قادر یار۔ کلاسیکی پنجابی شاعری کا ایک منفرد نام

قادر یار کا پنجابی کلاسیکی شاعری میں ایک منفرد مقام ہے۔ ان کا اصل نام قادر بخش تھا۔ وہ ایمن آباد کے ایک نزدیکی گاؤں ً مچھی کے ًکے سندھو جاٹ زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش کا سال 1802 ء مانا جاتا ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم کے بارے میں اتنا ہی معلوم ہوا ہے کہ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کی مسجد سے حاصل کی۔ پنجابی چونکہ ان کی مادری زبان تھی اس پر

Read more

کیا ہم ایک ایماندار قوم ہیں؟

کافی عرصہ پہلے کی بات ہے۔ میں اپنے دور پار کے رشتہ دار ممبر نیشنل اسمبلی شاہ صاحب کو ملنے صبح صبح ان کے گھر پہنچا۔ ان کے دالان میں کافی سارے لوگ اپنے اپنے مسائل کے حل اور شاہ صاحب سے ملنے کے لئے جمع تھے۔ ان دنوں فنانس کمپنیوں میں لوگوں کی کافی زیادہ رقم پھنسی ہوئی تھی، جس کے لئے وہ ان کے پاس سفارش اور مدد کے لئے آئے ہوئے تھے۔ سب لوگ باری باری اپنے

Read more

پیرس میں تین یادگار دن (3)

پیرس فرانس کا دارالحکومت، یورپ کا ایک بہت بڑا شہر، عالمی فنون لطیفہ کا بہت بڑا مرکز، روایتی کھانوں اور ثقافت کا ایک بہترین مقام ہے۔ بیسویں صدی کا پیرس سڑکوں کے جال، مین بلیوارڈز اور شہر کے درمیان میں خوبصورت دریاء سین کی وجہ سے لوگوں کی سوچوں سے بھی حسین شہر ہے۔ ہم بچپن میں سنتے تھے کہ پیرس میں شیشے کی سڑکیں ہیں۔ جب جا کر دیکھیں تو شیشے کی تو نہیں لیکن شیشے جیسی صاف اور

Read more

کیمپ کمانڈر دتیال: 1947

حال ہی میں لاہور کے ایک بڑے اور معتبر ادارے ً ماورا پبلشر ً نے آزاد کشمیر کے ایک گاؤں دتیال میں 1947 میں بننے والے ایک کیمپ کے بارے میں مصنفہ ً امتہ المنان طاہر ً کی ایک کتاب ً کیمپ کمانڈر دتیال۔ 1947 شائع کی ہے۔ یہ کتاب ہمیں 1947 میں آزاد کشمیر کی آزادی کے وقت پیش آنے والے واقعات سے روشناس کرواتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ 1947 میں میرپور میں رونما ہونے والے واقعات کے

Read more

پیرس میں تین یادگار دن ( 2 )

میں ائرپورٹ لاؤنج سے باہر نکلا تو بھائی اپنے دو دوستوں کے ساتھ پریشان کھڑا تھا کیونکہ پی آئی اے کے تقریباً تمام ہی مسافر جا چکے تھے۔ اب وہ اس پریشانی میں تھے کہ شاید میں آیا ہی نہیں ہوں۔ مجھے دیکھ کر سب ہی خوش ہو گئے۔ سب بڑی گرم جوشی سے گلے ملے۔ بھائی کے ساتھ ان کا دوست کامران تھا اور تیسرا کامران اور بھائی کا مشترکہ دوست تھا۔ انہوں نے مجھ سے بیگ لے کر

Read more

پیرس میں تین یادگار دن

دو ہزار چار کی بات ہے ہم چار بینکروں نے سپین کی سیر کا پروگرام بنایا۔ ان دنوں ویزہ میں ابھی اتنی سختی نہیں تھی پھر بھی ہمیں ویزہ کے لئے سپین کی ایمبیسی سے ایک ماہ بعد کی تاریخ ملی۔ مارچ کے پہلے ہفتہ میں ہم چاروں کنونشن سینٹر سے بس میں بیٹھ کر سپین کی ایمبیسی میں حاضر ہوئے۔ مختصر انٹرویو کے بعد انہوں نے ہمیں ایک ماہ کا ویزہ دے دیا۔ سپین کا ویزہ ملنے کے بعد

Read more

ایک شریف خاتون کا تذکرہ

آزاد کشمیر کے ایک تحصیل ہیڈ کوارٹر کی برانچ میں میری تعیناتی کے دن تھے۔ بینک کی جون کی کلوزنگ تھی، جس کا پریشر بینک میں کام کرنے والے ہی جانتے ہیں۔ اس دن میں ساڑھے بارہ بجے مارکیٹ کا چکر لگا کر برانچ میں پہنچا تھا۔ برانچ کے اندر اور باہر بجلی کے بل جمع کروانے والوں کی لمبی لائن تھی۔ میں نے سرسری سا جائزہ لیا تو میری نظر ایک ادھیڑ عمر کی خاتون پر پڑی جو بل

Read more

استاد دامن

برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ، جنرل ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیا ء الحق کی طاقت، ظلم اور جبر کا بلا خوف مقابلہ کیا۔ جھوٹے مقدموں کا سامنا کیا قید و بند کی مصیبتیں جھیلیں، لیکن قدم کہیں نہیں ڈگمگائے۔ ان کی انہی خصوصیات کی وجہ سے اس سخت گیر معاشرے میں لوگ ان سے پیار کرتے تھے جبکہ حکمران ان سے نفرت کرتے تھے۔ ٹکسالی گیٹ کے اندر ایک چھوٹا سا کمرا جس میں بچھی ایک چارپائی اور دو

Read more

یادوں کے دریچے۔ محمد یسین میر، میرا دوست میرا بھائی۔

پچھلے سال دو جنوری کی رات انتہائی لمبی اور سرد تھی۔ بمشکل ایک بجے مجھے نیند آئی۔ گہری نیند کا ابھی ایک گھنٹہ ہی ہوا ہو گا کہ موبائل کی گھنٹی بجی۔ میں ہڑبڑا کر اٹھ گیا۔ لاہور سے بچپن کے دوست وسیم کا فون تھا۔ او بھائی! کیا مصیبت آ گئی جو اس وقت جگا دیا۔ میں نے پوچھا۔ خلاف معمول اس کا لہجہ سنجیدہ تھا۔ یار! یسین کا انتقال ہو گیا ہے۔ کیا کہہ رہے ہو بھائی، ابھی

Read more

سپیشل بچے۔ والدین کی ایک بڑی ذمہ داری

ترقی اور سمجھ داری کے اس دور میں بھی معذور بچے اکثر والدین کی بے توجہی کا شکار نظر آتے ہیں۔ ذہنی طور معذور بچوں کے ایک ادارے کے سربراہ خواجہ ظفر اقبال نے گزشتہ دنوں ایک ٹی وی پروگرام میں بتایا کہ ان کے ادارے کے سپیشل بچوں نے لاہور میں منعقدہ سپیشل بچوں کے کھیلوں میں حصہ لے کر میڈل حاصل کیے۔ ہم نے ان بچوں کے لئے ادارے میں ایک تقریب کا انتظام کیا اور ان بچوں کے والدین کو بلایا۔ ایک سپیشل بچی کے گھر سے کوئی بھی نہیں آیا۔

حسب معمول ہم نے اسے میڈلز کے ساتھ اس کے گھر ڈراپ کروا دیا۔ اگلے دن اس کی والدہ سکول میں آئیں۔ تقریب میں نہ آنے پر روتے ہوئے معافی مانگی اور بتایا کہ اس بچی کو سب گھر والے فالتو سمجھ کر کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے لیکن یہ میڈل جیت کر وہ سب بہن بھائیوں میں سپیشل ہو گئی ہے اور سب بہن بھائی اب اس پر فخر کرر ہے ہیں۔

Read more

سجاد جہانیہ کی ادھوری کہانیاں

فیس بک ایک ایسا سوشل میڈیا ہے جس نے نہ صرف سالوں سے بچھڑے ہوئے دوستوں اور گم شدہ لوگوں کو آپس میں ملایا ہے۔ بلکہ اس ذریعہ سے بہت سے اہل قلم، دانشوروں اور ادیبوں کے علاوہ ادب سے روشناسی ہوئی۔ میری فیس بک کے توسط سے جن اہل قلم سے جان پہچان ہوئی ان میں ایک بڑا نام سجاد جہانیہ کا ہے۔ ان سے تعارف ہوا تو ایسا لگا کہ برسوں سے ان سے جان پہچان ہے۔ چند

Read more

احمد راہی۔ پنجابی ادب کا ایک چمکتا ستارہ۔

احمد راہی متحدہ ہندوستان میں پنجاب کے شہر امرتسر میں پیدا ہوئے۔ 1947 میں پاکستان ہجرت کر کے لاہور میں قیام کیا۔ ان کے 1952 میں چھپنے والے پنجابی نظموں کے مجموعے ً ترنجن ً کو پنجابی ادب میں ایک کلاسیک کا درجہ حاصل ہے۔ اس شعری مجموعے میں پنجابی ثقافت اور تقسیم ہند میں پیش آنے والے واقعات کو ہیر۔ صاحباں اور سوہنی جیسے لوک کرداروں کی تشبیہات سے پیش کیا گیا ہے۔ اس شعری مجموعے کی بیشتر نظمیں

Read more

لاہور میں چھجو کا چوبارہ کہاں ہے؟

جو سکھ چھجو کے چوبارے، وہ بلخ نہ بخارے۔ یہ محاورہ اکثر بولا جاتا ہے اور یہ ایک ضرب المثل بھی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ زندگی کی جو راحت اور سکون چھجو کے چوبارے میں ملتی ہے وہ بلخ اور بخارہ شہر کی راحت سے کہیں اعلی اور عرفہ ہے۔ باختریہ (بلخ) ایک قدیم شہر ہے۔ جو بدھ مت، زرتشت اور مسلمانوں کے مذہبی راہنماؤں کا مسکن رہا ہے۔ عربوں نے اس شہر میں نوادرات اور اس کی

Read more

ضمیر کی عدالت

دیہات کی اس برانچ میں میری پوسٹنگ کا پہلا ہی مہینہ تھا کہ رات کو برانچ میں واردات ہو گئی۔ برانچ میں رات کو گارڈ نہیں ہوتا تھا۔ رات کو چور آئے اور انہوں نے گیس کٹر سے سٹرانگ روم کا دروازہ کاٹا اور پھر سیف کے تالے کاٹ کر سات لاکھ روپیہ لے اڑے۔ واردات کا پتہ صبح پتہ چلا۔ تھانہ میں رپورٹ کی، فوراً پولیس آ گئی۔ ضروری کارروائی کے بعد انہوں نے مجھے شام کر تھانے آنے

Read more

سید محمد عبداللہ شاہ المعروف بابا بلھے شاہ ؒ

وقت کی یہ کیسی پراسرارتبدیلی ہے۔ وہ شخص جسے انتقال کے بعد ملاؤں نے اس کے انقلابی فکر و عمل کے باعث اپنے قبرستان میں دفن کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ آج وہ دنیا میں عقیدت اور روحانیت کی پہچان ہے۔ قصور اور اس کے آس پاس کے علاقے میں بلھے شاہ کا مزار ایک ایسی واحد جگہ ہے جس میں شہرکا مراعات یافتہ اشرافی طبقہ اس شخص کی قربت میں دفن ہونا باعث فخر سمجھتا ہے، جس کو

