انڈیا میں مبینہ گینگ ریپ: ایف آئی آر درج نہ ہونے کے بعد متاثرہ خاتون نے ’خود کشی‘ کر لی

مبینہ اجتماعی ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون کی موت کیسے ہوئی، اس کی تصدیق تو نہیں ہوسکی لیکن خاندان کا دعویٰ ہے کہ ایف آئی آر درج نہ ہونے پر انھوں نے خود کشی کر لی ہے۔

Read more

’مبینہ ریپ: 18 برس سے چرچ سے انصاف کی منتظر خاتون پادری

9 اگست 2020 کو جنوبی افریقہ کے یوم خواتین کے موقع پر، ریو میجر ان متعدد خواتین اور سماجی کارکنوں میں شامل تھیں، جنھوں نے آرچ بشپ تھابو میک گوبا کی رہائش گاہ کی باڑ کے ساتھ انڈرویئر لٹکائے تھے۔

Read more

اندرا گاندھی کا پوتا جیل میں

انڈین اپوزیشن سیاسی جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی جو سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے پوتے بھی ہیں، کو مودی سرکار نے جیل میں ڈال دیا۔ بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق کانگریسی رہنما راہول گاندھی اپنی بہن پر یانکا گاندھی کے ہمراہ بھارتی ریاست اترپردیش کے علاقے ہتراس جا رہے تھے جہاں انہوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد انتقال کر جانے والی اچھوت لڑکی کے اہلخانہ سے ملاقات کرنا تھی۔ اپوزیشن رہنما راہول اور پریانکا گاندھی کی گاڑیوں کے جلوس کی شکل میں جا رہے تھے کہ پولیس نے ان کی گاڑیوں کو روک لیا جس پر راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی نے پیدل مارچ شروع کر دیا، پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روکتے ہوئے لاٹھی چارج شروع کر دیا جس پر دھکم پیل شروع ہو گئی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پولیس نے راہول گاندھی کو دھکے مارتے ہوئے ڈنڈے بھی برسائے اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

Read more

غریب ہندو لڑکی کا ریپ اور خودکشی: اس لئے بنا تھا پاکستان؟

جب وسط جولائی دو ہزار انیس میں، تین آدمی ایک سولہ سالہ ہندو لڑکی مومل میگھواڑ کے ساتھ جبری زیادتی کر رہے تھے، تب ان کو ادراک تھا کہ دلن جوتڑ گاؤں کی اس غریب ہندو لڑکی کی فریاد کسی کے ضمیر پر بھی بوجھ نہ بنے گی۔ تینوں اس دور اندیشی اور درست فہمی میں بجا تھے۔ اجتماعی جبر جنسی کا مقدمہ درج ہونے پر تینوں کو ہی ضمانت پر رہا کر دیا گیا اور آج تک آزاد ہیں، جو کہ اس ملک کا وتیرہ بن چکا ہے۔ جبر جنسی کا یہ انوکھا واقعہ تھا نہ کسی ہندو لڑکی کے ساتھ پیش آنے والا تشدد کا انوکھا حادثہ۔ یقین کیجئے یہ روز ہوتا ہے اور بے حساب و کتاب ہوتا ہے۔

Read more

پیمرا نے موٹروے ریپ کیس کی میڈیا پر کوریج پر پابندی عائد کر دی

پیمرا نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تمام سیٹلائٹ چینل (نیوز اور کرنٹ افیئرز) موٹروے ریپ کیسے کے بارے میں کسی بھی قسم کا مواد نشر مت کریں۔ خلاف ورزی کرنے کی صورت میں پیمرا آرڈیننس 2002 تبدیل کردہ 2007 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

Read more

علی ظفر پر میشا شفیع کے الزامات: کیا ہتکِ عزت کے قانون کا استعمال آواز اٹھانے والوں کو خاموش کروانے کے لیے کیا جا رہا ہے؟

رواں ہفتے ایف آئی اے سائبر کرائمز لاہور نے گلوکار علی ظفر کی جانب سے مبینہ طور پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت انھیں بدنام کرنے کی کوشش کے الزام میں پاکستانی گلوکارہ میشا شفیع سمیت دیگر آٹھ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔

Read more

آزادی

14 اگست 1947 کو پاکستان آزاد ہوا، بقول کچھ سوشل میڈیا کے نام نہاد لبرل دانشوروں کے ہمیں پوں پاں کی آزادی ملی ہے چوں چراں کی نہیں۔ اس میں کیا حقیقت اور کیا فسانہ ہے، اس پر بحث و مباحثہ کرتے ہیں۔ اس ملک میں ہر شخص آزاد ہے، اسے ہر طرح کی بدتمیزی اور بے ہودگی کی اجازت ہے، جس کا تصور وہ کسی اور مہذب ملک میں شاید نا کر سکتا ہو۔ اس مملکت خداداد میں جگہ

Read more

انڈیا میں ہاتھرس کے بعد بلرام میں دلت لڑکی کا گینگ ریپ، سوشل میڈیا صارفین کی حکومت پر تنقید

انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے ضلع ہاتھرس میں گینگ ریپ کے بعد 20 سالہ دلت لڑکی کی ہلاکت اور پھر خاندان کی غیر موجودگی میں آخری رسومات ادا کرنے کے واقعے پر ابھی غم و غصے کا اظہار جاری ہی تھا کہ اسی ریاست کے علاقے بلرام پور سے ایسا ہی ایک اور مبینہ واقعہ سامنے آ گیا۔

Read more

تھر میں مبینہ گینگ ریپ کی شکار ہندو لڑکی کی ’خودکشی‘

پاکستان کے صوبہ سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں پولیس کے مطابق گذشتہ برس مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بننے والی ایک ہندو لڑکی نے خودکشی کر لی ہے اور لڑکی کے والد کا دعویٰ ہے کہ ان کی بیٹی نے بلیک میل کیے جانے پر یہ قدم اٹھایا۔

Read more

کسی قوم اور معاشرہ کو تباہ کرنے کے چند اصول

ساؤتھ افریقہ کی یونیورسٹی کے دروازے پر یہ فکر انگیز جملے درج ہیں :

”کسی قوم کو تباہ کرنے کے لیے ایٹم بم اور دور تک مار کرنے والے میزائلز کی ضرورت نہیں، بلکہ اس کا نظام تعلیم گرا دو اور طلباء و طالبات کو امتحانات میں نقل لگانے کی اجازت دے دو، وہ قوم خود تباہ ہو جائے گی۔ اس ناکارہ نظام تعلیم سے نکلنے والے ڈاکٹرز کے ہاتھوں مریض مرتے رہیں گے۔ انجینئرز کے ہاتھوں عمارات تباہ ہوجائیں گی۔ معیشت دانوں کے ہاتھوں دولت ضائع ہو جائے گی۔ مذہبی رہنماؤں کے ہاتھوں انسانیت تباہ ہو جائے گی۔ ججز کے ہاتھوں انصاف کا قتل ہو جائے گا۔ نظام تعلیم کی تباہی قوم کی تباہی ہوتی ہے۔“

Read more

موٹروے ریپ کیس: پاکستانی خواتین میں حفاظتی آلات کی خریداری کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟

لاہور موٹروے ریپ کیس کے بعد سے پاکستانی خواتین میں اسٹن گن جیسے دفاعی آلات کی خریداری کا رجحان بڑھ رہا ہے اس حقیقت سے قطع نظر کہ اس نوعیت کے آلات کو رکھنا قانوناً جرم ہے۔

Read more

ہاتھرس گینگ ریپ: 20 سالہ دلت لڑکی کی مبینہ گینگ ریپ کے بعد دلی کے ہسپتال میں موت

انڈیا کی شمالی ریاست اترپردیش کے علاقے ہاتھرس میں مبینہ طور پر گینگ ریپ کا نشانہ بنائی جانے والی ایک 20 سالہ دلت لڑکی کی گذشتہ رات دہلی کے صفدرجنگ ہسپتال میں موت ہوگئی ہے۔

Read more

سی سی پی او لاہور کے بیان پر تنقید: ’کیا خاوند کی اجازت کے بغیر سفر کرنے والی خاتون سے ریاست بری الذمہ ہے؟‘

لاہور کے سی سی پی او عمر شیخ سمیت متعدد بیوروکریٹس کی اگلے گریڈ میں پروموشن کا معاملہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی ان کا ایک اور بیان بھی سوشل میڈیا پر زیرِبحث ہے۔

Read more

کنواری ماں، اندھا قانون اور مسیحا کا جرم

چودہ برس کا سن، پیلی پھٹک رنگت، چہرے پہ بے بسی، آنکھ میں رنج و الم، لیبر وارڈ کے ایک بستر پہ ایسی دکھتی تھی جیسے مقتل میں ننھی سی گڑیا بھولے بھٹکے آ گئی ہو۔ اس چڑیا سی بچی کے لئے یہ مقتل گاہ ہی تو تھی جہاں وہ پچھلی رات ہی چودہ برس کے سن میں ماں بنی تھی۔ ریپ اور پولیس کے متعلق بات چلی تو بھولی بسری یادوں میں سے بے اختیار وہ بچی جھانک کے

Read more

بشری ببوشکا سیکس ورکر کیسے بنی؟

میرا نام بشری تھا۔ اپنا یہ نام مجھے کبھی کبھی ہی یاد آتا ہے۔ کیونکہ میرے کئی نام رکھے اور بدلے گئے۔ یہ بشری نام بھی عجیب ہے۔ جب اوپر تلے کئی لڑکیاں پیدا ہو جائیں تو ایک کا نام بشری رکھ دیا جاتا ہے کہ یہ آنے والے بیٹے کی بشارت لائے گی۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ بڑی بہنوں مہ ناز اور مہ جبیں کے بعد میرا نام بالکل الگ سا لگتا۔ لیکن یہ ٹوٹکا بھی کام نہ

Read more

فلپائن کی وہ خاتون جو سوشل میڈیا ٹرولز کو ان ہی کے کھیل میں مات دے رہی ہیں

دنیا بھر میں غلط معلومات کے پھیلاؤ کی جو لہر آئی ہوئی ہے، اُس میں فلپائن کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔ نام نہاد ٹرول فارمز کا استعمال کرتے ہوئے متعدد جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنائے جا رہے ہیں جو سیاسی پروپیگنڈے کی تشہیر اور تنقید کرنے والوں پر حملے کرتے ہیں۔

