یکساں نصاب تعلیم اور زمینی حقائق

ہماری دھرتی تجربات کی ایک ایسی آماجگاہ ہے ہے جہاں پر ستر سال سے تجربات ہی چل رہے ہیں اور ہر تجربے کے پیچھے رجعت پسند قوتیں کار فرما نظر آتی ہیں جو بڑی چالاکی و عیاری سے ہر حکومت کا حصہ بن کر بڑی کامیابی سے مذہبی کارڈ کھیل کر اپنے مقاصد پورے کر لیتے ہیں اور یہی قوتیں حاکمان وقت کو عوام کے غیض و غضب سے بچانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ 26 سالہ جدوجہد

Read more

عورت کا ننگا بازو اور شلوار میں بھونچال

جنگ اخبار کا ایک صفحہ نظروں سے گزرا جس میں آٹھ سے دس خبریں عورت کے ساتھ جنسی زیادتی پر مشتمل تھیں، پڑھ کر کے رونگٹے کھڑے ہو گئے کہ یہ کس قسم کے معاشرے میں ہم پیدا ہو گئے ہیں؟ جہاں پر عورت کو سیکس مٹیریل سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی، جیسے سر کس کے لیے جانوروں کو سدھایا جاتا ہے بالکل اسی طرح معاشرے میں سروائیو کروانے کے لیے عورت کو بھی سدھایا جاتا ہے۔ اس کے

Read more

مولانا طارق جمیل صاحب، معاملہ اتنا سادہ نہیں

مولانا طارق جمیل اپنا ایک بہت بڑا حلقہ اثر رکھتے ہیں ان کے بیان کو سننے کے لیے لاکھوں لوگ چند گھنٹوں میں جمع ہو جاتے ہیں، شیریں زبانی اور افسانوی طرز تقریر کی وجہ سے لوگوں میں کافی مقبول ہیں، سلگتے موضوعات پر بات چیت کرنے سے اجتناب برتتے ہیں اور خود کو تبلیغ کے اصول و ضوابط میں مقید رکھنے پر ترجیح دیتے ہیں۔ حالانکہ عالم اور دانا لوگ اپنے عصر سے آگاہ ہوتے ہیں اور اپنی تقریر

Read more

ہم سب پر میرے سو بلاگ

ہم ایک جیل سماج کے قیدی ہیں جہاں پر بچپن سے ہی دماغی صلاحیتوں کو سکیڑنے کا آغاز کر دیا جاتا ہے، بچپن سے کی جانے والی یہ روایتی اسپون فیڈنگ زندگی کے ایک طویل عرصہ تک جان نہیں چھوڑتی اور زندگی کے انتہائی قیمتی ماہ و سال ”شعوری ٹچ سٹون“ کو چھونے کی جدوجہد کرنے میں ہی بیت جاتے ہیں اور جب شعوری دیوی مہربان ہوتی ہے تو اس وقت زندگی کا انتہائی کلائمیکس رخصت ہو چکا ہوتا ہے۔

Read more

پاکستانی مرد: حریم شاہ کی نظر میں

سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیا عورت انسان ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے کیونکہ عورت تخلیق نسل کا منبع ہے اور کائنات کے اندر انسانی چہکار اسی کے وجود کی بدولت ہے مگر پھر ایسا کیوں ہے کہ اسے آدھی انسان کا درجہ دیا جاتا ہے اور اس کے پیدا ہوتے ہی اسے باقاعدہ طور پر عورت ہونے کا احساس دلایا جاتا ہے اور اسے زندگی گزارنے کا ایک طے

Read more

انجینئر علی مرزا اور مفتی مسعود احمد آمنے سامنے

برصغیر کی مذہبی تاریخ میں برداشت، تحمل اور بردباری کا بہت زیادہ فقدان پایا جاتا ہے۔ تقسیم سے پہلے ہندوستان میں مختلف فرقوں کے درمیان مناظرے چلتے رہتے تھے پھر تقسیم کے بعد پاکستان میں بھی یہ مناظرہ بازی کچھ وقت پہلے بہت عروج پر رہی مگر اب کچھ رجحان کم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ آج کل دو وقت کی روٹی پوری کرنا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔

Read more

کیا مذہبی جنونیت خود کو کامل سمجھنے کی علت کا شکار بنا دیتی ہے؟

مذہبی ہونے میں میں کوئی قباحت نہیں البتہ ماحصل پر اترانا اور اپنے خیالات کو حتمی سچائی سمجھنا اور تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسرے مذاہب کے لوگوں کو حقارت کا نشانہ بنا کر تذلیل کرنے کا عمل انتہائی پست ذہنی کی عکاسی کرتا ہے۔ مذہب کے نام پر یورپ میں صدیوں خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی پوپ کے ایک اشارے پر لاکھوں لوگوں کو کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا تھا، صدیوں کے اس خونی کھیل نے یورپ کو ایک بات اچھے سے سمجھا دی کہ اگر ہم نے دنیا کی امامت کرنی ہے تو پھر ہمیں مذہب کو ریاستی معاملات سے سے الگ کرنا پڑے گا۔

Read more

اپنے بچوں کو مولوی کی پہنچ سے دور رکھیں

تقدس اور عقیدت انسان کو بلائنڈ فولڈ او ر اندھا پیروکار بنا دیتی ہے اور یہی عقیدت کی پٹی اسے بہت کچھ چھپانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ عقیدت کی آڑ میں صدیوں سے بہت سارے کھیل کھیلے جاتے رہے ہیں اور آج بھی یہ سلسلہ جاری و ساری ہے فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کا وجود نہیں تھا اور تقدس کا یہ کلچر بغیر کسی رکاوٹ کے سماج میں پنپتا رہا مگر آج ایسا

Read more

ایک سنجیدہ سوال اور احمد جاوید کا ایموشنل جواب

احمد جاوید کا شمار چند ایسے پڑھے لکھے لوگوں میں ہوتا ہے جو روحانی اور مذہبی گیٹ اپ کے باوجود کنویں کے مینڈک نہیں ہیں بلکہ ایک وسیع المطالعہ، سنجیدہ فکر اور مخلصانہ برتاؤ رکھنے والے انسان ہیں۔ انہوں نے مغربی فکر کا بھی سنجیدگی سے مطالعہ کیا ہے، ان کے نقطہ نظر کو سننے والوں کی ایک کثیر تعداد ہے اور اختلاف رکھنے والوں کا بھی وسیع حلقہ ہے۔ دنیائے ادب کے سکہ بند مصنفین کو پڑھنے کے باوجود ان کی فکری جڑیں مذہب کے ساتھ وابستہ ہیں، معاملہ فہمی اور چیزوں بڑی گہرائی سے دیکھنے اور سمجھنے کے باوجود بہت سی جگہوں پر ڈنڈی مار جاتے ہیں اور ایک روایتی مرشد اور مولوی کی طرح بعض موضوعات پر دفاعی پوزیشن پر چلے جاتے ہیں اور مشکل لفظیات کی مالا بن کر اصل موضوع کو گول کر جاتے ہیں۔

Read more

پرائیویٹ اساتذہ کا معاشی قتل عام

بدقسمتی سے ہم ایک ایسے سماج کا حصہ ہیں جہاں پر منصوبہ بندی نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور سماجی ڈھانچے کو مستقل بنیادوں پر قائم کرنے کی بجائے عارضی اور ڈنگ ٹپاو پالیسی کے تناظر میں چلانے پر ترجیح دی جاتی ہے، کڑے وقت میں کچھ قومیں نکھر جاتی ہیں اور کچھ بکھر جاتی ہیں وہی تہذیب یافتہ قومیں کہلاتی ہیں۔ یہ قومیں آزمائش کے دور کو بطور امتحان قبول کرتی ہیں اور اس مشکل وقت میں سے نکلنے کے لیے اپنی جی جان لگا دیتی ہیں۔

آپ کرونا پینڈیمک کو دیکھ لیجیے بہت سے ترقی یافتہ ممالک نے اس وبا کو کنٹرول کرنے میں کافی حد تک کامیابی حاصل کرلی ہے جبکہ دوسری طرف انڈیا اور پاکستان کو دیکھ لیجیے کہ کیسے اپنے لاپرواہی والے رویہ کی وجہ سے اس مہلک وبا کا شکار بن رہے ہیں، مذہبی رسومات کے حوالہ سے دونوں ممالک کی عوام ایک ہی صفحہ پر ہیں اور وہ کسی صورت میں بھی اپنی مذہبی رسومات ترک نہیں کر سکتے چاہے اس کے نتائج جیسے بھی برآمد ہوں اسی ہٹ دھرمی کی بدولت آج دونوں ممالک اس مہلک وبا کو یوں بھگت رہے ہیں۔

Read more

عامر لیاقت، مفتی عبدالقوی اور ایم ٹی جے

اپنے آپ کو مقبول اور اٹینشن آئیکون بنانا کوئی آسان کام نہیں ہوتا اور خود کو برانڈ اسٹیٹس دلانے کے لیے بہت سے اللے تللے کرنا پڑتے ہیں، اس کے لیے شعبدہ بازی اور چرب زبانی بہت ضروری ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ خود کو مقبول بنانے میں مذہبی شباہت یا مذہبی سند ایک پروٹیکٹو شیلڈ کا کام کرتی ہے اس مقدس حفاظتی حصار میں آپ کو بہت کچھ کہنے اور کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہوجاتی ہے اور آپ

Read more

کس نے سکھائے کافروں کو آداب انسانیت؟

کافروں کا صیغہ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ بطور مسلمان ہم خود کو انوکھی اور قابل فخر قوم سمجھتے ہیں۔ ہماری نظر میں ہمارے علاوہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا، چاہے کوئی مریخ پر زندگی کے اثرات ڈھونڈنے میں مصروف ہو یا انسانیت کو بلندی عطا کرنے کے لیے تگ و دو کر رہا ہو۔ ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم موجودہ دور میں ہر میدان میں پیچھے جا چکے ہیں اور جنہیں ہم کفار مخاطب کرتے ہیں، وہ ہمیں لتاڑ کر بہت آگے جا چکے ہیں اور لمحۂ موجود میں دنیا کی امامت کا فریضہ بھی سر انجام دے رہے ہیں مگر ہم ٹھہرے عظمت رفتہ کے قیدی اور اسی چھوٹے سے حصار میں بہت خوش و خرم طریقے سے کفار کی عطا کردہ ٹھاٹ باٹ کو بھرپور طریقے سے خوب انجوائے کر رہے ہیں۔

