لبیک کا سفر یتیم خانے پر ختم نہیں ہو گا

لبیک کا فیض آباد سے شروع ہونے والا سفر اس وقت یتیم خانے تک پہنچ چکا ہے اور جھڑپیں جاری ہیں۔ ایک وقت میں حکومت کو اس کے خلاف کارروائی کرنے سے روکا جاتا تھا اور معاملات افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا جاتا تھا۔ اس کی سرپرستی کی جاتی تھی اور حکومتی پولیس کو مار کھانے کی مشق کروائی جاتی تھی۔ پھر موسم بدلا، رت گدرائی اور اہل جنوں بے باک ہوئے۔ انہیں خیال ہی نہیں رہا کہ اب نواز شریف یا آصف زرداری کا دور نہیں ہے۔ سر پر جو ہاتھ رکھا گیا تھا اب وہ نہیں رہا اور نتیجتاً تحریک لبیک کا دھرنا فیض آباد سے یتیم خانے پہنچ گیا۔ ایک وقت میں فیض آباد چوک پر اہل ثروت سے لاکھوں روپے کے ہدیہ جات اور ہزار ہزار روپے کا زاد راہ وصول کر کے واپس لوٹنے والے اب ریاستی طاقت کا سامنا کر رہے ہیں۔

Read more

پاکستان کے گرم سرد سیاسی موسم اور سرسام زدہ حکومت

اپریل کے وسط سے ہی موسم تبدیل ہونے لگتا ہے۔ سیاسی درجہ حرارت یکلخت بڑھ جاتا ہے۔ مختلف قسم کی تحریکوں، مارچوں اور دھرنوں سے حکومت کو سرسامی کیفیت میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ مئی جون میں اچھی بھلی گرمی پڑنے لگتی ہے۔ یوں بجٹ بناتے وقت وہ اپنے حواس میں نہیں رہتی اور سوچتی ہے کہ پیسہ ہاتھ کی میل ہے، جان ہے تو جہان ہے، طمع نہیں کرنی چاہیے اور صدقہ سمجھ کر اور کچھ لے دے کر سر پر پڑی مصیبت کو ٹالنا چاہیے۔ حکومت ہی نہ رہی تو بجٹ کا کیا کرنا ہے۔ حکومت اپنی بقا اور ملکی دفاع کے بارے میں نہایت پریشان ہو جاتی ہے اور اسے لگتا ہے کہ بجٹ میں دفاع کا حصہ زیادہ کرنا ہی دافع مصائب و بلیات ہے۔ یوں ایک عقل مند حکومت اس سوچ کے ساتھ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ بناتی ہے۔

Read more

ان کی رائے میں ریپسٹ تو سماج سدھارنے نکلے ہوتے ہیں

ننھے بچے بچیوں اور خواتین کے خلاف جنسی جرائم اور ریپ ہوتے ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ وزیراعظم نے اس سوال کا مفصل جواب دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اس کی وجہ پردہ نہ ہونا ہے اور بالی ووڈ کی فلموں اور موبائل فونوں نے ڈسکو اور نائٹ کلب کے ماحول کو پاکستان میں دکھا کر یہاں لوگوں کو فرسٹریٹ کر دیا ہے جس کا کوئی تو اثر ہونا ہی تھا۔ معاشرے میں طلاق زیادہ ہونے کی وجہ بھی یہ فحاشی ہے۔ فحاشی سے ٹیمپ ٹیشن ہوتی ہے اور ہر انسان کے اندر اتنی وقت ارادی نہیں ہوتی کہ اسے برداشت کر سکے۔ اس کی وجہ سے فیملی سسٹم بھی ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بچوں اور خواتین کے خلاف جنسی جرائم کا ایک فیصد بھی میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوتا۔

ہمارے ایک دوست اس بات پر سر دھن رہے تھے۔ وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ معاشرے میں ریپ کا جرم ہونے کی وجہ فحاشی ہے۔ جب لڑکیاں عورتیں بچے بچیاں ایسا لباس پہنے دکھائی دیں جو ریپسٹ کے خیال میں فحش ہو تو وہ خود پر قابو نہیں پا سکتا اور ریپ کرنے نکل جاتا ہے۔ یعنی ان کی رائے میں ریپسٹ تو اصل میں معاشرے کو سدھارنے کے مشن پر ہوتے ہیں جو بے حیائی کے خاتمے اور لڑکیوں بچے بچیوں کو فحاشی سے بچانے کے لیے ان کا ریپ کرتے ہیں تاکہ باقی زندگی وہ ایک اچھا انسان بن کر باپردہ رہیں۔

Read more

روزنامہ امت، ریپ اور رنڈیاں

ہمارے ملک کا عظیم ترین اور معتبر ترین اخبار روزنامہ امت ہے جس کا مقدس مشن قوم کو راہ راست پر رکھنا ہے۔ یہ بات ہمیں روزنامہ امت پڑھ کر ہی پتہ چلی ہے ورنہ پہلے ہم کچھ اور ہی سوچے بیٹھے تھے۔ آج اس کے کراچی، حیدر آباد، پشاور اور راولپنڈی کے ایڈیشنز میں صفحہ اول پر وقائع نگار خصوصی کے تحریر کردہ ایک فیچر کو خبر کی صورت میں شائع کیا گیا ہے جس کی سرخی ہے ”14 ملکوں میں سب سے زیادہ عورتوں سے زیادتی ہوتی ہے۔ امریکہ، جاپان، سویڈن، جنوبی افریقہ، بھارت، بنگلہ دیش اور افریقی ممالک شامل ہیں۔ عورت مارچ کی رنڈیوں کو یہ غیر مسلم ملک نظر نہیں آتے“ ۔

روزنامہ امت پڑھ کر ہمیں ہمیشہ کوئی نئی بات پتہ چلتی ہے۔ مثلاً اس خبر سے ہمیں یہ علم ہوا کہ بنگلہ دیش ایک غیر مسلم ملک ہے، ہم آج تک یہی سمجھے بیٹھے تھے کہ وہاں 89 فیصد تعداد مسلمانوں کی ہے۔ خیر مزید معلومات کی تحصیل کی خاطر ہم نے نہایت دلچسپی سے یہ فیچر نما خبر پڑھنا شروع کی۔ اس کے چیدہ چیدہ نکات یوں ہیں۔ ۔ ۔

Read more

ایک ہیرو کئی ٹوپیاں

عمران خان کی کابینہ میں ہمارے سب سے زیادہ پسندیدہ وزیر جناب فواد چوہدری نے گزشتہ دنوں انڈیا سے تجارت کھولنے اور یکلخت بند کر دینے کے معاملے پر حسب معمول ایک حقیقت پسندانہ بیان دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم مختلف طرح کی ٹوپیاں پہنتے ہیں، بطور وزیر تجارت انہوں نے انڈیا کے ساتھ تجارت کی سمری سائن کی مگر جب انہوں نے وزیراعظم کی ٹوپی پہنی تو انہوں نے سمری مسترد کر دی۔ خیر سیاست تو کبھی ہماری سمجھ میں نہیں آئی اس لیے اس پر تبصرہ نہیں کریں گے مگر انڈیا اور مختلف ٹوپیاں پہننے کے حوالے سے ہمیں بعض بھارتی فلمیں یاد آ گئیں جن میں ہیرو ہدایتکار کے کہنے پر بہت سی ٹوپیاں پہنتے تھے۔ آئیے ان کی بات کرتے ہیں۔

Read more

شیر پہاڑ سے جائے تو بندر بادشاہ بن جاتا ہے : چینی کہاوت

گزشتہ کچھ دنوں سے ہم چینی عوامی ناول پڑھ رہے ہیں۔ چاہیں تو انہیں پلپ فکشن کہیں یا پھر ویب ناول۔ ان کی کہانی دلچسپ ہوتی ہے، ریویو پھر کبھی سہی۔ بہرحال ان ناولوں کے وسیلے سے چینی رہن سہن کے علاوہ چینی محاوروں، کہاوتوں اور لوک دانش سے بھی آگاہی ملتی ہے۔ آج ہی ایک دلچسپ کہاوت پڑھی، ”جب شیر پہاڑ سے جائے تو بندر بادشاہ بن جاتا ہے“ ۔ اس کہاوت کے پیچھے موجود حکایت بھی دلچسپ ہے۔

Read more

رحم دل عثمان بزدار اور ماسک نہ پہننے والے خطرناک مجرم

اب اس مقام پر بھی ہمیں سردار عثمان بزدار کی رحم دلی کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔ دانا لوگ کہتے ہیں کہ جرم سے نفرت کرو، مجرم سے مت کرو۔ یہاں یہ فلسفہ عملی طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ ان اٹھارہ مجرمان کو حوالات میں بھی چائے فراہم کی جا رہی ہے۔ فرش پر نہ صرف چائے کی تھرماس دکھائی دے رہی ہے بلکہ چائے کے تین کپ بھی وہاں دھرے ہیں۔ جس مجرم کا جب جی چاہے، تھرماس سے کپ بھر کر گرما گرم چائے پی سکتا ہے۔ غالباً جگہ کی قلت یا سیوریج لائن نہ ہونے کی وجہ سے یہاں برتن دھونے کا بندوبست نہیں اور برتنوں کی قلت سے باعث سب لوگ یہ تین کپ شیئر کریں گے۔

Read more

مانگو، ادھار پکڑو یا چرا لو، ویکسین کو بھی ایٹمی پروگرام بنا لو

اب مسئلہ کچھ یہ بن رہا ہے کہ کرونا وائرس اس وقت کسی جنگ سے زیادہ تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔ لوگ مر رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں جگہ نہیں ہے۔ مقامی کیا عالمی صنعت کساد بازاری کا شکار ہو رہی ہے۔ یعنی لوگوں کی جان بھی جا رہی ہے اور مال بھی۔ ایسے میں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت ملک کی سب سے بڑی دفاعی ضرورت کیا ہے؟ سر پر ٹوٹی وبا میں ویکسین پر پیسہ لگا کر لوگوں اور معیشت کی جان بچانا یا کسی ممکنہ جنگ کی صورت میں جان بچانے کے لیے اسلحے پر پیسہ لگانا؟

Read more

ویٹر اپنی خیریت چاہتے ہیں تو وکلا کی وردی مت پہنیں

ستائیس مارچ کو پنجاب بار کونسل کے سیکرٹری نے پنجاب کے چیف سیکرٹری کو خط لکھا۔ خط میں کہا گیا کہ بار کے علم میں آیا ہے کہ متعدد ہوٹلوں اور میرج ہالوں کا سٹاف وکلا کی وردی پہن رہا ہے۔
چیف سیکرٹری پنجاب کو کہا گیا ہے کہ اس لیے آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ تمام اضلاع میں ایک سرکلر جاری کر دیں کہ اگر کسی ہوٹل یا ایونٹ ہال کا عملہ وکلا کی وردی پہنے ہوئے ہے تو اسے فوراً تبدیل کر لے۔
لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے 2015 میں قرار دیا تھا کہ وکلا وردی نہیں عام لباس پہنتے ہیں۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ عدالت کسی شہری کو ہدایت جاری نہیں کر سکتی کہ اسے کیا پہننا چاہیے اور کیا نہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جو لباس جج اور وکیل پہنتے ہیں وہ نہ تو کسی قسم کا پیشہ ورانہ لباس ہے اور نہ ہی پولیس یا مسلح افواج جیسی وردی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ وردی قانون اور ضوابط کے تحت تحفظ رکھتی ہے۔ وکلا اور ججوں کا ڈریس کوڈ عام لباس ہے اور اس میں کوئی خاص علامت نہیں اور اس وجہ سے اسے یونیفارم نہیں کہا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسے کسی قانون کا تحفظ حاصل نہیں۔ شہریوں کو نہ کالے سوٹ پہننے سے نہیں روکا جا سکتا خواہ وہ دفتر میں کام کریں، ہوٹل میں، یا کسی سیمینار یا ڈنر پارٹی میں شرکت کریں۔

Read more

کیا عمران حکومت پٹرول پر نواز شریف حکومت سے زیادہ مارجن لے رہی ہے؟

کیا نواز حکومت فی لیٹر پٹرول پر عمران حکومت کے مقابلے میں عوام سے زیادہ پیسے لیتی تھی؟

پیمرا کا 22 مارچ کو نیوز میڈیا کو لکھا گیا ایک خط سامنے آیا ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ حکومت بہت سے ملکوں کے مقابلے میں پٹرول بہت ارزاں نرخوں پر فراہم کرتی ہے اور میڈیا کو کہا گیا ہے کہ وہ ایک کمپین لانچ کرے جس میں وہ عوام کو پٹرول کی قیمت کے تعین کے بارے میں حقیقی اعداد و شمار سے آگاہ کرے اور انہیں پٹرول کی قیمت میں متوقع اضافے کے لیے تیار کرے۔

پیمرا کی اس اپیل پر ہم رضاکارانہ طور پر ان حقیقی اعداد و شمار پر روشنی ڈالتے ہیں۔ پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ بہت چلی تھی جس میں مسلم لیگ نواز کے دور کی قیمتوں کا تحریک انصاف کی قیمتوں سے تقابل کیا گیا تھا۔ اس چارٹ سے صاف ظاہر تھا کہ نواز شریف کے زمانے میں پٹرول تقریباً ایک ڈالر فی لیٹر کی قیمت پر پاکستان میں فراہم کیا جا رہا تھا لیکن تحریک انصاف کی حکومت میں اس کی قیمت تقریباً اڑسٹھ سینٹ کے لگ بھگ ہے۔ لیکن کیا یہ اعداد و شمار درست ہیں یا کچھ چھپایا گیا ہے؟

Read more

پٹرول سستا ہے – مثبت رپورٹنگ

پیمرا کا 22 مارچ کو نیوز میڈیا کو لکھا گیا ایک خط سامنے آیا ہے۔ خط میں پہلے تو بجا طور پر یاد دلایا گیا ہے کہ حکومت درحقیقت لوگوں کی فلاح کی ذمہ دار ہے۔ پھر یہ بتایا گیا ہے کہ بہت سے ملکوں کے مقابلے میں وہ پٹرول بہت ارزاں نرخوں پر فراہم کرتی ہے۔ نیز میڈیا کو شرمندہ کیا ہے کہ وہ لوگوں کو بتاتا ہی نہیں کہ گزشتہ دو حکومتوں کے مقابلے میں بھی اس کی قیمت کم ہے۔

اس لیے تمام ٹی وی چینلوں اور ایف ایم ریڈیو والوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ مناسب تشہیری کمپین لانچ کر کے قوم کو بتائیں کہ پٹرول کی قیمت کم ہے۔ خط میں مصلحت اس حکمت کی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوں پٹرول کی قیمت میں اضافے کے لیے عوام تیار ہو جائیں گے۔

Read more

گومل یونیورسٹی سٹوڈنٹس کا فٹورے برباد مت کرے

سوشل میڈیا پر معتبر ذرائع کے توسط سے گومل یونیورسٹی ”ڈیئر اسماعیل خان“ کا ایک سرٹیفکیٹ نظر سے گزرا ہے۔ یہ انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیا الدین کے دستخط سے جاری ہوا ہے۔ اس سرٹیفکیٹ میں لکھا ہے کہ

INSTITUTE OF COMPUTING AND INFORMATION TECHNOLOGY, GOMAL UNIVERSITY, DEAR ISMAIL KHAN
CERTIFICATE
Fine Rs 5000 of the following students of this Institute for lestening of music in the department ….

