ایک تھے مصطفیٰ زیدی

مصطفیٰ زیدی کے حوالے سے کچھ لکھنا آسان بھی ہے اور دشوار بھی۔ آسانی کی بات کریں تو ان کی جمال پرستی، رومانوی زندگی اور شاعری پر اظہار خیال کرکے کہانی مکمل کی جا سکتی ہے اور اگر دشواری کو دیکھیں تو ان کی شخصیت کی جذباتی پیچیدگیوں، نفسیاتی الجھنوں اور ان کی زندگی کے حالات و واقعات کا منظر نامہ سامنے رکھ کر کچھ لکھنا پڑتا ہے جو ایک مشکل کام ہے۔ ان پر کافی لوگوں نے لکھا، ان

Read more

آصف فرخی کا اداس جنم دن

آج آصف فرخی کی اکسٹھویں سالگرہ کا دن ہے۔ گویا کہ اگر وہ اور جیتے رہتے تو آج ہم ان کو سالگرہ کی مبارکباد دیتے اور جواب میں شاید وہ کہتے ” بھئی گویا کہ دوست مجھے باور کرانا چاہتے ہیں کہ میں سٹھیا گیا ہوں۔” یا شاید وہ ایک کالم ہی سٹھیائے جانے پر لکھ ڈالتے۔ ادب میں کہاں کہاں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ کیسے استعمال ہوا ہے اور یہ لفظ آیا کہاں سے۔ آصف یہ سب کچھ

Read more

پاکستان میں صحافتی کتب کا سرمایہ

اس سلسلے کے پہلے حصے کا عنوان تھا ”پاکستان میں صحافتی کتب کا المیہ“ جو جولائی میں پیش کیا گیا تھا۔ اس میں ہم نے چند ایسی کتب کا جائزہ لیا تھا جو پاکستان میں جامعات کی سطح پر پڑھائی جارہی ہیں۔ پاکستان میں صحافت کے طلبا و طالبات کو جو کتابیں اردو میں پڑھائی جارہی ہیں ان کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ان میں صرف ایک ہی نقطہ نظر کو بیان کیا جاتا ہے اور مطالعہ

Read more

آصف فرخی: بس دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا

یہ 1978ء کی بات ہے جب میں ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی میں سال آخر کا طالب علم تھا اور طب کی تعلیم حاصل کرنے سے زیادہ ملک میں سوشلزم کے نفاذ میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب میں اور میرے جیسے بہت سے طالب علم دن میں جاگتے ہوئے اور رات میں سوتے ہوئے خواب دیکھتے تھے کہ پاکستان میں ایک انصاف پر مبنی غیر طبقاتی سماج کا ظہور ہونے والا ہے جہاں انصاف کا بول

Read more

ڈاکٹر شیر شاہ سید کی کتاب: دل ریزہ ریزہ

ڈاکٹر شیر شاہ سید کا شمار ان نابغۂ روزگار دیدہ وروں میں ہوتا ہے، جنہیں ملیں تو لگتا ہے پڑھ رہے ہیں، پڑھیں تو لگتا ہے مل رہے ہیں۔

شاہ صاحب اس دور کے وہ انسان ہیں جو کسی بھی دور میں کہیں بھی پیدا ہو جاتے سب کو ایسا ہی گرویدہ کر لیتے۔ اچھا انہیں گرویدہ کرنے سے غرض بھی نہیں ہوتی، یہ تو خود گرویدہ رہتے ہیں سب کے، ہر ایک کے۔ بغیر کسی وجہ کے، چھوٹی چھوٹی باتیں اور درد، جن کے لوگ اپنے چہرے پر لگی آنکھوں کی طرح عادی ہوتے ہیں، یہ انہیں بھی پہاڑ ایسا محسوس کرتے ہیں۔

Read more

اکسٹھ سال لمبی رات: اجمل اجملی کی زندگی

ہر بستی، چاہے چھوٹی ہو یا بڑی، اس کی ایک الگ پہچان، الگ مہک، بلکہ الگ موسم ہوتا ہے۔ الٰہ آباد میں زندگی کے دس برس گزارے۔ اب خواہ مخواہ وہاں کی ہر بات یاد آتی ہے اور بہت سے لوگ، ایسے لوگ جن سے بے تحاشا محبت کی اور ایسے بھی جن سے روز کا ملنا جلنا رہا، مگر وہ ہماری زندگی اور ہمارے زمانے کا حصہ نہ بن سکے۔ اجمل اجملی، ہماری یادوں میں ایک مستقل جگہ رکھتے

