موٹروے ریپ کیس: کیا شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں لاہور، سیالکوٹ موٹروے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی؟

بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا واقعی شہباز شریف نے ریپ واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنی جماعت کو موٹروے بنانے کا کریڈٹ دیا؟ یا اصل کہانی کچھ جو 18 سیکنڈ کے کاٹے گئے کلپ میں توڑ مروڑ کر دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

Read more

مجرم بے چارہ ٹھہرے اور مظلوم قصور وار؟

کھانے کے بعد لطیفوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ چودھری صاحب نے اپنی مونچھوں کو بل دیا اور کہنے لگے ”میں بھی ایک سچا واقعہ سناتا ہوں۔ پنڈ میں ویاہ (شادی) تھا۔ لڑکوں کی خواہش تھی کہ ناچنے والیاں لائی جائیں۔ میں شہر گیا ایک کنجر سے بات کی۔ جب میں نے اسے کہا کہ وقت پر آجانا تو کنجر نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگا چودھری صاحب ہم زبان کے پکے، عزت دار لوگ ہیں وقت پر پہنچ جائیں گے۔“ چودھری صاحب بولے ”کنجر اور عزت دار ہاہاہا“۔ ساری محفل میں قہقہے لگنا شروع ہو گئے لیکن مجھے بالکل ہنسی نہیں آئی۔ میں نے چودھری صاحب سے پوچھ ہی لیا تو کیا پھر وہ کنجر ناچنے والیوں کو لے کر وقت پر پہنچا یا نہیں؟ محفل میں لوگ مجھے اس طرح دیکھنا شروع ہو گئے جیسے میں کوئی آسمانی مخلوق ہوں۔ یہ واقعہ سن کر مجھے ہنسی کیوں نہیں آئی؟ اس کی وجہ ایک واقعہ ہے جو مجھے ماضی میں لے گیا۔

Read more

ریپ کلچر: بیٹی کے مقدمے کی پیروی کرتی ماں کا شکوہ، ’ریپ کے بعد صلح کرنے پر مجبور کیوں کیا جاتا ہے؟‘

پنجاب میں ہر ماہ ریپ کے 292 یعنی ہر روز لگ بھگ ریپ کے دس مقدمات درج ہوتے ہیں جبکہ دوسری جانب قانونی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ صوبے میں ریپ کے واقعات کی اصل تعداد باقاعدہ رپورٹ ہونے والے کیسز سے کہیں زیادہ ہے۔

Read more

موٹروے ریپ کیس: کیا ملزمان کی شناخت ظاہر کرنے سے کیس کمزور پڑ سکتا ہے؟

سابق آئی جی پولیس افتخار رشید کے مطابق تفتیش میں کچھ کامیابیاں ملنے کے بعد کیس کی ادھوری تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں کیونکہ کسی کیس کی تفتیش کے دوران جب تک ملزم گرفت میں نہ آ جائیں کسی قسم کی تفصیلات منظر عام پر آ جانے سے فائدہ ملزمان کو ہو سکتا ہے۔

Read more

موٹروے ریپ کیس: کچھ باتیں ابھی رہتی ہیں

اگر بدقسمتی سے ریپ کا واقعہ آپ کے گاؤں یا علاقے میں ہوا ہے اور اس واقعہ کو میڈیا نے اٹھا لیا ہے۔ پولیس پر مجرم پکڑے کا شدید دباؤ ہے۔ آپ ایک شریف آدمی ہیں اور ریپ جیسا گھناؤنا جرم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے لیکن آپ کو ایک شدید خوف نے گھیر رکھا کیونکہ آپ قطار میں کھڑے اپنے ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔

ریپ یا زبر جنسی ایک گھناؤنا جرم ہے۔ ساری دنیا میں پایا جاتا ہے۔ زیادہ تر تو عورتیں، بچیاں، بچے اور ٹرانس جینڈر اس کا شکار ہوتے ہیں لیکن مرد بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ مہذب دنیا نے اس پر قوانین کو بہتر کر دیا ہے اور لوگوں کی تعلیم و تربیت کے ذریعے انہیں سیکس کرائمز پر حساس بنانے کی کوششیں بھی کی جاتی ہیں۔ قانون بہتر ہونے کی وجہ سے رپورٹ کرنا بھی کافی قدر آسان ہو گیا ہے۔

Read more

احساس ذمہ داری اور خاتون کے ساتھ ریپ

من حیث القوم ہمارا یہ رویہ بنتا جا رہا ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری اور فرائض کو کماحقہ پورا نہیں کرتے اور غفلت و لاپرواہی کے مرتکب ہوتے ہیں اور جب اس کے نتائج سامنے آتے ہیں تو اس کی ذمہ داری بھی قبول کرنے سے انکاری ہوتے ہیں۔ پھر اس کا ذمہ دار دوسرے افراد کو ، حالات کو یا پھر قسمت کو ٹھہرا نے کی کوشش کرتے ہیں۔

کچھ ایسا ہی رویہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا موٹروے پر گجر پورہ کے علاقہ میں خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے حالیہ واقعہ میں دیکھنے میں آیا ہے۔

موصوف کہتے ہیں ”کہانی یہ ہے کہ خاتون رات ساڑھے بارہ بجے ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلی ہیں۔ پہلے تو میں حیران ہوں کے تین بچوں کی ماں ہے اور اکیلی ڈرائیور ہے۔ آپ ڈیفنس سے نکلی ہو، آپ سیدھا جی ٹی روڈ لو، جہاں پر آبادی ہے اور گھر چلی جاؤ۔ اگر اس طرف سے (موٹروے ) سے نکلی ہوتو اپنا پیٹرول چیک کر لو، بہرحال یہ مسئلہ تھا ان کا “ ۔

Read more

چار مجرم چار سزائیں

ملک نیمروز میں چار مجرم جیل کی گاڑی میں عدالت کی طرف محو سفر تھے۔ پہلے نے ایک آہ بھری اور کہا ”صاحبو، راستہ طویل ہے اور سفر سست، کچھ کہو کہ سفر کٹے۔ کہو کہ یہاں کیسے پہنچے، کیا جرم کیا، کیا سزا ہے اس جرم کی؟ میری سنو تو میں ہفتہ پہلے اپنی سائیکل پر اپنی فیکٹری کی طرف رواں تھا کہ بس سٹاپ پر ایک مہ جبیں دکھائی دی۔ بے اختیار دل اچھلا، اور دل سے ایک آہ اور ہونٹوں سے سیٹی نکلی۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ وہیں ایک داروغہ بھی موجود تھا۔ اب میں یہاں ہوں اور امید ہے کہ معمولی سرزنش یا جرمانہ کر کے چھوڑ دیا جاؤں گا“ ۔

Read more

حوا کی بیٹیوں کو تذلیل سے بچائیں

تاریک رات میں ہونے والا جنسی درندگی کا سانحہ موٹروے ظلم و بربریت کے ایسے انمٹ نقوش اپنے پیچھے چھوڑ گیا ہے جنہیں بھلانے کے لئے ایک عرصہ درکار ہے۔ معصوم بچوں کے رگ و پے میں سرایت کر جانے والے خوف کے سائے جانے کیسے ختم ہوں گے۔ جانے کیسے وہ بھول پائیں گے ظلم کی اس تاریک رات کو جس نے ان کے دل و دماغ کے ساتھ ان کی روح کو بھی چھلنی کر دیا ہے۔ جانے کب ان کے ذہنوں پر چھائے خوف و دہشت کے اثرات قصہ پارینہ بنیں گے اور جانے کب ان کے خوفزدہ چہروں پر دوبارہ مسکراہٹ بکھرے گی۔

