ہینڈسم تمہارے خاندان میں ہاتھِی کا شکار نہیں کیا جاتا

ایک جنگل میں ایک شیر اور شیرنی رہتے تھے۔ شیرنی نے دو جڑواں بچوں کو جنم دیا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ شیرنی اب بچوں کا خیال رکھے گی اور شیر شکار کر کے لایا کرے گا۔ کئی دن تک ایسا ہوتا رہا کہ شیر ہرن یا نیل گائے مار کر لاتا اور سب پیٹ بھر کر کھاتے۔

پھر ایک دن ایسا ہوا کہ سارا دن شکار کی تلاش کے باوجود شیر کو شکار نہیں ملا۔ چلتے چلتے جنگل میں اسے ایک گیدڑ کا بچہ بھٹکتا ہوا ملا۔ شیر نے اسے دیکھا تو اسے بہت رحم آیا۔ اس نے سوچا کہ جنگل میں اسے کوئی بھی مار ڈالے گا، اس لئے شیر نے اسے نرمی سے اپنے منہ میں پکڑا اور اپنی کچھار میں لے آیا۔

Read more

نیب، معزز سیٹھ، بدمعاش اساتذہ اور بدقماش سیاستدان

چیئرمین نیب جاوید اقبال نے کہا کہ وہ تفتیش مکمل ہوئے بغیر کسی بھی کاروباری شخص کو گرفتار کرنے کی منظوری نہیں دیں گے۔ یہ ایک نہایت معقول فیصلہ ہے۔ چیئرمین نیب جیسا ذی شعور اور کسی انسان پر محض سرتاپا ایک نگاہ ڈال کر اس کے مجرم یا بے گناہ ہونے کا فیصلہ کر سکنے والا شخص ہی ایسا فیصلہ کرنے کا اہل ہے۔

سیٹھ ایک نہایت ہی معزز اور حساس شخص ہوتا ہے۔ اس کی عزت نفس کو ضرب پہنچے تو وہ بہت زیادہ ہرٹ ہوتا ہے۔ ذرا سی بھی ریاستی سختی یا کسی کی دادا گیری برداشت نہیں کر سکتا۔ حکومت الٹے سیدھے کام کرے تو وہ روٹھ کر اپنے پیسے مارکیٹ سے نکال لیتا ہے اور اٹواٹی کھٹواٹی لے کر اپنے گھر میں پڑ رہتا ہے۔

Read more

سیٹھوں کی سپہ سالار سے ملاقات اور معیشت کے مثبت پہلو

معتبر انگریزی اخبارات ”دی نیوز“ اور ”پاکستان ٹوڈے“ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان بزنس کونسل سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے ڈیڑھ دو درجن بڑے سیٹھوں نے ملک کی معاشی صورت حال پر سپہ سالار سے ملاقات کی اور اپنے کاروبار کے بارے میں انہیں مطلع کیا۔

سب سے پہلے تو یہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ ہماری انگریزی کوئی خاص اچھی نہیں ہے اور ہمارا ذہن بھی مثبت سوچ کو ترجیح دیتا ہے۔ ہمیں یہ خبریں پڑھ کر جو کچھ سمجھ آیا ہے وہ بتا دیتے ہیں۔

Read more

باقی سب کو دیکھ لیا مولانا کو بھی ایک چانس دے کر دیکھ لیتے ہیں

قوم موروثی سیاست، جمہوریت کے نام پر پارٹیوں میں مطلق العنانیت، کرپشن اور نا اہلی سے تنگ آ چکی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ تبدیلی کا غلغلہ ایسا بلند ہوا کہ سیاست کے میدان میں گدھے کا ہل چل گیا۔

