کچھ عرصہ قبل جرمنی اور جاپان ہمسائے تھے

عمران خان کی وائرل ہونے والی 32 سیکنڈ کی ویڈیو میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ”جرمنی اور جاپان نے اپنے کئی ملین سویلین مارے، حتی کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بارڈر پر، جرمنی اور جاپان کے بارڈر پر مشترکہ انڈسٹری لگائیں گے۔ اس لئے اب یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ دونوں کے تعلقات خراب ہوں کیونکہ ان کے معاشی مفادات آپس میں جڑ چکے ہیں۔ “

اس پر یہ شور مچ گیا ہے کہ عمران خان کو جغرافیے کا ہی نہیں پتہ اور وہ وسطی یورپ میں واقع جرمنی کو نو ہزار کلومیٹر دور بحر الکاہل میں واقع جاپان کا ہمسایہ کہہ رہے ہیں۔ حالانکہ یہ بات سائنسی طور پر ثابت شدہ ہے کہ کچھ ہی عرصہ قبل جرمنی اور جاپان ایک ہی براعظم پر تھے۔

Read more

بیشتر لوگ مجھ جتنے محب وطن کیوں نہیں ہیں؟

مجھے اکثر افسوس ہوتا رہتا ہے کہ بیشتر لوگ مجھ جتنے محب وطن اور ذی شعور کیوں نہیں ہیں۔ کیا انہیں رتی بھر احساس نہیں ہے کہ ملک و قوم کس نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں؟ کیا انہیں ذرہ برابر پروا نہیں ہے کہ ملکی مفاد کا تقاضا کیا ہے؟ کیا اس طرح معیشت، سیاست اور خارجہ پالیسی کے متعلق اپنی رائے ظاہر کر کے وہ وطن عزیز کی جڑِیں نہیں کاٹ رہے ہیں؟ آخر وہ سب میری طرح کیوں نہیں سوچتے؟

یاد رہے کہ میں جو کچھ بھی لکھتا ہوں وہ قومی خدمت کے جذبے سے کسی صلے ستائش یا معاوضے کی تمنا کے بغیر لکھتا ہوں کیونکہ میرے دل میں قوم کا بے پناہ درد ہے اور مجھ سے زیادہ کوئی قوم سے مخلص نہیں ہے۔ وہ میری رائے کے خلاف ایک چار چھے لفظی کمنٹ بھی کرتے ہیں تو وہ ایسا ڈالر یا ریال یا تومان لے کر کرتے ہیں اور وہ ملک دشمنوں کے ایجنڈے پر چل رہے ہیں۔

Read more

بوئنگ 737 میکس جہاز اور اسد عمر

بوئنگ 737 میکس میں نقص یہ تھا کہ اس کی دم پر وزن زیادہ ڈال دیا گیا تھا اور باڈی کے پرانے انجن کی جگہ زیادہ پاور فل انجن لگا دیے گئے تھے۔ نتیجہ وہی نکلا جو آپ نے موٹر سائیکل پر اس وقت محسوس کیا ہو گا جب آپ اچانک زیادہ ریس دے دیتے تھے اور پتہ چلتا تھا کہ اگلا ٹائر ہوا میں بلند ہو گیا ہے اور بعض مرتبہ آپ پیچھے زمین پر پڑے ہوتے تھے۔ یا پھر کسان اس صورت حال کو یاد کر سکتے ہیں جب ٹرالی پر خوب لوڈ ہو اور ٹریکٹر کو چلا دیا جائے تو اس کے دونوں اگلے پہیے ہوا میں بلند ہو جاتے ہیں۔ یا پھر گدھا گاڑی کو یاد کر لیں جب اسے آف لوڈ کرنے کے لئے پیچھے وزن زیادہ کر دیا جاتا ہے تو گاڑی کا انجن یعنی گدھا ہوا میں بلند ہو جاتا ہے۔

بوئنگ 737 میکس کے ساتھ یہی ہوا۔ اب موٹر سائیکل تو ایک قلابازی کھا کر فوراً زمین پر آ جاتی ہے۔ ٹریکٹر بھی دو چار گز چل کر چاروں پہیوں پر چلنے لگتا ہے۔ گدھا بھی بخیر و عافیت زمین پر واپس اتر آتا ہے۔ لیکن جہاز نازک مشین ہے۔ زمین پر غیر فطری طریقے سے اترے تو بے وفا محبوبہ کے عاشق کے دل کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔

