بی بی سی اردو ہیش ٹیگ ہِز چوائس سیریز کے تحت کئی ایسے مردوں کی کہانیاں منظر عام پر لا رہا ہے جنہوں نے اپنے لیے وہ راہ منتخب کی جو عام طور پر مردوں کے لیے مناسب نہیں سمجھی جاتی۔ میں نے اس سیریز کی ایک کہانی ایک آئی ٹی پروفیشنل کے جسم فروش بننے کی داستان اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر شئیر کی تو ایک فالوور نے جوابی ٹویٹ میں اپنے ایک دوست کا ذکر کیا جو طالب علمی کے زمانے میں اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے کچھ ایسا ہی کام کرتا تھا۔
شیراز کی یہ کہانی میرے ٹویٹر فالوور کی زبانی ہی یہاں بیان کی جا رہی ہے۔
شیراز اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے کچھ گھروں میں ٹیوشن پڑھانے جایا کرتا تھا۔ کچھ ماہ بعد اسے ایک نئی ٹیوشن ملی۔ یہاں اس کی ملاقات ایک خاتون سے ہوئی۔ ان خاتون کا تعلق سرائیکی بیلٹ سے تھا۔ ان کے شوہر ایک سرکاری بینک میں ملازم تھے۔ دونوں کے درمیان عمر کا فرق تقریباً دس برس تھا۔ یہ خاتون اس شخص کی تیسری بیوی تھیں۔ پہلی دو کو وہ طلاق دے چکا تھا۔
خاتون نے گھریلو کام کاج میں مدد کے لیے ایک پندرہ سولہ سال کی ملازمہ بھی رکھی ہوئی تھی۔ ایک دن خاتون نے شیراز سے کہا کہ وہ اس ملازمہ کو بھی پڑھا دیا کرے۔ شیراز نے ہامی بھر لی۔ اسی گفتگو کے دوران خاتون نے کچھ ایسی معنی خیز گفتگو بھی کی جس میں دعوت تھی۔
Read more