دسمبر سنہ 2010 کے ابتدائی دنوں کی بات ہے جب ایک روز مجھے نیویارک میں لاہور سے سلیم نام کے ایک پرانے دوست کی ٹیلی فون کال موصول ہوئی۔ ان دنوں موبائل فون پر عموماً بیرون ممالک خصوصاً پاکستان سے آنے والی کالوں کے اصل نمبروں کی بجائے سکرین پر نامعلوم یا پرائیویٹ نمبر ظاہر ہوتے تھے۔ میرے دوست لاہور کے کسی پی سی او سے کال کر رہے تھے۔ ابتداء میں تو میں ان کی آواز سن کر ڈر گیا کہ خدانخواستہ کوئی بری خبر سنانے کے لیے انہوں نے مجھے کال نہ کی ہو۔
کیونکہ پچھلے دس سال کے دوران سلیم کی جانب سے مجھے امریکہ میں یہ پہلی کال تھی۔ سلیم سے میں نے گھبراہٹ میں پوچھا کہ ”سب خیریت تو ہے نا، اور تمہیں میرا نمبر کہاں سے ملا؟ اس پر وہ کہنے لگا کہ“ جی سب خیریت ہے، فکر والی کوئی بات نہیں۔ نمبر آپ کا میں نے آپ کے گھر سے حاصل کیا ہے۔ میں نے آپ کو ایک اچھی خبر سنانے اور کچھ معلومات لینے کے لیے فون کیا ہے۔ ”سلیم کے منہ سے یہ سن کر مجھے کچھ تسلی ہوئی۔
Read more