Read more

بابا فرید گنج شکر ؒ۔ پنجابی شاعری کے بانی

حضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ ایسے ولی اللہ تھے، جنہوں نے اپنوں کے علاوہ بیگانوں کے قلوب کو بھی نوراسلام سے بھر دیا۔ ولی ہوتا ہی وہی ہے جو کسی کا ہاتھ تھام لے تو پھر اسے بھٹکنے نہ دے۔ اولیاء کا کردار ہی ان کی ولایت کی علامت اور پہچان ہوتا ہے اور وہ اپنے ارادت مندوں کو صرف اور صرف درس شریعت دیتے ہیں۔ وہ بہترین انسان اور عمدہ اخلاق و آداب کے مالک ہوتے

Read more

شاہ حسین: پنجابی شاعری میں کافی کی صنف کا علمبردار

چھتیس سال کی عمر تک بہت ہی کٹھن عبادت اور ریاضت کی۔ دن کو روزہ رکھتے، ساری رات قرآن مجید کی تلاوت کرتے۔ پھر یہ معمول بنایا کہ رات کا پہلا حصہ دریائے راوی کے پانی میں کھڑے ہو کر قرآن مجید پڑھتے اور تہجد کے وقت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے مزار والی مسجد میں آ جاتے۔ یہاں تہجد اور فجر کی نماز کے بعد دن چڑھے تک وظیفہ کرتے۔ پھر ایک دن یہ سب کچھ چھوڑ

Read more

دو قدآور فلمی شخصیات جنہیں قومی ایوارڈ نہ مل سکے

حزیں قادری 1950 سے لے کر 1980 تک پاکستانی فلمی صنعت کے ایک مصروف ترین نغمہ نکار، منظرنگار، مکالمہ نویس اور مصنف تھے۔ ان کا نام فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ تیس سالوں میں آپ نے ایک سے بڑھ کر ایک بہترین نغمہ لکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ سینکڑوں فلموں کی سبق آموز کہانیاں لکھیں، جنہوں نے باکس آفس پر کامیابیاں حاصل کیں۔

ان کے بہترین نغموں میں ’سانوں سجناں دے ملنے دی تاہنگ اے ‘۔ ’ٹانگے والا خیر منگدا‘، ’ٹانگہ لاہور دا ہووے پویں جھنگ دا۔‘اساں جان کے

Read more

ٹلا جوگیاں کا شاعر نصیر کوی اور اس کے اندر کی تپش

21 ستمبر 2011 کے انگریزی روزنامہ ً ڈان ً میں ایک خبر شائع ہوئی۔ 65 سالہ شاعر نصیر کوی لاہور کے محافظ ٹاؤن میں اپنے اک دوست کے گھر بیٹھے شوکت خانم کینسر ہسپتال میں علاج کی خاطر فنڈ کے لئے کسی معجزے کا انتظار کر رہے ہیں۔ بنیادی طور پر پنجابی شاعرنصیر کوی اپنی قسمت پر مطمئن تھا۔ جہلم میں جی ٹی روڈ پر واقع دوست کے ہوٹل کے باہر ایک کھوکھے میں پان سیگریٹ بیچتے ہوئے آمرانہ حکومتوں

Read more

حضرت سلطان باہو ؒ : ایک باعمل صوفی بزرگ اور پنجابی شاعر

مادر زاد ولی، قلندرانہ جلال، علم وحکمت کے خزانوں سے بہرہ ور، معرفت کا پیکر جمال اور ایمانی جگمگاہٹوں سے بھرپور شخصیت، جنہوں نے اپنا پیغام پنجابی اور فارسی میں عوام و خواص تک پہنچایا۔ ان کے اس پیغام نے لاتعداد لوگوں کی زندگیوں میں روحانی انقلاب برپا کر دیا۔ وہ سادگی کا پیکر تھے۔ خلوص و وفا ان کی حیات کا لازمی جزو اور اخلاص و مروت ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ آپؒ ریاکاری، نمود ونمائش، تکلف و تصنع

Read more

شریف کنجاہی۔ جدید پنجابی شاعری کا علمبردار

وہ پنجابی، اردو، فارسی اور انگریزی زبان میں پینتیس کتابوں کے مصنف تھے۔ انہوں نے قرآن مجید کا ترجمہ پنجابی زبان میں کیاجو دو جلدوں میں شائع ہونے والا ایک شہکارہے۔ ان کی پنجابی شاعری پنجاب یونیورسٹی کی ایم اے پنجابی کے نصاب کا حصہ ہے۔ پنجابی ادب میں ان کی خدمات پر حکومت پاکستان نے انھیں پرائڈ آف پرفارمینس اور ستارہ امتیاز سے نوازہ۔ اہالیان شہر گجرات نے انھیں نشان گجرات قرار دیا اور اس ایوارڈ سے انھیں سرفراز

Read more

شو کمار بٹالوی۔ جدید پنجابی شاعری کا ایک بہت بڑا شاعر

اس کا شمار جدید پنجابی شاعری کے پہلے پانچ شعرا میں ہوتا ہے۔ اس نے بھارتی پنجاب کی ادبی دنیا اور دنیا میں پنجابی زبان بولنے اور سمجھنے والے لوگوں میں پنجابی نظموں۔ گیتوں اور غزلوں سے اپنی پہچان کرائی۔ وہ ہندوستان کے ساہیتہ اکیڈیمی ایوارڈ حاصل کرنے والے کم عمر ترین پنجابی شاعر تھا۔ اس کی شاعری میں پر اثر الفاظ اور منظر کشی کے متحرک رنگوں نے انیس سو ساٹھ کے بعد پنجابی بولنے والے لاکھوں لوگوں کے

Read more

عمر کی نقدی (6)

ہمارا دفتر ان دنوں ایف سیون میں رانا مارکیٹ کے سامنے ایک گلی میں پرائیویٹ کوٹھی میں تھا۔ ایک ہفتہ میں ہی ہم سب پوری طرح سیٹ ہو گئے۔ سارا وقت دفتر میں ہنسی مذاق چلتا رہتا تھا۔ ایک دن میں جلدی دفتر آ گیا تو ڈائریکٹر صاحب کی سیکرٹری نے کہا کہ کام میں میری کچھ مدد کرو۔ میں اس کے پاس بیٹھا اسے فائلنگ کا کام کروا رہا تھا، کہ اتنے میں ڈائریکٹر صاحب آ گئے۔ مجھے دفتر کے پروٹوکول کا کوئی پتہ ہی نہیں تھا۔ خاتون تو ان کو دیکھ کر کھڑی ہو گئی مجھے بھی اس نے اٹھنے کا اشارہ کیا لیکن میں نہیں سمجھا اور بیٹھا رہا۔ ڈائریکٹر صاحب کمرے میں چلے گئے۔ اندر جا کر مجھے اندر بلایا اور زبردست جھاڑ پلائی۔ اس کے بعد سب نئے سٹاف کو بلایا اور انہیں دفتر کے ادب وآداب پر ایک طویل لیکچر دیا اور اس پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا عندیہ بھی دے دیا۔ سب ہی خوف زدہ ہو گئے۔

Read more

بری نظامی: انمول پنجابی شاعر جسے بھلا دیا گیا

اس غزل سے آپ شاعر کے دل کی کیفیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں

وگڑ گئی اے تھوڑے دناں توں ٭ دوری پئی اے تھوڑے دناں توں
چن جیا مکھڑا نظر نہیں آؤندہ ٭ رت سرمئی اے تھوڑے دناں توں
تیرے ہوندیاں پیندے نہیں ساں ٭ پینی پئی اے تھوڑے دناں توں

ان کا لکھا ہوا ایک ایسا گیت جس نے سارے پاکستان کو رلادیا۔ اس کو نصرت فتح علی خان نے ہی گایا تھا اور عاشر عظیم  نے اپنے ڈرامے دھواں میں شامل کر کے ڈرامے کے ایک کردار کی موت پر چلایا تھا۔

ایسں توں ڈاھڈا دکھ نا کوئی ٭ پیار نا وچھڑے کسے دا یار نہ وچھڑے
روگ ہجر دا مار مکاوے ٭ سکھ دا کوئی ساہ نہ آوے
دکھ لاوندے نیں دل وچ تیرے ٭ چارے پاسے دسن ہنیرے۔
دنیا وچھڑے نہیں پروا دلدار نہ وچھڑے

Read more

کورونا کی نئی لہر اور ایک برطانوی خاتون کے تلخ تجربات

اپنی بیماری کے بدترین ہفتوں کے دوران انہوں نے اپنے ڈاکٹر کو متعدد بار فون کیا۔ ڈاکٹر کی بات ہمیشہ اس مکالمے پر ختم ہوجاتی، آپ نے گھر پر ہی رہنا ہے، آپ کے لیے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ڈاکٹر کی گفتگو میں ممکنہ علاج کا انتخاب یا دوسری معلومات کا فقدان نہیں ہوتا تھا لیکن جس چیز نے انہیں پریشان کیا وہ ڈاکٹر صاحب کی گفتگو میں ہمدردی کا فقدان تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ڈاکٹر سے گفتگو کر کے انہیں کبھی تسلی نہیں ہوئی بلکہ ہمیشہ ایسا محسوس ہوا جیسے ڈاکٹر نے ان سے ہمدردی کرنے کی بجائے ان سے جان چھڑائی ہے یا ان کو ٹرخایا گیا ہے ۔

Read more

عمر کی نقدی (5)

ایف ایس سی کے سال اول میں تھے تو ایک دن وسیم نے کہا کہ ایئرفورس میں میٹرک کی بنیاد پر کیڈٹس رکھ رہے ہیں، چلو اپلائی کرتے ہیں۔ ان دنوں راولپنڈی صدر میں ایئرفورس کا رجسٹریشن سنٹر تھا۔ ایک دن ہم دونوں بس پر پنڈی گئے، رات وسیم اپنے کسی رشتہ دار کے ہاں ٹھہرا اور میں نے راجہ بازار کے ایک ہوٹل میں قیام کیا۔ صبح ہم دونو ں مری روڈ پر اکٹھے ہوئے اور ایک ٹیکسی میں

Read more

شہزادہ سیف الملوک اور بدیع الجمال کا سفر عشق

میاں محمد بخش ؒ کی تصنیف ً سیف الملوک ًسے شدبد ہمیں بچپن میں ہی ہو گئی تھی۔ ابا جان گھر میں اکثر رات کو اونچی آواز میں سیف الملوک پڑھا کرتے تھے۔ گھر میں دوسری کتابوں کے ساتھ سیف الملوک بھی کتابوں والی الماری میں رکھا ہوا تھا۔ لیکن اس وقت پنجابی پڑھنی نہیں آتی تھی۔ ہمارے ایک رشتہ کے بھائی ہر ماہ چن چڑھی جمعرات کو بابا پیرے شاہ ؒکے دربار پر حاضری دیتے تھے جو ہمارے گاؤں