پہلے پیپلز پارٹی کو دیکھ لیتے ہیں۔ دیکھیں یہ بات تو قوم کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ پیپلز پارٹی بہت ہی زیادہ کرپٹ ہے۔ ٹھیک ہے وہ قانون سازی اچھِی کر لیتی ہے، اقتدار کا لالچ نہیں کرتی، اس کا صدر اپنے اختیارات وزیراعظم کو سونپ دیتا ہے وغیرہ وغیرہ، لیکن گزشتہ تیس برس سے اخبارات اور ٹی وی کے ذریعے باخبر رکھا جانے والا ہر شخص جانتا ہے کہ آصف زرداری پہلے مسٹر ٹین پرسنٹ تھے، پھر مسٹر سینٹ پرسنٹ ہو گئے، اس سے بھی دل نہیں بھرا تو ایک ماڈل کے ذریعے چار پانچ لاکھ ڈالر کی منی لانڈرنگ کرنے لگے، انہوں نے خفیہ شادی کر رکھی ہے جس سے ان کا بچہ بھی ہے، اور اب وہ پکڑے گئے ہیں تو وزیراعظم عمران خان کی منت خوشامد کر رہے ہیں کہ آئی ایم ایف سے چھے ارب ڈالر اور عربوں سے تین تین ارب ڈالر ادھار مانگنے کی بجائے ان سے دس بارہ ارب ڈالر جرمانہ وصول کر کے ڈیل کر لیں مگر وزیراعظم این آر او کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ اب ان الزامات کا ثبوت ملے نہ ملے مگر زبان خلق کو نقارہ خدا بنا کر بجا دیا گیا ہے تو ثبوت کا کیا کرنا ہے۔

Read more

عمران خان کی تقریر مغربی عوام کے لئے تھی یا پاکستانی؟

کیا وجہ ہے کہ عمران خان کی تقریر پر لوگ اتنے جذباتی ہو رہے ہیں؟ خوب مخالفت بھی کی جا رہی ہے اور حمایت بھی۔ بلکہ حمایت کرنے والے تو اس حد تک پہنچے ہوئے ہیں کہ تقریر پر تنقید کرنے والوں کو پاکستان دشمن اور اسلام مخالف قرار دیتے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک اچھی تقریر تھی، اچھے موضوعات کا ذکر کیا، لیکن اس میں دنیا کو بہت زیادہ متاثر کرنے والی کیا بات تھی؟ کیا یہ ان تقریروں میں سے ایک تھِی جو تاریخ کا دھارا بدل دیتی ہیں یا ان میں سے تھی جو سن کر بھلا دی جاتی ہیں؟ آئیے اس تقریر پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ اس میں چار اہم موضوعات کو زیر بحث لایا گیا تھا۔

Read more

نائی کی چالاک بیوی اور سات چوروں کی کہانی

پرانے زمانے کا قصہ ہے کہ ایک ایسا بے وقوف سا نائی تھا جو کوئی کام سیدھا نہیں کر سکتا تھا۔ حتی کہ بال کاٹتے وقت وہ کان کاٹ دیتا تھا اور حجامت کرتے وقت گلا۔ نتیجہ یہ کہ اس کا کام ٹھپ ہوتا گیا اور وہ اپنی چیزیں بیچ کر گزارا کرنے پر مجبور ہو گیا۔ رفتہ رفتہ ایسا وقت آیا کہ اس کے گھر میں صرف دو چیزیں باقی بچیں، اس کا استرا اور اس کی بیوی، اور یہ فیصلہ کرنا دشوار تھا کہ ان میں سے زیادہ تیز کون ہے۔

ایک دن نائی کی بیوی اسے بے وقوفیوں پر طعنے دے رہی تھی کہ وہ بے بسی سے بولا ”یہ سب بار بار کہنے کا کیا فائدہ ہے؟ میں تم سے متفق ہوں، میں نے کبھی خود سے کچھ نہیں کمایا، میں کبھی خود سے کچھ نہیں کما سکتا، اور میں کبھی کسی کو کمانے بھی نہیں دوں گا۔ یہ حقیقت ہے“۔

