خلیل جبران نے اپنی چہیتی محبوبہ سے شادی کیوں نہ کی؟

یہ کسی ایسے پیغمبر کی کہانی نہیں ہے جس کا صدیوں پیشتر ظہور ہوا ہو اور جس کا آسمانی کتابوں میں ذکر آیا ہو. یہ ایک ایسے پیامبر کی کہانی ہے جو 1883 میں لبنان میں پیدا ہوا تھا اور جس نے زندگی کا بیشتر حصہ امریکہ میں گزارا تھا. وہ پیامبر شاعر بھی تھا اور دانشور بھی. وہ ایک عیسائی خاندان کا چشم و چراغ تھا. اس نے نہ صرف سنتوں, سادھوؤں اور صوفیوں کی تعلیمات کو پڑھا تھا

Read more

آڈیو کالم: کیا آپ اپنے بچوں کا احترام کرتے ہیں؟

ایک محفل میں میری ملاقات مشرقی والدین سے ہوئی جن کو اپنے بچوں سے یہ شکایت تھی کہ وہ بے ادب اور گستاخ ہو گئے ہیں۔ میں نے پوچھا ’کیا آپ اپنے بچوں کا احترام کرتے ہیں؟‘ کہنے لگے ’ہم ان سے پیار کرتے ہیں اور ان کا خیال رکھتے ہیں۔ ‘ میں نے پھر پوچھا ’کیا آپ ان کی رائے کا احترام کرتے ہیں؟‘ کہنے لگے ’بچوں سے محبت کی جاتی ہے اور بزرگوں کا احترام کیا جاتا ہے۔

Read more

سچ کے رشتہ دار

پچھلے چند مہینوں میں مجھے ایک بزرگ شہر میں کئی دفعہ نظر آئے لیکن ہر دفعہ وہ افسردہ و پریشان دکھائی دیے۔ ایک جمعرات کی صبح وہ ایک مندر کے باہر دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھامے بیٹھے تھے۔ ایک جمعے کی دو پہر وہ ایک مسجد کی دیوار کا سہارا لیے کھڑے تھے۔ ایک ہفتے کی سہ پہر وہ ایک سناگاگ کے باہر رو رہے تھے اور ایک اتوار کی شام وہ ایک گرجے کے باہر آنسو بہا رہے

Read more

جب معافی مانگنے میں دیر ہو جائے – آڈیو کالم

تحریر: ڈاکٹر خالد سہیل آڈیو: افضل سراج پروڈیوسر: عبداللہ خان کاکڑ میرے کینیڈین مریض ڈیوڈ نے مجھے بتایا کہ اس کی پانچ سالہ شادی کے دوران اس کے کئی دوستوں نے اسے بار بار بتایا اور سمجھایا تھا کہ وہ اپنی بیوی کی قدر نہیں کرتا ’اس کا احترام نہیں کرتا بلکہ بعض دفعہ اس کی ہتک کرتا ہے‘ تذلیل کرتا ہے اور سب کے سامنے اس کی بے عزتی کرتا ہے لیکن وہ اپنی جوانی اور مردانگی کے نشے

Read more

کیا آپ فنکار کی عظمت کا راز جانتے ہیں؟

چند دن پہلے میں اپنے گھر سے دس میل دور ایک سنیما ہال میں FREDDIE MERCURY کی زندگی اور فن پر بنائی گئی فلم BOHEMIAN RHAPSODY دیکھنے گیا لیکن نہ دیکھ سکا کیونکہ شو SOLD OUT تھا پھر میں بیس میل دور ایک اور سنیما ہال میں گیا وہاں بھی وہ شو سولڈ آؤٹ تھا۔ آخر میں نے اپنی دوست زہرا نقوی کو فون کیا اور مجھے وہ فلم اپنے گھر سے پچاس میل دور ٹورانٹو جا کر دیکھنی پڑی۔

Read more

نئے سال کے نئے خواب

بعض لوگ اندھیری راتوں کو بند آنکھوں سے ڈراؤنے خواب دیکھتے ہیں اور سارا دن پریشان رہتے ہیں اور اگر ان کی پریشانی وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جائے تو کسی ماہر نفسیات کو تلاش کرتے ہیں اور بعض لوگ دن کے وقت کھلی آنکھوں سے سنہری اور سہانے خواب دیکھتے ہیں اور پھر ان خوابوں کو حقیقت بناتے ہیں۔ میں بھی ہر سال چند تخلیقی خواب دیکھتا ہوں اور پھر ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کی کوشش

Read more

کیا جاوید اقبال مغل واقعی سو بچوں کا قاتل تھا؟

ایک شام میرے ادیب اور جرنلسٹ دوست مرزا یاسین بیگ کا فون آیا۔ فرمانے لگے میں کینیڈا ون ٹی وی پر ایک نیا پروگرام PRIME TIMEشروع کرنے والا ہوں اور اس پروگرام میں آپ میرے پہلے مہمان ہوں گے۔ میں نے نئے پروگرام کی مبارکباد دیتے ہوئے پوچھا کہ آپ مجھ سے کس سلسلے میں گفتگو کرنا چاہتے ہیں؟ کہنے لگے پاکستان میں جاوید اقبال مغل پر ایک فلم بنی ہے لیکن ابھی منظر عام پر نہیں آئی۔ آپ نے

Read more

ڈاکٹر ڈینس آئزک کی کینیڈا میں مشکل زندگی

یہ 1970 کی دہائی کا وہ دور تھا جب آتش جوان تھا ’خیبر میڈیکل کالج پشاور کا طالبعلم تھا اور ادیبوں‘ شاعروں اور موسیقاروں کی محفلوں میں جوش و خروش سے شرکت کرتا تھا۔ ایک محفل میں ایک شاعر و موسیقار سے تعارف ہوا۔ سب نے شعر سنانے کی فرمائش کی تو انہوں نے ایک غزل اور ایک قطعہ سنایا۔ مجھے ان کا قطعہ اور غزل کا ایک شعر آج تک یاد ہے۔ شعر تھا ؎ گھر سے چلے ارادہ

Read more

کیا آپ نے کبھی اپنے بچوں کے ساتھ سنو مین بنایا ہے؟

میں نے اپنے پاکستانی دوست جان محمد سے پوچھا کہ آپ پچھلے دس برس سے کینیڈا میں رہ رہے ہیں کیا آپ نے کبھی اپنے بچوں کے ساتھ سنو مین بنایا ہے؟ جان محمد نے مجھے پہلے تو ایسے گھور گھور کر دیکھا جیسے میں کسی اور سیارے کی مخلوق ہوں پھر وہ زور زور سے ہنسا اور کہنے لگا ’ڈاکٹر صاحب آپ بھی عجیب مذاق کرتے ہیں۔ میں تو کینیڈا کی برف سے گھبراتا ہوں‘ ڈرتا ہوں ’خوف زدہ

Read more

ایدھی کی ماں کی محبت اور دھرتی ماں کی خدمت کی کہانی

’ایک دن میرا ہمسایہ بھاگا بھاگا میری ڈسپنسری میں آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ میری والدہ سخت بیمار ہو گئی ہیں۔ گھر کا دروازہ کھلا تھا اور میری والدہ زمین پر بیٹھی برتن دھو رہی تھیں۔ بچوں نے انہیں زمین پر گرتے دیکھا۔ میں گھر پہنچا تو وہ اکھڑی اکھڑی سانسیں لے رہی تھیں۔ انہیں ہسپتال لے کر گئے تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ انہیں سٹروک ہو گیا ہے۔ ان کا آدھا جسم مفلوج ہو چکا تھا۔ میرے والد