Read more

محمد عمر میمن: کچھ یادیں

شاہ فضل عباس کا فون واشنگٹن سے آیا۔ آپ عمرمیمن صاحب کو کتنا جانتے ہیں؟ انہوں نے سوال کیا۔ شاہ فضل عباس حلقہ ارباب ذوق واشنگٹن کے سرگرم کارکن ہیں، ادب، موسیقی، ثقافتی، سماجی اور ہر قسم کی سیاسی و انقلابی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں، غالب کے عاشق ہیں۔ دیوان تقریباً ازبر ہے، گاہے بگاہے مرزا کے شعر سناتے ہیں اورایک الگ تشریح کے ساتھ اپنا بھی سر دھنتے ہیں اور دوسروں کو بھی سر دھننے پر مجبور کردیتے

Read more

گریش کرناڈ: طاق میں چراغ

گریش کرناڈ کو رخصت ہوئے سال بھر سے زیادہ کا وقت گزر گیا۔ ’’زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی…‘‘ اگر محمود الحسن (لاہور) نے ایک دھندلی ہوتی ہوئی یاد کی طرف توجہ نہ دلائی ہوتی۔ جنوبی ہندوستان کے کئی مشہور لکھنے والوں سے دور اور پاس کا تعلق رہا۔ ایپاپنکر، سچدا نندن، سلمیٰ، یو آر اننت مورتی، گریش کرناڈ۔ اپنے رہن سہن، وضع قطع، بات چیت اور مزاج کے اعتبار سے ان میں اور شمالی ہندوستان کے ادیبوں میں بہت

Read more

رشید مصباح کے لئے

”کبوتر بازی اور غزل بازی میں کیا فرق ہے“ جب تین چار شاعر اکٹھے ہو جاتے اور کوئی اپنے نئے شعر سنا رہا ہوتا تو وہ درمیان میں یہ سوال اچھالتا۔ غزل دھری کی دھری رہ جاتی اور بحث شروع ہو جاتی۔ ایک شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے مخصوص انداز چچلی انگلی میں سگریٹ پھنسا کر مٹھی سے زور دار کش لگاتا۔ ایسا بارہا ہوا اور شاعر ہر بار اس کے جال میں پھنس گئے۔ بات ویسے پھینکنے والی نہیں کہ کبوتر بازی اور غزل کہنے کے عمل میں کیا مماثلت ہے؟

کبوتر اڑانے کے فن میں بھی مخصوص گردانوں میں مہارت پیدا کرنا پڑتی ہے۔ کہ کس آواز کی گردان سے کبوتر اڑانے، لڑانے یا بلانے ہیں اسی لئے ایک زمانے میں عروض کے ماہر اساتذہ اور شعرا کبوتر بازی کے بھی رسیا ہوتے تھے۔ اس نے اپنی زندگی بھی ایک بازی کی طرح گزاری۔ اس کی زندگی اتار چڑھاؤ کا ایک ردھم تھی لیکن کورونا کی وبا کے سامنے بے بس ہو گیا۔ زندگی تھم سی گئی۔ لوگ گھروں میں مقید ہو گئے پڑھنے پڑھانے سے جو زندگی کی ڈور جڑی تھی وہ بھی ٹوٹنے لگی تھی۔

Read more

یادیں آصف فرخی کی

میرے ہاتھ میں نوائے معانی زندگی کا مسودہ تھا اور آصف فرخی کا ایک ایک افسانوی مجموعہ میری نظروں سے گزر رہا تھا۔ شام کے سائے ڈھل چکے تھے، میں چھت پر بیٹھی سوچ رہی تھی کہ بہت دن ہوئے ڈاکٹر آصف فرخی سے بات نہیں ہوئی وہ نئے لکھے جانے والے دس افسانے کب بھیجیں گے اور میں ان کے افسانوں کا یہ مجموعہ کب مرتب کروں گی۔ انہوں نے تو 22 اپریل 2020 کو فون پر بتایا تھا

Read more

دلی سے اہل لاہور کے نام۔۔۔ ایک تعزیت نامہ

بھائی محمود الحسن، آپ کی وال پر ظفر حسن صاحب کے گزر جانے کی خبر دیکھی۔ دل ڈوبنے لگا۔ نومبر میں اُن سے ایرج مبارک کے گھر پر، اس کے بعد ڈیفنس کے کلب میں ناشتے کی میز پر ملاقات ہوئی تھی۔ کسے پتہ تھا کہ یہ آخری ملاقات ہے۔ آج آپ نے تصویر یں بھیجیں تو خیال آیا کہ اُس روز ملاقات کی صبح ہم سب خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ معلوم نہیں کیا سوچ رہے تھے۔ انتظار صاحب جب