Read more

کیا سوچنا اور سوال کرنا گمراہی کی طرف لے جاتا ہے؟

یہ جملہ اکثر سننے میں آتا ہے ”نالج از پاور“ اس کا سادہ سا مفہوم ”علم ایک طاقت ہے“ بنتا ہے۔ بعض جملے سننے اور بولنے میں بہت اچھے لگتے ہیں مگر ان کی گہرائی تک پہنچنے کا انداز اور معیار ہر معاشرے کو منفرد بناتا ہے۔ علم طاقت اس وقت بنتا ہے جب شخصیت مضبوط اور توانا ہو۔ کھوکھلی شخصیت اس علمی معراج کو نہیں پا سکتی، اپنی نوجوان نسل کو اس معراج تک پہنچانے کے لیے ہر سوسائٹی

Read more

جب بات کہنا جرم ٹھہرے…

عالمی تناظر کے اس پس منظر میں ہم آج ایک ایسے کلچر کو فروغ دے رہے ہیں جس کی آج کی تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی دنیا کے منظر نامے پر کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ آج ہم عقل کے دور میں جی رہے ہیں۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے ایک بڑے خون خرابے نے انسان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا اور اسی سوچ بچار کے نتیجے میں صدیوں کے دشمن ایک دوسرے کے قریب

Read more

ہر سوچنے والا مشال خان ہے

سوچنا، غورو فکر کرنا اور کائناتی رازوں کو ڈی کوڈ کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی کیونکہ اس کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔ اس حقیقت کی تاریخ شاہد ہے کہ سوچنے والے اذہان کو کس قدر دربدر کیا گیا اور ان کی سوچ پر پہرے بٹھائے گئے اور بہت ساروں کو تو سوچنے کی قیمت اپنے خون سے بھی چکانا پڑی۔ یہ الم ناک سلسلہ آج بھی جاری ہے، آج بھی سوچنے والوں مختلف کفریہ القابات

Read more

کیا عورتیں دعوت گناہ دیتی ہیں؟

یہ ماڈرن قسم کے لوگ بڑے عجیب و غریب رویے کے مالک ہوتے ہیں ۔ اپنی بھرپور جوانی بڑے لش پش انداز سے گزارتے ہیں ، ایک پلے بوائے کی طرح زندگی کو انجوائے کرتے ہیں اور زندگی کے اس پڑاؤ میں وہ نان پریکٹسنگ قسم کے مذہبی ہوتے ہیں مگر جیسے ہی یہ لوگ بڑھاپے کی دہلیز کو چھوتے ہیں تو ایک جنونی قسم کے پریکٹسنگ مذہبی بن جاتے ہیں اور معاشرے کی اصلاح کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں

Read more

ہمارا بچپن، کہانیاں اور ’وِچولوں‘ کا کردار

ہر انسان کہانیوں کو پسند کرتا ہے کیونکہ یہ ہر ایک کی ابتدائی گھٹی کا اہم پیکج ہوتی ہیں، بچے کا ابتدائی سکول ماں کی گود ہوتی ہے ، وہیں سے ابتدائی اسکولنگ کا آغاز ہوتا ہے، بچپن سے پختہ عمر تک پہنچنے کی ماں چشم دید گواہ ہوتی ہے یہ سفر بریسٹ فیڈنگ سے شروع ہو کر مختلف مراحل سے گزرتا ہے اور زندگی کے ایک پڑاؤ میں جب بچہ بولنے اور چلنے پھرنے اور خود کھانے پینے کے

Read more

امر جلیل فتووں کی زد میں

چند دنوں سے تنگ نظری کی توپوں کا رخ سندھ کے نامور ادیب اور صوفی منش انسان امر جلیل کی طرف ہے، اعتراض ان کا ایک افسانہ بعنوان ”خدا گم ہو گیا ہے“ پر ہے۔ الزامات کی زد میں آنے کی وجہ سے اس افسانہ کو پڑھنے کا اتفاق ہوا مگر اس میں کوئی قابل اعتراض بات نظر نہیں آئی سوائے شعوری ارتقا کے، دانشور سماج کا آئینہ ہوتے ہیں اور ان کی یہ منشا ہوتی ہے کہ ان کے قارئین بھی آہستہ آہستہ شعوری بلندیاں چڑھیں تاکہ وہ بھی اس نظر سے کائنات کے رموز و اسرار کو پرکھیں جس سے پوری تصویر واضح ہو۔

Read more

عارضی دنیا، طارق جمیل کا صدارتی ایوارڈ اور مولوی عزیز کی صوفہ جلاؤ مہم

بچپن سے مولانا طارق جمیل کے بیانات سنتے آئے ہیں ، ان تقاریر میں وہ ایک بات متواتر کرتے رہتے ہیں کہ ”دنیا عارضی چیز ہے اس سے جی مت لگاؤ اور تمام بنیادی تقاضوں کو ترجیح دینے کی بجائے صرف اور صرف آخرت پر فوکس کرو تاکہ تم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو جاؤ“ ۔ ان کا یہ انداز فکر تقریباً ایک نسل میں جذب ہو چکا ہے اور ان کے اسی انداز گفتگو کی وجہ سے ہم

Read more

کیا کٹھ ملائیت حسِ لطافت کو ختم کر دیتی ہے؟

گزشتہ دنوں شادی کی ایک تقریب میں ایک ایسے ہی کریکٹر سے ملنے کا اتفاق ہوا، میں اپنے ایک دوست کی شادی میں مدعو تھا ، یہ تقریباً 6 بھائی ہیں جو اپنی زندگیاں اپنے طریقے سے گزار رہے ہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی کہ 5 بھائی تو شادی کو بھرپور طریقے سے سیلیبریٹ کر رہے تھے جبکہ ایک بھائی جو کہ باریش تھا وہ بالکل ہی الگ تھلگ ایک کونے میں دبکا بیٹھا تھا، میں نے اس کے ہاتھ میں تسبیح ضرور دیکھی مگر چہرے سے مسکراہٹ بالکل غائب تھی۔

Read more

عائشہ کا اپنے خدا سے شکوہ

شکوہ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جس میں بندہ بے خودی کی سی حالت کا شکار ہو جاتا ہے اور شکوہ کا مخاطب کوئی چھوٹی موٹی ہستی نہیں ہوتی بلکہ یہ شکوہ و شکایت کسی سر چشمہ طاقت ہستی کے حضور کھلے لفظوں میں پیش کیا جاتا ہے ۔ شاعر مشرق نے بھی ایک شکوہ بارگاہ ایزدی میں پیش کیا تھا پھر کچھ زمینی خداؤں کے ہاتھوں مجبور ہو کر جواب شکوہ لکھنا پڑا، کیونکہ شکوہ کی زبان بڑے

Read more

اسپون فیڈنگ کسے کہتے ہیں؟

یہ ایک ایسا عمل ہے جو اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب بچہ بہت چھوٹا ہوتا ہے اور اپنی مدد آپ کے تحت کچھ بھی کھانے پینے کے قابل نہیں ہوتا تو ماں بچے کو ابتدائی خواراک کا عادی بنانے کے لیے تھوڑی تھوڑی خوراک چمچ کے ذریعے بچے کے منہ میں ڈالتی ہے تاکہ بچہ ڈائٹ پراسس کا عادی ہو سکے اور ایسا کرنا بچے کی ذہنی اور جسمانی نشوونماکے لیے ضروری ہوتا ہے، بڑھتی عمر کے ساتھ

Read more

پڑھا لکھا جاہل کون ہوتا ہے؟

ہمارے ہاں تعلیم کا نقطۂ نظر بہت محدود ہے ۔ ہماری تعلیم کا محور صرف اور صرف سرکاری ملازمت کا حصول ہوتا ہے۔ جس دن سرکار کی کرسی مل جاتی ہے ، اسی دن تعلیمی پراسس کو گڈبائے کہہ کر ایک روبوٹک لائف کا آغاز ہو جاتا ہے۔ بنیادی وجہ ہمارا نظام تعلیم و امتحانات ہیں جو ایک طالب علم کی حقیقی صلاحیتوں کو واضح اور اجاگر کرنے میں ناکام رہتا ہے، اس روایتی تعلیمی پراسس میں وہی طلبا اچھے مارکس اور گریڈ حاصل کرتے ہیں جن میں رٹا لگانے کی صلاحیت ہوتی ہے ۔ جو اس صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں انہیں ”گدھا، کند ذہن اور نکھٹو“ اور اس کے علاوہ نہ جانے اور کتنے القابات سے نوازا جاتا ہے۔

Read more

انتہا پسند سوچ اور رابعہ بصری کا فلسفۂ انسانیت

ہم آج مذہبی انتہاپسندی کے دور میں جی رہے ہیں، مختلف مذہبی برانڈ والے لوگوں نے مختلف ناموں کے ساتھ اپنا اپنا مذہبی دائرہ قائم کیا ہوا ہے اور ان مخصوص دائروں میں صرف روایتی مذہبی لوگوں کی اجارہ داری ہے، غیر روایتی اذہان کے لیے ان مخصوص دائروں میں داخل ہونے کی بالکل گنجائش نہیں۔ یہ تسلسل ایک ایسے کلچر میں ڈھل چکا ہے جس میں سوال کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہے، جن مسلمان نوجوانوں کے ذہن میں

Read more

پاک ٹی ہاؤس کی رونق اور کتاب دوست زاہد ڈار چل بسے

پاک ٹی ہاؤس میں بیٹھ کر سینکڑوں طالبان علم کی راہنمائی کرنے والا اور ایک لیجنڈ ادبی انسائیکلو پیڈیا اور انسان دوست شخصیت زاہد ڈار چل بسے پڑھنا لکھنا اور زندگی کی پراسراریت پر غور و فکر کرنا ان کی ذات کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ ان کو جس کسی نے بھی دیکھا ان کے ہاتھ میں کتاب دیکھی، اس نے اپنی زندگی میں سوائے کتاب کے کچھ نہیں مانگا، ہزاروں ادبی شخصیات کی رفاقت اور وابستگی رکھنے والا یہ دانشور