Read more

عمر شیخ کہتے ہیں کہ نہ کوئی بزدار کو ہٹا سکتا ہے نہ مجھے

گزشتہ چند مہینوں میں پاکستان کے اندرونی حالات نے تین سو ساٹھ کے زاویے سے کروٹ لی ہے۔ سماجی، سیاسی اور معاشی حالات نے کھٹارا بس کی طرح چلتے نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔ نظام تو پہلے ہی قید تھا، لیکن قید کرنے والے پیٹھ کے پیچھے خاموشی سے چھرا گھونپتے تھے۔ لیکن اب ایسی تبدیلی آئی ہے کہ سب منٹوں میں منظر عام پر آ جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ گند اتنا جمع ہو چکا ہے کہ گٹر ابلنا شروع ہو گیا ہے جو بھی گزرے گا یقیناً گندا ہو کے رہے گا۔

Read more

اخلاقیات کی تعلیم کیوں ضروری ہے؟

ہمارے ہاں اخلاقیات کا فقدان ہے یہاں تک کہ تعلیمی اداروں میں غیر مسلموں کے لیے نصاب میں جو اختیاری مضمون شامل کیا گیا ہے۔ اس میں اخلاقیات سے متعلق کم اور دیگر مذاہب کی تعلیمات کے بارے میں توڑ مروڑ کر جو تشریح درج ہے اس میں بھی اسلامی رنگ غالب ہے۔ انتہا پسندانہ سوچ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے اور ہم نے طے کر رکھا ہے کہ پہلے تو بروقت معاملات کو طے نہیں کرنا اور نہ ہی

Read more

انصار عباسی بھی ریپ شیپ کی شکایت کرنے کے قائل نہیں

ویک اینڈ کا آغاز ہو چکا تھا۔ بہت خوبصورت شام تھی لیکن مجھ سے بڑی سستی ہوئی۔ کمپیوٹر کے ساتھ چپکا رہا اور اٹھ کر کچن تک بھی نہیں گیا۔ نتیجہ یہ کہ سکون کے چند لمحے بھی ہاتھ نہ آئے اور شام حقیقی ماحول میں گزار دی۔ اپنی تعلیم و تربیت کے لیے انصار عباسی صاحب کے ٹویٹر پر گیا کہ فحاشی اور عریانی کے موضوع پر ان کا ٹویٹ تو دیکھوں لیکن ابھی وہاں پہنچا ہی نہیں تھا کہ عباسی صاحب کا بالکل تازہ ولاگ سامنے آ گیا۔ فحاشی اور عریانی کے موضوع پر اس ولاگ میں جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ صاحب کا ذکر پہلے چار منٹ تک کہیں نہیں تھا۔

انصار عباسی صاحب نے بتایا کہ جنرل عاصم سلیم باجوہ صاحب پاکستان میں فحاشی اور عریانی کے بہت بڑے مخالف ہیں لیکن وہ، یعنی جنرل صاحب، مایوس نہیں ہیں۔ جنرل صاحب کا حوصلہ وزیراعظم صاحب کی باتوں کی وجہ سے بلند ہے۔ وزیراعظم صاحب پرعزم ہیں کہ وہ پاکستان سے فحاشی اور عریانی کا خاتمہ کر کے ہی دم لیں گے۔ جنرل صاحب کا اس بات پر خوش ہونا ان کے نیک آدمی اور اچھے مسلمان ہونے کی بہت مضبوط دلیل ہے۔ اور اس سلسلے میں جنرل صاحب نے عباسی کو ملاقات کے لیے بلایا تھا۔

Read more

فرضی جنتیں نہ تراشیں : ریپ امریکہ میں بھی ہوتا ہے اور سوویت یونین میں بھی ہوتا تھا

موٹر وے پر ہماری قوم کی ایک بیٹی کے ساتھ سانحہ ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کا دکھ کم نہیں ہو رہا بلکہ بڑھ رہا ہے۔ کبھی یہ خبر پڑھنے کو ملتی ہے کہ ان خاتون نے شوہر کے مجبور کرنے پر رات کے اس وقت سفر کیا۔ کبھی یہ سنتے ہیں کہ بلانے کے باوجود پولیس نے ایک مجبور عورت کی مدد نہیں کی۔ کبھی واقعہ کے فوری بعد پولیس افسر کے اس بیان پر بحث ہوتی ہے کہ غلطی ان خاتون کی ہی تھی کہ انہوں نے اتنی رات گئے سفر کیوں کیا؟

یہ زخم تازہ تھا کہ یہ ہوشربا خبریں ملیں کہ نارووال میں تیرہ سالہ بچے سے زیادتی کی گئی اور اس زیادتی کے الزام پر تحریک لبیک جلالی گروپ کے صدر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مانسہرہ میں ایک قاری پر الزام ہے کہ اس نے چار سالہ بچی کا ریپ کیا ہے۔ شاید یہ سب کچھ پہلے بھی ہو رہا تھا لیکن اب یہ خبریں سامنے آنے لگی ہیں۔ ان پر بحث ہو رہی ہے۔ اور ایسے سانحوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ صرف مجرموں کو کڑی سزا دینا ہی کافی نہیں۔ ایسی حکمت عملی اختیار کرنی ہو گی کہ آئندہ سے ایسے واقعات نہ ہوں۔

Read more

زیادتی کے بڑھتے واقعات اور بھانت بھانت کی بولیاں

سانحہ موٹر وے کا مرکزی ملزم عابد ابھی تک پولیس کی گرفت میں نہیں آسکا۔ البتہ ہر روز میڈیا پرجنسی زیادتی کے واقعات متواتر رپورٹ ہو رہے ہیں۔ کالم لکھنے سے قبل میں نے پچھلے چند دن کے اخبارات کا جائزہ لیا تو کم وبیش دو درجن ایسے واقعات کی خبریں دکھائی دیں۔ ملک کے ہر حصے میں یہ حادثات رونما ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں ایک بیوہ خاتون کو اسٹیٹ ایجنٹ

Read more

وزیر اعظم عمران خان اور نجی چینلز کے نیوز ڈائریکٹرز کی ملاقات: ’میں ہی فوج کا انچارج ہوں‘

پاکستان میں فوج اور سیاستدانوں کے بیانات کے بعد جاری کشمکش کے پاکستان کے وزیر اعظم نے ملک کے نجی نیوز چینلز کے اہلکاروں سے ملاقات میں کہا ہے انہیں اپوزیشن کا کوئی خوف نہیں اور فوج وہی کرتی ہیں جو وہ انہیں کرنے کو کہتے ہیں۔

Read more

ریپ سے کون نمٹے گا؟

لڑکی پسند کی شادی کر کے گھر والوں کے عتاب سے بچنے کے لیے عدالت سے تحفظ مانگنے جائے تو اسے جج اپنے چیمبر میں ریپ کا نشانہ بنا دیتا ہے۔ اگر کوئی ریپ کا کیس رپورٹ کرنے تھانے جائے تو کبھی تھانیدار گینگ ریپ کا نشانہ بناتا ہے تو کبھی تفتیش کرنے کے لیے آنے والا اے ایس آئی۔ حالت یہ ہے سگے بھائیوں اور والد کی طرف سے اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ معذور عورتیں، نابالغ لڑکیاں، لڑکے حتی کہ پانچ ماہ اور ایک سال کے شیر خوار بچوں کو بھی ہوس کا نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہوئے لیکن متنازعہ کردار کا حامل پولیس افسر جب بولتا ہے وہ بھی عورت کو نشانہ بناتا ہے۔

Read more

خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے واقعات یا انسانیت کا سفر معکوس

میں یہاں برطانیہ میں دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزار چکی ہوں مگر اتنا عرصہ یہاں گزارنے کے باوجود ہمارا دل آج بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے، پاکستان کے بارے میں کوئی اچھی خبر آ جائے تو دل خوش ہوجاتا ہے۔ بری خبر پر دل اداس۔ قومی نغمے سن کر آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں تو جنگی نغموں پر جوش۔ ہر وقت پاکستان کی بھلائی اور خوشحالی کے لئے دعاگو رہتے ہیں۔ برطانوی معاشرے کی جہاں اپنی خوبیاں

Read more

بھائی یہ سب کیسے کر لیتے ہو؟

مجھے ان پاکستانیوں پہ فخر محسوس ہوتا ہے۔ جن کی عقابی نگاہوں کی رسائی وہاں تک ہے۔ جہاں میرے جیسے کوتاہ بینوں کا پہنچنا مشکل ہی نہیں ناممکن یے۔ وہ پس دیوار دیکھنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔ اور یوں وہ ہر معاملے کے پیچھے چھپی سازش کو بھانپ جاتے ہیں۔ مثلاً جب ملالہ کو گولی لگی۔ تو ہم جیسے کم علم یہی سمجھتے رہے کہ اسے طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھانے پہ قتل کرنے

Read more

ریپ کی شکار عورت اور مجرم کی مددگار عدالت

مجھے ذاتی طور پر ریپ کار کی پھانسی پر کوئی اعتراض نہیں، مگر میں صرف پھانسی کی سزا کو قالین تلے جھاڑو سے گرد چھپانے کی ہرگز تائید نہیں کرتی۔ آپ بے شک تختہ دار پر لٹکائیے مگر اس سے قبل اس ریپ کار نظام کو بھی تو پھانسی دیجئے۔ چلئے نظام درست کر لیجیے اگر نظام کو لٹکانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ عورتوں کے خلاف نظام میں تشدد ہے، روایتی، اخلاقی، تاریخی رویوں پر مبنی عمارت میں تشدد

Read more

مخلوط تعلیم اور ریپ

ریپ ایک انگریزی لفظ ہے لیکن آج ان دیگر عام الفاظ کی طرح ہماری زبان کا معلوم ہوتا ہے جن کا ماخذ انگلش ہے جیسے گلاس، پلیٹ، اسکول، بیگ، پرس، سوری وغیرہ کیا وجہ ہے کہ ریپ جیسا رکیک لفظ ہماری عام بول چال کا حصہ بن گیا؟

اس کی وجہ، کس سے چھپی ہے؟ وجہ آئے دن سامنے آنے والے وہ واقعات ہیں جن کی تعداد میں روز اضافہ ہی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پولیس رپورٹس، اسپتالوں کے ریکارڈ، سماجی تحقیق سے ملے حقائق واضح کرتے ہیں کہ ریپ کن علاقوں، کس سماجی حیثیت اور تعلیم رکھنے والے طبقات میں زیادہ ہوتے ہیں۔

Read more

دفعہ 377 کا خاتمہ: اعتراضات کا مفصل جواب

دفعہ 377 کے حوالے سے میرے گزشتہ مضمون پر حسب معمول گالی گلوچ کی گئی کہ مضمون نگار ہم جنس پسندی کا فروغ چاہتا ہے۔ دفعہ 377 کے بارے میں معلومات کی کمی اور اصل حقوق سے بے خبری کے باعث دفعہ 377 کے خاتمہ کی بات غلط انداز میں لیا گیا کہ مضمون نگار جنسی بے راہ روی اور ریپ کی حمایت کر رہا ہے۔ اس لئے ضروری تھا کہ دفعہ 377 کی تفصیل بیان کی جائے کہ درحقیقت

