گلالئی اسماعیل پر حماد حسن صاحب کا مضمون

آج ہم سب پر حماد حسن صاحب کا مضمون ’گلالئی اسماعیل: یہ خاندان آپ ہی کو مبارک ہو‘ ایک ادارتی اختلافی نوٹ کے ساتھ شائع کیا گیا۔ اس کے بیشتر مندرجات سے ہم اختلاف کرتے ہیں۔ لیکن ادارہ ’ہم سب‘ لبرل اقدار کا داعی ہے۔ ان اقدار میں سب سے زیادہ اہم فری سپیچ ہے۔ ایولین بیٹریس ہال کا والٹیئر سے منسوب مشہور قول ہے ’جو تم کہتے ہو میں اس سے اختلاف رکھتا ہوں، لیکن میں تمہارے یہ کہنے کے حق کے دفاع کے لئے اپنی جان بھی دے دوں گا‘ ۔ اسی اصول کے تحت ادارہ ’ہم سب‘ کسی بھی تحریر کو شائع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

Read more

آئنہ نما: ایک کالی کتاب پر تبصرہ

جناب ظفر عمران کی نئی کتاب ”آئنہ نما“ کوچہ و بازار میں ارزاں ہوئی ہے۔ ظفر عمران صاحب املا میں وحدانیت کے قائل ہیں اور ان کا یہی رویہ اس کتاب میں جھلکتا ہے۔ مثلاً مروج املا آئینہ ہے، مومن، ذوق، شاہ نصیر، حتی کہ ظفر (شہنشاہ ہند والے اصلی) اسے آئینہ لکھتے آئے ہیں۔ ”ہم کو دکھلائے ہے ہر لحظہ جمال جاناں / دل کا صاف اپنے ظفر آئینہ سا ہو جانا“۔

ہاں صرف ایک شاعر کے ہاں اسے آئنہ لکھا دیکھا ہے۔ ”یوں ہماری عمر گزری انتظار یار میں / اپنے گھر میں جس طرح رہتا ہے بیدار آئنہ“۔ یہ شاعر بھی فاضل مصنف کی طرح مروج روایات کو نہیں مانتے تھے اور ایسے شدت پسند تھے کہ تخلص تک ناسخ باندھ رکھا تھا۔

Read more

بزدار کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے

آج کل ایک سازش کی وجہ سے یہ روش چل پڑی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کی ہر ناکامی کا سبب یہ بتایا جانے لگا ہے کہ عثمان بزدار پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں اور جیسے ہی ان کی جگہ کسی اہل شخص کو وزیراعلٰی پنجاب بنا دیا گیا تو بی آر بی میں دودھ اور لاہور کے بیچوں بیچ گزرتی میاں میر نہر میں شہد بہنے لگے گا۔ کوئی پوچھے عثمان بزدار کو آپ نے اختیار کیا دیا ہے جو ان سے پرفارمنس مانگی جا رہی ہے؟ شہنشاہ ہند شاہ عالم ثانی کو کسی شاعر نے یہ کہہ کر بدنام کر ڈالا تھا کہ ”حکومت شاہ عالم، از دہلی تا پالم“۔ عثمان بزدار کا معاملہ تو اس سے بھی گیا گزرا ہے۔ ان کا اختیار تو لاہور تا شاہدرہ بھی نہیں ہے۔

Read more

ڈیپ ویب کیا ہے اور اس پر کیا کچھ کیا جا رہا ہے؟

آپ نے پچھلے دنوں زینب قتل کیس کے سلسلے میں ڈارک ویب، ڈارک نیٹ اور ڈیپ ویب کی اصطلاحات سنی ہوں گی کہ کیسے ان پر ایک غیر قانونی مارکیٹ چلتی ہے۔ ڈارک نیٹ پر بچوں کی فحش ویڈیوز سے لے کر منشیات اور کرائے کا قاتل تک دستیاب ہے۔ سوشل میڈیا پر موجود ماہرین کی جانب سے ان جرائم کا بتا کر بے حد درد مندی سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود ان تاریک چیزوں پر پابندی لگائی جائے اور انٹرنیٹ کا 90 فیصد مواد ڈارک نیٹ کی ٹریفک پر مشتمل ہے۔ آپ شاید یہ سمجھتے ہوں گے کہ ان ٹیکنالوجیز سے آپ محفوظ ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ آپ کے ارد گرد موجود ہیں اور آپ کی زندگی پر اثر انداز ہو رہی ہیں مگر آپ ان سے واقف نہیں ہیں۔ آئیے ان ٹیکنالوجیز کے بارے میں کچھ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

Read more

قصور کے بچوں کا قاتل کون ہے؟

قصور پر لکھنے کا کیا فائدہ؟ جب لکھیں تو کہا جاتا ہے کہ صورت حال کو بہتر کرنے کے لئے تجاویز دیں۔ جو مشورے ہم نے دینے ہیں اس سے کہیں زیادہ ہمارے پولیس افسران جانتے ہیں جو دنیا کی ٹاپ کی یونیورسٹیوں سے کرمنالوجی پڑھ چکے ہیں۔

مسئلہ پولیس کا نہیں ہے۔ مسئلہ حکمرانوں کا ہے۔ ان کے مفادات ان بچوں کے قاتل ہیں۔ اور ایسا نہیں ہے کہ یہ صرف موجودہ حکمرانوں کے مفادات ہیں۔ خاص طور پر 1980 سے آج تک جو بھی ظاہری اور باطنی حکمران رہا ہے وہ قصور وار ہے۔

