مولانا کی جمہوریت ذاتی خواہشات کی اسیر ہے
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملک میں اسٹیبلشمنٹ کی زور زبردستی اور طاقت پر مکمل کنٹرول رکھنے کے بارے میں درست موقف اختیار کیا ہے۔ لیکن وہ یہ بتانے سے گریز کرتے ہیں کہ ایک آئینی انتظام میں اسٹیبلشمنٹ یا فوج کو فیصلہ سازی کا موقع کیسے فراہم ہوتا ہے۔ اور نہ ہی وہ خود ماضی میں جھانک کر اس حوالے سے اپنے کردار پر شرمندگی محسوس کرنے پر تیار ہوں گے۔ مولانا فضل الرحمان
Read more





