اس واقعہ میں جہاں ایک طرف انسان کے بھیس میں چھپے درندوں نے بربریت کے پہاڑ توڑے وہیں پر پولیس کے سی سی پی او عمر شیخ نے اپنے انتہائی غیر ذمہ دارانہ طور پر بربریت کا شکار ہونے والی خاتون کو ہی لاپروا کہہ کر اس بے گناہ خاتون کے زخموں پر بارہ مسالے ڈالنے کا کام کیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انچارج لاہور پولیس تگ و دو کر کے جنسی درندوں کو گرفتار کر کے انھیں کیفر کردار تک پہنچاتے مگر انہوں نے ظلم کا شکار ہونے والی خاتون پر ہی ایسے اعتراضات کرنے شروع کر دیے جو کہنے کا استحقاق صرف اہل خانہ کو تھا۔

Read more

ریپ پر بیان: سی سی پی او لاہور نے معافی مانگ لی

موٹروے پر خاتون سے ریپ کے معاملے پر سی سی پی او لاہور نے متنازع بیان پر معافی مانگ لی۔ انہوں نے کہا بیان سے کسی کی دل آزاری ہوئی تو معافی مانگتا ہوں، متاثرہ خاتون اور تمام طبقات سے معذرت چاہتا ہوں، میرے بیان کا مطلب کوئی غلط تاثر دینا نہیں تھا۔

Read more

ریپ کیس کے مرکزی ملزم وقار الحسن کا ڈی این اے میچ نہیں ہوا

موٹروے کیس میں ایک اور اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، ملزم وقار الحسن کے ڈی این اے کی رپورٹ آ گئی ہے اور وہ میچ نہیں ہوا ہے۔ متاثرہ خاتون نے بھی ملزم وقار الحسن کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔

Read more

موٹروے ریپ کیس: لاہور ہائی کورٹ نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو طلب کر لیا

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ سی سی پی او کے بیان پر پوری صوبائی کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے تھی، جس سے قوم کی بچیوں کو کچھ حوصلہ ہوتا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر اسی ذہن کے ساتھ تفتیش ہو رہی ہے تو پتا نہیں کتنی حقیقت ہے اور کتنی ڈرامہ بازی ہے۔

Read more

جرائم کی روک تھام میں پولیس کا کردار

موٹروے گجر پورہ کے قریب ہونے والے ریپ کے واقعہ نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ اس واقعہ نے پولیس اور حکومتی اداروں کی غفلت، غیر ذمہ داری اور نا اہلی ظاہر کردی۔ ایسے واقعات کی روک تھام اور مستقبل میں ایسے جرائم سے بچاؤ کے لئے کیا کچھ کیا جانا ضروری ہے اسی تناظر میں کچھ تجاویز وآراء چند روز سے موضوع بحث رہیں ہیں۔ ان کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے۔ ریپ اور دیگر سنگین جرائم

Read more

کسی راؤ انوار کی تلاش؟

’’پولیس کا ہے فرض، مدد آپ کی‘‘ ، آمر مطلق جنرل ضیاء الحق کے دور میں یہ سلوگن خاصا مشہور ہواتھا۔ اس سے پہلے کے ادوار اور آج کل بھی پولیس غریب عوام کی چھترول کر کے ہی ’’مدد‘‘ کرتی آ رہی ہے۔ پولیس، برسراقتدار سیاستدانوں اور مافیاز کے درمیان گٹھ جوڑ کمزور ہونے کے بجائے مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ ریاست مدینہ کے داعی اور تبدیلی کے پیامبر عمران خان کے اقتدار میں

Read more

’غدار‘ صحافی اور ایک پیج کی دیانت دار حکومت

موٹروے ریپ کیس، اس پر پنجاب حکومت کی پھرتیوں اور وزیر اعظم کے مشیروں کی وضاحتوں بھری ستائش کے علاوہ لاہور کے سی سی پی او کے مضحکہ خیز مگر شرمناک و افسوسناک بیان پر ہونے والے ہنگامے میں کسی کو خبر بھی نہ ہوئی کہ پنجاب اور سندھ کی مستعد و چوکس پولیس نے دو ’غدار‘ صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرکے ان کی ’وطن فروشی‘ کے بارے میں تفتیش کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔ عام لوگوں تک یہ

Read more

پاکستان عورتوں کے لیے غیر محفوظ کیوں ہے؟

پاکستان اگر غیر محفوظ ملک بنتا جا رہا ہے تو اس کی وجہ آزادی نہیں، پابندی ہے۔ ٭٭٭     ٭٭٭ بلا شبہ پاکستان عورتوں کے لیے غیر محفوظ ملک بن چکا ہے۔ جہاں عورت شلوار قمیص پہنے یا جینز، دپٹا پہنے یا دپٹے سے بے نیاز ہو، چادر میں لپٹی ہو یا بغیر آستینوں کے ہو، اس کی عمر تین سال ہو یا پچھتر سال ہو، وہ ریپ ہو جاتی ہے۔ اب تو صورت حال اس قدر ابتر ہو چکی

Read more

اچھا تو تمہاری عزت لٹی ہے…؟

ایک عورت کا ریپ تو چند بھیانک لمحے ہیں جو گزر جاتے ہیں۔۔۔ اصل کہانی تو اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔ جس میں ایک طرف آدم کے بیٹے کی کھال میں موجود بھیڑیا ابن آدم کی پوری جاتی کو رسوا کرتا ہے۔ ایک ایسے غیر انسانی اور کریہ فعل کے لیے جو ان بیچاروں نے کیا ہی نہیں ہوتا۔ اور اس دوران جو جملے زبان زد عام ہوتے ہیں اس کی چند مثالیں یہ ہیں۔ سبھی مرد ایسے ہوتے

Read more

پورن سے ریپ تک۔۔۔ سب جائز ہو گیا ہے

سکیس ڈول کلچر کو پروموٹ کیا جائے، جب یہ بات پڑ ہی گئی۔ بہت سوں کے تن بدن میں آگ اس لئے لگی کہ انہیں ڈول نہیں، انہیں عورت اور بچے بھی چاہئیں لیکن اس کے باوجود اکثریت نے شاباش کی تھپکی دی کہ جو کہی گئی نہ ہم سے، وہ کہہ دیا ہے تم نے۔ بہت سے فون بھی آئے اور والدین کا درد دل یہ تھا کہ اب ہمیں بیٹی کے ریپ ہونے سے زیادہ خوف بچوں کے