Read more

چناب سے موٹروے تک

آج کے ترقی یافتہ دور میں جب سوہنی مہینوال کے قصے کو پڑھا جاتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے شاہجہانی عہد، کل کی طرح آج بھی عورت اور مرد کے تعلق کے درمیان اپنی تمام تر فرسودگی کے ساتھ اپنے مقام پر ساکت کھڑا ہے۔ بلکہ پہلے کی نسبت سماجی تنزل نے اسے اب جرم کا گہوارہ بنا دیا ہے۔ سوہنی کی داستان کئی سوالات اور قیاسات ذہن میں ابھارتی ہے۔ مثلاً کیا واقعی اس وقت کی عورت بہادر

Read more

سماج میں ریپ کلچر کس طرح نمو پاتا ہے؟

یہ ایک اتفاق ہی جانئیے کہ ہائی وے پہ ہونے والے ریپ کے واقعہ سے محض ایک دن قبل میں امریکی چینل کے مشہورپروگرام ”ڈیٹ لائن“ کو دیکھ رہی تھی۔ اس پروگرم میں قتل کی وارداتوں کو حل کرکے مجرموں کو ان کے انجام تک پہنچانے کی سچی کہانیاں پیش کی جاتی ہیں۔ اس دن کی کہانی ایک ایسی نوجوان لڑکی کی تھی کہ جس کو رات میں ہائی وے پہ ڈیوٹی پہ تعینات پولیس نے روکا اور پھر ریپ

Read more

4 سالہ بچی مبینہ طور پر قاری کے ہاتھوں ریپ: مانسہرہ میں عوامی احتجاج

مانسہرہ مین نوجوان لڑکوں نے احتجاج کیا ہے کہ ایک چار سالہ بچی کو ریپ کرنے والا ملزم گرفتار نہیں ہو سکا۔ 4 سالہ بچی کا گزشتہ روز ریپ کیا گیا تھا جس کا الزام مقامی قاری عبدالستار پر ہے۔ طالبعلموں کا الزام ہے کہ قاری کو اہل محلہ نے موقع سے فرار کردیا تھا۔ جب کہ اب تک اسکی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی جس پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف اطلاعات ہیں کہ مانسہرہ

Read more

سی سی پی او لاہور کی قائمہ کمیٹی میں طلبی: ’لگتا ہے آپ معافیوں کی بوری بھر کر لائے ہیں‘

پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قوائد و ضوابط اور استحقاق کے اجلاس میں کمیٹی ارکان کی جانب سے لاہور کے سی سی پی او ڈی آئی جی عمر شیخ سے پوچھے گئے سوالوں کا تسلی بخش جواب نہ دینے پر ارکان نے سخت اظہار برہمی کا اظہار کیا ہے۔

Read more

سی سی پی او لاہور کی قائمہ کمیٹی میں طلبی: ’لگتا ہے آپ معافیوں کی بوری بھر کر لائے ہیں‘

پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قوائد و ضوابط اور استحقاق کے اجلاس میں کمیٹی ارکان کی جانب سے لاہور کے سی سی پی او ڈی آئی جی عمر شیخ سے پوچھے گئے سوالوں کا تسلی بخش جواب نہ دینے پر ارکان نے سخت اظہار برہمی کا اظہار کیا ہے۔

Read more

"سب اچھا ہے” کا راگ اور حقائق

جب آنکھوں والے بھی حقیقت سے چشم پوشی کریں اور سب اچھا ہے کی رٹ لگانا شروع کر دیں تو پھر حالات بہتر ہونے کی بجائے بدتر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ کچھ اسی طرح کی صورتحال موٹروے پرحالیہ اجتماعی زیادتی کے ہولناک واقعہ کے بعد دیکھنے میں آ رہی ہے۔ سوشل میڈیا کے کچھ مہم جوایک کینیڈین خاتون روزی گیبرئیل جو کہ بلاگر ہیں اور پاکستان میں موٹرسائیکل پر ٹریول کرتی رہی ہیں کی تصاویراس تحریر کے ساتھ شیئر کر رہے

Read more

راضی نامہ یا صلح نامہ

ہماری حکومت زیادتی کے مجرموں کی آختہ کاری کا قانون سازی کرنے جا رہی ہے۔ بہت اچھی بات ہے خدا کرے یہ قانون بن جائے اور خدا کرے اس قانون کے تحت خواتین کی فلمیں اور قابل اعتراض تصویریں بنا کر انہیں بلیک میل کرنے والے بھی اسی لسٹ میں شامل ہوں۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے بہت سے جرائم لوگوں کے سامنے نہیں آتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انصاف مانگنا ایک بہت اذیت

Read more

میڈیکل کی مخلوط تعلیم اور لڑکا اک شرمیلا سا

آگ اور پٹرول کی جو آزمائش میڈیکل کالج میں مولانا طارق جمیل کو جھیلنا پڑی، ان دنوں کی بابت ہی تو انہوں نے فرمایا ہے کہ شکر کا مقام یہ رہا کہ انہوں نے جلد بھانپ لیا کہ وہاں گزارے ہوئے دنوں کا حاصل اعلیٰ تعلیم اور مسیحائی کی بجائے بے راہ روی اور ریپ ہے تو وہ چپکے سے وہاں سے نکل لئے۔

یقین جانیے جب سے یہ بیان سنا ہے ہمارا دل تو پارے کی طرح لرز رہا ہے کہ نہ جانے کون سا منہ لے کے روز حشر کو جائیں گے۔ ہم تو بڑی پامردگی سے انہی راہوں کے نہ صرف راہی رہے بلکہ بے شمار کو ہلا شیری دے کر اس رستے کی دعوت بھی دی۔ ویسے آپس کی بات ہے اگر طارق جمیل ان دنوں میں ہمارے شناسا ٹھہرتے تو شاید ہماری زندگی میڈیکل کالج سے فرار ہو کے تو سنورتی ہی، ہماری آخرت کو بھی آج لالے نہ پڑے ہوتے!

تو چلیے دیکھتے ہیں ماضی کا ایک دن میڈیکل کالج میں طارق جمیل کے ہمراہ!

Read more

کیا دہشت ناک سزائیں جنسی جرائم کا علاج ہیں؟

ایک نجی نیوز چینل کے مطابق ملک میں جنسی جرائم بہت بڑھ گئے ہیں۔ جہاں یہ خبر ایک المیہ ہے وہیں جنسی جرائم کے حوالے سے ملک کے طول و عرض میں جاری بحث بھی قابل غور ہے۔ عوام کی اکثریت کا کہنا ہے کہ ایسے مجرموں کو دہشت ناک سزائیں دی جائیں۔ وزیراعظم بھی یہ فرما چکے ہیں کہ جنسی زیادتی کے مجرم کو سرعام پھانسی دی جانی چاہیے یا انہیں کیمائی مواد کے ذریعے بانجھ بنا دیا جانا

Read more

ٹوٹا ہوا تسلسل،وہ بھی مسلسل

میں حوا کا پرتو ہوں۔ ہم دونوں آ منے سامنے کھڑی تھیں۔ میں نے اس کو دیکھا اس کے مدھر وجود سے محبت ناز، تخیل، فرصت، رنگ، موسیقی سب پھوٹے پڑتے تھے۔ وہ جنت کے حسین پھولوں سے لدے، دودھ اور شہد کی آبشاروں، جھرنوں اور ندیوں والے باغ کی مکیں تھی۔ اپنی حیران ہوتی صندلی آنکھوں سے وہ اس حسن کو دن رات گھونٹ گھونٹ پیتی تھی۔ وہ حوا تھی، خالق کے حسن و جمال کی انتہا۔ جب آدم

Read more

مخلوط تعلیم اور ریپ

ریپ۔ ایک انگریزی لفظ ہے لیکن آج ان الفاظ کی طرح ہماری زبان کا معلوم ہوتا ہے جن کا ماخذ انگلش ہے جیسے گلاس، پلیٹ، اسکول، بیگ، پرس، سوری وغیرہ کیا وجہ ہے کہ ریپ جیسا رکیک لفظ ہماری عام بول چال کا حصہ بن گیا؟ اس کی وجہ، کس سے چھپی ہے؟ وجہ آئے دن سامنے آنے والے وہ واقعات ہیں جن کی تعداد میں روز اضافہ ہی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پولیس رپورٹس، اسپتالوں کے ریکارڈ، سماجی

Read more

پی ٹی وی پر ورزش کرتی خاتون کے بارے میں دی نیوز کے صحافی انصار عباسی کا ٹویٹ اور سوشل میڈیا پر ردعمل

سوشل میڈیا پر آئے روز کئی لوگ وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کر کے کوئی نہ کوئی سوال کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن گذشتہ روز صحافی انصار عباسی نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے وزیراعظم کو کچھ ایسا کہا جس پر ٹوئٹر صارفین ان پر خاصے برہم دکھائی دیے۔

Read more

موٹروے ریپ کیس کا مرکزی ملزم ہر موڑ پر پولیس سے آگے کیسے

سیالکوٹ موٹروے ریپ کیس کی تفتیش کے دوران پولیس مرکزی ملزم کی تلاش میں متعدد چھاپے مار چکی ہے لیکن ہر بار وہ بچ نکلتا ہے۔ آخر یہ ملزم پولیس سے دس قدم آگے کیوں ہے؟ کیا محکمے کے اندر سے کچھ لوگ اس کی مدد کر رہے ہیں یا اسے نہ پکڑ پانا پولیس کی نااہلی ظاہر کرتا ہے؟

Read more

جرائم محض قانون سازی سے نہیں رکتے!