Read more

آٹھ آنے کی کہانی

ستر کی دیہائی کے آخری سالوں میں آزاد کشمیر کے اس چھوٹے سے قصبے کی برانچ میں بطور مینیجر میری پوسٹنگ ہوئی تھی۔ مجھے چارج لئے ابھی ایک ہفتہ ہوا تھا کہ میں برانچ کے دو تین بڑے کھاتہ دار دکانداروں سے ملنے اپنے سپروائزر کے ساتھ بازار میں آیا۔ ایک دکان سے جیسے ہی ہم باہر نکلے تو وہ اچانک میرے سامنے آ گیا اور ہاتھ پھیلا دیا۔ آٹھ آنے ہوں گے۔ میں اسے دیکھ کر ایک دم گھبرا

Read more

ً عمر کی نقدی ً سے ایک اور ورق (2

مجھے چھ سال کی عمر میں گاؤں کے پرائمری سکول میں داخل کروایا گیا، تو بے جی روزانہ مجھے خود سکول چھوڑنے جاتیں اور سکول میں چھوڑ کر کافی دیر سکول کے باہر کھڑی رہتیں۔ چھٹی ہونے سے بہت پہلے سکول کے باہر آ کر کھڑی ہو جاتیں۔ میرے سکول سے باہر نکلتے ہی میرا بستہ اٹھا تیں اور مجھے گھر لے آتیں۔ اسی وقت تازہ کھانا پکا کر کھلاتیں۔ غربت کا زمانہ تھا، گاؤں میں زیادہ تر لو گ

Read more

پاکستانی فلموں اور ٹی وی کی ایک مدھر آواز۔ مسعود رانا

گزرے وقتوں میں ریڈیو سٹیشن کسی بھی فنکار کی ابتدائی درس گاہ ہوتی تھی، جہاں سے وہ کچھ سیکھ کر عملی زندگی میں قدم رکھتے اوراپنی محنت اور ذہانت سے اپنا ایک مقام بنا لیتے تھے۔ ریڈیو پاکستان حیدرآباد بھی ایک ایسی ہی درسگاہ تھی، جس نے سندھ کے بہت سے فنکاروں کوپروان چڑھایا۔ ان بہت سے فنکاروں میں سب سے نمایاں ممتازاداکار محمد علی۔ اداکار مصطفے قریشی اور گلوکار مسعود رانا ہیں، جنہوں نے اپنے سفر کا آغاز حیدرآباد ریڈیو سٹیشن سے کیا اورپھر اپنی محنت اور صلاحیتوں کے بل بوتے پر فلمی دنیا میں اپنا ایک مقام بنایا۔ محمد علی پاکستان فلمی صنعت کے سب سے بڑے اداکار، شہنشاہ جذبات۔ مصطفی قریشی پنجابی اور اردو کے سب سے بڑے ولن۔ مسعود رانا ایک ایسے منفرد گلوکار جن کے گائے ہوئے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کے گانے یکساں مقبول ہوئے۔

Read more

عمر کی نقدی ختم ہونے کو ہے (1)

گریجویشن کے امتحان سے ایک ماہ قبل جون 1978 میں والد محترم کا ایک طویل بیماری کی وجہ سے انتقال ہو گیا۔ والدہ بہت پہلے ہی وفات پا چکی تھیں اس لئے میں اب گھر میں اکیلا اور تنہا رہ گیا۔ والد بزرگوار کے کفن دفن کے بعد ان کی تعزیت کے لئے آنے جانے والوں آنا جانا لگا رہا۔ ایک ماہ گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا۔ ایسے حالات میں امتحان کی تیاری کیا ہونا تھی بس تھوڑی بہت

Read more

سب رنگ کہانیاں (2) : حسن رضا گوندل کی سب رنگ سے عقیدت کا کمال

ًسب رنگ ً ڈائجسٹ میں غیر ملکی کہانیوں کے تراجم پڑھ کر ہمیں بھی عالمی ادب پڑھنے کا شوق پیدا ہو گیا تھا۔ لیکن ہم جیسے چھوٹے شہروں میں رہنے والوں کا المیہ ہے کہ ان شہروں میں کتابوں کی دکانیں بھی چھوٹی ہوتی ہیں جن میں انگریزی زبان کی کتب نا پید ہی ہوتی ہیں۔ کلاسیک ادیبوں کی کتابیں تو پھر کالج کی لائبریری سے مل ہی جاتی تھیں لیکن دوسری اچھی اور نئی کتابوں کے لئے بڑے شہر

Read more

نیلی آنکھوں والے بے وفا نہیں ہوتے

یہ پچھلے سال انہی دنوں کی بات ہے میں اپنے بیٹے کے پاس برطانیہ کے شہر برمنگھم میں مقیم تھا۔ میرا بیٹا اور اس کی بیوی دونوں کام پر چلے جاتے تھے اور بچے سکول، میں گھر میں اکیلا رہ جاتا تھا۔ میں دن کو وقت گزاری کے لیے گھر سے تھوڑی دور پارک میں چلا جاتا تھا۔ کبھی کوئی کتاب ساتھ لے جاتا اور بنچ پر بیٹھ کر پڑھتا رہتا۔ یہ ایک بہت بڑا پارک تھا۔ میری طرح ادھیڑ عمر کے دوسرے خواتین و حضرات بھی پارک میں سیر کرنے اور وقت گزاری کے لئے آتے تھے۔ برطانیہ میں ایک بات میں نے نوٹ کی کہ آپ کسی کو جانتے ہیں یا نہیں پاس سے گزرتے ہوئے زیادہ تر لوگ آپ سے ہائے ہیلو ضرور کریں گے۔

وہ نیلی آنکھوں والی ایک حسین اور گریس فل خاتون تھی۔ میں روزانہ اسے اپنے سفید روسی کتے کے ساتھ پارک میں چہل قدمی کرتے دیکھتا تھا۔ پارک میں اس سے میری ہیلو ہائے ہوتی رہتی تھی۔ یہ ایک حسین اتفاق تھا کہ وہ بھی اسی وقت سیر کرنے پارک میں آتی تھی جب میں وہاں سیر کے لئے اور کچھ وقت گزارنے گیا ہوتا تھا۔ ایک دن میں پارک میں ایک بیٹھا ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔ بے دھیانی میں کتاب میرے ہاتھ سے گر گئی۔ اتفاق سے وہ خاتون بھی ادھر سے گزر رہی تھی۔

Read more

سین کونری: شرارتی آنکھوں اور قاتل مسکراہٹ والا اداکار

پچاس سال تک ہالی ووڈ اور برطانوی فلم انڈسٹری پر راج کرنے والا ستارا آخر غروب ہو گیا۔ برطانوی سیکریٹ ایجنٹ جیمز بانڈ کو زندہ و جاوید کرداربنانے والا اداکار ہمیشہ کے لئے سکون کی نیند سو گیا۔ سر سین کونری نوے سال کی عمر میں 31 اکتوبر 2020 کو بہاماس میں آنجہانی ہو گئے۔ سین کونری کی موت نے سنیما کو ایک ایسے حقیقی ہیرو سے محروم کر دیاجو ایک چنچل ہیرو تھا، جس کی آنکھیں شرارت بھری اور

Read more

راجہ مہدی علی خان۔ ایک بہترین لیکن گمنام فلمی شاعر

قیام پاکستان سے قبل پنجاب کے بہت سے لوگ بمبئی کی فلم انڈسٹری میں کام کر رہے تھے۔ ان میں سے کچھ تو پاکستان بننے کے بعد واپس آ گئے لیکن کچھ نے وہیں بسیرا کرنے ارادہ کیا پھر اپنے اس ارادے پر مستحکم رہے۔ وہاں رہ کر انہوں نے بمبئی کی فلم نگری میں اپنی محنت اور خداداد صلاحیتوں سے اپنے کام کا لوہا منوایا۔ ان میں موسیقار خیام۔ گلوکار محمد رفیع اور گیت نگار راجہ مہدی علی خان سرفہرست ہیں۔

Read more

خزاں کتنی بدل گئی ہے

کل چھوٹے بچوں کے ساتھ برمنگھم کے نواح میں واقع ایسنگٹن فارم میں جانے کا اتفاق ہوا۔ فارم کی سیر بچوں کو کھیتوں کو دکھانا اور کاشت کاری کے متعلق بتانے کا ایک ذریعہ ہے۔ برطانیہ میں ہیلووین کا تہوار نومبر میں منایا جاتا ہے اور اس سے قبل کھیتوں سے بڑے بڑے کدو چن کر لاتے ہیں اور ان پر مختلف اشکال کندہ کرتے ہیں۔ ہم بھی بچوں کے ساتھ کدو چننے کے لئے اس فارم میں آئے تھے۔ آپ دو دو پاؤنڈ کا ٹکٹ لے کر کھیت میں جائیں اور وہاں سے خود کدو توڑ کر انھیں خرید کر لائیے اور پھر اس کو پکائیں۔

یہ برطانیہ کی ایک روایت ہے۔ ان دنوں برطانیہ میں خزاں کی آمد آمد ہے۔ یہاں چوں کہ بارشیں بہت زیادہ ہوتی ہیں اس لئے درخت بھی بہت زیادہ اگتے ہیں اور ان کی حفاظت بھی کی جاتی ہے۔ ہم جس فارم میں گئے تھے، وہاں گاڑی سے اترتے ہی مجھے کھیتوں کے درمیان بہت سے درخت نظر آئے، پیلے پیلے پتوں والے۔ جس سے صاف پتا چل رہا تھا کہ خزاں کا موسم شروع ہو گیا ہے۔ صبح ہلکی بارش ہونے کی وجہ سے باہر خنکی بھی تھی۔ درختوں اور ان کے نیچے چڑ مڑ ہوئے پتوں کو دیکھ کر، مجھے اچانک اپنا گاؤں اور سکول یاد آ گیا، میں سالوں پہلے اپنے بچپن میں کھو گیا۔

Read more

کرونا اور قرنطینہ: ایک تجربہ

ہمارے بہت سے بھائی اب بھی کرونا کی حقیقت ماننے کو تیار نہیں ہیں، اسے مغرب والوں کی ایک سازش قرار دیتے ہیں۔ لیکن جن کو کرونا نے اپنے رنگ دکھایا ہے، وہ اسے ماننے لگ گئے ہیں۔ پاکستان میں کرونا شروع ہونے پر ہم نے چار ماہ تو اس کے ڈر سے گھر میں ہی رہ کر گزارے۔ لیکن پھر بھی اتنی زیادہ پابندی نہیں تھی۔ ہم دونوں میاں بیوی اور وہ بھی پچاس سے اوپر کے، سبھی ڈراتے تھے۔ بچے پردیس میں علیحدہ پریشان کہ وطن میں والدین اکیلے ہیں۔ احتیاطاً اپنے سارے پروگرام موقوف کر کے گھر بیٹھ گئے۔ لے دے کر ایک ہفتہ وار ریڈیو پروگرام رہ گیا، جس کے لئے ریڈیو سٹیشن پر جانا اور وہ بھی بڑی احتیاط کے ساتھ۔

پھر جب برطانیہ میں کرونا کا زور کچھ کم ہوا اور فلائٹیں بحال ہوئیں تو بچوں نے اپنے پاس برطانیہ بلانے کے لئے ٹکٹ بھیج دیا۔ اگست کے آخری ہفتے کی سیٹ بھی بک کرا دی۔ پہلے پہل بچوں کے پاس جانے پر بڑی تیاریاں اور چھوٹے بچوں کے لئے بڑی خریداری ہوتی تھی، لیکن اس دفعہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ بھی بہت محدود رہی۔ فلائٹ سے دو ہفتے پہلے ایئرلائن والوں کی طرف سے ای میل آئی کہ سفر سے تین دن پہلے کرونا کا ٹیسٹ کروائیں، ورنہ جہاز پر نہیں بٹھائیں گے۔ صرف کرونا ٹیسٹ منفی آنے پر ہی جہاز میں بیٹھنے دیا جائے گا۔