Read more

محبت، سیکس اور شادی: ڈاکٹر خالد سہیل کا اپنے بھانجے کے نام خط

ہم ایک ایسے سماج میں رہتے ہیں جہاں پر زندگی کی حقیقتوں کو پرکھنے کے لیے تنگ نظری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور چیزوں کو گناہ و ثواب کے پیمانے پر پرکھا جاتا ہے۔ اس دائروی چلن کی وجہ سے زندگی کی لاتعداد حقیقتیں ہم سے پوشیدہ رہ جاتی ہیں، ہم حقائق سے کچھ دیر تک نظریں تو چرا سکتے ہیں مگر پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔ کچھ باتیں اور چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو کہ ہر انسان کی تربیت

Read more

کیا عورت محض جنسی مشین کا نام ہے؟

خواتین کا عالمی دن قریب قریب ہے۔ ایک بار پھر خواتین مختلف قسم کے پلے کارڈ اٹھا کر سڑکوں پر نظر آئیں گی، جن پر مختلف قسم کے نعرے درج ہوتے ہیں۔ ان میں دو نعرے خاص طور پر بہت مشہور ہوئے ”اپنا کھانا خود گرم کریں“ اور ”میرا جسم میری مرضی“ ان دو نعروں کی وجہ سے بہت کچھ کہا اور سنا گیا کہ ”خواتین اپنی حد کراس کر رہی ہیں اور فحاشی پھیلا رہی ہیں“ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خواتین کے اندر اتنا زیادہ غصہ اچانک سے کیسے پیدا ہو گیا؟

Read more

ایک بے یقین آدمی سے مکالمہ

انسانی سوچ میں اتار چڑھاؤ ایک معمول کی بات ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ساتھ انسانی سوچ میں پختگی آنا شروع ہو جاتی ہے اور طبعیت میں ایک ٹھہراؤ سا محسوس ہونے لگتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چالیس سال کی عمر تک انسانی سوچ پختگی کے نقطہ عروج پہ پہنچ جاتی ہے اور زندگی کی مبہم تصویر بالکل واضح ہو جاتی ہے، اسی واضح تصویر کی بنیاد پر آپ کی اگلی زندگی کا مائنڈ سیٹ تشکیل پا

Read more

عورت کے جسم کو فتح کرنے کے لیے ٹائمنگ بڑھانے کی فکر

ہمارے سماج کی عورت بیچاری بہت بے بس اور لا چار ہوتی ہے اسے اپنی ذات کو ایک فیصلہ کن مقام تک لے جانے کے لیے ہزاروں جتن کرنا پڑتے ہیں کیونکہ اسے اپنا کریکٹر سرٹیفیکیٹ معاشرے سے لینا ہوتا ہے اور اس کا سب سے فیصلہ کن امتحان شادی کی پہلی رات کو پہلے اپنے شوہر اور پھر سماج کے آگے سرخرو ہونے کا ہوتا ہے۔ پلنگ کے اوپر بچھی ہوئی سفید چادر پر پڑنے والے خون کے چھینٹے

Read more

نفسیات دان ڈاکٹر اظہر حسین کی خودکشی ایک معما

ہم ایک ایسے سماج میں رہتے ہیں جہاں پر ذہنی بیماریوں کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا، بظاہر ایک خوش و خرم نظر آنے والا انسان نجانے کتنی الجھنوں کا شکار ہوتا ہے اور یہی الجھنیں اس کی ذہنی صحت کا ستیا ناس کر دیتی ہیں جبکہ کڑوی حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کو ہنسانے والے اور دوسروں کی زندگیوں میں امید کا دیا جلانے والوں کی اپنی زندگی بہت ڈسٹرب ہوتی ہے اور وہ تنہائی میں بہت زیادہ دکھی ہو جاتے ہیں۔ وہ اوروں کو جینے کا قرینہ سکھانے کے لیے ایک آرٹیفیشل ”سمائلنگ پرسونا“ پہن کر مسیحائی کرتے رہتے ہیں لیکن دوسروں کی نظروں سے اوجھل تنہائی میں جی بھر کے روتے ہیں۔

Read more

فلسفہ وجودیت اور دانائی کی مختلف روایات

فلسفہ وجودیت انیسویں اور بیسویں صدی میں ظہور پذیر ہوا ، سب سے پہلے اس اصطلاح کو جسے existentialism کہتے ہیں فرینچ کیتھولک فلاسفر Gabriel Marcel نے 1940ء کے درمیان متعارف کروایا تھا ، اس کے بعد 1945ء میں بیسویں صدی کے ایک عظیم فرانسیسی فلاسفر ژاں پال چارلس سارتر نے اس اصطلاح کو عملی طور پرمتعارف کروایا اور پارس کے کلب مینٹی نیٹ ہال میں فلسفہ وجودیت پر ایک تفصیلی لیکچر بھی دیا تھا۔ فرانس کے اس عظیم فلسفی

Read more

کیا عقیدے کی عینک سے حقیقت کی کھوج ممکن ہے؟

روایتی فکر کا شروع سے ہی یہ المیہ رہا ہے کہ اس نے ہمیشہ جدید فکر کے راستے میں روڑے اٹکائے اور ہر نئی سوچ کو رد کر کے یہ روش اپنائی گئی کہ یہ کفریہ نظریات ہیں۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ علم و فضل ہم سے روٹھ گیا۔ آپس کے لڑائی جھگڑے اور دنگا فساد کی ہمیں بہت بھاری قیمت چکانا پڑی۔ پھر ہلاکو خان نے جو حشر کیا وہ تاریخ کے دامن میں درج ہے ۔ دریائے ٹائگرس کا پانی کتابوں کی سیاہی کی وجہ سے سیاہ ہو گیا تھا۔ صرف تیرہ دنوں میں یہ لشکر علم وہنر کے مرکز بغداد کا حلیہ بگاڑ کر چلا گیا اور المیہ یہ ہے کہ ہم آج تک تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ہمارا باہر نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

Read more

کیا سعادت حسن منٹو روایت شکن تھا؟

کچھ شاعر، دانشور اور ادیب روایات کے پجاری ہوتے ہیں اپنی ساری زندگی وہ اسی روایتی فریم آف مائنڈ میں مشغول رہ کر کچھ ادب تخلیق کر کے رخصت ہو جاتے ہیں۔ مگر کچھ دانشور اور ادیب روایتی سرکل آف لائف سے مطمئن نہیں ہوتے ایسے لوگ روایات کو چیلنج کرتے ہوئے جیتے ہیں اور ایک ایسا ادب تخلیق کر جاتے ہیں جو ان کے وقت کے لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتا اوروہ ان تصورات و ادب کو فضول

Read more

مولوی کون ہوتے ہیں اور کیسے بنتے ہیں؟

ان کا سکول وکالج کاتعلیمی ریکارڈ صفر ہوتا ہے۔ صرف یہ اپنی خوش الہانی اور سریلی آواز کی بنیاد پر دنوں میں مقبول ہو جاتے ہیں۔ ان مولویوں کا تعلق مختلف مکاتب فکر سے ہوتا ہے ، اپنی اپنی بساط و حیثیت کے مطابق یہ بڑی بڑی تنظیموں سے وابستہ ہو کر دنوں میں امیر ہو جاتے ہیں اور پھر پجیرو اور لینڈ کروزر میں گھومتے ہیں۔ یہ جلسے وغیرہ میں تقریر کرنے کا معاوضہ لاکھوں میں وصول کرتے ہیں اور بڑے بڑے اشتہارات میں ان کے نام کے ساتھ ”علامۃ العصر، فقیہہ عصر، غزالی دوراں اور خطیب شعلہ بیاں“ جیسے القابات لگنا شروع ہو جاتے ہیں اور یوں ان کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔ ان کے لہجے میں جو کرختگی اور غصہ ہوتا ہے ، وہ دراصل محرومیوں کا ہی شاخسانہ ہوتا ہے۔

Read more

ہمارے ماڈرن روحانی بابے

اس مضمون کو لکھنے کا محرک سعید ابراہیم کی ایک پوسٹ ہے جو گزشتہ دنوں میری نظر سے گزری جسے پڑھ کر میری سوچ کے کئی در کھل گئے ان کا فرمانا تھا کہ ”یہ جنہیں ہم پیرفقیر سمجھتے ہیں، یہ عمومی طورپرچٹے ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی فطری ذہانت کے بل پر لوگوں کی نفسیات سے کھیلنا سیکھ جاتے ہیں اور یوں با آسانی ان کی دولت پر بے فکری کی زندگی گزارتے

Read more

کیا بیٹی زحمت ہوتی ہے؟

کہا جاتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ بیٹیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے حلانکہ جہالت کا کسی دور سے تعلق نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک رضا کارانہ روش ہوتی ہے جسے قومیں اور لوگ اپنی کمزوریوں کی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں کیونکہ حقائق کوئی حسب نسب نہیں دیکھتے اوریہ تاریخ کے دامن میں ایک کڑوے سچ کے طور پر ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح کا ایک کڑوا سچ عورتوں کے وجود کے

Read more

ایک روایتی مذہبی آدمی سے مکالمہ

سوال: جو لوگ کلمہ پڑھے بغیر جنت و دوزخ کے لالچ و خوف سے ماورا ہو کر انسانی جانیں بچاتے ہیں اور اللہ کی مخلوق کو موذی بیماریوں سے بچانے کے لیے میڈیسن یا ویکسین وغیرہ دریافت کرتے ہیں ، ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: ان کی دریافت کی واہ واہ انہیں دنیا میں ایوارڈ کی صورت میں مل جاتی ہے مگر آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے بلکہ وہ جہنم کی آگ میں جلیں گے۔

سوال: کلمہ گو عبدالستار ایدھی کے بارے میں کیا خیال ہے؟

جواب: وہ نماز روزہ سے بہت دور تھا اور حرامی بچوں کا وارث بنتا تھا ، اس لیے وہ صرف نام کا مسلمان تھا اور اس کا انجام بھی کوئی اچھا نہیں ہو گا۔