ہمارا ایک قومی مزاج بن چکا ہے۔ خواہ افراد ہوں، سماج کے مختلف طبقات، حکومت یا قانون نا فذ کرنے والے ادارے۔ ہم ردعمل (reaction) پر یقین رکھتے ہیں۔ کوئی واقعہ، حادثہ یا سانحہ رونما ہوتا ہے تو ہم اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ متاثرین سے ہمدردی کرتے ہیں، بیانات جاری کرتے ہیں، بلند بانگ دعوے کرتے ہیں، چوک میں الٹا لٹکانے کی تجاویز دیتے ہیں۔ وقتی ابال کے زیر اثر ہم جذباتی اور reactionary باتیں کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد

Read more

سرِعام پھانسی دینا یا کیمیائی عمل سے بانجھ بنانا

موٹر وے پر اجتماعی جنسی زیادتی کے واقعے نے پوری قوم کو لرزا کر رکھ دیا۔ حالیہ واقعہ جونہی میڈیا میں رپورٹ ہوا پورے ملک میں غم وغصے کی لہر کا سبب بنا۔ مجرموں کو سخت سے سخت سزادینے کا مطالبہ کیا گیا۔ موٹر وے واقعہ سے پہلے بھی بچوں اور عورتوں سے جنسی زیادتی کرنے والوں کے لئے سرِعام پھانسی کی سزا ایک حلقے کی طرف سے مطالبہ رہا ہے لیکن موٹروے واقعے پر وزیرِاعظم کی طرف سے بیان

Read more

موٹر وے ریپ کیس اور سزا کا شور

موٹر وے ریپ کیس کے بعد اٹھنے والا شور شرابا کوئی نیا واقعہ نہیں۔ چند برس پہلے زینب زیادتی کیس کے بعد بھی اسی طرح کا شور شرابا اٹھا تھا۔ اگر آپ کو یاد ہو تو گزشتہ کئی دہائیوں سے جب بھی کوئی ایسا زیادتی کا واقعہ رونما ہوتا ہے تو کچھ عرصے کے لئے ٹیلی وژن سکرینوں سے لے کر نجی محفلوں تک سارے مباحث اسی واقعے کے گرد گھومنے لگتے ہیں۔ مگر جس تیزی سے اس شور شرابے

Read more

شرعی سزا ہی علاج ہے

لاہور سیالکوٹ موٹر وے ایم 11 پر گزشتہ ہفتے ایک خاتون پر اس کے بچوں کے سامنے جو قیامت گزری اس نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ اس اندوہناک واقعے کا کرب و الم ہر با ضمیر نے محسوس کیا اور ہر کوئی اب تک غم و غصے کی کیفیت میں ہے۔ وطن عزیز میں درندگی کا یہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات تواتر سے پیش آتے رہے ہیں لیکن حالیہ واقعے میں ملزمان نے ایک ماں کے ساتھ اس کے کمسن بچوں کے سامنے جس ظلم کا مظاہرہ کیا اس کی مذمت الفاظ میں ممکن نہیں ہو سکتی۔

قارئین اس قسم کے واقعات کے نہ رکنے کی ایک وجہ معاشرے کی فکری تقسیم بھی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ تقسیم کی انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔ کسی بھی سانحے اور بڑی سے بڑی قیامت کی گھڑی میں بھی ہم باہم اتفاق کا مظاہرہ کرنے اور ایک بیانیے پر اکٹھا ہونے میں ناکام رہتے ہیں اسی لیے آج تک ہم کسی مسئلے کا حل ڈھونڈنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہر مرتبہ اس قسم کے واقعات کے بعد بجائے اس کی وجوہات کے خاتمے یا مجرمان کو ڈھونڈ کر انہیں سخت سزا سنانے کے، پہلے سے طے شدہ باتوں کو چھیڑ لیا جاتا ہے یا کوئی نہ کوئی سیاسی پہلو نکال کر مخالفین پر تنقید شروع کر دی جاتی ہے۔ نتیجتاً دوسرا فریق بھی اپنے مسلک کا دفاع شروع کر دیتا ہے اور اصل مسئلہ پس پشت پڑا رہ جاتا ہے۔ صرف سیاسی ہی نہیں گزشتہ کچھ عرصہ سے مذہب اور معاشرت سے متعلق مسائل میں لبرلز اور مذہب پسندوں میں خیالات کی تقسیم اختلاف رائے سے بڑھ کر نفرت اور کدورت تک پہنچ چکی ہے۔

Read more

لبرل ازم اور ہم‎

کافی دنوں سے ملک میں ایک بحث چل رہی ہے جس کے نتیجے میں بہت سے رد عمل دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ موٹروے ریپ کیس نے نا صرف ہر حلقے کو قوت گویائی بخشی ہے بلکہ سب ہی اپنے اپنے پلیٹ فارم پہ رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

بلاشبہ یہ واقعہ اور اس جیسے بہت سے واقعات قابل مذمت ہیں لیکن کیا آج تک ہم نے مذمت کے علاوہ کچھ کیا؟
ہم نے یہ سوچا کہ معاشرہ اس قدر گراوٹ کا شکار کیوں ہے؟

ہر واقعے پہ مختلف قسم کے لوگوں کا مختلف رد عمل سامنے آتا ہے اور ایسے معاملات پہ ایک طبقہ ایسا بھی سامنے آتا ہے جسے میں ”دیسی لبرل ٹولہ“ کہتا

Read more

مخلوط تعلیم اور میرے فیورٹ مولانا

”ہر گائے دودھ دیتی ہے، گائے ایک جانور ہے لہذا ہر جانور دودھ دیتا ہے۔“
”تم ایک کرپٹ شخص ہو، تم نے ناجائز کمائی سے محل نما گھر خریدا ہے۔ جواب :تم نے بھی تو لڑکی کو بھگا کر شادی کی تھی۔“

”زید:پاکستان میں ہر پانچ عورتوں میں سے ایک عورت کبھی نہ کبھی اپنی زندگی میں جنسی ہراسانی کا شکار ہوتی ہے۔ بکر:تمہیں اس ملک میں کیڑے نکالنے کا شوق ہے، بھارت میں یہ شرح ہم سے کہیں زیادہ ہے۔“

”ایکس : دنیا میں جنوں بھوتوں کا کوئی وجود نہیں، اگر ہوتا تو کبھی نہ کبھی ہمارا اس مخلوق سے براہ راست واسطہ ضرور پڑتا۔“ زی۔ : ”ہمارا براہ راست واسطہ تو کبھی گھانا کے صدر سے بھی نہیں پڑا تو کیا ہم اس کے وجود سے بھی انکار کر دیں!“

یہ ہمارا بحث کرنے کا عمومی انداز ہے۔ اس قسم کی گفتگو کو اپنے تئیں ہم ”مدلل“ سمجھتے ہیں۔ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد تازہ ترین دلیل مارکیٹ میں یہ آئی ہے کہ یہ سب مخلوط تعلیم کا نتیجہ ہے۔ یہ کہنا ہے میرے فیورٹ مولانا کا ، دلیل انہوں نے یہ دی ہے کہ جہاں آگ اور پٹرول اکٹھے ہوں گے وہاں یہ سب تو ہوگا۔

Read more

آخر یہ ’ریپ کلچر‘ ہے کیا؟

ریپ کے شکار لوگ معاشرے کے نام نہاد اصولوں کے تحت خود ہی چور بن کے رہ جاتا ہے۔ یہی ’ریپ کلچر‘ ہے کیونکہ پورا معاشرہ مل کر اس جرم کی راہ ہموار کرتا ہے۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم اڑیں گے پرزے۔

Read more

اگلے جنم میں ونود کو کتا ہی کیجیو

کورونا کی وبا سے پہلے کے یہی دن تھے۔ (منٹو کا افسانہ "بو "یاد آگیا نا مگر ادھر میں ایسا کچھ نہیں)۔ شکاگو میں رات کا کھانا تھا۔ میزبان وہیں کی ایک گجراتی فیملی تھی۔ شام سے لانگ ویک اینڈ شروع ہوچکا تھا (ایک ساتھ کئی ایسی چھٹیاں جو ہفتے اتوار کی تعطیل سے جڑی ہوں) کچھ امریکی کے ماحول کی مناسبت سے مہمان کھانا اور شراب ساتھ لائے تھے۔ شرکت کی شرائط سادہ تھیں دین اور پاسپورٹ کی قید

Read more

بد چلن عورتیں

ہم اور ہمارا معاشرہ۔ عورت فساد کی جڑ ہے سارے گناہ عورت کی ذات سے منسوب ہیں یار یہ عورتیں کیسے کر لیتی ہیں۔ ۔ ۔ بس میں سوار ہوں تو مردوں کو کہتی ہیں ہمیں ہراساں کرو، سڑک کنارے چل رہی ہوں تو مردوں کو اپنی جانب راغب کر لیتی ہیں۔ ۔ ۔ مرد کے ساتھ معاشقہ کر کے مرد کو بھگا کر لے جاتی ہیں۔ مرد پر ظلم کرتی ہیں۔ ۔ ۔ رنگ برنگے کپڑے اس لیے پہنتی

Read more

بڑے بڑے سابقے لاحقے میں چھپے ہوئے چھوٹے لوگ

1۔ کیا صاحبان علم کبھی جاہل ہوسکتے ہیں؟ 2۔ کیا بڑے مرتبوں میں چھپے لوگ بھی چھوٹے ہوسکتے ہیں؟ 3۔ کیا کوئی بڑافنکار بھی چھوٹا ہو سکتا ہے؟ 4۔ کیا کوئی بڑا شاعر بھی چھوٹا آدمی ہو سکتا ہے؟ میں ان سوالات کی کھوج میں اکثر رہتا تھا کیونکہ یہ بات انسانی فطرت میں شامل ہے کہ ہم بڑے لوگوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں اور ان کے ساتھ ایک جذباتی وابستگی کا بت فوراً ہی تراش لیتے ہیں۔

Read more

پاکستان: سیاسی بے راہ روی سے جنسی بے راہ روی تک

احتیاط سے دیکھ کر شائع کرنا ہے۔ ع۔ جنسی بے راہ روی مذاہب کی لغت میں کبیرہ گناہ ہے۔ اسلام میں اس کو بدترین فعل قراردیا ہے۔ پاکستان میں جس قدر مذہب کا رجحان پایا جاتا ہے اس سے کہیں زیادہ جنسی بے راہ روی پائی جاتی ہے۔ مذہبی مقامات ہم جنس پرستی کے محفوظ ٹھکانے ہیں، جس میں دینی مدرسے، مساجد، خانقاہیں، مذہبی جماعتوں کے وہ مراکز جہاں شب بیداریاں یا حصول طلب کے لئے اجتماعات ہوتے ہیں۔ مدارس

Read more

مولانا طارق جمیل کا حور کا بیان فحش نہیں، قصور مخلوط تعلیم کا ہے

کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہر بری چیز کی وجہ ایک ہی ہے۔ آپ کوشش کریں سوچنے کی۔ ذہن پر زور دیں۔ ہو سکتا ہے آپ صحیح طریقے سے زور نا دیں سکیں۔ تو کوشش کریں کہ کوئی پتھر یا اینٹ سر پر رکھ کر دیکھیں۔ اس سے بھی حل نا نکلے تو ایک مزید پتھر سر پر رکھیں مجھے لگتا ہے۔ اور سو فیصد یقین ہے۔ حل نہیں نکلے گا۔ تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے۔ آپ دیوار میں سر مار کر دیکھیں۔ شدید زور و شور سے ماریں۔ اتنی زور سے کہ دیوار ٹوٹ جائے۔ کیونکہ آپ کا اگر سر پھٹتا ہے۔ تو اس میں غلطی آپ کی نہیں ہے۔