Read more

کیا سزائے موت ریپ کیسز کا حل ہے؟ پچھلے کالم پر اعتراضات کا جواب

کچھ لوگوں کے میرے پچھلے کالم پر کافی اعتراض سامنے آئے۔ اگر ان کے یہ مضمون سمجھنے میں کسی ذاتی، نفسیاتی، نظریاتی یا جسمانی معذوری دخل انداز ہو رہی ہے یا میری بلاغت اور لکھتے میں کوئی کمی رہ گئی ہے تو آسانی کے لیے تھوڑی وضاحت پیش کر رہا ہوں۔ امید ہے کہ اس کے بعد ٹھنڈے دل و دماغ سے ذہن کو اس کے ڈیفالٹ مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ تو عرض یہ ہے کہ یہ بات صرف میں نہیں کہہ رہا بلکہ جرائم، نفسیات اور قانون پر تحقیق کرنے والے ایکسپرٹ کہتے ہیں کہ متشدد سزائیں یعنی جن میں جسمانی ایذا یا جان کو خطرہ پہنچایا جائے کارگر نہیں ہوتیں۔

اس کا ثبوت آپ لوگوں کے سامنے ہے کہ زینب کے قاتل کہ پھانسی کے فوراً بعد ایک ماہ میں پے در پے چھ بچیوں کے ریپ اور قتل ہوئے جو کہ ابھی تک اسی تواتر سے جاری ہیں۔ ایسا کیوں ہوا؟ تین چار روز قبل ایک بچی کو ریپ کر کے نہ صرف قتل کیا گیا بلکہ اس کے جسم کے ٹکڑے کر کے ان کو جلا کر کوڑے دان میں پھینک دیا گیا۔ اگر پھانسی یا سزائے موت ڈیٹرنٹ ہوتی تو ایسا نہ ہوتا۔

Read more

جوتوں کا تاجر پولیس کو مدد کے لیے فون کر کے کیسے لٹا؟

لیہ کے اک تاجر ہیں جوتوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ ہر پندرہ بیس دن میں اپنے کیری ڈبے میں لاہور جاتے ہیں اور مال خرید لاتے ہیں۔ گزشتہ سردیوں کی بات ہے کہ وہ لیہ سے نکلے اور چوک اعظم سے آگے کہیں ان کی گاڑی کا فیول ختم ہو گیا۔ رات کے دو ڈھائی بجے کا وقت تھا۔ پہلے تو انہوں نے سنسان سڑک پہ آنے جانے والوں کا انتظار کیا کہ کسی سے مدد طلب کی جا سکے۔ پھر تنگ آ کر پولیس کو فون کر دیا۔ پولیس کو تمام حالات بتائے جب پولیس نے استفسار کیا کہ اس وقت کہاں جا رہے ہو تو بدقسمتی سے انہوں نے بتا دیا کہ لاہور مال خریدنے جا رہا ہوں۔

Read more

کیا ہم پنجرے میں بند مرغیاں ہیں؟

آج منظر یہ ہے کہ لاہور سیالکوٹ موٹر وے ریپ کیس پر بڑے شہروں میں صرف خواتین کے جلوس نکل رہے ہیں جیسے یہ صرف انھی کا مسئلہ ہو۔ ہر قومیت، فرقے، مسلک اور زبان بولنے والے کو اپنے اپنوں کے سوا اردگرد کے دیگر مسائل زدہ پاکستانی طبقات نظر آنے بند ہوتے چلے گئے ہیں۔

Read more

پاکستان میں جرائم اور دہشتگردی کے واقعات کی میڈیا کوریج کیسے ہوتی ہے؟

پاکستان میں توجہ حاصل کرنے کے لیے کوئی چینل بازی لے جاتا ہے تو کوئی سب سے بڑی خبر اور بریکنگ نیوز کے دعوے سے سکرین کا رنگ لال پیلا کر دیتا ہے۔ چینل کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے رپورٹرز پر بھی دباؤ رہتا ہے اور وہ خود سے بھی نئے نئے طریقے ایجاد کرتے نظر آتے ہیں۔ کیا اصل میں میڈیا کے ضابطہ اخلاق میں درج کیا ہے۔

Read more

شہباز گل کی ٹویٹ پر سوشل میڈیا صارفین کا سخت ردِعمل: ’شہباز صاحب! فرات کے کنارے کُتا نہیں، عورت لوٹی گئی ہے‘ یہ مبارک باد دینے کی بات ہے؟‘

وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل سے تو آپ واقف ہی ہوں گے۔۔۔ شہباز صاحب سوشل میڈیا پر ایک خاصی مشہور شخصیت ہیں اور اپنی ٹویٹس کے باعث اکثر خبروں میں بھی رہتے ہیں۔

Read more

ریپ ہونے کی صورت میں محکمہ ہذا ذمہ دار نہ ہوگا – مکمل کالم

اس دنیا میں روزانہ ہر عمر کی عورت کا ریپ ہوتا ہے، تین سال کی بچی سے لے کر پچھتر برس کی بڑھیا تک۔ رنگ، نسل، مذہب، قومیت اور لباس کی کوئی قید نہیں۔ بکنی، ساڑھی، برقع، نیکر، عبایہ، جینز، حجاب، فراک، سکرٹ، شلوار، کچھ بھی پہنا ہو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عورت رات کے دو بجے اکیلی سڑک پر ہو یا بس میں اپنے دوست کے ساتھ ہو، کسی بھرے پرے دفتر میں ہو یا نائٹ کلب میں، پنج وقتہ نمازی ہو یا کسی مرد کی طرح ڈرنک کرتی ہو، میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگاتی ہو یا یتیم بچیوں کی پناہ گاہ کی محافظ ہو، ڈومنی ہو یا پردہ دار، چہرہ بغیر میک اپ کے رکھتی ہو یا غازے کی تہیں سجاتی ہو، قائد اعظم کے مزار کے احاطے میں ہو یا اپنی قبر میں، ریپ کرنے والا اس کی لاش نکال کر بھی ریپ کرے گا اور مردوں کے اس معاشرے میں کچھ لوگ ہوں گے جو کہیں گے کہ کفن میں چہرہ ڈھانپا نہیں گیا تھا اس لیے ریپ ہوا۔

موٹر وے پر تین بچوں کی ماں کے ساتھ گینگ ریپ ہوا، اس سے زیادہ بھیانک جرم کا تصور ممکن نہیں، لیکن یہ جملے اب بے معنی ہو چکے، جس ملک میں ایسی گھناؤنی واردات کے بعد یہ بحث شروع ہو جائے کہ کیا اس عورت کو رات کے وقت ویران موٹر وے پر سفر کرنا چاہیے تھا یا نہیں اور یہ بحث چھیڑنے والے نہ صرف پڑھے لکھے لوگ ہوں بلکہ ان کا تعلق سول سروس سے ہو تو باقی اندازہ خود لگا لیں کہ اس معاشرے کا عام مرد کیسے سوچتا ہوگا۔ آپ کے لیے اگر یہ اندازہ لگانا اب بھی مشکل ہو تو بطور مرد میں مدد کر دیتا ہوں۔

Read more

شہباز گل کی ٹویٹ پر سوشل میڈیا صارفین کا سخت ردِعمل: ’شہباز صاحب! فرات کے کنارے کُتا نہیں، عورت لوٹی گئی ہے‘ یہ مبارک باد دینے کی بات ہے؟‘

وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل سے تو آپ واقف ہی ہوں گے۔۔۔ شہباز صاحب سوشل میڈیا پر ایک خاصی مشہور شخصیت ہیں اور اپنی ٹویٹس کے باعث اکثر خبروں میں بھی رہتے ہیں۔