Read more

انڈیا سے کچھ پیسے ہی نچوڑ لیں

ہم مطالعہ پاکستان کے ذریعے جانتے ہیں کہ ہم ایک اہم جغرافیائی محل وقوع رکھتے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں کوئی نظرانداز نہیں کر سکتا۔ بدقسمتی سے اس محل وقوع کے باوجود سب ہمیں نظرانداز کر رہے ہیں۔ نہ امریکی ہمیں اہم سمجھتے ہیں نہ بھارتی۔ افغانستان تو ویسے ہی ہمارا تربور یعنی شریک ہے۔ ایران کو انقلاب کے بعد سے ہم دشمن دکھائی دینے لگے ہیں۔ سی پیک پر ہم نے ہاتھ دکھایا تو چینی بھی اب ہمیں آنکھیں دکھانے لگے ہیں۔ اور جہان تک بات ہے برادر اسلامی ملکوں کی، تو جیسے ہم بھاگ بھاگ کر ان کے پاس جاتے ہیں کہ چار پیسے ملیں، ویسے ہی وہ اب بھاگ بھاگ کر انڈیا جاتے ہیں کہ ان کے چار پیسے بنیں۔

Read more

عقلمند تو میں ہوں، لکھ آپ رہے ہیں

آپ خواہ کتنا بھی بے ضرر سا مضمون لکھیں گے، اس کے خلاف زہر اگلنے والے موجود ہوں گے۔ کچھ کو جلن ہو گی کہ عقلمند تو وہ ہیں لیکن لکھ آپ رہے ہیں، اور کچھ کی آپ کے موقف یا اس کے کسی جملے، حتی کہ لفظ سے بھی توہین ہو جائے گی۔ کچھ کی زندگی کا مقصد ہی ٹرولنگ ہوتا ہے۔ وہ کسی بھی جانے انجانے کو سلگانے، دھیمی آنچ پر پکانے، اور پھر دم پخت کرنے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ تقریباً ویسا ہی منظر ہوتا ہے جیسا سوشل میڈیا سے قبل کے زمانے میں کسی کو چھیڑنا اور چڑانا ہوتا تھا۔

Read more

جمہوریت میں بندوں کو گننے کی شکایت

حکیم الامت نے شکایت کی تھی کہ جمہوریت میں بندوں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں جاتا۔ ہر صاحب دل اس بات پر غور کرے گا تو خود کو اس سے متفق ہونے پر مجبور پائے گا۔ یعنی یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس عاجز اور ہنری کسنجر کی رائے کا ایک وزن ہو، کسنجر نے بھلا اقبال کو پڑھا تھا؟ شکر ہے کہ اقبال کے خواب کے تحت قائم ہونے والی پاکستانی جمہوریت میں یہ شکایت دور کر دی گئی ہے۔ یہاں اب صائب رائے والوں کے ووٹ کا وزن ہوتا ہے، ہر ایرا غیرا اپنے ووٹ سے جمہوریت کا حسن نہیں گہنا سکتا۔

Read more

نہ عمران نہ نواز، بس بزدار بزدار

قبلہ ہارون رشید اور چوراہے والے حسن نثار صاحب کا حال دیکھ کر یہ جان لینا چاہیے کہ بندہ کسی کو بادشاہ بنانے کی خاطر تن من کی بازی لگاتے ہوئے اپنی زندگی بھی صرف کر دے تو بادشاہ بن جانے کے بعد وہ اس کا احسان نہیں مانتا بلکہ اسے ویسے ہی عزت و احترام سے حج کرنے بھیج دیتا ہے جیسے مغل اعظم نے بیرم خان کو بھیجا تھا۔ ساتھ بے دید ہو کر کہہ بھی دیتا ہے کہ خان بابا اب ایک گوشے میں بیٹھ کر اللہ اللہ کریں حکومتی معاملات میں دخل نہ دیں آپ کو ان چیزوں کی سمجھ نہیں ہے۔

Read more

ویڈیو کالم: وزیراعظم اور ریس کا بدقسمت گھوڑا

چلیں ڈسکہ میں جو ہوا اس کے بعد وزیراعظم کا سینیٹ میں حفیظ شیخ کے الیکشن پر نروس ہونا تو بنتا تھا، لیکن اب عدم اعتماد کے موقعے پر وہ اتنے ہی زیادہ نروس ہو گئے ہیں جتنا وہ بدقسمت گھوڑا تھا جو ریس میں اکیلا دوڑ کر بھی ہار جایا کرتا تھا۔ حالانکہ ہماری رائے میں تو انہیں گھبرانا نہیں چاہیے، ہمیں تو ان کی جیت پکی لگتی ہے۔

Read more

وزیراعظم اور ریس کا بدقسمت گھوڑا

چلیں ڈسکہ میں جو ہوا اس کے بعد وزیراعظم کا سینیٹ میں حفیظ شیخ کے الیکشن پر نروس ہونا تو بنتا تھا، لیکن اب عدم اعتماد کے موقعے پر وہ اتنے ہی زیادہ نروس ہو گئے ہیں جتنا وہ بدقسمت گھوڑا تھا جو ریس میں اکیلا دوڑ کر بھی ہار جایا کرتا تھا۔ حالانکہ ہماری رائے میں تو انہیں گھبرانا نہیں چاہیے، ہمیں تو ان کی جیت پکی لگتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن کا کوئی رکن اسمبلی میں نہیں جائے گا۔ یعنی ووٹنگ میں صرف وزیراعظم کی پارٹی کے لوگ اور حامی موجود ہوں گے۔ اگر پھر بھی پانچ دس ووٹ وزیراعظم کے خلاف پڑ گئے یا غیر حاضر ہو گئے تو غضب ہو جائے گا۔ وزیراعظم کے کل ووٹ 172 سے کم ہو جائیں گے یعنی عدم اعتماد ہی سمجھیں۔ اس کے بعد اپوزیشن کے لیڈر ان کے سامنے آئیں گے تو اپنی مونچھوں کو بل دے دے کر مسکراتے رہیں گے۔

Read more

ویڈیو کالم: حفیظ شیخ: ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی گھات ہو گئی

سینیٹ کے انتخابات میں ایک مقابلہ باقی سب کو گہنا گیا۔ اسلام آباد کی جنرل سیٹ سے تحریک انصاف کے حفیظ شیخ کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی سے تھا۔ اس سیٹ کا حلقہ انتخاب قومی اسمبلی تھا اور ظاہر ہے کہ وہاں تحریک انصاف کے حامیوں کی اکثریت ہے جو وہ حکومت بنائے بیٹھی ہے۔ ایسے میں تحریک انصاف کے وزیر خزانہ حفیظ شیخ کا جیتنا یقینی تھا۔ اوپر سے ان کی شہرت بھی ایسی ہے کہ انہیں عالمی مالیاتی اداروں کا حمایت یافتہ قرار دیا جاتا ہے۔ یعنی جیت بالکل ہی یقینی تھی۔

سوال یہ ہے کہ حفیظ شیخ تو اچھے بھلے خزانے پر وزیر بنے بیٹھے تھے، انہیں الیکشن لڑنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ بتایا جاتا ہے کہ کابینہ میں ایک ناراضگی پائی جاتی ہے کہ عوام کے منتخب کردہ وزیروں کی وہ طاقت نہیں ہے جو غیر منتخب وزیر مشیر رکھتے ہیں۔ غیر منتخب افراد عوام کو جوابدہ نہیں ہوتے جبکہ ان کے اقدامات کا جواب منتخب نمائندوں کو اپنے اپنے ووٹر کو دینا پڑتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حفیظ شیخ کے معاملے میں اسی اعتراض کو دور کرنے کی خاطر کپتان نے انہیں منتخب کروانے کا فیصلہ کیا۔

Read more

حفیظ شیخ: ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی گھات ہو گئی

سینیٹ کے انتخابات میں ایک مقابلہ باقی سب کو گہنا گیا۔ اسلام آباد کی جنرل سیٹ سے تحریک انصاف کے حفیظ شیخ کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی سے تھا۔ اس سیٹ کا حلقہ انتخاب قومی اسمبلی تھا اور ظاہر ہے کہ وہاں تحریک انصاف کے حامیوں کی اکثریت ہے جو وہ حکومت بنائے بیٹھی ہے۔ ایسے میں تحریک انصاف کے وزیر خزانہ حفیظ شیخ کا جیتنا یقینی تھا۔ اوپر سے ان کی شہرت بھی ایسی ہے کہ انہیں عالمی مالیاتی اداروں کا حمایت یافتہ قرار دیا جاتا ہے۔ یعنی جیت بالکل ہی یقینی تھی۔

سوال یہ ہے کہ حفیظ شیخ تو اچھے بھلے خزانے پر وزیر بنے بیٹھے تھے، انہیں الیکشن لڑنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ بتایا جاتا ہے کہ کابینہ میں ایک ناراضگی پائی جاتی ہے کہ عوام کے منتخب کردہ وزیروں کی وہ طاقت نہیں ہے جو غیر منتخب وزیر مشیر رکھتے ہیں۔ غیر منتخب افراد عوام کو جوابدہ نہیں ہوتے جبکہ ان کے اقدامات کا جواب منتخب نمائندوں کو اپنے اپنے ووٹر کو دینا پڑتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حفیظ شیخ کے معاملے میں اسی اعتراض کو دور کرنے کی خاطر کپتان نے انہیں منتخب کروانے کا فیصلہ کیا۔

Read more

ڈسکہ میں تعلیم حاصل کرنے والی بیٹی کا سر قلم

یوں کچھ عرصے بعد آصف حسین کے تخیل کے مطابق ایک مجسمہ تیار کیا گیا جس میں ایک بچی کتابوں کی طرف ہاتھ بڑھا رہی ہے اور اس کا باپ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ اس مجسمے کی نقاب کشائی کی تقریب میں منسٹر ماحولیات پنجاب باؤ محمد رضوان، ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ، احمد فاروق ساہی اور آصف حسین نے شرکت کی۔ ڈسکہ کے شہریوں کے علاوہ ملک بھر میں بہت سے افراد نے اس پیغام کو سراہا اور اس قسم کے مجسمے جن سے تعلیم میں فروغ کا پیغام ملے، دوسرے شہروں میں بھی نصب کرنے کا مطالبہ کیا۔

Read more

ویڈیو کالم: نمک حرام ولندیزیوں کی عیاری اور کنٹینر میں منشیات

ولندیزی عیار ہیں۔ پاکستانی نمک سے لدا کنٹینر یہ الزام لگا کر پکڑ لیا کہ اس میں 1500 کلو ہیروئن ہے۔ وہ اصل میں گلابی ہمالیائی سالٹ پر قبضہ کرنے کا بہانہ بنا رہے ہیں۔ اگر آپ کو تاریخ سے شغف ہو تو آپ یہ جانتے ہوں گے کہ برطانوی نوآبادیاتی طاقت نے افیمی ہندوستان اور چائے والے چین پر قبضہ کیا تھا اور یوں افیم اور چائے بیچ کر خوب پیسے کمائے تھے۔ جرمن اور فرانسیسی افریقہ پر لٹو تھے اور اسے غلام بنائے کھڑے تھے۔ جبکہ ولندیزیوں کی ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی سے کئی برس پہلے فیکٹری قائم کرنے کے باوجود اس پر قبضہ کرنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لی بلکہ اس نے انڈونیشیا اور ملائشیا وغیرہ پر ہاتھ صاف کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مسالوں کی سرزمین تھے۔ سدا کے چٹورے ولندیزیوں نے اپنی ہانڈی اچھی کرنے کے لیے انہیں غلام بنا لیا اور باقی دنیا کو ان کے مسالے بیچ کر اچھا پیسہ بھی بنایا۔

Read more

نمک حرام ولندیزیوں کی عیاری اور کنٹینر میں منشیات

ولندیزی عیار ہیں۔ پاکستانی نمک سے لدا کنٹینر یہ الزام لگا کر پکڑ لیا کہ اس میں 1500 کلو ہیروئن ہے۔ وہ اصل میں گلابی ہمالیائی سالٹ پر قبضہ کرنے کا بہانہ بنا رہے ہیں۔ اگر آپ کو تاریخ سے شغف ہو تو آپ یہ جانتے ہوں گے کہ برطانوی نوآبادیاتی طاقت نے افیمی ہندوستان اور چائے والے چین پر قبضہ کیا تھا اور یوں افیم اور چائے بیچ کر خوب پیسے کمائے تھے۔ جرمن اور فرانسیسی افریقہ پر لٹو تھے اور اسے غلام بنائے کھڑے تھے۔ جبکہ ولندیزیوں کی ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی سے کئی برس پہلے فیکٹری قائم کرنے کے باوجود اس پر قبضہ کرنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لی بلکہ اس نے انڈونیشیا اور ملائشیا وغیرہ پر ہاتھ صاف کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مسالوں کی سرزمین تھے۔ سدا کے چٹورے ولندیزیوں نے اپنی ہانڈی اچھی کرنے کے لیے انہیں غلام بنا لیا اور باقی دنیا کو ان کے مسالے بیچ کر اچھا پیسہ بھی بنایا۔

Read more

اپنوں کے ستم سے وزیراعظم گھبرا گئے ہیں

وزیراعظم کے بیانات سے لگ رہا ہے کہ انہیں سینیٹ کے الیکشن نے خوفزدہ کر رکھا ہے حالانکہ ان کے ووٹ بینک کو ان ضمنی انتخابات میں کوئی زیادہ نقصان پہنچتا دکھائی نہیں دیا۔ پھر بھی یہ پریشانی کیوں ہے؟

غالباً اس خوف کی وجہ دو حلقے ہیں۔ ایک تو ڈسکہ کا جہاں بیس پریزائڈنگ افسران، ان کے موبائل فون اور پولیس گارڈ شدید دھند میں گم ہو گئے تھے جبکہ اسی علاقے میں بقیہ 340 افسران کو دھند پکڑنے میں ناکام رہی تھی۔ وہاں مقابلہ سخت تھا۔ خیر ہمیں یقین ہے کہ وہاں الیکشن وہاں بالکل فری اینڈ فیئر ہوئے ہیں۔ جہاں تک اس اعتراض کا تعلق ہے کہ بقیہ 340 پولنگ سٹیشنوں پر ٹرن آؤٹ تیس پینتیس فیصد کیوں رہا اور ان بیس دھندلے حلقوں میں وہ اسی نوے فیصد کیسے ہو گیا، تو ہماری رائے میں اس کا سبب دھند ہے۔ شدید دھند کی وجہ سے وہاں کے ووٹر اپنے کام دھندے پر نہیں جا سکے ہوں گے تو انہوں نے سوچا کہ فارغ کیا بیٹھنا، چلو پولنگ سٹیشن جا کر ووٹ ہی ڈال آئیں۔

Read more

ویڈیو کالم: اب مولانا طارق جمیل بھی کپڑے بیچیں گے

مولانا طارق جمیل کے متعلق جیسے ہی یہ خبر پھیلی کہ وہ جنید جمشید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایم ٹی جے کے نام سے فیشن مارکیٹ میں داخل ہو گئے ہیں اور کپڑوں کا کاروبار کرنے لگے ہیں، تو شریکوں کو گویا آگ ہی لگ گئی۔ حالانکہ اس بات پر تو مولانا کی تعریف کی جانی چاہیے کہ بعض دوسرے لوگوں کی طرح انہوں نے مذہب کو کاروبار بنانے کی بجائے کپڑے کو کاروبار بنایا۔ اس کاروبار پر ایسا غل مچا کہ مولانا طارق جمیل کو بیان دینا پڑا کہ ”مولوی کا تصور ہے کہ وہ بھیک مانگتا ہے اور وہ لوگوں سے مانگتا ہے۔ ہم نے کسی کاروباری نیت سے یہ کام نہیں کیا، کسی کے مقابلے میں نہیں کیا۔“

Read more

اب مولانا طارق جمیل بھی کپڑے بیچیں گے

مولانا طارق جمیل کے متعلق جیسے ہی یہ خبر پھیلی کہ وہ جنید جمشید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایم ٹی جے کے نام سے فیشن مارکیٹ میں داخل ہو گئے ہیں اور کپڑوں کا کاروبار کرنے لگے ہیں، تو شریکوں کو گویا آگ ہی لگ گئی۔ حالانکہ اس بات پر تو مولانا کی تعریف کی جانی چاہیے کہ بعض دوسرے لوگوں کی طرح انہوں نے مذہب کو کاروبار بنانے کی بجائے کپڑے کو کاروبار بنایا۔ اس کاروبار پر ایسا غل مچا کہ مولانا طارق جمیل کو بیان دینا پڑا کہ ”مولوی کا تصور ہے کہ وہ بھیک مانگتا ہے اور وہ لوگوں سے مانگتا ہے۔ ہم نے کسی کاروباری نیت سے یہ کام نہیں کیا، کسی کے مقابلے میں نہیں کیا۔“

بات تو درست ہے۔ سنہ 1980 سے پہلے مولوی اور مدرسے کا یہی تصور تھا کہ وہ چندے پر چلتا ہے۔ دیہات میں جہاں دیگر پیشوں از قسم نائی، جولاہا، ترکھان، مصلی، میراثی کے لیے گاؤں والے فصل کا حصہ مختص کرتے تھے وہیں مولوی کا بھی ہوتا تھا۔ پھر جنرل ضیا کا جہاد آ گیا۔ افغانستان اور کشمیر کے نام پر مذہب کو کاروبار بنانے والوں نے خوب کمائی کی۔ مولانا طارق جمیل اس کمائی سے دور رہے۔