Read more

طالبات جمعیت کے خلاف احتجاج مت کریں

اس سے اگلے دن طلبہ اور طالبات کی ایک بڑی تعداد نے جلوس نکال دیا کہ پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کی غنڈہ گردی بند کی جائے، بلوچ پشتون اور سندھی طلبہ پر تشدد بند کیا جائے، وغیرہ وغیرہ۔

زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان جلوسوں میں طالبات کی بڑی تعداد نمایاں تھی اور وہی جلوس کو لیڈ کر رہی تھیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ زیادہ تر طالبات کے سر پر دوپٹہ اور بہت سوں کے منہ پر نقاب گواہی دے رہا تھا کہ وہ بہت مشرقی سوچ رکھتی ہیں اور نہایت شرم حیا والی ہیں اور اس کے باوجود وہ مشرقی اقدار اور طالبات کی واحد محافظ اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف جلوس نکال رہی تھیں۔

Read more

اسلاموفوبیا چینل، ڈاکٹر شاہد مسعود، صابر شاکر اور اوریا مقبول جان

ہمارے محبوب وزیراعظم جناب عمران احمد خان نیازی نے ٹویٹر پر تمام دنیا کو مطلع کیا کہ انہوں نے عالم اسلام کے دیگر دو مقبول، بیدار مغز اور ذی شعور حکمرانوں سیدی رجب طیب ایردوان اور مہاتیر محمد کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ تینوں ممالک ملک کر ایک ایسا انگریزی چینل شروع کریں گے جو اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرے گا اور اسلامی دنیا کی تاریخ سے غیر اسلامی دنیا کو روشناس کروائے گا۔

یہ اعلان پڑھ کر دل خوش ہو گیا ہے۔ انگریزی زبان میں ابھی تک کوئی ایسا چینل موجود نہیں تھا جو حق بیان کرتا۔ لیکن وزیراعظم کو چینل کے ماڈل پر تفکر کرنا چاہیے۔ ہمارے پاس دو بہترین ماڈل موجود ہیں۔ پہلا تو مدنی چینل کا ہے۔

Read more

معصوم گیڈر اور عیار تیتر کی کہانی

ایک گیدڑ اور تیتر میں دوستی کے عہد و پیمان ہو گئے اور انہوں نے دوسرے کے پسینے کی جگہ اپنا خون بہانے کا عہد کیا لیکن گیدڑ دوستی کے بدلے میں بہت کچھ طلب کرنے والا اور حاسد فطرت تھا۔ کچھ عرصے بعد اس نے تیتر کو کہا ”تم دوستی کی باتیں تو بہت بگھارتے ہو لیکن میرے مقابلے میں آدھا بھی نہیں کرتے۔ میرے نزدیک دوست وہ ہے جو مجھے ہنسانے اور خوب دکھی کر کے رلانے پر قادر ہو، جو مجھے خوب اچھا کھلائے پلائے اور ضرورت پڑے تو میری زندگی بچائے۔ تم یہ سب کچھ نہیں کر سکتے“۔

Read more

شیر کی دم سے بندھا گیدڑ

بہت پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک کسان اپنے کھیت میں بیلوں کی جوڑی سے ہل چلا رہا تھا۔ اچانک ملحقہ جنگل سے ایک بڑا سا شیر نکلا اور اس نے نہایت سلیقے سے کسان کو سلام کر کے کہا ”کیسی گزر رہی ہے میرے دوست؟ “

کسان کی پہلے تو شیر کو دیکھ کر جان نکل گئی مگر شیر کا دوستانہ انداز دیکھ کر اسے تسلی ہوئی۔ اس نے سوچا کہ شیر ڈائیلاگ کرنے آیا ہے تو خیریت اسی میں ہے کہ اس سے بات چیت کی جائے۔ وہ بولا ”بہت اچھی گزر بسر ہو رہی ہے جنگل کے بادشاہ۔ “

Read more