین کی طرح یہ بھی قطروں کی صورت میں پلائی جائے گی۔

Read more

قلندر تو ہار جیت سے بے نیاز مست فقیر ہوتے ہیں

پانچواں برس ہے کہ بعض لوگ مسلسل لاہوری قلندروں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ وہ میچ کیوں نہیں جیتتے۔ ان ناقدین کو قلندروں کی روایات کا ہی علم نہیں ہے۔ انہیں کیا پتہ کہ ایک قلندر کی نگاہ میں فتح کیا ہوتی ہے اور شکست کا پیمانہ کیا ہے؟ قلندر بالکل ملنگ ہوتے ہیں۔ انہیں ہار جیت کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ اپنی دنیا میں مگن رہتے ہیں۔ نہ کسی کا فائدہ کرتے ہیں اور نہ نقصان۔ وہ تو سب کا بھلا چاہتے ہیں۔ اب ایک میچ میں دوسری ٹیم کا نقصان کرنے کی بجائے اس کا بھلا چاہا جائے تو میچ جیتنے کا تو سوال ہی نہیں، ہارا ہی جائے گا۔ اسی وجہ سے لاہور قلندر ہمیشہ ہارتے ہیں۔

Read more

کبھی نہ پکڑا جا سکنے والا باغی پکڑا گیا

دونوں ہاتھ نیچے لٹکائے ہوئے وہ طمانیت بھرے انداز میں ایسے کھڑا ہوتا تھا جیسے پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے بعد کھوکھے پر پان لگوا رہا ہو۔ لیکن اس کے ہاتھوں پر بندھے باکسنگ کے دستانے کچھ اور چغلی کھا رہے ہوتے تھے۔ مقابل باکسنگ کی دنیا کے ایسے نام ہوتے تھے جن کے…

Read more

بے نیازی سے مسکراتی حکومت اور روتے بسورتے عوام

ایک تصویر دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ ایک بڑھیا رو پیٹ رہی ہے کہ اس کے بچے کی جان بچائی جائے۔ غم سے اس کی بری حالت ہے۔ شدت غم سے اس نے اپنی آخری امید یعنی وفاقی حکومت کے وزیر مملکت برائے صحت، ڈاکٹر ظفر مرزا کے دونوں بازو پکڑ رکھے ہیں اور ان سے اپنے بچے کی چین سے واپسی کے لئے فریاد کر رہی ہے۔ ڈاکٹر صاحب ایک دانا شخص ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ صدمے اور غم کے شکار افراد کو کیسے ٹریٹ کیا جاتا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ خواہ وہ لپٹ ہی کیوں نہ جائیں، ان کی طرف دیکھا ہی نہ جائے تاکہ وہ شرمندہ نہ ہوں۔ دوسری بات یہ کہ زمانہ قدیم سے حکما بتاتے آئے ہیں کہ ہنسی سے بہتر کوئی دوا نہیں۔ ڈاکٹر بے نیازی سے کام لیتے ہوئے اس روتی ہوئی غمزدہ ماں کو یہی بہترین دوا دے رہے ہیں۔

Read more

تانیہ ایدروس کا ڈیجیٹل نیا پاکستان اور سوشل میڈیا کا انتقال

گوگل کی تانیہ ایدروس کے نئے ڈیجیٹل پاکستان میں ٹویٹر، فیس بک، یوٹیوب گوگل پلس، ڈیلی موشن، انسٹاگرام، سنیپ چیٹ، پنٹرسٹ، لنکڈ ان، ریڈٹ، اور ٹک ٹاک وغیرہ نہیں ہوں گے۔ نیا قانون تو یہی کہتا ہے۔ بلکہ یہ سب کیا، ڈیجیٹل اخبارات اور جرائد وغیرہ بھی نہیں ہوں گے یا پھر ان کے مضامین میں عوامی کمنٹس نہیں ہوں گے کیونکہ نئے قوانین میں سوشل میڈیا کمپنی کی تعریف میں کسی بھی ایسے مواصلاتی چینل کو شامل کیا گیا ہے جس میں کمیونٹی ان پُٹ، انٹرایکشن، اور مواد کو شیئر کرنے کا نظام ہو۔ یعنی یا تو ویب سائٹس اپنے صارفین کے کمنٹس بند کر دیں ورنہ وہ سوشل میڈیا قرار پائیں گی اور انہیں قرار واقعی سزا ملے گی۔ یہ ایک اچھا اقدام ہے کیونکہ اس سے ہم اسرائیلی اور انڈین سازشوں سے بچ سکیں گے کیونکہ وہی الٹے سیدھے کمنٹس کر کے معصوم پاکستانیوں کو بہکاتے ہیں۔

Read more

سینٹ ویلنٹائن کا ”کفر“ اور اصحاب الکہف کی مسلمانی

آج ایک جگہ ایک دلچسپ پوسٹ پڑھنے کو ملی کہ ”مسلمان مولوی کو گالیاں اور طعنے دینے والے آج بت پرست عیسائی مولوی ویلنٹائن سے عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں“۔ بخدا پڑھ کر دل ہی خوش ہو گیا کہ کسی موضوع پر بات کرنے سے پہلے اور کسی شخص پر کفر کا فتوی لگانے سے پہلے ہم اس موضوع کے بارے میں علم حاصل کیے بغیر ہی کس طرح بے دھڑک ہو کر بیان داغ دیتے ہیں۔

Read more