مفاہمت یا مزاحمت

لو جی نون لیگ کو بھی ایک پیج پر لانے کا فیصلہ پارٹی قائد نے کر لیا ہے۔ مزاحمت اور مفاہمت کے بیانئے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا اور ظاہری بات ہے کہ پارٹی قائد میاں نواز شریف ہی ہیں تو ان کا بیانیہ ہی چلے گا۔ اب پارٹی میں موجود خاموش لیڈروں کو کھل کر قائد کے بیانیے کی حمایت کرنی پڑے گی اور اس کے لیے میاں جاوید لطیف نے پہلا کنکر پھینک دیا

Read more

سیاست سے لے کر روپے کی گراوٹ تک

کبھی کتابوں میں پڑھتے تھے کہ قوموں پر زوال آ گیا اور پھر ان قوموں کے زوال کے اسباب بھی دیے گئے ہوتے تھے۔ پڑھتے ہوئے سوچتے تھے کہ زوال پذیر قومیں دیکھنے میں کیسی ہوتی ہوں گی۔ شاید تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا اور اپنی زندگی میں ہی انحطاط پذیر معاشرہ دیکھ لیا۔ بلکہ دیکھ کیا لیا اسی انحطاط پذیر معاشرے کا حصہ ہو کر حیران ہیں اور ستم یہ کہ حیرانی ہے کہ ختم ہونے کا

Read more

قائد کے آخری ایام ڈاکٹر کرنل الہیٰ بخش کی زبانی

قائد اعظم محمد علی جناح ایک غیر معمولی شخصیت تھے۔ ایک ایسی ہستی جس نے غیر معمولی محنت اور لگن سے مشکل ترین حالات میں مسلمانوں کے لیے ایک آزاد ملک حاصل کیا۔ ان کی وفات بلاشبہ مسلمانوں کے لیے کسی عظیم سانحے سے کم نہیں تھی۔ اگر قائد کچھ سال مزید زندہ رہتے تو کم سے کم ملک بننے کے بعد ابتدائی دو دہائیوں میں حکمرانی کا جو تماشا لگا رہا وہ نا ہوتا ملک کو آئین مل چکا

Read more

ملکی سیاست کا ٹرننگ پوائنٹ۔ جنوبی پنجاب

عزیزو قصہ کچھ یوں ہے کہ 2018 کے عام انتخابات کی آمد آمد تھی اور جیسے تیسے کر کے تحریک انصاف کو اقتدار میں لانا تھا۔ صوبہ پنجاب کے شمالی اور وسطی حصوں میں تحریک انصاف کو نون لیگ ٹف ٹائم دے رہی تھی۔ نمبرز گیم میں نمبر پورے نہیں ہو رہے تھے۔ ایسے میں جنوبی پنجاب کام آیا۔ افراتفری میں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنایا گیا۔ جن کو کامیاب ہونا تھا ان کو اس محاذ میں شامل کرایا گیا

Read more

بلاول بھٹو زرداری کے دورہ ڈیرہ غازی خان کی اندرونی کہانی

1993 کی انتخابی مہم میں محترمہ بے نظیر بھٹو کا انتخابی جلسہ ڈیرہ غازی خان کے پاکستانی چوک میں ہوا تھا جہاں انہوں نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آ کر ان کی حکومت ڈیرہ غازی خان کو سوئی گیس، یونیورسٹی اور ائرپورٹ دیں گی۔ اس جلسہ کے بعد ڈیرہ کا ایک معروف نعرہ تھا کہ بے نظیر آئے گی۔ سوئی گیس لائے گی۔ ان انتخابات کے بعد محترمہ وزیراعظم بن گئیں اور اپنا وعدہ وفا کرنے

Read more

ڈیرہ غازی خان میں عزاداری اور تعزیے کی تاریخ

عرب کے ایک فلسفی شاعر نے کہا ہے ”بڑے کارناموں کے لیے بڑے نفوس ہی درکار ہوتے ہیں“ ۔ عرب کے اس بوڑھے فلسفی کی بات پر اگر غور کیا جائے تو کوئی شک نہیں ہے کہ میدان کربلا کے واقعہ میں اہل بیت کی قربانیوں اور امام عالی مقام ؓ کے نفس بزرگی اور ان کے کردار کی رفعت کے متعلق اندازہ ہوتا ہے کہ بنی نوع انسان کی معلوم تاریخ کے اندر اہل بیت سے بڑے کردار کی

Read more

کابل بھی طالبان کا ہوا

کچھ دن قبل ایک تقریب مین خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی نے کہا کہ وہ سابق افغان بادشاہ امان اللہ کی عزت کرتے ہیں تاہم وہ بھاگ گئے تھے اور میں بھاگنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ اشرف غنی نے یہ الفاظ ایسے وقت میں کہے جب طالبان کے قدموں کی چاپ کابل میں سنائی دے رہی تھی مگر وہ خود کو ایک جنگجو کے طور پر پیش کر رہے تھے۔ مگر ہوا کچھ یوں کہ امریکی آشیر باد سے تحت کابل پر براجمان اشرف غنی نے صدارتی محل میں بلا روک ٹوک داخل ہونے والوں سے محفوظ راستہ مانگا اور سابق افغان بادشاہ امان اللہ خان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کابل کیا افغانستان ہی چھوڑ کر بذریعہ ہوائی جہاز تاجکستان پہنچے پھر وہاں سے میڈیا ذرائع کے مطابق اپنی اہلیہ زولا غنی، نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر حمد اللہ محب اور صدارتی آفس کے ڈائریکٹر جنرل فضل فضلی کے ہمراہ عمان چلے گئے۔ طالبان کا تمسخر اڑانے والے فیلڈ مارشل رشید دوستم بھی چوری چھپے ازبکستان پہنچنے میں کامیاب ہو گئے آج ان کے محل کے لان میں طالبان وکٹری واک کرتے پھر رہے ہیں۔

Read more

یوم آزادی پر حسن کوزہ گر سے مکالمہ

ہر شب گویا شب ہجراں ہوئی اور ہر دن گویا قیامت خیز گزر رہا ہے۔ یوں سمجھیں کہ چین ایک پل نہیں اور اس بے چینی کا کوئی حل بھی نہیں ہے۔ جی ایسا اچاٹ ہوا ہے اس دیار سے کہ کچھ مت پوچھیے دل تو یہی چاہ رہا ہے کہ کہیں سے بغداد کے حسن کوزہ گر کو تلاش کر کے لے آوں اور اس کو لے کر کسی اجاڑ ویرانے میں لگے بوڑھے برگد کے نیچے بیٹھ جاؤں

Read more

بے وفائی کی سیاست

مرزا غالب کے محبوب میں بے وفائی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور مرزا نوشہ جیسا وفا شعار عاشق پھر بھی اپنے بے وفا معشوق سے وفا کی امید رکھے ہوئے تھا اس لیے نہایت سادہ دلی سے دل کا مدعا ایک شعر کی صورت میں بیان کر دیا کہ ہم کو ان سے وفا کی ہے امید، جو نہیں جانتے وفا کیا ہے۔ اب خدا جانے کہ مرزا نوشہ سے ان کے محبوب نے وفا کی یا نہیں

Read more

یک نہ شُد دو شُد

یک نہ شد دو شد ایک مشہور کہاوت ہے اور اس کے لفظی معنی یہ ہیں کہ ایک نہ ہوا دو ہوئے۔ یہ عام طور پر اس مصیبت میں بولی جاتی ہے جب پہلی مصیبت ختم نا ہو رہی ہو اور دوسری مصیبت بھی گلے پڑ جائے۔ اس کہاوت کے پس منظر میں جو کہانی ہے اس کے مطابق ایک شخص منتر پڑھ کر مردوں کو زندہ کرنے اور دوسرا منتر پڑھ کر انہیں دوبارہ مارنے کا جادو جانتا تھا۔

Read more

آمریت پر جمہوریت کا لیبل

محترمہ بے نظیر بھٹو اپنی کتاب آمریت یا جمہوریت کے ایک مضمون جمہوریت کی بحالی ناگزیر ہے میں لکھتی ہیں کہ گزشتہ ماہ جنرل پرویز مشرف امریکہ کے دورے پر گئے تھے، تاکہ اس عزت افزائی سے لطف اندوز ہو سکیں، جو دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے ایک اہم رکن ملک کے لیڈر نے انہیں بخشی ہے۔ اس مہینے انہوں نے ٹوکیو کا سفر بھی کیا، تاکہ 11 ستمبر کے واقعات کے بعد پاکستان نے جو کردار ادا

Read more

حماقتیں: شفیق الرحمن نرے ادیب نہیں، پہنچے ہوئے بزرگ تھے

"ان دنوں الیکشن زوروں پر تھا۔ الو شناس معروض ہوا کہ ہم دلی میں اس قدر مقبول ہوچکے ہیں کہ خواہ کسی ٹکٹ پر کھڑے ہو جائیں انشا اللہ کامیاب ہوں گے۔ بادشاہ گروں سے مشورہ لینا بے کار تھا۔ کیونکہ الیکشن کے معاملے میں وہ بالکل یوں ہی تھے۔ ایک ایک ٹکٹ پر لاتعداد امیدواروں کو نامزد کر دیتے تھے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات امیدواروں کی تعداد رائے دہندگان سے زیادہ ہوجاتی۔ لطف یہ تھا کہ ہمارے مقابلے

Read more

باڑ لگانے سے کیا ہوگا؟

ہاکی کے لیجنڈ کھلاڑی سمیع اللہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے بہاولپور میں ایک چوک پر ان کا مجسمہ لگایا گیا۔ جس میں وہ قومی ہاکی ٹیم کے لباس میں ہاکی کے ساتھ بال کو پش کرنے والے ہیں۔ کسی کھلاڑی کی خدمات کے اعتراف میں ایک اچھا اقدام تھا اس سے نا صرف نئے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہونی تھی بلکہ لیجنڈز کو بھی اطمینان قلب ملنا تھا کہ قوم نے ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا۔ مگراس مجسمے کو لگانے والے بھول گئے تھے کہ یہ وہ ملک ہے جو کولر کے ساتھ گلاس کو زنجیر لگی ہوتی ہے نادار لوگوں کی مدد کے لیے رکھے گئے چندے کے بکسوں کو بھی آہنی زنجیر سے محفوظ کیا جاتا ہے۔

Read more

ہم ایک جذباتی قوم ہیں

نکاح کی تقریب میں نکاح ہونے سے کچھ دیر قبل اسٹیج پر کھڑے قاضی صاحب نے بلند آواز میں کہا کہ اگر کسی کو نکاح پر اعتراض ہے تو ابھی بتا دے۔ آخری قطار میں سے ایک خوبصورت نوجوان لڑکی گود میں بچہ لیے اسٹیج کے نزدیک آ گئی۔ اس کو دیکھتے ہی دلہن نے دلہا کو تھپڑ مارنے شروع کر دیے۔ دلہن کا باپ بندوق لینے اندر کمروں کی طرف دوڑا۔ دلہن کی ماں اسٹیج پر ہی بے ہوش