Read more

عورت خور شیر اور عقل مند بادشاہ کی کہانی

ملک نیمروز پہاڑوں کی ترائی میں واقعہ ہے۔ پہاڑوں پر گھنے جنگل ہیں جن میں ہاتھی، گینڈے، گھوڑے، بھیڑیے، بھیڑیں اور دیگر جانور بکثرت پائے جاتے ہیں۔ شہر نیمروز پر ایک خدا ترس بادشاہ کی حکومت تھی جس کے انصاف کا ایسا شہرہ تھا کہ لوگ نوشیرواں کی بجائے اس کی مثالیں دیا کرتے تھے۔

پر قسمت کا چکر تو کسی لمحے بھی الٹا چل سکتا ہے۔ یہی نیمروز کے ساتھ ہوا۔ اس کو کسی کی نظر لگ گئی۔ ایک آدم خور شیر وہاں آ گیا۔ صبح، دوپہر شام جس وقت اسے بھوک لگتی وہ جنگل سے شہر میں آ جاتا اور اپنی بھوک مٹاتا۔ اس شیر کے بارے میں ایک چیز عجیب تھی۔ وہ صرف عورتوں کو شکار بنتا تھا، مردوں کو اگر وہ صرف اسی وقت مارتا جب وہ کسی عورت کا شکار کرنے میں اس کے خلاف مزاحمت کرتے۔

Read more

مودی اقلیتوں کے حق میں کتنا موذی ہے

سنہ 2019 کے الیکشن میں دوبارہ منتخب ہونے کے لئے نریندر مودی نے وہی کیا جو وہ لیڈر کرتے ہیں جن کے پاس صرف ہوائی قلعے فراہم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ مودی نے پاکستان پر فضائی حملہ کر کے جنگی جنون پیدا کیا اور دیش بھگتی کے نام پر ووٹ سمیٹے۔ پاپولسٹ سیاست دانوں کی طرح اس نے ان لوگوں کو فوکس کیا جو اکثریت میں تھے۔ ان کے تعصبات کو خوب ابھارا۔

Read more

بدرو جولاہا جو پروپیگنڈے سے بادشاہ بن گیا

پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک منحنی سے جسم والا جولاہا رہا کرتا تھا۔ اس کا قد چھوٹا تھا، ٹانگیں اور بازو کمزور اور جسم عجیب۔ اس کے ہمسائے اسے ٹڈا بدرو جولاہا کہتے۔

لیکن اپنے چھوٹے سے قد اور کمزور سے جسم کے باوجود بدرو خود کو بہت بہادر سمجھتا تھا۔ وہ گھنٹوں اپنی بہادری کی تعریف کرتا رہتا اور وہ کارنامے سناتا جو اس نے موقع ملتے ہی سرانجام دینے تھے۔ بس قسمت کی خرابی تھی کہ اسے موقع نہیں ملتا تھا اور قصے سننے والے اس پر ہنستے تھے۔

Read more

سیانے چوہے کی شادی اور ڈیل کرنے سے توبہ

ایک مرتبہ ایک موٹا تازہ اور خوب سیانا چوہا تیز بارش میں پھنس گیا۔ بوچھاڑ سے بچنے کے لئے اس نے جلدی جلدی ایک بل کھودا اور اس میں دبک گیا۔ وقت گزاری کے لئے وہ بل کو مزید کھودتا گیا۔ کھودتے کھودتے اسے ایک مردہ درخت کی جڑ ملی جو بالکل خشک تھی۔ چوہے بہت کفایت شعار اور سلیقہ مند مخلوق ہوتے ہیں۔ سیانے چوہے نے سوچا کہ میں اس لکڑی کو گھر لے جاؤں گا اور اسے جلا کر کھانا پکاؤں گا۔ مینہ تھما تو سیانا چوہا اس جڑ کو منہ میں دبائے اپنے بل کی طرف روانہ ہوا۔

وہ کچھ آگے گیا تو اس نے دیکھا کہ ایک غریب آدمی بہت مایوسی کے عالم میں آگ جلانے کی ناکام کوششیں کر رہا ہے اور اس کے گرد چھوٹے چھوٹے بیٹھے بچے رو رہے ہیں۔
سیانے چوہے نے دلگرفتہ ہو کر پوچھا ”کیا ہوا؟ یہ بچارے کیوں رو رہے ہیں؟ “

Read more

کپتان کیوں ناکام ہوا؟

ہر ذی شعور شخص کی امیدیں کپتان سے وابستہ تھیں کہ نا اہل سیاست دانوں کی کرپشن سے وہ نجات دلائے گا۔ سب پر واضح تھا کہ اوپر اگر اچھا حکمران ہو تو نیچے ماتحت خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اسے ٹاپ ڈاؤن ماڈل کہتے ہیں۔ آکسفورڈ کا پڑھا کپتان جو ساری زندگی برطانوی اشرافیہ میں گزار چکا ہے، بارہا بتا چکا ہے کہ برطانیہ میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

لیکن کپتان جیسے صاف ستھرے، اولوالعزم، صاحب بصیرت وژنری لیڈر کی حکومت میں صورت حال بہتر ہونے کی بجائے کرپٹ حکمرانوں کے دور سے بھی بدتر ہو گئی۔ کاروبار تباہ ہوئے گئے، ملازمتیں چلی گئیں، بجلی گیس کے بل دگنے مہنگے ہو گئے، گاڑیوں کی صنعت برباد ہو گئی، رئیل اسٹیٹ اور تعمیرات کا شعبہ مٹی میں مل گیا۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ وقت آ گیا ہے کہ یہ راز کھول دیا جائے کہ اس کی وجہ ایک بھیانک سازش ہے۔

Read more