Read more

کیا آپ فنکار گل بہار بانو کے بارے میں فکرمند تھے؟

میں نے ’ہم سب‘ پر گل بہار بانو کے بارے میں ایک کالم لکھا اور فیس بک پر ان کی مدد کرنے والوں کا تعاون چاہا تو مجھے ان گنت دوستوں اور کرم فرماؤں کے پیغامات آئے کہ وہ اس سلسلے میں میری مدد کرنا چاہتے ہیں۔ پہلے کرم فرما ڈاکٹر سجاد صدیقی تھے جنہوں نے مجھے پیغام بھیجا کہ جب وہ انگلستان سے نفسیات کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے لوٹے تو انہوں نے ملتان میں ایک کلینک کھولا۔

Read more

آپ ہیمنگ وے کے ادب کے نوبل انعام اور خود کشی کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟

ارنسٹ ہیمنگ وے کو جو پستول بہت عزیز تھی اور جسے وہ اپنی ’دوست‘ کہہ کر پکارتے تھے اسی پستول کو ہیمنگ وے نے دو جولائی 1961 کی صبح اپنی کنپٹی پر رکھ کر لبلبی دبائی اور خود کشی کر لی۔ ہیمنگ وے کی طرح اور بھی بہت سے شاعروں ’ادیبوں اور دانشوروں نے‘ جو ڈپریشن کا شکار تھے اپنی جان خود اپنے ہاتھوں لے لی۔ بعض ماہرین نفسیات کا خیال ہے کہ ڈپریشن کی ذہنی بیماری کی ایک خاص

Read more

دیومالائی کردار سنڈریلا اور لڑکیوں کی نفسیات

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اساطیری کہانیاں کیسے تخلیق ہوتی ہیں اور دیومالائی کردار کیسے بنتے ہیں؟ کیا آپ دیومالائی نسوانی کردار سنڈریلا کو جانتے ہیں؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کردار صدیوں کے سفر میں کیسے تبدیل ہوا؟ میں بھی ان سوالوں کے بارے میں زیادہ غور نہ کرتا اگر میری ادبی دوست رابعہ الربا اور ’درویشوں کے ڈیرے‘ کے ادبی خطوط کی خالق رابعہ بصری مجھ سے فون پر نہ پوچھتیں کہ سنڈریلا کے دیومالائی

Read more

کیا آپ کسی ذہنی مریض کو اس کی مرضی کے بغیر پاگل خانے میں داخل کروا سکتے ہیں؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کسی بھی ریاست میں ہر شہری کو کیا انسانی حقوق حاصل ہوتے ہیں؟ اگر کوئی انسان نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جائے تو کیا اس کے حقوق بدل جاتے ہیں؟ کیا کسی بھی ذہنی مریض کو اس کے رشتہ دار ’پولیس افسر یا ڈاکٹر پاگل خانے میں داخل کروا سکتے ہیں؟ ان سوالوں کا جواب دینا آسان نہیں کیونکہ اس کا تعلق طب اور نفسیات ’قانون اور اخلاقیات جیسے گمبھیر موضوعات سے جڑا

Read more

کھوجی بابا

بابا جی باتیں کرتے کرتے خلاؤں میں گھورنے لگتے جیسے وہ اچانک اس دنیا سے کسی اور دنیا میں چلے گئے ہوں کوئی راز جاننے کچھ تلاش کرنے کسی چیز کا کھوج لگانے خیالوں کی دنیا میں خوابوں کی دنیا میں آدرشوں کی دنیا میں کسی کو کوئی خبر تھی کہ وہ اس بستی میں کب سے آئے تھے اور کہاں سے آئے تھے کوئی کہتا وہ مسافر ہیں کوئی کہتا وہ مہاجر ہیں کوئی کہتا خانہ بدوش ہیں کوئی

Read more

پندرہ برس تک میری شریک حیات کی والدہ اب نہیں رہیں

عالمی شہرت یافتہ لکھاری ولیم شیکسپیئر نے ایک ڈرامہ لکھا تھا جس کا نام THE WINTER ’S TALE تھا۔ اس ڈرامے کا ہیرو فلورازیل بوہیمیا کے بادشاہ پولیتھینز کا بیٹا تھا۔ جب فلورازیل ایک مہ جبیں پری چہرہ پرودیتا کی زلف کا اسیر ہو جاتا ہے تو بادشاہ بہت ناراض ہو جاتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ پرودیتا اعلیٰ نسب کی نہیں ہے۔ وہ اپنے شہزادے فلورازیل کو دھمکی دیتا ہے کہ اگر تم نے پرودیتا سے شادی کی تو

Read more

ورجینیا وولف اور سلویا پلاتھ کا خودکشی سے پہلے آخری خط

انگلستان کی مایہ ناز ادیبہ ورجینیا وولف نے مارچ 1941 میں فیصلہ کیا کہ وہ ڈپریشن کی اذیت سے اتنا تھک چکی ہیں وہ مزید زندہ نہیں رہنا چاہتیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے کوٹ کی جیبوں کو بھاری پتھروں سے بھرا اور اپنے گھر کے قریب دریا میں اتنی دور تک چلتی چلی گئیں کہ واپس لوٹ کر نہ آئیں۔ خودکشی کے لیے گھر سے رخصت ہونے سے پہلے وہ اپنے شوہر لینرڈ وولف کے لیے ایک خط چھوڑ گئیں

Read more

منیر نیازی سے ایک ملاقات

میں‘زاہد ڈار اور سعید احمد ’سنگِ میل‘ کے دفتر میں بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے کہ اصغر ندیم سید مسکراتے ہوئے داخل ہوئے اور جلد ہی فضاﺅں میں لطیفوں اور قہقہوں کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ ’خالد سہیل! تم اتنی دور کنیڈا سے لاہور آئے ہو۔ ہم تمہاری کیا خواہش پوری کر سکتے ہیں؟‘ اصغر ندیم سید نے پوچھا۔ ’میری ایک دیرینہ خواہش ہے کہ میں منیر نیازی سے ملوں۔ یہ ایک کرامت ہوگی کیونکہ کنیڈا میں ایک دفعہ کسی

Read more

وہ قوس قزح جیسی خوش رنگ لڑکی

پہلی دفعہ میں نے اسے نوجوانوں کی ایک محفل میں دور سے دیکھا وہ نہ صرف خوش شکل تھی بلکہ خوش مزاج اور خوش لباس بھی تھی اس کے لہجے میں اپنائیت ’انداز میں جاذبیت اور شخصیت میں مقناطیسیت تھی میں اس کی طرف کچے دھاگے سے کھنچتا چلا گیا لیکن اس سے ہم کلامی کی ہمت نہ ہوئی۔ پھر میں نے اسے کئی اور محفلوں میں دیکھا ایک محفل میں وہ شلوار قمیص ’دوسری میں جینز اور ٹی شرٹ

Read more

فنکار گل بہار بانو کا فن اور پاگل پن

مجھے ایک وڈیو نے جتنا سکھی کیا دوسرے وڈیو نے اتنا ہی دکھی کر دیا۔ ایک وڈیو میں فن کی کہانی پوشیدہ تھی اور دوسری وڈیو میں پاگل پن کی کہانی مخفی تھی۔ آج میں آپ کو دونوں کہانیاں سنانے آیا ہوں۔ جب میں نے پہلی دفعہ گل بہار بانو کی وڈیو دیکھی تو میں ان کے ہنستے مسکراتے کھلکھلاتے چہرے اور گانے کے دل نشیں انداز سے بہت متاثر ہوا۔ ان کے لہجے میں شگفتگی بھی تھی اور شادابی