Read more

اذیت پسندی کیسے کم ہو گی؟

لاہور کے علاقے گجرپورہ میں لنک موٹر وے پر کار سوار خاتون سے زیادتی ہوئی۔ وقفے وقفے سے وحشی مزاج ہمارے سکون کو غارت کرتے رہتے ہیں۔ کئی قانونی سوال اٹھے ہیں جن کو دماغ قبول کرنے لگے ہیں، صدمے سے نکلنے پر سارا سماج سوچ سکتا ہے کہ یہ واقعہ کیوں ہوا اور اسے کیسے روکا جا سکتا تھا۔ پاکستان میں خواتین کی عصمت دری کے واقعات پر ہر بار عوامی سطح پر شدید ردعمل آیا۔ حیرت یہ کہ اس ردعمل کی شدت قانون کا حصہ نہیں بن پائی۔

جانے کتنی زینب قتل ہوئیں تو زینب ایکٹ تیار ہوا۔ یہ جو جمہوریت کے لیے جینے مرنے کی بات کرتے ہیں، ان لیڈروں نے دو سال تک زینب ایکٹ منظور نہ ہونے دیا۔ آج ہر کسی کا خون ابل رہا ہے۔ سوشل میڈیا ہو یا پرنٹ مہنگے اینکروں سے سجا الیکٹرانک میڈیا۔ ہر جگہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ گجر پورہ لنک روڈ پر زیادتی کے واقعہ میں ملوث افراد کو پکڑ کر سرعام پھانسی دی جائے۔ کیا آپ جانتے ہیں بے حس کسے کہتے ہیں : سب مومی الفاظ مظفر بے حس تھے گونگے تھے دل کی آنچ ملی تو نکلی بوند بوند چنگاری سی اپنے اردگرد دیکھ لیجیے، بہت بے حس مل جائیں گے۔

Read more

دو لفظ ایک ملزم کی بے گناہ بیٹی کے بارے میں

پنجاب حکومت کے علاوہ وفاقی حکومت کے ترجمانوں نے گزشتہ تین روز کے دوران موٹر وے ریپ کیس میں جس مستعدی اور چابکدستی کا مظاہرہ کیا ہے، اس کی روشنی میں یقین کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں کچھ بھی تبدیل نہیں ہؤا۔ نیا پاکستان بنانے کا اعلان کرنے والی حکومت دراصل پولیس کے پرانے ہتھکنڈے اور سیاسی رہنماؤں کے پرانے طریقے اختیار کرکے میڈیا میں ایک ایسی تصویر بنانا چاہتی ہے کہ جس سے سب کچھ بدلا ہؤا دکھائی

Read more

اگلے جنم بھی موہے بٹیا ہی کیجو

عورت اکیلی ہو، جوان ہو، بوڑھی ہو، کمسن ہو، خوب صورت ہو یا بد صورت، وقت دیکھ کے گھر سے نکلی ہو یا بے وقت، بلکہ گھر سے بھی نہ نکلی ہو تب بھی ہر طرح کے جسمانی اور ذہنی تشدد کی تلوار اس کے سر پر منڈلاتی رہتی ہے۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم

Read more

جدید ریاست مدینہ میں خواتین کے ساتھ جنسی تشدد اور زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات۔ ۔ ۔

حضرت علیؓ کا قول ہے کہ: ”کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نظام نہیں چل سکتا آج ہمارے معاشرے میں ہر طرف افراتفری کا ماحول ہے۔ قتل و غارت، بچوں کے ساتھ ریپ اور خواتین کی عصمت دری روز کا معمول بن گیا ہے۔ مگر افسوس کہ جس طرح پاکستان میں زینب کیس ہائی لائٹ ہوا تھا اسی طرح اب ایک پنجاب میں کیس سامنے آیا ہے۔ جس پر پورے ملک اور دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ ریاست مدینہ میں جہاں معصوم بچوں، خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں، وہیں قتل و غارت گری کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

مگر کیا کریں، پنجاب میں اب تک 5 آئی جی پنجاب کا تبادلہ کیا جا چکا ہے۔ نہ جانیں کتنے ایس ایس پیز اور دیگر پولیس عمل داروں کو گھر بھیجا جا چکا ہے۔ سی پی او لاہور کی شکایات پر کچھ ہی دن ہوئے ہیں کہ آئی جی پنجاب کو گھر بھیجا گیا۔ لاہور موٹروے پر ایک ویرانی کے علاقے میں ایک خاتون جو اپنے بچوں کے ساتھ سفر کر رہیں تھی کہ اچانک گاڑی رک گئی، ہوا یوں کہ کچھ غنڈہ قسم کے وحشی صفت لوگوں نے نہ صرف ان سے رقم لوٹی بلکہ خاتون کو بچوں سمیت نیچے جھاڑیوں میں لے گئے اور یوں بچوں کے سامنے اس عورت کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

Read more

ایک خوف کی داستان اور آہوں بھری بازگشت

وہ ہے ہی کیا غریب ماں باپ کی نادار بیٹی جو طلاق کے خوف سے اپنی ذات کے لئے کھلی فضا میں زور سے سانس لینا بھی نازیبا حرکت سمجھتی ہو گی۔ آپ فرض کریں کے ابھی وہ نرس غیر شادی شدہ ہے اور آپ اس کو کسی اچھے کولیگ سے قریب ہوتا دیکھ رہے ہیں اس غرض سے کہ زندگی کا بقیہ سفر شاید اس کے ساتھ خوشگوار گزرے اور عہد گزشتہ کی تلخیاں اسے خیر باد کہہ دیں۔ وہ روزانہ چند روپے بچا کر جو لپ اسٹک خریدی تھی اسے اپنے کولیگ کے لئے لگاتی ہے اور پھر بھی اس سے اظہار محبت نہیں کرتی کیونکہ یہ اقدام بہر حال اس کی تربیت کے منافی ہے۔

وہ کولیگ موقع سے فائدہ اٹھا کر اس سے وعدہ وفا کرتا ہے، اس کے ساتھ چند لمحے تفریح کرتا ہے۔ اس تفریح کے دوران وہ اسے اپنی ذات کی الجھنیں اور اپنے مسائل بتانا چاہ رہی ہوتی ہے لیکن اس کا کولیگ اپنے درد کا درماں کسی اور انداز میں کر رہا ہوتا ہے۔ پھر ایک دن اسے کھری کھری سناتا ہے کے تمہارا ’کریکٹر ٹھیک نہیں‘ اور وہ بقول پروین شاکر اپنے گھر کے اندھیروں میں لوٹ آتی ہے۔ اب یہ فرض کریں کہ شادی اس کی کسی عمر رسیدہ آدمی سے ہو جاتی ہے اور اس پر اپنی شریک حیات کا پرانا معاشقہ کھل جاتا ہے تو وہ کیا اقدام کرے گا۔

یا تو وہ پل بھر میں طلاق یافتہ ہو جائے گی یا اس غلطی کی پاداش میں تاحیات مزید حیوانی سلوک کی حقدار ٹھہرے گی۔