Read more

آزاد ریاست جموں و کشمیر سیاحوں کے لئے جنت، مگر کیسے؟ (2)

آزاد ریاست جموں و کشمیر کو اللہ تعالی نے خوبصورت اور حسین وادیوں، سرسبز جنگلات اور دلکش دریاؤں سے نوازا ہے۔ اسی لئے اسے جنت نظیر کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ریاست قدیم تاریخی ورثے کی مالک بھی ہے۔ سیاحتی نقطہ نظر سے یہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لئے ایک جنت ہے۔ اس کی وادیاں اور ان میں واقع قدرتی جھیلیں کسی بھی یورپین ملک سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ اس کا قدیم ترین تاریخی ورثہ کسی

Read more

آزاد ریاست جموں و کشمیر: سیاحوں کے لئے ایک جنت، مگر کیسے؟

آج سے چند سال پہلے بینک کی طرف سے بہت سے ممالک کی سیر کا موقع ملا۔ ان ممالک میں ترکی، برطانیہ، فرانس، روس، چین، سری لنکا، ملائشیا، تھائی لینڈ اور دوسرے کئی ایک ملک شامل ہیں۔ ترکی میں ہم نے جب انتالیہ کا پانچ دن کا ٹور کیا تو ایک دن ہمارے ٹور گائیڈ نے ہمیں بتایا کہ ترکی سیاحت سے سالانہ پچیس ارب ڈالر کماتا ہے۔ اس سے ان کے ملک کی ایئر لائن، ہوٹل اور اس کے

Read more

ملک میں کیا جنسی ہراسانی کے واقعات کم ہوں گے۔

پھر ایک اور بنت حوا زیادتی کا شکار ہو گئی۔ موٹر وے پر مشکل میں پھنسی ایک خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس وحشیانہ اقدام سے متاثرہ خاتون اندر سے کتنی ٹوٹ پھوٹ گئی ہے، وہ اور اس کے بچے کتنے بڑے نفسیاتی مسائل کا شکار ہو گئے ہیں اس کا اندازہ کسی کو نہیں ہے۔ انصاف ملنا تو دور کی بات ہے ان کے اور ان کے خاندان کی ہنستی بستی زندگی

Read more

علاقہ کھڑی: تاریخ کے آئینہ میں

انگلستان آنے سے دو دن پہلے اپنی جنم بھومی علاقہ کھڑی کے متعلق ایک کتاب ً کھڑی ًکے نام سے نظر سے گزری۔ فوراً خرید کر ایک پورا دن لگا کر پڑھ بھی ڈالی۔ فاضل مصنف نے اس کتاب پر بہت محنت کی ہے اور علاقہ کے متعلق کافی ساری معلومات اکٹھی کی ہیں۔ اس پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ لیکن کسی بھی مقام کا تاریخ اور جغرافیہ بیان کیے بغیر اس مقام کے بارے میں بات مکمل

Read more

کشمیر: نئے ایجوکیشن بورڈ ضرور بنائیں مگر

اگلے دن وزیر اعظم آزاد کشمیر نے اعلان کیا ہے کہ مظفر آباد اور راولاکوٹ میں دو نئے تعلیمی بورڈ بنائے جا رہے ہیں۔ جس سے ان علاقوں کے طلبا کو سہولت میسر ہو گی۔ بہت اچھا اعلان ہے۔ عوام کو سہولت ملنی چاہیے۔ لیکن یہ سہولت میرپور بورڈ کو ہی تقسیم کر کے کیوں دی جائے۔ اس وقت اگر پاکستان کا جائزہ لیا جائے تو پورے پاکستان میں اس وقت 28 ایجوکیشن بورڈ کام کر رہے ہیں۔ جو کہ بائیس کروڑ کی آبادی کے طلبا کو سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ تو چالیس لاکھ کی آبادی کے آزاد کشمیر کے لئے تو ایک ہی بورڈ کافی ہے جو اس وقت بہتر انداز میں سب کو ساری سہولیات فراہم کر رہا ہے۔

دیکھا گیا ہے کہ کم دفاتر زیادہ بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔ جب میرپور، کوٹلی اور بھمبر ایک ضلع تھا تو بہت بہتر انداز میں کام ہو رہا تھا۔ یہی صورت حال مظفرآباد اور راولاکوٹ میں بھی تھی۔ اب اتنی زیادہ اسٹیبلشمنٹ ہونے کے باوجود لوگ اپنے کاموں کے لئے خوار ہوتے رہتے ہیں۔

Read more

جھوٹے مقدمے: ایک غلط معاشرتی رویہ

چند دن پہلے کسی ویب میگزین کے صفحات میں بی بی سی کے حوالہ سے ایک خبر چھپی ہے۔ جس کے مطابق باپ نے اپنی حقیقی بیٹی سے زیادتی کر ڈالی۔ اسے خبر کو پڑھ کر میں سوچ میں پڑ گیا کہ ہماری اخلاقی قدریں کدھر گئیں۔ ہمارا معاشرہ اب کس راہ پر چل پڑا ہے کیوں اب باغ کا محافظ ہی اپنے باغ کو اجاڑنے لگا ہے۔ یہی سوچتے سوچتے مجھے آج سے بیس سال پہلے کا ایک واقعہ

Read more

کراچی: ایک شہر تھا عالم میں انتخاب

ساٹھ کی دیہائی میں کراچی پاکستان کا دارلخلافہ ہونے کے علاوہ سارے مشرق وسطی اور مشرق بعید میں بیروت کے بعد ایک بہت ہی خوبصورت اور ماڈرن شہر تھا۔ جدید ہوٹلوں کی کثرت تھی۔ جدید ترین سینما ہاؤسز تھے۔ تمام ملکوں کی ائرلائنز کی پروازیں کراچی میں اترتی تھیں اور ان سب ائرلائنز کے دفاتر بھی کراچی میں موجود تھے۔ ساٹھ کی دیہائی میں تو پاکستان کا واحد پاسپورٹ آفس بھی کراچی میں ہی ہوا کرتا تھا اور انٹرنیشنل ہوائی

Read more

مہاراجہ کشمیر کے دور میں کشمیری مسلمانوں کی حالت زار

بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں پانچ اگست 2019 سے لاک ڈاؤن اور کرفیو لگا رکھا ہے اور یہ سب کچھ صرف وہاں کے مسلمانوں کو تنگ کرنے کے لئے ہے۔ اگر ہم ریاست جموں وکشمیر کی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ مسلمانوں سے ایسا سلوک کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ اسلمانوں کے ساتھ یہ ناروا سلوک 1846 سے مہاراجہ کی حکومت سے اب تک ایک جیسا ہی ہے۔ 13 جولائی 1931 کا واقعہ

Read more

عالمی کل جماعتی زوم کنونشن لندن ۔ 5 اگست 2020ء

گلوبل پاکستان کشمیر سپریم کونسل لندن کی ایک غیر سیاسی تنظیم ہے جو دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں۔ معاشی ناہمواریوں اورمعاشرتی نا انصافی کے خلاف لوگوں کی مدد کرتی ہے۔ ممتازکشمیری سماجی راہنما راجہ سکندر خان تنظیم کے چیئرمین جبکہ معروف قانون دان چوہدری کالا خان اس کے صدر ہیں۔ تنظیم کی برطانیہ میں مختلف شہروں کے علاوہ آزاد کشمیر اور پاکستان میں بھی شاخیں کام کر رہی ہیں۔ گلوبل پاکستان کشمیر سپریم کونسل مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی

Read more

13 جولائی۔ یوم شہدائے کشمیر

13 جولائی 1931 ڈوگرہ حکومت کے ظلم کے خلاف جمع کشمیری مسلمان ڈوگرہ پولیس کی بندوقوں کے سامنے سرینگر کی جیل کے ساتھ باغ میں نماز کے لئے صف بستہ تھے۔ گورنر رائے ترلوک چند نے ان نہتے کشمیریوں پر پولیس کو گولی چلانے کا حکم دیا۔ ایک مسلمان جو دیوار کی بلندی سے اذان دے رہا تھاوہ پولیس کی گولی سے وہیں ڈھیر ہو گیا۔ جوش و جنون کا یہ عالم تھا کہ اس کی جگہ فوراً دوسرے آدمی

Read more

سب رنگ کہانیاں۔ سب رنگ کا عشق مشترک

سب رنگ ہم نے اس کی اشاعت کے پہلے یا شاید دوسرے سال میں پڑھنا شروع کیاتھا اور اس کی اشاعت کے آخری سال تک پڑھا۔ اس میں تب کی پڑھی ہوئی کہانیاں آج چالیس پینتالیس سال بعد بھی یاد ہیں۔ پرانی کتابوں کی الماری سے اگست 1971 کا سب رنگ کا شمارا چند دن قبل ملا تو اس میں ماں پر موپساں اور ولیم سمرسٹ ماہم کی کہانیاں پڑھ کر ماضی میں سب رنگ میں پڑھی ہوئی بہت سارے

Read more

کعبے پر پڑی جب پہلی نظر (حج سفرنامہ۔ 6)

رش کی دجہ سے طواف کرنے میں ہمیں تقریباً ڈیڑھ گھنٹا لگ گیا۔ طواف سے فارغ ہو کر ہم کچھ دیر ریسٹ کے لئے بیٹھ گئے۔ کوشش کی کہ مقام ابراہیم کے پاس نفل ادا کرسکیں لیکن رش کی وجہ سے بہت پیچھے جگہ ملی جہاں سب نے باری باری نفل ادا کیے۔ آب زمزم پیا اور فریش ہو کر سعی کے لئے صفا اور مروہ کی جانب بڑھے۔ وہاں بھی رش اسی طرح تھا۔ اماں حاجرہ نے ہزاروں سال

Read more

بینکوں میں کسٹمر سروسز کا گرتا ہوا معیار

چند دن قبل میں ایک بینک میں اپنا نیا اکاؤنٹ کھلوانے کے لئے گیا۔ کوئی دس صفحے کا اکاؤنٹ اوپننگ فارم اور اس کے ساتھ ایک پلندہ کاغذات کا پر کرنے کے لئے دیا گیا۔ میں نے اکاؤنٹ اوپننگ فارم اور اس کے ساتھ منسلکہ فارم پر کر کے متعلقہ افیسر کو دیے اور اسے سیونگ اکاونٹ کھولنے کو کہا۔ بائیومیٹرک اور دوسرے سارے ضروری کاغذات بینک میں دے کر میں گھر آ گیا۔ اگلے دن کچھ اور کاغذات پر