Read more

سلمان اختر: ڈاکٹر، شاعر اور دانشور

میں ایک شام امریکہ میں دو بھائیوں سے ملا۔ دونوں نہایت عمدہ شاعر ہیں لیکن ایک جتنا معروف ہے دوسرا اتنا ہی غیر معروف۔ معروف فلمی دنیا کا جاوید اختر اور غیر معروف ماہر نفسیات سلمان اختر۔ چند روز پیشتر جب میں سلمان اختر کے مجموعہ کلام۔ دوسرا گھر۔ کا مطالعہ کر رہا تھا اور محظوظ و مسحور ہو رہا تھا تو سوچ رہا تھا کہ اردو کے بہت سے شاعر یا تو رومانوی شاعری کرتے ہیں یا سیاسی شاعری لیکن

Read more

لوگ جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟

چند دن پیشتر فیملی آف دی ہارٹ کے سیمینار کے بعد میرے عزیز دوست پرویز صلاح الدین نے مجھے اپنے گھر ڈنر پر بلاتے ہوئے کہا کہ وہاں چند اور مہمانوں کے ہمراہ ایک جرنلسٹ کرن علی بھی آ رہی ہیں جو آپ سے ملنا چاہتی ہیں۔ ’کرن علی کون ہیں؟‘ میں متجسس تھا۔ ’وہ ایک مقبولِ عام کنیڈین ٹی وی پروگرام REALITY BITES کی ہوسٹ ہیں‘۔ کرن علی سے ملاقات سے چند دن کے بعد انہوں نے فیس بک

Read more

آپ کی شادی کتنی صحت مند ہے؟

’وہ مجھے چاہتا تھا۔ مجھ سے بہت پیار کرتا تھا۔ میری تعریفیں کرتے نہیں تھکتا تھا۔ میری ہر جائز و ناجائز خواہش کو پورا کرتا تھا۔ مجھ سے گھنٹوں باتیں کرتا رہتا تھا۔ لیکن اب، شادی کے چند سال بعد، وہ چپ چپ رہتا ہے۔ بجھا بجھا سا رہتا ہے۔ کئی کئی دن بات نہیں کرتا، سوال پوچھوں تو ’ہوں‘ ’ہاں‘ میں جواب دیتا ہے یوں لگتا ہے ہماری MONOGAMY آہستہ آہستہ MONOTANY میں بدلتی جا رہی ہے۔ میں نے مشورہ دیا ’ ہم دونوں جا کر کسی ماہرِ نفسیات

Read more

کیا آپ نروس بریک ڈاؤن کا شکار ہو رہے ہیں؟

شیخ امیر محمد کا خط محترمی ڈاکٹر خالد سہیل! میں ’ہم سب‘ پر آپ کے کالم بڑے ذوق و شوق سے پڑھتا ہوں اور بہت کچھ سیکھتا ہوں۔ مجھے انسانی نفسیات سے گہری دلچسپی ہے۔ اس لیے آپ سے چند سوال پوچھنا چاہتا ہوں نروس بریک ڈاؤن کیا ہوتا ہے؟ اس کی علامات کیا ہیں؟ کیا اس کا علاج ممکن ہے؟ اگر آپ چاہیں تو اپنے جوابات کا ایک کالم بنا لیں تا کہ ’ہم سب‘ کے دیگر قارئین بھی

Read more

تھکی ہوئی زندگی

ولیم کا سٹریچر ڈگنیفائڈ ڈیتھ کلینک میں ایسے داخل ہوا جیسے اس کی زندگی کا ہوائی جہاز طویل مسافت کے بعد رن وے پر لینڈ کر رہا ہو۔ اس نے ویٹنگ روم میں چاروں طرف دیکھا۔ موت کی پرچھائیاں پوسٹروں کی صورت میں اس کو خوش آمدید کہہ رہی تھیں ’موت زندگی ہے‘ ’زندگی کی انتہا موت ہے‘ ’صرف ان لوگوں کو زندہ رہنا چاہیے جو زندہ رہنا چاہتے ہوں‘ ’باعزت زندگی کے لیے ڈی ڈی سی۔ ڈگنیفائڈ ڈیتھ کلینک۔

Read more

کیا آپ موت کو اپنی مرضی سے گلے لگانا چاہتے ہیں؟

احمد فراز کی ایک غزل کے دو اشعار ہیں انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چپ ہیں کیا بات ہے سرکار بڑی دیر سے چپ ہیں آسان نہ کر دی ہو کہیں موت نے مشکل روتے ہوئے بیمار بڑی دیر سے چپ ہیں بعض اوقات موت ایک محبت بھرے دوست کی طرح آتی ہے اور روتے ہوئے بیمار کو بڑے پیار سے گلے لگاتی ہے تسلی دیتی ہے اور خاموشی سے اپنے ساتھ ملک عدم لے جاتی ہے۔ لیکن بعض

Read more

محبت کی قوس قزح تخلیق کرنے والا افسانہ نگار: قمر زیدی

(نوٹ۔ یہ خط ادارہ نو بہ نو کے چار دسمبر 2021 کے سیمینار میں پڑھا گیا جو قمر زیدی کی پچاس سالہ شعری و نثری خدمات کے اعتراف کے لیے عزیزی مظفر عباس نے زوم پر منعقد کیا) محترمی و مکرمی مظفر عباس صاحب! میں جب بھی آپ کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے اسلام آباد میں آپ کے ساتھ گزاری ہوئی چند شامیں یاد آ جاتی ہیں۔ ان شاموں کی خوشگوار یادیں میرے دل کے نہاں خانوں میں

Read more

کیا آپ سلویا پلاتھ کی شادی، شاعری اور خودکشی کی کہانی جانتے ہیں؟

سلویا پلاتھ کی کہانی اس لکھاری کی کہانی ہے جو اپنے مرنے کے بعد ادب عالیہ کی دنیا میں پیدا ہوئیں۔ ان کا فن ان کے پاگل پن اور شاعری ان کے اقدام خود کشی کی کوکھ سے پیدا ہوئے۔ سلویا پلاتھ 1932 میں امریکہ کے شہر بوسٹن میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ کا خاندانی تعلق آسٹریا سے تھا اور والد کا آبائی رشتہ جرمنی سے جڑا ہوا تھا۔ وہ دونوں امریکہ میں پہلی نسل کے مہاجر تھے۔ سلویا

Read more

کافکا کا دوست

نوٹ۔ آئزک سنگر 1902 میں پولینڈ میں پیدا ہوئے اور 1991 میں امریکہ میں فوت ہوئے۔ وہ ساری عمر اپنی مادری زبان یدش میں کہانیاں لکھتے رہے۔ انہیں 1978 میں ادب کا نوبل انعام ملا تھا۔ میں نے ’ہم سب‘ کے لیے ان کی کہانی A FRIEND OF KAFKA کی تلخیص اور ترجمہ کیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ میں نے فرانز کافکا کے بارے میں سن رکھا تھا لیکن جب کئی برس بعد میری اس کے دوست جیک کوہن سے