Read more

رات کو اکیلی گھومتی ہو؟ جاؤ بی بی واپس جاؤ ہماری ”قدریں“ نہ بگاڑو

حالیہ کیس، زینب کیس کی طرح ایک ہائی پروفائل کیس بن گیا ہے سوشل میڈیا پر لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے لوگوں کا حسب معمول مطالبہ ہے کہ مجرم کو سرعام پھانسی دو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردو، نامرد بنا دو، جیسے کہ ایسا کرنے سے جرم رک جائے گا۔ مایوس کن بات یہ ہے کہ ایسا نہیں ہو گا کیونکہ مسئلے کا حل سزا کی نوعیت نہیں بلکہ سزا کا یقینی ہونا ہے۔ اگر مجرموں کو یہ پتہ ہو کہ وہ جرم کر کے بچ نہیں پائیں گے۔ پولیس پاتال میں سے بھی ان کا کھوج لگا لے گی، عدالتیں عدم ثبوت کا بہانہ بنا کر چھوڑ نہیں دیں گی تو لازماً جرائم میں کمی آئے گی۔

Read more

اپنی بیٹی کو پستول کا لائسنس لے دوں؟

گھر سے باہر تھا، بیٹی کا برقی پیغام آیا کہ ”بابا میں سو نہیں پا رہی، مجھے واپس آکے سیلف ڈیفینس کا کورس لے کر دیں یا گن کا لائسنس۔ دماغ میں بہت کچھ چل رہا ہے، یہ معاشرہ رہنے کے قابل ہے؟“ اسے جھوٹی سچی تسلی دی اور اب میری نیند اڑی ہوئی ہے۔ ٹی وی دیکھنے سے تو منع بھی کیا جاسکتا تھا۔ لیکن خبر تو ہوا کے دوش پر ٹی وی اور اخبارسے آگے بڑھ کر فون

Read more

موٹروے ریپ کیس، ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، ملزم بیوی سمیت کھیتوں میں فرار

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ موٹروے پر زیادتی کیس کے بعد یقین دلاتا ہوں کہ ملزمان جلد قانون کے شکنجے میں ہوں گے۔ 72 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اصل ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت، صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان اور آئی جی پنجاب انعام غنی کیساتھ نیوز کانفرنس کرتےہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاتون سے رابطہ ہوا ہے اور انصاف کا یقین دلایا اور پولیس اہلکار بھی رابطے ہیں، ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

Read more

جنسی زیادتی ہو تو زبان بند رکھو

غلطی آپ کی ہے آپ انسان تھیں، کیا انسانیت کے اصول سیکھنے کے لیے اپنی جنم بھومی پر قدم ٹکانے ضروری ہیں۔ یہ سب حیلے بہانے چھوڑیے سچی بات تو یہ ہے کہ آپ اپنے بچوں کو پاکستان دکھانا چاہتی تھیں۔ بچوں کو سنی سنائی باتوں کے بجائے خود ان کی آنکھوں سے انہیں یقین دلانا چاہتی تھیں کہ پاکستان کے خلاف جو کچھ کافروں اور غداروں کے منہ سے نکلتا ہے سب جھوٹ ہے۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بڑے کروفر

Read more

موٹروے ریپ کیس: ڈی این سے ملزم کی شناخت ہو گئی: میڈیا رپورٹس

سما نیوز اور دوسرے میڈیا سورسز کے مطابق لاہور سیالکوٹ موٹروے پر خاتون سے ریپ کے کیس میں ڈی این اے کی مدد سے ایک ملزم کی شناخت کر لی گئی ہے۔ اس کا پہلے بھی ڈکیتی اور ریپ کا مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے۔

Read more

ریپ کی اصلیت

جب حیا مارچ والے عورتوں پر اپنے اعضائے تناسل لہرا رہے تھے، باوجود اس کے پوری قوم کی حمایت بھی انہی کو حاصل تھی تب سے ہی لاہور موٹر وے اور اس جیسے لاکھوں ریپ کے آنے والے دیگر سانحات کے بیج بو دیے گئے تھے۔ جب کراچی کی پانچ سالہ مروہ کے حالیہ ریپ، تشدد اور قتل کے بعد یہ سوال اٹھایا گیا کہ اعلیٰ صبح بچی کو باہر بھیجا ہی کیوں، تب اس قوم نے لاہور موٹر وے

Read more

کیا ریاست شہریوں کی حفاظت سے دستبردار ہو گئی؟

بچپن میں کبھی کسی چوکیدار سے منہ سے آتی یہ آواز سن کر کہ ”جاگتے رہنا“ توہم بہن بھائیوں نے اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے کہ چوکیدار دوسرے الفاظ میں یہکہنا چاہتا ہے کہ جاگتے رہنا اور میرے پر نہ رہنا۔

بھلا بندہ پوچھے کہ اگر خود ہی جاگنا ہے تو تمہارا پہرہ دینا چہ در معنی!

لاہور پولیس کے آفسر کا بیان سن کر بے ساختہ یہ بات آ گئی کہ بھئی عورت کوضرورت کیا تھی رات بارہ بجے گاڑی لے کر نکلنے کی؟

Read more

اے عورت۔ تم ریپستان میں رہتی ہو!

حالیہ لاہور ریپ کیس کسی سے ڈھکا چھپا نہیں شاید بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی اس کیس کے بارے میں بہت کچھ جان چکے ہوں گے ، کیونکہ پچھلے چند دنوں سے سوشل میڈیا پر اسی دل چیر دینے والے گھناونے فعل پر تبصرے جاری ہیں۔ صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں رات گئے بچوں کے سامنے خاتون کے ساتھ گینگ ریپ ہوا اور تاحال وحشی درندے ابھی تک آزاد دھندھنا رہے۔ پاکستان میں خواتین کو مرد کے شانہ

Read more

اب کیا لکھا جائے۔۔۔ جنت رسوا ہو گئی

اب زمانہ ڈیجیٹلائزڈ ہو گیا ہے۔ ہر فرد کے ہاتھ موبائل۔ فون نظر آتا ہے۔ انٹرنیٹ اور موبائل۔ فون کی وجہ سے سوشل میڈیا کی تیز رفتاری یہ ہے کہ جو خبر دنوں میں عوام تک پہنچتی تھی وہ اب ایک کلک پر کچھ وقت میں پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔ اور اخبار پڑھنے کا معاملہ تقریباً اسی فیصد ختم ہو چکا ہے کیونکہ جو خبر اخبار میں دوسرے دن آپ کو پڑھنے کو ملے گی، وہ آپ راتوں

Read more

ریپ کے لیے سازگار فضا

چلیں جی سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی یہ بات مان لیتے ہیں کہ بدھ کو علی الصبح لاہور سیالکوٹ ایم الیون موٹر وے پر جس خاتون کا اس کے دو بچوں کے سامنے مسلح افراد نے ریپ کیا ، تشدد کیا ، سامان لوٹا اور فرار ہو گئے تو اس میں بنیادی غلطی عورت کی ہے۔ اس عورت کو دو چھوٹے بچوں کے ساتھ آدھی رات کو سنسان موٹر وے پر سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