Read more

ہاں بھٹو غدار تھا

کشمیر کے الیکشن میں علی امین گنڈا پور کا دوران تقریر بھٹو کو غدار کہنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے اور نا ہی بالکل بے جا الزام ہے۔ بھٹو مجرم تو ہے اور وہ بھی تاریخ کا مجرم ہے۔ بھٹو دور کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بھٹو کے بہت سے اقدامات ایسے تھے جس کی بنیاد پر کسی شک و شبہے کے بغیر بھٹو کو غدار قرار دیا جاسکتا ہے۔ مگر کوئی بات

Read more

آزاد کشمیر کے انتخابات

آوے ہی آوے تے جاوے ہی جاوے کے نعروں سے اس وقت ریاست کشمیر گونج رہی ہے۔ ریاست میں 25 جولائی کو انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ مایوس اور مشکلات کا شکار کشمیریوں کو ان کے قائدین ایک بار پھر بہتر مستقبل کی امید دلا رہے ہیں انتخابی جلسوں میں کی جانے والی تقاریر عصر حاضر کی چرب زبانی کی عمدہ مثالیں ہیں۔ روزگار کی یقین دہانیاں، مہنگائی میں کمی کے وعدے، پانچ سال تک خدمت کرنے کے حلف، اقتدار

Read more

افغانستان ۔۔ سپرپاورز کا قبرستان

افغانستان کی تاریخ بھی اپنی نوعیت کی منفرد اور انوکھی تاریخ ہے۔ ایک ایسا ملک پر جس پر ہر طاقتور نے حکمرانی کرنی چاہی اور کچھ مدت کے لیے تخت کابل پر براجمان بھی ہوا مگر بالآخر اس کو یہ تخت چھوڑنا پڑا۔ افغانستان کی تاریخ ویسے تو بہت قدیم ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کم وبیش پچاس ہزار سال سے اس علاقے میں انسانی آبادیوں کا ذکر ملتا ہے اور یہاں کی زراعت کا شمار بھی دنیا کی قدیم

Read more

حبس زدہ معاشرے کی سیاست

اس حبس زدہ معاشرے میں جہاں معصوم زینب سے لے کر موٹر وے پر سفر کرتی خواتین جنسی درندگی کا نشانہ بن گئیں اور دینی و دنیاوی تعلیمی اداروں میں مستقبل کے معمار اساتذہ اور ملاؤں کی جنسی ہوس کا نشانہ بن گئے۔ کتنی ہی مجبور عورتوں نے پیٹ کا جہنم بھرنے کی خاطر اپنی عصمتوں کا سودا کر لیا۔ ایسے ملک کے ذرائع ابلاغ کو اس سب کچھ کے باوجود اگر کچھ نظر آیا تو حریم شاہ کی شادی کا اعلان۔ مہنگائی، غربت اور بے روزگاری جیسے مسائل کے حل کی بجائے حریم شاہ کے ممکنہ دولہا کی تلاش شروع کردی گئی۔ اس کیفیت کو معروف شاعر شاکر شجاع آبادی نے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے کہ ساڈی دھاڑ سنڑی نہ کہیں شاکر، اوندی ہنجھ نکھتی ہل ہل پئے گی۔

Read more

فٹیف کے 26 نکات: کیا رادھا ناچے گی؟

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ بیان غورطلب ہے کہ دیکھنا پڑے گا کہ ایف اے ٹی ایف تکنیکی فورم ہے یا سیاسی فورم ہے۔ بہرحال جو بھی ہے 27 میں سے 26 نکات پر عملدرآمد کرنے کے بعد بھی ہمارے نصیب کی سیاہی ختم نہیں ہو سکی۔ بالفرض 27 نکات پر عمل بھی کر لیا جائے تو اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ہمارے سر سے سرمئی بادل چھٹ جائیں گے اور ہم روشنی میں آ جائیں

Read more

ایران کے نو منتخب صدر: سید ابراہیم رئیسی

ایران میں انقلاب سے قبل پہلوی خاندان کے چشم و چراغ رضا شاہ پہلوی کی حکومت تھی۔ بادشاہ رضا شاہ پہلوی کی تیسری بیوی ملکہ فرح دیبا پہلوی جو سلطنت کی طرح بادشاہ کے حواسوں پر مکمل طور پر چھائی ہوئی تھی ایک بار بادشاہ کے ہمراہ دربار میں موجود تھی۔ ملکہ نے جب ہاتھ پر بندھی گھڑی پر وقت دیکھا تو اس کو احساس ہوا کہ اس کی گھڑی مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ پیچھے چل رہی ہے۔ ملکہ

Read more

تھپڑ کی گونج اور قومی اسمبلی کا میدان جنگ

مرزا نوشہ نے کہا تھا کہ ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے۔ یوں تو مرزا غالب کی شاعری کی دنیا معترف ہے مگر ہم معترف ہونے کے ساتھ ساتھ مرعوب اس لیے بھی تھے کہ مرزا غالب کو دیدہ بینا عطا ہوئی تھی جو اپنے سامنے ہونے والے شب و روز کے تماشوں کو دیکھ سکتی تھی۔ مگر بھلا ہو بلاول بھٹو زرداری کا کہ ان کے بقول سلیکٹرز نے موجودہ ٹیم سلیکٹ کی ہے تو ان سلیکٹرز

Read more

اس بار بھی خسارے کا بجٹ

پاکستان میں ہر سال جون میں مالیاتی بجٹ پیش کیا جاتا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد سے ہر سیاسی عہد میں حکومتی اراکین ہر پیش ہونے والے بجٹ کو ملک و قوم کے لیے تاریخی بجٹ قرار دیتے ہیں جبکہ اپوزیشن اس بجٹ کو عوام دشمن بجٹ قرار دیتی ہے۔ ہر سال بجٹ پر ایک ہی جیسے بیانات سننے کو ملتے ہیں مطلب یہ کہ فلم کا اسکرپٹ ایک ہی ہوتا ہے جبکہ اداکار تبدیل ہو جاتے ہیں۔ بجٹ بنیادی

Read more

غداروں کی حکومت

برصغیر پاک و ہند کی تاریخ بھی خوب رہی ہے۔ اگر اس کی تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو سوائے مغلوں کے عہد کے کچھ برس جن میں اکبر کی بادشاہت کی وسط مدت شامل ہے سکون ملتا ہے تاہم اسے سے پہلے اور بعد میں حصول اقتدار اور حصول طاقت کی ایک ایسی جدوجہد شروع ہوئی جو جاری تھی جاری ہے اور جاری رہے گی۔ 1858 میں ملکہ برطانیہ نے ہندوستان پر براہ راست حکومت کا اعلان کیا

Read more

سیاست کی نوٹنکی

نوٹنکی کا لفظ ہم اکثر بولتے ہیں اور سنتے بھی ہیں۔ عام طور پر جب کسی کی برائی کرنا مقصود ہوتو اس کو نوٹنکی کا خطاب بھی دیتے ہیں۔ یہ نوٹنکی ہے کیا؟ نوٹنکی کا مطلب کوئی ڈرامہ، کھیل، دیہاتی ناٹک، سانگ یا کھیل تماشا ہے۔ نوٹنکی کا شمار ہندوستان کے قدیم ترین تھیٹرز میں ہوتا ہے۔ شمالی ہندوستان میں سفری تھیٹرز عوام کی تفریح کا سب سے بڑا ذریعہ تھے۔ یہ تھیٹرز دیہی روایتی میلوں میں لگائے جاتے جہاں

Read more

شہباز شریف کا مفاہمتی بیانیہ

وطن عزیز کی سیاست پر تبصرہ کرنا ہمیشہ سے مشکل ہی رہا ہے۔ یہاں پر ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہوتے ہیں اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔ جو کچھ کہا جا رہا ہوتا ہے اس کا مطلب کچھ اور ہوتا ہے اور جو نہیں کہا جاتا وہی حقیقت میں ہو رہا ہوتا ہے۔ سیاست کے طالب علموں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہاں پر سیاست دان کی کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی۔ کون سا

Read more

گورنر جنرل ملک غلام محمد اور مس بورل

ہماری سیاسی تاریخ میں ایک ایسا کردار گورنر جنرل ملک غلام محمد بھی گزرے ہیں۔ فالج زدہ یہ حاکم بولنے اور چلنے پھرنے سے معذور تھا مگر اس معذوری میں بھی ان کے دل کی دھڑکنیں کسی نوجوان دل کی دھڑکنوں سے زیادہ تیز تھیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے امور چلانے کے لیے اس معذور شخص کو ایسے ترجمان کی ضرورت تھی جو ان کی غوں غاں کو لفظوں میں بیان کرسکے اور اس کے لیے ان کا انتخاب مس بورل تھیں جو امریکن اور سوئس محبتوں کے ملاپ کا نتیجہ تھیں لہذا ان کا خوبصورت ہونا لازم تھا۔

تو گورنر جنرل ملک غلام محمد کی اس معذوری کی حالت میں بھی آشفتہ سری نہیں گئی اور انہوں نے مس بورل کو ایک رات ڈنر پر مدعو کر لیا۔ مس بورل اس ڈنر میں اپنی بوڑھی والدہ کے ساتھ شریک ہوئیں۔ اور یہ بات ایکسیلنسی کو بہت ناگوار گزری کہ ان کی والدہ ان کے ساتھ کیوں ہیں کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ مس بورل تنہا ڈنر میں شریک ہوں۔

Read more

کیا ترین گروپ کے مسائل حل ہو گئے؟

جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کے اراکین کی وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے ملاقات کے دوران ہم خیال کے وفد میں سعید اکبر نوانی، نعمان لنگڑیال، اجمل چیمہ، عون چوہدری، عمر آفتاب، نذیر چوہان اور دیگر شامل تھے وفد نے وزیراعلیٰ کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا اور وزیراعلیٰ نے وعدہ کیا کہ تمام تحفظات کا ازالہ کیا جائے گا جس پر ترین ہم خیال گروپ نے وزیراعلیٰ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ہم خیال ہونے

Read more

ایک ایس ایچ او کی طاقت تم کیا جانو

کہتے ہیں کہ ایک بار ایک مقدمے میں جج صاحب نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بخشو پر الزام ثابت نہیں ہوسکا اس لیے بخشو کو باعزت بری کیا جاتا ہے۔ بخشو نامی بوڑھے نے جو کٹہرے میں سر جھکائے اپنی قسمت کا فیصلہ سن رہا تھا نے سر اٹھایا اور جج کو دیکھتے ہوئے دعا دی کہ اللہ تمہیں ترقی دے اور تم بھی بڑے افسر بن کر ایس ایچ او لگ جاو۔ تو جج کو بوڑھے بخشو کی