ایک صاحب عقل انسان کا اس طرح سے مسلسل دیوار کو ٹکریں مارنا غلطی نہیں ہو سکتا۔ پھر آخر غلطی کس کی ہے۔ اس کو حل کرنے کے لئے ایک قدم اور آگے بڑھ کر دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ ہے کہ آپ ٹھنڈے دماغ سے سوچیں۔ تو اس کی ایک واحد وجہ سمجھ آتی ہے۔ وہ ہے مخلوط تعلیم۔ اب آپ کہیں گے کہ یہ کیا وجہ ہوئی۔

Read more

آگ اور پٹرول کی آزادی

موٹروے ریپ کیس نے ہمارے سامنے حکومتی رٹ کی ناکامی کھول کے رکھ دی۔ انصاف اور قانون کا بول بالا تو دور رہا۔ سب بولے (بہرے ) بن کے پھرتے رہے۔ جیسے کچھ سنائی نہیں دے رہا۔ اندھے تو پہلے ہی تھے۔ گونگے بننا تھا وہ بھی بن چکے۔ جلتی پہ تیل کا کام سی سی پی او کے بیان نے ڈال دیا۔ کہ جی رات کو کیوں نکلی۔ پٹرول کیوں نہیں چیک کیا۔ محرم کیوں ساتھ نہ تھا۔ جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ محرم کے ساتھ ہونے کے باوجود بھی عورت ریپ ہو گئی۔ شبنم کیس اتنا پرانا بھی نہیں۔ اس کے محرموں کے سامنے گھر میں گھس کے اس کا ریپ کیا گیا تھا۔ وہ تو کہیں باہر نہ نکلی تھی۔ شکر ہے تب موٹروے نہ تھی۔ ورنہ یہ کریڈٹ بھی چھوٹے میاں بڑے میاں کے کھاتے میں ڈال دیتے۔ ویسے چھوٹے میاں صاحب کھاتہ کھولتے وقت کم سے کم کھاتے کی تفصیل پڑھ لیتے ہیں۔ خیر پڑھے کون۔

عورتوں اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے یہ کیسز روزانہ کی بنیاد پہ ہو رہے ہیں۔ برسوں سے ہو رہے ہیں۔ اب سامنے زیادہ آنے لگ گئے ہیں۔ کیونکہ سوشل میڈیا و میڈیا کا دور ہے۔ لوگوں کے ہاتھ میں موبائل فون کیمرے و وڈیو کیمرے کی سہولت کے ساتھ موجود ہیں۔ سیکنڈوں میں خبر تیار ہو کے وائرل ہو چکی ہوتی ہے۔ جبکہ پہلے وقتوں میں آج کا اخبار پڑھا۔ رات نو بجے کا خبرنامہ سنا۔ جس میں سب اچھا ہوتا تھا۔ اس کے بعد سو گئے۔ اگلی صبح ہی پتہ چلے گا۔ کہ گزشتہ روز ملک میں کیا ہوا تھا۔

Read more

اور اگر میں تب ریپ ہوجاتی تو۔ ۔ ۔

موٹر وے گینگ ریپ حادثے کو ہفتہ بھر ہونے کو آیا ہے پر دل سے ویرانی اور طبیعت پر چھایا ڈپریشن ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ تین بچوں کی ماں جو فرانس جیسے آزاد اور ترقی یافتہ ماحول میں سانس لینے والی کم ظرف حکومتی عہدہ داروں کے بھونڈے اعتراضات کی سان پر چڑھی ہے۔

رات کے ایک بجے اکیلی عورت کو گھر سے نکلنے کی ضرورت؟ پیٹرول کیوں نہیں چیک کیا گیا؟ سنسان راستے پر کیوں چڑھی؟

ابھی حادثے کا پہلا دوسرا دن تھا۔ مظلوم خاتون کے بارے میں کچھ تفصیل سامنے نہیں آئی تھی۔ ہاں گوہر تاج نے میری ٹائم لائن پر اپنا نوحہ لکھا تھا۔ ”سنتی ہو ان محافظوں کی باتوں، کو دیکھتی ہوں ان کے کاموں کو ۔“ اور بوجھل روح سے میں نے اسے مخاطب کیا تھا۔ ”گوہر میری جان ہوگی کوئی میرے جیسی جنونی آوارہ، گرد، من موجی سی عورت جو ایڈونچر اور تھرل کے شوق میں کچھ زیادہ سوچتی نہیں اور کتنی سر پھری لڑکیاں ہیں جو گواچی گاں کی طرح منہ اٹھا کر چل پڑتی ہیں۔ ریاست تو ماں کی طرح ہوتی ہے۔ تحفظ دینے والی۔ مگر کیا کریں؟ کہاں جائیں؟ ساری زندگی میرے تو اپنے لچھن بس ایسے ہی رہے۔

Read more

خلیل الرحمٰن قمر کا غصہ ریپ کے خلاف نکلنے والی عورتوں پر اور ریپسٹ پر خاموشی

موٹر وے ریپ کیس کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں خواتین کی شمولیت پر مخصوص ذہنیت کے حامل افراد خاصے چراغ پا ہوئے۔ ڈراما نویس خلیل الرحمٰن قمر جو خواتین سے متعلق متنازع بیانات کے حوالے سے جانے جاتے ہیں ایک بار پھر میدان میں آ گئے اور ایسی زبان استعمال کی جسے کسی طور مہذب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایک ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ عورتیں کس کی اجازت سے پہنچی ہیں اور دندناتی پھر رہی ہیں، چیخ چلا رہی ہیں، یہ بھانڈوں کی فوج ہے۔ انہوں نے عورتوں سے سوال کیا کہ آپ کیا چاہتی ہیں کہ آپ بوائے فرینڈ کے ساتھ کمرے میں چلی جائیں اور باپ باہر کھڑا ہو جائے پہرے کے لیے؟

انہوں نے اسی قسم کی کچھ اور باتیں بھی کیں۔ سوال یہ ہے کہ موٹر وے پر درندگی کے واقعے کے بعد اگر خواتین احتجاج کے لیے نکلیں تو انہیں غصہ کیوں آیا؟ اتنا غصہ انہیں ان درندوں پر کیوں نہ آیا جو انسان کہلانے کے حق دار نہیں۔ انہوں نے کسی چینل پر ان کے خلاف ایسی زبان استعمال کیوں نہیں کی؟

Read more

کیمیکل کیسٹریشن پر عفت عمر کے بیان پر تنقید: ’جب آپ طنز کرتے ہیں تو وہ اتنا ہی کڑوا ہوتا ہے‘

پاکستانی اداکارہ اور میزبان عفت عمر چند روز سے مسلسل خبروں اور تنقید کی زد میں ہیں اور آئے روز کئی نہ کسی حوالے سے ٹوئٹر پر ان کا نام ٹرینڈ کرتا نظر آتا ہے۔

Read more

مولانا طارق جمیل، مخلوط تعلیم، پٹرول، آگ اور ریپ

سوشل میڈیا سے علم ہوا کہ مولانا طارق جمیل نے موٹر وے ریپ کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ایسے واقعات کی وجہ مخلوط تعلیم ہے۔ ایک عام شخص یہ سنتے ہی آگ بگولا ہو جائے گا کیونکہ اس کے پاس علم کی دولت نہیں ہے یہ لفظ سنتے ہی عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ خیال آتا ہے کہ مخلوط تعلیم کا مطلب ہے کہ ایسی تعلیم جس میں لڑکیاں بھی لڑکوں کے ساتھ پڑھیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ متذکرہ بالا لوگ لڑکی کے علاوہ کچھ سوچ ہی نہیں سکتے۔

Read more

ریپ، ریپسٹ اور متاثرہ افراد

ریپ مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں۔ عمومی طور پر عامتہ الناس میں ریپ کے حوالے سے یہ تاثر قائم ہے، کہ صرف زور زبردستی سے کیا جانے والا جنسی فعل ہی ریپ کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ جب کہ ہر وہ جنسی فعل یا حرکت جو کسی ایک فرد کی رضا مندی کے بغیر، بچے بچی یا کسی کی معصومیت اور مجبوری سے فائدہ اٹھا کر سرزد ہو، ریپ کے ہی زمرے میں آتی ہے۔ حتی کے شریک حیات کی مرضی بھی شامل حال نہ ہو، تو ترقی یافتہ معاشرے میں یہ فعل ایک نوع کے ریپ میں شمار کیا جاتا ہے۔

یہ گھناؤنا فعل زیادہ تر متاثرہ خاتون، مرد، لڑکا، لڑکی، بچے اور بچی کے سگے رشتے دار و قریبی عزیز، آجر، گھریلو نوکر چاکر، استاد اور معاشرے کے با اثر افراد کی طرف سے عمل میں آتا ہے۔ اور عموماً ظلم و زیادتی کا شکار معصوم بچے بچیاں اور مجبور، معذور اور بے سہارا خواتین اور لڑکے لڑکیاں ہوتی ہیں۔ مقام افسوس یہ ہے، کہ اکثر ایسے معاملات منظر عام پر نہیں آتے۔ اور متاثرہ فرد اپنے والدین یا کسی بڑے سے شکایت بھی کرے، خصوصاً خاتون، لڑکی یا بچی اپنی ماں یا دوست کو اس قبیح فعل سے آگاہ کرے، تو عموماً معاملہ دبا دیا جاتا ہے اور چپ رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ بظاہر اس کی وجہ یہی ہے، کہ متاثرہ فرد اور کنبہ بدنام ہو جائے گا۔ مزید یہ کہ پیچیدہ قانونی کارروائیوں وجہ سے ملزم کے بچ نکلنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

Read more

سانحہ موٹروے! چند گزارشات

میں آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہمیں نصاب میں جھوٹ کیوں پڑھایا جاتا ہے۔ مطالعۂ پاکستان میں یہ کیوں لکھا جاتا ہے کہ اسلام دین فطرت ہے جس کی تعلیمات کے مطابق بنیادی حقوق کے لحاظ سے سب انسان برابر ہیں۔ عورت وہ لفظ ہے جو انسان کو عزت و حرمت سے آگاہ کرتا ہے۔ غلط۔ تمام مذاہب بشمول اسلام ہر قسم کے نسوانی تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔ غلط۔ اسلام نے خواتین کو حکومت، سیاست، قیادت اور مشاورت سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں اہم ذمہ داریاں سونپی ہیں۔