Read more

الیکشن اور اندھیری رات کا شر

رات مسلم لیگ نون والے ڈسکہ میں اپنی فتح کے قبل از وقت نعرے بلند کر رہے تھے۔ ان کی امیدوار کی لیڈ تین ہزار کے قریب تھی۔ یہ صورت حال دیکھ کر ہم نے انہیں سمجھایا کہ ”نون لیگ والے فتح کا جشن نہ منائیں۔ ابھی رات باقی ہے۔ کہانی باقی ہے۔ تاریکی چھا رہی ہے۔ ابھی چاند ابھرے گا اور سب گندے ریزلٹ اس قمری روشنی سے دھل کر صاف ہو جائیں گے اور فتح حسب معمول حق ہی کی ہو گی۔“

پھر صبح دنیا نے دیکھا کہ واقعی فتح حق کی ہوئی گو کہ الیکشن کمیشن نے مزید تحقیقات تک ریزلٹ روک لیا ہے۔ بخدا ایسا نہیں ہے کہ ہم وجاہت مسعود یا وسی بابا کی طرح سیاسی تجزیہ کرنے کے ماہر ہیں۔ ہماری درست پیش گوئی کا سبب کوئی منطق نہیں۔ پتہ نہیں اس کا باعث روحانیت میں ہماری دسترس ہے یا ہماری فطری قنوطیت پسندی۔ ہم نے تو جب سے ہوش سنبھالا ہے، یعنی 2018 کے الیکشن سے، تو یہی دیکھا ہے کہ رات چڑھنے پر جو فتح یاب ہوتا ہے صبح کی روشنی میں چیزیں واضح ہونے پر وہ شکست خوردہ دکھائی دیتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارے اس مشاہدے سے کم از کم شادی شدہ حضرات متفق ہوں گے کیونکہ وہ زندگی کے حقائق کو تسلیم کرنے کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔

Read more

جو خریدتا ہے وہ بیچتا بھی تو ہے

گزشتہ چند دن سے ہلڑ مچا ہوا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات میں خرید و فروخت بہت ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے چیئرمین سینیٹ پر عدم اعتماد کے موقع پر اپوزیشن حیران پریشان پائی گئی تھی کہ ووٹ تو اس کے زیادہ تھے پھر چیئرمین کو کیسے زیادہ پڑ گئے۔ پھر تکے لگائے جاتے رہے تھے کہ فلاں فلاں نے بیچ منجدھار میں ناؤ بدل لی۔ لیکن چونکہ رائے شماری نہایت ہی خفیہ تھی اس لیے حتمی طور پر پتہ نہیں چل پایا کہ اپوزیشن کے کس کس رکن کو چیئرمین سینیٹ سے سچی محبت ہے۔

اب کچھ عرصے پہلے غیب سے ایک ویڈیو آ گئی ہے جس میں مختلف اسمبلیوں کے اراکین کسی قسم کے کاغذ کی گڈیاں ایک دوسرے کے حوالے کرتے پائے گئے ہیں۔ کھٹ سے الزام لگا دیا گیا کہ جی یہ تو ووٹ خریدے بیچے جا رہے ہیں۔ حالانکہ انصاف سے کام لیا جائے تو عین ممکن ہے کہ صبح سے بجلی گئی ہو، پانی ٹینکی میں نہ چڑھا ہو اور وہ نوٹ نہ ہوں بلکہ ٹائلٹ پیپر ہوں جو مشکل میں مبتلا اراکین کو تھمائے جا رہے ہوں۔

Read more

کہیں نوجوان ویلنٹائن منانا چھوڑ کر عید نہ ملنے لگیں

بعض لوگ اصرار کرتے ہیں کہ عالمی، موسمی اور علاقائی تہوار منانے کی بجائے صرف مذہبی تہوار منائے جائیں۔ اس لیے وہ بیساکھی کے بھی خلاف ہیں، لوہڑی کے بھی اور بسنت کے بھی اور ان کے خلاف اسلام ہونے کے بارے میں دلائل کے طومار باندھ دیتے ہیں۔ علاقائی یا قدیم تہواروں میں تو سماجی موج میلہ بھی ہو جاتا ہے لیکن اسلامی مذہبی تہوار میں رواج صرف عبادات کا ہوتا ہے۔

اب بالی عمریا ایسی ہوتی ہے کہ نوجوان عشق حقیقی کی بجائے عشق مجازی کے قائل ہوتے ہیں۔ انہیں جیتے جاگتے صنم پسند ہوتے ہیں۔ وہ ناچ گانا بھی چاہتے ہیں اور پارٹی کرنا بھی۔ یوں اسلامی تہواروں سے ان کی تسلی نہیں ہوتی۔ جب وہ ساٹھ ستر برس کے ہوتے ہیں اور جوڑوں میں درد کی وجہ سے بھنگڑا ڈالنا ممکن نہیں رہتا تو پھر انہیں خدا یاد آتا ہے۔

Read more

سینٹ ویلنٹائن کا ”کفر“ اور اصحاب الکہف کی مسلمانی

آج ایک جگہ ایک دلچسپ پوسٹ پڑھنے کو ملی کہ ”مسلمان مولوی کو گالیاں اور طعنے دینے والے آج بت پرست عیسائی مولوی ویلنٹائن سے عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں“۔ بخدا پڑھ کر دل ہی خوش ہو گیا کہ کسی موضوع پر بات کرنے سے پہلے اور کسی شخص پر کفر کا فتوی لگانے سے پہلے ہم اس موضوع کے بارے میں علم حاصل کیے بغیر ہی کس طرح بے دھڑک ہو کر بیان داغ دیتے ہیں۔

Read more

کیا لڑکیوں کے جینز یا چوڑی دار پاجامہ پہننے سے زلزلے آتے ہیں؟

بعض بزرگ نئی نسل پر ایک یاس انگیز نظر ڈال کر بتاتے ہیں کہ زلزلے لڑکیوں کے جینز پہننے کی وجہ سے آتے ہیں۔ بعضے یہ صراحت بھی کر دیتے ہیں کہ جینز اگر سکن ٹائٹ ہو تو پھر اصل تباہی ہوتی ہے۔ لڑکیوں کا اضافی لفظ ہم نے اپنی طرف سے لکھا ہے، ممکن ہے ان بزرگوں کو لڑکوں کے جینز پہنے سے بھی بڑا نہ سہی چھوٹا سا جھٹکا ضرور لگتا ہو۔ بہرحال یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پرانے زمانے میں چوڑی دار پاجامے پہننے سے بھی زلزلے آتے تھے؟ وہ نہ صرف جینز سے بہت مہین ہوتے ہیں بلکہ سکن ٹائٹ بھی کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ کورے لٹھے کے ایسے پاجامے مہین تو اتنے ہوتے ہیں کہ پہننے والی کو ہلکا سا پسینہ آ جائے تو شفافیت شیشہ ہو جاتی ہے۔ امید ہے کہ بزرگ لوگوں نے بھی ہماری طرح یہ مشاہدہ کیا ہو گا، بلکہ ان کی عمر ہم سے زیادہ ہے تو یقیناً ان کے مشاہدات بھی کہیں زیادہ اور گہرائی تک پہنچنے والے ہوں گے۔

Read more

حکومت کا سرکاری ملازمین کے ساتھ اچھا سلوک

دیکھیں کرپٹ حکومتوں کے زمانے میں امیر لوگ سیر کرنے مری جاتے اور سڑک پر اترے بادلوں کے درمیان چہل قدمی کرتے تو غریب کلرک اور دیگر سرکاری اہلکار اپنی جیب دیکھتے اور دل مسوس کر رہ جاتے۔ ان کے لیے یہ تفریح محض ایک خواب کی حیثیت رکھتی تھی کہ وہ بادلوں میں چلیں۔ ایک اچھی حکومت اپنے شہریوں کا خیال رکھتی ہے۔ صاف شفاف حکومت نے ان غریبوں کے لیے اسلام آباد کی سڑکوں پر بادل اتار دیے کہ خوب گھومو ان میں۔

سرکاری بابو اتنے خوش ہوئے کہ بادلوں میں ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ انہیں اتنا زیادہ لطف آیا کہ بیان سے باہر ہے۔ وہ اپنی محبوب حکومت کی یہ غریب پروری اور کرم نوازی دیکھ کر اپنے جذبات پر قابو نہیں پا سکے۔ وہیں زار و قطار آٹھ آٹھ آنسو بہانے لگے۔ کئی پر یہ محبت دیکھ کر فرط مسرت سے غشی طاری ہو گئی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گئے۔

Read more

سینیٹ ویڈیو: غریبوں کو دیہاڑی لگانے سے مت روکو

ایک ویڈیو پر ہنگامہ برپا ہے حالانکہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ چند لوگ سکون سے بیٹھے اپنے بال بچوں کی روزی روٹی کا بندوبست کر رہے ہیں لیکن شور ایسے مچا دیا گیا ہے کہ نہ جانے کیسا گناہ کر دیا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری قوم شرفا کی پگڑیاں اچھالنے کی شوقین ہے ورنہ اس ویڈیو میں تو اندھا بھی دیکھ سکتا ہے کہ دیہی پس منظر رکھنے والے چند ممبران اسمبلی اپنی فصل بیوپاریوں کو بیچ رہے ہیں۔ آواز اگر خاموش نہ کر دی جاتی تو گندم، گنے اور آلو کے نرخ پر بھاؤ تاؤ بھی سنائی دے جاتا۔ اس پر ان غریبوں کا سکینڈل بنا دینا ہماری رائے میں تو مناسب نہیں۔

Read more

عنوان کا فساد

شوقیہ لکھاری جن کا اخبارات اور جرائد میں مدیران سے واسطہ نہیں پڑتا، بسا اوقات اس بات پر اعتراض کرتے ہیں کہ ان کی تحریر کا عنوان کیوں بدلا گیا ہے۔ ہم سب کی مضمون بھیجنے کی گائیڈ لائن میں یہ بات واضح طور پر لکھی ہوئی ہے "یاد رہے کہ مضمون کا عنوان لگانا، تحریر میں موجود غلطیاں درست کرنا، غیر مہذب یا غیر اخلاقی مواد کو حذف کرنا، ایسا مواد جو کہ ادارتی پالیسی کے خلاف ہو، اسے

Read more

ایک عظیم آدمی کا قوم پر احسان

ہم باغیچے میں زرد گھاس کے فرش پر بیٹھے تھے۔ وہیں ایک طشتری میں چائے کے دو کپ پڑے تھے۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور سرما کی نرم نرم دھوپ خوب لطف دے رہی تھی۔ میں نے ان کے چہرے پر چھائی طمانیت کو رشک سے دیکھتے ہوئے پوچھا ”میاں گل بادشاہ صاحب، آپ کی اس بے پناہ خوشی کا راز کیا ہے؟“

میرا سوال سن کر وہ کچھ دیر سوچتے رہے۔ انہوں نے خشک پڑے گھاس کے میدان پر نگاہ دوڑائی اور پھر ان کی نگاہ کچھ دور موجود کیاریوں کی قطار پر جم گئی جس میں مرجھائے ہوئے پھول اور بوٹے دنیا کی بے ثباتی کا مظہر تھے۔ چائے کی ایک چسکی لے کر انہوں نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگے ”صاحب بات یہ ہے کہ خوشی دل کے اندر ہوتی ہے۔ بندہ وہ کام کرے جو اس کا دل کہتا ہے تو خوشی اس کا مقدر بن جاتی ہے“ ۔

Read more

مالی اب علامہ پلس یعنی عثمان بزدار کا مجسمہ بنانا چاہتے ہیں

ہم نے مالیوں کی آنکھ سے دیکھا ہے تو واقعی گیلانی صاحب کی بات درست ہے۔ علامہ اقبال کی شکل کو نہیں بلکہ مالیوں کی محبت کو دیکھنا چاہیے۔

پہلے پہل ہمیں اس بات کا یقین نہیں آیا کہ مالی بھی مجسمہ بنا سکتا ہے۔ پھر یکلخت یاد آیا کہ گلشن اقبال کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی چند بوٹے دکھائی دیے تھے جو مجسموں کی شکل میں تراشے گئے تھے۔ بخدا ان کی شکل ویسی ہی تھی جیسی اقبال کے مجسمے کی ہے۔ بس ایک فرق تھا، ان میں ہاتھ سینے کی بجائے درست جگہ سے برآمد ہو رہا تھا۔

Read more

عربی کی تعلیم اور بھولی سینیٹ

سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ قرآن پاک سمجھیں تو ہم ان مسائل سے نہ گزریں جن سے ہم گزر رہے ہیں۔ ہمیں اپنی آخرت کو سدھارنا ہے تو اس زبان پر عبور حاصل کرنا ہو گا۔ ہمارے لوگوں کو عربی زبان آئے تو مشرق وسطیٰ کے ممالک میں زیادہ پاکستانیوں کو نوکری ملے گی۔

مشاہدے میں آیا ہے کہ مادری زبان عربی ہونے کے باوجود بھی موجودہ زمانے کے عرب مذہب سے کوسوں دور ہیں۔ اندیشہ ہے کہ دنیا کے علاوہ آخرت میں بھی ان کا معاملہ خراب ہو سکتا ہے۔ لیکن ہم عربی سیکھ کر یقیناً ان سے بہتر فہم دین پیدا کر لیں گے جن کی مادری زبان عربی ہے کیونکہ ہم دنیا کی تیسری ذہین ترین قوم ہیں۔ پہلی دو پتہ نہیں کون سی ہیں، کہیں ان میں سے ایک عرب نہ ہوں۔

Read more

برما میں جمہوریت کا خاتمہ، ترقی کا دور شروع

گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے تقریر کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کی وجہ سے پانچ سال بعد انتخابات ہو جاتے ہیں، یوں طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں ہوتی اور ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ وطن عزیز میں تو خیر جوہر قابل کو کسی قابل نہیں سمجھا جاتا، مگر عمران خان کی بات کو دنیا غور سے سنتی ہے۔ غالباً یہی وجہ ہو گی کہ فوراً ہی برما نے ترقی کرنے کا گر اپنی گرہ سے باندھ لیا اور جمہوریت کی خامی کو دور کر دیا۔ ادھر اب پانچ برس بعد عوام کے ووٹ سے جمہوری حکومت نہیں آئے گی بلکہ ایک طویل مدتی حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

Read more

بیگم نسیم ولی اور بشری گوہر، مفتی باچا خان یونیورسٹی میں نہیں پڑھ پائیں گی

خبروں کے مطابق باچا خان یونیورسٹی چارسدہ نے اپنے طلبا و طالبات کے لیے نیا ڈریس کوڈ لازم قرار دیا ہے۔ وائس چانسلر کی صدارت میں اکیڈمک کونسل نے ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت طالبات کے لیے سیاہ یا سفید سکارف کے ساتھ ڈھیلی ڈھالی سیاہ عبایہ پہننا لازم قرار پایا ہے۔ وہ پیر میں صرف سیاہ سلیپر پہن سکتی ہیں۔ سیاہ یا سفید شلوار بھی پہننی ہو گی۔ ان کے لیے عبایہ کے نیچے پاجامہ، جینز، ٹی شرٹ، چھوٹی قمیض، اور مہین کپڑے پہننا منع ہے، مبادا کوئی مرد سپر مین کی طرح دیواروں یا موٹی عبایہ کے پار دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو ایسے کپڑے دیکھ اس کی نیت خراب نہ ہو جائے۔ یہ تحقیق نہیں ہو پایا کہ ایسا سپرمین جو عبایہ کے پار دیکھ سکتا ہو، اس کی بری نگاہ کو غیر مہین کپڑے روک پائیں گے یا نہیں۔

Read more

کنولی سسٹرز کی شرمندگی

ان دنوں ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہوئی ہے جس میں دو نہایت پڑھی لکھی خواتین کہ نام ان کا دیا اور عظمیٰ ہے، بیٹھی بور ہو رہی تھیں۔ اپنی سہولت کے لیے ہم انہیں کنولی سسٹرز کہہ لیتے ہیں۔ اچانک ان کو خیال آیا کہ کچھ تفریح ہونی چاہیے اور ساتھ ساتھ سٹاف چیکنگ اور اس کی استعداد کا امتحان بھی ہو جائے۔ سو انہوں نے نو برس سے اپنے پاس کام کرنے والے ملازم کو بلا کر اس کا جاب انٹرویو شروع کر دیا۔ کہنے لگیں کہ اپنے بارے میں کچھ بتائیں۔ بندے نے بتا دیا۔ یہ ہنسنے لگیں کہ دیکھو اتنے مہینے اس نے انگریزی پڑھی ہے پھر بھی غلط بول رہا ہے۔