Read more

پی ٹی آئی سے ٹی نکلنے کے بعد

بالآخر وہی ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ کپتان اور ترین کی یاری لیجنڈ فوک سنگر طفیل نیازی کے مطابق لائی بے قدراں نال یاری تے ٹٹ گئی تڑک کر کے۔ اور اس یاری کے ٹوٹنے کی اطلاع میڈیا کو عون چوہدری اور ممبر صوبائی اسمبلی محمد سلیمان نعیم نے دی۔ اس موقع پر عون چوہدری نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کے نام سے قومی وپنجاب اسمبلی میں اراکین اسمبلی الگ

Read more

سیاست کی بساط پر آخری چال زیگزوانگ

شطرنج کے کھلاڑی جانتے ہیں کہ شطرنج کی بساط پر کھیلتے ہوئے ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جہاں پر ایک چال جس کو زیگزوانگ (zugzwang) کہا جاتا ہے چلنے کا وقت آ جاتا ہے۔ یہ چال بنیادی طور پر کھیل کا ایک ایسا مرحلہ ہوتا ہے ایک ایسی کیفیت ہوتی ہے کہ اس موقع پر شاطر جو بھی چال چلتا ہے جس طرف بھی چلتا ہے ہر صورت میں اس کو مات ہی ہوتی ہے۔ اس طرح کے مرحلے

Read more

اعلان لاتعلقی

مخدوم جاوید ہاشمی کے متعلق ان کی جماعت کے ورکرز نعرے لگاتے پھرتے ہیں کہ وہ ایک بہادر آدمی ہیں۔ اسی بہادر آدمی نے ایک دن اپنے قائد کے بیان کے تسلسل میں کچھ زیادہ ہی سخت بیان داغ دیا۔ ایک بار تو اس بیان سے ان کی اپنی جماعت میں ہی تھرتھرلی مچ گئی۔ شاید ان کی جماعت گوجرانوالہ کے جلسہ میں اپنے قائد کی تقریر کی طرح اس بیان کی بھی توقع نہیں کر رہی تھی اور نتیجہ یہ

Read more

ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں

یونانی مدبر سولون  نے کہا تھا کہ قانون مکڑی کا وہ جالا ہے جس میں کمزور پھنس جاتے ہیں جبکہ طاقور اس کو پھاڑ کر نکل جاتے ہیں۔ اور طبقاتی سماج میں قانون طاقتور کے دروازے کے دربان کی حیثیت رکھتا ہے اور کمزور کے لیے قانون اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ اس کی دلیل یہ کہ فٹ پاتھ پر کھڑی ہوئی ریڑھی ناجائز تجاوزات کے زمرے میں آتی ہے قانون حرکت میں آتا ہے اور ریڑھی الٹ دی جاتی ہے اور ریڑھی مالک کو گرفتار کر لیا جاتا ہے وہی قانون حکم دیتا ہے کہ احتساب کے ادارے طاقتور سیاسی شخصیات کو گرفتار کرنے سے دس دن قبل گرفتاری کا نوٹس دیں گے۔ بنی گالہ میں کپتان کے گھر کے نقشہ کی منظوری سے لے کر کراچی میں بحریہ ٹاؤن کے نقشہ کی تیاری تک ایک قانون ہی ہے جو آنکھوں پر کالی پٹی باندھے دم سادھے رہتا ہے۔

Read more

آرمی چیف کی خواہش

تو سوال یہ ہے کہ کیا تماشا ختم ہونے جا رہا ہے؟ بظاہر جو کچھ ہو رہا ہے اس سے تو یہی لگ رہا ہے کہ تماشا ختم ہونے جا رہا ہے اس کی دلیل مریم نواز شریف کا وہ بیان ہے کہ میں چاہتی ہوں کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے تاکہ اس کو سیاسی شہید ہونے کا موقع نہ مل سکے۔ اس کیفیت پر بھی افتخار عارف کا شعر پیش خدمت ہے کہ

تماشا کرنے والوں کے خبر دی جا چکی ہے
پردہ کب گرے گا، کب تماشا ختم ہو گا

Read more

مریم کی جدوجہد یا شہباز کی مفاہمت

ایک کہاوت سنی تھی جس کا معنی و مفہوم یہ تھا کہ ایک سرے سے دوسرے تک ہر کام بے ڈھنگا اور عیب ہی عیب۔ اور اس کہاوت کی عملی تفیسر موجودہ حکومت کی تحریک لبیک کے تنازعہ میں دیکھ لی۔ ابتدا سے لے کر انتہا تک یہ معاملہ سمجھ سے باہر ہے ۔ پہلے حکومت نے اس جماعت کے ساتھ جان چھڑانے کے لیے معاہدہ کر لیا ، حالانکہ حکومتیں جان چھڑانے کے لیے کبھی معاہدے نہیں کرتیں اور جو معاہدے کرتی ہیں ان کی پاسداری کرتی ہیں۔

خیر، جب معاہدہ پورا کرنے کا وقت قریب آنے لگا تو سعد رضوی کو بظاہر بنا کسی تیاری کے گرفتار کر لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پورے ملک میں مظاہرے شروع ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ملک جام ہو گیا۔ تحریک لبیک کے مشتعل کارکنان نے پہلے پولیس کو مارا پھر پولیس نے ورکرز کو چھتر مارنے کی ویڈیوز اپ لوڈ کر کے اپنے مورال کو بلند کیا۔ دونوں کام غلط ہوئے ، نہیں ہونے چاہیے تھے۔

Read more

آرمی چیف قدم بڑھاؤ

میری آج کی تحریر پاکستان کی مسلح افواج کے سپہ سالار کے لیے ہے۔ آج میں ملک کے معروضی حالات سے پریشان ہو کر اپنے ملک کی جغرافیائی سرحدوں اور ان سرحدوں کے درمیان بسنے والے کروڑوں انسانوں کی حفاظت کا حلف اٹھانے والے اور پھر اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے عہد کو نبھاتے ہوئے دہشت گردی اور دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نذرانے دینے والے شہدا اور لاکھوں فوجیوں کے کمانڈر جناب

Read more

دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے

انقلابی شاعر حبیب جالب نے کہا تھا کہ وہی حالات ہیں فقیروں کے، دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے اور وزیراعظم کی کابینہ کی حالیہ تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے یقین ہو گیا ہے کہ دن پھرے ہیں تو فقط وزیروں کے وگرنہ عوام کی معاشی حالت کو بہتر کرنے کے وعدے کے ساتھ برسراقتدار آنے والی تبدیلی سرکار عوام کی معاشی حالت تو بہتر نہیں کر سکی ، البتہ چوتھی بار وزیرخزانہ تبدیل کر لیا ہے۔

مختلف وزرا کے قلم دان تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ مقام حیرت ہے کہ جو وزیر با تدبیر ایک وزارت پر کارکردگی نہیں دکھا سکا وہ دوسری وزارت میں کیا جوہر دکھائے گا۔ وزیراعظم محض قلم دان ہی کیوں تبدیل کر رہے ہیں، وزیر ہی کیوں نہیں بدل لیتے کہ کچھ بہتری ہو جائے۔ مگر شاید یہ بھی بے سود ہی ہو گا کہ وزیرخزانہ تو تین بار تبدیل ہو چکا۔ اب چوتھے کی باری ہے ، دیکھتے ہیں کہ ان کی معاشی پالیسیوں کے طفیل غریب عوام پر من و سلویٰ کب اترنا شروع ہوتا ہے۔

Read more

ڈیل کا نتیجہ ڈھیل

ملک کی سیاسی صورتحال کنٹرول ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم نے گزشتہ چھ ماہ سے حکومت کے خلاف جو تحریک شروع کی تھی جب اپنے نقطۂ عروج پر پہنچنے لگی تو اس میں پھوٹ پڑ گئی۔ حکومت نہیں بلکہ ملکی نظام کو بدلنے کی باتیں کرنے والے اتحاد سے عوام کی توقعات ابتدا میں بہت کم تھیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوامی توقعات بھی بڑھنے لگیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ عوام نے پی ڈی ایم کی باتوں پر کان دھرنا شروع کر دیے۔

Read more

اسمبلیوں کی تحلیل پر وجاہت مسعود کے سوال

عبدالقیوم صدیقی، شمع جونیجو، حماد غزنوی اور وجاہت مسعود سوشل میڈیا پر پاکستان میں اسمبلیوں کی تحلیل پر لندن میں سٹے بازی کے موضوع پر گفتگو کر رہے تھے۔ گفتگو کا آغاز محترمہ شمع جونیجو سے ہوا جس میں انہوں نے بتایا کہ لندن میں بکی عمران خان کی حکومت پر سٹہ لگا رہے تھے کہ کپتان اسمبلیوں کو تحلیل کرنے جا رہے ہیں اور مزے کی بات یہ کہ یہ بکی انڈین تھے۔ گفتگو کے شرکا کا ماننا تھا

Read more

جہانگیر ترین سے ڈسکہ الیکشن تک

اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو، میں اک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا۔ منیر نیازی کا یہ شعر نیازی سرکار کی موجودہ صورتحال کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ ضمنی انتخابات میں وفاقی حکومت کے امیدواروں کی چاروں صوبوں پے در پے شکست بنیادی طور پر عوام کا وہ عدم اعتماد ہے جس کو نیازی سرکار اور اس کے خیرخواہ فی الوقت تسلیم کرنے کو تیار نظر نہیں آرہے۔ ضمنی الیکشن بنیادی طور پر حکومتی

Read more

شک کا جنگل اور حالیہ سیاسی غدر

کامریڈ ڈاکٹر لال خان نے ایک بار کہا تھا کہ اس نظام میں اقتدار کے حصول کے لیے ہر قسم کی سودا بازی کی جاتی ہے اور اسے قائم رکھنے کے لیے ضمیر، اصول اور نظریات بازار میں نیلام کیے جاتے ہیں۔ اس بحران زدہ نظام زر کی سیاست کا یہی اصول، طریق کار اور یہی لائحہ عمل ہے اور جب تک یہ نظام قائم ہے حکمران طبقات کے جعلی تضادات اور معاہدوں کی منافقت عوام کو برباد کرتی رہے۔

Read more

سب کے لیے ایک بہتر اور صحت مند دنیا کی تعمیر

دنیا بھر میں سات اپریل کو عالمی یوم صحت آگاہی کا دن منایا گیا۔ یہ دن عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے قیام کے دن کے موقع پر منعقد کیا جاتا ہے۔ اس بار ماہرین صحت نے ذہی صحت، زچگی اور بچوں کی دیکھ بھال اور ماحولیاتی تبدیلیوں پر اظہار خیال کیا اور اس ضمن میں اپنی ماہرانہ رائے دیں۔ رواں سال میں ورلڈ ہیلتھ ڈے کا تھیم ہی سب کے لیے ایک بہترمنصفانہ اور صحت مند دنیا کی تعمیر رکھا گیا۔