Read more

اسد عمر سے وزارت خزانہ کیوں چھینی گئی؟

اسد عمر وزیر خزانہ نہ رہے۔ اب سب یہ بیٹھ کر سوچیں کہ اسد عمر سے عین بجٹ بناتے ہوئے وزارت خزانہ کیوں چھینی گئی ہے؟ آئی ایم ایف سے مذاکرات بھی آخری مرحلے میں تھے۔ انہیں بھی دھچکا لگے گا۔ میرا خیال ہے کہ اسد عمر ہسپتالوں اور سکولوں کے لئے بجٹ میں مطلوبہ حصہ نہیں رکھ رہے ہوں گے۔ اس لئے کپتان نے نکال دیا۔

اسد عمر کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ ایک راست باز، مستقل مزاج اور قوم کا درد رکھنے والے انسان ہیں۔ جب وہ ماہانہ لاکھوں کروڑوں روپے کما رہے تھے تو کپتان کے یہ کہنے پر کہ ’اسد قوم کو تمہاری ضرورت ہے‘ اس نوکری پر لات مار کر کپتان کے ساتھ شامل ہو گئے۔

Read more

اسد عمر: کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

اسد عمر نے استعفی دے دیا۔ کپتان کا سب سے بلند قامت کھلاڑی آؤٹ ہو گیا۔ اسد عمر کا الوداعی پریس کانفرنس میں کہنا ہے کہ کل رات تک خود انہیں اس فیصلے کی خبر نہیں تھی، ”نئے وزیر خزانہ کو بھی مشکلات کا سامنا ہوگا اور وہ ایک مشکل معیشت سنبھالے گا، لوگ نئے وزیر خزانہ سے تین ماہ میں معجزوں اور دودھ شہد کی نہریں بہنے کی توقع نہ کریں۔ “ دلچسپ چیز یہ ہے کہ اس پریس کانفرنس کے دوران اسد عمر تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد پہلی مرتبہ نہایت خوش دکھائی دیے۔ انہوں نے بہت چہکتے ہوئے ایسے یہ پریس کانفرنس کی جیسے ایک جنجال سے ان کا پیچھا چھوٹا ہو۔

بہرحال تحریک انصاف کے سیاسی مخالفین کو اسد عمر کی رخصتی پر بہت زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

Read more

اب بھگتیں سب معیشت کو

حکومت گرنے کی خبریں تواتر سے آ رہی ہیں۔ کوئی بتا رہا ہے کہ بجٹ سے پہلے کام تمام ہو جائے گا۔ کوئی بتاتا ہے کہ نہیں، بلکہ بجٹ میں جب عوام کی روح کھینچی جائے گی تو جولائی اگست میں عوامی غصہ اور بے بسی حکومت کو بہا لے جائیں گے۔ کچھ کہتے ہیں کہ نہیں حکومت کی رسی اس برس کے آخر تک دراز کر دی گئی ہے۔ حکومت کے حق میں کوئی معجزہ نہ ہوا تو اس کے بعد اسی پارلیمان سے تبدیلی لائی جائے گی۔ یہ آخری بات کہنے سہیل وڑائچ ہیں جو جون 2017 میں نواز شریف حکومت کے خاتمے کی پیش گوئی کرنے والا ”دی پارٹی از اوور“ والا کالم لکھنے کے بعد سیاسی ولی کا رتبہ پا چکے ہیں۔

حکومت کیوں تبدیل کی جائے؟ وہ اپنے پانچ برس پورے کیوں نہ کرے؟ اس کی بنیادی وجہ معیشت کی زبوں حالی بتائی جاتی ہے۔ تحریک انصاف نے نون لیگ اور پیپلز پارٹی کا قلع قمع کرنے کے چکر میں معیشت کو بٹھا دیا ہے۔ رہی سہی کسر ملک ریاض جیسوں کے ”احتساب“ نے پوری کر دی ہے اور ملکی معیشت کا ایک نمایاں حصہ چلانے والا رئیل سٹیٹ کا شعبہ اب سرمایہ کاروں کی راہ تک رہا ہے۔ لوگ پیسہ لگاتے ہوئے ڈر رہے ہیں کہ اگلے دن ٹیکس والے یا نیب والے پہنچ کر ان کا احتساب شروع کر دیں گے۔