Read more

کیا پاکستان کے تدریسی نظام پر بھی پہرے بٹھائے جا رہے ہیں؟

پرویز ہود بھائی جیسے محقق اور استاد، محمد حنیف جیسے مصنف اور عمار علی جان جیسے استاد پاکستانی معاشرے کے لیے کیسے خطرہ ہو سکتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو گذشتہ چند دنوں کے دوران پاکستانی سوشل میڈیا اور دیگر حلقوں میں تواتر سے پوچھا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ لاہور کے ایف سی کالج کا پروفیسر ہود بھائی اور عمار علی جان اور کراچی کی حبیب یونیورسٹی کا محمد حنیف کی خدمات سے مزید فائدہ اٹھانے سے

Read more

آصف فرخی کا اپنے پیاروں کو دلاسہ

آج صبح سویرے انتظار حسین بڑی بے چینی سے چہل قدمی کر رہے تھے انہیں جب سے پتہ چلا کہ آصف فرخی میرے شہر میں آئے ہوئے ہیں تو ان سے ملنے کا اضطراب اور بھی بڑھ گیا تھا۔ آصف سے ملے بہت دن ہو گئے تھے ابھی اسی سوچ بچار میں تھے کہ آصف فرخی ہاتھوں میں کچھ کاغذات تھامے چلتے آ رہے ہیں انتظار حسین نے بڑھ کر گلے لگایا خوشی اور رنج کے ملے جلے جذبات کا اظہار کیا اور پھر بولے ارے آصف! اتنے بہت سے کام ادھورے چھوڑ کر اس شہر میں کیوں آ گئے ہو؟

Read more

جاتک کہانیاں اور آصف فرخی

نور عنایت کی انگریزی میں مرتب کردہ ’جاتک کہانیاں‘ کا آصف فرخی کا اردو ترجمہ ابھی ابھی تو پڑھا تھا اور پڑھ کر ایک طرح کا سکون اور اطمینان محسوس ہوا تھا کہ کوئی تو ایسا ہے جو آج کے دنوں میں، جب ادبا و شعرا اپنی شہرت اور اپنی خود نمائی کے لیے مغربی ادب کے دامن میں پناہ لینے پر فخر کرتے ہیں، مشرقی ادب کی بازیافت کر رہا ہے۔ امید تھی اور یقین بھی تھا کہ وہ مشرق کے ایسے ہی مزید چھپے ہوئے خزانوں کو ہمارے سامنے لائیں گے۔

لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے، انہیں کسی اور منزل کی طرف روانہ ہونے کی جلدی تھی، وہ روانہ ہو گئے۔ ’چپ چاپ‘ گوتم بدھ کی طرح جیسا کہ ’جاتک کہانیاں‘ کے تعارف میں انہوں نے لکھا ہے : ”وہ (گوتم بدھ) کپل وستو کے راج کمار تھے لیکن انہوں نے اس دنیا کے بارے میں جب سوچنا شروع کیا تو اس زندگی سے اکتا گئے۔ عیش و آرام کی زندگی سب کو چھوڑ کر ایک دن چپ چاپ اکیلے ہی چل دیے“ ۔

Read more

اب کیا فردا کیا دیروز، کیسی آنے والی کل، کیسی گزری ہوئی کل

آصف فرخی سے میرے تعلقات پچھلے تقریباً چالیس سال پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اس زمانے سے لے کر جب ان کی پہلی کتاب ”آتش فشاں پر کھلے گلاب“ جہان اردو ادب میں نمو دار ہوئی تھی، اس آخری ملاقات تک جو ان کے بے موقع انتقال سے تین چار دن پہلے فون پر ہوئی تھی۔

آصف ملن سار آدمی تھے لیکن فطرتاً سنجیدہ تھے، یار باش نہیں۔ اور یہ ان کے لیے ضروری بھی تھا کیوں کہ جس آدمی نے اردو ادب کے ہر رکن کا بوجھ ہنسی خوشی اپنے سر پر اٹھا رکھا ہو وہ ہاہا، ہو ہو کی محفلوں کے لیے کیسے وقت نکال سکتا ہے! ہاں میں جب جب اسپتال میں داخل ہوا وہ دیکھنے ضرور آئے اور یہی رویہ ان کا رشتے داروں، ملنے والوں، دوستوں سے تھا۔ ہر ایک کی خبر گیری۔

Read more

وبا کے موسم میں عرفان خان، رشی کپور، آصف فرخی اور گلزار دہلوی کا ماتم

وبا کے خمار میں ڈوبی موت کا رقص اپنے جوبن پر ہے۔ یہاں سے وہاں تک خوف کی چھتری تنی ہوئی ہے۔ جو زندہ ہیں وہ اس خوف میں مرے جا رہے ہیں کہ کہیں اجل ان کو نہ آ پکڑے اور جو اس وبا سے ملک عدم کے راہی ہوئے وہ شاید اس آس میں پھر سے زندگی کی تمنا کرتے ہوں گے کہ اب کے ایسے حالات میں مریں گے جن میں کم از کم اتنا تو ہو کہ لحد کی دہلیز تک رخصت کرنے کے لئے سارے احباب آ سکیں۔