غلط۔ اکثر عورتیں اس تصور کی بنا پر تشدد کا شکار ہوجاتی ہیں کہ وہ مردوں کی نسبت کم تر ہیں۔ کیوں آخر یہ سب کیوں پڑھایا جا رہا ہے؟ بعض واقعات کسی بھی معاشرے اور قوم کے مردہ ہونے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ کسی ایسے معاشرے میں جو اسلامی جمہوریہ کہلاتا ہو وہاں پانچ سال کی بچی کو اٹھا کر ریپ کرنے کے بعد اس کی سوختہ لاش کو بوری میں بند کر کے پھینک دیا جاتا ہے۔ صرف پنجاب میں پچھلے دو سالوں میں خواتین اور بچیوں سے زیادتی کے ان گنت کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

Read more

شریعت الہی، فقہی قانون یا سیکولر قانون

شرعی قانون کی بنیادی شرط عدل و انصاف ہے۔ اگر ایک نظام قرآن و سنت پر مبنی ہونے کا دعوی کرے مگر اس کا نفاذ عدل کے بجائے ظلم کو فروغ دے تو وہ شرعی نظام نہیں ہو سکتا۔ اگر فقہی قانون کو دیکھا جائے تو پرانے زمانے کے فقہا نے قرآن و حدیث کی تشریح کر کے فقہی قانون ترتیب دیا۔ ان فقہا کی ذہنی استعداد اس زمانے کے لحاظ سے شاید قابل رشک ہو لیکن آج انسانی علم ترقی کرچکا ہے اور آج کے معیار کے مطابقت میں قدیم فقہا کی ذہنی استعداد بے انتہا محدود تھی۔

Read more

حادثے سے بڑا سانحہ

کہاں ہیں وہ اسلام پسند وزرا جو گزشتہ دور حکومت میں تقریر جھاڑا کرتے تھے کہ جرم یا مقتول کا مجرم نا ملے اس کا مجرم حاکم وقت ہوتا ہے۔ اب اگر مجرم نہ ملے تو حاکم وقت کو سزا ملنی چاہیے۔

مجھے حیرت ہے کہ پڑھے لکھے افسر جن کی ڈیوٹی ہی امن و امان قائم رکھنا ہے کیسے منہ کھول کے کہہ دیتے ہیں کہ متاثرہ عورت رات کو اکیلی سفر ہی کیوں کر رہی تھی؟ کیا اس لاجک کو دینے کے بعد محکمہ بری الذمہ ہو سکتا ہے؟ برائے مہربانی ایسی لاجک دے کے مزید جلتی پہ تیل کا کام نہ کیا جائے۔ یہ بے حسی کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے کہ گینگ ریپ کا شکار عورت کو قانون کا رکھوالا ہو کر پولیس کا سربراہ یہ کہے کہ رات کو موٹر وے پر اکیلی عورت کو سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

Read more

بہاولپور میں خودکشی کرنے والی خاتون سے زیادتی کا ملزم گرفتار

بہاولپور میں زیادتی سے متاثرہ لڑکی کی خودکشی کے بعد پنجاب پولیس نے ملزم گرفتار کر لیا جبکہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو بھی معطل کر کے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے بتایا ہے کہ ڈی پی او بہاولپور نےفوری ایکشن لیتے ہوئے ملزم لقمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم کے ساتھ متعلقہ تھانے کا ایس ایچ او اور چوکی انچارج بھی پابند سلاسل ہیں۔ وزیراطلاعات نے کہا کہ ایس ایچ

Read more

وکٹم بلیمنگ کیوں غلط ہے؟

وکٹم بلیمنگ یعنی کسی جرم کا نشانہ بننے والے فرد (مرد یا عورت) پر تنقید کرنا، الزام لگانا ہر اعتبار سے غلط، ناجائز اور ظلم در ظلم ہے۔ اس سے بڑی زیادتی اور کیا ہوگی کہ ایک شخص ظلم اور تشدد کا نشانہ بنا ہے، اوپر سے لوگ اس پر تنقید شروع کر دیں۔ کسی واردات کا ہدف کوئی خاتون بنی ہو تو ہر ایک کو نہایت احتیاط اور ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے۔ خواتین طبعاً حساس اور نازک ہوتی ہیں۔ اس لئے جب کوئی خاتون خدانخواستہ کسی واردات کا نشانہ بنے تو میڈیا، پولیس، اہل خانہ، عزیزواقارب، محلے دار غرض سماج کے ہر شعبے کو بہت سلیقے سے ہینڈلنگ کرنی چاہیے۔

اللہ نہ کرے زیادتی (ریپ، گینگ ریپ) جیسی سنگین ترین نوعیت کا واقعہ ہو، عام واردات جیسے پرس چھینے جانے کے معاملات میں بھی عام طور سے لوگ خواتین کو مطعون ٹھیرانا شروع کر دیتے ہیں، دیکھیں جی ان بیبیوں کو ہوش ہی نہیں ہوتا ادھر ادھر کا، موبائل ہاتھ میں لئے سڑک پر چل رہے ہیں، چور اچک کر لے گیا، یا ایسے کہیں گے ”اگر اس بی بی نے پرس مضبوطی سے پکڑ رکھا ہوتا تو نہ چھینا جاتا، یہ تو آپس میں گپیں لگاتے ہوئے بے پروا ہوجاتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔“ یہ غلط رویہ ہے۔ ممکن ہے اس خاتون سے واقعی بے احتیاطی یا غلطی ہوئی ہو، مگر یہ کس سے نہیں ہوتی؟

Read more

میں نے ہر آب رواں گرتا ہوا دیکھا ہے

ایک عزیز کو نعش کی شناخت کے لئے ہسپتال جانا پڑا۔ سرد خانے کے دروازے پر ہی دو افراد نے اسے گھیرنے کی کوشش کی۔ پہلے نے کارڈ تھما کر کہا ہمارے ہاں قبر کشائی اور تدفین کا کام تسلی بخش کیا جاتا ہے۔ دوسرے نے کہا پھول ہم سے بہتر کوئی بھی قبروں پر نہیں چڑھاتا۔ ہم تو قبر پر معمولی پیسوں میں اتنے پھول ڈال دیتے ہیں کہ قبر کا نشان بھی نظر نہیں آتا۔ ہمیں غصہ آ

Read more

جرم و سزا اور رائے عامہ

رائے عامہ کسی بھی سیاسی نظام کا پرائم موور ہوتی ہے۔ رائے عامہ کی تشکیل معاشرے کے سیاسی سماجی حالات کرتے ہیں۔ اس کی رہنمائی سیاستدان، دانشور اور صحافی کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ کسی ایشو پر رفتہ رفتہ عوامی رائے متشکل ہوتی ہے۔ یہ رائے مختلف چینلز سے ہوکر اوپر کی سطح تک پہنچتی ہے۔ ان چینلز میں میڈیا، سیاسی جماعتیں، پارلیمنٹ وغیرہ شامل ہیں۔ ان مرحلوں سے گزرتے ہوئے عوامی رائے میں موجود کمزوریوں اور ابہامات کو دور

Read more

پاکستان کی پولیس کب غیر سیاسی ہو گی؟

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے چند روز پہلے موٹر وے ریپ کیس کے حوالے سے پیدا ہونے والی بے چینی وخوف کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس کو پروفیشنل بنانے اور اس کے نظام میں سیاسی مداخلت ختم کرنے پر زور دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے محفوظ کئے بغیر عام شہریوں کی حفاظت ممکن نہیں ہوگی۔ آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایک

Read more

کفر کا نظام چل سکتا ہے، ظلم کا نہیں

اس دنیا میں روزانہ ہر عورت کے ساتھ ریپ ہوتا ہے، تین سال کی بچی سی لے کے پچھتر برس کی بڑھیا تک۔ رنگ، نسل، مذہب، قومیت اور لباس کی کوئی قید نہیں۔ ساڑھی، برقع، نیکر، عبایہ، جینز، حجاب، فراک، اسکرٹ، شلوار، کچھ بھی پہنا ہو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عورت رات کو دو بجے اکیلی سڑک پر ہو یا بس میں اپنے دوست کے ساتھ، کسی بھرے، پرے دفتر میں ہو یا نائٹ کلب میں، پنج وقتہ نمازی ہو یا کسی مرد کی طرح ڈرنک کرتی ہو، میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگاتی ہو یا یتیم بچیوں کی پناہ گاہ کی محافظ ہو، ڈومنی ہو یا پردہ دار، چہرہ بغیر میک اپ کے رکھتی ہو یا غازے کی تہیں سجاتی ہو، قائداعظم کے مزار کے احاطے میں ہو یا اپنی قبر میں، ریپ کرنے والا اس کی لاش نکال کر بھی ریپ کرے گا اور مردوں کے اس معاشرے میں کچھ لوگ ہوں گے جو کہیں گے کہ کفن میں چہرہ ڈھانپا نہیں گیا تھا اس لیے ریپ ہوا۔

گزشتہ ہفتے 9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹروے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا۔ دو افراد نے موٹروے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا اور سب کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور پھر خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ تاہم ایسے موقع پر سی سی پی لاہور عمر شیخ حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے بولے کہ ان کو جی ٹی روڈ سے جانا چاہیے تھا، گاڑی کا تیل پانی بھی پورا کر کے چلنا ان کی ذمہ داری تھی۔

Read more

قانون برائے ریپ و ہراسانی و ریپر پروٹیکشن

طنزیہ مضمون:۔
پچھلے چند سالوں میں پاکستان میں بالعموم اور پنجاب میں بالخصوص خواتین اور بچوں کے ریپ اور جنسی ہراسانی کے بہت واقعات پیش آرہے ہیں نیز بعض خواتین انٹرنیٹ پر بھی جنسی ہراسانی کی شکایت کرتی پائی گئی ہیں۔ ان واقعات کے بعد عوام میں بے حد بے چینی پائی جاتی ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان جہاں اتنے بہت سے اصول و ضوابط موجود ہیں وہاں یہ کیسے ممکن ہیں کہ ریپ اور جنسی ہراسانی کے بارے میں حکومت وقت کی جانب سے کوئی ہدایت نامہ جاری نہیں کیا گیا۔ عوام کے انہی مطالبات کے نتیجے میں حکومت پنجاب نے قانون برائے ریپ و جنسی ہراسانی و ریپر پروٹیکشن کے اجرا کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا اطلاق یکم اکتوبر 2020 دے ہو گا۔ اسے پہلے کے اس سلسلہ میں موجود موجود تمام قوانین اس مینوئل کے اجرا کے بعد منسوخ سمجھے جائیں گے۔ اس کا اطلاق پورے پنجاب میں ہوگا۔