Read more

یادِ ماضی: میں نے غم اور مایوسی کا مقابلہ کیسے کیا؟

ہم سب جانتے ہیں کہ زندگی بہت پر اسرار ہے۔ کبھی سہل ہو جاتی ہے کبھی دشوار گزار۔ اس میں آنسو بھی ہیں مسکراہٹیں بھی۔ سسکیاں بھی ہیں قہقہے بھی۔ اب تک نجانے کتنے دوست اور اجنبی مجھ سے پوچھ چکے ہیں ’ڈاکٹر سہیل آپ ہمیشہ ہنستے مسکراتے کھیلتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کا راز کیا ہے؟ میں کہتا ہوں میں نے زندگی کے تکلیف دہ سرخ سمندر میں ایک پرسکون سبز جزیرہ بنا رکھا ہے میں اسی جزیرے پر

Read more

کیمو اور سارتر کی ادبی رفاقت اور سیاسی رقابت کی کہانی

البرٹ کیمو اور ژاں پال سارتر بیسویں صدی کی ادبی تاریخ کے دو اہم باب ہیں۔ ان میں بہت سی خصوصیات مشترک تھیں۔ دونوں ناول نگار بھی تھے اور فلاسفر بھی۔ سماجی کارکن بھی تھے اور دانشور بھی۔ دونوں کو ادب کا نوبل انعام بھی ملا یہ علیحدہ بات کہ سارتر نے وہ انعام لینے سے انکار کر دیا۔ کیمو اور سارتر چونکہ ہم عصر تھے اس لیے وہ ملنے سے پہلے ہی ایک دوسرے کی تخلیقات سے متعارف ہو

Read more

نوبل انعام یافتہ ادیب البرٹ کیمو کے دو آدرش۔ سچ اور آزادی

البرٹ کیمو ایک لکھاری ہی نہیں ایک فلاسفر ’ایک جرنلسٹ اور ایک سماجی کارکن بھی تھے۔ وہ نومبر 1913 میں فرنچ الجیریا میں پیدا ہوئے۔ وہ ابھی ایک سال کے ہی تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور وہ غربت کے سائے میں پلے بڑھے۔ کیمو کو نوجوانی سے ہی ادب اور فلسفے میں گہری دلچسپی تھی۔ وہ یونانی فلسفیوں کے ساتھ ساتھ دوستاوسکی ’فرانز کافکا اور فریڈرک نیٹشے جیسے لکھاریوں سے بھی متاثر تھے۔ کیمو جوانی

Read more

کیا آپ البرٹ کیمو کے ناول ”اجنبی“ سے آشنا ہیں؟

جب درویش کو یہ احساس ہوا کہ بیسیوں ناول اور افسانوں کے مجموعے پڑھنے کے بعد بھی وہ ادب عالیہ کے رموز و اسرار سے پوری طرح واقف نہیں تو اس نے فیصلہ کیا کہ وہ نئے ناولوں کے مطالعے کے ساتھ ساتھ ماضی میں پڑھے ہوئے ناولوں کو دوبارہ پڑھے لیکن اس دفعہ زیادہ سنجیدگی سے پڑھے تا کہ ادب عالیہ کے راز اور عظیم ادیبوں کے اسرار جان سکے۔ چنانچہ درویش نے ایک اتوار کی شام ’ایک دختر

Read more

کیا آپ نے کبھی اپنے شوہر کو تھپڑ مارا ہے؟

آج جب میری مریضہ جینیفر مجھ سے ملنے میرے کلینک آئی تو کرسی پر بیٹھنے سے پہلے اس نے ٹیشو باکس اٹھایا اور اپنے پاس رکھ لیا اور پھر اس کے منہ سے الفاط نکلنے سے پہلے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور ٹپ ٹپ اس کی گود میں گرنے لگے۔ میں نے پوچھا ’خیریت‘ اس ایک لفظ نے جیسے بند توڑ دیا ہو اور وہ زار و قطار رونے لگی۔ ’مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی‘

Read more

کیا آپ خلیل جبران کے پیغام بر کو جانتے ہیں؟

تعارف : خلیل جبران ایک شاعر اور مصور ہی نہیں ایک دانشور بھی تھے۔ وہ 1883 میں لبنان میں پیدا ہوئے اور امریکہ میں 1931 میں فوت ہوئے۔ خلیل جبران کی کتاب THE PROPHET ، سنہ 1923 میں منظر عام پر آئی۔ اس کتاب میں ان کی بہت سی نظمیں اور تصویریں شامل تھیں۔ وہ کتاب اتنی مقبول اور مشہور ہوئی کہ اس کی انگریزی زبان میں اب تک ایک کروڑ سے زیادہ کاپیاں بک چکی ہیں اور اس کا

Read more

موت سے پہلے ایک پادری اور ایک دہریے کا مکالمہ

ادب کے نوبل انعام یافتہ ادیب البرٹ کیمو کا کہنا ہے کہ زندگی بے معنی سہی لیکن بے توقیر نہیں ہے۔ زندگی بے مقصد ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ انسان خود کشی کر لے۔ ہر انسان اگر چاہے تو وہ اپنی زندگی کو بامعنی اور بامقصد بنا سکتا ہے۔ جب ہم بے معنویت اور ABSURDITY کی کوکھ سے جنم لینے والے وجودیت پسند فلسفے کا مطالعہ کرتے ہیں تو کرکیگارڈ ’ہیڈیگر‘ نیٹشے ’سارتر اور کیمو کے نام ذہن میں

Read more

سقراط کی موت اور سچ کی حیات جاوید

سقراط پر یونان کی ریاست نے دو الزام لگائے۔ پہلا الزام یہ تھا کہ وہ یونان کے خداؤں کو نہیں مانتا اور دوسرا الزام یہ تھا کہ وہ نوجوانوں کو گمراہ کرتا ہے۔ سقراط کو یونان کی عدالت نے سزائے موت دی اور حکم دیا کہ وہ زہر کا پیالہ پیے۔ زہر کا پیالہ پینے سے پہلے سقراط کوایک ماہ جیل میں رکھا گیا۔ سقراط کے آخری دنوں کے بارے میں افلاطون نے ایک ڈرامہ۔ کر ٹو۔ لکھا جو سقراط کے قریبی دوست کا نام تھا۔ میں اس کالم میں اس ڈرامے کی تلخیص اور ترجمہ پیش کرتا ہوں۔

Read more

جب درویش کے سیل فون نے خودکشی کر لی

جب سے درویش کے سیل فون نے خودکشی کی ہے درویش تو چین سے ہے کیونکہ وہ جدید ٹیکنالوجی سے بے نیاز ہو چکا ہے لیکن اس کے دوست اور بہت سی سہیلیاں بے چین ہیں کیونکہ وہ اپنے محبت بھرے پیغام درویش تک نہیں پہنچا سکتیں اور اگر وہ جدید سیل فون کی بجائے کوئی روایتی قاصد تلاش کرتی ہیں اور اسے دل کے راز بتاتی ہیں تو انہیں خطرہ لاحق رہتا ہے کہ کہیں ایک دن انہیں کف

Read more

سرخ سمندر میں سبز جزیرے

مجھے علم و آگہی کی روشنیوں کے شہر لاہور کی وہ سندر سہ پہر ابھی تک یاد ہے جب دو درویش وجاہت مسعود اور خالد سہیل گرما گرم چائے اور سموسوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور غم جاناں اور غم دوراں کے رازوں کے بارے میں بے تکلفی سے تبادلہ خیال کر رہے تھے کہ درویشنی تنویر جہاں ’جو حقوق انسانی اور حقوق نسوانی کی بکھری ہوئی زلفوں کو نکھارتی اور سنوارتی رہتی ہیں‘ چپکے سے تشریف لائیں