Read more

پردہ بکارت پر ٹکی ہوئی ناموس

گزشتہ دنوں ایک باریش نوجوان کو عورت کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے سنا موصوف کا کہنا تھا کہ ”میں نے اپنے والدین سے کہا ہے کہ مجھے بچی زیرو میٹر اور اَن ٹچ چاہیے“ تھوڑا کریدنے پر پتہ چلا کہ موصوف پر ایک چھوٹی بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام رہا ہے اور کچھ لے دے کر اس مقدمہ سے مشکل سے جان بچائی ہے۔

Read more

وزیراعظم صاحب: اب آپ کی حکومت کا اخلاقی جواز کہاں ہے؟

گزشتہ سال نیوزی لینڈ میں ایک المناک حادثہ پیش آیا تھا جس میں ایک مسجد پر حملہ کی صورت میں اکیاون 51 مسلمان بھائی مارے گئے تھے۔ اس حادثہ کے فوری بعد نیوزی لینڈ کی پرائم منسٹر جائے حادثہ پر خود پہنچی اور لواحقین کو گلے لگا کر ان کو حوصلہ دینے کے ساتھ ساتھ وہ اس عزم کا اظہار کر رہی تھیں کہ ”we are united“ میں دکھ کی گھڑی میں آپ کے ساتھ ہوں اور جو ہمیں تقسیم

Read more

مشرقی روایات کی قیدی عائشہ کی المناک کہانی

والدین نے کہا کہ بیٹی رشتہ بہت اچھا ہے ، لڑکا انجینئر ہے اور ایسے رشتے بار بار نہیں ملتے۔ عائشہ نے بہت منت سماجت کی کہ مجھے مکمل ڈاکٹر بن لینے دیں پھر میں آپ کی مرضی سے شادی کرلوں گی مگر والدین نہ مانے اور تعلیم کو ادھورا چھوڑ کر عائشہ کی شادی کر دی گئی۔ کچھ عرصہ شادی پرسکون چلی مگر پھر شوہر نے عائشہ کو اپنا ادھورا خواب پورا کرنے کی اجازت نہ دے کر ہمیشہ کے لیے گھر میں قید رکھنے کا فیصلہ کیا اور وہ اکثر اوقات اس سے بدتمیزی کرتا اور مارتا پیٹتا تھا۔

Read more

انا کے خول میں بند حسن نثار

بچپن کی عمر بھی کیا رومانٹک ہوتی ہے ہر چمکنے والی چیز سونا دکھائی دینے لگتی ہے اس کچی عمر میں اتنی پختگی نہیں ہوتی کہ ہم چیزوں یا شخصیات کو گہرائی سے جان کر اپنا نقطہ نظر بنا سکیں۔ جب پختہ عمر میں قدم رکھتے ہیں تو ہماری زندگی کے بہت سے سرابوں کی حقیقت ہم پر واضح ہونے لگتی ہے اور خیالات کے عارضی محل کی بنیادیں ڈگمگانے لگتی ہیں۔ شعور کی آنکھ پوری طرح کھلنے پر پتہ

Read more

نسٹ کے ایک سٹوڈنٹ کا سوال اور انجنیئر محمد علی مرزا کی پیش گوئی

"میں نسٹ کا اسٹوڈنٹ ہوں اور میں نے وہاں یہ چیز بہت محسوس کی ہے کہ کافی لوگ دین سے دور ہٹتے جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ جو مجھے محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں کو دعوت ٹھیک طور پر نہیں دی جاتی، اکثر ہمارے ہوسٹل میں جب تبلیغی جماعت والے آتے ہیں تو بہت کم لوگ ان کی بات سنتے ہیں۔ جب ہمارے نوجوان دین بیزار ہو رہے ہوں اور دعوت بھی جو تبلیغ کے ذریعہ

Read more

کیا سیکس کے لیے پر سکون ماحول ضروری ہے؟

سیکس ایک ایسا عمل ہے جو دو بالغ افراد کے درمیان باہمی رضا مندی سے ہوتا ہے۔۔ چاہے یہ عمل تخلیق کے لیے ہو یا جنسی سکون کے لیے ہو مگر یہ عمل ہر انسان کی فطرت کا خاصہ ہے اور اس سے فرار ممکن نہیں۔ مغربی سماج کے برعکس مشرقی سماج میں اس عمل پر گفتگو کرنا بے ادبی اور بدتہذیبی تصور کیا جاتا ہے اور اس عمل کو شادی کے ساتھ نتھی کر دیا جاتا ہے۔ وقتی طور

Read more

مولانا طارق جمیل، کرونا اور زمینی حقائق

کرونا وائرس کی دوسری لہر نے جہاں پوری دنیا کو بری طرح سے متاثر کیا ہے وہیں اس مہلک وبا کی لپیٹ میں طارق جمیل بھی آ گئے اور گزشتہ دنوں انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔ صحت یابی کے بعد انہوں نے اپنے آفیشل یوٹیوب اکاؤ نٹ پر ایک ویڈیو اپلوڈ کی جس میں انہوں نے عوام کو کرونا وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات اختیار کرنے پر زور دیا ان کا کہنا تھا کہ ”کرونا کی پہلی

Read more

پہنچی ہوئی سرکار اور سینہ بہ سینہ علم کا معما

بچپن سے چند جملے سنتے آئے ہیں کہ ”فلاں بندہ پہنچی ہوئی سرکار ہے اور اس کو پراسرار قسم کے علم کا بہت زیادہ گیان ہے اس کے علاوہ وہ غیب کی باتیں بھی بتا سکتا ہے وغیرہ وغیرہ“ جب ہم زبان زد عام قسم کے ایسے بندے کو غور سے دیکھتے ہیں تو صورت حال یکسر نظر آتی ہے۔ وہ ایک ننگ دھڑنگ قسم کا عام سا بندہ ہوتا ہے اور اسے خود کی خبر نہیں ہوتی وہ دوسروں

Read more

امن کی تلاش کا ایک نیا سفر

کینیڈا ون ٹی وی پر امن و آشتی کے حوالہ سے ایک علمی پروگرام ”ان سرچ آف پیس“ ہر ہفتے نشر ہو رہا تھا جو گزشتہ دنوں 11 اقساط کے بعد اختتام پذیر ہو گیا اس پروگرام میں شریک گفتگو دو مشہور سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر کامران احمد اور ڈاکٹر خالد سہیل تھے۔ اس پروگرام کا فارمیٹ بہت ہی دلکش اور دلفریب تھا اور ایک اہم موضوع ”روحانیت“ جو کہ اپنی تہہ میں بہت سی جہتیں اور پرتیں لیے ہوئے ہے اور

Read more

پروفیسر ناؤم چامسکی کو ہماری حالت پر افسوس کیوں ہوتا ہے؟

امریکن اکیڈمک ناؤم چامسکی نے گزشتہ دنوں ایک لیکچر کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان ایڈوانس سائنٹیفک ریسرچ سے پیچھے ہٹ چکا ہے اور حقیقی معنوں میں سائنس پاکستان کے نظام تعلیم سے ہی غائب ہو چکی ہے“ آپ نے تو کمال ہی کر دیا اور اتنا بڑا انکشاف کر کے آپ کو کیا لگتا ہے کہ ہمارے ہوش و حواس اڑ جائیں گے؟ یہ آپ کی بہت بڑی غلط فہمی ہوگی۔ ہم تو ایسی لاڈلی مخلوق

Read more

معاشرتی قفس میں قید ایک آزاد پنچھی کی سچی کہانی

قید اور غلامی فقط دو چھوٹے چھوٹے لفظ ہیں مگر اپنے اندر ایک پوری تاریخ سموئے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں تصورات انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور کسی ان دیکھی قوت کا ان تصورات سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ انسان بڑی چالاک مخلوق ہے اپنی تصوراتی سلطنت اور جاہ و جلال کو برقرار رکھنے کے لیے ہر وہ کہانی بنتا ہے جو اسے اقتدار کی مچان تک پہنچا دے اور اس کہانی کا سرا وہ ایک ان دیکھی اور

Read more

یقینی سے بے یقینی کا سفر اور زندگی کی یکسانیت

زندگی میں کوئی بھی چیز بلیک اینڈ وائٹ اور کلیئر اینڈ کرسٹل نہیں ہوتی بلکہ یہ بہت سارے گرے ایریاز پر مشتمل ہوتی ہے اور انہی گرے ایریاز کی باریکی کو جاننے اور سمجھنے کا عمل دانائی کہلاتا ہے۔ دانائی کا سفر وسعت نظرو فکر اور قلب کا متقاضی ہوتا ہے کیونکہ دانائی کا سفر زندگی کی حقیقتوں میں سے ایک ایسے جوہر کو کشید کرنے کا نام ہے جس کے ذریعے سے زندگی کی پراسرار تہہ میں اتر کر

Read more

کیا جبر کا ماحول شعور کا راستہ روک سکتا ہے؟

اس سوال کا جواب جب ہم تاریخ کے آنگھن میں اتر کر ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم پر یہ حقیقت کھلتی ہے کہ ہر دور میں شعور وآگہی کے پیامبروں کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر انہوں نے شعور کے علم کو بلند رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے آگہی کے اس تسلسل کو برقرار رکھا اور تاریخ کے انمٹ باب میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنا نام جلی حروف میں رقم کر دیا۔ سقراط کو دیا جانے والا زہر Hemlock تاریخ کے صفحات پر ”شعوری استعارہ“ کا درجہ اختیار کر گیا اور ”سلسلہ سقراطی“ کو امر کر گیا۔

Read more

پرائیویٹ اساتذہ کا وجود ہی مٹا ڈالئے

یہ ہمارے سماج کا وہ طبقہ ہے جو ”اپنی مدد آپ کے تحت“ کے اصول کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے نجی اسکول اور کوچنگ سینٹر چلاتے ہیں۔ یہ وہ سفید پوش طبقہ ہے جو حکومت اور سماج پر بوجھ بننے کی بجائے اپنے چھوٹے موٹے وسائل کے ساتھ ایک باعزت روزگار کمانے کی سعی کرتے ہوئے معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بے روزگاری کے اس طوفان میں یہ پرائیویٹ اساتذہ اپنے محدود وسائل کے ساتھ اپنا اور اپنے خاندان کی کفالت کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔

Read more

ایک درویش کرن کی کہانی

کرن ایک ایسے سماج میں پیدا ہوئی تھی جہاں پر ذہنی بیماریوں کو سیریس نہیں لیا جاتا بلکہ اسے معاشرتی طور پر ”ٹیبو“ سمجھا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو خدا کی رضا جان کر حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ ذہنی مریض پیشہ ور بھکاریوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور وہ ان کو ”سائیں بابا یا ملنگنی“ کا بہروپ بنا کر بھیک منگوانا شروع کر دیتے ہیں۔ کرن کی کہانی کچھ ذرا مختلف ہے۔ کرن جب پیدا ہوئی تو کافی دنوں تک اس نے وہ فزیکل ریسپانس نہیں دیا جیسا کہ عموماً نارمل بچے ڈلیوری کے بعد فزیکلی دینا شروع کر دیتے ہیں۔

جیسے جیسے اس کی عمر بڑھ رہی تھی ویسے اس کا ذہن گرو نہیں کر رہا تھا۔ وہ مسلسل خلا میں گھورتی رہتی اور عجیب و غریب حرکتیں کرتی تھی۔ بدقسمتی سے وہ ایک ایسے غریب اور پسماندہ گھر میں پیدا ہوئی تھی جہاں پر غربت نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ غریب والدین کو اس بات کا شعور ہی نہیں تھا کہ ان کی بیٹی ایک ذہنی مریضہ ہے۔ انہوں نے اسے آسمانی رضا جانا اور اس کے علاج کے لیے مختلف درگاہوں اور روحانی بابوں کے پاس لے جاتے رہے مگر جھاڑ پھونک سے بھی ننھی کرن کی ذہنی حالت ٹھیک نہ ہوئی۔

Read more

آپ تشکیکی رویہ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

انگریزی میں ایک لفظ ہوتا ہے جسے skepticism کہتے ہیں جس کا آسان مطلب ”ڈاؤٹنگ ایٹی ٹیوڈ“ بنتا ہے۔ یہ ایک ایسے رویے اور رجحان کا نام ہے جس میں ایک سوچنے والا بڑا دماغ کسی بھی قائم شدہ اور بڑے پیمانے پر تسلیم شدہ نظریات و اتھارٹی پر شک و شبہ کا اظہار کرتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی ڈکشنری میں ”فکس اتھارٹی“ کا لفظ ہی نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں یہ لوگ نطشے کے اس

Read more

آپ خاندانی منصوبہ بندی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

زندگی فطرت کا حسین تحفہ ہے اور یہ ہر ذی روح کو صرف ایک بار ہی ملتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس تحفہ کو بغیر کسی پلاننگ کے بس یونہی گزار دیا جاتا ہے۔ اندھی اوربہری ہیلن کیلر نے سچ ہی تو کہا تھا کہ ہم زندگی کو اتنی بھی اہمیت نہیں دیتے کہ کسی چیز کو دوبارہ پلٹ کر ہی دیکھ لیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ہم نے کچھ خاص مس کر دیا ہو۔ ہم

Read more

ابنارمل معاشرے کے شرمناک رویے

ترقی کی منزلوں کو چھونے کے لیے ہمیشہ آگے کی طرف دیکھنا پڑتا ہے نہ کہ پیچھے کی طرف۔ زندگی اور اس سے جڑے ہوئے مسائل اور حقیقتیں جامد و ساکت نہیں ہوتیں بلکہ بہتے ہوئے پانی کے تسلسل کی طرح ہوتی ہیں۔ معاشروں کے ترقی یافتہ ہونے کے سفر کے پیچھے بہت سی کاوشیں اور قربانیاں کارفرما ہوتی ہیں تب کہیں جا کر معاشروں کی تہذیب و تمدن اور سوچ میں وہ بلندیاں پروان چڑھتی ہیں جن پر بہت

Read more

آپ مشترکہ خاندانی نظام کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

انسان ایک معاشرتی حیوان ہے اور مل جل کر رہنا اس کی فطرت میں شامل ہے۔ ایک خاندان سے کئی خاندان بنتے ہیں اور انسانوں کا یہ تسلسل کروڑہا سالوں سے یونہی چلتا آ رہا ہے۔ روایتی معاشروں میں مشترکہ خاندانی نظام کا تصور پایا جاتا ہے۔ یہاں پر ایک ماں باپ کے چھے یا سات بچے شادیاں ہونے کے باوجود ایک ہی چھت کے تلے اپنی زندگیاں بسر کرتے ہیں اور باپ اس فیملی سسٹم کا مکمل کنٹرولر ہوتا

Read more

آپ سیکس اوراس سے جڑے ہوئے مسائل کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

سیکس تخلیق اور محبت کا ایک خوبصورت اظہار ہوتا ہے یہ ایک ایسا خوبصورت عمل ہے جو دو افراد کے درمیان مکمل رضامندی سے سیلیبریٹ ہوتا ہے۔ اگر اس تعلق میں زور زبردستی ہو تو پھر یہ عمل گھناؤنا، ظلم اور ریپ کہلاتا ہے۔ جس کی کسی بھی مہذب معاشرے میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ تعلق ایک خوبصورت تخلیق کی عکاسی کرتا ہے۔ بطور فرد چاہے عورت ہو یا مرد یہ اس کی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک

Read more

آپ محبت، رومانس اور شادی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

ریالٹی اور فینٹسی کے درمیان ایک باریک سی لائن ہوتی ہے اور اسی لائن کی حقیقت کو سمجھنے اور جاننے کا نام شعوری ادراک کہلاتا ہے۔ مشرقی معاشروں میں محبت کے بارے میں عجیب و غریب تصورات، اعتقادات اور متھ پائی جاتی ہیں اور یہ سب روایتی تصورات ہم نسل در نسل جذب کرتے آئے ہیں۔ ہمارے معاشروں میں محبت کو سیلیبریٹ نہیں کیا جاتا بلکہ محبت اور رومانس کا نام لینے پر ہی مختلف قسم کے القابات سے نواز

Read more

آپ انسانی رشتوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

انسان کا کسی بھی خاندان، ثقافت، مذہب اور ملک میں پیدا ہونا ایک حادثاتی عمل ہوتا ہے اس پراسس میں اس کی چوائس کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ اس حادثاتی عمل کے بعد بچپن سے بلوغت کا سفر بہت سارے مراحل سے گزرتا ہے۔ اس سفر میں وہ اپنے بہت سارے رشتے بناتا ہے اور ان رشتوں میں سب سے اہم رشتہ دوستی کا ہوتا ہے۔ انسانی رشتوں میں دوستی ایک سپورٹ سرکل کا درجہ رکھتی ہے۔ تحقیق یہ

Read more

میرے دیس کا بسکٹ گالا اور ہمارے فحاشی بابے

انگریزی کا ایک لفظ ہوتا ہے جسے obsession کہتے ہیں۔ یہ لفظ ایک ایسی ذہنی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے کہ جس میں کسی خیال کو ذہن پر طاری کر لیا جاتا ہے اور پھر وہ خیال ایسا ذہن میں راسخ ہوجاتا ہے کہ نکلنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ حقیقت میں یہ ایک ذہنی کیفیت بن جاتی ہے جو کہ بعد میں مینٹل ڈس آرڈر کا سبب بنتی ہے۔ یہ کیفیت ایسے معاشروں میں جنم لیتی ہے جہاں چوائسز

Read more

شعور و آگہی کا پیامبر: ڈاکٹر بلند اقبال

نیٹ ورکنگ اور گلوبلائزیشن کے اس دور میں بک ریڈنگ کا رجحان ماندسا پڑتا جا رہا ہے اور ای بک کلچر بڑی تیزی سے فروغ پا رہا ہے اس کی بنیادی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا ہے اور آج کا انسان اس تبدیلی سے فائدہ اٹھانے کی بھر پور کوشش کر رہا ہے اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے کیونکہ یہ انسانوں کا مشترکہ ورثہ ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ

Read more

جاوید دانش کی ٹیلی مووی ”بڑا شاعر چھوٹا آدمی“

انسان ایک بہت ہی کمپلیکس اور پراسرار چیز ہے۔ کبھی یہ اعلٰی اور ارفع بن کر آسمان کی بلندیوں کو چھونے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی بہت چھوٹا بن کر انسانی سطح سے بھی گر جاتا ہے۔ سب انسان اپنے اپنے معاشروں میں پروان چڑھتے ہیں اور انہی معاشروں کے جبر کا بھی شکار ہوتے ہیں۔ اپنی پسند کے ماحول و معاشرے میں آنکھ کھولنا انسان کے بس میں نہیں ہوتا اسی لیے انسانی زندگیوں پر ماحول کا بہت اثر پڑتا ہے۔ ایک بچے کے پیدا ہونے کے بعد اس کی ابتدائی کنڈیشننگ اس کے اپنے گھر سے شروع ہوجاتی ہے اور وہ بالغ ہونے تک اسی ابتدائی کنڈیشننگ میں فریم ہوجاتا ہے اس کے بعد پھر وہ سکول، کالج اور یونیورسٹی میں اپنی ابتدائی کنڈیشننگ بیگج کے ساتھ ہی اپنی شخصیت کو فریم کرتا چلا جاتا ہے اور پھر ایک دن وہی ابتدائی بیگج اس کی شخصیت کا خاصا بن جاتا ہے۔

ایسے لوگوں کو ہم روایت پسند یا روایتی کہتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو بچپن سے ہی سوال کرنے کی عادت ہوتی ہے وہ ایک طرح کے فریم آف لائف سے بوریت محسوس کرنے لگتے ہیں او ر زندگی کی یک رنگی سے اکتانے لگتے ہیں۔ کوئی بھی سکول، کالج اور یونیورسٹی کا ماحول ان کی تجسس و جستجو کو مسخ کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔ اس طرح کے لوگ غیر روایتی اور آزاد فکر کے مالک ہوتے ہیں اور اپنی آزاد پسند فطرت کی وجہ سے ایک بڑی چیلنجنگ لائف گزارتے ہیں۔