Read more

کیا ہماری عزت، جان و مال اس ملک میں محفوظ بھی ہیں؟

جب ظلم انتہا کو چھوتا ہے تو اللہ کی طرف سے قہر آتا ہے خدا کا خوف نا جانے کیوں ان کے دلوں میں نہیں رہا کسی کی بے بسی اور مجبوری کا فائدہ اٹھانا ہمارے معاشرے میں عام ہو گیا ہے مگر بات اس حد تک پہنچے گی کہ ایک ماں اپنی اولاد کے سامنے اس طرح سے زیادتی کا شکار ہوگی یہ تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ حیوانیت اس طرح سے سڑکوں پر کھلے عام نظر آئے گی میں تو یہ واقعہ لکھتے ہوئے بھی کانپ رہا ہوں کہ کیسے بیان کروں ان حیوانوں نے جو ایک ماں کے ساتھ کیا۔

ہمارا ملک اسلام کے نام پر اور اسلامی روایات کے نام پر بنا تھا مگر اس ملک میں اس طرح کے درندے اور حیوان پھر رہے ہیں اور ایسی حیوانیت پھیلا رہے ہیں جسے دیکھ کر دل خون کے آنسوں روتا ہے۔ انسانیت بھی شرما جاتی ہے جب ایسے گھناؤنے واقعات ہوتے ہیں۔

Read more

گجرپورہ ریپ کیس کا مرکزی ملزم لاہور کے نواح میں بار بار پولیس کو چکمہ دے کر فرار

لاہور: گجرپورہ زیادتی کیس کا مرکزی عابد ملہی ننکانہ صاحب پولیس کو چمکا دے کر فرار ہوگیا۔ اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق گجرپورہ لنک روڈ زیادتی کیس کے ملزم عابد ملہی کو پولیس گرفتار کرنے پہنچی تو وہ پولیس کو چمکہ دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ننکانہ صاحب پولیس کی بھاری نفری عابد ملہی کو ڈھونڈے میں مصروف ہے، پولیس کی بھاری نفری نے دھولر والے قبرستان کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ننکانہ صاحب میں ملزم عابد ملہی آج دوپہر اپنی سالی کے گھر آیا تھا، عابد کی سالی کشور بی بی پرانا ننکانہ کی رہائشی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کو عابد کی موجودگی کی اطلاع پہلے ہی مل چکی تھی لیکن پولیس 30 منٹ تاخیر سے پہنچی۔

Read more

پانچ برس سے طالبہ کو ریپ اور قتل کی دھمکیاں دینے والا لڑکا ابشام گرفتار

لاہور: صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں طالبہ کو مبینہ طور پر زیادتی اور قتل کی دھمکیاں دینے والے ملزم ابشام کو گرفتار کر لیا گیا، فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ درندے کو نشانہ عبرت نہ بنایا تو کل کسی اور بچی کو پریشان کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں تھانہ سندر پولیس نے سوشل میڈیا پر لڑکی کو ہراساں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے والے ملزم ابشام اور اس کے والد عمران کو گرفتار کر لیا۔

Read more

ندا یاسر: مبینہ اغوا اور قتل ہونے والی پانچ سالہ بچی کے والدین سے چبھتے سوال کرنے پر سوشل میڈیا صارفین مارنگ شو ہوسٹ پر برہم

مارننگ شو ’گڈ مارننگ پاکستان‘ کی میزبان ندا یاسر ابھی پروگرام کی تمہید ہی باندھ رہی تھیں کہ مہمانوں میں موجود ایک برقع پوش خاتون کی سسکیاں سنائی دینے لگیں۔ یہ خاتون اس پانچ سالہ بچی کی والدہ تھیں جسے کراچی میں رواں ماہ مبینہ طور پر اغوا اور ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا۔

Read more

جنسی جرائم پر سخت سزائیں :عمران خان کی تجویر پر تنقید

پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے جنسی جرائم میں ملوث افراد کے لیے سخت ترین سزاؤں کی تجویز دی ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل حارث خلیق نے کہا ہے کہ معاشرے سے جنسی تشدد، جنسی زیادتی، گینگ ریپ ختم کرنا ہے تو پولیس اور انصاف کے محکموں کی از سر نو تشکیل کی جائے۔ سخت سزاؤں کو گنوانا وزیر اعظم کی عوامیت پسند بیان بازی سے زیادہ نہیں۔

Read more

کیا آپ ایک ریپسٹ ہیں؟

سموئیل کو اپنے ہی ایچ ڈی کے مقالے کے لیے کچھ ایسے لوگوں سے انٹرویو کرنا تھا جو عورتوں کی جنسی زیادتی کے مرتکب رہے ہوں۔ سموئیل نے اخبار میں ایک عجیب اشتہار دیا۔

”کیا آپ ایک ریپسٹ ہیں؟ ایک ریسرچر آپ کو آپ کی شناخت خفیہ رکھ کر ایک انٹرویو کرنا ہے۔ اس نمبر پر کال کریں۔ سموئیل“

سموئیل حیرت زدہ رہ گیا جب اسے دو سو کے قریب کالز سننی پڑیں۔ اس نے پچاس لوگوں کو منتخب کر کے انٹرویوز کیے اور اپنا مقالہ مکمل کیا۔ سموئیل ایسی عادت و اطوار معلوم کرنا چاہتا تھا جو جنسی مجرموں کے درمیان مشترکہ ہوں اور وہ کوئی ایسا ماڈل بنا سکے جس کی مدد سے ایسے لوگوں کی بروقت پہچان ہو سکے تاکہ ایسے جرائم کم سے کم ہوں۔ آنے والے کہیں سالوں تک یہ سموئیل کا پیپر اس موضوع پر ہونے والی تحقیق کا بنیادی ماخذ بنا رہا۔ سال ہا سال کی ریسرچ کے بعد جو نتائج سامنے آئے ہیں ان نتائج کے دو پہلو پاکستان کی ایک بڑی اکثریت کے سماجی رویے میں ہونے والے بگاڑ کا پتہ دیتے ہیں۔

Read more

زنا ، زنا بالجبر اور عورت کی حیثیت طے کرتے قوانین پر ایک نظر

جب پاکستان اس خطے پر ابھر تو اس نے ایسے قوانین کو اپنایا جو برصغیر پاک و ہند میں پہلے سے موجود تھے اور پاکستانی سول اور فوجداری ضابطے کے قانون بھی اسی روایت کا حصہ بن گئے۔ ریپ کے لیے قانون سازی ان اپنائے گئے قوانین کا ایک حصہ تھا۔ 1979 میں اس وقت تنازعہ کھڑا ہوا جب فوجی آمر جنرل ضیا الحق، جس نے پاکستان میں اسلامی قانون کے انتہائی قدامت پسند اور متنازعہ ورژن کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، ایک ایسا قانون نافذ کیا جس کی سزا ہم اب بھی بھگت رہے ہیں۔

اس قانون کا سب سے زیادہ تباہ کن نتیجہ 1979 میں حدود آرڈیننس کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ حدود آرڈیننس پانچ ایسے آرڈیننس کا مجموعہ ہے جن پر پارلیمنٹ میں کبھی بحث نہیں ہوئی۔ قومی بحث و مباحثے کے بغیر کوئی بھی قانون لاگو کرنا مارشل لا رجیم کا یوں بھی خاصہ رہا ہے۔ اقتدار میں غیر قانونی تسلسل کا جواز پیش کرنے کا یہ ایک عامیانہ سا حربہ ہوتا ہے۔

Read more

موٹروے ریپ کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کی اہلیہ گرفتار

پولیس نے موٹروے پر خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے مرکزی ملزم عابد ملہی کی اہلیہ بشریٰ کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والی خاتون بشریٰ کی ملزم عابد ملہی سے یہ دوسری شادی تھی۔ ملزم عابد کی اہلیہ تحصیل تاندلیہ والا، ضلع فیصل آباد کی رہائشی ہے۔

Read more

لاہور موٹروے ریپ کیس: پاکستان میں ریپ جیسے جرائم کے لیے کس قسم کی قانون سازی کی ضرورت ہے؟

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں جرائم کی روک تھام کے لیے سزاؤں کا اذیت ناک اور سنگین ہونا ضروری نہیں بلکہ سزا کا یقینی ہونا بہت ضروری ہے اور ملک کے نظام عدل میں سائنسی بنیادوں پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔

Read more

قیامت تو گزر چکی بس جہنم تک پہنچنا باقی ہے

افسوس صد افسوس۔ ۔ ۔ اسکول میں ریپ، دفتر میں ریپ، مدرسے میں ریپ، گلیوں میں ریپ، ستر سالہ سے ریپ، سات سالہ سے ریپ، زندہ سے ریپ، قبروں سے نکال کے میتوں سے ریپ، مساجد کے حجروں میں بچوں سے ریپ، رات کو ریپ، دن دیہاڑے ریپ، خواجہ سراہوں سے ریپ، دو بچوں کی ماں سے ریپ۔ سوچو پوری زندگی وہ بیٹا بیٹی کس اذیت سے گزریں گے؟ وہ ماں کس اذیت سے گزرے گی؟ آپ کہیں بھی محفوظ

Read more

سی سی پی او لاہور عمر شیخ: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہونے پر ان کے خلاف تحریک استحقاق جمع کروانے کا اعلان

انسانی حقوق سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے لاہور سیالکوٹ موٹروے ریپ کے مقدمے میں طلب کیے جانے کے باوجود کپیٹل سٹی پولیس افسر لاہور عمر شیخ کے پیش نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

Read more

آپ چاہتی ہیں کہ بوائے فرینڈ کے ساتھ کمرے میں جائیں تو باپ باہر پہرہ دے: خلیل الرحمان قمر

ڈرامہ نویس خلیل الرحمان قمر نے، جو خواتین سے متعلق اپنے متنازع بیانات کے لئے جانے جاتے ہیں، نے ایک مرتبہ پھر موٹروے پر ریپ کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شامل ہونے والی خواتین کے لئے اخلاق سے گرے ہوئے جملے استعمال کیے ہیں۔ بول ٹی وی پر فضا اکبر خان کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے خلیل الرحمان قمر نے کہا کہ پہلے تو یہ بتائیں کہ ان (عورتوں) کے باپ کہاں ہیں؟ ان کے بھائی کہاں ہیں؟

Read more

یہ ریپ کا کلچر ہے – مکمل کالم

یہ واقعہ 16 دسمبر 2012 کا ہے، وقت ہے رات ساڑھے نو بجے کا اور مقام ہے نئی دہلی۔ 23سالہ جیوتی سنگھ اپنے ایک مرد دوست کے ہمراہ سنیما سے فلم دیکھ کر نکلی ہے۔ گھر واپس جانے کے لیے دونوں ایک بس میں سوار ہوتے ہیں جس میں ڈرائیور سمیت پہلے سے چھ افراد موجود ہیں۔ ایک کنڈکٹر نما لڑکا جس کی عمر اٹھارہ سال سے بھی کم ہے انہیں بتاتا ہے کہ یہ بس وہیں جا رہی ہے