Read more

بائیڈن کی پریشانی: تیتیس کروڑ کا ملک کون چلا سکتا ہے؟

امریکی صدر جو بائیڈن نے قوم سے اپنے ولولہ انگیز خطاب کے بعد اوول آفس میں قدم رکھا تو میز پر فائلوں کا انبار لگا ہوا تھا۔ اس کے نتیجے میں رات گئے انہوں نے قوم سے ایک ولولہ کش خطاب کیا۔ یاد رہے کہ جو بائیڈن سنہ 1988 سے صدر بننے کے لیے کوشاں تھے۔ تیتیس برس کی جدوجہد کے بعد انہیں وائٹ ہاؤس ملا تو ان کی رات کالی ہو گئی۔ ان کی دوسری تقریر ہم نے اپنی فہم کے مطابق ترجمہ کی ہے۔ ہماری انگریزی کی لیاقت میں تو خیر کسی کو کلام نہیں ہونا چاہیے کہ ہم نے تیسری جماعت تک یہ زبان پڑھ رکھی ہے اور روانی سے تھینک یو کہہ کر اٹھنے کے عادی ہیں، مگر اپنی فطری کسر نفسی کے باعث محض روایتاً یہ لکھے دیتے ہیں کہ ممکن ہے کہ کسی جگہ کوئی غلطی ہو گئی ہو۔

Read more

سفارت کو بھی جنگ کا میدان سمجھیں

سفارتی میدان میں بھی جنگ لڑی جاتی ہے۔ جنگ کا آغاز تو توپ تفنگ سے ہوتا ہے لیکن اختتام ہمیشہ سفارت کار ایک پیچیدہ ڈپلومیٹک جنگ لڑ کر کرتے ہیں۔ ایک سیانا کہہ بھی گزرا ہے کہ ”امن کی تلاش اس وقت شروع ہوتی ہے جب جارحیت کے تمام ذرائع تمام ہو جائیں“ ۔

مثلاً آپ نے بارہا سنا ہو گا کہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے سنہ 1965 کی جنگ میدان میں جیت کر تاشقند میں ہار دی تھی۔ یا پھر یہ کہ جنرل پرویز مشرف نے کارگل کے پہاڑ پر جو جنگ جیتی تھی وہ نواز شریف نے کلنٹن کی میز پر ہار دی حالانکہ اس وقت بھی بہادر جوان اسلحے، حتیٰ کہ کھانے کے بغیر بھی کئی روز سے بھوکے رہ کر جنگ لڑ رہے تھے۔ یہ بات بھی عموماً تسلیم کی جاتی ہے کہ سنہ 1971 کی جنگ ہارنے کے باوجود شملہ کانفرنس میں سفارت کاری کی جنگ بھٹو نے جیتی اور شکست خوردہ لشکر کو رہائی دلوا دی۔

Read more

جو دے اس کا بھلا، جو نہ دے اس کا بھی بھلا

پرانے زمانے میں ایک رواج یہ تھا کہ شہر کا بادشاہ مر جاتا تو لاٹری سکیم کے تحت نیا بادشاہ چنا جاتا۔ لاٹری سکیم کا ایک طریقہ تو یہ ہوتا کہ شہر کے سب لوگ ایک میدان میں جمع ہو جاتے اور ہما نامی کسی پرند کا انتظار کرتے۔ یہ پرند جس کے بھی سر پر بیٹھ جاتا اسے بادشاہ بنا لیتے۔ بعد میں غالباً کسی محلاتی سازش یا اندھا دھند شکار کے نتیجے میں یہ پرند ناپید ہو گیا اور آج ہمیں یہ بھی علم نہیں کہ یہ مذکر تھا یا مونث۔

بہرحال اس کے بعد بادشاہ چننے کے لیے نیا طریقہ سوچا گیا۔ اب بادشاہ مرتا تو سب لوگ شہر کا دروازہ بند کر کے بیٹھ جاتے۔ اگلی صبح جو شخص بھی سب سے پہلے شہر میں داخل ہوتا اسے بادشاہ بنا دیتے۔

یہ تحقیق نہیں ہو پایا کہ شہر والے احساس کمتری میں مبتلا تھے اور امپورٹڈ سامان کے علاوہ امپورٹڈ حکمران کو بھی ترجیح دینے لگے تھے یا پھر وہ اس حد تک ایک دوسرے کے کردار سے واقف تھے کہ کہتے تھے کہ ان سب سے بہتر ہے کہ باہر سے کوئی حکمران آ جائے خواہ وہ شیطان ہی کیوں نہ ہو۔ بہرحال جو بھی وجہ ہو، ہونے یہ لگا کہ کبھی تو کوئی جلاوطن شہزادہ اس شہر کا حکمران بن جاتا، کبھی کوئی سوداگر، اور کبھی کوئی عالمی مہاجنوں کا کارندہ۔

Read more

پی آئی اے کا جہاز ملائشیا نے کیوں پکڑا؟

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ جنرل اسمبلی میں ایک ولولہ انگیز خطاب کے نتیجے میں ہمارے محترم وزیراعظم کا مسلم امہ میں قد اس قدر بلند ہو گیا تھا کہ غیر عرب مسلم ممالک نے جو او آئی سی سے مایوس ہو چکے تھے، کپتان کی قیادت میں ایک نیا اسلامی بلاک بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس معاملے میں ملائشیا اور ترکی یہ نیا اسلامی بلاک اور ٹی وی چینل بنانے میں کپتان کے معاون بننے پر آمادہ تھے۔ اس سلسلے میں کپتان ادھر ملائشیا کے دارالحکومت جانے پر تیار تھا کہ گزشتہ حکومت کے بعض دوستوں کے دباؤ کی وجہ سے کچھ دوسرے معاملات میں الجھ کر نہ جا سکا۔ باقی ممالک نے مہاتیر محمد اور رجب طیب ایردوان کی سربراہی میں یہ اجلاس کر لیا لیکن اس میں کپتان کا ذکر ہی چھایا رہا کہ ہمارا محبوب لیڈر تو آیا ہی نہیں۔

Read more

سنتھیا رچی: ریپ ہوا تھا یا غلط فہمی؟

ریپ نہیں ہوا تھا غلط فہمی ہوئی تھی، سنتھیا رچی کے رحمان ملک کے خلاف کیس واپس لینے سے تو یہی لگتا ہے۔ اس معاملے کی ابتدا پانچ جون 2020 کو ہوئی تھی جب سنتھیا رچی نامی امریکی شہری نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ نو برس قبل 2011 میں پاکستانی وزیر داخلہ نے ویزے کا معاملہ ڈسکس کرنے کے لیے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر انہیں بلایا اور نشہ آور مشروب پلا کر ان کا ریپ کر دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں سمجھی تھی کہ یہ ملاقات میرے ویزے سے متعلق ہے لیکن مجھے پھول اور نشہ آور مشروب دیا گیا۔ میں چپ رہی، پی پی پی کی حکومت میں پی پی پی کے وزیر داخلہ کے خلاف میری مدد کون کرتا؟‘ انہوں نے کہا کہ اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور ان کی کابینہ کے رکن مخدوم شہاب الدین نے انھیں جسمانی طور ہر ہراساں کیا۔

Read more

گریٹ خان کی رحم دلی کا ایک قصہ

دنیا کی تاریخ میں بہت بڑے بڑے حکمران گزرے ہیں لیکن چنگیز خان سے وسیع سلطنت کسی کی نہیں تھی جو ایک ہی جغرافیائی حد میں باہم متصل ہو اور درمیان میں سمندر نہ آتے ہوں۔ چنگیز خان کو منگول پیار سے اور باقی لوگ خوف سے گریٹ خان کہتے تھے۔ گریٹ خان ایک سیدھا سادہ سا آدمی تھا۔ وہ زیادہ تین پانچ نہیں جانتا تھا۔ کسی ملک پر حملہ کرتا تو اسے نہایت فراخ دلی سے اپنی غلامی میں آنے یا موت میں سے ایک کا انتخاب کرنے کی چوائس دیا کرتا تھا۔ وہ غلامی میں آ جاتے تو ان سے خراج اور سپاہی وغیرہ وصول کر کے انہیں زندہ رہنے دیا کرتا، ورنہ قتل کر دیتا۔

اسے تعمیرات کا بہت شوق تھا لیکن کیونکہ اس نے دنیا فتح کرنی تھی تو وقت کی کمی آڑے آتی تھی۔ اس لیے مفتوحہ علاقوں میں انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنا کر اپنا شوق پورا کر لیا کرتا تھا۔ یوں مشہور ہو گیا کہ وہ بہت ظالم ہے۔ حالانکہ وہ صرف انہیں قتل کرتا تھا جو اس سے اختلاف کیا کرتے تھے۔ جو ذی شعور تھے، ان کی وہ بہت قدر کیا کرتا تھا۔

Read more

ہزارہ والو تم نڈر وزیراعظم کو بلیک میل نہیں کر سکتے

اتوار کو مچھ میں ہزارہ کان کن مزدوروں کو گلے کاٹ کر بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ چھٹا دن ہے کہ مظاہرین ان کی میتیں سامنے رکھے بیٹھے ہیں اور اس وقت تک تدفین سے انکاری ہیں جب تک وزیراعظم پاکستان عمران احمد خان نیازی وہاں تشریف نہیں لے جاتے۔ وزیراعظم نے فوراً اپنے اہم ترین مشیر خاص زلفی بخاری کو بھیجا۔ زلفی بخاری مظاہرین سے ملے اور وزیراعظم کے آنے کے مطالبے پر نہایت دلگیر انداز میں ان سے پوچھا کہ وہ وزیراعظم کو کیا فائدہ دیں گے جب وہ آئیں گے۔

یہ ایک کلیدی سوال ہے۔ ہزارہ والے کمزور سی اقلیت ہیں، وہ بھلا کسی کو کیا فائدہ یا نقصان پہنچا سکتے ہیں کہ دنیا کی چھٹی بڑی ایٹمی قوت کا وزیراعظم ان سے ملنے کا سوچے؟ وزیراعظم ایک مصروف شخص ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی بے پناہ مصروفیات میں سے وقت نکال کر ہزارہ والوں کے متعلق تین چار ٹویٹس کر دی ہیں، وہ مزید کیا چاہتے ہیں؟

Read more

جا اسامہ بیٹا سو جا، سکون تو صرف قبر میں ہی ہے

کئی تصویریں سامنے ہیں۔ ایک اکیس برس کا نوجوان۔ زندگی سے بھرپور۔ ایک تصویر میں وہ ایک پہاڑی پر ساز بجا کر زندگی کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ دوسری میں وہ ایک آبشار کے سامنے کھڑا ہے۔ تیسری میں وہ تحریک انصاف کی ٹوپی پہنے دوستوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ چوتھی میں وہ آئی ایس ایف کے کسی کارکن کے ساتھ بظاہر انتخابی پرچیاں بھر رہا ہے۔ بہتر زندگی کے خوابوں کے سوا کیا ہے ان تصویروں میں۔ جن کے بیٹے بھتیجے اٹھارہ بیس برس کے ہوں، وہ ان خوابوں کو جانتے ہیں۔ وہ ان میں اپنی جوانی دیکھتے ہیں۔ اور اپنا بڑھاپا بھی۔ بالکل ویسا ہی بچہ جیسا آپ کا اور ہمارا ہے۔

بیس اکیس برس کی عمر میں اس طالب علم کو ایک نئی نکور گاڑی ملی تھی۔ اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں ہو گا۔ جب مڈل کلاسیے بچے کو کالج جانے کے لیے موٹرسائیکل بھی ملے تو وہ خوشی سے بے حال ہو جاتا ہے۔ یہ تو پھر نئی گاڑی تھی۔ اس کا خاندان ظاہر ہے کہ بہت خوشحال نہیں تھا۔ بینک سے قسطوں پر لی گئی تھی اور غالباً قسط اتارنے کی ذمہ داری بھی اسامہ کو دی گئی تھی کہ وہ اوبر پر اس گاڑی کو چلاتا تھا۔ زندگی اور کتنی خوبصورت ہو سکتی ہے ایسے نوجوان کے لیے۔ پھر ایک اور تصویر سامنے آتی ہے۔ وہ گاڑی گولیوں سے چھلنی ہے۔ ایک اور تصویر سامنے ہے۔ زندگی سے بھرپور نوجوان اب ایک لاش بن چکا ہے۔ وہ گاڑی اس کا تابوت بن گئی ہے۔

Read more

خنزیر اور بندر بنانے والی ویکسین اور وکیل صاحب کا خوف

شہر ناپرساں اسلام آباد کے ہائی کورٹ میں ایک وکیل صاحب نے درخواست دائر کی کہ حکومت کو کرونا کی ویکسین خریدنے سے روکا جائے۔ وکیل صاحب نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ کورونا ویکسین کے ذریعے ہمارے جسم میں خنزیر اور بندر کا ڈی این اے ڈالا جائے گا، ویکسین کے ذریعے ایک چپ بھی انسان کے جسم کے اندر لگ جائے گی، ہم کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں، یہ سب کچھ مصنوعی انٹیلی جنس سے معلوم ہو سکے گا، اس کے علاوہ بل گیٹس کا آبادی کم کرنے کا ایک ایجنڈا بھی ہے جس کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

اب ہماری رائے میں تو یہ بات نہایت معقول ہے۔ لیکن بہرحال لوگ طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں تو عدالت تمام امکانات کا جائزہ لے کر فیصلہ سناتی ہے۔ عدالت نے بھی کہہ دیا کہ وکیل صاحب آپ کو ویکسین میں کوئی مسئلہ ہے تو نہ لگوائیں۔ وکیل صاحب نے جواب دیا کہ ہم ویکسین نہیں لگوائیں گے تو کہیں بھی سفر نہیں کر سکیں گے۔

Read more

کاروبار کرنا چاہیے یا نوکری؟

خاندانی کاروباری افراد کہتے ہیں کہ نوکری میں کچھ نہیں رکھا کاروبار کرو۔ اپنے بچوں کو میٹرک ایف اے تک پڑھاؤ اور اپنی چوکی پر بٹھا دو۔ پھر اپنا تعلیم کا شوق پورا کر لو اور جتنا جی چاہے اتنے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو اپنا ملازم رکھ لو۔ دوسری طرف خاندانی ملازم لوگ کہتے ہیں کہ کاروبار نرا گھاٹے کا سودا ہے، کوئی پتہ نہیں کب آسمان پر جگمگانے والا تارا ایک سودے میں ہی سڑک پر آ جائے۔ کاروباری افراد ہر روز نیا کنواں کھودتے ہیں تاکہ اس دن کے پانی کا بندوبست ہو جبکہ نوکری کرو تو نری بے فکری ہے، پکی ماہانہ آمدنی لگ جاتی ہے۔

Read more

پاکستان کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکتا

پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لیے بنا ہے۔ اس پر سبز پوش بزرگوں کا سایہ ہے۔ نور پور شاہاں یعنی اسلام آباد کے قدیم بابے صدیوں پہلے پیش گوئی کر چکے ہیں کہ یہاں ایک ایسا شہر بسے گا جہاں سے دنیا کی قسمت کے فیصلے ہوا کریں گے۔ اس صورت میں یہ واضح ہے کہ خواہ پاکستانی شہری اور حکمران کچھ بھی کریں کوئی پاکستان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ یہ قیامت تک ایسے ہی دنیا کے نقشے پر موجود رہے گا۔

ویسے بھی ہر جن و انس، حیوان و بشر، اس بات سے واقف ہے کہ ہمارا ایک ایک جوان دشمن کے سو سو سپاہیوں پر بھاری ہے۔ دشمن کئی مرتبہ حملہ کر کے منہ کی کھا چکا ہے۔ وہ بھی اس حقیقت سے خوب واقف ہے۔ اسی وجہ سے ہم نہایت دلیری سے روز روشن میں اسے للکارتے ہیں مگر وہ اپنی فطری بزدلی اور ہمارے خوف کے باعث ہم پر رات کی تاریکی میں اس وقت حملہ کرتا ہے جب ہم دنیا و مافیہا سے بے خبر گھوڑے بیچ کر سو رہے ہوتے ہیں۔ اس میں جرات ہوتی تو مردوں کی طرح سامنے آ کر مقابلہ کرتا، یوں بزدلوں کی طرح سرپرائز نہ دیتا۔