جب زندگی کے چراغ کی لو بے یقینی کے جھکڑ میں بار بار جھک کر زمین سے لگی جا رہی ہو تو فیصلہ مشکل ہو جاتا ہے کہ جانے والوں کا ماتم کریں یا خود کی خیر منانے میں لگ جائیں؟ کیسے کیسے فنکار اس نفسانفسی میں ہی قریب سے اٹھ کر چلے گئے لیکن کس کا زور تھا جو ہاتھ پکڑ کر روک لیتا؟ ان سب کی موت وبا سے نہ ہوئی ہو لیکن حالات نے ان کے جانے کا زخم کچھ اور گہرا ضرور کر دیا۔ عرفان خان نے آنکھیں بند کیں تو کتنی ہی آنکھیں ویران ہو گئیں۔

Read more

ڈاکٹر نورین عامر: مسیحائی کی بے وفائی کا نوحہ

قیامت کی گھڑی تھی جو اس شام آئی اور جسم و جان کو مضمحل کرتے ہوئے یاد کے منظر نامے کا ایک بڑا حصہ اپنے ساتھ لیتے ہوئے رات کے تاریک دامن میں اتر گئی۔ ابھی تو آصف فرخی کا نوحہ پڑھ کے ہی سنبھل نہ پائے تھے کہ ایک اور شام غریباں آ ٹھہری! نئے گھر میں اترے دوسرا تیسرا روز تھا۔ ہر طرف سامان بکھرا پڑا تھا، کچھ کھلا کچھ بندھا۔ چھوٹی سی بچی گود میں، اوائل گرما

Read more

چشم بینا کا سفر

ہم ماں، باپ اور بہن بھائی کے علاوہ بھی بہت کچھ ہیں؛ اس کا احساس گواہیوں کے زمانے سے قبل ہو جائے تو تمام گواہیاں سچ ہوں اور گناہ کی جھولی خالی برتن جیسی پڑی رہے گی۔ بس ایسی صورت میں مالک جو چاہے اپنی freewill سے اس کی بھرائی کر لے۔ ہم جو شکل اختیار کرتے ہیں، ہمارا ضمیر اور خیال بھی ان ہی کے سانچے میں ڈھلنے لگتا ہے۔ موجودہ دور ”کورونا دور“ کے نام سے تاریخ کے

Read more

کورونا کے سائے میں سفر۔۔ دمشق سے اسلام آباد

دوستان گرامی کی خدمت میں اس بار اسلام آباد سے آداب۔ اگرچہ کرونا کے زیرِ سایہ گزرتے شب و روز پر مزید لکھنے کا ارادہ نہیں تھا لیکن مرحوم – کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے یہ سابقہ لکھا ہے- آصف فرخی سے وعدہ تھا کہ ایک آخری باب قلم بند کیا جائے گا۔ اس یارِ مستعجل نے اس سے پہلے ہی گٹھڑی باندھ کر لاد چلنے کا فیصلہ کر لیا۔ تم کون سے تھے ایسے کھرے

Read more

چوہیا کیسے گا سکتی ہے؟

فنکار کا سماج ،فرد اور دوسرے فنکاروں سے کیا رشتہ ہے؟ اس پر کوئی نئی بات کہنا آسان نہیں۔ لیکن ہمارے آس پاس کچھ نئے واقعات رونما ہوتے ہیں اور ہمیں اس سوال کو نئے سرے سے سمجھنے پر مجبورکرتے ہیں۔ہم اس سوال کو کوئی سو سال پہلے کی ایک تحریر کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ ادب کی دنیا میں سو سال معمولی مدت ہے۔ دنیا میں اگر کوئی شے وقت کو مات دینے کی جرآت کرتی

Read more

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی قبر محفوظ ہے

کیا کروں کوئی ایک سیاپا ہے۔ کوئی ایک رنڈی رونا ہے۔ جدھر دیکھتی ہوں ادھر کرونا کی آگ ہے جو ہر گھر کے اندر داخل ہو گئی ہے۔ اسپتالوں کے حالات کا کیا ذکر کروں اب جلنا، کڑھنا اور اپنا خون آپ پینا والا معاملہ ہے۔ ٹی وی چینلز نے اس قوم کو پاگل کر دینا ہے۔ فضول لایعنی خبروں کو اللہ جھوٹ نہ بلوائے تو سات آٹھ بار دہرانا لازمی ہے۔ ذرا دیکھئیے اور سر دھنیے۔ شہروز سبزواری نے بالآخر ماڈل صدف کنول سے نکاح کر لیا۔ کتنا بڑا کام؟