Read more

تارکین وطن کے لئے ایک مثبت پالیسی کی ضرورت۔ وقت کا ایک اہم تقاضا

1940 سے بہت پہلے کشمیر سے لوگ برطانیہ جانا شروع ہو گئے تھے کیونکہ برطانوی مرچنٹ نیوی کو اپنے جہازوں میں کوئلہ ڈالنے کے لئے مزدورں کی ضرورت تھی۔ ان وقتوں میں کشمیر سے نزدیک کراچی اور بمبئی کی ہی بندر گاہیں تھیں۔ اس لئے لوگ ان بندرگاہوں پر پہنچتے اور جہازوں میں سوار ہو کر برطانیہ پہنچ جاتے۔ 1940 میں ہی برطانیہ کو اپنی بڑھتی ہوئی معیشت اور صنعتی ترقی کے لئے سستے مزدوروں کی ضرورت تھی جو اس وقت متحدہ ہندوستان میں میسر تھے۔

اس لئے بہت سے ہندوستانی پارٹیشن سے پہلے مزدوری کے لئے برطانیہ گئے۔ پاکستان بننے کے بعد 1950 سے 1955 تک کشمیر سے بہت سے افراد برطانیہ پہنچے جو وہاں پہلے سے موجود اپنے بھائیوں کی وجہ سے فیکٹریوں میں ملازم ہو گئے۔ یہاں لوگوں میں ایک غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ منگلا ڈیم بننے کی وجہ سے میر پور کے لوگوں کو برطانیہ میں امیگریشن دی گئی۔ ایسی بات نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ منگلا ڈیم کی تعمیر کا آغاز 1958 میں ہوا، اس کی تکمیل 1967 میں ہوئی۔

Read more

کعبے پر پڑی جب پہلی نظر (5)

حسب معمول تہجد سے کچھ دیر پہلے میری آنکھ کھل گئی۔ ابھی خیمے میں سبھی سو رہے تھے۔ میں بیڈ سے اٹھ کر خیمے سے باہر آیا۔ طہارت خانہ بالکل خالی تھا۔ آرام سے غسل کیا اور تہجد کی نماز ادا کی۔ خیمے میں اب کافی لوگ بیدار ہو گئے تھے۔ فجر کی نماز سب کے ساتھ باجماعت ادا کی پھرآکر بستر پر لیٹ گیا۔ دو تین گھنٹے کی نیند کے بعد بیدار ہوا۔ جبار صاخب مکتب سے سب کے

Read more

ابا جی کی یاد میں

ماں باپ اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہیں۔ ماں کا نعم البدل تو پوری دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ باپ بچوں سے اظہار محبت کیے بغیر ان سے محبت کرتا ہے۔ جینے کا حوصلہ اور سلیقہ عطا کرتا ہے۔ زندگی کے نشیب و فراز میں اپنے بل بوتے پر چلنا سکھاتا ہے۔ ماں کی محبت کا اندازہ تو دنیا میں آنکھ کھولتے ہی ہو جاتا ہے جبکہ باپ کی خاموش محبت خود باپ بننے پر پتہ چلتی ہے۔

Read more

سب رنگ ڈائجسٹ۔ ایک یاد۔ ایک رومانس

سب رنگ ڈائجسٹ نوجوانی کا رومانس تھا جو اس کی اشاعت تک جاری رہا۔ انیس سو ستر کے شروع میں ایک دن ایک بک سٹال پر بہت خوبصورت سر ورق جس پر ایک خوبصورت حسینہ براجمان تھیں دیکھا، تو فوراً ً خرید لیا۔ اس وقت اس کی قیمت پونے دو روپے تھی جو جیب خرچ سے دیتے بڑی تکلیف ہوئی۔ گھر آکر اسے پڑھا اور پھر اسی کے اسیر ہو گئے۔ کوشش کر کے پچھلے شمارے ڈھونڈ کر خریدے۔ چند

Read more

دودھ پر پلے بیٹے اور پانی کو ترستی مائیں

دودھاں نال پُت پال کے، پچھوں پانی نوں ترسدیاں مانواں۔ گاڑی میں ماں کی یاد میں کیول گریوال کے گائے ہوئے یہ بول سن کر بے اختیار اپنی والدہ یاد آ گئیں اور آنکھیں بے اختیار چھلک پڑھیں۔ ہم دونوں میاں بیوی بہت برس بعد پچھلی عید پر اپنے والدین کی قبروں پر فاتحہ پڑھنے اپنے گاؤں جا رہے تھے۔ فاتحہ پڑھنے کے بعد سوچا کچھ رشتہ داروں کو ملتے ہیں۔ ایک رشتے کی خالہ کے گھر گئے۔ سہ پہر

Read more

کعبے پر پڑی جب پہلی نظر (سفر نامہ حج ۔ 4)

ہم جمرات کو روانہ ہوئے تو باہر درجہ حرارت بہت ہی بلند تھا۔ ہم نے چھتریاں لے لیں۔ کل گرمی میں عرصے بعد اتنا لمبا پیدل سفر کی وجہ سے پاؤں میں ورم آ گیا تھا اور کچھ چھالے بھی پڑ گئے تھے یہی حال بیٹی کا تھا پھر بھی اس کا حوصلہ بہت بلند تھا۔ بہت جوش وخروش سے اس نے منی سے عرفات تک اور واپسی کے سارے مراحل طے کیے تھے۔ ایک دفعہ بھی اپنے تھکنے کا

Read more

خاندانی لوگ اور انسانی محبت

سردیوں کی ایک یخ بستہ شام میں اور میرا بیٹا حسن اپنے فلیٹ کے فرنٹ روم میں ہیٹر کے آگے بیٹھے کافی پی رہے تھے۔ بابا جان۔ میری ایک دوست اور کلاس فیلو آپ سے ملنا چاہتی ہے۔ بیٹے نے کہا۔ کیوں کوئی خاص بات ہے، میں نے پوچھا۔ باباجانی، کوئی خاص بات نہیں، بس اس نے تین چار دفعہ آپ سے ملنے کا اشتیاق ظاہر کیا۔ خیر رہنے دیں اگر آپ مصروف ہیں تو کوئی بات نہیں پھر کبھی

Read more

کعبے پر پڑی جب پہلی نظر سفرنامہ حج۔ 3

ہم سب مسجد نمرہ کے باہر سڑک پر مزدلفہ جانے کے لئے تیار کھڑے تھے۔ مغرب ہو گئی تھی لیکن ابھی تک روانگی نہیں ہو رہی تھی۔ پتہ چلا کہ سعودی حکام نے راستہ بند کیا ہوا ہے جو روانگی کا وقت ہونے پر ہی کھلے گا۔ کچھ ہی دیر بعد آہستہ آہستہ قافلہ آگے سرکنا شروع ہو گیا۔ ہم سب بھی ہجوم کے ساتھ ساتھ چلنا شروع ہو گئے۔ اگست کا وسط تھا اسی کے لحاظ سے موسم میں بھی کافی حدت تھی۔ چلتے چلتے پتہ نہیں کب ڈاکٹر صاحب اور ان کی فیملی ہم سے بچھڑ گئے۔

Read more

میں ڈائجسٹ ریڈر تھا

ساٹھ کی دہائی میں ہر مہینے ڈاک کے ذریعے خواتین کے دو ماہنامے ”حور“ اور ”زیب النساء“ ہمارے گھر میں آتے تھے۔ دور دیہات میں رہنے کے باوجود یہ رسالے بہنوں کے پڑھنے کے لئے والد صاحب نے لگوائے ہوئے تھے۔ اس دور میں ایک چھوٹے سے گاؤں کے رہنے والے ابا جان کی روشن خیالی آپ جان سکتے ہیں۔ بہنیں تب رسالے میری پہنچ سے بچا کر رکھتی تھیں مبادا میں انھیں پھاڑ نہ دوں۔ والد صاحب جب بھی شہر سے واپس آتے، ان کے تھیلے میں سے ایک دو کتابیں ضرور نکلتی تھیں جو وہ اپنی الماری میں سنبھال کے رکھتے تھے۔

Read more

کعبے پر پڑی جب پہلی نظر۔ سفرنامہ حج سے اقتباس۔ قسط نمبر۔ 2۔

حج اجتماعیت۔ قربانی اور صبر و استقامت کا سبق دیتا ہے۔ ایک اللہ۔ ایک نبی اور ایک مذہب کو ماننے والے مختلف ممالک۔ مختلف رنگ اور نسل کے افراد کا ایک صف میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا اجتماعیت کا ہی درس ہے جو اسلام دیتا ہے۔ ۔ عرفات میں وقوف حج کا ایک اہم فرض ہے جس کے ادا کیے بغیر حج نہیں ہوتا۔ نویں ذوالحج کو فجر کی نماز کے بعد حجاج اکرام منی سے عرفات کے لئے روانہ ہوتے ہیں۔ منی سے عرفات کا فاصلہ تقریباً پانچ کلو میٹر ہے۔

صبح سویرے مکتب کی بسیں خیموں کے باہر سڑک پر آ جاتی ہیں جو سب حاجیوں کو لے کر عرفات میں اپنے مکتب

Read more

سفرنامہ حج: کعبے پر پڑی جب پہلی نظر

منی۔ عرفات اور مزدلفہ میں ہر سال پانچ دن کے لئے ایک حسین شہر بستا ہے۔ ہر سال پچیس سے چالیس لاکھ تک لوگ فریضہ حج ادا کرنے کے لئے یہاں جمع ہوتے ہیں۔ سفید رنگ کے خیموں کے شہر میں اسی رنگ کے پاکیزہ لباس میں ہر نسل ہر رنگ ہرملک کے باشندے اکٹھے پانچ دن گزارتے ہیں۔ خیموں کے اس شہر میں ہر طرف پاکیزگی ہی پاکیزگی نظر آتی ہے۔ یہیں نویں زوالحج کو ایک دن کے لئے

Read more

پاکستان فلم انڈسٹری کی منفرد لب و لہجے کی گلوکارہ ۔ مالا

آج کل ہمارے زیادہ تر نئے گلوکار ماضی کے مقبول گلوکاروں کے گائے ہوئے مقبول گانے جھنکار کے ساتھ گا کر مشہور ہو رہے ہیں۔ پاکستانی موسیقی کی تاریخ پر اگر ایک نظر ڈالیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ ماضی میں ہمارے فنکاروں نے کیسے بے سروسامانی اور پرانے موسیقی کے آلات کے ساتھ کام کر کے کتنے کتنے شاہکار اور رسیلے نغمے تخلیق کیے ہیں جو آج بھی ہمارے کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ ایک ایک گانے کے

Read more

بیس ہزار کا قرض ابھی نہیں اترا

یہ دو ہزار آٹھ کی بات ہے میں سپین کے شہر بارسلونا میں اپنے برادر نسبتی کے پاس چھٹیاں گزارنے آیا ہوا تھا۔ ہمارا چائے کی میز پر اگلے دن شہر سے کہیں باہر جانے کا پروگرام بن رہا تھا۔ بچے بار بار کہہ رہے تھے کہ ہم لوگ  ًاندورہً چلتے ہیں۔  ًاندورہ ً سپین اور فرانس کے درمیان ایک چھوٹا سا ملک بلکہ ایک شہر کہہ لیں ہے۔ یہ 470 مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا چھوٹا سا ملک

Read more

زکوۃ کمیٹیوں کے مشاہدات: ہمیں شرم نہیں آتی

آج کل ایک خبر بہت سارے چینل پر چل رہی ہے کہ ً احساس ً پروگرام کے تحت لاک ڈاؤن کے تحت غریب لوگوں کو ملنے والی امداد سے کچھ رقم کاٹ کر ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔ کچھ لوگوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ دو تین ماہ قبل ایک رپورٹ منظر عام پر آئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ بہت سارے بڑے بڑے سرکاری افسران اپنے اہل خانہ اور اپنے نجی ملازمین کے نام بینظیر