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کا ایک اور نیا علمی سفر

ڈاکٹر خالدسہیل کا ایک ٹی وی پروگرام ”ان سرچ آف پیس“ میری نظروں سے گزرا اور اس پروگرام نے گزشتہ سے پیوستہ ایک اور علمی پروگرام کی یاد تازہ کر دی جس کا نام ”ان سرچ آف وزڈم“ ہوا کرتا تھا۔ یہ پروگرام تقریباً 36 اقساط پر مشتمل تھا اور اپنی نوعیت کا ایک منفرد پروگرام ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں مقبول ہوا۔ اس علمی پروگرام کے روح روا ں ذہن کی الجھی ڈور کو کو سلجھانے والے

Read more

بڑے بڑے سابقے لاحقے میں چھپے ہوئے چھوٹے لوگ

1۔ کیا صاحبان علم کبھی جاہل ہوسکتے ہیں؟ 2۔ کیا بڑے مرتبوں میں چھپے لوگ بھی چھوٹے ہوسکتے ہیں؟ 3۔ کیا کوئی بڑافنکار بھی چھوٹا ہو سکتا ہے؟ 4۔ کیا کوئی بڑا شاعر بھی چھوٹا آدمی ہو سکتا ہے؟ میں ان سوالات کی کھوج میں اکثر رہتا تھا کیونکہ یہ بات انسانی فطرت میں شامل ہے کہ ہم بڑے لوگوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں اور ان کے ساتھ ایک جذباتی وابستگی کا بت فوراً ہی تراش لیتے ہیں۔

Read more

حمایت علی شاعر: ایک بیدار مغز اور عہدساز شخصیت

باشعور اور بیدار مغز لوگ کسی بھی سر زمین کا ایک قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بدولت معاشروں میں نئے سے نئے خیالات و تصورات کے تخلیقی سر چشمے رواں دواں رہتے ہیں اور ان سرچشموں سے بہت سارے علم و شعور کے طالب اپنی اپنی بساط کے مطابق سیراب ہوتے رہتے ہیں۔ یہ سلسلہ کروڑہا سالوں سے یونہی چلتا آ رہا ہے اور اسی طرح سے چلتا رہے گا کیونکہ تغیر اور ارتقاء ہی زندگی کا حسن

Read more

سچ کا علمبردار ”پرویز ہود بھائی“

ہمارے سماج کی بنت میں ایک باشعور اور باخبر ذہن کو خوش دلی سے قبول نہیں کیا جاتا کیونکہ ایسا ذہن صدیوں سے قائم شدہ سسٹم میں خرابی کا موجب بنتا ہے۔ اس قسم کا ذہن صدیوں سے قائم شدہ تصورات و نظریات کے اوپر سوال اٹھانے کی علت کا شکار ہوتا ہے۔ یہ ذہن جوابات کے پیچھے بھاگنے کی بجائے سوالات کرنا سکھاتا ہے۔ اس قسم کے اذہان معاشروں کی امامت کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ خوش قسمتی سے ہمارے سماج میں بھی ایک ایسا ذہن بستا ہے جس نے بوسیدہ اور گھسے پٹے نظریات کو تقدیسی مچانوں سے نیچے اتار کر ان پر بڑے بڑے سوالات کھڑے کیے ہیں۔

علم و شعور کے اس نقارچی کا نام ”پرویز ہود بھائی“ ہے۔ جس نے ہماری نوجوان نسل کو ایک الگ ڈھنگ سے سوچنا سکھایا ہے۔ انہوں نے تنقیدی فکر و شعور کے کلچر کو بڑی جرا ت اور بہادری کے ساتھ ہماری نوجوان نسل میں پروان چڑھایا ہے۔ ہود بھائی نے آج کی باصلاحیت نسل کو یہ شعور دیا ہے کہ آدھے سچ بہت خطرناک ہوتے ہیں اور پورے سچ تک رسائی اور جاننا ہر ایک کا حق ہے۔ اس پورے سچ تک رسائی کے لیے ہمیں ”یس مین“ کلچر کو دیس نکالا دینا ہو گا۔

Read more

کیا بڑی سچائیوں کا آغاز سوال اٹھانے سے ہوتا ہے؟

انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ روایتی سچائیوں اور اتھارٹیز کو ہر دور میں کڑے اور سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ یہ ارتقائی عمل کا ایک لازمی حصہ ہوتا ہے، جب کسی تہذیب میں روایات کی شاہراہ طویل ہو جاتی ہے اور ایک طرح سے جمود کی سی کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے تو کچھ غیرروایتی لوگ جوکہ اقلیت میں ہوتے ہیں وہ روایات کی اس طویل شاہراہ کے آگے ایک نئی سوچ اور فکر

Read more

ایک کٹر مذہبی مشرقی باپ کی کہانی

ہمارے سماج میں رنگ برنگے پرندوں کو پنجروں میں ڈال کر ان کی رنگ برنگ خوبصورتیوں کو انجوائے کیا جاتا ہے کیونکہ ہمیں ہر قسم کی آزادی سے ڈر اور خوف محسوس ہوتا ہے۔ یہاں پر بچپن سے ہی انسانی ذہنوں کو مختلف قسم کے تقدیسی پنجروں میں قید کر لیا جاتا ہے۔ بچوں کو ایک ایسے بندھے بندھائے اور رٹے رٹائے تسلسل کا ایک ایسا ذہنی غلام بنا دیا جاتا ہے، جس سرکل سے وہ پوری زندگی باہر نہیں نکل پاتے اور پھر یہ سلسلہ نسل در نسل ایک ظالمانہ چکر کا روپ دھار لیتا ہے۔

بچوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کو روایتی اور گھسے پٹے جوابوں سے بہلانے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں مذہبی پٹی سے آگے بڑھ کر سوچنے کی بہت زیادہ ممانعت کی جاتی ہے۔ ہم اپنی نسلوں کو رنگ برنگی سوچوں کے سر چشموں سے سیراب ہونے کی آزادی نہیں دیتے کیونکہ ہمیں یہ ڈر ہوتا ہے کہ ہماری نسل بھی منصور، گلیلیو، سقراط اور چارلس ڈارون کی طرح آؤٹ آف دی باکس نہ چلی جائے اور روایتی حقائق کو ترک کے نئے حقائق کی تلاش کی لت میں مبتلا نہ ہو جائے، اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ اس مقدس شکنجے کی گرفت کو ڈھیلا کر دے گا جو کہ مختلف روایتی حربے استعمال کر کے ہمارے ذہنوں کے گرد کسا جاتا ہے۔

میں آج آپ کو ایک ایسے ہی کٹر مذہبی باپ کی سچی کہانی شیئر کرنا چاہوں گا۔ اس باپ کا نام عبدالقیوم ہے اور

Read more

ایک مشرقی عورت کے وفا کی سچی کہانی

ہم مجموعی طور پر جس سماج میں بستے ہیں وہاں رشتے اپنی مرضی و خواہش سے بنانے اور نبھانے کے لیے تشکیل نہیں دیے جاتے بلکہ معاشرتی رسوم و رواج کو مذہب کے مقدس لبادے میں لپیٹ کر سسکنے اور کراہنے کے لیے چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ منافقت اور تقدس کے خول میں لپٹے یہ جبر کے رشتے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی حقیقی معنویت کو کھو دیتے ہیں اور ایک ایسے سسٹم میں ڈھل جاتے ہیں کہ جہاں پر ان رشتوں کو نیم دلی یا جبر کی وجہ سے گھسیٹا جاتا ہے۔

یہ بے جوڑ اور زبردستی کے رشتے بے بسی اور لا چارگی کی ایک ایسی تصویر بن جاتے ہیں جس کا سارا خمیازہ ایک مشرقی عورت کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ہمارے سماج میں شادیوں کا مطلب ایک مذہبی فریضہ ادا کرنے کے علاوہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ان شادیوں کا مطلب دو جیتے جاگتے باشعور لوگوں کا آزادانہ فیصلہ اور ملاپ نہیں ہوتا بلکہ ایک معاشرتی جبر ہوتا ہے، جس جبر کی قیمت پوری کی پوری ایک عورت کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ گھر اور سماج سے نیاز مندی، تابعداری اور فرمانبرداری کے بھاشنوں کے درمیان پروان چڑھنے والی یہ بے بس عورت جس کو والدین یہ تنبیہ کر کے اپنے گھر سے رخصت کرتے ہیں کہ ”اب یہ گھر تمہارا نہیں رہا اور اب صرف تمہاری لاش ہی اس گھر میں واپس آسکتی ہے“ غور طلب بات یہ ہے کہ ان ظالمانہ جملوں کی سماعت کے بعد وہ اپنی زندگی کا آغاز کرتی ہے۔

Read more

کیا ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کا اظہار کرنا کفریہ رویہ ہے؟

ہم بنیادی طور پر ایک ایسے بند سماج کا حصہ ہیں جہاں پر خود سے سوچنا اور سوال اٹھانے کے عمل کو ”کفریہ باتوں“ میں شمار کیا جاتا ہے، جوابات کی بجائے سوالوں کو کھوجنے اور پوچھنے والے لوگوں کو ”زیادہ پڑھا لکھا پاگل، کیمیونیسٹ، دہریہ اور ملحد“ کا ٹیگ لگا کر اس کی آواز کو دبانے کامقدس فریضہ ادا کیا جاتا ہے۔ یہ انسانی تاریخ کا ایک کربناک المیہ ہے کہ ہر دور کے سقراط اور منصور کے ساتھ

Read more

موب مینٹیلٹی یاہجومی نفسیات کیا ہوتی ہے؟

ہم ایک ایسے سماج کا حصہ ہیں جہاں پر گروہی چلن بہت زیادہ ہے، خیالات و تصورات پر غوروفکر کرنے کی بجائے شخصیت پرستی کو عین ایمان تسلیم کیا جاتا ہے۔ سوچنے اور غوروفکر کرنے والے شخص کو ذہنی مریض جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔ سوچنا ایک ایسی بیماری کا نام ہے کہ جس کو بھی اس کی لت پڑ جاتی ہے وہ ایمان و یقین اور سنی سنائی باتوں کے تنگ دائرہ سے نکل کر تحقیق و جستجوکے

