ثابت ہوا کہ کنٹینر پر کھڑے ہو کر مغلظات نما نعرے لگانا اور خرافات نما تقریریں کرنا، ماضی میں ملک کے دیگر حکمرانوں کی طرح قرض لینے پر خودکشی کو ترجیح دینے کی قسمیں کھانا اور کنٹینر کو ریمپ سمجھ کر اس پر کیٹ واک کرتے ہوئے رک رک کر میڈیا کے فوٹو گرافروں اور موبائل بردار مجاہدوں اور مجاہداؤں کو پوز دینا، یا گراؤنڈ میں کھڑے ہو کر گیند بازوں کی پھینکی ہوئی کمزور گیندوں کو تاک کر چھکے چوکے لگانا اور چند حربے سیکھ کر بلّے بازوں کے عقب میں چھپ کر کھڑی وکٹوں کو اڑانا، پھر کھیل کے میدان سے کمائی ہوئی شہرت اور ماں باپ کے جینز سے پائی ہوئی شکل و صورت کے بل بوتے پر عورتوں کی توجہ حاصل کرنا اور دیگر عیش و عشرت کے علاوہ تین تین شادیاں بھی کرنا۔ کینسر کے مرض میں مبتلا ہو کر وفات پا جانے والی والدہ کے نام پر برسوں ملکوں ملکوں گھوم کر چندہ جمع کر کے ایک ہسپتال بنا لینا اور اسے چلانے کے لیے پھر مزید چندہ مانگنے نکل پڑنا یہ سب بھی آسان نہ سہی لیکن ایک بظاہر ترقی پذیر مملکت کی باگ ڈور سنبھالنا مختلف چیز ہے۔ یہ کوئی ایسا ایڈونچر نہیں جیسے ہمارے وزیرِ اعظم صاحب اپنے ماضی میں کرتے آئے ہیں۔
Read more