Read more

لاہوریے فراڈیے ہیں

لاہور میں آنے والے معصوم پردیسی جب انارکلی میں کھڑے ہو کر راولپنڈی کا راستہ پوچھتے ہیں تو گھنٹے بھر بعد خود کو امرتسر کے نواح میں پاتے ہیں۔ اب غلطی ان کی اپنی ہوتی ہے، لاہوریوں نے تو درست راستہ بتا کر انہیں جی ٹی روڈ پر چڑھا دیا ہوتا ہے، اب اگر وہ خود ہی جی ٹی روڈ پر پہنچ کر مغرب کی بجائے مشرق کا رخ کر لیں تو لاہوریوں کا کیا قصور، مگر پردیسی امرتسر پہنچ کر یہی بتاتے ہیں کہ لاہوریے فراڈیے ہیں راستہ تک غلط بتاتے ہیں۔ بہرحال ہم لاہوریوں کی صاف گوئی کی صفت کو تو ہمارے شدید مخالف بھی مانتے ہیں۔ اس لیے کچھ اعترافات کرنے میں چنداں مضائقہ نہیں۔

Read more

لاہور اپنے والٹیئر کو گرفتار نہیں کیا کرتا

روایت ہے کہ مئی 1968 میں پیرس کے سٹوڈنٹس کو خیال آیا کہ اس برس ابھی تک انقلاب نہیں آیا حالانکہ چار ماہ گزر چکے ہیں۔ تو انہوں نے سرمایہ داری، کنزیومرازم، امریکی سامراج اور ملکی سامراج کے خلاف انقلاب لانا شروع کر دیا۔ ساربون یونیورسٹی سے نکلے اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے انہیں بند کرنا شروع کر دیا۔ فرانس پر اس وقت مرد آہن جنرل چارلس ڈی گال کی حکومت تھی جو اتنا سرپھرا تھا کہ ہٹلری نازیوں سے لڑ گیا تھا، وہ ان بچہ لوگوں کو کہاں خاطر میں لاتا۔ اس کی پولیس نے پکڑ کر سٹوڈنٹس کو خوب دھونا شروع کر دیا۔ سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں سٹوڈنٹ زخمی اور گرفتار ہوئے۔ لیکن فساد پھیلتا رہا اور فیکٹری ورکر بھی احتجاج میں شامل ہو گئے۔ یہ دیکھ کر ٹریڈ یونینوں کو اعلان کرنا پڑا کہ اصل میں یہ احتجاج ان کی کال پر ہوا ہے۔

Read more

جو افسر غلط کام کرے گا، نوکری سے فارغ کیا جائے گا

وزیراعظم پاکستان نے فرمایا ہے کہ سندھ اور پنجاب میں ضلع کی سطح پر کرپشن سے لوگ بہت تنگ ہیں، کوئی اے سی، ڈی سی یا تھانے دار تنگ کرے تو لوگ سٹیزن پورٹل پر شکایت کریں، نیو سول سروسز قانون لا رہے ہیں، جو غلط کام کرے گا اس کا تبادلہ نہیں کریں گے، نوکری سے فارغ کیا جائے گا۔

یہ ایک بہت اچھا فیصلہ ہے جس کی بھرپور حمایت کرنے پر ہم خود کو مجبور پاتے ہیں۔ لیکن فطرتاً قنوطی ہونے اور پی ٹی وی پر ”یس منسٹر“ اور ”یس پرائم منسٹر“ نامی برطانوی سیریز دیکھنے کے بعد ہم جانتے ہیں کہ افسران کبھی غلط کام کر ہی نہیں سکتے ہیں، آخر میں غلطی وزیر اعظم کی نکلتی ہے۔ سیریز میں سر ہمفرے ایپل بائی ایک نہایت دانا و بینا افسر ہیں۔ ان کے اقوال اور فلسفے کے چند جواہر پاروں سے ہم کچھ آگے چل کر مستفید ہوں گے، پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ کیا کوئی افسر غلط کام کرنے سے بچ بھی سکتا ہے؟ اس کے لیے قدیم لوک دانش سے رجوع کرتے ہیں۔

Read more

مانسہرہ: شہنشاہ اشوک کی عظیم سلطنت کے ستون

مانسہرہ زمانہ قدیم سے اتنا اہم شہر رہا ہے کہ تقریباً پورے ہندوستان پر حکومت کرنے والا پہلا بادشاہ اشوک یہاں اپنی یادگار چھوڑ گیا ہے۔ اشوک کے جنوبی ہندوستان کو فتح نہ کرنے کی وجہ ہمیں تو اس کی تامل اور ملیالم زبان سیکھنے میں الجھن کے علاوہ کچھ اور نظر نہیں آتی ہے، بہرحال سنا ہے کہ یہ علاقے بھی اس کے باج گزار تھے۔ یونانیوں کو ہندوستان سے مار بھگانے والا چندر گپت موریہ جین مذہب کا پیروکار تھا۔ اس کا بیٹا بندوسار کسی اجیویکا نامی مذہب کا پیروکار تھا جس کا فلسفہ حیات لڑائی جھگڑا کرنے والے حکمرانوں کو پسند تھا، اور اشوک بدھ مت کا ماننے والا تھا۔ لیکن بدھ مت اختیار کر کے اہنسا اختیار کرنے سے پہلے اشوک اپنے تمام بھائیوں کو مارنا اور تمام مقابل ریاستوں کو فتح کرنا نہیں بھولا تھا۔

Read more

لبرٹی چوک کا نام رین بو چوک کرنے کا نیک نیت احمقانہ فیصلہ

گزشتہ دنوں ایک خبر پڑھ کر جتنی خوشی ہوئی اس سے کہیں بڑا صدمہ تصویر دیکھ کر ہوا۔ خبر یہ تھی کہ لبرٹی چوک کا نام تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ہماری رائے میں یہ ایک بہت اچھا فیصلہ ہے۔ وطن عزیز ایک نظریاتی ملک ہے۔ یہاں مادر پدر آزادی کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔ جب بھی لبرٹی چوک پر کسی مظاہرے کی خبر آتی تو یہی پتہ چلتا کہ موم بتی مافیا نے بلاوجہ کا ہنگامہ برپا کیا ہوا ہے۔

کبھی علم ہوتا کہ غیرت کے نام پر کوئی قتل ہو گیا ہے تو اس پر احتجاج ہو رہا ہے۔ بھلا اس نظریاتی ملک میں یہ اجازت دی جا سکتی ہے کہ کوئی بے غیرتی کرے تو اسے قتل نہ کیا جائے؟ یہ درست ہے کہ کئی مرتبہ جائیداد یا دشمنی وغیرہ کے چکر میں بھی غیرت کا الزام لگا کر قتل کر دیا جاتا ہے، مگر بحیثیت مجموعی دیکھا جائے تو اس قتل و غارت کے سبب معاشرے میں اعلیٰ انسانی اقدار اور امن و آشتی کی ترویج ہوتی ہے۔ پھر احتجاج کیوں؟

Read more

کیا سپریم کورٹ انسانی جان کے بنیادی حق کو تحفظ دے گی؟

دستور پاکستان کا آرٹیکل 9 کہتا ہے کہ ”کسی شخص کو زندگی اور آزادی سے محروم نہیں کیا جائے گا سوائے جبکہ قانون اس کی اجازت دے۔“ گزشتہ دو برسوں میں ادویات کی قیمت میں کئی سو فیصد اضافہ کیا جا چکا ہے جبکہ عوام کی آمدنی میں اضافے کی بجائے کمی ہوئی ہے۔ زندگی بچانے والی ادویات، بلڈ پریشر، شوگر، امراض قلب، وغیرہ جیسے تا عمر چلنے والے امراض اور اینٹی بائیوٹکس، سردرد، پیٹ درد، آنکھ، کان، دانت، منہ، اور بلڈ انفیکشن، بخار، ملیریا وغیرہ کی ادویات میں بھی یہ اضافہ کیا گیا ہے۔ اس صورت میں کیا لاکھوں شہریوں کو زندگی کے حق سے محروم نہیں کیا جا رہا ہے؟ کیا سپریم کورٹ کو اس بنیادی انسانی حق کے سلب کیے جانے پر پر سوموٹو نوٹس نہیں لینا چاہیے؟

Read more

کیا کپتان کو لانے والے اس سے ڈرتے ہیں؟

بعض افراد کا یہ گمان ہے کہ عمران خان کی حکومت معاشی اور دیگر معاملات میں شدید ناکام ہو گئی ہے اور اسے لانے والے اسے ہٹانا چاہتے ہیں مگر لانے والوں کو ہٹانے سے یہ ڈر روک رہا ہے کہ کپتان ہٹانے کے نتیجے میں خاموش نہیں رہے گا اور قومی و عالمی برادری کو سب کچھ بتا دے گا۔ اس سے پہلے جن منتخب حکمرانوں کو آئینی یا آہنی طریقے سے ہٹایا گیا تھا، وہ بیشتر معاملات پر خاموش رہے تھے۔ کبھی ذکر نہیں کیا کہ ان کے خلاف کیا کیا سازشیں کی گئی تھیں اور انہیں کس کس طرح سے قابو میں رکھا گیا تھا۔ نہ ہی حساس قومی معاملات کو انہوں نے عالمی برادری میں اچھالا تھا جنہیں پاکستان مخالف قوتیں استعمال کر سکتیں۔

Read more

غریب دوست حکومت اور گوجرانوالے میں ہجوم

لاہور، اسلام آباد موٹروے ٹیکس ٹول 830 روپے کرنے پر ہم عوام دوست حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ابھی چند برس پہلے یہ ٹول 230 روپے ہوا کرتا تھا۔ پھر رفتہ رفتہ پہلے جاں، پھر جان جاں اور جان جاناں رخصت ہونے والا معاملہ ہو گیا۔ لیکن نوٹ کریں کہ اس سے غریبوں کو فرق نہیں پڑے گا کیونکہ وہ جی ٹی روڈ پر سفر کرتے ہیں۔ موٹر وے پر تو صرف بگڑے ہوئے رئیس زادے اور رئیس زادیاں بلاوجہ کی لانگ ڈرائیو پر قوم کا پیٹرول اور غریبوں کا خون جلانے کے لیے نکلتے ہیں اور وہ جی ٹی روڈ پر گدھا گاڑی یا ٹریکٹر ٹرالی کے پیچھے اپنی عالی شان گاڑی لگانا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔

معترضین حسب عادت اس دعوے کی تردید کریں گے مگر وہ موٹر وے پر جا کر دیکھ سکتے ہیں کہ ادھر صرف مہنگی گاڑیاں ہی چلتی ہیں۔ حتی کہ بسیں بھی مرسیڈیز کمپنی کی ہوتی ہیں اور بیڈ فورڈ کی لاریاں ادھر نظر نہیں آتیں۔ ادھر آپ کو کوئی دس پندرہ برس پرانی سوزوکی کار بھی نظر نہیں آئے گی۔ بفرض محال دکھائی دے بھی جائے تو وہ کسی نے کرپشن کر کے خریدی ہو گی۔ اچھا ہے، قوم کا سرمایہ لوٹنے والوں سے اسی طرح پیسہ نکلوانا چاہیے۔

Read more

پب جی کھیل کر نکاح ٹوٹنے کے فتوے کے بعد حلالے کا فتویٰ آتا ہو گا

پب جی کے متعلق جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن سے مختلف فتوے لیے گئے ہیں جو ان کی ویب سائٹ پر موجودہ ہیں۔ لب لباب ان کا یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے پب جی گیم کھیلی تو حرام کام کیا۔ نیز اس میں وہ راؤنڈ کھیلا جس میں اس کے کنٹرول میں موجود کیریکٹر نے بتوں کے آگے جھک کر پاور لی تو کھیلنے والے نے شرک کیا اور دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا، نیز اس کا نکاح بھی ٹوٹ گیا۔ دلیل یہ دی گئی کہ ”گیم کھیلنے والے شخص کا گیم میں موجود اپنے کھلاڑی کو پاور حاصل کرنے کے لیے بتوں کے سامنے جھکانا اور بتوں کی پوجا کروانا اس کا اپنا فعل ہے، گیم میں نظر آنے والا کھلاڑی اسی گیم کھیلنے والے کا عکاس اور ترجمان ہے۔“

Read more

میرے ڈرائیور کے ٹک ٹاک پر تین لاکھ فالوور ہیں

گزشتہ دنوں پی ٹی اے نے ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا نہایت درست فیصلہ کیا۔ ٹک ٹاک کی وجہ سے ہمارا معاشرہ تباہ ہو رہا تھا۔ کیا ہم نے لاکھوں جانوں اور عصمتوں کی قربانی دے کر یہ ملک اس لیے بنایا تھا کہ یہاں لوگ پڑھے لکھے لوگوں کی بات نہایت توجہ اور عقیدت سے سننے کی بجائے انہیں یکسر نظرانداز کرتے ہوئے ان پڑھوں کی بات سنیں؟ اب یہی دیکھ لیں کہ راقم کے سوشل میڈیا پر کل ملا کر پندرہ بیس ہزار فالوور ہیں جبکہ اس کے ڈرائیور کے ٹک ٹاک پر تین لاکھ سے زیادہ فالوور ہیں۔ پہلے آپ کا اپنے ڈرائیور سے تعارف کرواتا چلوں۔

ایسا نہیں ہے کہ عرفان ویسا عالم ڈرائیور ہے جو آئن سٹائن کو ملا تھا اور جس نے ایک روایت کے مطابق آئن سٹائن کے ایک لیکچر کے دوران پوچھے گئے ایک پیچیدہ سوال کا اس کی جگہ جواب دے دیا تھا۔ عرفان کی علمی استعداد بس اتنی ہے کہ وہ نمبر پہچان سکتا ہے۔ عمر اس کی کوئی پچیس برس کے قریب ہے۔ ہر الٹے کام اور موج میلے میں شرکت کا اسے شوق ہے۔ ٹی وی پر علمی مسائل سے بھرپور ٹاک شو دیکھنے کی بجائے موبائل پر دیہاتی گانے اور ٹک ٹاک کے آئٹم دیکھتا ہے۔

اسی شوق نے اسے بھی ٹک ٹاک پر اپنے آئٹم ڈالنے کی مہمیز دی۔ وہ اپنی آواز میں نہایت دکھی قسم کے گانے، واقعات اور موج میلے کے آئٹم ٹک ٹاک پر ڈالتا ہے اور ٹک ٹاک سٹارز کی مینار پاکستان پر ہونے والی ہفتہ وار میٹنگ میں باقاعدگی سے شرکت کرتا ہے خواہ اس کی خاطر اسے کام ہی کیوں نہ چھوڑنا پڑ جائے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب اس کے ٹک ٹاک پر تین لاکھ سے زیادہ فالوور ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ دس لاکھ فالوور ہونے کے بعد اس کی اچھی آمدنی بھی شروع ہو جائے گی۔ مارکیٹ میں اس کے ساتھ جا رہے ہوں تو لوگ ہماری بجائے اسے پہچانتے ہیں اور نہایت عقیدت سے سلام دعا کر کے پوچھتے ہیں کہ آپ وہی عرفان صاحب ہیں نہ جو ٹک ٹاک پر آتے ہیں؟

Read more

اشیا کا اشتہار ان کے استعمال کے عین مطابق

پیمرا نے اشتہاری ایجنسیوں اور ٹی وی چینلوں کو ایڈوائس جاری کی کہ اشیا کے اشتہار میں ان کے استعمال سے ہٹ کر اشتہار دکھانے سے سیدھے سادے ناظرین کی طبیعت میں ہیجان پیدا ہو رہا ہے۔ اس وجہ سے لوگ پیمرا کے ساتھ ٹویٹر اور وٹس ایپ پر نہایت برا سلوک کر رہے ہیں اور اسے غیرت وغیرہ دلا رہے ہیں کہ کیا ہم نے یہ ملک اس لیے بنایا تھا کہ یہاں بسکٹ ایسے بیچے جائیں؟ اس لیے تمام مناظر اس انداز میں دکھائے جائیں جس سے عام صارف کو اشیا کے استعمال کا منظر دکھائی دے نہ کہ پرکٹی ناچنے گانے والیاں جو آئٹم سانگ پر مست ہوئی جاتی ہیں اور یوں لگتا ہے کہ انہیں کوئی غم ہی نہیں ہے۔