بعض افراد کا خیال ہے کہ تحریک انصاف کی موجودہ حکومت چلی گئی تو سب اچھا ہو جائے گا۔ یہ ساری معاشی مشکلات دور ہو جائیں گی۔ معیشت کا جمود ٹوٹ جائے گا۔ سب ویسا ہی ہو جائے گا جیسے 2017 میں تھا یعنی اگلے برس معاشی ترقی کی شرح گھٹ کر 2.8 فیصد نہیں ہو گی بلکہ دوبارہ 5.7 فیصد پر پہنچ جائے گی۔

Read more

سوہنی کا مچھلی کا آرڈر اور مہینوال کی دولہا بننے کی چاہ

روایت ہے کہ بخارے کے بزنس ٹائیکون کا بیٹا مرزاعزت بیگ نامی تھا۔ ساری زندگی اس نے کوئی کام کاج نہیں کیا بلکہ باپ کی دولت پر ہی عیش کرتا رہا۔ یہ حال دیکھ کر باپ نے اسے ہندوستان کے بزنس ٹرپ پر بھیج دیا۔ اس نے سامان تجارت اور اپنے درجن بھر احباب کو گھوڑوں پر لادا اور چل پڑا۔ ہندوستان میں اس نے بہت مال کمایا۔ وہیں اسے گجرات کے بارے میں علم ہوا تھا کہ اس کی مٹی میں جادو ہے۔ جو اسے چھوئے وہ اس کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ اب سمجھ بوجھ اس کی ہمارے جیسی ہی تھِی یعنی کوئی خاص بزرجمہر نہیں تھا۔ نتیجہ یہ کہ جب بخارا واپسی کے سفر میں اس کا گجرات سے گزر ہوا تو گجراتی مٹی کے بنے ہوئے جادو کے برتن خریدنے کا خواہاں ہوا۔ ادھر اسے تلے کمہار نامی صاحب فن کا علم ہوا جس کی دکان پر ہر وقت گاہکوں کا ہجوم رہتا تھا۔

مرزا عزت بیگ نے اپنے ایک مصاحب کو تلے کمہار کی دکان پر بھیجا تاکہ وہ برتنوں کی سیلیکشن کر لے۔ وہ خبر لایا کہ مانا تلا کمہار بہترین صراحیاں بناتا ہے مگر جس مٹی سے بنانے والے نے سوہنی نامی صراحی دار گردن والی حسینہ بنائی ہے، اس کا جواب دنیا میں نہیں۔ مرزا عزت بیگ فوراً ذاتی طور پر تحقیق حال کے لئے پہنچا اور مصاحب کے بیان کو درست پایا۔

اس کے بعد مرزا عزت بیگ نے ہر وقت یہ کہنا شروع کر دیا کہ جب میں سوہنی کا دولہا بنوں گا تو۔ ۔ ۔ اور اس کے بعد آسمان کے تارے توڑ کر لانے کے وعدے شروع کر دیتا۔ اس کی زندگی کا مقصد ہی بس یہ رہ گیا کہ وہ سہرا باندھے اور سوہنی کا دولہا بنے۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر وہ ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہو گیا۔

Read more

بلیک ہول حکومت کے خلاف سازش ہے

بلیک ہول کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ یہ ایک نہایت ہی مہیب شے ہوتی ہے جو اپنے ارد گرد گزرنے والی ہر شے کو کھا جاتی ہے۔ خواہ کوئی بڑا سا ستارہ ہو یا روشنی کا ننھا سا ذرہ، بلیک ہول اسے چٹ کر جاتا ہے۔ تصویر خواہ کیمرے کے پردے پر اترے یا آنکھ کے، اس کا اصول ہوتا ہے کہ جس شے سے روشنی منعکس یا خارج ہو، وہی دکھائی دیتی ہے۔ بلیک ہول روشنی کھا جاتا ہے اس لئے اس کا دکھائی دینا ناممکن ہے۔

اب ایک فسادی عورت کیٹی بومین نامی آئی ہے۔ اس نے دعوی کیا ہے کہ اس نے سینکڑوں افراد پر مشتمل ٹیم اور دنیا کے چاروں کونوں میں موجود دوربینوں کے ذریعے ہماری زمین سے کوئی 05 کروڑ کھرب (دیسی گنتی میں 50 مہا سنکھ) کلومیٹر کے فاصلے پر میسیر 87 نامی کہکشاں میں موجود ایک بلیک ہول کی تصویر اتار لی ہے۔