Read more

حقائق کی دنیا بہت تلخ ہوتی ہے

انسانی شعور وبالیدگی کے ارتقائی سفر کے تسلسل کے دوران ایک وقت ایسا بھی تھا جب آسمانی سچ کو اولین حیثیت حاصل تھی اور مذہبی پیشواؤں کی باتوں پر آنکھ بند کر کے بھروسا کیا جاتا تھا۔ علمی ذرائع بہت ہی محدود تھے اور تحصیل علم کے ان وسائل پر بھی ایک طرح سے مذہبی کلاس کی اجارہ داری تھی۔ یہ مذہبی طبقہ ریاست کے معاملات میں بھی بھرپور طریقے سے دخل اندازی کرتا تھا اور ریاست کے ہر مضبوط

Read more

کیا الحاد یا تشکیک ابنارمل رویوں کا نام ہے؟

تحقیق و جستجو کی دنیا ایمان و یقین کی دنیا سے بالکل ہی مختلف ہو تی ہے اور کثیر الجہتی کا یہ جہان ایک جہان دیدہ اور صاحب بصیرت طالب کو بہت زیادہ بے چین و بے قرار کیے رکھتا ہے۔ اس قسم کی فکر رکھنے والے لوگ Belief system سے بہت آگے نکل جاتے ہیں اور مسلسل نئے سے نئے جہان کو کھوجنے کی ایک ایسی علت اور عادت کا شکار ہو جاتے ہیں جسے ہم ”جاننے کا نشہ“

Read more

ڈاکٹر بلند اقبال ”ٹوٹی ہوئی دیوار“ میں کیا پیغام دینا چاہتے ہیں

ڈاکٹر بلند اقبال کثیر الجہت صلاحیتوں کے مالک ہیں، چیزوں کو دیکھنے اور سمجھنے کا ایک منفرد انداز رکھتے ہیں اور ان کا یہی منفرد پن ان کی تحریروں اور باتوں میں بھی نظر آتا ہے۔ پیشے کے اعتبار سے ایک کامیاب اور قابل ڈاکٹر ہیں مگر ادب، شاعری، لکھنا اور سوچنا ان کا اوڑھنا بچھونا ہے کیونکہ آپ ہندوستان اور پاکستان کے نامی گرامی شاعر اور ادیب حمایت علی شاعر کے بیٹے ہیں۔ جیسے انگریزی میں کہا جاتا ہے

Read more

”ہم سب“ پر ڈاکٹر خالد سہیل کے 300 محبت نامے

دنیا میں ان گنت ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو بے شمار کتابیں پڑھنے کے باوجود علم، دانائی اور حکمت سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ ان کی علمی چھان پھٹک انہیں حقیقت کی شناسائی سے بہت دور لے جاتی ہے اور وہ ساری عمر انتشار خیالات کا شکار رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا علمی ماحصل چند دعووں تک محدود ہو جاتا ہے اور وہ اپنی فکر میں نرگسیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کچھ علم و حکمت کے متلاشی ایسے

Read more

مشعال خان: علم اور شعور کا استعارہ

اگر ہم تاریخی پس منظر کا جائزہ لیں تو تاریخ انسانی ایسے باصلاحیت اذہان سے بھری پڑی ہے جنہوں نے سچ، دانائی اور شعور کا عَلم ہمیشہ تھامے رکھا اور اپنے اندر کے پختہ سچ کا ببانگ دُہل اظہار کیا۔ اس کے بدلے میں ایسے لوگوں کو اپنے سچ کی بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑی مگر انہوں نے اپنے سچ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور آنے والے لوگوں کے لیے نئے آدرشوں اور بصیرتوں کے در وا کیے

Read more

خود کو جاننے کا ایک موقع

اندھی اور بہری ہیلن کیلر جو کہ بصارت سے محروم تھی مگر بصیرت سے مالا مال تھی۔ وہ اپنے ایک خوبصورت مضمون بعنوان ”Three days to see“ میں زندگی کی حقیقت کو کچھ اس نظر سے دیکھتی ہے ”ہم میں سے اکثر لوگ زندگی کو ایک طے شدہ حقیقت کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ ایک دن لازمی مر جانا ہے لیکن ہمیں اس دن کا تصور بہت ہی دور مستقبل میں

Read more

وقت سب زخموں کا مرہم ہوتا ہے

وقت کی اپنے خیالی پیمانوں سے پیمائش ضرور کی جا سکتی ہے مگر بیتے لمحات کی کڑواہٹوں تکلیفوں اور پریشانیوں کو شمار کرنا ممکن نہیں۔ انسانی زندگی ایک عجب طرح کا کھیل ہے بعض لمحے زندگیوں میں ایک انقلاب کی سی کیفیت پیدا کرجاتے ہیں اور بعض کرب ناک موڑ اور لمحے انسانی زندگیوں کو جھنجھوڑکر رکھ دیتے ہیں۔ بعض دفعہ کچھ وقت کے لیے ایسا محسوس ہونے لگ پڑتا ہے کہ شاید اب کچھ بھی نہ بچے اور کائنات

Read more

کرونا وائرس کے تناظر میں ایٹمی پنڈتوں کے نام اہم پیغام

پوری دنیا کرونا وائرس کے بے رحم شکنجے کی پکڑمیں ہے انسانوں کی کثیر تعداداس مہلک وائرس کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار چکی ہے۔ انسانی تاریخ شاہد ہے کہ آج کے انسان کی موجودہ شکل کے پیچھے صدیوں پر مشتمل ایک بہت لمبی اور مشکل جدوجہد کارفرمارہی ہے۔ قوموں کی زندگیوں میں بڑی بڑی قدرتی آفتیں مثلاً قحط، خشک سالی اور طاعون کی صورت میں رونما ہوتی رہی ہیں اور اس کے نتیجے میں پوری کی پوری

Read more

ڈاکٹر بلند اقبال: میرے آئینے میں

کچھ لوگ بہت ہی نارمل اور بوریت والی زندگی گزار کر اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں اورانسانی ورثہ میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں کرتے۔ مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی ذات میں ایک انجمن ہوتے ہیں اور اپنی ساری زندگی انسانیت کے نام وقف کر دیتے ہیں۔ میں آج آپ کو ایک ایسی ہی شخصیت سے متعارف کرواؤں گا۔ یہ شخصیت پیشے کے اعتبار سے ایک ڈاکٹر ہیں اور ایک بڑے علمی خانوادے سے تعلق

Read more

سچ کی تلاش کے دوسچے طالب

سچائی کو کھوجنا اور تراشنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا اس جوہر نایاب کو پانے کے لیے ہماری مختصر سی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ سچ اور دانائی کا سفر بہت ہی کٹھن اور دشوار گزار ہوتا ہے مگر کچھ لوگ اپنے حقیقی سچ کو پانے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دیتے ہیں۔ میں بھی ایسے دو درویشوں کو جانتا ہوں جنہوں نے اپنے خوابوں اور آدرشوں کو پورا کرنے کے لیے پوری زندگی تیاگ دی اور

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب ”دانائی کی تلاش میں“

اس خزینہ معرفت اور دانائی سے معّطر کتاب کا آغاز چند بنیادی فلسفیانہ سوالات سے ہوتا ہے۔ 1۔ سچ کیا ہے؟ 2۔ دانائی کس کو کہتے ہیں؟ 3۔ ساری دنیا کے انسان اتنے دکھی کیوں ہیں؟ 4۔ انسان اپنے دکھوں کو سکھوں میں کیسے بدل سکتے ہیں؟ 5۔ انسان اس کرّہ ارض کو ایک پُرامن معاشرے میں کیسے تبدیل کر سکتے ہیں؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کا یہ کتاب احاطہ کرتی ہے۔ یہ وہ سوال ہیں جن کے

Read more

شک کا کیڑا

شعور و آگہی کی دنیا بالکل ہی الگ قسم کی ہوتی ہے یہ ایک ایسا روحانی سفر ہوتا ہے جو انسان کے اندر سے شروع ہوتا ہے اور یہ بہت زیادہ ریاضت کا متقاضی ہوتا ہے۔ پہلے وقتوں میں نروانہ حاصل کرنے کے لیے شعور و آگہی کے طالب جنگلوں اور پہاڑوں کا رخ کیا کرتے تھے تاکہ اپنی ذات کی تہہ میں اتر کر زندگی کا صحیح گیان حاصل کر سکیں۔ یہ بہت ہی صبر آزما ئی کا کام

Read more

تعلیمی اداروں کی شوبازیاں

ایک دن گورنمنٹ ڈگری کالج کے طلباء پریشانی کے عالم میں میرے پاس آئے اور کالج کے حوالہ سے ایک دردناک کہانی سنائی۔ اس کہانی کو سن کر مجھے محسوس ہوا کہ اس پر لکھا جائے۔ بچوں کا موقف تھا کہ ہم نے کالج میں ایڈمیشن لیا تھا اور کالج میں فائل جمع کروانے کے ساتھ ہی ہم نے اپنی سالانہ فیس ادا کی اور باقاعدہ طور پر کالج کا اسٹوڈنٹ تسلیم کرتے ہوئے رول نمبرز بھی الاٹ کر دیے

Read more

فکری بونوں کا دیس

اکیسویں صدی جو کہ علم و ہنر کے لحاظ سے ایک بالغ صدی ہے اور آج علم کا حصول کلک بٹن کے فاصلے پر ہے۔ چند سیکنڈ میں ہم دنیا بھر کی معلومات اپنے کمپیوٹر سکرین یا اپنے موبائل فون کی چھوٹی سی سکرین پر دیکھ سکتے ہیں۔ ان سب نعمتوں کے باوجود ہم ایک ایسے سماج کا حصہ ہیں کہ جہاں پر ایک فکس مائنڈسیٹ پیدا کرنے کے لیے بچپن میں اپنے گھر سے لے کر سکولز، کالجز اور

Read more

کیا علم اور شعور ڈگریوں کا محتاج ہوتا ہے

ہم ایک ایسے سماج کا حصہ ہیں کہ جہاں پر یہ بات گولڈن اصول کا در جہ اختیار کر چکی ہے کہ کتابوں میں لکھا ہوا حرف بہ حرف ٹھیک ہوتا ہے اور اس میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس اصول کو شعوری درجہ دینے والے بھی ہمارے ہی سماج کا حصہ ہیں یہ لوگ کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے سکول کالجز اور یونیورسٹی معمارانِ نوجوان ہیں جنہیں ہم تقدس کی شال میں لپیٹ کر اساتذہ کرام کہتے