Read more

راپھیل لڑاکو بیمان: آئی ایس آئی نے بھارت کے خلاف ساجش کر دی

ہم نے حال ہی میں ایک نہایت خفیہ بھارتی خط کتابت پڑھی ہے جو پردھان منتری نریند مودی جی اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈول کے درمیان ہوئی ہے۔ہم نے سوچا کہ آپ کو بھی یہ خفیہ تحریر پڑھا دی جائے۔ لیکن قسم ہے آپ کو، آگے فارورڈ نہیں کرنی اور دیکھ کر ڈیلیٹ کر دینی ہے تاکہ ”را“ والوں کو پتہ نہ چلے کہ ہم پر اس کی کارکردگی عیاں ہو گئی ہے۔ اس خط کے مصنف نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈول ہیں۔

Read more

با اختیار وزیراعظم صرف بڑے بڑے معاملات دیکھتے ہیں

وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں واضح طور پر بتا دیا ہے کہ سربراہ مملکت وہ ہیں اور وہ اپنے اختیارات استعمال کرنے میں ہرگز نہیں ہچکچاتے۔ جو افراد اس باب میں کنفیوز تھے کہ معیشت نے اس درجے ترقی کیسے پائی ہے، ان کی کنفیوژن دور ہو گئی ہو گی کہ وزیراعظم سے بڑھ کر ذمہ دار کوئی دوسرا شخص نہیں ہے۔

وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ وہ کتنے با اختیار ہیں اور اپنے اختیارات استعمال کرنے میں وہ تامل بھی نہیں کرتے۔ مثلاً بفرض محال اگر کوئی آئی ایس آئی چیف ان سے استعفیٰ مانگنے کی جسارت کرے تو وہ الٹا اس سے استعفیٰ مانگ لیں گے۔ نیز انہیں بتائے بغیر کوئی آرمی چیف اگر کارگل میں جنگ چھیڑ دے تو وہ اسے فارغ کر دیں گے۔

Read more

منا کتنا بڑا بے وقوف ہے

سلیکٹر سمجھتے ہیں کہ وہ پس پردہ رہ کر حکومت کر رہے ہیں اور کارکردگی کی ذمہ داری صرف کپتان پر ہے۔ وہ جو مرضی مشکل فیصلے چاہے کپتان سے کروا لیں ساری ٹینشن کپتان کی ہے ان کا اپنا نام خراب نہیں ہو رہا۔ جبکہ عوام کپتان کو ذمہ دار نہیں سمجھتے۔ دوسری طرف کپتان بظاہر ہونقوں کی طرح بیٹھا دہی کھا رہا ہے اور مزے سے حکومت کر رہا ہے۔

نواز شریف سمجھتے ہیں کہ کپتان اپنی خراب حکومت سے خوب گندا ہو رہا ہے اور اس کی حکومت کا ذمہ دار سلیکٹروں کو سمجھ کر عوام اتنے بیزار ہو رہے ہیں کہ اگلی مرتبہ میاں نواز شریف کی حکومت آئی تو وہ سلیکٹروں کو نظر انداز کر کے اپنی مرضی کر سکیں گے۔ اس لئے کپتان کے خلاف کچھ نہ کیا جائے اور چپ کر کے بیٹھ کر اسے اپنی مرضی سے حکومت کرنے دینا ہی بہترین پالیسی ہے۔ دوسری طرف کپتان سکون سے بیٹھ کر دہی کھا رہا ہے اور مزے سے حکومت کر رہا ہے۔

Read more

نواب صاحب اور چالاک مہاجن

مسلمانوں کا ہیرو شمشیر ابن شمشیر ابن شمشیر ہوتا ہے۔ ہمیں اسلاف کے کارنامے پڑھانے ہوں تو ادھر جنگی فتوحات کا حال ہی ہوتا ہے، بیت الحکمت کا نام تک نہیں لیا جاتا۔ بڑے بڑے جرنیلوں کے اسباق ہوتے ہیں کہ انہوں نے محض تلوار کے بل پر کس طرح اکثریت پر راج کیا۔

ادھر ہندوستان میں بھی مسلم شرفا کا پیشہ شمشیر زنی ہوتا تھا۔ کاشت کار کی پھر تھوڑی بہت عزت تھی مگر کاروبار کرنے کو بہت اسفل مانا جاتا تھا۔ اس لیے تجارت سے نفرت کرتے ہوئے اسے عام طور پر ہندو بنیے اور مہاجن کے لیے چھوڑ دیا جاتا تھا۔ کمال یہ تھا کہ اسی مہاجن سے قرضے لے لے کر اپنی عزت بنائی جاتی تھی۔

Read more

ادویات کی قیمتیں بڑھانے کا بہترین حکومتی فیصلہ

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جس کی سربراہی وزیراعظم عمران خان نے کی، تاریخ میں پہلی بار عوام کی بھلائی کی خاطر جان بچانے والی ادویات کی قیمت میں دو سال میں چوتھی پانچویں بار اضافہ کیا گیا ہے۔ اس مرتبہ قیمت میں 9 تا 262 اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت خاص طور پر لائف سیونگ ادویات، بلڈ پریشر، شوگر، امراض قلب، اینٹی بائیوٹکس، سردرد، پیٹ درد، آنکھ، کان، دانت، منہ، اور بلڈ انفیکشن، بخار، ملیریا، گلے میں خراش اور فلو کی ادویات پر توجہ دے رہی ہے۔ قیمت بڑھانے کا کی ایک حکمت تو وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت اور شوکت خانم ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتائی ہے یعنی اب یہ ادویات بلیک میں نہ ملیں بلکہ محلے کی فارمیسی میں با آسانی بلیک سے زیادہ قیمت پر دستیاب ہوں۔ دوسری وجہ جو ہر صاحب دانش پر عیاں ہے، اس پر آگے چل کر بات کرتے ہیں۔ پہلے چند خبروں پر نظر ڈالتے ہیں۔

Read more

انصار عباسی نے لڑکی دیکھ کر حق بیان کیا

انصار عباسی نے پی ٹی وی پر ایک لڑکی کو ورزش کرتے دیکھ کر وزیراعظم عمران خان، چیئرمین سی پی جنرل ر عاصم سلیم باجوہ اور شبلی فراز کو متوجہ کیا اور بتایا کہ یہ پی ٹی وی ہے۔ گو ہماری نوجوانی میں یہ رویہ عام تھا کہ کسی جگہ کوئی قابل توجہ حسینہ دکھائی دیتی تھی تو لڑکے اپنے دوستوں کو بھی متوجہ کیا کرتے تھے کہ وہ محروم نہ رہ جائیں، مگر ہماری رائے میں اب عمر کے جس حصے میں انصار عباسی صاحب ہیں، ان کے متوجہ کرنے کا مقصد محض دوسروں کو فحاشی سے روکنا ہی ہو گا۔

ہم پورا پروگرام تو نہیں دیکھ سکے جو غالباً عباسی صاحب نے اپنا ولولہ انگیز تبصرہ کرنے کے لیے بغور دیکھا ہو گا، مگر جو دیکھا وہ واقعی قابل اعتراض ہے۔ یعنی ایک جوان عمر خاتون، بلکہ خاتون کیا لڑکی کہیے، پاجامہ اور فل بازو والی ٹی شرٹ پہنے ٹی وی پر ورزش کر رہی ہے۔ کیا اسے مشرقی اقدار کا ذرا خیال نہیں؟ کیا وہ نہیں جانتی کہ مشرقی خواتین کبھی اس قسم کی مغربی ورزش نہیں کرتیں؟ اگر وہ یہ چونچلے کرنے کی بجائے وہ بی بی اپنے گھر کا جھاڑو پوچا کرے، کپڑے دھوئے اور کھانا پکائے تو کیا اس سے بہتر ورزش نہیں ہو جائے گی؟

Read more

ایک لڑکی اور ایک چھپکلی کے جذبات

گزرے برسوں کی بات ہے کہ ایک دن ایک عزیزہ نے کہ روشنی انصاری کہلاتی ہیں، بے تکلف دوستوں کے ایک گروپ میں اپنا تجربہ بیان کیا کہ ایک چھپکلی سے یکلخت ملاقات کے بعد ان کے جذبات کیا تھے۔ حیوانی حقوق کے پرجوش علمبردار کی حیثیت سے راقم الحروف سوچا کہ کوئی تو ایسا ہو جو بے زبان چھپکلی کی بھی ترجمانی کرے اور چھپکلی کے جذبات رقم کر دیے۔ پیش ہیں ایک لڑکی اور ایک چھپکلی کے جذبات۔

Read more

کنجر تنگ کر رہا ہے؟

عموماً ہم زبان کو ویسے جانتے ہیں جیسے وہ ہمارے ارد گرد بولی جاتی ہے۔ خود کو اردو کا استاد سمجھ کر اساتذہ کہے جانے والوں کی زبان و کلام میں فاش غلطیاں تلاش کرتے ہوئے یہ قرار دینا کہ انہیں اردو نہیں آتی تھی، حماقت ہوتی ہے۔

Read more

نواز شریف نے جو کیا وہی بھگتا

نواز شریف کی آج کی آل پارٹیز کانفرنس میں تقریر دلچسپ تھی۔ اس میں بعض نکات شکوے شکایت پر مبنی تھے، مگر کیا وہ ان معاملات میں بڑی حد تک خود قصور وار نہیں ہیں؟ عدالتوں کے ہر ڈکٹیٹر کی حمایت کرنے اور بغاوت کو جائز قرار دینے کا شکوہ کرنے والے یہ بھی تو بتائیں کہ یہ جج تعینات کرتے وقت انہوں نے کیا سوچا تھا؟ کیا ایسے جج تعینات کرنے کا سوچا تھا جو جبر کے زمانے میں بھی حکومت وقت کی بجائے قانون کا ساتھ یقینی طور پر دیں؟ اس وقت تو انہیں بہت شوق تھا کہ جی ہمارا حامی جج تعینات ہو، جو ہمارے خلاف فیصلہ نہ دے۔ پھر ایسے جج تو حکومتِ وقت کا ہی ساتھ دیں گے۔ حکومت مشرف کی ہو گی تو اسے آئین میں تین برس کی من مانی تبدیلی کا اختیار بھی دیں گے۔ جج تعینات کرتے وقت یہ یقینی بنانا ہو گا کہ وہ حکومت نہیں بلکہ قانون کے ساتھ کھڑے ہونے کا ریکارڈ رکھتے ہوں۔

ایک عبرتناک مثال ثاقب نثار کی ہے جنہیں نواز شریف نے لاہور ہائی کورٹ کا جج جس میرٹ پر بنایا تھا وہی ان کے سامنے آیا۔ ججوں کی تعیناتی اور احتساب کا جو طریقہ میثاق جمہوریت میں طے کیا گیا تھا اس سے انحراف کیوں کیا گیا؟ تمام سپیشل کورٹس بشمول احتساب عدالتیں ختم کرنے کا عزم کیا ہوا؟ پھر وہی احتساب عدالتیں میاں صاحب کے لیے عبرتناک عدالتیں ثابت ہوئیں اور ثاقب نثار بھی میاں صاحب کی خواہش کے برعکس ان پر نثار نہ ہوئے بلکہ انہوں نے اپنا ممدوح کسی اور کو جانا۔

Read more

مولانا طارق جمیل، مخلوط تعلیم، پٹرول، آگ اور ریپ

سوشل میڈیا سے علم ہوا کہ مولانا طارق جمیل نے موٹر وے ریپ کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ایسے واقعات کی وجہ مخلوط تعلیم ہے۔ ایک عام شخص یہ سنتے ہی آگ بگولا ہو جائے گا کیونکہ اس کے پاس علم کی دولت نہیں ہے یہ لفظ سنتے ہی عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ خیال آتا ہے کہ مخلوط تعلیم کا مطلب ہے کہ ایسی تعلیم جس میں لڑکیاں بھی لڑکوں کے ساتھ پڑھیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ متذکرہ بالا لوگ لڑکی کے علاوہ کچھ سوچ ہی نہیں سکتے۔

Read more

چار مجرم چار سزائیں

ملک نیمروز میں چار مجرم جیل کی گاڑی میں عدالت کی طرف محو سفر تھے۔ پہلے نے ایک آہ بھری اور کہا ”صاحبو، راستہ طویل ہے اور سفر سست، کچھ کہو کہ سفر کٹے۔ کہو کہ یہاں کیسے پہنچے، کیا جرم کیا، کیا سزا ہے اس جرم کی؟ میری سنو تو میں ہفتہ پہلے اپنی سائیکل پر اپنی فیکٹری کی طرف رواں تھا کہ بس سٹاپ پر ایک مہ جبیں دکھائی دی۔ بے اختیار دل اچھلا، اور دل سے ایک آہ اور ہونٹوں سے سیٹی نکلی۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ وہیں ایک داروغہ بھی موجود تھا۔ اب میں یہاں ہوں اور امید ہے کہ معمولی سرزنش یا جرمانہ کر کے چھوڑ دیا جاؤں گا“ ۔

Read more

ساری غلطی ہے ہی اس ریپ ہونے والی عورت کی

آپ جانتے ہی ہیں کہ ہم ہمیشہ سچ کا ساتھ دیتے ہیں۔ سچ کی سب سے بڑی پہچان یہ ہوتی ہے کہ حکمران بتاتا ہے کہ سچ اور حق کیا ہے۔ اور اس وقت پورے سوشل میڈیا پر جس شخص کا سچ چھایا ہوا ہے وہ لاہور کے پولیس چیف ہیں جن کی حمایت حکومت کے نامی گرامی وزرا اور مشیر کر رہے ہیں یعنی ان کے موقف کو حکومتی موقف سمجھا جانا چاہیے۔

انہوں نے صاف صاف بتا دیا ہے کہ موٹر وے پر ہونے والے واقعے میں بنیادی غلطی کس کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں ”میں سیدھی بات کرنے والا افسر ہوں۔ کیا ہم اپنی بہن کو ماں کو اکیلے بچوں کے ساتھ جانے دیتے ہیں ساڑھے بارہ بجے۔ پاکستان میں کوئی اس طرح نہیں جانے دیتے۔ نمبر ون۔ اگلا سوال یہ ہے کہ اگر وہ جائیں بھی کسی ایمرجنسی سے تو ہم اسے کہتے ہیں کہ بیٹا جی ٹی روڈ سے جانا۔ یہ باتیں کرنے سے میری مراد اسے مورد الزام ٹھہرانا نہیں ہے۔ مجھے یہ بتانا ہے کہ ہماری سوسائٹی اس طرح کی ہے۔ بہنوں والو بیٹیوں والو آئندہ خیال رکھو ۔ ۔ ۔ دیکھیں اس کی فیملی فرانس کی ہے اس کا ہسبینڈ فرانس رہتا ہے۔ اس نے یہ سارا کام اس لیے کیا ہے کہ اس کی اورینٹیشن میں فرانس تھا۔ یہ مینلی اسی طرح کا محفوظ معاشرہ ہے اور معاشرے وہاں پہ صرف لا سے نہیں محفوظ ہوتے۔ وہاں اخلاقی قدروں سے محفوظ ہیں۔ رول آف لا کی وجہ سے محفوظ ہیں۔ رٹ آف گورنمنٹ کی وجہ سے محفوظ ہیں۔ اس لیے بچیاں وہاں پہ رات کو ٹریول کرتی ہیں، موٹر ویز پر کرتی ہیں، ان کو کچھ نہیں ہوتا۔“

اب دیکھیں انہوں نے اس خاتون کو ہرگز بھی مورد الزام نہیں ٹھہرایا ہے۔ لیکن معاملہ پانی کر دیا ہے۔

Read more

کیا ریپ کردہ خاتون کو انصاف مل سکے گا؟

حضرت عمرؓ کے دور کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ایسا امن تھا کہ ایک بڑھیا سلطنت کے ایک کونے سے دوسرے تک بلا کھٹکے سونا اچھالتی چلی جاتی تھی اور اسے کوئی خوف نہیں ہوتا تھا۔ پنجاب میں ایسا واقعہ ہوا تو لاہور پولیس کے سربراہ عمر شیخ کا کہنا ہے کہ یہ اس عورت کی اپنی غلطی ہے، اسے خود خیال کرنا چاہیے تھا۔

