تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بدھ سے ’جیل بھرو‘ تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ باقاعدہ تاریخ کا اعلان کرنے کے باوجود ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین اس نئے سیاسی ہتھکنڈے سے کیا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس نام نہاد جیل بھرو تحریک کو کیسے آگے بڑھایا جائے گا۔ عمران خان کے ذہن میں جو بھی خاکہ ہو لیکن ان کا یہ نیا اعلان اور اب اس پر عمل کرنے کے پروگرام سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیاسی طور سے زندہ رہنے کے لئے ان کے پاس آپشنز کم ہو رہے ہیں۔
جیسا کہ شہباز حکومت سے بھی کہا جاتا ہے کہ ملک گوناں گوں مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ صورت حال اس حد تک خراب ہے کہ وفاقی کابینہ کے سینئر وزیر بھی اپنی تقریروں میں اعتراف کر رہے ہیں کہ ملک درحقیقت ڈیفالٹ کرچکا ہے۔ دنیا کا کوئی مالیاتی ادارہ یا ملک فی الوقت پاکستان پر اعتبار کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ روز افزوں مہنگائی اور سنگین ہوتے سیاسی بحران کے دوران کم از کم یہ تو کیا جاسکتا ہے کہ حکومت اور اس کے ارکان تحمل و بردباری کا مظاہرہ کریں اور غیر ضروری بیان بازی یا ملک میں سیاسی نفرت پھیلانے سے گریز کیا جائے۔
Read more