پہلی شادی کی خبر، طلاق کا ذکر۔ ایک بار دو بار دل پر پتھر آنکھوں پر جبر کر کے گنتی کی۔ سات بار۔ ہائے جی چاہتا تھا اختیار میں ہو تو لتروں سے وہ ٹھکائی کروں کہ نانی یاد آ جائے۔ نواز شریف ریسٹورنٹ میں چائے پیتے دیکھے گئے۔ پورے چھ بار ایک بوریت کن تسلسل کے ساتھ۔ نواز شریف اپنے بیٹے حسن کے ساتھ واک کر رہے ہیں۔ تو بھئی ہم شادیانے بجائیں۔ آخر کیا کریں۔

Read more

آصف فرخی سے چند بھاگتی دوڑتی، پُرتاثیر ملاقاتیں

یہ ضروری نہیں کہ کسی بھی شخص کو جاننے کے لیئے آپ اُس سے بار بار ملیں، بعض دفعہ زندگی بھر کا ساتھ بھی آپ کو اُس کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتا اور کبھی کبھی ایک ہی ملاقات میں آپ کے اندر کی تیسری آنکھ اُس میں وہ سب کچھ دیکھ لیتی ہے جو اُس کے اندر چھپا ہوتا ہے۔ پتہ نہیں اُن کی ہیزل آنکھیں شربتی مائل سُرمئی تھیں یا سُرمئی مائل شربتی، مگر اُن کی آنکھوں

Read more

آصف صاحب – کچھ یادیں کچھ ملاقاتیں

بعض رخصت ہونے والے، ہمارے وجود کا کچھ حصہ نہیں، بلکہ پورا وجود ہی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ یہ تحریر، ایک ایسے ہی شخص کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ، اس کے وجود سے نتھی اپنا وجود کھوجنے کی ایک سعی لاحاصل بھی ہے، جو اس کے جانے بعد گم ہوچکا ہے۔

انیس سو پچانوے چھیانوے میں کراچی وارد ہوا تو، فکشن، شاعری اور دیگر سنجیدہ موضوعات کے مطالعے کی چاٹ پہلے سے لگی ہوئی تھی، اگر چہ شاعری ترک کر کے افسانہ نگاری کی طرف مائل ہوچکا تھا اور چند خام سے افسانے چھپ بھی چکے تھے لیکن یہاں کے ادیبوں سے ابھی ذاتی جان پہچان نہیں تھی، مگر اتنی تھی کہ ان میں سے بہت سوں کی تحریریں اور کتابیں راول پنڈی قیام کے دوران پڑھ چکا تھا، اسی لیے فطری طور پر سب سے ملنے کی خواہش تھی۔

Read more

آصف فرخی سے آخری ملاقات

کرونا کی وبا کے باعث ڈھائی تین مہنے سے سب کچھ بند تھا۔ یونیورسٹی بھی غیر معینہ مدت کے لیے بند ہوچکی تھی اس لیے میں بھی کراچی سے اپنے آبائی شہر شہدادپور چلا آیا۔ آصف فرخی سے، جنھیں میں ہمیشہ سے آصف بھائی کہا کرتا تھا، لگ بھگ روز ہی فون پر بات ہوتی تھی۔ وہ وبا سے متعلق ادبی تحریروں پر مشتمل دنیا زاد کا خصوصی شمارہ مرتب کر رہے تھے۔ میں بہت خوش تھا کہ انھوں نے

Read more

گلوبل وزڈم کا زمینی فرد ۔ آصف فرخی

ڈاکٹر آصف فرخی کی ناگہانی رخصت نے ہم سب کو ششدر کر دیا ہے۔ ہم سب حالت غم میں ہیں۔ میں جب ان کو یاد کرنے بیٹھتی ہوں تو یادوں کے دھاگوں کی الجھی ہوئی پوتھلی میرے آگے پھیل جاتی ہیں کون سا دھاگہ کیسے کھولوں۔ وہ میرے ہم پیشہ ڈاکٹر تھے۔ اس حوالے سے ان کی کمیونٹی ہیلتھ کے بلند منصب اور کام گنواؤں، ادیب، افسانہ نگار، نقاد، کالم نگار، مترجم، معلم، مدیر کے حوالے سے کچھ لکھوں یا

Read more

استاد محترم

کل تاریاں ہیٹھ کھڑو کے میں مضطرؔ! ادھی رات جد کھڑکی کھولی وقت دی آئی صدیاں دی خشبو محترم فرخی صاحب کی میرے اپنے خیال کے مطابق بے وقت لگتی وفات کی بدولت ماضی کی کھڑکی سے پرانی یادوں کے جھونکے در آنے لگے ہیں۔ اور ایک جھونکا ظاہری نگاہ سے بہت ہی معمولی سے واقعہ کی یادگار ہے لیکن خاکسار کی سوچ پر اس کا ایک مثبت اثر پڑا جس سے عمر بھر فیوض حاصل کیے جو ایک گڈرئیے