Read more

جسے پہاڑ سے ندا آتی ہے وہ کہاں غائب ہو جاتا ہے؟

پیارے بچو۔ ہماری آج کی حکایت مشہور داستان ”آرائش محفل“ سے لی گئی ہے جسے ”قصہ حاتم طائی“ بھی کہتے ہیں۔ اس قصے میں حاتم طائی کے سات سفروں کا بیان ہے جو اس نے ایک دوشیزہ کہ حسن بانو کہلاتی ہے، کا رشتہ ایک شہزادے کہ منیر شامی کہلاتا تھا، سے کروانے کے لیے کیے تھے۔ آج ہم حسن بانو کے پانچویں سوال کا حال پڑھیں گے۔

راویان شیریں بیان کہتے ہیں کہ ایک شہر میں حسن بانو نامی ایک دوشیزہ رہا کرتی تھی۔ اسم بامسمیٰ تھی کہ واقعی حسینوں کی شہزادی کہلانے کے لائق تھی۔ باپ اس کا سوداگر تھا اور امرا میں نامی تھا اور حسن بانو اس کا ہاتھ بٹاتی اور اس کے لیے دیس دیس کی خبریں اکٹھی کرتی تھی۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ ایک شہزادے منیر شامی نامی کو کہ سات برس سے مدرسے میں تعلیم حاصل کر رہا تھا، خدا نے یہ دن دکھلایا کہ ناگہانی اس کا امتحان پاس ہو گیا اور مدرسے نے اسے فارغ الخط کر دیا۔

Read more

دیسی شرفا کا بندہ چھڑانے کا روایتی طریقہ

پرانے زمانے میں کوئی با اثر شخص کسی سکینڈل میں مبتلا ہوتا تو اس کا نام صاف کروانے کے لیے اعلی عدلیہ میں اپنے بندے سے ہی ایک کمزور سا مقدمہ کروا دیا جاتا تھا۔ ظاہر ہے کہ ثبوت وغیرہ اتنے کچے دیے جاتے تھے کہ عدالت کے پاس اس امر کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا تھا کہ اس شخص کو باعزت بری کر دے۔ یا پھر بہت معمولی سا جرمانہ وغیرہ کر کے چھوڑ دیا جاتا۔

یوں اس کا نام صاف ہو جاتا تھا۔ دشمن بھی اس الزام میں اس پر مقدمہ نہیں کر سکتے تھے کیونکہ ایک جرم میں دو مرتبہ سزا نہیں دی جا سکتی اور کمزور مقدمے میں باعزت بری ہونے کی صورت میں نیا مقدمہ اس وقت تک دائر نہیں کیا جا سکتا جب تک کوئی نئی کھڑکی توڑ قسم کی شہادت نہ دی جائے۔ یوں وہ با اثر شخص فخر سے سر بلند کر کے اور سینہ تان کر کہہ سکتا تھا کہ شریکوں نے سازش کی تھی، شکر الحمدللہ اعلی عدلیہ نے نام صاف کر دیا اور قوم پر واضح ہو گیا کہ مجھ سے زیادہ پاک صاف بندہ اس دھرتی پر کوئی دوسرا نہیں ہے۔

Read more

سلیقہ مند عورت ارب پتی بنا دیتی ہے

پیارے بچو۔ آج ہم داستان امیر حمزہ سے ایک حکایت پڑھتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ عورت اگر سلیقہ مند ہو تو نہایت غریب گھر بھی اس کی دانش سے ارب پتی بن جاتا ہے۔

بہت ہی پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ملک ایران پر شہنشاہ قباد کی حکومت تھی۔ حرم سرا میں ہونے والے ایک حادثے کے بعد اس کا عورت ذات پر سے اعتبار اٹھ گیا تھا۔ کوئی عورت اس کے سامنے آتی تو قرار واقعی سزا پاتی۔ بس ایک ہی کنیز اس کو بھاتی کہ اسم بامسمیٰ تھی اور دل آرام کہلاتی۔

ایک دن بادشاہ شکار کرنے نکلا۔ لب دریا اس کے غلاموں نے شاہی خیمہ نصب کیا اور بادشاہ ادھر سیر دریا اور جنگل دیکھنے کو فروکش ہوا۔ کیا دیکھتا ہے کہ ایک پیر مرد لکڑیوں کا بوجھ سر پر رکھے ہوئے جنگل کی طرف سے آتا ہے۔ نہایت ضعیف و ناتواں ہے اور قدم قدم پر لڑکھڑاتا ہے۔

Read more

خچر۔ ایک ہائبرڈ جانور

لغت میں لفظ ہائبرڈ کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ ہائبرڈ دو مختلف قسم کے جانوروں یا پودوں کے ملاپ سے پیدا ہونے والے جاندار کو کہتے ہیں۔ اس کا ماخذ ہائبریڈا نامی لفظ مانا جاتا ہے جس کا پہلا مطلب ہم نہیں بتاتے کہ منہ ناپاک ہو جائے گا، ہاں دوسرا مطلب ایک آزاد آدمی کی ایک لونڈی سے اولاد ہے۔ اردو میں اس کا ترجمہ دو نسلا یا دوغلا کیا جاتا ہے۔

دنیا میں کئی مختلف دوغلے جانور پیدا کیے گئے ہیں مگر سب سے زیادہ کارآمد خچر کو مانا جاتا ہے۔ موٹر گاڑیوں کی عدم موجودگی میں عام سول ورک میں تو اسے مفید سمجھا ہی جاتا ہے لیکن فوج میں بالخصوص اس کی بہت عزت کی جاتی ہے۔ جہاں سڑکیں ہوں وہاں تو جیپیں ٹرک وغیرہ چلے جاتے ہیں مگر پہاڑی علاقوں میں جہاں سڑک تک نہ ہو، ہیلی کاپٹر یا خچر ہی کام آتے ہیں۔

Read more

جب سنی محرم منایا کرتے تھے

زیادہ پرانی بات نہیں ہے۔ قوموں کی زندگی میں تیس پینتیس سال کی بھلا کیا اہمیت ہوتی ہے۔ 1979 کا تاریخ ساز اور تباہ کن سال گزرے نصف دہائی بیت چکی تھی مگر ابھی ہمارے معاشرے میں اس کا زہر سرائیت نہیں کر پایا تھا۔

ہمیں کوئی علم نہیں تھا کہ ہمارے ہم جماعتوں کا مسلک کیا ہے۔ مسلک کیا ہمیں تو ان کی ذات کے بارے میں بھی علم نہیں ہوتا تھا کیونکہ اس زمانے میں پنجاب یونیورسٹی کے یونی لیب سکول میں طلبا کو پہلے دو ناموں سے ہی پکارا جاتا تھا۔ ہمارے نام کے ساتھ خان نہیں لگتا تھا۔ ایسے میں جب پانچویں یا چھٹی جماعت میں ایک ٹیچر نے بے خیالی میں ایک ہم جماعت کا پورا نام پکار دیا تو سارے ہم جماعت بے تحاشا ہنسنے لگے۔ تنویر سعید باجوہ۔ باجوہ؟ باجوہ کیا ہوتا ہے؟ تنویر کے نام کے ساتھ یہ کیوں لگا دیا گیا ہے؟ باجوہ سے ملتا جلتا لفظ جو ہم بچوں نے اس وقت تک سنا تھا وہ باجرا تھا، یہی گمان گزرا کہ ٹیچر نے کچھ غلط پڑھ دیا ہے۔ معصومیت سی معصومیت تھی۔

Read more

ہاتھی مر کر بھی سوا لاکھ کا

پیارے بچو۔ آج ہم ہاتھی کا سبق پڑھیں گے۔ بری جانوروں میں ہاتھی سب سے بڑا جانور ہوتا ہے۔ ہاتھی سے متعلق کئی محاورے اور کہاوتیں مشہور ہیں۔ ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

ہاتھی والے۔
مطلب:
1۔ امیر اور مال دار لوگ، امرا و رؤسا۔
2۔ ابرہہ کے لشکری۔
استعمال: اس کا استعمال نازک ہے۔ ایک طرف یہ عزت والے لوگوں کے لیے بولا جاتا ہے اور دوسری طرف کسی طاقتور کی طرف اشارہ مطلوب ہو تو اس کے لیے۔

Read more

کراچی کے کوڑے اور سیلاب کی مثبت رپورٹنگ

کوئی بھی یبڑا شہر اور اس کی معیشت اور انڈسٹری توانائی پر چلتے ہیں۔ توانائی کے اہم ذرائع میں کوئلہ، جوہری، ہوائی، شمسی اور آبی توانائی شامل ہیں۔ ڈیم اور آبی بجلی گھر پہاڑی علاقوں میں بنتے ہیں لیکن بدقسمتی سے منگھو پیر کی پہاڑیوں میں ڈیم بنانا کچھ مشکل ہے۔ ادھر بہت بڑے بڑے مگرمچھ بیٹھے ہیں۔

ہوائی میں بھی مسائل ہیں۔ پچھلے تیس چالیس برس سے کراچی کی ہوا خراب ہی رہتی ہے۔ اس کی توانائی بھی ویسی ہی سی مضر ہو گی جیسی ہوا ہے۔ شمسی توانائی کا بندوبست کریں تو سولر پلیٹیں بھائی لوگ چرا کر لے جاتے ہیں۔ یوں یہ طریقہ بھی قابل عمل نہیں ہے۔

Read more

عتیقہ اوڈھو اور ناچتی بوتل

یہ خبر پڑھ کر کہ ”نو برس بعد اداکارہ عتیقہ اوڈھو کو شراب کی بوتلیں جہاز سے لے جانے کے مقدمے سے بری کر دیا گیا“ ، ہمارے ذہن کے پردے پر جو فلم چلی وہ کچھ یوں تھی،
استغاثہ: ملزمہ پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ دو بوتل شراب لے کر جہاز میں جا رہی تھی۔
قاضی: کیا آپ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتی ہیں؟

ملزمہ:
خود اپنی مستی ہے جس نے مچائی ہے ہلچل
نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل

قاضی: کیا بوتل ناچ رہی تھی؟
استغاثہ: نہیں۔ ایسی کوئی شہادت نہیں ہے۔
قاضی: کیس ڈسمس کیا جاتا ہے۔ نشہ نہیں تھا تو وہ سرکہ ہو گا۔ نیز ملزمہ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ آئندہ مستی میں ہلچل مچانے سے گریز کرے۔

Read more

شریر سیاسی خاکے: میاں محمد نواز شریف

پچیس دسمبر کو میاں محمد نواز شریف لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کی سالگرہ پر دنیا بھر میں چراغاں ہوتا ہے اور پاکستان کے علاوہ پورے یورپ اور امریکہ میں اس دن سرکاری چھٹی بھی ہوتی ہے۔ ان کا تعلق ایک ایسے کشمیری خاندان سے ہے جو اننت ناگ سے ترک وطن کر کے امرتسر میں آباد ہوا تھا۔ میاں صاحب کی آنکھوں میں جو مقابل کو مسحور کر دینے کی صلاحیت ہے، شاید اس کی وجہ اننت ناگ سے تعلق ہی ہو۔

Read more

دو گمراہ پاکستانی لڑکیوں کی کہانی

نرگس ماول والا نامی اس بے حیا عورت نے ہم پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا دیے ہیں۔ جس اخبار کو دیکھیں، اسی کی تصویر منہ چڑا رہی ہوتی ہے۔ جس نیوز یا سائنس ویب سائٹ کو کھولیں، اس کی شکل ہماری غیرت کا تمسخر اڑا رہی ہوتی ہے۔ یا خدا ہم پر یہ دن بھی آنا تھا کہ اقوام عالم میں ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ یہ میم اور لام کی تکرار والے ناموں کی لڑکیاں ہم غیرت مند پاکستانیوں کو کیسے کیسے شرمسار کرتی ہیں۔ پہلے ملالہ ہی کم نہ تھی کہ اب ماول والا نے غضب ڈھا دیا ہے۔

Read more

آم پھلوں کا بادشاہ کیسے بنا؟

آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ آم پھلوں کا بادشاہ ہے۔ حالانکہ پھلوں میں سیب بھِی شامل ہے جس کی مدد سے آپ ڈاکٹروں کو اور دیگر آفت جاں عناصر کو خود سے دور رکھ سکتے ہیں، انگور بھی شامل ہیں جن کے خاندان کی مداحت میں شعرا نے دیوان کے دیوان لکھ ڈالے ہیں، تربوز بھی ہے جن سے آپ گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں پہلے نہر میں بے تحاشا واٹر بال کھیل سکتے ہیں، اور پھر اسے دو ٹکڑے کر کے وہیں نہر کنارے بیٹھ کر کھا بھِی سکتے ہیں، اور کھانے کے بعد اس کو ہیلمٹ کی جگہ پہن کر سکون سے ٹھنڈے ٹھنڈے گھر بھی جا سکتے ہیں۔

Read more

خواب اور کرامت

ایک صاحب نہایت متقی و پرہیزگار تھے۔ سارا محلہ گواہ تھا کہ وہ پکے حاجی نمازی تھے۔ ہر ایک کو نیکی کی تلقین کرتے۔ ہمیشہ سچ بولتے۔ تو ایک دن جب انہوں نے یہ اعلان کر دیا کہ وہ صاحب کرامت ولی اللہ ہیں تو پورا محلہ حیران پریشان ہو گیا۔ انہیں کبھی شبہ تک نہ ہوا تھا کہ وہ اتنے زیادہ پہنچے ہوئے ہوں گے۔ لیکن جہاں سو سجن ہوتے ہیں وہاں دو دشمن بھی ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک رقیب روسیاہ بجائے اس بات کے کہ ان کے دعوے پر چوں چرا کیے بغیر یقین کر لیتا، پوچھنے لگا کہ متقی میاں یہ تو بتائیں کہ آپ کی کرامت کیا ہے؟ کیا آپ کی کرامت کسی نے دیکھی ہے یا صرف آپ نے ہی دیکھی ہے اور بے پر کی اڑا رہے ہیں۔

تس پہ متقی صاحب پہلے تو غصے سے سرخ ہو گئے کہ ان کو جھوٹا ٹھہرایا جا رہا ہے۔ پھر وہ شرم سے گلابی ہو گئے۔ کہنے لگے کہ میاں اولیا کے جتنے قصے ہم نے پڑھے ہیں، یہی پتہ چلا ہے کہ وہ اپنے راز پر پردہ رکھتے ہیں۔ وہ کرامت دکھاتے نہیں ان سے کرامت سرزد ہو جاتی ہے۔ بخدا ہم بھی صاحب کرامت ہونے کا دعویٰ نہیں رکھتے مگر کیا کریں ہم سے بھی کرامت سرزد ہو جاتی ہے اور وہ بھی عموماً تنہائی میں۔

Read more

مخلص نظریاتی مجاہدین اور مبینہ فٹ بال

بعض افراد کا یہ خیال ہوتا ہے کہ ہر ایک شخص کا کوئی مقصد حیات ہوتا ہے۔ پہلے تو ایک طویل عرصے وہ تگ و دو میں رہتے ہیں کہ مقصد حیات تلاش کیا جائے۔ انجام کار ان میں سے بہت سے یہ سوچ کر مستقل ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں کہ ”زندگی کیا ہے، غم کا دریا ہے“۔ جو گنے چنے بدنصیب اپنے تئیں اپنا مقصد حیات پا لیتے ہیں، وہ پھر اس مقصد کی تکمیل کے لیے اپنی اور دوسروں کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دیتے ہیں۔ ان کے سامنے ایک عظیم کاز یا نظریہ آ جاتا ہے جسے باقی دنیا پر لاگو کرنا ہی ہر مرض کا امرت دھارا علاج دکھائی دینے لگتا ہے۔

Read more

عشق رسولؐ اور گستاخی کے الزام میں سزا کا نیا رجحان

ہم بچپن سے ہی نصابی کتب میں پڑھتے آئے ہیں کہ کیسے غازی علم دین شہید نے اس گستاخ پبلشر کو قتل کر دیا تھا جس نے ایک توہین آمیز کتاب شائع کی تھی۔ حکیم الامت علامہ اقبال جیسی جلیل القدر ہستی سے منسوب ہے کہ انہوں نے یہ سن کر فرمایا تھا ترکھانوں کا لڑکا بازی لے گیا ہے۔ انگریز راج تھا، وہ ہندو، مسلم، سکھ اور مسیحی سب کو تقریباً ایک نظر سے دیکھتے تھے اور سب کے لیے قانون مشترکہ تھا۔ اس لیے مسلمانوں کے جذبات کی انہوں نے پروا نہیں کی تو علم دین نے پبلشر کو قتل کر دیا۔ آج تک نصاب سے منبر تک علم دین نامی جوان کی تعریف کی جاتی ہے۔