پاکستان میں بھی اس دن کے موقع پر پاپولیشن کونسل نے صحافیوں کے ساتھ ایک آن لائن مذاکرہ رکھا جس میں عالمی شہرت یافتہ پاکستان کے نامور ماہر صحت ڈاکٹر شہزاد علی خان، پاپولیشن کونسل کی پروجیکٹ ڈائریکٹر سامیہ علی شاہ نے اظہار خیال کیا۔

Read more

مسلم لیگ نواز کی سیاست پر سردار دوست محمد کھوسہ کا تبصرہ

ہر گزرتے دن کے ساتھ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں میں فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اتحاد میں شامل دو سیاسی جماعتیں جو بنیادی طور پر لیفٹ کی سیاست کرتی ہیں ، عملی طور پر اس اتحاد سے الگ ہو چکی ہیں۔ اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتیں یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بنوانے پر خفا ہیں۔ اور اسی لیے طے ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی اور اے این پی کو پی ڈی ایم

Read more

قائد عوام ذوالفقارعلی بھٹو کے اقوال

ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کی سیاست پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ بھٹو ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہی نہیں بلکہ ایک طلسماتی شخصیت کے مالک تھے۔ پاکستان کی سیاست میں ایک ہنگامہ خیز زندگی گزارنے والے بھٹو کو دنیائے سیاست میں ایک خاص شہرت اور مقام نصیب ہوا۔ اسی لیے جب 3 اپریل 1979 کو ان کو پھانسی کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے ڈپٹی جیل سپرٹنڈنٹ خواجہ غلام رسول کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی صاحب

Read more

سرمد نے انکار کیا اور سولی چڑھ گیا

بالآخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا اور جو اس طرح کی صورت حال میں ہوتا رہا ہے۔ جو اس سے قبل بھی ہوتا رہا اور شاید آئندہ بھی ہوتا رہے۔ کوئی نئی بات نہیں ہوئی جو کچھ معین قریشی نے کیا اور جو شوکت عزیز  نے کیا وہی کچھ حفیظ شیخ نے بھی کیا اور کام ختم ہونے پر بیگ اٹھایا اور چلتے بنے۔ اچھا ہوا یا برا ہوا ، ان کو اس سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے

Read more

کپتان کی بیٹنگ اور امپائر کا نوبال

کہتے ہیں کہ ایک بار ممبئی انڈیا میں کرکٹ کا چیئریٹی میچ ہو رہا تھا۔ چیئرمیٹی میچ میں اس وقت کے سٹار سنیل گواسکر کو بھی بیٹنگ کے لیے مدعو کیا گیا۔ سنیل گواسکر کے پرستاروں سے کرکٹ اسٹیڈیم کچھاکچھ بھرا ہوا تھا۔ سنیل گواسکر بیٹنگ کے لیے آیا تو باولنگ کسی کلب کے نوجوان کو دی گئی۔ نوجوان نے جب یہ دیکھا کہ سنیل گواسکر کو باولنگ کا موقع مل رہا ہے تو اس نے پوری جان ماری اور

Read more

پاکستان اور جنوبی ایشیا کے حالات

چین سے تعلقات کے حوالے سے پاکستان میں ایک عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ چین ایک بہترین دوست ہے۔ اس لیے چین سے متعلق کہا جاتا ہے کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے زیادہ بلند، سمندر سے زیادہ گہری اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے۔ دوستی کے اعتبار سے چین ہمیشہ ایک قابل اعتماد ثابت ہوا ہے جب بھی ہماری مشرقی سرحد پر دباو بڑھا ہے تو شمال سے ہمارے لیے ہمیشہ ٹھنڈی ہوا چلی ہے۔ بلا شک

Read more

پی ڈی ایم اور ’سب سے بھاری‘ کی سیاست

ایک مشہور ضرب المثل ہے کہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز حجم کے اعتبار سے بڑی ہوتی ہے اور طاقتور بھی ہوتی ہے تو تمام چھوٹی چیزیں اس کی اطاعت شروع کر دیتی ہیں اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ فی زمانہ یوں سمجھیں کہ عہدے اور اختیارات کے اعتبار سے جب کوئی طاقت ور شخص کسی کمزور کو کوئی حکم دیتا ہے تو کمزور شخص بلاچوں

Read more

23 مارچ یوم جمہوریہ سے یوم پاکستان تک

دنیا کے کئی ممالک میں قومی دن منانے کی روایت موجود ہے۔ کوئی بھی ملک سال کی کسی مخصوص تاریخ کو کسی کام یا کسی واقعہ کی بنیاد یا نسبت سے قومی دن مناتا ہے یہ دن ان کی ملی تاریخ میں ایک خاص حیثیت اور مقام رکھتا ہے۔ اس قومی دن کو قومی تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے اور اکثر ممالک میں اس دن سرکاری سطح پر فوجی پریڈ ہوتی ہیں اور قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا

Read more

ایک زرداری سب پہ بھاری پڑ گیا

نوے کے عشرے میں ملک کی سیاست دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے گرد گھومتی رہی۔ یکے بعد دیگرے اقتدار حاصل کرنے والی جماعتوں نے اس دہائی میں جس کو گمشدہ عشرہ بھی کہا جاتا ہے میں مدت حکومت پوری نہیں کی۔ مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد دونوں سیاسی جماعتوں کے قائدین ملک سے باہر چلے گئے۔ اور جنرل مشرف نے ملک میں ان دو جماعتوں کی سیاست عملی طور پر ختم کر دی۔ پیپلز

Read more

مدینہ چھوڑنے کا فیصلہ کرنا پڑے گا

چیئرمین سینیٹ کے انتخابی نتائج پر سب سے مکمل تبصرہ سابق صدر آصف علی زرداری نے کیا کہ انتخابی نتائج کو سینہ زوری سے بدلا گیا ہے تاہم اس کی وضاحت نہیں کی کہ اتنی سینہ زوری کون کر رہا ہے اور یہ بھی وضاحت طلب بات ہے کہ سینہ زوری کیوں کی جا رہی ہے۔ جو بھی حالیہ سینیٹ الیکشن میں ہوا اس سے کسی طور جمہوریت کا فائدہ نہیں ہوا اور جمہور یہ بات سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ موجودہ جمہوریت بنیادی طور پر ایک لبادے کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس نے بھی یہ لبادہ اوڑھ رکھا ہے اس کے متعلق بھی یہ جمہور بخوبی جانتی ہے۔ ماضی میں اس کا تذکرہ زیر لب ہوتا تھا تاہم اب تو کھلے عام تذکرہ ہو رہا ہے۔ گویا عہد جدید کی محبت ہی ہو گئی کہ پہلے محبوب کا نام اشاروں کنائیوں میں لیا جاتا تھا مگر اب سرعام کیمروں کے سامنے پھول دے کر محبت کا اظہار کیا جاتا ہے۔

Read more

گیلانی بمقابلہ سنجرانی: بادشاہ گر پیادہ قربان کرے گا؟

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے میدان سج گیا ہے۔ بات اب دنوں کی نہیں گھنٹوں کی رہ گئی ہے۔ گیلانی اور سنجرانی کے کیمپ ووٹرز کو لبھانے کے لیے بقول شبلی فراز کے ہر سیاسی حربہ استعمال کر رہے ہیں۔ وعدے، یقین دہانیاں، تسلیاں، وزارتیں، ٹھیکے، خرچہ پانی، نوکریاں، کیسز کی معافی، انکوائریوں کے ٹھپ کرنے کی یقین دہانیاں بھی سیاسی حربے کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں۔ طاقت اور اختیار کے مزید حصول کی جنگ میں سب کچھ جائز سمجھ کے کیا جا رہا ہے۔ قانون ساز ادارے کے سربراہ کے چناؤ کے لیے ہر غیر قانونی رستہ اپنایا جاسکتا ہے۔ عوام اپنی آنکھوں سے ہوس اقتدار کا ننگا اور واہیات کھیل دم سادھے دیکھ رہی ہے کیونکہ یہ ان کا نہیں ملک کی سیاسی اشرافیہ کا کھیل ہے اور یہاں پر بھی عوام کی حیثیت محض ایک تماشائی سے زیادہ کی نہیں ہے۔

Read more

سینیٹ الیکشن اور ضمیر کے قیدی

پاکستان کی مروجہ سیاست نہ تو نظریاتی سیاست ہے اور نہ ہی کسی اصول و ضابطے کو خاطر میں لاتی ہے۔ انفرادی حیثیت سے لے کر پارٹی کی سیاست تک تمام تر فیصلے وقتی اور ذاتی مفادات کی خاطر کیے جاتے ہیں۔ چھانگا مانگا کے جنگل میں قید ضمیر کے قیدیوں میں اور یکم اگست 2019  کو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی ناکامی میں کردار ادا کرنے والے ضمیر کے قیدیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

Read more

کیا یہ کوئی بغاوت ہے؟

اموی خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کی وفات کے بعد عمر بن عبدالعزیز کو شاہی تخت پر بٹھایا گیا۔ ناز و نعم میں پلے بڑھے شہزادے کو یہ جانشینی پسند نہ آئی اور تخت کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دیا کہ میں بادشاہ نہیں بن سکتا۔ لوگوں نے منت سماجت کر کے اپنی خوشی اور رضا مندی سے آپ کو دوبارہ تخت شاہی پر لا بٹھایا۔ اب کی بار تخت وراثت میں نہیں لوگوں کی رضامندی سے حاصل ہوا اور اسی

Read more

کیا اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہو گئی ہے؟

فروری میں ہونے والے ضمنی انتخابات نے ملک کی سیاسی فضاء کو گرما دیا ہے۔ این اے 75 ڈسکہ کی نشست پر ضمنی انتخاب نے تو گویا میڈیا کی ساری توجہ ہی حاصل کر لی۔ ڈسکہ میں الیکشن ہوا اور خوب ہوا۔ نون لیگ کے ووٹرز نے بھرپور الیکشن لڑا اور شام تک ڈسکہ میدان جنگ بنا رہا۔ اس کے بعد نتائج آنا شروع ہوئے تو بیس پریذائیڈنگ آفیسرز دھند میں بھٹک گئے۔ صرف وہ نہیں بھٹکے ساتھ میں الیکشن نتائج بھی بھٹک گئے اور جیت ہار میں بدل گئی۔ ایسے میں وزیراعظم نے ٹویٹ کیا کہ بیس پولنگ اسٹیشنوں پر ری پول ہو جبکہ مریم نواز صاحبہ کا مطالبہ تھا کہ پورے حلقے میں الیکشن ہوا تاہم اپوزیشن کا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا اور الیکشن کمیشن نے این اے 75 کے الیکشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے 18 مارچ کو نئے الیکشن کی تاریخ دے دی۔