Read more

کیا آپ ایک اچھا لکھاری بننا چاہتے ہیں؟

میری ایک مریضہ کو بچپن سے ناولوں ’فلموں اور گانوں کا بڑا شوق تھا لیکن اس کی جس مرد سے شادی ہوئی تھی اس نے بیوی پر بہت سی پابندیاں عاید کر دی تھیں کیونکہ وہ ناولوں کو وقت کا ضیاع‘ گانوں کو گناہ اور فلموں کو بے حیائی سمجھتا تھا۔ پہلے تو بیوی اپنے شوہر کے رویے پر حیران ہوئی پھر پریشان ہوئی اور آخر میں ڈپریشن کا شکار ہو گئی۔ اس کی ڈپریشن کی شدت اتنی بڑھی کہ

Read more

نسل کشی کے موضوع پر اردو کا ایک کامیاب ناول: کھوئے ہوئے صفحات

میں ڈاکٹر بلند اقبال کو ’جو ادیب بھی ہیں‘ طبیب بھی ہیں اور بہت سوں کے حبیب بھی ہیں ’اردو کا ایک کامیاب ناول لکھنے کی مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ڈیڑھ سال کی کرونا وبا کی پابندیوں اور جکڑ بندیوں کے بعد جب ڈاکٹر بلند اقبال سے مسی ساگا کے بوسٹن پیزا رسٹوڑانٹ میں ڈنر پر ملاقات ہوئی تو میں بہت خوش ہوا کہ چلو زندگی نے دوبارہ نارمل ادبی محفلوں کی طرف قدم بڑھانا شروع کیا ہے۔ مجھے

Read more

کیا آپ بغیر سوچے سمجھے ماں باپ بن گئے تھے؟

اگر آپ دنیا کے کسی بھی ملک یا معاشرے میں کوئی بھی باعزت پیشہ اختیار کرنا چاہتے ہیں چاہے آپ ڈاکٹر بننا چاہیں یا انجینئر ’نرس بننا چاہیں یا وکیل‘ سوشل ورکر بننا چاہیں یا استاد تو آپ کو پہلے سکول ’کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنی پڑتی ہے پھر امتحان پاس کر کے لائسنس لینا پڑتا ہے اور پھر آپ کو وہ کام کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ساری دنیا کے دو

Read more

درویش کی زنبیل سے۔ سچ کی تلاش میں نکلے ہوئے مسافر

درویش نے جب سچ کی تلاش کے سفر کا آغاز کیا تو اس کا ایمان تھا کہ دنیا میں صرف ایک ہی سچ ہے اور وہ سچ ازلی و ابدی و حتمی سچ ہے لیکن نصف صدی کے تجربے ’مشاہدے‘ مطالعے اور تجزیے کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ دنیا میں اتنے ہی سچ ہیں جتنے انسان اور اتنی ہی حقیقتیں ہیں جتنی آنکھیں۔ ہر انسان اپنی مخصوص نگاہوں سے دنیا کو دیکھتا ہے اور اپنے تجربے کی بنیاد پر اسے پرکھتا ہے۔ درویش نے اختلاف الرائے کے باوجود دوسروں کے سچ کا احترام کرنا سیکھا کیونکہ یہی احترام آدمیت کا راز اور انسان دوستی کی روایت ہے۔

Read more

فطرت اور محبت کے رازوں کا متلاشی سائنسدان: البرٹ آئن سٹائن

تعارف بیسویں صدی کی پہلی تین دہائیوں میں جس سائنسدان نے اپنے نظریات سے ساری دنیا کو حیران و ششدر کر دیا ان کا نام البرٹ آئن سٹائن تھا۔ آئن سٹائن نے سائنس کی اس عمارت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں جو عمارت نیوٹن کے قوانین حرکت اور کشش ثقل پر استوار تھی۔ آئن سٹائن نے اپنے نظریہ اضافت سے ہمیں اپنے ارد گرد پھیلی کائنات کو نئے انداز سے دیکھنے اور سمجھنے کی دعوت دی۔ انہوں نے ہمیں

Read more

کائنات کے راز ہائے سربستہ دریافت کرنے والا سائنسدان

جب بیسویں صدی کے سائنسدانوں سے پوچھا گیا کہ پچھلے ایک ہزار برس میں کس ایک سائنسدان کے سائنس کے علم پر سب سے زیادہ احسانات ہیں تو انہوں نے مل کر کہا۔ آئزک نیوٹن آئزک نیوٹن ایک سائنسدان بھی تھے ریاضی دان بھی انہیں طبیعات پر بھی عبور حاصل تھے فلسفے پر بھی۔ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ نیوٹن کی دو کتابوں نے قوانین فطرت کے بہت سے راز فاش کیے۔ پہلی کتاب PRINCIPA MATHEMATICA تھی جو

Read more

کیا آپ آنسو بہانے کو اپنی مردانگی کے لیے چیلنج سمجھتے ہیں؟

مجھے بچپن کا وہ دن یاد ہے جب میں ’میری چھوٹی بہن عنبر‘ میری والدہ عائشہ اور والد عبدالباسط شام کا کھانا کھا رہے تھے اور ایک دوسرے کو دن بھر کے دلچسپ واقعات سنا رہے تھے۔ باتوں ہی باتوں میں میرے والد نے میری دادی جان کے محبت بھرے قصے سنانے شروع کیے۔ پھر اچانک وہ شدت جذبات سے مغلوب ہو گئے ان کی آواز میں لرزش پیدا ہوئی اور ان کی آنکھوں سے چند آنسو چھلک کر ان کے رخساروں پر بہہ نکلے۔ فضا میں چند لمحوں کے لیے خاموشی طاری ہو گئی اور پھر والد صاحب نے موضوع بدل دیا اور گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔

Read more

جرمین گریر۔ ایک ریڈیکل فیمنسٹ

بیسویں صدی کی مغربی فیمنزم کی تحریک کی تفہیم میں جہاں امریکہ کی بے ٹی فریڈین اور فرانس کی سیمون دی بووا کا نام اہم ہے وہیں آسٹریلیا کی جرمین گریر کا کام بھی اہمیت کا حامل ہے۔ جرمین گریر ملبورن کے ایک کیتھولک خاندان میں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ بچپن سے ہی باغیانہ شخصیت کی مالک تھیں۔ انہوں نے نوجوانی میں روایتی مذہب اور خدا کو خدا حافظ کہہ دیا اور اٹھارہ برس کی عمر میں گھر چھوڑ کر

Read more

کیا آپ مسلمانوں کے عظیم سائنسدان الحازن کی تحقیقات سے واقف ہیں؟

میں نے جب اپنی سائنسی تحقیق کے لیے ایمیزون پر ساری دنیا کے سائنسدانوں کی سوانح عمریاں تلاش کرنی شروع کیں تو مجھے یہ جان کر بہت حیرت ہوئی کہ مجھے گیلیلیو ’نیوٹن‘ آئن سٹائن اور ہاکنگ کی سوانح عمریاں تو آسانی سے مل گئیں لیکن مسلم سائنسدان الحازن کی کوئی سوانح عمری نہ ملی۔ چنانچہ میں نے اپنے عزیز دوست زکریا ورک سے رجوع کیا۔ زکریا ورک پروفیسر عبدالسلام کی سائنسی خدمات پر تحقیق کر چکے ہیں۔ انہوں نے

