عاصمہ نامی لڑکی پر ملتان کے لاریٹس سکول کے احسانات

چودہ مئی کے ملتان کے روزنامہ خبریں میں ایک استانی پر ایک نجی سکول کے بے شمار احسانات کی خبر آئی جس پر ہمیں بہت زیادہ یقین نہیں آیا تو ملتان کے ایک سینئیر صحافی سے بھی تصدیق کرنی پڑی۔ پتہ چلا کہ خبر میں کوئی سقم نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ مزید تفصیلات بھی ہیں۔

قصہ یہ پتہ چلا کہ ملتان میں ایک لاریٹس نامی سکول ہے جو ایک بہت غریب پرور سیاست دان خالد جاوید وڑائچ کی ملکیت ہے۔ وہ حکومتی پارٹی میں ہونے کی وجہ سے غربت ختم کرنے اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ جابز دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کا بجٹ تو محدود ہے اس وجہ سے سٹاف کو حکومت کی مقرر کردہ کم از کم تنخواہ یعنی 16 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ نہیں دے پاتے۔ بلکہ خبریں کی رپورٹ کے مطابق میٹرک پاس استانی کو تین ہزار، ایف اے پاس کو پانچ ہزار، بی اے پاس کو آٹھ اور ایم اے پاس کو بارہ ہزار دیتے ہیں۔

Read more

پنجابی جاگیرداروں کی 1857 میں انگریز کی حمایت کی ایک وجہ

شاہ محمود قریشی اور دوسرے پنجابی پیروں اور جاگیرداروں کے اجداد پر نفرت بھرے انداز میں الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے 1857 میں انگریز کا ساتھ دیا تھا۔ الزام تو درست ہے مگر اس کا تناظر کیا ہے؟

یہ بات بتاتے وقت ہم ایک حقیقت بھول جاتے ہیں۔ پنجاب پر سکھوں کی حکومت تھی۔ کئی علاقوں مثلاً شاہ محمود قریشی کے ملتان وغیرہ پر انہوں نے کافی ظالمانہ انداز میں فتح حاصل کی تھی۔ کئی مسلمان حکومتوں کو پنجاب سے لے کر کشمیر اور ملتان تک سکھوں نے شکست دے کر ان کا خاتمہ کیا تھا۔ بہت سے مسلمان سکھا شاہی سے نالاں تھے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دربار میں مسلمان عمائدین بھی موجود تھے اور رائے احمد خان کھرل جیسے سردار بھی مہاراجہ کے ساتھی تھے جو بعد میں انگریزوں کے خلاف جنگ میں اساطیری حیثیت حاصل کر گئے، مگر یہ بھی حققیت ہے کہ سکھوں کے دور میں مسلمانوں کے حالات اتنے اچھے نہیں تھے۔ روایت کے مطابق بادشاہی مسجد لاہور کو رنجیت سنگھ کی سپاہ اصطبل کے طور پر استعمال کیا کرتی تھی۔ یہی حال کچھ دوسری مساجد کا بھی بتایا جاتا ہے۔

Read more

دارالعلوم والے علما، جاوید غامدی اور رمضان میں سفر

دو برس پہلے رمضان میں ناران جانا ہوا۔ ساتھ ڈیڑھ برس سے شروع ہونے والے بچے بھی تھے۔ ہوٹل والے ناشتہ دینے سے انکاری تھے۔ بمشکل ایک ہوٹل میں جگہ ملی جو ناشتہ دینے پر تیار تھا۔ ہوٹل کے مالک نے بتایا کہ ادھر مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ رمضان میں سیر سپاٹے پر نکلنے والوں پر عیاشی کے احکامات لاگو ہوتے ہیں، مسافرت کے نہیں۔ اگر یہ بات پتہ چلے کہ ہوٹل رمضان کے اوقات میں خواہ ننھے بچوں کو ہی کھانا دے رہا ہے تو مفتی صاحب کے عقیدت مند اس کا جلاؤ گھیراؤ کر دیں گے۔ وقار ملک کے بلاگ پر ان کے ننھے بچوں کو پیش آنے والی مشکل صورت حال پر ایک سواتی صاحب کا بھی یہ موقف پڑھا کہ ”رمضان میں سیر سپاٹے کو سفر نہیں کہتے۔ کوئی انتہائی کام یا روزگار کے لئے سفر ہو تو سفر کہتے ہیں۔ سیر سپاٹے کے لئے رمضان میں نکلنا نہیں چاہیے۔ “

ہمارا دینی علم مفتی صاحبان جتنا نہیں ہے۔ مگر تھوڑا بہت دین کا علم بہرحال رکھتے ہیں۔ اسی کی روشنی میں اپنی وال پر مفتی صاحبان سے خصوصاً اور عام افراد سے عموماً یہ سوال پوچھ لیا:

”کیا اس دعوے کے حق میں قرآن یا حدیث سے دلیل دی جا سکتی ہے جس سے واضح ہو کہ سفر کیا ہوتا ہے کیا نہیں؟ کیا نماز قصر کے معاملے میں سفر کی شرائط بھی یہی سیر سپاٹے والی ہوتی ہیں، یعنی اگر کوئی شخص سیر و تفریح کی نیت سے سفر کر رہا ہے تو وہ پوری نماز پڑھے گا اور اگر کوئی ’انتہائی اہم کام‘ یا روزگار کے سلسلے میں سفر کر رہا ہے تو اسے قصر پڑھنے کی اجازت ہے؟ یا پھر نماز قصر کے احکامات میں جسے سفر کہا گیا ہے روزے کے احکامات میں بھی وہی سفر کہلائے گا؟ “

Read more

آڈیو کالم: ایک بچی، دو تصویریں اور ریاست کی بے حسی

ایک چار سالہ بچی فیڈر ہاتھ میں تھامے کھڑی ہے۔ اس نے نئے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ بال سلیقے سے بنے ہوئے ہیں اور ان میں کلپ لگا ہوا ہے۔ اس کی ماں نے بہت توجہ اور پیار سے اپنی ننھی پری کو تیار کیا ہے۔ اسے وہ شادی میں لے کر جا رہی تھی۔

ایک دوسری تصویر ہے۔ ایک بچی نے اپنے دونوں ہاتھ جوڑے ہوئے ہیں۔ اس کے بال بکھرے ہوئے ہیں۔ کسی نے انہیں نہیں سنوارا ہے۔ بال پیشانی پر بے ڈھنگے پن سے کٹے ہوئے ہیں۔ اس نے کھلی آستین والی قمیض پہنی ہوئی ہے۔ یہ لگتا ہے کہ اس نے اپنے جوڑے ہوئے ہاتھ نیچے لٹکائے تو آستینیں اس کے ہاتھوں سے بڑی ہوں گی۔ شاید اس نے کسی بڑی بچی کی قمیض پہن رکھی ہے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اس پری کو سجانے سنوارنے والا اب کوئی نہیں ہے۔ اس کی ماں، بڑی بہن اور باپ کو پولیس کئی ماہ پہلے قتل کر چکی ہے۔ اب اس کی وہی حالت ہے جو ایک یتیم و یسیر بچی کی ہوتی ہے۔

یہ بچی ہاتھ جوڑے پنجاب اسمبلی کے باہر بیٹھی ہے۔ وہ اپنے ماں باپ اور ان سے بڑھ کر خود اپنے اور اپنے زندہ بچ جانے والے بہن بھائی سے ساری زندگی ہونے والے ظلم پر ریاست سے انصاف کی بھیک مانگ رہی ہے۔

Read more

ایک بچی، دو تصویریں اور ریاست کی بے حسی

ایک چار سالہ بچی فیڈر ہاتھ میں تھامے کھڑی ہے۔ اس نے نئے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ بال سلیقے سے بنے ہوئے ہیں اور ان میں کلپ لگا ہوا ہے۔ اس کی ماں نے بہت توجہ اور پیار سے اپنی ننھی پری کو تیار کیا ہے۔ اسے وہ شادی میں لے کر جا رہی تھی۔

ایک دوسری تصویر ہے۔ اسی لڑکی نے اپنے دونوں ہاتھ جوڑے ہوئے ہیں۔ اس کے بال بکھرے ہوئے ہیں۔ کسی نے انہیں نہیں سنوارا ہے۔ بال پیشانی پر بے ڈھنگے پن سے کٹے ہوئے ہیں۔ اس نے کھلی آستین والی قمیض پہنی ہوئی ہے۔ یہ لگتا ہے کہ اس نے اپنے جوڑے ہوئے ہاتھ نیچے لٹکائے تو آستینیں اس کے ہاتھوں سے بڑی ہوں گی۔ شاید اس نے کسی بڑی بچی کی قمیض پہن رکھی ہے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اس پری کو سجانے سنوارنے والا اب کوئی نہیں ہے۔ اس کی ماں، بڑی بہن اور باپ کو پولیس کئی ماہ پہلے قتل کر چکی ہے۔ اب اس کی وہی حالت ہے جو ایک یتیم و یسیر بچی کی ہوتی ہے۔

Read more

سائنس، سپر سائنس اور روحانیت

ہمارے محبوب وزیراعظم جناب عمران خان نے سوہاوہ کے مقام پر پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین قدم اٹھاتے ہوئے سائنس کو سپر سائنس بذریعہ روحانیت بنانے کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔ اس پر بعض کم فہم مخالفین ان کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ دیکھیں ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ عمران خان الفاظ کے نہیں عمل کے آدمی ہیں۔ عملیات میں الفاظ کم پڑ جاتے ہیں کیفیات کے بیان کے لئے۔

میں الفاظ کا آدمی ہونے کی وجہ سے سمجھ سکتا ہوں کہ ہمارے وزیراعظم کیا کہہ رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ روحانیت کو ویسے ہی پیرا سائنس بنا کر سائنس سے بالاتر کر دیں گے جیسے پیرا سائیکالوجی کو سائیکالوجی سے اور پیرا نارمل کو نارمل سے برتر سمجھا جاتا ہے۔ ان سے غلطی یہ ہوئی کہ بالا کا ترجمہ پیرا کی بجائے سپر کر بیٹھے۔ ورنہ وہ ٹھیک سوچ رہے ہیں۔