Read more

دیس میں دھند کا راج

دھند کا راج قائم ہو جائے تو حد نگاہ بسا اوقات صفر بھی ہو جاتی ہے۔ ایسی حالت میں امور زندگی رک جاتے ہیں۔ راہ چلتے مسافروں کو روک دیا جاتا ہے کہ کہیں کسی حادثے کا شکار نہ ہو جائیں اور جنہوں نے سفر پر نکلنا ہو ان کے لیے راستے بند کر دیے جاتے ہیں۔ دھند کے راج میں کچھ دیر کو سہی مگر سورج کی حیثیت بھی بے معنی ہو جاتی ہے جدید سائنس کے پاس بھی

Read more

جب پیر علی محمد راشدی نے جنرل ایوب خان کو پاکستان کا بادشاہ بننے کا مشورہ دیا

فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے نام پیر علی محمد راشدی کے خط کا متن منجانب پیر علی محمد راشدی سفارت خانہ پاکستان منیلا، فلپائن 27 جولائی 1961 جناب عالی میں حضور کے یکم جولائی کے نوازش نامے کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ یہ خط میری آئینی تجاویز کے جواب میں ہے۔ آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ یہ بادشاہت کتنی بھی اچھی چیز کیوں نہ ہو مگر آج کے زمانے میں اس کی طرف دوبارہ رجوع

Read more

جوش ملیح آبادی کی زندگی کے چار بنیادی میلانات

(22 فروری جوش ملیح آبادی کی برسی ہے۔)  برصغیر پاک وہند کے قادرالکلام شاعر جوش ملیح آبادی کے متعلق کچھ لکھنا یا تبصرہ کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔ ایک ایسا شخص جو اپنی ذات میں ایک انجمن ہو جس کی شاعری کے علاوہ نثر بھی نقطۂ کمال کو پہنچ رہی ہو کوئی کیا لکھے گا۔ اس لیے جوش سے متعلق گفتگو ان کی اپنی ہی زبانی ٹھیک رہے گی۔ جوش اپنی خود نوشت یادوں کی برات میں لکھتے ہیں کہ

Read more

ضمنی انتخابات، سینٹ الیکشن اور مہنگائی مارچ

عمران خان ایک جوش اور ولولے کے ساتھ جب برسراقتدار آئے توعوامی امنگیں انتہاوں کو چھو رہی تھیں۔ عوامی مقبولیت اور پسندیدگی کے ہمالیہ کی سب سے بلند چوٹی پر براجمان کپتان کو اتنی بلندی سے ہر چیز محض چھوٹی ہی نہیں بہت پست بھی نظر آ رہی تھی۔ اپوزیشن کے سلیکٹڈ کے بیانیے کو ایک لمحے کو مسترد کرتے ہوئے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ سات دہائیوں سے روایتی سیاست سے تنگ عوام نے تبدیلی کے لیے

Read more

ویلنٹائن ڈے: محبت کرنے والوں کا تہوار

فروری کو ویلنٹائن ڈے دنیا بھر میں مختلف طریقوں سے انتہائی جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ امریکہ اور کینیڈا میں اس دن کے موقع پر خصوصی تعطیل کی جاتی ہے اور اس دن کو مکمل طور پر مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ لوگ یہ دن تجدید محبت کے طور پر مناتے ہیں اور ایک دوسرے کو تحائف دیتے ہیں اور دعوتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ صرف امریکہ میں کرسمس کے بعد ویلنٹائن

Read more

انسانیت کو تسخیر کائنات کا درس دینے والا۔ فیض احمد فیضؔ

”اب جبکہ کائنات کے راستے ہم پر کشادہ ہو گئے ہیں۔ ساری دنیا کے خزینے انسانی بس میں آسکتے ہیں تو کیا انسانوں میں ذی شعور، منصف مزاج اور دیانت دار لوگوں کی اتنی تعداد موجود نہیں ہے جو سب کا منوا سکے کہ یہ جنگی اڈئے سمیٹ لو۔ یہ بم اور راکٹ، توپیں، بندوقیں سمندر میں غرق کردو اور ایک دوسرے پر قبضہ جمانے کی بجائے سب مل کر تسخیر کائنات کو چلوجہاں جگہ کی کوئی تنگی نہیں ہے،

Read more

پہاڑوں کا بیٹا علی سدپارہ

سدپارہ کا نام دنیا کے سامنے اس وقت آیا جب اس گاؤں سے تعلق رکھنے والے حسن سدپارہ نے بطور کوہ پیما کئی ریکارڈ اپنے نام کیے۔ حسن سدپارہ نے کوہ پیمائی کا آغاز 1994 میں کیا اور پانچ سال بعد 1999 میں قاتل پہاڑ نانگا پربت کو سر کر کے پیشہ ور کوہ پیما بن گئے۔ حسن سدپارہ نے 2004 میں کے ٹو، 2006 میں گیشا بروم 1 اور گیشا بروم 2 کو سر کر لیا۔ اگلے سال 2007 میں براڈ پیک کو سرکر کے پاکستان میں واقع 8 ہزار میٹر سے بلند پانچ چوٹیوں کو سرکر کے ہیرو بن گئے۔

Read more

جنوبی پنجاب کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کا شکریہ

ڈیرہ غازی خان کا شمار پنجاب کے ان اضلاع میں ہوتا ہے جہاں کی سیاسی شخصیات نے ملکی و صوبائی سیاست میں اہم عہدوں پر بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے ڈیرہ غازی خان کو قدرت نے فیاضی سے نوازا ہے۔ ضلع ڈیرہ غازی خان کے مشرق میں دریائے سندھ بہتا ہے تو مغرب میں کوہ سلیمان کا پہاڑی سلسلہ موجود ہے اور یہ پنجاب کی آخری صوبائی حد ہے ۔ اس سے آگے بلوچستان شروع ہو جاتا

Read more

مولانا فضل الرحمن کو ایک مشورہ

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا شمار ملک کے ان چند سیاست دانوں میں ہوتا ہے جن سے متعلق سنجیدہ حلقوں میں ایک رائے متفقہ طور پر پائی جاتی ہے کہ مولانا ان لوگوں میں سے ہیں جن کو مروجہ سیاست کی ہر باریکی کا علم ہے۔ سیاست کے میدان میں کون سا مہرہ کس وقت چلنا ہے یہ مولانا سے بہتر شاید ہی کوئی جانتا ہو۔ مولانا فضل الرحمن کے سیاسی نظریات سے بھلے کسی کو

Read more

5 فروری۔ یوم یکجہتی کشمیر

گزشتہ تین دہائیوں سے 5 فروری کا دن کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کے طور پر منایا جاریا ہے اور اس بار یہ دن ایسے موقع پر آیا ہے جب مقبوضہ کشمیر پر غاضب ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں ہزاروں کسان مودی سرکار کی زرعی اصلاحات کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور تازہ زرعی اصلاحات کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کسانوں کا یہ احتجاج گزشتہ تین ماہ سے جاری ہے تاہم اس میں شدت اس وقت آئی جب

Read more

روشنی کب آتی ہے؟

کہتے ہیں کہ ایک بار حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی نے اپنے حلقہ ارادت میں بیٹھے ہوئے مریدوں سے پوچھا روشنی کب آتی ہے؟ ایک مرید نے بڑے ادب سے جواب دیا : حضرت ”جب سفید اور سیاہ دھاگے میں فرق نظر آنے لگے یہی روشنی ہے“ دوسرے مرید نے عرض کی ”حضور جب دور کے درختوں کو دیکھ کر معلوم ہو جائے کہ بیری کا درخت کون سا ہے اور شیشم کا درخت کون سا تو سمجھیے یہ روشنی

Read more

فارن فنڈنگ کا حمام

قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی ایک تقریر میں فرمایا تھا کہ نیا بننے والا ملک ایک ایسی لیبارٹری ہو جہاں پر اسلامی نظریات پر تجربات کیے جا سکیں۔ ایک ممنون قوم کی طرح ہم نے قائد کے اس بیان پر سیاق و سباق سے ہٹ کر اپنے فکری شعور، اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کی خاطر دل وجان سے عمل کرنا شروع کر دیا۔ ہم نے دنیا کے ممالک کی جنگیں خود پر مسلط کر لیں۔ ہم نے

Read more

ہمارے عمرو عیار اور ان کی زنبیلیں

بادشاہ اور اس کے حواریوں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دھوکہ اور فریب بھی بندہ اس وقت کھاتا ہے جب پیٹ بھرا ہو اور خالی پیٹ تو صرف روٹی ہی کھا سکتا ہے ، مزید دھوکہ اور فریب نہیں کھا سکتا۔ مگر پھر بھی داستان ہوشربا کے بادشاہ کی ہمت قائم ہے اور ہر بار زنبیل سے کوئی نہ کوئی نئی چیز نکال ہی لیتا ہے اور لوگ کچھ دیر روٹی کو بھول کر اس تماشے میں لگ جاتے ہیں۔ اس بار زنبیل سے فارن فنڈنگ کیس اور براڈ شیٹ کا ایشو نکالا گیا ہے دیکھتے ہیں کہ کتنے دن اس کے سہارے گزر سکتے ہیں کتنی دیر مزید شعبدہ بازی کی جا سکتی ہے۔

Read more

سقراط کی معذرت

بالآخر مقدمے کا دن آن پہنچا۔ صبح سویرے سقراط کا دوست کرائٹو اور اس کا بیٹا بولس، افلاطون اور دیگر لوگ سقراط سے ملے اور اس کے ساتھ عدالت گئے۔ جیوری اراکین آ گئے اور مقدمے کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز ہوا۔ سب سے پہلے درخواست گزار نے کھڑے ہو سقراط پر لگائے گئے الزامات دھرائے۔ اس دوران سقراط خاموش بیٹھ کر کچھ سوچتا رہا۔ اب جیوری نے سقراط کو اپنے دفاع میں تقریر کرنے کی اجازت دی۔ یونانی عدالتوں میں ملزم جب اپنے دفاع میں تقریر کرتا تو اس تقریر کو معذرت کہا جاتا تھا۔ اور سقراط کی اس معذرت کو حرف بہ حرف اس کے شاگرد افلاطون نے تحریر کیا۔

Read more

شاعر اہل بیت محسن نقوی

سید محسن نقوی کو اگر وطن عزیز کے ادبی حلقوں میں ڈیرہ غازی خان کی پہچان اور شناخت کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا۔ محسن محض ایک شاعر نہیں بلکہ ایک طاقتور و توانا آواز ہے ، ایک ایسی آواز جس نے مظلوموں کی حمایت میں ظالموں کو سرعام اور ہر سطح پر للکارا۔ ببانگ دہل ظلم وجبر کے خلاف لکھا۔ محسن نقوی کا شعری سفر ایک شعوری انداز میں منزل کی طرف گامزن رہا۔ بند قبا سے لے

Read more

کس برہمن نے کہا تھا یہ سال اچھا ہے؟

وطن عزیز میں نئے سال کے ابتدائی دو ہفتوں کا اگر بغور جائزہ لیں تو اسلام آباد میں اسامہ ستی کا قتل، مچھ میں گیارہ کان کنوں کا بہیمانہ قتل، پورے ملک میں بجلی کا بریک ڈاؤن اور براڈ شیٹ اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ براڈ شیٹ اسکینڈل کے تحت لندن ہائیکورٹ میں کیس ہارنے کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) نے براڈ شیٹ فرم کو 4 ارب 58 کروڑ روپے ادا کیے جبکہ نیب کے وکیل اور لیگل فرم کو فیس کی ادائیگی کے بعد یہ رقم 7 ارب 18 کروڑ روپے تک پہنچ جائے گی۔ گویا کہہ سکتے ہیں کہ نئے سال کی ابتدا جانی و مالی نقصان سے ہوئی۔

Read more

حاکم کی انا سلامت رہے بس!