Read more

افسانہ۔ بک شیلف

بابا جی کی کٹیا کا دروازہ ان کے دل کے دروازے کی طرح ہمیشہ کھلا رہتا۔ ہر شام چند طلبا و طالبات ان سے فیض حاصل کرنے آتے۔ وہ جب کٹیا میں داخل ہوتے تو انہیں چاروں طرف بابا جی کی بیسیوں کتابیں بکھری نظر آتیں۔ چند کتابیں میزوں پر ’چند کرسیوں پر اور چند فرش کے قالین پر ۔ وہ قریب آتے تو کیا دیکھتے کہ بابا جی کسی کتاب پر جھکے اس کا بغور مطالعہ کر رہے ہیں۔

Read more

کیا آپ انسانی شعور کی پہیلی بوجھنا چاہتے ہیں؟

بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ انسانی نفسیات کا سب سے بڑا مسئلہ ’سب سے بڑی پہیلی‘ سب سے بڑی بجھارت اور سب سے بڑا معمہ شعور ہے؟ شعور کیا ہے؟ اس کا انسانی جسم اور دماغ سے کیا تعلق ہے؟ اس کا انسانی ذہن اور لاشعور سے کیا رشتہ ہے؟ اس موضوع پر مختلف ماہرین نے مختلف کتابیں لکھ کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے کی MARK SOLMS کی 2021 کی تحریر کردہ ایک جدید

Read more

کیا آپ زندگی کی چھوٹی بڑی خوشیوں سے محظوظ و مسحور ہوتے ہیں؟

میں اپنی زندگی میں بہت سے ایسے مردوں اور عورتوں سے مل چکا ہوں جو ہمیشہ دکھی رہتے ہیں۔ بدقسمتی سے دکھی رہنا ان کی شخصیت کا اٹوٹ حصہ بن چکا ہے۔ ان سے مل کر مجھے احمد فراز کا شعر یاد آتا ہے ؎ رو رہے ہیں کہ ایک عادت ہے ورنہ اتنا ہمیں ملال نہیں ایسے لوگوں کے دوست اور رشتہ دار ان کی دکھی باتیں سن سن کر تھک جاتے ہیں اور بعض انہیں چھوڑ بھی جاتے

Read more

جب محبت کرنے والی نانی دکھی ہو جائے

آج میری کنیڈین مریضہ سوزین جونہی میرے کلینک کے کمرے میں اپنی کرسی پر بیٹھی اس نے بات کرنے سے پہلے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا۔ روتے روتے اس کی ہچکی بندھ گئی۔ میں کچھ دیر خاموشی سے انتظار کرتا رہا۔ اس کی طبیعت قدرے سنبھلی تو میں نے پوچھا ’خیریت تو ہے؟‘ رندھی ہوئی آواز میں کہنے لگی ’میری بیٹی جئنیفر نے میری بے عزتی کی ہے۔ میری تذلیل کی ہے۔ میری ہتک کی ہے‘ میں

Read more

کیا آپ کینیڈا کے سب سے بڑے ہیرو کو جانتے ہیں؟

کسی قوم کی نفسیات کو جاننے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ یہ جانا جائے کہ اس قوم کا ہیرو کون ہے؟ کسی قوم کا ہیرو ایک فوجی جرنیل ہوتا ہے اور کسی قوم کا ہیرو ایک سیاسی رہنما کسی قوم کا ہیرو ایک شاعر ہوتا ہے اور کسی قوم کا ہیرو ایک دانشور کسی قوم کا ہیرا ایک صوفی ہوتا ہے اور کسی قوم کا ہیرو ایک سائنسدان کسی قوم کا ہیرو ایک ایکٹر ہوتا ہے اور کسی قوم

Read more

کیا ہمارے نظام تعلیم میں تبدیلی کی ضرورت ہے؟

نظام تعلیم کسی بھی ریاست کی عمارت کا ایک اہم ستون ہوتا ہے جس پر اس قوم کے مستقبل کا انحصار ہوتا ہے۔ اس نظام کو بہتر بنانے کے لیے حکومتیں مختلف اقدامات کرتی ہیں۔ موجودہ حکومت نے بھی پاکستان کے نظام تعلیم میں بہت سی اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ کیا یہ تبدیلیاں مثبت ہیں یا منفی؟ کیا ان تبدیلیوں سے قوم کی ترقی ہوگی یا ترقی معکوس؟ یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

Read more

انسان دوستی سے دوستی

جب کوئی اجنبی یا دوست مجھ سے پوچھتا ہے کہ آپ کا فلسفہ حیات کیا ہے تو میں کہتا ہوں ’انسان دوستی‘ ۔

وہ پوچھتے ہیں ’انسان دوست کون ہوتا ہے؟‘ تو میں ان سے کہتا ہوں کہ اس کا جواب چند جملوں میں نہیں دیا جا سکتا اس کے لیے مجھے قدرے طویل جواب دینا ہوگا۔ چنانچہ آپ میں آپ کی خدمت میں وہ قدرے طویل جواب پیش کرنا چاہتا ہوں تا کہ آپ بھی اپنے آپ سے پوچھ سکیں کہ کیا آپ بھی انسان دوست ہیں؟ اگر ہیں تو کیسے بنے اور اگر نہیں ہیں تو کیوں نہیں بنے؟

Read more

کیا آپ وقت کے رازوں سے واقف ہیں؟

وقت کے بارے میں مختلف لوگوں کے خیالات ’تصورات‘ جذبات اور نظریات مختلف ہیں۔
بعض لوگ سمجھتے ہیں وقت دریا کی طرح جو ہر دم بہتا رہتا ہے۔

بعض لوگ وقت کو سیکنڈوں ’منٹوں‘ گھنٹوں ’دنوں‘ ہفتوں ’مہینوں‘ سالوں ’دہائیوں اور صدیوں میں شمار کرتے ہیں اور بعض کے لیے ایک لمحے میں ایک صدی بیت جاتی ہے۔

Read more

گہری محبت کرنے والے کون ہیں؟

میری بچپن کی بہت سی یادوں میں سے ایک یاد اپنے والد عبد الباسط کا اپنے شاعر بھائی عارف عبدالمتین کو دس سے پندرہ صفحوں کے طویل خط لکھتے دیکھنا تھا۔ اس وقت تک میرے والد ایک صوفی منش انسان بن چکے تھے جبکہ میرے چچا جان ایک سوشلسٹ شاعر تھے۔ میرے چچا جان نے کبھی میرے والد کے خطوط کا جواب نہیں دیا۔ مجھے یاد ہے ایک مرتبہ میں نے اپنے والد کوچھیڑنے کے لیے کہا ’ابا جان عارف

Read more

جب تبلیغی جماعت میرے گھر آئی

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں کینیڈا کے وھٹبی شہر میں ایک بلڈنگ کی اکیسویں منزل پر PENTHOUSE NO 6 میں رہا کرتا تھا۔ایک شام میرے گھر کے دروازے پر غیر متوقع دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو دیکھا کہ شلوار قمیص میں ملبوس دو باریش بزرگ کھڑے تھے۔ ’السلام علیکم‘ ’وعلیکم سلام‘ ’کیا ہم اندر آ سکتے ہیں؟‘ انہوں نے پوچھا ’ضرور تشریف لائیے‘ دونوں بزرگ اندر آ گئے۔ چند لمحوں کی گفتگو سے اندازہ ہو گیا کہ