Read more

آصف فرخی: ایک مانوس اجنبی

جب سے آصف کے ساری دنیا کو جُل دے کر دنیا سے گزر جانے کی خبر سنی ہے دل اسی طرح اداس ہے جیسے کوئی گھر کا فرد روٹھ کے چلا گیا ہو، ہمیشہ کے لیے رشتہ ناتے توڑ کے۔ حالانکہ ان کی موت سے قبل باوجود کئی برس کی خط وکتابت کے وہ مجھے ذاتی طور پہ اتنے قریب محسوس نہیں ہوئے کہ میں ان سے بے تکلف دوستی کا رشتہ استوار کرتی۔ ان کی حیثیت میرے لیئے ہمیشہ

Read more

آصف فرخی ، وہ دھیرے سے دل میں اتر جانے والا

بادل امنڈ گھمنڈ کر آرہے تھے ، کوئی کوئی بوند گرتی تھی لیکن اتنی بھرپور کہ جہاں گرتی بھگوتی چلی جاتی اورجسم میں سردی کی لہر دوڑ جاتی۔ گاڑی سے اتر کر میں نے سامان پر ایک نگاہ ڈالی اور اسے سمیٹ کر ڈیپارچر کی طرف بڑھنے ہی کو تھا کہ بادل اس زور سے کڑکا، گویا آسمان ہی پھٹ پڑے گا۔ عین اسی لمحے میں نے اپنے کاندھے پر ایک نرم ہاتھ کا لمس محسوس کیا ، اس سے پہلے

Read more

یہ آصف فرخی کی علالت نہیں عدالت تھی

سب آصف فرخی پر لکھ رہے ہیں، ان کے ساتھ بیتی یادیں شیئر کر رہے ہیں ان کے آخری لمحات تفصیل سے بیان کیے جار ہے ہیں۔ کرونا کے دنوں میں سماجی رابطے ختم ہو گئے۔ کوئی کسی کے کاندھے پر سر رکھ کر رو سکتا ہے نہ ان کے پیاروں کو گلے لگا کر دلا سا دے سکتا ہے۔ ان کے پیارے کون؟ وہ سب جو ان کے ساتھ رہتے تھے، ان کے مزاج آشنا تھے۔ اور وہ خونی رشتے جو اپنے رشتے نبھاتے دور دیس جا بسے تھے۔ وہ جو ان کے ادبی حوالوں سے ساتھ تھے۔ لیکن ان سے کہیں بڑی تعداد ان کے گمنام چاہنے والوں کی تھی۔ اور ’ہم سب‘ پر ہم سب تھے جو ان کی تحریریں پڑھتے تھے، سنتے تھے۔

’ہم سب‘ کے پلیٹ فارم پر ہمیں آصف فرخی بڑی سہولت سے ہر وقت دستیاب تھے۔ ’ہم سب‘ کے ہمراہ ہم نے ان کے ساتھ بہت سے یادگار پل بتائے۔ گو کہ ان کی تحریریں مختلف عنوانات لیے ہوتی تھیں۔ لیکن اگر دیکھیں تو وہ اپنی خود نوشت لکھ کر جا چکے۔

Read more

آصف فرخی صاحب کا خاک نشین روپ

کچھ دن قبل میں نے موجودہ وبا پر پہلی نظم لکھی تو آصف فرخی نے کمنٹ کیا ” وبا کے دنوں میں نظمیں لکھنا چاہئیں” کچھ ہی دیر بعد آصف نے کال کی اور کہا کہ ” میں دنیا زاد کا خصوصی شمارہ وبا کے حوالے سے لانا چاہ رہا ہوں لیکن ابھی یہ بات صرف مخصوص دوستوں کے علم میں ہے ، تم بھی مزید نظمیں لکھو اور مجھے بھیجو " میں نے ہامی بھر لی اور اپنے اگلے

Read more

آصف فرخی کی یاد میں

جب آصف فرخی نے دنیا زاد کے نام سے سے ایک منفرد ادبی جریدے کا آغاز کیا تو جلد ہی اس کی خوش بو ادبی دنیا میں چار سو پھیل گئی۔ مجھ جیسے نو آموز لکھنے والے نے بھی ہمت کی اور ایک نظم جو کہ مشہور لوک فنکار علن فقیر کے انتقال کے بعد ان کی یاد میں تحریر کی تھی دنیازاد کے لیے بھیجی۔ ایک روز کراچی میں، مبین مرزا کے آفس میں آصف فرخی سے ملاقات ہوئی

Read more

آصف صاحب!