ریاست مدینہ (جدید) پر آج بھی کربلا کا سایہ ہے۔ آج بھی کلمہ گو ناحق قتل ہو رہے ہیں اور ستم یہ کہ قاتل کی زباں پر بھی کلمہ کا ورد جاری ہے۔ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ کربلا میں عددی اعتبار سے ایک مختصر قافلہ حاکم وقت کی طاقت، رعونت اور انا کی بھینٹ چڑھ گیا۔ مرد شہید کر دیے گئے اور خواتین کو گرفتار کر لیا گیا۔ درباریوں، مصاحبین نے شاہ کو عظیم فتح کا مژدہ سنا کر انعام میں عہدے سمیٹے۔ باقیوں کو پا بہ زنجیر دربار میں پیش کیا گیا۔

یہی نہیں بلکہ یقینی فتح کی دلیل کے طور پر سالار قافلہ کا سر مبارک بھی تھال میں رکھ کر پیش کیا گیا اور یوں شاہ کی فتح مکمل ہوئی۔ شاہ اصولی موقف کی بلیک میلنگ سے بچ گیا، بیعت سے انکار کی بلیک میلنگ سے بھی بچ گیا۔ زمینی حقائق کے مطابق شاہ جیت گیا اور بغاوتوں کو کچل دیا مگر وقت نے اپنا فیصلہ دیا اور شام کے دربار کے مفتوح کو فاتح اور تخت نشین فاتح کو قیامت تک شکست خوردہ قرار دے دیا۔

Read more

روایت شکن بھٹو کی زندگی کے مہ و سال

”چونکہ میں سکول میں پڑھتا ہوں اس لیے پاک وطن کے قیام میں مدد دینے کے قابل تو نہیں ہوں لیکن وقت آئے گا جب میں پاکستان کے لیے اپنی جان تک قربان کر دوں گا“ ، 26 اپریل 1945 کو قائد اعظم محمد علی جناح کو لکھے گئے خط میں ایک سترہ سالہ طالب علم نے پاکستان سے اپنی محبت کا بھر پور اظہار کیا اور وطن کی خاطر جان کی قربانی دینے کا عہد کیا۔

یہ طالب علم کوئی اور نہیں سر شاہ نواز بھٹو کے لاڈلے بیٹے ذوالفقار علی بھٹو تھے ، جن کی پیدائش 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ کے المرتضیٰ ہاؤس میں ہوئی ۔ نومولود کا نام مسجد میں لے جا کر رکھا گیا۔ چار سال کی عمر میں رسمی مذہبی تعلیم اور قرآن ناظرہ پڑھنے کی خاطر مسجد میں بٹھایا گیا۔ ایک روایت کے مطابق بھٹو کی تعلیم کا آغاز نو سال کی عمر سے پہلے نہ ہو سکا۔ 1937 سے 1947 کی دہائی میں کنڈر گارٹن سکول کراچی اور کیتھڈرل سکول بمبی میں پڑھتے رہے۔ صرف 14 برس کی عمر میں ذوالفقار علی بھٹو کی شادی 25 سالہ کزن امیر بیگم سے ہو گئی۔

Read more

کوئی تو زنجیر عدل کھینچے

آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ الفاظ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی 11 اگست کی تقریر میں ادا کیے۔ نئی ریاست کی تشکیل کے وقت یہ تھا ریاست کا وہ

Read more

مریم نواز اور بے نظیر بھٹو کی چوکھٹ

مریم نواز کی گڑھی خدا بخش حاضری اور شہید رانی کی قبر پر بطور عقیدت پھولوں کا نچھاور کرنا اور عوام کے جم غفیر سے خطاب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مریم نواز شریف جمہوریت کی بحالی کی خاطر سنجیدہ ہیں۔ پنجاب کی طرز سیاست سندھ سے یکسر مختلف ہے مگر ایک نقطہ مشترک ہے اور وہ جمہوریت ہے۔ پاکستان کی سیاست میں جمہوریت کے علمبرداروں کی گڑھی خدا بخش کے قبرستان کی حاضری ضروری ہے۔ بھٹو کے

Read more

بے نظیر بھٹو کی شہادت اور پاکستان کھپے

راولپنڈی بھٹو خاندان کے لیے کسی کربلا سے کم نہیں ہے۔ اسی شہرمیں 4 اپریل 1979 کو ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی اور ان کے تابوت کو گڑھی خدا بخش روانہ کیا گیا اور اسی شہر کے لیاقت باغ میں ان کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007 کو ایک قاتلانہ حملہ میں شہید کر دیا گیا اور ان کے جسد خاکی کو گڑھی خدا بخش روانہ کیا گیا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ضیا الحق کا عہد آمریت ہویا پھر مشرف کا نیم مارشل لا کا دور حکومت ہو ان ادوار میں جمہوریت کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں بھٹو خاندان نے ہی دی ہیں۔

Read more

وہ لڑکی لال قلندر تھی

فیض احمد فیض کا ملک میں مروجہ سیاسی نظام پر آفاقی کلام کہ نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں / چلی ہے رسم کہ کوئی نا سر اٹھا کے چلے / جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے / نظر چرا کے چلے، جسم و جان بچا کے چلے اس قدر حقیقت کے قریب ہے کہ چاہنے کے باوجود کوئی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا۔ فیض نے اس نظم سے بلاشبہ دریا کو کوزے میں

Read more

بے نظیر بھٹو کی پکار: الوداع پاپا

ایک تیز رفتار جیب میں ہمیں جیل پہنچا دیا گیا۔ حفاظتی افواج کے پیچھے خوف زدہ لوگوں کا ہجوم تھا جنہیں اپنے وزیراعظم کی قسمت کے متعلق کوئی خبر نہیں، جیل کی میٹرن نے میری والدہ اور میری تلاشی لی، ایک مرتبہ جب ہم سہالہ کے قید خانہ سے روانہ ہوئیں اور دوسری مرتبہ سنٹرل جیل پہنچیں آج تم دونوں اکٹھی یہاں کیوں آئی ہو؟ میرے والد نے اپنی کال کوٹھڑی کی دوزخ سے آواز دی میری والدہ نے کوئی

Read more

لاہور جلسہ: کتنے آدمی تھے؟

نوم چومسکی نے کہا تھا کہ جمہوریت کو کمزور کرنے کا سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ فیصلہ کن طاقت ایسے اداروں کو سونپ دی جائے جو احتساب سے بالا تر ہوں۔ جیسے بادشاہ، شہزادے، مذہبی رہنما، فوجی حکمران اور جدید کارپوریشنز یعنی صنعتی ادارے۔ جہاندیدہ نوم چومسکی نے غلط نہیں کہا تھا اگر ذرا غورکریں تو بلاشبہ یہ شخصیات اور ادارے احتساب سے بالا تر ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی صاحبزادی بے نظیر بھٹو شہید سے ایک

Read more

عوام کے حق حاکمیت کی فیصلہ کن جنگ

2007 میں لیاقت باغ کے جلسہ کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت نے 2008 کے عام انتخابات کا رخ متعین کر دیا۔ عوامی ہمدردی کی ایسی لہر چلی جس نے جنرل مشرف کے ارادوں کو خاک میں ملادیا۔ اقتدار من پسند سیاسی جماعت کی بجائے پیپلز پارٹی کو دینا مجبوری بن گیا۔ اگر محترمہ کی شہادت سے پہلے کے انتخابی حالات کا بغور جائزہ لیں تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مسلم لیگ ق بہت آسانی

Read more

فرانسیسی ملکہ انٹونیٹ کا کیک اور ترک ڈرامہ یونس ایمرے

تاریخ عالم کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اقتدار کے رویے ہمیشہ سے ایک جیسے رہے ہیں۔ بادشاہت ہو یا شخصی آمریت یاپھر نیم جمہوری نظام جو بھی مسند نشیں ہوا اس کا لب ولہجہ عام انسانوں جیسا نہیں رہا۔ فرانسیسی عوام روٹی کو ترس رہے تھے اور آٹے کی قلت کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔ ملکہ میری انٹونٹ نے عوامی احتجاج کی وجہ دریافت کی تو معلوم ہوا کم نصیب بھوکے ہیں اور آٹے کی قلت کے

Read more

ڈانسنگ ایلیفینٹ

دنیا کے تمام براعظموں میں موجود مسلمان ممالک جن کو قدرت نے فیاضی سے وسائل سے نوازا ہوا ہے نے بھی ایک تنظیم بنائی ہوئی ہے جس کو او آئی سی کا نام دیا گیا ہے۔ 21 اگست 1969 کو مسجد اقصیٰ پر یہودیوں کے حملے کے رد عمل کے طور پر 25 ستمبر 1969 کو مراکش کے شہر رباط میں او آئی سی کا قیام عمل میں آیا۔ 57 مسلمان ممالک کے سوا ارب کے قریب مسلمانوں کی یہ

Read more

ملتان جلسہ میں عکس بے نظیر

جلسہ تو ہو کر رہے گا کا نعرہ لگانے والی اپوزیشن نے بالآخر ملتان میں جلسہ کر ہی دیا۔ ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ میں ہونے والے جلسے کو روکنے کے لیے حکومت نے ہر حربہ استعمال کیا۔ ایک خوف کی فضا پیدا کی گئی پیپلزپارٹٰی اور نون لیگ کے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ جلسہ گاہ کو جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا۔ مخدوم سید یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے ورکروں کے ساتھ قاسم باغ میں جانے کے لیے زور لگاتے رہے۔

تین دن ملتان انتظامیہ اور ورکروں کے درمیان آنکھ مچولی ہوتی رہی اور حکومتی کارکردگی نے روایتی احتجاجی جلسے کی بجائے ایک بھرپور مزاحمتی جلسہ بنا دیا۔ تمام تر خوف کے باوجود جنوبی پنجاب کے اضلاع سے کارکن قافلوں کی صورت میں نکلے۔ ڈیرہ غازی خان، راجن پور اضلاع سے سب سے بڑا قافلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار دوست محمد خان کھوسہ کی قیادت میں ملتان پہنچا۔ انتظامات نا ہونے کے باوجود جلسے میں عوام کی تعداد قابل تعریف تھی۔