Read more

عورت کو غیرت کے نام پہ مارنے والے، عورت کو شرم سے نہ مرنے دیں

میں پاکستان کے دارالحکومت یعنی اسلام آباد میں رہتی ہوں۔ ابھی بہت زیادہ دن نہیں ہوئے غالباً گزشتہ جمعرات کی رات دو بجے ہوں گے، میری اسلام آباد سے کراچی کے لیے پرواز تھی، فلائٹ ٹائمنگ علی الصبح تھی۔ میں نے اپنے کچھ دوستوں سے ذکر کیا کہ مجھے ائرپورٹ پہنچا ہے تو پتا چلا کہ ہمارے ایک ساتھی نے بیلاروس جانا ہے، ان کی اور میری پرواز میں دو گھنٹے کا وقت فرق ہے۔

آخر طے ہوا کہ میں اور میرے دوست اکٹھے ائرپورٹ جائیں گے۔ جبکہ میری گاڑی ہمارے تیسرے ساتھی کے سپرد کی جائے گی۔ شاید، میرا یہ فیصلہ میری گاڑی کو پسند نہیں تھا کہ وہ کسی اور کے ہاتھوں سے چلے۔ اتفاق سے میری گاڑی ائرپورٹ کے داخلی دروازے کے باہر بند ہو گئی۔ اور بند بھی ایسا ہوئی کہ پھر دوبارہ نہیں چلی۔

Read more

گجرپورہ میں بچوں کے سامنے ماں سے اجتماعی زیادتی کا مرکزی ملزم گرفتار: اے آر وائی نیوز

لاہور : پنجاب پولیس نے گجرپورہ اجتماعی زیادتی کیس کے مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق پولیس حکام نے گجرپورہ لنک روڈ پر بچوں کے سامنے ماں سے اجتماعی زیادتی کرنے والے مرکزی ملزم گرفتار کر لیا ہے جبکہ دوسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے اب کرول گاؤں میں وسیع پیمانے سرچ آپریشن جاری ہے۔

Read more

ریپ کے تازہ واقعات: معاشرے کی ذلت آمیز پستی

پنجاب میں موٹر وے پر پیٹرول ختم ہونے کی سزا میں ایک نہتی خاتون کی بچوں کے سامنے آبرو ریزی کی خبر نے ہمارے معاشرے کی جڑوں کے کھوکھلے پن کی قلعی ایک بار پھر کھول دی ہے۔ ویسے یہ قلعی بھی اتنی بار کھلی ہے کہ اس کا ذکر کرتے ہونے بھی شرم آتی ہے۔
پشاور میں خواجہ سزا گل پانڑا کے قتل اور اس کی ساتھی کی زخمی کیے جانے کی شرمناک کہانی بھی ذہن کو جھنجھوڑ رہی ہے۔

مذکورہ بالا دو واقعات کا دکھ کسی مخصوص علاقے تک محدود نہیں ملک کے ہر کونے اور بیرون ملک بسنے والے پاکستانی ان واقعات کے بعد انگشت بدنداں ہیں کہ یہ معاشرہ کس نہج پر پہنچ گیا ہے؟ کیا اس کا کوئی تدارک بھی ممکن ہے یا نہیں؟

Read more

کرول جنگل میں انسانی درندگی

یوں تو جنگل میں خطرناک جانوروں کا راج ہوتا ہے لیکن انسان کی درندگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اب شہر ہوں یا دیہات یہاں تک کے جنگل بھی انسان کی درندگی سے محفوظ نہیں رہے۔ انسان کی درندگی دیکھ کر جانوروں نے بھی جنگل چھوڑنا شروع کر دیے ہیں۔ اب نہ جانے جانور کہاں روپوش زندگی گزار رہے ہیں۔ خطرناک سے خطرناک جانور بھی وہ کچھ نہیں کرتے جو آج کل انسانی درندے کرنے لگے ہیں۔ ایسے ہی انسانی درندگی کا ایک واقعہ چند روز قبل موٹر وے پر ہوا جہاں ایک خاتون کی عصمت دری اس کے بچوں کے سامنے کی گئی۔

پولیس کی رپورٹ کے مطابق گوجرانوالہ کی رہائشی خاتون کے ساتھ انسانی درندگی کا یہ واقعہ 8 اور 9 ستمبر کی درمیانی شب اس وقت پیش آیا جب خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ لاہور سے گوجرانوالہ جانے کے لیے لاہور۔ سیالکوٹ موٹروے پر سفر کر رہی تھی۔ یہ موٹر وے حال ہی میں ٹریفک کے لیے کھولا گیا تھا۔ موٹر وے پر خاتون کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہو گیا اس نے مدد کے انتظار میں گاڑی ایک سائیڈ پر کھڑی کرلی اور گاڑی کے شیشے بند کر دیے۔

Read more

قبر میں اکیلی کیوں لیٹی؟

باہر اکیلی کیوں نکلی؟ رات کے وقت سفر کیوں کیا؟ سر پہ دوپٹہ کیوں نہیں تھا؟ منہ حجاب سے کیوں نہیں ڈھانپا؟ جینز کیوں پہنی؟ شوخ رنگ کیوں اوڑھے؟ بھنویں کیوں ترشوائیں؟ چست لباس سے جسم کیوں نمایاں کیا؟ چادر سے جسم کے زاویے چھپائے کیوں نہیں ؟ منہ پھاڑ کے ہنسی کیوں؟ زیادہ باتیں کیوں کرتی ہے ؟ میک اپ کیوں کیا ؟ بال کیوں کٹوائے تھے؟ لڑکوں کے ساتھ تعلیم کیوں حاصل کی؟ مردوں کے ہمراہ دفتر میں

Read more

کیا سزائے موت ریپ کیسز کا حل ہے؟

سزائے موت کسی بھی چیز کا حل نہیں ہے چہ جائیکہ ریپ کی۔ یہ بات سماجی مسائل اور جرائم پر کام کرنے والے ماہرین متعدد بار ثابت کر چکے ہیں۔ اس کی ایک مثال زینب کے قاتل کی پھانسی کی ہے۔ اس کی پھانسی کے اگلے ہی ماہ چھ بچیاں جنسی زیادتی کا شکار ہوئیں۔ اگر پھانسی حل ہوتی تو اگلے ماہ ہی اتنے زیادہ کیسز سامنے نہ آتے۔ تشدد کا حل کبھی بھی تشدد نہیں ہوتا۔ کوئی کہہ رہا پھانسی پر چڑھاؤ کوئی کہہ رہا ہے گردن اتار دو چوک میں۔ پہلے جو قوانین ہیں ان پر عمل درآمد ہو نہیں رہا اور تشدد کے مقابلے میں نئے متشدد اور فرسودہ طریقوں کی فرمائشیں آ رہی ہیں۔ اگر ایسا نہیں کرنا چاہیے تو پھر کیا کیا جائے؟

Read more

کیا آپ نے اپنی ماں کا ریپ ہوتے دیکھا ہے؟

یہ سوال تو بظاہر ایک انسان سے کرنا ہی تکلیف دہ ہے۔ مگر کیا آپ کے لئے یا میرے لئے ہے۔ شاید نہیں ہے۔ ہونا بھی نہیں چاہیے۔ اس ملک میں روز ایک المیہ ہے روز ایک نئی داستان ہے۔ کیا آپ نے زینب کے واقعات کے بعد سبق سیکھا۔ کیا آپ نے مانسہرہ میں پچھلے سال، چار سال کی بچی جس کو ریپ کر کے کنویں میں پھینک دیا تھا وہ وہاں تین دن پڑی رہی۔ اس سے کچھ سیکھا۔ اور اس کے اگلے دن وہ سردی اور تکلیف کی شدت برداشت نا کرتے ہوئے مر گئی تھی۔ اچھا ہوا، ورنہ ایسی اولاد کو کون پالتا۔ کون اس کے زخم سیتا۔ کون اس کی زندگی بھر کونسلنگ کرتا۔