اول اول کی محبت کا نشہ بھی عجیب ہوتا ہے، چاہے انسان سے ہو یا کتاب سے۔ انسان سے ہو تو معاملہ عموماً ً یوں ہوتا ہے کہ تیرا ہی تذکرہ کرے ہر شخص یا کوئی ہم سے گفتگو نہ کرے لیکن محبت اگر کتاب سے ہو تو اسے پڑھنے کے بعد جی چاہتا ہے کہ کسی ایسے شخص سے تبادلہ خیال کا موقع ملے جس نے یہ کتاب پڑھی ہو۔ عرصہ ہوا نوبل انعام یافتہ ادیب ہرمن ہیسے کی

Read more

سارا شگفتہ اور رنگ چور

فن کار طرفہ مخلوق ہے۔ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ کہاں جگ بیتی میں آپ بیتی کے رنگ نکال لائے اور کہاں آپ بیتی کے پردے میں جگ بیتی کا وقت اور مکاں کی حدود سے ماورا پھیلائو بیان کر دے۔ ماضی میں جھانکتے جھانکتے اچانک وقت کے بیج پڑھ لے یا اپنے ہنر کا ایسا جادو پھیلائے کہ سامنے کا منظر ہی اوجھل ہو جائے۔ جون 1987 میں آصف فرخی نے سارا شگفتہ کی شاعری پر یہ مضمون

Read more

ناں! آصف مسکرانے پر تمہارا کچھ خرچ ہوتا ہے

اپنی اب تک کی زندگی میں ایسا وقت تو کبھی نہیں آیا تھا جب ہر صبح آنکھ کھلنے کے ساتھ ایک اندوہناک سے دکھ، مایوسی، نا امیدی اور خوف کی لہریں سارے شریر میں سر تا پیر دوڑنے لگتی ہوں۔ صبح صادق کی سپیدی بدترین حالات میں بھی اکثر امید کا پیغام ہی دیتی ہے۔ یکم جون کی رات کوئی تین بجے آنکھ کھل گئی۔ رات کے اس پہر کی اذیت کو کم کرنے کے لیے موبائل کھولا۔ جیسے کلیجے پر گھونسہ پڑا۔ آصف فرخی کے دنیا سے چلے جانے کی خبر تھی۔ ”نہیں نہیں نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اس کے کون سے مرنے کے دن تھے۔ ہم جیسے بوڑھے لوگ بیٹھے ہیں۔“ اب اضطراری حالت میں حمید شاہد کی پوسٹ پر لکھ رہی ہوں۔ ”حمید یہ کیسے ہوا؟“ سعدیہ قریشی سے پوچھ رہی ہوں۔

Read more

آصف فرخی: کیا آدمی تھے وہ، کیسے چلے گئے!

سوموار یکم مئی 2020 شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے میں نے آصف صاحب کو فون کیا تو فون ان کے چھوٹے بھائی طارق نے اٹھایا۔
”ڈاکٹر صاحب آصف بھائی کی تو طبیعت بہت زیادہ خراب ہے۔“ طارق کی گھبرائی ہوئی آواز آئی تھی۔

”گزشتہ چند دنوں سے ان کی طبیعت خراب تھی۔ آٹھ دن قبل انہوں نے کچھ کھایا تھا جس سے ان کا پیٹ خراب ہوگیا تھا۔“ ہمارے مشترکہ دوست عرفان خان صاحب نے مجھے فون کر کے بتایا کہ ”آصف صاحب کو متلی ہو رہی ہے اور پیٹ خراب ہے۔“

میں نے فوراً ہی ان کے بھی دوست اور بہت اچھے جنرل پریکٹشنر ڈاکٹر سجاد کو فون کر کے کہا کہ وہ آصف کو فون کر لیں اور انہیں فوڈ پوائزنگ کے لیے کوئی دوا بتائیں۔ سجاد نے فوراً ہی فون کیا اور انہیں پیٹ میں درد اور ہاضمے کی خرابی کی دوا فون پر ہی بتائی اور ساتھ ہی کہا تھا کہ وہ پینے والے نمکیات ( او آر ایس ) کے ساشے منگوا لیں ا ور دن میں کم از کم تین ساشے پئیں۔

Read more

آصف فرخی اپنا گلوب اپنے ساتھ لے گیا ہے

میں موت پر نہیں لکھ سکتا۔ کم از کم آصف کی موت پر نہیں۔ کیا موت نے اب ہماری عمر کے لوگوں کا دروازہ دیکھ لیا۔ ہٹا کٹا صحت مند۔ پیشے سے ڈاکٹر۔ مگر باہر اور اندر تک ادب کا سمندر۔ ایک بڑے باپ کا بیٹا۔ باپ نے بھی زندگی ادب میں بسر کی۔ بیٹے نے روایت کو نا صرف آگے بڑھایا بلکہ ایک ایسا نام ثابت ہوا کہ جس کے وجود میں اردو مہکتی تھی۔ جو اردو کو ساری