Read more

سادہ سے معصوم مریدوں کی عقیدت اور پیر صاحب

ان دنوں سوشل میڈیہ پر ایک ویڈیو بہت وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک نوجوان پیر صاحب پلنگ پر بیٹھے ہوئے اپنے فون پر مگن ہیں اور مریدین سامنے فرش پر دری پر بیٹھے ہیں۔ مریدین ان کو نذرانے دے رہے ہیں اور وہ نوٹوں کو بڑی نخوت سے ہاتھ لگا نیچے پھینک رہے ہیں۔ اتنے تفاخرانہ لور تکبر انہ انداز دیکھ کر بہت ہی دکھ بھی ہوا اور افسوس بھی کہ اس تعلیم یافتہ دور اور اتنا وقت

Read more

عزیز میاں قوال کے ساتھ ایک یادگار شام

فروری کی ایک خنک شام سب دوست میرے گھر پر جمع تھے اور گاؤں کے دربار کا عرس کا معاملہ زیر بحث تھا جو ہم مارچ کے دوسرے ہفتے میں مناتے تھے۔ صوبیدار لیاقت ہماری کمیٹی کا سب سے سرگرم رکن تھے جو بار بار مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ اس دفعہ کس قوال کو عرس پر بلائیں گے۔ میں اس بارے میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ چوہدری زمان نے کہا یار اس دفعہ تو عزیز میاں

Read more

کرونا وائرس: علامات اور احتیاطیں

کرونا وائرس ایک متعدی وبائی مرض ہے جو کہ ایک وائرس کرونا سے پھیلتی ہے۔ اس بیماری سے نظام تنفس سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ ابتداء میں خشک کھانسی اور تیز بخار کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ جو کچھ ہی دنوں میں شدت اختیار کر لیتی ہیں جس سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ کمزور قوت مدافعت رکھنے والے اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا اشخاص جلدلقمہ اجل بن جاتے ہبں۔ یہ ایک متعدی مرض ہے جو ایک انسان سے دوسرے انسان کو لگتی ہے۔ چونکہ اس کا علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوا اس لئے احتیاط اور صرف احتیاط سے ہی اس سے بچا جا سکتا ہے۔

Read more

فردوس۔ پاکستانی فلمی دنیا کی ایک منفرد اداکارہ

پر اعتماد۔ ملنسار بہت پیاری اداکارہ فردوس کو لوگ اب بھول گئے ہیں۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں وہ لاکھوں لوگوں کے دل کی دھڑکن تھی۔ اس نے لاہور کی ہیرا منڈی میں آنکھ کھولی۔ اس کا گھریلو نام کوثر رکھا گیا۔ اس زمانے میں فلمی دنیا میں داخل ہونے والی زیادہ تر لڑکیوں کا تعلق اسی ہیرامنڈی سے ہوتا تھا۔ اس وقت کی بہت سی مشہور ترین ہیروئینوں کا تعلق اسی علاقہ سے تھا۔ شان اور آن والی

Read more

میاں محمد بخش: ایک حقیقت شناس شاعر

میاں محمد بخش رحمتہ کی تصنیف ً سیف الملوک ً کو پنجابی ادب میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ آپ کی دوسری تصانیف کو بھی بہت اہمیت حاصل ہے لیکن جو شہرت سیف الملوک کے حصے میں آئی وہ دوسری کتب کے حصے میں نہیں آئی۔ آپ ایک بلند پایہ اور صاحب طرز پنجابی شاعر ہونے کے علاوہ ایک با عمل صوفی بزرگ بھی تھے۔ آپ مارچ 1831 میں خانقاہ پیراشاہ غازی چک ٹھاکرہ میں پیدا ہوئے۔ یہ مقام موجودہ

Read more

وزیروں کی بے احتیاطیاں: طاقت، سازشوں اور بدعنوانیوں کی اندرونی کہانیاں۔ دوسرا حصہ

ایک سرمئی ہفتہ کے دن حکومتی سرگرمیوں سے دور دس سال سے حکمران کنزرویٹو جماعت کا وزیر دفاع ”جون پروفیومو“ اپنی ایکٹریس بیوی ”ویلری ہوبسن“ کے ساتھ لندن سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع بکنگھم شائر کاؤنٹی کے قصبہ کلائیویڈن میں ہفتہ وار چھٹی سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ کلائیویڈن برطانیہ کے ایک بڑے نواب خاندان ”آسٹر“ کی خاندانی سیٹ تھی۔ پروفیومو کا دوست لارڈ آسٹر اکثر یہاں بہت بڑی بڑی دعوتیں کرتا رہتا تھا۔ امراء۔ روساء۔ شہزادیاں۔ گورنمنٹ کے بڑے بڑے افسر ان دعوتوں میں شرکت کیا کرتے تھے۔

Read more

وزیروں کی بے احتیاطیاں: طاقت، سازشوں اور بدعنوانیوں کی اندرونی کہانیاں

آج کل سوشل میڈیہ پر پاکستان کی ٹک ٹاک گرلز حریم شاہ اور صندل خٹک کے بہت چرچے ہیں۔ یوٹیوب پر ان دونوں کی موجودہ حکومتی وزرا کے ساتھ متنازعہ ویڈیوز اپ لوڈ کیے گئے ہیں۔ جن میں وہ ان حساس ترین مقامات پر دندناتی پھرتی نظر آتی ہیں جہاں عام آدمی جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ بہت سے وزرا ان لڑکیوں سے تعلق منظرعام آنے پر خوف زدہ ہیں۔ اس سے قبل ساٹھ اور ستر کی دیہائی

Read more

ٹریفک کنٹرول آج کی دنیا کا ایک بہت بڑا مسئلہ

موٹر کاریں پچھلی صدی کے آغاز میں ہی چلنی شروع ہو گئی تھیں۔ اس سے قبل زیادہ تر آمدورفت گھوڑے اور دوسرے جانوروں کی مدد سے چلنے والی گاڑیوں سے ہوتی تھی۔ پھر انجن کی دریافت کے بعد پہلے ریل گاڑی اور پھر موٹر گاڑیاں وجود میں آئیں۔ دو پہیوں۔ تین پہیوں اور پھر چار پہیوں والی گاڑیاں ایجاد ہوئیں اور پٹرول اور ڈیزل سے چلنا شروع ہوئیں جس سے ذرائع آمدورفت میں تیزی آ گئی۔ مہینوں کا سفر دنوں

Read more

برطانوی تعلیمی نظام کی چند باتیں

پاپا جان۔ صبح نور کے سکول میں ایک ورکشاپ ہے۔ آپ نو بجے پلیز اٹینڈ کر لیں گے۔ میں نے ایک ضروری میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے۔ بیٹے نے شام کھانے کی میز پر کہا۔ میں چلا جاؤں گاآپ فکر نہیں کرو، میں نے جواب دیا۔ صبح وقت مقررہ سے چند منٹ پہلے میں تیار ہو کر سکول پہنچ گیا۔ والدین کی ایک لمبی قطار تھی جو سب سکول کے اندر جانے کا انتظار کر رہے تھے۔ زیادہ تر خواتین تھیں

Read more

میرے میرپور شہر میں زلزلے کی قدرتی آفت

بچپن میں ہم بڑے بوڑھوں سے سنتے تھے کہ ہماری زمین کو ایک بیل نے اپنے سینگ پر اٹھا رکھا ہے اور جب وہ تھک کر زمین کو اپنے دوسرے سینگ پر اٹھاتا ہے تو زلزلہ آتا ہے لیکن جب بڑے ہو کر سائنس پڑھی تو زلزلوں کا راز آشکارہ ہوا۔ جس کے مطابق زمیں کی سطح بہت سے ٹکڑوں سے مل کر بنی ہوئی ہے۔ جن کو پلیٹس کہتے ہیں۔ ۔ زمین کی تہہ میں میلوں نیچے گہرائی میں

Read more

ہالی ووڈ سٹار راک ہڈسن کی زندگی کے چند خفیہ پہلو

راک ہڈسن پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں ہالی ووڈ کا ایک کامیاب ترین فلم سٹار تھا۔ وہ ایک وجہیہ، خوبصورت، ہینڈسم اور لاکھوں دلوں میں بسنے والا فلمی ہیرو تھا۔ پچاس کی دہائی میں اس کی فلموں نے ہالی ووڈ اور امریکن باکس آفس پر دھوم مچا رکھی تھی۔ چار دفعہ اس نے گولڈن گلوب ایوارڈ جیتنے کے علاوہ اور بہت سارے ایوارڈ اپنے نام کیے۔ اپنے وقت کی تمام اچھی ہیروئینز کے ساتھ اس نے کام کیا۔ 1985

Read more

جان سے عزیز بیٹیوں کے دکھ

بیٹی ہوئی ہے۔ ہسپتال سے فون پر اطلاع ملی۔ میں نے فون بند کیا اور آفس کے میسنجر کو بلایا اور اور اسے پیسے دے کر دو ڈبے مٹھائی لانے کو کہا۔ ایک ڈبہ اپنے آفس میں تقسیم کی اور ایک ڈبہ ہسپتال کے لئے رکھ لی۔ مٹھائی کھانے پر کولیگ نے پو چھا ”کیاخوشی ہے؟“ میں نے کہا کہ ”بیٹی پیداہوئی ہے۔“ ”پہلی پہلی بیٹی ہے؟“ ”نہیں دوسری ہے“ میں نے جواب دیا تو اس نے مجھے حیرت سے دیکھا۔ مٹھائی لے کر میں ہسپتال پہنچا۔ کمرے میں دو تین رشتے دار خواتین موجود تھیں اور کمرے کا ماحول کچھ سنجیدہ سالگ رہا تھا۔

Read more

پاکستانی ٹیلنٹ کیوں بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے؟

بھٹو صاحب ایک وژنری لیڈر تھے۔ 1976 میں ان کی ہدایت پر لیبر منسٹری کے زیر اہتمام ایک ڈیپارٹمنٹ ”نیشنل ٹیلنٹ پول“ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس ڈیپارٹمنٹ کا بنیادی مقصد پاکستان کے اندر اور پاکستان سے باہر اعلی تعلیم یافتہ پاکستانی مرد و خواتین کا ڈیٹا اکٹھا کرنا تھا۔ اس لسٹ میں ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، سائنسدان اور اقتصادی ماہر شامل تھے۔ راقم کو ایک سال اس ڈیپارٹمنٹ کے ابتدائی دنوں میں کام کرنے کا موقع ملا۔

اس وقت کے اس ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل کی بریفنگ کے مطابق بھٹو صاحب کا وژن یہ تھا کہ بیرون ملک اچھی یونیورسٹیوں، ہسپتالوں اور دیگر ریسرچ کا کام کرنے والے ڈاکٹروں، پروفیسروں اور سائنسدانوں اور اقتصادی ماہرین کو پاکستان بلایا جائے تا کہ وہ یہاں کی یونیورسٹیوں، ہسپتالوں اور ریسرچ لیبارٹریوں کو یورپ امریکہ اور برطانیہ کے اداروں کے معیار کے مطابق اپ گریڈ کرنے میں مدد کریں۔