ہم روز ایسے واقعات دیکھ دیکھ کر بے حس ہو چکے ہیں۔ آخر کب تک روئیں سر پیٹیں۔ اس کا حل کیا ہے۔ کچھ بھی نہیں۔ کسی کی کوئی ذمہ داری ہی نہیں۔

Read more

جدید ریاست مدینہ میں عورت کی تکریم

نئے پاکستان اور جدید ریاست مدینہ کے قیام کے بلند بانگ نعرے لگانے والے ہمیں قدم قدم پر باور کرواتے تھے کہ پی ٹی آئی کی حکومت بنتے ہی ہمارے وارے نیارے ہو جائیں گے۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پینا اور خوشی خوشی جینا شروع کر دیں گے۔ انصاف کا بول بالا، عدل کا اجالا اور ظلم اور ظالم کا منہ کالا ہو جائے گا۔ پھر سونے چاندی کے زیورات سے لدی عورت کراچی سے کشمیر اور لیپا سے لنڈی کوتل تک جائے گی مگر کوئی ظالم، زانی، غنڈہ اور بدمعاش و اوباش اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکے گا۔

ان بلند آہنگ مگر کھوکھلے نعروں کی سر بریدہ اور بدن دریدہ لاش موٹر وے کے ساتھ لہلہاتے جھومتے ان کھیتوں کے بیچ پڑی نیو ریاست مدینہ والوں کا منہ چڑا رہی ہے جہاں دو دن قبل دو انسان نما درندوں اور وحشیوں نے کم سن بچوں کے سامنے ان کی ماں کا ردائے عصمت تار تار کردی۔

Read more

موٹروے کے قریب خاتون کا مبینہ ریپ: ’پنجاب حکومت کی واحد فوکس ملزمان تک جلد از جلد پہنچنا ہے‘

منگل اور بدھ کی درمیانی شب پیش آنے والے اس مبینہ واقعے کی تحقیقات کے لیے وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب پولیس کی جانب سے دو الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔

Read more

موٹروے کے قریب خاتون کا مبینہ ریپ: سوشل میڈیا پر متاثرہ خاتون کی شناخت ظاہر نہ کرنے کی اپیل

موٹروے پر خاتون کے ساتھ مبینہ ریپ اور ڈکیتی کے واقعے کے بعد لوگوں میں یہ تشویش بھی بڑھ رہی ہے کہ ایسے میں سوشل میڈیا پر متاثرہ افراد کی ذاتی معلومات جاری کر دی جاتی ہے جو کہ اخلاقی اور قانونی اعتبار سے درست نہیں۔

Read more

ساری غلطی ہے ہی اس ریپ ہونے والی عورت کی

آپ جانتے ہی ہیں کہ ہم ہمیشہ سچ کا ساتھ دیتے ہیں۔ سچ کی سب سے بڑی پہچان یہ ہوتی ہے کہ حکمران بتاتا ہے کہ سچ اور حق کیا ہے۔ اور اس وقت پورے سوشل میڈیا پر جس شخص کا سچ چھایا ہوا ہے وہ لاہور کے پولیس چیف ہیں جن کی حمایت حکومت کے نامی گرامی وزرا اور مشیر کر رہے ہیں یعنی ان کے موقف کو حکومتی موقف سمجھا جانا چاہیے۔

انہوں نے صاف صاف بتا دیا ہے کہ موٹر وے پر ہونے والے واقعے میں بنیادی غلطی کس کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں ”میں سیدھی بات کرنے والا افسر ہوں۔ کیا ہم اپنی بہن کو ماں کو اکیلے بچوں کے ساتھ جانے دیتے ہیں ساڑھے بارہ بجے۔ پاکستان میں کوئی اس طرح نہیں جانے دیتے۔ نمبر ون۔ اگلا سوال یہ ہے کہ اگر وہ جائیں بھی کسی ایمرجنسی سے تو ہم اسے کہتے ہیں کہ بیٹا جی ٹی روڈ سے جانا۔ یہ باتیں کرنے سے میری مراد اسے مورد الزام ٹھہرانا نہیں ہے۔ مجھے یہ بتانا ہے کہ ہماری سوسائٹی اس طرح کی ہے۔ بہنوں والو بیٹیوں والو آئندہ خیال رکھو ۔ ۔ ۔ دیکھیں اس کی فیملی فرانس کی ہے اس کا ہسبینڈ فرانس رہتا ہے۔ اس نے یہ سارا کام اس لیے کیا ہے کہ اس کی اورینٹیشن میں فرانس تھا۔ یہ مینلی اسی طرح کا محفوظ معاشرہ ہے اور معاشرے وہاں پہ صرف لا سے نہیں محفوظ ہوتے۔ وہاں اخلاقی قدروں سے محفوظ ہیں۔ رول آف لا کی وجہ سے محفوظ ہیں۔ رٹ آف گورنمنٹ کی وجہ سے محفوظ ہیں۔ اس لیے بچیاں وہاں پہ رات کو ٹریول کرتی ہیں، موٹر ویز پر کرتی ہیں، ان کو کچھ نہیں ہوتا۔“

اب دیکھیں انہوں نے اس خاتون کو ہرگز بھی مورد الزام نہیں ٹھہرایا ہے۔ لیکن معاملہ پانی کر دیا ہے۔

Read more

واہ فرانس، آہ پاکستان!

صبح سے لاہور موٹر وے ریپ پر تقریباً 99.9 ٪ سوشل میڈیا ایک ہی سمت میں بہہ رہا ہے۔ اس بہاؤ کے بیانیہ کے تحت پاکستان شاید ”ریپستان“ ہے اور یہاں گویا ہر طرف مرد حضرات اسی ایک فعل میں مصروف ہیں۔

صبح سے اس پر صرف ایک ہی بات کی ہے کہ ہر قسم کا جرم اک گھناؤنا فعل ہوتا ہے، اور بالخصوص ایسے جنسی جرائم کہ جن میں ایسی بے بسی، مجبوری اور خود پر گرتا ہوا قہر محسوس کیا جائے، وہ گویا سینہ چیرے چلے جاتے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ پنجاب پولیس ایسے جنسی جرائم میں ملوث افراد کے ساتھ کرتی کیا ہے اور وہ جو کرتی ہے، بہت معذرت، مجھے، موجودہ پاکستانی عدالتی نظام کی موجودگی میں، اس پر کچھ زیادہ اعتراض کرنا بنتا بھی نہیں۔

Read more

موٹر وے ریپ کیس: ملزمان خاتون کے ساتھ زیادتی سے قبل اور دوران تشدد بھی کرتے رہے

موٹروے ریپ کیس کی تفصیلات کے مطابق خاتون کو دوران زیادتی اور اس سے قبل تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا۔ پولیس کے مطابق خاتون کی ٹانگوں اور بازووں پر ڈنڈے مارے جانے کے نشانات ملے ہیں۔ واضح رہے کہ لاہور میں گجر پورہ موٹر وے پر پیٹرول ختم ہونے پر خاتون کی گاڑی بند ہو گئی تھی کہ اس دوران دو مسلح افراد کار کا شیشہ توڑ کر زبردستی خاتون اور اس کے بچوں کو موٹر وے سے