Read more

’حسین نقی کون ہیں؟‘ اور ’آصف فرخی کون تھے؟‘ کے موسم میں

عمر کی دوسری دہائی چلی تو اوپر تلے ہونے والی کچھ اموات نے اچھی طرح باور کرا دیا کہ اب اس دکھ سے ملاقات ہوتی رہے گی۔ دادی، دادا، نانا، نانی ایک ایک کر کے رخصت ہوئے۔ ساتھ ساتھ دور کے ضعیف رشتہ دار، سکول اورکالج کے بزرگ اساتذہ، ہمسائے اور پاکستان اور دوسرے ممالک کی بڑی بڑی شخصیات کے رخصت ہونے کی خبریں ملنے لگیں۔ نانا پروفیسر محمد منور کے انتقال کے بعد گھر کے لاؤنج میں بیٹھے ہوئے

Read more

پانچ ہزار برس کا آدمی

پچھلے سال معلوم ہوا کہ جناب آصف فرخی صاحب کی عمر انسٹھ برس ہے۔ مجھے یہ بات گیارہ برس کے لڑکے نے بتائی جو آصف فرخی صاحب کا دوست تھا ۔مجھے بتاتے ہوئے وہ پرجوش تھا، “انہوں نے کہا تھا ان کی عمر پانچ ہزار سال ہے مگر گوگل نے بتایا وہ انسٹھ برس کے ہیں۔” “ادا ، یہ بات تم ان سے خود پوچھنا ،مجھے اس کا نہیں پتہ ۔” میں نے اپنی جان چھڑائی ۔پھر آرٹس کاؤنسل کے

Read more

شکریہ عظمیٰ خان، آمنہ عثمان، عثمان ملک، صدف کنول اور شہروز سبزواری

جس وقت اکتیس دسمبر 2019 اختتام پذیر ہوا اس وقت زیادہ تر لوگوں نے ایسا کبھی بھی نہیں سوچا ہو گا کے یہ سال اس قدر خوفناک ہو جائے گا۔ عوام کی خواہش تھی کہ تیسری جنگ چھڑ جائے گی اور وہ جنگ عظیم سوئم کہلائے گی، اس سے زیادہ ہم جیسے عام لوگوں نے نہیں سوچا تھا۔ بیماری اور ایک ایسی بیماری جو آئے گی اور چھا جائے گی۔ اس کا خیال بھی نہ آیا تھا۔ آج کل سوشل

Read more

آصف فرخی: دھوکے کھانے والا آدمی

ڈاکٹر آصف فرخی دسمبر میں واشنگٹن آئے تو تین چار دن ہم نے ساتھ گزارے۔ انھوں نے وائس آف امریکہ کے دفتر کا دورہ کیا اور میں نے انھیں کتابوں کی کئی اچھی دکانیں دکھائیں۔

انھوں نے درجن بھر کتابیں خریدیں اور مجھے ان کی پسند کا اندازہ ہوا۔ بلکہ سمجھ میں آیا کہ عالمی فکشن کی کتابوں کا انتخاب کیسے کیا جائے۔

میں نے انھیں چینی ادیب یان لیانکے کا ناولا میرو پیش کیا۔ وہ انھوں نے ایک رات میں پڑھ لیا اور بہت خوش ہوئے۔ وہ پاکستان جا کر اس کا ترجمہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ آصف بھائی 2013 میں یان لیانکے سے مل چکے تھے جو مین بکر کی تقریب کے لیے وہاں آئے ہوئے تھے۔

Read more

ڈاکٹر آصف فرخی انتقال کر گئے

ممتاز ادیب ڈاکٹر آصف فرخی کا آج دل کے دورے کے سبب انتقال ہو گیا ہے۔ وہ ذیابیطس کے مریض تھے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں حکومت پاکستان نے تمغہ امتیاز دیا تھا۔

ڈاکٹر آصف فرخی 16 ستمبر 1959 کو ممتاز ادیب، شاعر، نقاد اور اسلم فرخی کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق لکھنو سے تھا اور ان کے خاندان کے بہت سے افراد ادب اور شاعری سے وابستہ رہے۔

Read more

لینہ حاشر کہتی ہیں: ذرا سوچ کے آنا امتحان حشر میں

  محترمہ لینہ حاشر کی تحریر ”مرنے کے بعد خواجہ سرا کا اپنی ماں کو خط“ اس وقت ”ہم سب“ کی تاریخ کی ایسی دوسری مقبول ترین تحریر بن چکی ہے جس نے شائع ہونے کے تین دن کے اندر اندر ایک لاکھ مرتبہ پڑھے جانے کا سنگ میل عبور کیا ہے، اور تین دن کے ٹوٹل ویو کے حساب سے تو یہ اس وقت اول نمبر پر ہے۔ لینہ حاشر کی اس تحریر کی وجہ سے ”ہم سب“ نے اپنی

Read more