Read more

سیاسی دباؤ۔ انتظامی اور پولیس افسران کی تعیناتی اور میرٹ

1991 ء میں ٹریفک پو لیس پنجاب نے گاڑیوں کے کالے شیشوں کے خلاف ایک مہم چلا رکھی تھی۔ پنجاب اسمبلی چیمبر کے سامنے ایک اے ایس آئی نے مسلم لیگ کے دو ایم پی ایز کی گاڑیوں کو روک کر ان پر سے کالے شیشے اتارے، کیونکہ وہ غیر قانونی تھے۔ انہوں نے ایک ادنی ٰ پولیس اہلکار کے ہاتھوں اس عمل کو اپنی بے عزتی تصور کیا۔ اسمبلی کا سیشن جاری تھا۔ دونوں ایم پی اے جذبات اور غصے کی حالت میں ایوان میں داخل ہوئے اور اپنی توہین پر بلند آواز میں احتجاج کیا۔

Read more

سری لنکا۔ چائے کی سرزمین۔ قسط نمبر 6

کینڈی کے قدیم بادشاہی محلات یورپ۔ روس اور انگلینڈ کے شاہی محلات کو ان ممالک نے اپنی اصلی حالت میں محفوظ کر لیا ہے اوراب ان پر ٹکٹ لگا کر سیاحوں کے لئے کھول دیے ہیں۔ برصغیر میں بھی بادشاہوں نے بہت بڑے بڑے اور بہت خوبصورت محل تعمیر کروائے تھے۔ لیکن بیرونی حملہ آوروں نے حملوں کے دوران ان کو تباہ بھی کیا اور بہت سارا سامان لوٹ لیا۔ رہتی کسر برطانیہ نے اپنے راج کے دوران نکال دی۔

Read more

سری لنکا چائے کی سر زمین۔ قسط نمبر 5۔ کینڈی شہر اور بدھا کی یادگاریں

میں صبح جلدی اٹھ گیا اور تیار ہو کر ناشتہ کرنے ڈائننگ روم میں پہنچ گیا۔ فارمیسی والی رات کھائی ہوئی گولیوں نے تیر بہف کام کیا تھا جس سے میرا گاؤٹ کا درد بالکل ٹھیک ہو گیا تھا۔ ہال میں ہمارے گروپ کے ابھی صرف چند لوگ ہی ناشتہ کرنے پہنچے تھے۔ ہال میں مغربی ٹورسٹ کی زیادہ تعداد تھی جن کا گروپ بھی شاید جلدی سیر کے لئے نکلنے والا تھا۔ میں جوس کا گلاس اور کچھ فروٹ

Read more

کولمبو شہر کی رونقیں

کولمبوسمندر کے کنارے آباد سری لنکا کا شہر ہمارے کراچی سے تقریبا ملتا جلتا ہے۔ یہ قدیم اور جدید فن تعمیر کا ایک حسین امتزاج ہے۔ کبھی کراچی ایک عروس البلاد تھا، پچاس سے ستر کی دیہائی تک یہ مشرق کا ایک ترقی یافتہ اور انٹرنیشنل شہر تھا، جس کی راتیں جاگتی تھیں۔ پھر پتہ نہیں کس کی اس شہر کو نظر لگ گئی۔ سیر کے لئے بیرون ممالک جانے والے نئے لوگوں کو میرا مشورہ ہے۔ جس ملک میں

Read more

سری لنکا قسط نمبر 3۔ جیفری باوا کی جاگیر اور مدھو گنگا کے قدیم دریائی جنگلات

چار اکتوبر کی 2105 ء کی صبح 8 بجے الارم کی آواز سے آنکھ کھلی تو فورا تیار ہو کر ناشتے کے لئے بریک فاسٹ ہال میں پہنچے۔ ہمارے سارے ہی ساتھی ناشتہ کے لئے ہال میں موجود تھے اور ناشتہ کرنے کے ساتھ ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ میں بھی عابد سلطان کے ساتھ میز پر بیٹھ گیا اور ناشتے کی چیزیں لا کر ناشتہ کرنے لگا۔ ہمارے سارے ہی ٹورز میں ہم سب کے لئے بینک کی

Read more

سری لنکا کے ساحل پر پنجابی ماہیے

سہ پہر کوآنکھ کھلی تو کمرے کا بغور جائزہ لیا، بہت ہی اچھے طریقہ سے سجا سجایا کشادہ کمرہ تھا اور سب سے بڑی بات کہ کھڑکی سے سمندر کا نظارہ۔ پردہ ہٹا کر دیکھا تو سمندر کی لہریں ایک عجیب بہار پیش کر رہی تھیں۔ تیار ہو کر میں لابی میں آیا تو کراچی والا گروپ ابھی ابھی پہنچا تھا اور خوب ہلا گلا مچا رکھا تھا۔ کراچی کے دو تین پرانے ساتھیوں سے ملنے کے بعد میں ہوٹل کا جائزہ لینے لگ گیا۔ ہوٹل کے ساتھ ہی ایک بہت بڑا شاپنگ سینٹر تھا۔

Read more

سری لنکا چائے کی سرزمین کی سیر قسط نمبر ۱

پچھلے تین سال سے بینک کے آزاد کشمیر ریجن کی نمائندگی ہر فارن ٹرپ میں ہو رہی تھی۔ میں اور میری ٹیم کے ممبران ہر فارن ٹرپ میں موجود ہوتے تھے۔ دوسرے ریجن کے بزنس ہیڈز مجھے پوچھتے تھے کہ آپ کیا کرتے ہو جس سے آپ کا نام ہر ٹرپ میں آجاتا ہے۔ میں انھیں ہمیشہ کہتا تھا کہ یار اس میں میرا کوئی کمال نہیں ہے، بلکہ یہ میری ٹیم کا کمال ہے جو سارے ٹارگٹ پورے کرتی

Read more

سپیشل آپریشن ایگزیکٹو جاسوسی تنظیم اور مملکت خداداد پاکستان

برطانیہ میں میٔی 1940 میں سر ونسٹن چرچل وزیر اعظم بنے۔ اس وقت دوسری جنگ عظیم شروع ہو چکی تھی۔ جنگوں میں جاسوسی تنظیمیں ایک اہم رول ادا کرتی ہیں۔ برطانیہ میں اس وقت MI 6 کے علاوہ دو تین اور چھوٹی چھوٹی جاسوسی تنظیمیں جاسوسی کا کام کر رہی تھیں۔ سر ونسٹن چرچل وزیراعظم بنتے ہی ایک ایسی خفیہ تنظیم کی ضرورت محسوس کی۔ جو دشمن ملک کے اند ر رہ کر وہاں بدامنی پھیلایے۔ اس ملک کے لوگوں کو برطانیہ کی حمایت پر آمادہ کرے۔

Read more

ریڈیو: بچپن اور جوانی کا ایک رومانس

مجھے آزاد کشمیر ریجن کا چارج سنبھالے ابھی تھوڑا عرصہ ہی ہوا تھا کہ ایک دن میری سیکریٹری نے فون کا بزر بجا کربتایا کہ ریڈیو پاکستان سے سٹیشن ڈایٔریکٹرصاحب بات کریں گے۔ لایٔن پر چودھری شکیل صاحب سٹیشن ڈایٔریکٹر ریڈیو پاکستان تھے۔ شاہ جی بینکنگ کے حوالے سے ریڈیو پر ایک پروگرام کرنا ہے۔ پہلے تو میں حیران ہوا پھر فورا جواب دیا کیوں نہیں جناب۔ انھوں نے پروگرام کا دن اور وقت بتایا اور فون بند کر دیا۔

Read more

لندن کی سرد رات اور تنہا لڑکی

لندن شہر میں ٹیکسی چلانا بہت ہی جان جھوکھوں کا کام ہے۔ لیکن اس میں کمائی بہت زیادہ ہے۔ میں نے بھی ستر کی دھا ئی کے آخری سالوں میں ٹیکسی چلانا شروع کی۔ پہلے پہل تو کافی ڈر لگا رہتا تھا کسی مسافر سے لڑا ئی نہ ہو جایٔے خاص کر کالوں سے۔ غلط چالان نہ ہو جایٔے جس کو ہم یہاں ٹکٹ کہتے ہیں۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ تجربہ ہوتا گیا۔ بہت سے ملکوں کی سیر کے بعد

Read more

بنت حوا کو جنسی درندوں سے کیسے بچایاجائے؟

ایک سال قبل قرآن مجید پڑھنے کے لئے جانے والی دس سالہ زینب کو محلہ کے ہی ایک لڑکے نے اغوا کیا۔ جس بے جاہ میں رکھا۔ اس کو اپنی جنسی درندگی کا نشانہ بنایا اور قتل کر کے لاش کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دی۔ پولیس نے اپنی روایتی بے حسی اور بے پروائی سے اس کیس کو ہینڈل کیا۔ سوشل۔ پرنٹ میڈیا اور ٹی وی چینلز کے وا ویلا کرنے اوروالدین کے آواز بلند کرنے پر تحقیقات کا

Read more

پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور اور لندن کی ایک سوسائٹی گرل

انگلستان میں ستر کی دہائی میں آیا تھا۔ جہاں میرے والد کافی عرصہ پہلے کام کے لئے آئے تھے۔ یہاں آتے ہی مجھے سکول میں داخل کرا دیا گیا جہاں سے میں نے GCSE جو کہ میٹرک کے برابر ہوتا ہے کیا۔ اس وقت آگے تعلیم حاصل کرنے کا ہماری کمیونٹی میں کچھ زیادہ شعور نہیں تھا۔ 16 سال کی عمر میں عموماً کام پر لگا دیا جاتا تھا۔ میں نے بھی سکول چھوڑنے کے بعد ایک دوکان پر کام

Read more

گورنمنٹ کالج میرپور کے سابق طلبا کی تنظیم اولڈ سروشنیز یونین

میرپور آزاد کشمیر کا ایک قدیمی اور سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ ایک بہت خوبصورت شہر ہے جسے مِنی لندن بھی کہا جاتا ہے۔ گو کہ یہ شہر آج کل زبوں حالی کا شکار ہے۔ یہ شہر 1640 عیسوی میں ایک حکمران میراں شاہ غازی نے آباد کیا۔ قدیمی شہر 1960 کی دہائی میں منگلا ڈیم بننے کی وجہ سے ڈیم کے پانی میں ڈوب گیا۔ اور اس کی جگہ منگلا جھیل کے کنارے بلاہ گالا کی پہاڑیوں پر

Read more

حضرت میاں محمد بخش: ایک آفاقی شاعر

میاں محمد بخش کی نگری کا باسی ہو نے کی و جہ سے ہم پر ایک قرض ہے کہ ان کے کلام پر تحقیق کی جائے۔ حضرت میاں محمد بخش رحمتہ ایک بلند درجہ عارف اور ولی اللہ ہونے کے علاوہ ایک آفاقی شاعر بھی تھے۔ آپ نے عاشق حقیقی اور محبوب حقیقی کے تعلق کو مجازی روپ میں پیش کیا ہے۔ آپ کا اصل موضوع حسن وعشق اور پیار محبت ہے۔ خدا کی ذات اور صفحات کو پہچاننا۔ کارخانہ قدرت

