اگر پارلیمان اور عدلیہ آزاد نہیں تو میڈیا کیسے آزاد ہو گا؟ حامد میر

(انٹرویو: مبشر علی زیدی، وائس آف امریکہ) وائس آف امریکہ نے گزشتہ سال پاکستان میں آزادی صحافت کے موضوع پر انٹرویوز کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ سینئر صحافیوں نے بتایا کہ ملک میں سینسرشپ جیسی صورت حال ہے جب کہ کئی تجزیہ کاروں نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا تھا۔ موجودہ حکومت کا ایک سال مکمل ہونے والا ہے۔ اس موقع پر سیاست اور معیشت کے ساتھ صحافت کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔ وائس آف امریکہ ایک

Read more

بھارتی اداکارہ ریکھا نے ماضی میں جنسی استحصال کی کہانی لکھ دی

بھارت کی لیجنڈ اداکارہ ریکھا نے اپنی سوانح عمری میں انکشاف کیا ہے کہ انہیں اپنے کیرئر کی ابتدا میں جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ پیشہ ورانہ امور کے دوران اس زیادتی پر کسی نے ان کے حق میں آواز نہیں اٹھائی۔ یہ معاملہ ریکھا نے یاسر عثمان کی تصنیف کردہ سوانح عمری میں تکلیف دہ تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ یہ کتاب گزشتہ ماہ شائع ہوئی ہے۔ ریکھا نے بتایا ہے

Read more

حساس اداروں کے نام: ایک درخواست

فوج ہر ملک کا ایک قیمتی اثاثہ اور اس کی آزادی کی محافظ ہوتی ہے۔ فوج کی اہمیت سے انکار تو کوئی احمق ہی کرے گا لیکن اسے باقی معاشرے سے بلند اور تنقید سے بالا سمجھنا نو آبادیاتی سوچ ہے۔ امریکی فوج کو دنیا کی طاقتور ترین فوج خیال کیا جاتا ہے لیکن اس پر ہونے والی تنقید میں ایک بہت بڑی تعداد خود امریکی مفکرین کی ہے۔ ویتنام میں امریکی فوج کی  چیرہ دستیوں پر امریکہ ہی میں

Read more

میڈیا قاعدے قرینوں سے ماوراء کیوں

موجودہ دور میں میڈیا کا کردار جہاں مثبت ہے وہی اس نے معاشرے پر کئی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ آئیے آج جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ میڈیا کس کس طرح قانون اور اخلاقی حدود و قیود کو توڑتا ہے۔
1۔ ہتک عزت
ہمارے ہاں خبروں اور رپورٹ و پیکجز، کالم اور تحاریر میں کسی کے بارے میں توہین آمیز الفاظ لکھنے میں کسی قسم کی کوئی احتیاط نہیں برتی جاتی ہے۔ موجودہ دور میں لوگوں کو بدنام کرنے کا نام صحافت بن گیا ہے۔ خبروں میں خبر کم جذبات، ذاتی رائے، افواہ اور سنسنی زیادہ ہوتی ہے۔ خبر افواہ جذبات اور رائے سے ماوراء ہوتی ہے۔ کسی کو بھی چور، ڈکیت خبر میں یا رپورٹ میں لکھنے پر اگلہ یہ قانونی حق رکھتا ہے کہ وہ آپ کو لیگل نوٹس بھیج کر ہتک عزت کا دعویٰ کرے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایسا ہوگا چونکہ بین الاقوامی میڈیا میں قانون پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔

Read more

’میڈیا مخالف سوشل میڈیا مہم کے پیچھے سیاسی مقاصد ہیں‘

  پاکستانی ٹوئیٹر پر ایک آج سارا دن ’بائی کاٹ نیگیٹو میڈیا‘ یعنی منفی میڈیا کا بائی کاٹ کیا جائے ٹرینڈ کرتا رہا۔ اس ٹرینڈ میں سوشل میڈیا صارفین پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ ٹرینڈ شروع کرنے میں سوشل بلاگر فرحان ورک آگے آگے ہیں۔ انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان کا روائتی میڈیا بائی کاٹ کرنے کے قابل ہے۔ انہوں نے ایک تصویر بھی پوسٹ کی جس میں لکھا تھا کہ

Read more

سانحہ ساہیوال میں میڈیا نے مقتول خلیل کے بچوں کا نفسیاتی استحصال کیا

سانحہ ساہیوال کے بعد میڈیا میں بچوں کو لے کر کوریج پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سانحے کے فوری بعد میڈیا نے مقتول خلیل کے بچوں سے انٹرویو لئے اور پھر یہ سلسلہ چل پڑا یہاں تک کہ اے آر وائی نیوز چینل کے اینکر عارف بھٹی نے اپنے پروگرام میں مقتول خلیل کی ایک بیٹی سے سوالات کئے جن میں یہ سوالات بھی تھے کہ بچی سے پوچھا گیا کہ آپ کے ابو کہاں گئے ہیں، اور بچی کے کہنے پر کہ فوت ہو گئے ہیں اینکر نے پوچھا کہ کیسے فوت ہو گئے ہیں، کل تک تو وہ درست تھے۔

اس پروگرام کے بعد اس پر مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی بہت تنقید کی گئی۔

معروف اینکر اور تجزیہ نگار ضرار کھوڑو نے ہم سب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اصولاً تو میں اس بات کے مخالف ہوں کہ جو بچے ابھی اس سانحے سے گزر رہے ہیں ان سے میڈیا ایسے سوالات کرے۔ لیکن اگر شروع میں بچوں کے ایسے کلپ نہ آتے تو شاید یہ کیس ایکسپوز نہ ہوتا۔

Read more

جس کی لاٹھی، اُس کا میڈیا

جہاں ایک طرف نئے پاکستان میں تبدیلی کے گُن گائے جائے رہے ہیں۔ وہیں دوسری طرف سینکڑوں صحافیوں کو نئے پاکستان میں چینلز اور اخبارات سے فارغ کردیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سرکاری اشتہارات کی بندش یا کمی بتائی جاتی ہے۔

نئے پاکستان میں میڈیا کے ساتھ کیا جانے والا سلوک ایک ایسی تبدیلی کے اثرات دکھا رہا ہے۔ جس کے لئے کوشیشیں تو سالوں سے جاری تھیں۔ لیکن ان میں کامیابی نئے پاکستان میں ہوئی۔ جس میں وزیراعظم عمران خان کی حکومت پہلے 90 دنوں میں کوئی قابل قدر کامیابی حاصل کرنے میں تو ناکام رہی۔ لیکن اس عرصے میں حکومت نے میڈیا کو ایسی ”نتھ“ ڈالی کہ آزاد میڈیا پالتو کولہو کے بیل کی طرح ایک ہی سمت میں چکر پر چکر لگانا اپنا اوّلین فرض سمجھتا ہے۔

Read more

تھپڑ سے ڈر نہیں لگتا صاحب، اندیشوں سے لگتا ہے

دنیا بھر میں اکثر ہم ایوانوں میں پارلیمینٹیرینز کو ایک دوسرے سے جھگڑتے اور گتھم گتھا ہوتے دیکھتے ہیں، آخر حقیقی جمہوریت کا حصول آسان نہیں۔ پر کیا پاکستانی سیاست میں ہر دم بڑھتے عدم برداشت، غیر پارلیمانی زبان کا بے دریغ استعمال اور مخصوص افراد یا سیاسی جماعت کا خود کو دوسرے سے بہتر سمجھنے والی سوچ اور خود راستی کا رویہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت کے قیام میں مدد دے سکے گا؟ اگر جمہوری ثقافت کا قیام ایسے

Read more