Read more

حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے صوبائی وزرائے تعلیم سے میٹنگ کے بعد اعلان کیا کہ تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے 26 نومبر سے 10 جنوری تک بند رہیں گے۔ حسب توقع اعلان تھا تاہم اس کا انتظار شاید ان لاکھوں طلبہ کو تھا جو اس وقت زیر تعلیم ہیں۔ ٹویٹر پر اس فیصلے کے بعد مختلف ٹرینڈز چل نکلے۔ لکھنے والے بہت ستم گر ہوتے ہیں ایک ظالم نے تو یہ تک لکھ دیا کہ طلبا اور سرکاری سکولز کے اساتذہ نے 26 نومبر کو یوم شفقت منانے کا اعلان کر دیا ہے۔

بہرحال کورونا کے پھیلاو کے پیش نظر حفاظتی اقدامات کے تحت تعلیمی اداروں کی بندش ایک احسن اقدام ہے۔ لیکن چھٹیوں کے اعلان کے ساتھ ہی شفقت محمود شہرت کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ کپتان کی ٹیم کا پہلا کھلاڑی ہے جس کو عوامی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے کہیں یہ شہرت کپتان کے لیے خطرناک ثابت نا ہو اس لیے مشتری ہوشیار باش کیونکہ حالات ہی ایسے ہیں کہ کوئی بھی نعم البدل بن سکتا ہے۔

Read more

پی ڈی ایم کا میثاق پاکستان

گلگت بلتستان کے الیکشن ہوچکے اور سب کچھ توقع کے مطابق ہوا۔ انتخابات میں توقع کے مطابق تحریک انصاف نے اکثریت حاصل کی اور توقع کے مطابق ہی دیگر سیاسی جماعتوں نے انتخابی نتائج کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ بلتستانی مقامی لیڈر شپ کے مطابق ان انتخابات میں بھی 2018 والا فارمولا اپنایا گیا۔ امیدواروں کی وفاداریاں تبدیل کرائی گئیں، فارم 45 نہیں دیا گیا۔ جو بھی ہوا برا ہوا اس سے بہتر ہو سکتا تھا۔ حکومت نے

Read more

فیض احمد فیضؔ ( 1911 ء تا 1984 ء)

مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں۔ جوکوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے ”اب جبکہ کائنات کے راستے ہم پر کشادہ ہو گئے ہیں۔ ساری دنیا کے خزینے انسانی بس میں آسکتے ہیں تو کیا انسانوں میں ذی شعور، منصف مزاج اور دیانت دار لوگوں کی اتنی تعداد موجود نہیں ہے جو سب کا منوا سکے کہ یہ جنگی اڈئے سمیٹ لو۔ یہ بم اور راکٹ، توپیں، بندوقیں سمندر میں غرق کردو اور ایک دوسرے پر قبضہ

Read more

بائیڈن انتظامیہ اور پاکستان

طے ہو گیا کہ سیاست میں کامیاب ہونے کے لیے گدھا ہونا ضروری ہے اگر سیاست دان گدھا نہیں ہے تو اس کا گدھے کے نشان پر الیکشن لڑنا ضروری ہے۔ مطلب یہ کہ خاطر جمع رکھیں یا تو گدھا کامیاب ہوگا یا پر گدھے کے نشان پر کوئی سیاست دان۔ اس کی دلیل حالیہ امریکی انتخابات ہیں جہاں پر گدھے کے نشان پر جوبائیڈن ایک اعصاب شکن مقابلے کے بعد صدر منتخب ہو گئے۔ ان انتخابات میں امریکی ووٹرز

Read more

پی ڈی ایم اور نواز شریف کا بیانیہ

دو سال قبل تبدیلی کا سفر بہت سے وعدوں اور دعووں کے ساتھ شروع کیا گیا۔ کپتان کا دعویٰ تھا کہ وہ خراب معیشت کی بحالی، بلا تفریق احتساب، بہتر طرز حکمرانی اور کامیاب سفارت کاری سے نئے پاکستان کی بنیاد رکھیں گے۔ اور عوام سے کیے گئے بہت سے وعدوں میں پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریوں کے قابل ذکر وعدے بھی شامل تھے۔ کشکول توڑنے کے دعویدار عمران خان نے جب اعلان کیا کہ وہ قرض یا

Read more

بائیس کروڑ بھیڑیں اور گڈریا

پاکستان کی سات دہائیوں کی سیاسی تاریخ میں فوجی حکمرانوں کے اقتدار اور ناتواں جمہوری حکومتوں کے مابین آنکھ مچولی نے پاکستان کی عوام کے سیاسی مزاج کو بھی پختہ نہیں ہونے دیا۔ ہم نے دیکھا کہ نوے کی دہائی میں عوام نے جس وزیراعظم کو دو تہائی اکثریت سے نجات دہندہ کے طور پر منتخب کیا اسی وزیراعظم کے معزول ہونے پر مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ اس کے بعد جس فوجی آمر کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید

Read more

آرمی چیف اپنا کردار ادا کریں

نیکٹا کی طرف سے کوئٹہ میں تھریٹ الرٹ جاری ہونے کے باوجود اپوزیشن نے جلسہ کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔ 25 اکتوبر کو کوئٹہ میں دفعہ 144 لگائی گئی۔ مبینہ طور پر کچھ وقت کے لیے موبائل فون سروس سمیت کوئٹہ شہر کو جانے والے راستوں کو بھی بند کیا گیا اس دوران کوئٹہ کے نواحی علاقے ہزار گنجی میں بم دھماکہ ہوا جس میں چار قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں اس سب کے باوجود پی ڈی ایم کا کوئٹہ میں جلسہ ہوا اور خوب ہوا۔ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے جلسے میں شرکت کی۔

اور جلسہ میں شریک شرکا آخری لمحے تک جوش و خروش سے بھرپور اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہے۔ مجموعی طور پر پی ڈی ایم کے جلسوں کی ہیٹ ٹرک مکمل ہوئی اور تینوں جلسے شاندار ہوئے یوں کہہ لیں کہ اپوزیشن نے نیازی الیون کے خلاف کھیلتے ہوئے آخری اوور کی پہلی تین گیندوں پر شاندار اسٹروک کھیلتے ہوئے ہر بال کو باؤنڈری سے باہر کی راہ دکھائی۔ اب بقیہ تین سکور تین بالوں پر بنانے ہیں اس لیے شاید کہیں پر تین استعفوں کی باتیں ہو رہی ہیں۔

Read more

پی ڈی ایم معاشی روڈ میپ دے

محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک بار انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں یاتو آمریت ہوتی ہے یا پھر کنٹرولڈ جمہوریت اور ہم حقیقی جمہوریت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ایک ایسی جمہوریت جس میں اقتدار حقیقی معنوں میں صاف وشفاف الیکشن کے نتیجے میں منتخب ہونے والے عوامی نمائندوں کو منتقل کیا جائے۔ بدنصیبی نہیں تو اور کیا ہے کہ نا تو صاف شفاف الیکشن ہو سکے اور نا ہی اقتدار حقیقی نمائندوں کو منتخب ہوسکا۔

Read more

قومی ڈائیلاگ کا وقت آن پہنچا

پی ڈی ایم کے گوجرانوالہ کے جلسے کے بعد، وزیر اعظم نے بر وقت مگر اپنی حرکات و سکنات سے سطحی قسم کا رد عمل دیا۔ ایک ایسا رد عمل جس سے وہ بذات خود ہدف تنقید بن گئے۔ ستم بالائے ستم اس کے اگلے دن کراچی کے جلسے کے بعد، مسلم لیگی رہنما کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری اور شام تک رہائی اور پھر سندھ پولیس کے اعلیٰ افسروں کی لمبی چھٹیوں کی درخواستوں نے ایک بحران پیدا کر دیا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مطالبے پر آرمی چیف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے، کور کمانڈر سے رپورٹ طلب کر لی۔ جھوٹ سچ کیا ہے اس کا فیصلہ ایک دو روز میں ہو جائے گا۔ تاہم اس سارے معاملے میں متحدہ اپوزیشن پی ڈی ایم، سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر گئی ہے۔ موجودہ سیاسی حالات، حکومت کو بند گلی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ جلد یا بدیر حکومتی بے بسی میں اضافہ ہوتا جائے گا۔

پی ڈی ایم جس سیاسی ہیجان کو ملک میں برپا کرنا چاہ رہی ہے، وہ ہیجان آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔ یا پھر یوں کہہ لیں کہ پی ڈی ایم اپنے ہدف کی طرف آہستگی کے ساتھ پیش قدمی کر رہی ہے۔ ایسے میں حکومتی ٹیم میں کوئی شخصیت ایسی نہیں ہے جو حالات کو سمجھتے ہوئے حکومت کو محاذ آرائی سے گریز کا مشورہ دے۔ وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کے بیانات جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں۔ علی زیدی جیسے وزرا کی گفتگو اونٹ پر آخری تنکے کا کام کر رہی ہے۔ شیخ رشید جیسے منجھے ہوئے سیاست دان نے بھی ابتدا میں بجائے حالات کو ٹھنڈا کرنے کے ایسے بیانات دیے کہ اپوزیشن مزید متحد ہوتی گئی۔ اب یہ سوال تو بنتا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر اپوزیشن کو متحد ہونے کا موقع دیا یا نادانستہ طور پر ان سے غلطی ہوئی ہے۔

Read more

نور الہدیٰ شاہ کے سوالات

پی ڈی ایم کا کاروانِ جمہوریت گوجرانوالہ کے بعد، کراچی اس دن پہنچا، جس دن پیپلز پارٹی سانحہء کارساز کے شہدا کی جمہوریت کے تسلسل اور بقا کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ 18 اکتوبر کو جلسے میں شرکت کرنے کے لیے مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز شریف جب کراچی پہنچیں تو کارکنوں کے ہم راہ بابائے قوم کے مزار پر حاضری دی۔ وہاں پر ووٹ کو عزت دو کے فلک شگاف نعروں کو حکومتی وزرا نے مزار قائد کی توہین قرار دیتے ہوئے، قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دیا۔ جلسہ تو شام کو ہونا تھا مگر اپوزیشن کے اس عمل اور اس پر حکومتی وزرا کے رد عمل نے عوام اور میڈیا کی توجہ اس جانب مبذول کرا دی۔ سوشل میڈیا پر اس عمل کی حمایت اور مخالفت میں ٹرینڈ چل نکلے۔