اگر عام حالات ہوتے تو ہم اس بلیک ہول کی تصویر کو ایک عام سی بات سمجھ کر نظرانداز کر دیتے۔ ہم ساتھ والے محلے کے واقعات میں دلچسپی نہیں رکھتے تو کائنات کے اس 50 مہاسنکھ دور موجود بلیک ہول میں بھلا ہمیں کیا خاک دلچسپی ہو گی۔ مگر خوش قسمتی سے ہماری نظر ایک دوسری خبر پر پڑ گئی۔

Read more

صدارتی نظام نہیں بادشاہت لائی جائے

بعض افراد تواتر سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ صدارتی نظام لایا جائے کیونکہ پارلیمانی نظام میں ٹکے ٹکے کے ممبر وزیراعظم کو بلیک میل کرتے ہیں اور وہ لاچار ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے عمران خان جیسا دیانت دار، میرٹ پر چلنے والا اور دل میں قوم کا درد رکھنے والا لیڈر نہایت باشعور لیڈر بھی ناکام ہو رہا ہے۔ غالباً ان افراد کے ذہن میں امریکہ کا صدارتی نظام ہے جہاں صدر براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے اور امور مملکت چلانے میں وہ کانگریس اور سینیٹ کا بہت زیادہ محتاج نہیں ہوتا۔ بہرحال امریکی صدر اتنا زیادہ با اختیار بھی نہیں ہوتا جتنا ہم سمجھے بیٹھے ہیں۔ دس جگہ اس کے منصوبوں کو کانگریس روک دیتی ہے۔

اسی وجہ سے ہماری رائے میں یہ غلط مطالبہ ہے۔ صدر اراکین پارلیمنٹ کے علاوہ ٹکے ٹکے کے ووٹر کا محتاج ہوتا ہے۔ اس لئے اگر عمران خان کو صدر بنا بھی دیا گیا تو وہ خود کو اسی طرح لاچار پائیں گے اور قوم کو وہ سنہرا زمانہ نہیں مہیا کر سکیں گے جس کی سب توقع لگائے بیٹھے ہیں۔ صدارتی نظام میں ایک بڑی خرابی یہ بھی ہے کہ صدر کو پانچ سال بعد گھر واپس بھیجا جا سکتا ہے اور دو ٹرمز کے بعد تو اس کے الیکشن لڑنے پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔

Read more

فیصل واؤڈا کا نوکریوں کا دعویٰ درست ہے

مورخہ 8 اپریل کو حامد میر کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واؤڈا نے بیان دیا کہ پاکستان میں نوکریوں کی ایسی بہتات ہو گی کہ امیدوار ملنا مشکل ہو جائے گا، اور یہ معجزہ محض ہفتے، دس دن، دو چار ہفتے میں برپا ہو جائے گا، اور پان چھابڑی والے بھی کہیں گے کہ آؤ ہم سے ٹیکس لے لو۔ بعض عقل و فہم سے تہی داماں لوگوں نے ان کے اس نہایت سنجیدہ بیان کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ ایک تو ہماری قوم والوں کی یہ عادت بہت بری ہے کہ کسی نے آوازہ بلند کیا کہ ”پہلوان، کتا تمہارا کان لے کر دوڑا جا رہا ہے“ تو پہلے ہاتھ لگا کر اپنا کان چیک کیے بغیر ہی جی جان سے کتے کا تعاقب شروع کر دیتے ہیں۔

آگے بات بڑھانے سے پہلے یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ فیصل واؤڈا ایک نہایت باخبر اور متحرک وزیر ہیں۔ کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ ہوا تو اپنی پچھلی جیب میں پستول رکھ کر یہ فوراً وہاں جا پہنچے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمان سنبھال لی۔ اس وقت تک تینوں حملہ آور مر چکے تھے مگر فیصل واؤڈا کو دیکھ کر مزید حملہ آور قریب نہ پھٹکے۔

اسی طرح جب بھارتی ہواباز ونگ کمانڈر ابھینندن نے تباہ کن جنگی ساز و سامان سے لیس مگ اکیس سے پاکستان پر حملہ کیا تو وفاقی وزرا میں صرف فیصل واؤڈا ہی تھے جو اپنی پچھلی جیب میں پستول اڑس کر اس کے جہاز کا مقابلہ کرنے پہنچے اور ابھینندن کے مگ 21 کو فوٹو شوٹ کر کے اپنے قدموں تلے روند ڈالا۔ یہ صرف ان کی اساطیری بہادری کا مظہر نہیں تھا بلکہ ان کی مثالی باخبری کا شاہد بھی تھا کہ انہیں سب سے پہلے یہ خبر ملی۔

Read more