Read more

ریپ اور جنسی ہراسانی

گزشتہ رات ایک انتہائی افسوس ناک خبر سننے کو ملی کہ لاہور سے گجرانوالہ کے رستے پر نو تعمیر شدہ موٹر وے پر ایک خاتون کی عزت کو پامال کیا گیا۔ تفصیلات سب نے پڑھ لی ہیں اور دہرانا میرے لیے تو ممکن نہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ ریپ کا واقعہ ہوا اور سوشل میڈیا پر آواز بلند ہوئی ہے۔ مگر جس طرح میڈیا اور سوشل میڈیا پر آواز بلند ہو رہی ہے اسی طرح ان واقعات کی رپورٹس میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

Read more

سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے مبینہ ریپ کے واقعے پر بیان پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

قانون نافذ کرنے والوں کی طرف سے یہ کہا جانا کہ رات گئے، اکیلے سفر کرتے ہوئے موٹروے پر مبینہ طور پر ریپ کا شکار ہونے والی خاتون کو دوسرے راستے سے جانا چاہیے تھا یا پھر پیٹرول نہ ہونا ان کی کوتاہی کا نتیجہ تھا، اس سے کیا پیغام ملتا ہے؟

Read more

موٹروے ریپ کیس کی ابتدائی رپورٹ

ذرائع کے مطابق پولیس کی ابتدائی تحقیق میں خاتون کی بیان کردہ ایف آئی آر کو درست پایا گیا ہے اور پولیس نے سرگرمی سے مجرموں کی تلاش شروع کر دی ہے۔ کل یہ اندوہناک خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے بھی اس کا نوٹس لیا تھا۔

Read more

لاہور موٹروے ریپ: بارہ مشتبہ افراد گرفتار۔ ملزمان کے گاؤں کی نشاندہی ہو گئی

انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب انعام غنی نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پولیس نے لاہور موٹروے پر خاتون سے زیادتی کرنے والے ملزمان کے گاؤں کا سراغ لگا لیا ہے۔

Read more

پاکستان میں خواتین اور بچوں کے ریپ اور ہراسانی کے واقعات پر سوشل میڈیا صارفین برہم

پاکستان میں گذشتہ چند دنوں کے دوران ریپ اور ہراسانی کے متعدد واقعات پیش آنے کے بعد لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ آیا پاکستان خواتین اور بچوں کے لیے ایک محفوظ ملک ہے۔

Read more

لاہور: موٹروے کے قریب خاتون کے ساتھ مبینہ ریپ، ڈکیتی، وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا نوٹس

ایف آئی آر کے مطابق درخواست دہندہ کی عزیزہ نے بتایا کہ 30 سے 35 سال کی عمر کے دو مسلح اشخاص نے انھیں اور ان کے بچوں کو گاڑی سے نکال کر ان کا ریپ کیا اور ان سے نقدی اور زیور چھین کر فرار ہو گئے۔

Read more

لاہور کے نواح میں موٹر وے پر بچوں کے سامنے خاتون سے اجتماعی زیادتی

اطلاعات کے مطابق دو افراد نے موٹر وے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا، موٹر وے کے گرد لگی جالی کاٹ کر سب کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور پھر خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔

Read more

بچہ گود لینا

بے اولاد جوڑے اگر شدید تمنا رکھتے ہوئے بھی اولاد سے محروم ہوں اور سارے علاج، دعایں اور ٹوٹکے بے کار ہو چکے ہوں وقت کی ٹک ٹک آگے ہی بڑھتی جائے تو یہ ایک گہرا دکھ ہے۔ ایسے میں کوئی بچہ گود لینے کا خیال آتا ہے۔ لیکن کیا بچہ گود لینا ایک آسان سا کام ہے؟ والدین نے پیپر سائن کیے، چند ماہ انتظار کیا اور ایک ہنستا کھیلتا بچہ ان کی گود میں آ گیا۔ سونا آنگن

Read more

بیٹیوں کی آزادی اور ماں باپ کی بے اعتباری

آزادی کا مطلب ہے کھل کے جینے کے اختیارات دینا، کھل کے جینے کے اختیارات کا کیا مطلب ہے انسان اپنی مرضی سے اپنی زندگی کے فیصلےکر پائے، اپنی مرضی کا پروفیشن منتخب کر پائے، اپنی پسند کی شادی کا فیصلہ کر پائے، اپنی مرضی سے جہاں جانا چاہے چلا جائے، جہاں تک تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے، حاصل کر پائے۔ اسے اس کی جائیداد میں حصہ دیا جائے۔ یہ ہے آزادی کا مطلب، جہاں بات لباس کی آ جائے

Read more

دو دنیاؤں کے درمیانی پل پر بھیانک حادثے کی کہانی

مادام۔ میرا نام ماہم ہے۔ میں آج کل اردو سیکھ رہی ہوں۔ میری اردو ٹیچر نے مجھے آپ سے متعارف کرایا کہ آپ لکھتی ہیں۔ پردیس میں دیسیوں پر جو گزرتی ہے آپ کا موضوع رہا ہے۔ فیس بک پر آپ کو دیکھا۔ مسینجر پر رابطہ کر رہی ہوں۔ میں بھی اپنی کہانی سنانا اور شائع کرانا چاہتی ہو۔ میں اردو لکھ نہیں سکتی وائس مسیجز بھیجوں گی۔ آپ ٹھیک کر لیں گی نا؟ پورے دو مہینے ماہم کے قسطوں

Read more

مجھے آج تک کسی نے جنسی طور پر ہراساں نہیں کیا؛ ماہرہ خان

لولی وڈ سپراسٹار ماہرہ خان نے عالمی سطح پر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف شروع ہونے والی مہم ’می ٹو‘ کے حوالے سے کہا ہے کہ اگرچہ انہیں آج تک کسی نے ہراساں نہیں کیا گیا، تاہم ’می ٹو‘ ان کی بھی کہانی ہے۔ ’ورنہ‘ ہیروئن کا کہنا تھا کہ شوبز میں قدم رکھنے کے بعد آج تک انہیں انڈسٹری میں نہ تو کسی نے ہراساں کیا اور نہ ہی انہیں کبھی کسی تضحیک آموز

Read more

ریپ جنسی ہوس نہیں بلکہ طاقت کا اظہار ہوتا ہے۔ ماہرہ خان

پاکستانی ماڈل اور اداکارہ ماہرہ خان کا کہنا ہے کہ ان کی آنے والے فلم ’ورنہ‘ ایسے حساس موضوع ہے جس کے بارے میں لوگ بات نہیں کرتے۔ بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ فلم کی ریلیز سے قبل کافی نروس ہیں۔ ماہرہ خان کا کہنا تھا کہ ’ہر فلم کے ساتھ میں صرف نروس ہوتی ہوں مگر میں نے یہ فلم تو دیکھی بھی نہیں۔ شعیب منصور صاحب نے فلم کو

Read more