ایسے میں قابل احترام محترمہ نور الہدیٰ شاہ صاحبہ نے تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کو جوابی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ شرم؟ 70 سال سے ماری ماری پھرتی در بدر قوم، اپنے بابا کے مزار پر احتجاج بھی نا کرے؟ کیوں؟ یہ قوم کے باپ کا مزار ہے نا کسی غاصب کے باپ کا تو مزار نہیں۔ یہی نہیں بلکہ ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے کہا، کہ گریٹ یہی صحیح جگہ ہے، احتجاج رقم کرانے کی۔ سوال اٹھانے کی۔ جناح صاحب، ولی اللہ نہیں لیڈر ہیں۔ لیڈر ہی جواب دہ ہوتا ہے، تاریخ کے ہر اتار چڑھاو کا۔ جناح صاحب اٹھیے اٹھیے پلیز، بتائیے یہ ملک کس کے لیے بنایا تھا؟ اس زمین پر بسنے والی عوام کے لیے یا؟

Read more

گوجرانوالہ میں اپوزیشن کا پاور شو

ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے، آئے تو سہی برسر الزام ہی آئے جیسا شہرہ آفاق شعر پی ڈی ایم کے گوجرانوالہ کے جلسہ میں مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کی طرف سے کی جانے والی تقریر کی بھرپور عکاسی کر رہا ہے۔ وہ بات جس کو زیرلب کہتے ہوئے بھی سیاسی قیادت تذبذب کا شکار رہتی تھی وہی بات کل برسر عام ہوئی ہزاروں لاکھوں کے مجمع کے سامنے ہوئی ببانگ دہل ہوئی۔ پہلی بار ملک کے سرونگ چیف کی کارکردگی پر سوال اٹھائے گئے ان سے جواب طلب کیا گیا۔ پہلی بار عمران خان کی حکومت کی سرپرستی کا الزام لگا کر ملکی حالات کی ابتری کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ پی ڈی ایم قائدین کے لہجوں کی تلخی میں اضافہ اس بات کی تصدیق کر رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں لہجے زیادہ تلخ اور کڑوے ہوں گے۔

گوجرانوالہ میں اپوزیشن کا پاور شو خوب رہا۔ اپوزیشن جماعتوں نے مکمل تیاری کے ساتھ اس میں شرکت کی اور عوام نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ بلاول بھٹو زرداری کی لالا موسٰی سے ریلی کے ساتھ روانگی اور مریم نواز کی جاتی عمرہ اور مولانا فضل الرحمن کی لاہور سے ریلیوں کے ساتھ گوجرانوالہ روانگی کے بعد لاہور تا جہلم جی ٹی روڈ جلسہ گاہ کا منظر پیش کر رہی تھی۔ ان ریلیوں نے خوب رنگ جمایا اور اپوزیشن جماعتوں کے ورکرز نے دل کھول کر شرکت کی۔ قطع نظر اس کے کہ جلسہ میں شرکا کی تعداد کتنی تھی یہ بات زیادہ اہم ہے کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے پنجاب میں کم بیک کیا ہے اور ورکرز کو نکالنے میں کامیاب رہی ہیں۔ یہ بات ان جماعتوں کے لیے حوصلہ افزا ہے۔

Read more

حکومت بند گلی میں۔ ۔ ۔

ایک عام شہری کی حیثیت سے حکومت سے اس کی کارکردگی کی بنیاد پر سخت خائف اور ناراض ہوں۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے متعلق یہ کہا جائے کہ یہاں پر حکومتی کارکردگی ماضی کے حکومتوں کے مقابلے میں بہتر ہے۔ سوائے ایک مقام پر جہاں حکومتی وزیر، مشیر اور قصیدہ خواں نیشنل میڈیا پر فخریہ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں۔ اب یہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ وزیر اپنی نالائقی اور نا اہلی میں فوج کو کیوں شامل کر رہے ہیں۔ اور کوئی ان کو روکنے والا کیوں نہیں ہے۔ زمینی حقائق سے دور اور محض بیان بازی کی حد تک موجودہ طرز حکمرانی اس قابل نہیں ہے کہ کوئی بھی اس میں شراکت کا سوچے یا پھر دعویٰ کرسکے۔

پہلے بھی عرض کی تھی اور ایک بار پھر عرض ہے کہ کرپشن کے الزامات کے ساتھ عدالتوں میں پیش ہوتی ہوئی بکھری ہوئی اپوزیشن کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کا موقع بھی حکومت کی مرہون منت ہے۔ پہلی بار ایسا ہوا کہ حکومت نے اپنے اقدامات کی بدولت گیارہ سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کا موقع دیا جس کے نتیجے میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ وجود میں آئی اور حکومت کے لیے بری خبر یہ کہ مولانا فضل الرحمن کو متفقہ طور پر اس اتحاد کا صدر بنا دیا گیا۔ ایک زبردست اسٹریٹ پاور کی حامل منظم سیاسی جماعت کے سخت اور غیر لچکدار موقف رکھنے والے سربراہ کو گیارہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد کا سربراہ بنا کر گویا حکومت کو پیغام دیا گیا کہ اس بار رعایت نہیں ہوگی۔

Read more

فوجی عہد بمقابلہ سیاسی عہد

پاکستان کی سیاست میں جنرل ایوب خان کے دور حکمرانی کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ جب کبھی سیاسی دور حکومت اور فوجی عہد کا موازنہ کیا جاتا ہے تو یہ فوجی عہد جنرل ایوب خان کا ہوتا ہے۔ ایوب خان کے عہد حکمرانی کے دس سال پورے ہونے پر ایک جشن منایا گیا جو کم وبیش ایک سال تک جاری رہا۔ سرکاری دفاتر، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور ابلاغ کے دیگر ذرائع سے ایک ہی نعرہ
The Great Decade Of Development and Reform
زبان زد عام رہا۔

ایک سال تک ایوبی عہد کے کارنامے عوام کو سنائے گئے۔ فیلڈ مارشل کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایک جنگ شروع ہو گئی۔ ایک سے بڑھ کے ایک قصیدہ خواں نے اپنے جوہر دکھائے۔ اخبارات نے جنرل ایوب کے دس سالہ دور حکومت کو مافوق الفطرت ثابت کرنے کے لیے خصوصی ایڈیشن شائع کیے۔ اس عہد زریں کے فضائل بیان کرنے کے لیے وہ شور اٹھا کہ الامان، کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ بالکل ویسے ہی جیسے دو سال قبل نئے پاکستان کے نعرے کے شور نے عوام کو کانوں پر ہاتھ رکھنے پر مجبور کر دیا۔ جس طرح موجودہ عہد میں نئے پاکستان کے فضائل، عام آدمی کو سمجھ نہیں آرہے، بالکل اسی طرح اس دور میں بھی عوام کی حیرانی دیدنی تھی۔

Read more

پاکستانی سیاست کی سات دہائیاں

پاکستان کی سیاست بھی عجیب چوں چوں کا مربہ ہے۔ بلکہ پاکستان کی سیاست اس مکس اچار کی مانند ہے جس کو ہربار استعمال کرنے سے نیا ذائقہ ملتا ہے۔ سیاست کے نام پر عجیب وغریب ہتھکنڈے اور پست ترین درجے کے رویوں کو سیاست کا نام دیا گیا۔ پاکستان کی 72 سالہ سیاسی تاریخ کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو ابتدا ہی میں سیاست اور سیاست دانوں سے متعلق قائد کا یہ کہنا کہ میری جیب میں کھوٹے

Read more

خرابی کا ذمہ دار کون۔ سیاست دان یا بیوروکریسی

نئے پاکستان کی اصلاح کا اگر بغورجائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی نئی اصلاح نہیں ہے۔ یہ بھی سب سے پہلے پاکستان کے نعرے کا تسلسل ہی ہے۔ تھوڑا سا ماضی کی طرف جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے جب حکومت سنبھالی تو ہمیشہ کی طرح انہوں نے پاکستان کے ہر شعبہ ہائے زندگی کو بگڑا ہواپایا اور ہر محب وطن فوجی آمر کی طرح انہوں نے اس بگڑے ہوئے نظام

Read more

مسئلہ عمران یا اس کی حکومت نہیں ہے۔۔۔

حکومتی وزرا اور مشیروں کی تمام تر موشگافیوں کے باوجود اے پی سی منعقد ہوگئی اور ایسی منعقد ہوئی کہ جس کی توقع نہیں کی جارہی تھی۔ غیریقینی صورتحال اس لیے بھی تھی کہ مولانا فضل الرحمن کسی واضح یقین دہانی کے بغیر اے پی سی میں شرکت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ وہ اس کانفرنس میں جے یو آئی کا وفد بھیجنے کا سوچ رہے تھے کہ بلاول بھٹو زرداری ان سے ملے اور ان کو اے پی

Read more

صحافتی بونے۔ ۔ ۔

حکومت چاہے دنیا کے کسی بھی ملک کی ہو ہمیشہ جن چیزوں سے خائف رہی ہے ان میں سرفہرست صحافت ہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں قانون کی پاسداری کرنے والی اور اصول و ضوابط کے ساتھ نظریاتی سیاست کرنے والی سیاسی جماعتیں ہوں یا پھر ان کی سیاسی قیادت ہو جس چیز سے خوف زدہ رہتی ہیں وہ صحافت ہی ہے حالانکہ ان کو خوفزدہ تو عوام سے ہونا چاہیے مگر ایسا نہیں ہے۔ جہاں تک ترقی پذیر پسماندہ ممالک کی صورتحال ہے تو ان ممالک کی سیاست اور طرز حکمرانی کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔

ان ممالک میں آزاد صحافت کو برداشت کرنے کا مادہ ہی نہیں ہے۔ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کو ذاتی مخاصمت سمجھا جاتا ہے اور ذاتی اصلاح کی بجائے اس قلم کو ہی توڑنے کی تدبیر کی جاتی ہے جیسے پرانی فلموں میں جج صاحب کسی قاتل کی سزائے موت کے حکم پر دستخط کرنے کے بعد قلم کی نب توڑ دیتے تھے۔ بدقسمتی سے پاکستان کا شمار ان ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے جہاں پر حکومت سے اختلاف رائے کو ملک دشمنی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

Read more

بھیگے ساون میں اے پی سی

مون سون کا سیزن اپنے جوبن پر ہے۔ گرمی سے پریشان حال لوگوں کے لیے بارش کی نوید گویا کسی من و سلویٰ سے کم نہیں ہوتی اور ہمارے عقیدے کے مطابق تو یہ بارش ویسے بھی رحمت خداوندی ہے۔ مگر شاید ہم اتنے نا اہل اور نالائق ہیں کہ اس رحمت سے بھی مستفید نہیں ہوسکتے اور بارش کا لطف اٹھانے اور سجدہ شکر بجا لانے کی بجائے اس پریشانی کا شکار ہوتے ہیں کہ کہیں اربن فلڈنگ کی

Read more