Read more

حضرت میاں محمد بخش عارف کھڑی ایک سخن شناس آفاقی شاعر

میاں محمد بخش کی نگری کا با سی ہو نے کی و جہ سے ہم پر ایک قرض ہے کہ ان کے کلام پر تحقیق کی جا ہے ان پر مقالے لکھے جاہیں۔ راقم نے کچھ کوشش کی ہے جس کی پہلی قسط پیش خدمت ہے پسند آنے پر اپنی آرا سے آگاہ ضرور کریں۔

حضرت میاں محمد بخش رحمتہ ایک بلند درجہ عارف اور ولی اللہ ہونے کے علاوہ ایک آفاقی شاعر بھی تھے۔ آپ نے عاشق حقیقی اور محبوب حقیقی کے تعلق کو مجازی روپ میں پیش کیا ہے۔ آپ کا اصل موضوع حسن وعشق اور پیار محبت ہے۔ خدا کی ذات اور صفحات کو پہچاننا۔ کارخانہ قدرت میں تدبر اور فکر کرنا۔ اپنے آپ کو پہچاننا اور خالق کائنات کی معرفت میں لگے رہنا اور طلب وجستجو سے کبھی نہ اْکتانا آپ کی شاعری کے موضوہات ہیں۔ لیکن آپ کا بنیادی نظریہ طلب۔ لوڑ اور جستجو ہے۔

Read more

صحت مند گردے۔ صحت مند زندگی

گردوں کا عالمی دن ہر سال منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عالمی سطح پر گردوں کی انسانی جسم میں اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ عالمی سطح پر اس دن کو باقاعدہ طور پر منانے کا آغاز 2006 میں ہوا تھا۔ یہ دن ہر سال مارچ کی دوسری جمعرات کو منایا جاتا ہے۔ اس دن دنیا میں سینکڑوں مقامات پر گردوں کے متعلق سمینار منعقد ہوتے ہیں۔ جن میں گردوں کی بیماریوں کے متعلق آگاہی۔ بیماری سے خطرات اور گردے کے امراض کے ساتھ کیسے جیا جاتا ہے کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ انسانیت کی بھلائی اور گردوں کو صحت مند رکھنے کی اہمیت پر یہ اہم دن منایا جاتا ہے۔

Read more

جدید قحبہ خانے اور ایک معصوم لڑکی

جناب شورش کاشمیری کی کتاب ”اس بازار میں“ اوائلِ جوانی میں پڑھی تھی۔ اس کے بعد ایک انگریز مصنفہ کی لاہور کے بارے میں ایک کتاب نظر سے گزری جو کہ انہوں نے لاہور کے ریڈلائٹ ایریا میں رہ کر باقاعدہ تحقیقات کے بعد لکھی۔ کافی عرصہ سے پہلے اس موضوع پر لکھنے کا شوق ہوا کہ کیوں نہ اس دشت کے بارے میں کھوج لگایا جائے۔ تقریباً دس سال پہلے اس کے لئے باقاعدہ ہوم ورک شروع کیا۔ اس دوران اندرون ملک بڑے شہروں کا سفر اور مختلف زریعوں سے مواد اکٹھا کرنا جس کے لئے بہت سارا وقت اور بہت زیادہ پیسوں کا بھی زیاں ہوا۔پھر کمپنی کے تعاون سے بہت سے بیرونی ممالک جن میں یورپ۔ مڈل ایسٹ اور فار ایسٹ کے ملکوں مین جانے کا اتفاق ہوا۔ اس دوران تقریباً سو سے زیادہ انٹرویوز اور مختلف ملکوں کے مختلف مقامات کے حالات جاننے کا موقع حاصل ہوا۔ بہت زیادہ نوٹس اور تصاویر اکٹھی ہوئیں۔ جس کو کتابی صورت میں مرتب کرنے کا کام جاری ہے جن میں سے چند اقتباسات پیش ہیں۔

Read more

خوشونت سنگھ کے زندگی کے بارے میں بارہ اصول

خوشونت سنگھ کا شمار ایک بہترین مصنف۔ کالم نگار۔ ایڈیٹر اور سیاستدان کے طور پر ہوتا ہے۔ ہندوستان ٹائمز۔ نیشنل ہیرالڈ اور السٹریڑڈ ویکیلی آف انڈیا کے ایڈیٹر رہے۔ بہت ساری کتابوں کے مصنف ہیں جن میں I shall not have to Nigatingal، Train to Pakistan اور دہلی کلاسک میں شمار ہوتے ہیں۔ 95 سال کی عمر میں انہوں نے اپنا آخری ناول 2010 The Sunset clubمیں دنیا کی مشہور پبلشنگ کمپنی پنگیوین بکس نے شائع کیا۔ان کی اپنی خود نوشت سوانح عمری 2002 Truth، Love and little Maliceمیں پنگیوین بکس نے ہی شائع کی تھی۔ 1980 سے لے کر 1986 تک ممبر پارلیمنٹ رہے۔ انڈیا کے سارے ہی بڑے ایوارڈ سے ان کو نوازا گیا۔ ان کو 1974 میں بھارت کے بڑے ایوارڈ۔ ”پدما بھوشن“ دیا گیا۔ جو انہوں نے ہندوستان کا سکھوں کے خلاف ایکشن میں 1984 میں گولڈن ٹیمپل پر فوج کے حملہ پر حکومت کو واپس کر دیا۔ 2014 میں ان کا 99 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ اپنی آخری کتاب ”میری زندگی کا سبق“ ”The lessons of my life“ میں انہوں نے اپنی خوشحال اور لمبی زندگی گزارنے کے بارہ اصول لکھے ہیں۔ جن پر عمل کر کے ایک اچھی اور صحت مند زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق آدمی کے جینز اس کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

Read more

مغرب میں بیوی سے محبت کی مثالیں کم تو نہیں

کہتے ہیں بیوی سے بڑھ کر کوئی دوست نہیں ہو سکتا۔ تجربے کی بات ہے۔ کہ زمانہ افلاس میں دوست احباب اور خونی رشتے تک ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن بیوی نکاح کے وقت بولے گئے تین الفاظ (قبول ہے ) کا مان رکھتی ہے۔ ساری عمر اس عہد کو نبھاتی ہے اور ہر حال میں مرتے دم تک مرد کا ساتھ دیتی ہے۔

اسی طرح شوہر کی حیثیت ایک سائباں کی سی ہوتی ہے۔ جو اپنی بیوی کو ہر طرح کے حالات میں تخفظ کا احساس دیتا ہے۔ کبھی قسمت کی سختی کو اپنی تدبیر سے آسان کرتا ہے۔ اور کبھی زمانے کی بے رخی بے امتنائی پر اپنی بے لوث محبت کا یقین دلاتا ہے۔

مشرقی عورت اور مرد تو اس رشتے کو نبھاتے ہی ہیں۔ مغرب والوں کی نظر میں بھی یہ ایک مقدس رشتہ ہے۔ جس کو وہ آخری دم تک نبھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے سینئر کو لیگ اور ممتاز آرٹسٹ اور ادبی شخصیت ذوالقرنین جمیل عالی عرف راجو جمیل نے اپنے لندن وزٹ کا ایک واقعہ بیان کیا انہی کی زبانی پیش خدمت ہے۔

Read more

بے جی اب میں روتا نہیں ہوں

پتر اب تم بڑے ہو گئے ہو۔ اس لیے علیحدہ سویا کرو بے جی نے بستر بچھاتے ہوئے مجھے کہا۔ نہیں ابھی تو میں بہت چھوٹا ہوں اور گھر میں بھی سب سے چھوٹا ہوں اس لیے میں آپ کے ساتھ ہی سوؤں گا۔ میں نے ضد کر کے کہا۔ میں جو ساتویں جماعت کا طالب علم تھا اور ابھی تک بے جی کے پاس سوتا تھا۔ اور روز ان سے کہانی سنتا تھا۔ اس لیے جب انہوں نے علیحدہ سونے کی بات کی تو میں رونے لگا۔ اور میرا رونا بی جی کیسے برداشت کر سکتی تھیں انہوں نے مجھے گلے لگایا اور کہا پتر ٹھیک ہے۔ رونا بند کرو جیسا تم کہو گے ویسا ہی ہو گا۔

بے جی ہماری بڑی والدہ تھیں۔ ان کی شادی اوائل عمری میں ہمارے والد صاحب سے ہو گئی۔ بھلے وقت تھے۔ غربت کا زمانہ تھا۔ کشمیر میں ڈوگرہ حکومت تھی۔ اور مسلمان کی حالت وگرگوں تھی۔ محنت مزدوری سے گزارہ ہو رہا تھا۔ شادی کے پندرہ سال تک جب اولاد نہیں ہوئی تو سب والد صاحب کو دوسری شادی کا کہنا شروع کر دیا۔ لیکن وہ اس کے لیے تیار نہیں ہو رہے تھے۔ اسی طرح جب تیس سال گزر گئے تو بے جی نے خود ہی ان کے لئے رشتہ دیکھنا شروع کر دیا اور ضد کر کے خاندان میں ہی ابا جان کی دوسری شادی کرا دی۔ تین بیٹیاں اور ایک بیٹا میں دوسری بیوی سے پیدا ہوئے۔ ہماری حقیقی امی کا خیال انہوں نے بہت زیادہ رکھا۔ اور ہم سب کو تو پالا ہی انہوں نے تھا۔

Read more

امراض گردہ: علامات، پیچیدگیاں اور حفاظتی تدابیر

گردے انسانی جسم کو صحت مند رکھنے کے لیے بہت اہم کام کرتے ہیں۔ خون کو صاف رکھنا ایک اہم کام ہے۔ یہ انسانی جسم میں بہت سے سیال اور کیمیائی سیال مادوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ بلڈ پریشر کنٹرول کرنے اور خون میں سرخ خلیے بننے میں مدد دیتے ہیں۔ صحت مند گردے صحت مند زندگی کی علامت ہے۔ اس لیے ہمیں گردوں کو تندرست رکھنے کے لیے بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ گردے جب کام کرنا چھوڑ دیتے

Read more

میری بیٹی مجھے بہت پیاری ہے

پاپا جان کیا آپ دو دن کی چھٹی لے سکتے ہیں۔ میری بیٹی نے سوال کیا۔ کیوں کیا ضروری کام ہے۔ میں نے پوچھا تو اس نے بتایا کہ پاپا جان میری ایک کلاس فیلو اور دوست ڈاکٹر کی شادی ہے اور میں چونکہ اتفاقاً پاکستان آئی ہوں اس لیے اس کی شادی میں شرکت کرنا چاہتی ہوں۔ میں نے اپنی مصروفیات چیک کیں اور ایک دو میٹنگ کا نیا شیڈول بنا کر بیٹی کو ہاں کر دی۔ میری بیٹی

Read more

جناب محمود ہاشمی، کشمیر اداس ہے

محمود ہاشمی اردو ادب میں ایک بڑا نام، تنقید نگار، مضمون نویس، مضف، ایڈیٹر، ڈرامہ نگار اور ایک بہترین استاد کی تمام خوبیاں آپ میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ آپ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ آپ کا تعلق میرپورآزاد کشمیر کے علاقہ ڈڈیال کے ایک گاؤں پوٹھہ بنگش سے تھا۔ آپ اگست 1920 ء کو متحدہ ہندوستان کی ریاست قلات میں پیدا ہوئے۔ جہاں آپ کے والد محترم ملازم تھے۔ آپ کا نام سلطان محمود رکھا گیا لیکن آپ

Read more