Read more

سانحہ موٹر وے لاہور کی دوسری متاثرہ خاتون

سانحہ موٹر وے لاہور سے ایک دن پہلے کراچی کی معصوم کلی مروا پر فیس بک لائیو دینے کے بعد اسی ایشو پر اپنے یوٹیوب چینل کے لیے ایک ویڈیو بنا کر ”بچوں اور خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی جرائم پر ریاست اور معاشرے کی خاموشی چہ معنی“ پر اپنے فیچر کو حتمی شکل دینے کے لیے بیٹھ گئی۔ صبح اٹھی تو سوشل میڈیا اور اسٹریم میڈیا پر لاہور موٹر وے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی خبریں گرم تھی اور بطور صحافی مجھے یہ اندازہ ہوا کہ آئندہ کئی دنوں تک ہم اس موضوع پر بات کریں گے، ہیش ٹیگ کی روایت کی میں اپنے ایک دن پہلے کے فیس بک لائیو میں مذمت کر چکی تھی کہ اب معاملات ہیش ٹیگ سے آگے بڑھ چکے ہیں اور ہمیں بطور معاشرہ اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اور اس کا ایک اہم راستہ بھرپور احتجاج ہے وہ بھی پر سطح پر تاکہ ریاست موثر قوانین سازی کرتے ہوئے ان قبیح جرائم کے مرتکب افراد کے لیے سخت سے سخت سزاوں کو یقینی بنائے۔

اس دوران موٹر وے حادثہ پوری شدت سے سامنے آیا، میری اس حوالے سے سوشل میڈیا یاترا جاری تھی اور خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کی جانب سے بھی شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا تھا کہ مجھے فیس بک میسنجر پر اسکرین شاٹ کے ساتھ ایک لنک موصول ہوا، جسے دیکھ کر میرے ہوش اڑ گئے۔

Read more

یہ ریپ کا کلچر ہے – مکمل کالم

یہ ریپ کا کلچر ہے

یہ واقعہ 16 دسمبر 2012 کا ہے، وقت ہے رات ساڑھے نو بجے کا اور مقام ہے نئی دہلی۔ 23 سالہ جیوتی سنگھ اپنے ایک مرد دوست کے ہمراہ سنیما سے فلم دیکھ کر نکلی ہے۔ گھر واپس جانے کے لیے دونوں ایک بس میں سوار ہوتے ہیں جس میں ڈرائیور سمیت پہلے سے چھ افراد موجود ہیں۔ ایک کنڈکٹر نما لڑکا جس کی عمر اٹھارہ سال سے بھی کم ہے انہیں بتاتا ہے کہ یہ بس وہیں جا رہی ہے جہاں انہیں پہنچنا ہے۔ تھوڑی دیر بعد جیوتی سنگھ اور اس کے دوست کو احساس ہوتا ہے کہ بس اپنے مقررہ راستے پر چلنے کی بجائے کسی دوسری طرف نکل گئی ہے اور بس کے دروازے بھی بند ہو گئے ہیں۔

Read more

موٹروے ریپ کیس: شوبز شخصیات کی جانب سے خواجہ سراؤں کے احتجاجی مظاہرے کو نظرانداز کرنے پر سوشل میڈیا صارفین برہم

پاکستان کے صوبے پنجاب میں گذشتہ ہفتے ہونے والے ریپ کے واقعے کے بعد سے ملک بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی جس کے بعد عوام کی جانب سے مختلف مظاہرے کیے گئے تھے۔ اسی نوعیت کا ایک اور احتجاج 14 ستمبر کو پیر کے روز کراچی میں پریس کلب کے سامنے منعقد ہوا لیکن اس بار سوشل میڈیا پر تنقید کی توپوں کے گولوں کا رخ معاشرتی برائیوں کے بجائے اس مظاہرے میں شرکت کرنے والوں پر تھا۔

Read more

اجتماعی زیادتی سے متاثرہ کم سن لڑکی کے یہاں لڑکی کا جنم

فروری کی بیس تاریخ تھی اور سال یہی 2020، جب راول پنڈی سے خبر آتی ہے کہ ایک کم سن بچی کو مسلسل کئی ماہ تک چار آدمی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ان چار میں سے دو کالج کے لڑکے ہیں تو دو شادی شدہ جن کی اپنی بیٹیاں اٹھارہ سال سے زیادہ عمر کی ہیں۔ ایک زیادتی کا مرتکب تو قریباً ساٹھ ستر سال کا بھی ہے۔ اسد علی، بہادر، یحییٰ اور عابد، یہ ان چار آدمیوں

Read more

نوشابہ کی ڈائری: کھجی گراؤنڈ فتح ہو گیا․․․ ایم کیو ایم جنگ ہار رہی ہے

27 دسمبر 1995 میں ذیشان کو نہیں روک سکی، نہ جانے سے نہ اس راستے پر سفر سے جو اچانک کسی اندھیروں سے بھری کھائی پر ختم ہوجاتا ہے۔ میں نے ذیشان کو بہت سمجھایا، سارنگ کے بچپن، ابو جان کے بڑھاپے اور اپنی محبت کے واسطے دیے، سمجھانے کی مہلت ملتی بھی کتنی تھی، ان کے پاس اسلحہ دیکھنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ آگ نے ہماری دہلیز پار کر لی ہے۔ طویل وقفوں کے بعد جب گھر

Read more

موٹروے ریپ کیس: ’مرکزی ملزم کا ڈی این اے پروفائل محفوظ نہ ہوتا تو شاید یہ کیس کئی سال تک حل نہ ہو پاتا‘

بی بی سی کے ساتھ خصوصی گفتگو میں پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد اشرف طاہر نے ان تمام واقعات کا احاطہ کیا ہے جن کی مدد سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادار ے ملزمان تک جلد پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

Read more

مبارک ہو، آپ خوف کی فضا قائم کرنے میں کامیاب ہوئے

لاہور موٹروی پہ ہوئا المناک حادثہ تمام نیوز چئنلز بشمول سوشل میڈیا پہ وائرل ہو چکا ہے، بھیانک خواب جیسے اس حادثے کو وہ عورت اب زندگی میں کبھی بھلا نہیں پائے گی، جو مذہب اسلام کی محبت میں، ریاست مدینہ کا نام سن کر بچوں کہ ہمراہ فرانس سے دوڑی چلی آئی۔ وہاں پہ عریانی دیکھ کر وہ سمجھی کہ میں مدینے جیسی ریاست میں بچوں کہ ساتھ محفوظ رہوں گی، جہاں میری آزادی کبھی داغ دار نہ ہوگی،

Read more

ترا باپ بھی دے گا آزادی

سانحہ موٹروے ہواجس کے بعد دل واقعی دکھی ہے اور اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے ’کم ہے۔ پاکستان میں جس تیزی کے ساتھ ایسے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں اور پوری دنیا میں پورنو گرافی میں پاکستان جس طرح نمایاں پوزیشن میں آ رہا ہے‘ واقعی ایک غور طلب بات ہے۔ مجھے اس واقعے کے پس منظر اور اس کی جزیات پہ بات اس لیے بھی نہیں کرنی کہ اس پر بہت تفصیل سے لکھا اور دکھایا

Read more

موٹروے سانحہ اور ورلڈ کرائم انڈیکس میں ہمارے شہر

یہ کہنا کہ جہاں انسان بستے ہیں وہاں کوئی جرم نہیں ہو گا، حقائق کے خلاف ہے اور انسانی فطرت کے بھی۔ قتل جیسے جرم کی داستاں ہم تخلیق آدم کے ساتھ ہی سنتے ہیں جب آدم ؑ کے فرزند قابیل نے اپنے بھائی کو قتل کر ڈالا۔ سو لاکھوں برسوں پر محیط انسان کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ کسی بھی انسانی معاشرے کو مکمل طور پرجرائم سے پاک نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر

Read more

تحریک انصاف حکومت کے سربراہ کا ناقص، غیرذمہ دار اور تشدد پسند نظریہ انصاف

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ریپ اور جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کی تجویز دی ہے۔ خبروں کے مطابق حکومت اس حوالے سے ایک مسودہ قانون لانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔ اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) اس سے پہلے ہی قومی اسمبلی میں ریپ کے مجرموں کو سزائے موت دینے کی تجویز پیش کرچکی ہے۔ آج ایک ٹی وی انٹرویو میں عمران خان کا جنسی مجرموں کے بارے میں کہنا

Read more

زندگی کی تذلیل کا ایک اور دلخراش واقعہ

گوجرانوالہ کی رہائشی خاتون کے ساتھ درندگی کا جو انسانیت سوز اور دل سوز واقعہ پیش آیا ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، نہ ہی یہ پہلا واقعہ تھا اور نہ ہی ایسے آثار نظر آ رہے ہیں کہ یہ آخری واقعہ ہوگا (ہماری دعا ہے کہ یہ واقعہ آخری ہو، اس کے بعد ایسا دلخراش واقعہ کسی کے ساتھ بھی پیش نہ آئے) ۔ لوگ مجرموں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں،

Read more

عثمان بزدار درندوں کے تعاقب میں

لاہور سیالکوٹ موٹروے پر 9 اور 10 ستمبر کی درمیانی شب انتہائی دلخراش واقعہ رونما ہوا، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس واقعہ پر ہر پاکستانی خواہ وہ مرد ہو یا عورت سب کی ہمدردیاں گینگ ریپ کا شکار ہونے والی خاتون کے ساتھ ہے جبکہ ہر کوئی یہ بھی مطالبہ کر رہا ہے کہ واقعہ میں ملوث، لزمان کوجلد گرفتار کرکے قرارواقعی سزا دی جائے۔ اس واقعہ پر اگر خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے

Read more

اٹلی کا پبلک پراسیکیوٹر اور پاکستان کا پولیس افسر

کھانے کے بعد لطیفوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ چودھری صاحب نے اپنی مونچھوں کو بل دیا اور کہنے لگے میں بھی ایک سچا واقعہ سناتا ہوں۔ پنڈ میں ویاہ تھا۔ لڑکوں کی خواہش تھی کہ ناچنے والیاں لائی جائیں۔ میں شہر گیا، ایک کنجر سے بات کی۔جب میں نے اسے کہا کہ وقت پر آجانا تو کنجر نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگا چودھری صاحب ہم زبان کے پکے عزت دار لوگ ہیں، وقت پر پہنچ جائیں

Read more