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب: انسانی شعور کا ارتقا

کتابوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ ہماری سوچ کو شعوری خوراک دے کر ہماری عقل اور فہم میں بالیدگی کا عنصر پروان چڑھاتی ہیں۔ کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کو بار بار پڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ایسی کتابوں میں زندگی کی ایسی بصیرتیں چھپی ہوتی ہیں جنہیں صا حب فکر و نظر ہر دور میں نئے زاویے سے جانچنے، پرکھنے اور کریدنے کی کوشش میں مگن رہتے ہیں۔ میری نظر سے بھی ایک ایسی

Read more

ابرار حسین نیکوکارہ اپنے آخری نوٹ میں ایسا کیا لکھ گیا

کچھ حالات و واقعات اس قسم کے ہوتے ہیں جو اپنے پیچھے بہت سارے سوالات چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ سوالات ایک نقطے کی طرح ہوتے ہیں کہ جن کے نقطوں کو اگر ایک ترتیب کے ساتھ جوڑا جائے تو وہ ایک مکمل تصویر بن جاتے ہیں۔ یہ اس پہیلی کی طرح ہوتے ہیں کہ جس کو بوجھنے کے لیے ذہنی مشقت درکا ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں جب بھی کوئی سانحہ ہوتا ہے تو وہ اس سانحے کی جڑوں

Read more

کیا انسان بے بس ہوتا ہے؟

اگر انسان کی معلوم شدہ ابتدائی تاریخ کا مطالعہ کریں اور اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کریں تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ شاید انسان ایک بے بس اور مجبورِ محض مخلوق ہے۔ غاروں میں رہنے والا انسان اپنی ابتدائی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے بغیر کسی منصوبہ بندی کے جو اس کے جی میں آتا تھابالکل اسی طرح ہی کرتا تھا جب بھوک لگتی تھی تو غار سے باہر نکل کر جس چیزسے بھی سامنا ہوتا

Read more

کیا بڑوں کا کہا حرفِ آخر ہوتا ہے؟

ہمارے مشرقی معاشرے میں باپ کو جنت کا دروازہ کہا جاتا ہے اور ماں کے پاؤں تلے جنت ہوتی ہے۔ اسی بنیادی مقدس اصول کے زیرِ تحت ہماری مشرقی نسل پروان چڑھتی ہے۔ اس مقدس اصول کی پاسداری کرتے ہوئے ایک مشرقی باپ اپنے اختیارات کا بھر پور استعمال کرتا ہے مثلاًجب بچہ تھوڑا سا بولنے اور چلنے پھرنے کے قابل ہوتا ہے تو اسے عربی پڑھنے کے لیے مدرسے میں داخل کروادیا جاتا ہے اور باپ مولوی صاحب سے

Read more

ڈاکٹر مبارک علی کا جشنِ اعتراف خدمات

کراچی آرٹ کو نسل کی طرف سے ڈاکٹر مبارک کی تاریخی ادبی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے ایک ادبی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس پروگرام میں نمایاں طور پر اعلٰی ادبی قد کاٹھ رکھنے والی شخصیات بھی موجود تھیں۔ ان میں سرفہرست آئی اے رحمان، ڈاکٹر ہارون، ڈاکٹر طارق، اسلم گورداسپوری، شاہ محمد مری اور میر حاصل بزنجو تھے۔ اتنی شاندار ادبی تقریب کو دیکھ کر اور جان کرخوشی ہوئی کہ ہمارے اس روایتی اور گھٹن والے ماحول میں

Read more

کیا انسانی ذہن کو قید کیا جا سکتا ہے؟

ڈاکٹر بلند اقبال جو کہ حمایت علی شاعر کے فرزند ارجمند ہیں۔ آج کل کینڈا میں رہتے ہیں۔ وہ کسی وقت میں کینڈا کے رائل ٹی وی پر (پاس ورڈ) کے نام سے ایک پروگرام کیا کرتے تھے جبکہ آج کل کینڈا ون ٹی وی پر (دی لائبریری ود بلند اقبال کے ساتھ) کے عنوان سے پروگرام کر رہے ہیں۔ ان کا ایک پروگرام (پاس ورڈ) پر سننے کا اتفاق ہوا۔ اس پروگرام میں دو معزز مہمان شریک گفتگو تھے۔

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب سچ اپنا اپنا (دوسرا اور آخری حصہ)۔

ڈاکٹر خالد سہیل (عورتوں سے رشتے ) والے باب میں ایک معصوم تعلق جوکہ زمانے کی تما م کدورتوں، قباحتوں اور برائے نام سماجی اصول و ضوابط سے بے نیاز ہوتاہے۔ بچپن کی ابتدائی عمر والے تعلقات اور رشتے جو بچے اپنے ہم جولیوں کے ساتھ بناتے ہیں ان رشتوں میں بہت ساری معصومیت، تعلق اور پیار کا ایک الگ ہی انداز پنہاں ہوتاہے۔ ڈاکٹر سہیل اس باب میں اپنی زندگی کے اس موڑپر حاصل ہونے والے ایک خوبصورت رشتے سے متعارف

Read more

اسلام اینڈ سیکولرازم: سوال کی طاقت

کچھ روز پہلے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے زیر انتظام ایک شاندار ڈائیلاگ بعنوان اسلام اینڈ سیکولرازم منعقد کیا گیا۔ اس شاندار گفتگو میں ایک طرف اسلام کا نقطہ نظر پیش کرنے والے دو معزز احباب موجود تھے تو دوسری طرف سیکولرازم پر گفتگو کرنے کے لیے حاشربن ارشاد اور فرنود عالم موجود تھے۔ اس ڈائیلاگ کی سب سے بڑ ی خوبصورتی یہ تھی کہ یہ گفتگو بڑے ہی مہذب انداز میں کی گئی۔ اس قسم کی

Read more

میرے معاشرے کا چھوٹو

ہر سماج اور سو سائٹی کے کچھ کر دار ہوتے ہیں جنھیں خود اس معاشرے کے لوگ اور ان کے رویے بناتے ہیں۔ یہ کردار آسمان سے یا ماں کی کوکھ سے اپنی زندگی گزارنے کے پیمانے لکھوا کر اس دنیا میں نہیں آتے بلکہ زمین پر موجود کچھ خدا وندان ایوان عقائدو سیاست خود ان کی زندگی کا رخ متعین کرتے ہیں۔ یہ چھوٹو نامی کر دار ہمارے معاشرے میں ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ یہ کردارآپ کو چھوٹی

Read more

ڈاکڑخالد سہیل میر ے آیئنے میں

جنا ب ڈاکٹر خالد سہیل صاحب آپ کا شاہداختر کے ساتھ مکالمہ ایک خط کی صورت میں ہم سب پر پڑھا تو بہت اچھا لگا اور اسی مکالمے سے مجھے بھی تحر یک ملی کہ میں بھی آپ کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کروں ڈاکڑصاحب میں ایک ایسے معاشرے کا نمائیندہ ہوں جہاں پر زندگی سسکتی اور بلکتی ہے یہاں پر ڈگریوں کی بہتات ہے مگر شعور کی بہت زیادہ کمی ہے یہ طے شدہ روایات کا معاشرہ ہے

Read more

انسانیت کو سرفراز کرنے والے لوگ

مجموعی طور پر انسان کو اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے۔ مگر یہ جملہ اپنے اندر معنو یت کے اعتبا ر سے بہت سی مبہمجہتیں لیے ہوئے ہے۔ سوچنے والی بات یہ ہے کی کیا سب انسان اشرف ہوتے ہیں یا صرف چند ایک لوگ؟ تاریخ انسانی سے جب ہم اِس سوال کا جواب ڈھونڈنے نکلتے ہیں توہمارا سامنا ایسے لوگوں سے ہوتا ہے جو لباس انسان میں خلاف انسان تھے۔ طاقت ان کا اوڑنا بچھونا تھی اور اپنی طاقت کے

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب: سچ اپنا اپنا

زندگی ہر شخص کے لیے قدرت کا ایک حسین تحفہ ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اس تحفہ کو پہلے سے طے شدہ روایتوں، اصولوں اور طریقوں کے مطابق گزار کر دنیا سے چلے جاتے ہیں اور نسلِ انسانی کے اثاثہ میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کرتے۔ جب کہ کچھ لوگ اس حسین تحفہ کو بھر پور طریقہ سے جیتے ہیں اور زندگی کے حسیں رنگوں میں کچھ اور حسیں رنگوں کا اضافہ کرتے ہیں تاکہ زندگی کی رنگینیوں کا یہ

Read more

عورتوں کے بارے میں ہمارا مجموعی رویہ

کسی بھی معاشرے میں پروان چڑھنے والے رویے ّ اسی معاشرے کی عکا سی کرتے ہیں اور معاشرے انسانوں سے بنتے ہیں۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ شعوری سطح کیسے بلند ہوتی ہے۔ کیا صرف علم معاشروں کو بلند کر سکتا ہے۔ کیا معاشرے کے چند با شعور لوگ پورے معاشرے کے رویے تبدیل کر سکتے ہیں۔ ایسا کم از کم ہمارے مشرقی معاشروں میں تو ممکن نہیں ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک کتاب کی تقریب ِرونمائی میں جانے

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب: ادھورے خواب

کہتے ہیں کہ زندگی قدرت کا حسین تحفہ ہے اور اس حسین تحفے کی گہرائیوں میں بے شمار راز پنہاں ہیں۔ لاتعداد پراسرار پرتوں میں لپٹی یہ زندگی سب کے لئے حسین ہوتی ہے یا صرف چند لوگوں کے لئے مخصوص؟ کیا زندگی کے حسین راز سب ذہنوں پر ایک جیسے ہی کھلتے ہین یا مختلف؟ کیا ہر دیکھنے والی آنکھ وہ سب کچھ دیکھ لیتی ہے جو زندگی کے گہوارے میں ہر رنگ کھلا دے؟ ان سب سوالوں کا

Read more