Read more

عمران خان کی پریشانی اور دماغی صحت

کل ایک پریشان کن خبر پڑھ کر ہم دیار غیر میں بھی ٹینشن میں بیٹھے ہیں۔ پہلے آپ بھی خبر پڑھ لیں تاکہ دیار یار میں آپ ہم سے بھی زیادہ پریشان ہو سکیں۔

صدر پاکستان عارف علوی نے بتایا ہے کہ عمران خان ملک کی حالیہ صورتحال پر کافی پریشان ہیں۔ ان کی پریشانی اس قدر زیادہ بڑھ گئی ہے کہ انہوں نے صبح کی واک کرنا تک چھوڑ دی ہے۔ ”میں نے بارہا کہا ہے کہ ورزش آپ کی دماغی صحت کے لئے بے حد ضروری ہے، آپ خود کو ایکٹو رکھیں۔ جس کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے مجھے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ہم چیزوں کو جیسے دیکھتے تھے، یہ ویسی نہیں ہیں۔ ہمارا تین ماہ کا پلان فیل ہو گیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ملکی حالات بھی آج تک ٹھیک نہیں ہو پا رہے اور نہ چیزوں پر کہیں کوئی عملدرآمد ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ “

Read more

عمران خان کا ایران میں ماسٹر سٹروک

کیا یہ محض اتفاق ہے کہ جس دن عمران خان نے ایران کا دورہ شروع کرنا تھا عین اسی دن امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے ایران پر پابندیاں سخت کرنے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ جو ممالک اس سے تیل خریدنے کے لئے امریکی استثنا رکھتے تھے، اب وہ بھی پابندیوں کا شکار ہوں گے۔ اس اعلان کی ٹائمنگ اہم ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ امریکیوں کو خطرہ تھا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ آنے والی مخلص، بے باک، معاملہ فہم، نان کرپٹ اور دانش مند قیادت ایران سے تیل کا کوئی ایسا معاہدہ کر لے گی جس سے پاکستان کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہو گا۔

اب آپ دورے کے مشترکہ اعلامیے کو دیکھیں۔ اتنے بڑے دورے کے بارے میں کوئی خاص اعلان نہیں کیا گیا۔ بس یہ کہا گیا کہ بارڈر پر مشترکہ گشت ہو گا اور مارکیٹیں بنا دیں گے۔ باڑ لگ جائے گی۔ نئی سرحدی کراسنگ بن جائے گی۔ کیا اتنے اعلی سطحی دورے پر ایسے معاہدے ہوتے ہیں؟

Read more

کچھ عرصہ قبل جرمنی اور جاپان ہمسائے تھے

عمران خان کی وائرل ہونے والی 32 سیکنڈ کی ویڈیو میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ”جرمنی اور جاپان نے اپنے کئی ملین سویلین مارے، حتی کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بارڈر پر، جرمنی اور جاپان کے بارڈر پر مشترکہ انڈسٹری لگائیں گے۔ اس لئے اب یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ دونوں کے تعلقات خراب ہوں کیونکہ ان کے معاشی مفادات آپس میں جڑ چکے ہیں۔ “

اس پر یہ شور مچ گیا ہے کہ عمران خان کو جغرافیے کا ہی نہیں پتہ اور وہ وسطی یورپ میں واقع جرمنی کو نو ہزار کلومیٹر دور بحر الکاہل میں واقع جاپان کا ہمسایہ کہہ رہے ہیں۔ حالانکہ یہ بات سائنسی طور پر ثابت شدہ ہے کہ کچھ ہی عرصہ قبل جرمنی اور جاپان ایک ہی براعظم پر تھے۔

Read more

بیشتر لوگ مجھ جتنے محب وطن کیوں نہیں ہیں؟

مجھے اکثر افسوس ہوتا رہتا ہے کہ بیشتر لوگ مجھ جتنے محب وطن اور ذی شعور کیوں نہیں ہیں۔ کیا انہیں رتی بھر احساس نہیں ہے کہ ملک و قوم کس نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں؟ کیا انہیں ذرہ برابر پروا نہیں ہے کہ ملکی مفاد کا تقاضا کیا ہے؟ کیا اس طرح معیشت، سیاست اور خارجہ پالیسی کے متعلق اپنی رائے ظاہر کر کے وہ وطن عزیز کی جڑِیں نہیں کاٹ رہے ہیں؟ آخر وہ سب میری طرح کیوں نہیں سوچتے؟

یاد رہے کہ میں جو کچھ بھی لکھتا ہوں وہ قومی خدمت کے جذبے سے کسی صلے ستائش یا معاوضے کی تمنا کے بغیر لکھتا ہوں کیونکہ میرے دل میں قوم کا بے پناہ درد ہے اور مجھ سے زیادہ کوئی قوم سے مخلص نہیں ہے۔ وہ میری رائے کے خلاف ایک چار چھے لفظی کمنٹ بھی کرتے ہیں تو وہ ایسا ڈالر یا ریال یا تومان لے کر کرتے ہیں اور وہ ملک دشمنوں کے ایجنڈے پر چل رہے ہیں۔

Read more