سلمان تاثیر کا معاملہ آتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ممتاز قادری نے ایک شعلہ بیان مقرر کا بیان سنا کہ سلمان تاثیر نے اسلام کی شان میں گستاخی کی ہے۔ اس نے سلمان تاثیر کو قتل کر دیا۔ بعد میں شعلہ بیان مقرر نے عدالت میں حلف نامہ جمع کروایا کہ میں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔

Read more

تارکین وطن غدار ہیں یا مظلوم؟

انہیں کہا جاتا ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ انہوں نے شہریت ترک کر دی۔ وہ ہمارے مقامی معاملات میں دخل نا دیں۔ جو لوگ ملک میں رہ رہے ہیں، ان کا حق ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ انہوں نے ملک کیسے چلانا ہے، جو اسے چھوڑ کر چلے گئے ہیں وہ کس منہ سے اس کے معاملات میں بولتے ہیں۔ تارکین وطن اگر غدار نہیں بھی ہیں تو ان کا کم از کم درجہ ملک سے بیزاری رکھنے والوں کا ہے۔ ہم ہی اصل محب وطن ہیں جو مواقع ہونے کے باوجود باہر امیگریشن لینے سے انکاری ہوئے ہیں اور ملک میں رہنے کو ترجیح دی ہے۔

بات یہ ہے کہ سب سے پہلے تو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ ملک چھوڑ کر کیوں گئے تھے؟ کسی کو روزگار کا مسئلہ تھا۔ کسی نے اپنی جان بچانی تھی۔ کسی نے اپنی عزت بچانی تھی۔ کسی نے پراسرار طور پر غائب ہونے کی بجائے حاضر رہنے کو ترجیح دی۔ کسی نے اپنی نسلیں بچانی تھیں اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی اولاد کو بھی وہی سب کچھ سہنا پڑے جو انہوں نے برداشت کیا تھا۔ انہوں نے سسٹم کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور کہا کہ ہماری زندگی میں تو یہ درست نہیں ہو گا، ہم میں اتنی طاقت نہیں ہیں کہ اسے بدل سکیں، تو اپنا دیس چھوڑ جاتے ہیں۔

Read more

بند کرو یہ یوٹیوب

آج یہ خبر پڑھ کر دل باغ باغ ہو گیا کہ یوٹیوب پر پابندی لگ سکتی ہے۔ بی بی سی کی خبر میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے پاکستان میں یوٹیوب بند کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ دلائل کے دوران جب سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ تشدد کو مبینہ طور پر فروغ دینے کا ذکر ہوا جسٹس قاضی امین نے کہا کہ عدالتوں کی کارکردگی اور فیصلوں پر بات کرنا عوام کا حق ہے اور وہ تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے ان پر تنقید بھی کر سکتے ہیں، عدالت کو آزادی اظہار رائے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن اب یہ نئی روایت پڑ گئی ہے کہ نہ صرف سوشل میڈیا پر عدالتی فیصلوں کو بے جا تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر ججز کے خاندانوں کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ کوئی یوٹیوب پر چاچا تو کوئی ماما بن کر بیٹھ جاتا ہے اور عدالتی فیصلوں کی آڑ میں ججز کو شرمندہ کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر فوج، عدلیہ اور حکومت کے خلاف لوگوں کو اکسایا جاتا ہے۔ عدالت تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے لیکن آخر اس کا اختتام تو ہونا ہے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے کہ کیا ایف آئی اے اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یعنی پی ٹی اے نے دیکھا ہے کہ یوٹیوب پر کیا ہو رہا ہے اور کیا یوٹیوب اور سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے کوئی عملی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔

یہ دیکھ کر ہم خوش ہوئے ہیں کہ شکر ہے کہ کسی نے تو ہماری تشویش سے اتفاق کیا ہے۔ یہ سوشل میڈیا تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ ہم خود اس سے بہت دکھی ہیں۔ جس کا دل کرتا ہے اٹھ کر ہماری بے عزتی کرنا شروع کر دیتا ہے۔ مانا کہ دس میں سے نو بندے جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں اور تہمتیں باندھتے ہیں لیکن دسواں بندہ تو سچ بولتا ہے۔ اور اسی سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔ اب یہ جان کر کہ سپریم کورٹ کے ججوں کے ساتھ بھی وہی ناروا سلوک کیا جا رہا ہے جو ہمارے ساتھ کیا جاتا ہے، تو امید بندھی ہے کہ اس صورتحال کا تدارک کیا جائے گا۔

Read more

بدھ کا شکست کردہ مجسمہ اور قومی غلط فہمی

پاکستان قومی ریاستوں کے دور میں بطور ایک قومی ریاست کے وجود میں آیا لیکن اس کے شہریوں کو تعلیم میں یہ سکھایا ہی نہیں گیا کہ وہ اپنی قوم اور ریاست پر فخر کریں۔

نتیجہ یہ کہ وہ اپنے ملک کے بارے میں کم سوچتے ہیں اور سات سمندر پار کے بارے میں زیادہ۔ ہیرو بھی وہیں سے لاتے ہیں اور جذبات بھی۔ جب ان نیشن سٹیٹس کے شہریوں کے سامنے ان کے ہیرو کو اپنا کر اس کے کارناموں کو اپنا کہتے ہیں تو وہ بے عزتی کر دیتے ہیں کہ میاں یہ کارنامے ہماری قوم کے ہیں تمہاری کے نہیں، اپنا گدھا اپنے پاس رکھو اور ہم شہسواروں میں تم پانچویں سوار مت بنو۔

Read more

پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے پھر ٹی وی اور پٹرول ٹیکس کیوں؟

حکومت نے بجلی کے بل میں پی ٹی وی لائسنس فیس 35 روپے سے بڑھا کر سو روپے کر دی ہے۔ کیا مسلمانان ہند نے لاکھوں جانوں اور عصمتوں کی قربانی دے کر یہ اسلامی ملک اس لیے بنایا گیا تھا کہ یہاں لوگوں سے زبردستی کی جائے اور انہیں بہ صد جبر و اکراہ پی ٹی وی دکھایا جائے؟ یا پھر حکومت حرام کے پیسے لے رہی ہے اور ان لوگوں سے بھی زبردستی ٹیکس وصول کر رہی ہے جو پی ٹی وی دیکھتے ہی نہیں؟

اب امت کو ضرورت ہے تو مولوی لوگ کہاں ہیں؟ اتنا بڑا غیر اسلامی کام ہو رہا ہے تو وہ نوٹس کیوں نہیں لیتے؟ کیوں دھرنا نہیں دیتے؟ کیوں حکومت کے خلاف احتجاج نہیں کرتے؟ اس اسلامی جمہوریہ کے آئین نے انہیں پرامن احتجاج کا حق دیا ہے، وہ حق کب استعمال کیا جائے گا؟ کہاں ہیں مولانا فضل الرحمان، مولانا سراج الحق اور مولانا خادم رضوی؟

Read more

باری مولوی کی تھی اٹھا دیا گنجے کو

نئی ریاست مدینہ یعنی ایک مذہبی ریاست بنانے کا منشور کپتان نے پیش کیا تھا، ایسا ہی سا مطالبہ مولانا حضرات ایک طویل عرصے سے کر رہے ہیں، لیکن عملی اقدامات نون لیگ والے اٹھا رہے ہیں۔

کسی زمانے میں پولیٹیکل اسلام کی چیمپئن جماعت اسلامی ہوا کرتی تھی۔ پھر تحریک انصاف نے جنم لیا تو اس کے مخالفین نے اسے ”گڈ لکنگ جماعت اسلامی“ کہنا شروع کر دیا۔ عمران خان نے بھی نئی ریاست مدینہ بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے اپنی حکومت کا اسلامی امیج بنانے پر زور دیا۔ لیکن نصیب نصیب کی بات ہے، جماعت اسلامی کا کام کرنے میں اب ن لیگ آگے آگے ہے۔ ویسے اگر تحریک انصاف ”گڈ لکنگ جماعت اسلامی“ ہے تو کیا نون لیگ ”بیڈ لکنگ جماعت اسلامی“ بن رہی ہے؟

Read more

اقبال کا شاہین اور مکار دشمن کا ڈرون

زیادہ بڑے مفکرین میں عموماً یہی خوبی ہوتی ہے کہ دوسروں کو بتی کے پیچھے لگا کر خود نچنت پڑے رہتے ہیں۔ ہم خود کو بھی ایک بڑا نا سہی، درمیانہ سا مفکر سمجھتے ہیں کیونکہ ہمارا اپنا بھی وہی حال ہے جیسا اقبال کا سننے میں آتا رہتا ہے۔ حاشا وکلا ہمارا یہ مطلب نہیں کہ ہم کوئی بہت عقل والی باتیں سوچتے ہیں۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ ہمارا لائف سٹائل بھی اقبال والا ہے۔

بیسویں اور اکیسویں صدی کے سب سے بڑے دیسی مفکر علامہ اقبال کے بارے میں یہی پڑھا ہے کہ ہمیشہ چارپائی پر نیم دراز پڑے شاعری اور امت کی حالت پر غور و فکر کرتے رہتے تھے، جس نے ان سے ملنا ہوتا تھا خود جا کر مل لیتا تھا وہ خود اپنے پایہ تخت کو نہیں چھوڑتے تھے۔ وہیں چارپائی سے ہی نیم درازی کی حالت میں وہ دوسروں کو بڑھاوے دیتے تھے کہ شاہین بنو اور پہاڑ کی چٹان پر چڑھ جاؤ۔ خود کبھی ایسا نہیں کیا۔ علامہ کی کسی سوانح میں ذکر نہیں ہوا کہ وہ ہائکنگ، ٹریکنگ، کوہ پیمائی یا گھڑ سواری کے شوقین تھے اور بحر ظلمات کیا لاہور کی سرکلر روڈ پر بھی گھوڑا دوڑاتے پھرتے تھے۔ مجبوری میں سفر کرنا بھی پڑ جاتا تھا تو دیسی شرفا کی طرح تانگے ٹم ٹم یا موٹر کار کا انتخاب کیا کرتے تھے۔

Read more

وزیر اعظم سرفروش، افسر شاہ اور ٹرمپ

وزیراعظم سرفروش کے فون کی گھنٹی بجی تو افسر شاہ نے کہا ”صدر ٹرمپ نے اپنے طے شدہ وقت پر فون کیا ہے سر۔ اس کی جرات نہیں ہوئی کہ آپ کو ایک منٹ بھی انتظار کروائے۔ “ وزیراعظم سرفروش نے فاخرانہ انداز میں سر ہلایا اور یہ کہتے ہوئے فون کا چونگا اٹھا لیا کہ ”دیکھو میں کیسے اس کی جیب ڈھیلی کرتا ہوں“۔

Read more

دلہن اور وزیر چننے میں ایک جیسی دشواری

ہمارے کالج کے دنوں کے ایک دوست ہیں۔ دوستوں کے حق میں بہت اچھے۔ ہر غلط کام میں بھرپور تکنیکی و فنی امداد دینے کو ہر دم آمادہ و تیار رہتے تھے کہ دوست کامیاب و کامران ہوں۔ عشق پیشہ تھے اور واقعی اسے پیشہ سمجھتے تھے گو وہ اس پیشے میں مالی منفعت کی بجائے ذیلی سہولیات کے خواہاں رہتے تھے۔ شکل صورت بھی ایسی تھی کہ واقعی لاکھوں میں ایک تھے۔ گمان ہوتا تھا کہ چندے آفتاب چندے ماہتاب کا محاورہ انہیں کے متعلق تخلیق کیا گیا تھا۔ لانبا قد، گورا چٹا رنگ، گھنگریالے بال، کتابی چہرہ اور قطعاً غیر کتابی حرکتیں۔

ان کے برخلاف ان کے برادر بزرگ ایک مثالی مشرقی نوجوان تھے۔ شکل و صورت میں تو وہ بھی اپنے برادر خورد پر گئے تھے لیکن باقی معاملات میں وہ شرم و حیا اور عفت و عصمت کا پتلا تھے۔ بھری جوانی میں بھی ہر پرائی بہو بیٹی کو اپنی بہو بیٹی ہی سمجھتے تھے۔ حتیٰ کہ شادی کا بھی اپنی زبان سے نام تک نا لیا کہ انہیں لاج آتی تھی۔

Read more

میاں صاحب مائنس کرنے کو تیار نہیں ہوئے

روایت ہے کہ ایک دور دراز کے گاؤں میں ایک میاں صاحب رہتے تھے۔ نہایت وجیہہ و شکیل تھے۔ رنگ ایسا جیسا پنجاب آٹا نمبر ایک میں شہد گھول کر بنفشہ بھی ڈال دیا گیا ہو۔ جسامت ایسی کہ کسرت کرنے والے پہلوان لگتے تھے۔ ویسے تو وہ نہایت متقی اور پرہیزگار تھے مگر ان کے بعض شریک بتاتے تھے کہ میاں صاحب اندھیرے اجالے چوکتے بھی نہیں، جہاں ہاتھ پڑے پڑوسی کی مرغی پار کر کے کڑاہی بنا لیتے ہیں۔ بہرحال یہ بات دوست دشمن سب مانتے تھے کہ بستی میں موجود دیگر شریکوں کے مقابلے میں وہ ازار بند کے پکے تھے۔

Read more

ڈگری اور لائسنس کو جعلی بتانے کی حکمت سمجھیں

وزیر ہوابازی کی جانب سے یہ بیان دیے جانے کے بعد کہ سینکڑوں پاکستانی پائلٹوں کا لائسنس مشکوک ہے جن میں سے 28 کے جعلی ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے، بعض لوگ ان پر تنقید کر رہے ہیں کہ انہوں نے غیر ذمہ داری سے کام لیا ہے۔ اس کے نتیجے میں یورپی یونین نے پی آئی اے پر پابندی لگا دی ہے۔ کئی ائرلائنوں کی خبریں آ رہی ہیں کہ انہوں نے پاکستانی فضائی ماہرین کو ایک طرف بٹھا دیا ہے کہ گرد بیٹھ جائے تو پھر جہاز کے قریب جانا یا گھر جانا۔

ہماری رائے میں یہ ایک وژنری فیصلہ ہے۔ ناقدین اس کی حکمت پر غور نہیں کر ہے ہیں۔ یہ ایک بڑی تزویراتی حکمت عملی کا پہلا قدم دکھائی دیتا ہے۔

Read more

معصوم مینڈکوں کا عالیشان بادشاہ

نہایت ہی پرانے زمانے میں یونان میں ایسوپ نامی ایک شخص گزرا ہے۔ اس کی ایک مشہور حکایت ہے جو کہ چند ایسے مینڈکوں کے بارے میں ہے جن کو اپنی عظیم قوم اور عالی شان تالاب کے شایان شان ایک ذی جاہ بادشاہ چاہیے تھا تاکہ ساری دنیا پر ان کی دھاک جم سکے۔ آئیے حکایت پڑھتے ہیں۔

پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک حسین و جمیل اور مسحور کر دینے والے تالاب میں کوئی بیس بائیس مینڈک رہتے تھے۔ وہ مل جل کر جمہوری طریقے سے تالاب کا نظام چلاتے تھے اور انہیں اتنی آزادی میسر تھی کہ وہ کچھ بھی کر سکتے تھے۔ سارا دن فارغ بیٹھ کر ٹر ٹر کرتے رہتے تھے۔ حتی کہ وہ ایک دوسرے کی آوازیں سن سن کر بور ہو گئے اور ان کے دل میں تبدیلی کی خواہش پیدا ہوئی۔ انہوں نے سوچا کہ ایسی حکومت قائم کی جائے کہ شاہی جاہ و جلال سے کام لے کر ان کو متاثر کرے، اور ان کو احساس دلائے کہ ان کا بھی کوئی بادشاہ ہے اور دور نزدیک کے لوگوں پر بھی ان کی دھاک جم جائے اور اس بادشاہ کے ذریعے ان کی قوم کو باقی جانوروں پر اقتدار حاصل ہو اور ان کے عظیم تالاب کو سب رشک کی نگاہ سے دیکھیں۔

Read more