Read more

جب ہجوم دیوانہ ہو جائے

میری ایک کینیڈین مریضہ سنتھیا جو POST TRAUMATIC STRESS DISORDER…PTSD کا شکار ہیں پچھلے دو سال سے تھراپی کروا رہی ہیں۔ وہ بچپن میں ایک شام اپنی سہیلی کے ساتھ ایک پارک میں سیر کرنے گئی تھیں اور وہاں انہیں نے سفید فام نسل پرست لوگوں کے ایک گروہ کو ایک کالے بچے کو مارتے پیٹتے قتل کرتے اور جلاتے دیکھا تھا۔ یہ سانحہ انہوں نے اپنے لاشعور میں دھکیل کر بھلا دیا تھا لیکن دو سال پیشتر ایک ٹی وی

Read more

سگمنڈ فرائڈ کے بتائے ہوئے ذہنی بلوغت کے راز

کیا آپ نے کبھی انسانی نفسیات کے بارے میں سنجیدگی سے غور کیا ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ نجانے کتنے لوگ جسمانی طور پر بالغ ہونے کے باوجود ذہنی طور پر نابالغ ہیں؟ ایسے لوگ خود بھی نفسیاتی مسائل کا شکار رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی پریشان کرتے ہیں۔ پچھلی دوصدیوں میں بہت سے ماہرینِ نفسیات نے اپنے علم اور تحقیق سے ہماری رہنمائی کی کہ ہے کہ ہم انسانی نفسیات اور ذہنی بلوغت کے راز جانیں تا

Read more

کیا آپ جنسی منافقت کی زندگی گزار رہے ہیں؟

کیا آپ نے سنا ہے کہ سچ ہمیں آزاد کر دیتا ہے؟ میں نے یہ دانائی کی بات سن تو رکھی تھی لیکن مجھے اس سچ کی معنویت اس وقت تک سمجھ نہیں آئی جب تک میں نے ان مردوں اور عورتوں کا اپنے کلینک میں علاج نہیں کیا جو جنسی منافقت کی زندگی گزار رہے تھے؟ آئیں میں آپ کو ایک جوڑے کی کہانی سنائوں۔ میری ایک بزرگ مریضہ نے مجھ سے کہا کہ اس کی بیٹی ذہنی طور

Read more

کیا آپ لمس کی نفسیات سے واقف ہیں؟

  بہت سے روایتی اور مذہبی خاندانوں میں جنس کے موضوع پر تبادلہِ خیال کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے اور بعض خاندان ایسے بھی ہیں جن میں آج بھی فرائڈ اور کنزی کی کتابوں کی جگہ ’بہشتی زیور‘ کو جنس کی نفسیات کے موضوع پر ایک مستند و معتبر کتاب مانا جاتا ہے۔ شاید اسی لیے ان خاندانوں میں پلنے بڑھنے والے بچے اور نوجوان لمس کی نفسیات سے واقف نہیں ہوتے۔ جب کسی گھرانے میں کوئی بچہ پیدا ہوتا

Read more

والدین اور اساتذہ کی ذمہ داریاں (خط نمبر 14 )

مقدس مجید صاحبہ! میری نگاہ میں ایک انسانی بچہ پیدا کرنا اور اس کی صحیح تربیت کرنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ امریکہ کے صدر بننے سے بھی زیادہ مشکل کیونکہ صدارت سے تو آپ چار یا آٹھ سال کے بعد فارغ ہو جاتے ہیں لیکن بچے کی ذمہ داری اور تعلق ساری عمر رہتا ہے۔ میں آپ سے متفق ہوں کہ وہ مرد اور عورتیں جن کے کندھے یہ بھاری بوجھ نہیں اٹھا سکتے انہیں یہ ذمہ داری

Read more

کیا آپ کامریڈ عمر لطیف کو جانتے ہیں؟

آئیں میں آپ کو اپنی زندگی کا ایک دلچسپ واقعہ سنائوں۔ مجھے ٹورانٹو کے ایک سیمینار میں ایک دانشور دوست کہنے لگے میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں اور مجھے علیحدگی میں لے جا کر مسکراتے ہوئے کہنے لگے آپ 1952 میں پیدا ہوئے میں بھی 1952 میں پیدا ہوا آپ جولائی کے مہینے میں پیدا ہوئے میں بھی جولائی کے مہینے میں پیدا ہوا آپ جولائی کی  9 تاریخ کو پیدا ہوئے میں بھی جولائی کی 9 تاریخ

Read more

کیا کوئی پوری قوم بھی ذہنی طور پر بیمار ہو سکتی ہے؟

ڈاکٹر خالد سہیل کے کالم ‘کیا آپ کا کوئی رشتہ دار ذہنی مریض ہے؟ کے حوالے سے ملک رشیر صاحب کا خط ڈاکٹر صاحب سلام! کیا اجتماعی نوعیت کی ذہنی بیماریاں بھی ہوتی ہیں؟ میرا پاکستان کے مسلمان معاشرے سے تعلق ہے۔ میرے ارد گرد لوگوں میں ظلم اور استحصال کے حوالے سے منفعل رویہ، خود اذیتی اور طفلیت جیسے رحجانات کو گروہ میں پھیلی ذہنی بیماری کہا جا سکتا ہے یا اسے صرف انفرادی نفسیاتی بگاڑ کے طور پر

Read more

جب معافی مانگنے میں دیر ہو جائے

میرے کینیڈین مریض ڈیوڈ نے مجھے بتایا کہ اس کی پانچ سالہ شادی کے دوران اس کے کئی دوستوں نے اسے بار بار بتایا اور سمجھایا تھا کہ وہ اپنی بیوی کی قدر نہیں کرتا ’اس کا احترام نہیں کرتا بلکہ بعض دفعہ اس کی ہتک کرتا ہے‘ تذلیل کرتا ہے اور سب کے سامنے اس کی بے عزتی کرتا ہے لیکن وہ اپنی جوانی اور مردانگی کے نشے میں مخمور تھا۔ وہ اپنے کاروبار ’اپنے مشاغل اور اپنے دوستوں

Read more

مغربی معاشرے کی مختلف سماجی و سیاسی تحریکیں (12)

محترمہ مقدس مجید صاحبہ! آپ نے اپنے خط میں مردوں اور عورتوں کے رشتوں کے مسائل کا جو نفسیاتی اور سماجی تجزیہ پیش کیا ہے وہ دلچسپ بھی ہے اور فکر انگیز بھی۔ جس معاشرے میں لڑکوں اور لڑکیوں کو بچپن سے ہی بہت دور دور ایک دوسرے سے الگ رکھا جائے ان کے لیے نوجوانی میں ایک دوسرے سے بامعنی مکالمہ کرنا بہت دشوار ہو جاتا ہے اور جب وہ ایک دوسرے سے دوستی اور محبت کے جذبے کا

Read more

عورتوں کی جنسی ہراسانی پر رد عمل

اتفاق سے آج ہی میرے کلینک میں ایک تیس سالہ جوان مریضہ سنتھیا، جو اپنی ڈپریشن کا علاج کروانے کئی مہینوں سے آتی رہتی ہیں، تشریف لائیں۔ انٹرویو کے دوران بتانے لگیں کہ انہیں دو دن پہلے زندگی میں پہلی بار جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔

میں نے جب انہیں تفصیل بتانے کو کہا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ ایک نرسنگ ہوم میں نرس کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اس دن جب وہ علی الصبح بس میں بیٹھ کر نرسنگ ہوم جا رہی تھیں تو بہت پرسکون تھیں۔ وہ گرمیوں کے موسم سے لطف اندوز ہو رہی تھیں اور سوچ رہی تھیں کہ وہ خوش قسمت انسان ہیں کہ کرونا وبا کے دوران بھی ان کی ملازمت برقرار ہے اور قوم کے سینئر سیٹیزنز کا خیال رکھ کر انسانیت کی خدمت کر رہی ہیں۔
سنتھیا نے یہ ضرور محسوس کیا کہ چونکہ ابھی دن پوری طرح نہیں چڑھا تھا اس لیے بس میں زیادہ مسافر نہیں تھے۔

Read more

کیا آپ خودکشی کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں؟

یہ آج سے چار سال پہلے کی بات ہے۔ ایک سہ پہر میرا ایک مریض میرے کلینک آیا تو اداس دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے چند روز سے شیو بھی نہیں کیا تھا۔ میں نے کہا

ڈیوڈ تم بہت افسردہ دکھائی دے رہے ہو۔ خیریت تو ہے؟
ڈیوڈ نے میری طرف نہ دیکھا۔ اس نے اپنی نظریں جھکائی ہوئی تھیں۔ کہنے لگا

میں آپ سے بہت کچھ چھپاتا رہا ہوں۔ آپ کو آدھا سچ بتاتا رہا ہوں۔ لیکن آج میں پورا سچ بتانے آیا ہوں۔ میں زندہ نہیں رہنا چاہتا۔ میں مرنا چاہتا ہوں۔ میں خود کشی کرنا چاہتا ہوں۔

Read more

کیا شادی کے بعد آپ کی بیگم حد سے زیادہ مذہبی ہو گئی ہیں؟

جب میں نفسیات کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کینیڈا آیا تو جس شخص نے مجھے ایرپورٹ پر خوش آمدید کہا ان کا نام ڈاکٹر میکس ویلر تھا۔ انہوں نے ایر پورٹ پر میرے سوٹ کیس اپنی گاڑی میں رکھے اور وہ مجھے جین وے ہسپتال کے طالب علموں کے ریزیڈنس میں لے آئے جہاں میری رہائش کا انتظام کیا گیا تھا۔ کہنے لگے ”کل میں پھر آؤں گا اور آپ کو اپنے گھر لے جاؤں گا تا کہ آپ ہمارے

Read more

جب مذہب نے سائنس سے معافی مانگی

یونانی فلسفیوں اور خاص طور پر دوسری صدی عیسوی کے فلسفی کلوڈیس پٹولومی ( 100۔ 170 AD) کا یہ موقف تھا کہ زمین کائنات کا مرکز ہے اور سورج اور ستارے زمین کے گرد گھومتے ہیں۔ یہ نظریہ اتنا مقبول ہوا کہ عیسائی مذہب نے اس نظریے کو قبول کر کے عیسائی عقیدے کا حصہ بنا دیا۔ پادریوں نے انجیل کی آیات کی ایسی تشریح کی کہ اس نظریے کو تقویت اور تقدس مل گیا۔

Read more

مردوں کی آزادی (خط # 10) 

محترمہ مقدس مجید صاحبہ! آپ کا خط پڑھتے ہوئے میں یہ سوچ کر اداس ہو گیا کہ مشرقی دنیا میں نجانے کتنی عورتیں ایسی ہیں جو اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار نہیں کر سکتیں اور اگر کرنا چاہیں تو انہیں ان گنت مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جہاں تک مغربی دنیا کا تعلق ہے مغربی عورت نے دو سو سال کی جدوجہد سے یہ سیکھ لیا ہے کہ اس کی جذباتی  ’سماجی اور تخلیقی آزادی و خودمختاری کا گہرا

Read more

کیا ڈپریشن کا علاج عبادت سے کیا جا سکتا ہے؟

’ میں اداس رہتی تھی۔ کچھ بھی کرنے کو جی نہ چاہتا تھا۔ بھوک بھی نہیں لگتی تھی۔ میرا چار ماہ میں بارہ پونڈ وزن کم ہو گیا تھا۔ نیند نہیں آتی تھی۔ ڈراؤنے خواب نظر آتے تھے۔ میں چڑچڑی بھی ہو گئی تھی۔ زندگی بے مقصد لگنے لگی تھی‘

’ یہ تو ڈپریشن کی ہی علامات ہیں تو پھر آپ مجھ سے علاج کروانے کیوں نہ آئیں؟‘ میں متجسس تھا۔

’ڈاکٹر سہیل! میری والدہ بہت مذہبی خاتون ہیں۔ انہوں نے مجھ سے کہا مسئلہ روحانی ہے۔ اگر تم پانچ وقت نماز پڑھو اور ہر صبح قرآن کی تلاوت کرو تو عبادت کرنے سے ٹھیک ہو جاؤ گی۔ میں نے وہ سب کچھ چھ ماہ کیا لیکن میری حالت بہتر ہونے کی بجائے بدتر ہوتی گئی۔ آخر جب مجھے خود کشی کے خیالات آنے لگے تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ پانی سر سے گزرنے لگا ہے اور میں اپنی والدہ سے چھپ کر آپ سے ملنے آئی‘

Read more

کیا آپ کسی سائیکوپیتھ کو جانتے ہیں؟

جب عام لوگ سائیکوپیتھز کے بارے میں سوچتے ہیں تو ان کے ذہن میں ان عادی مجرموں اور سیریل کلرز کا تصور ابھرتا ہے جو اپنی زندگی کا بڑا حصہ کسی جیل میں گزارتے ہیں لیکن ماہرین نفسیات جانتے ہیں کہ سائیکوپیتھز میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو دنیاوی طور پر مالدار زندگی گزارتے ہیں لیکن اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ بے ضمیر ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں بہت سے بظاہر کامیاب انجینئر ’ڈاکٹر‘ وکیل ’بزنس

Read more

کیا آپ انسانی تاریخ کے پہلے سائنسدان تھیلز آف میلیٹس کو جانتے ہیں؟

وہ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے 28 مئی 585 قبل مسیح کے سورج گرہن کی پیشین گوئی کی۔ اور ان کی پیشین گوئی صحیح ثابت ہوئی۔ تھیلز کا خیال تھا کہ کائنات میں ایک نامیاتی اکائی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ زندگی کا آغاز پانی سے ہوا ہے اور پانی ہی زندگی کو قائم رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زمین پانی پر تیرتی ہے اور جب پانی کی لہروں میں طغیانی آتی ہے تو زمین پر زلزلے آتے ہیں۔

Read more

TRIBIDOسے LIBIDO کا سفر (خط # 8)

محترمہ مقدس مجید صاحبہ! میں اس خط میں دو حوالوں سے بات کروں گا کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض سے ملاقاتیں اور نوجوانوں کے رومانوی اور ازدواجی رشتے کشور ناہید سے میری ایک سے زیادہ ملاقاتیں ہوئیں کینیڈا میں بھی اور پاکستان میں بھی۔ میں نے انہیں نہایت صاف گو ’حق پرست‘ بے خوف اور نڈر خاتون پایا۔ وہ سچ کہتی ہیں ’سچ لکھتی ہیں اور پھر سچ کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار رہتی ہیں۔ کشور ناہید کو

Read more

کیا آپ فریڈا فرام رائخمین کی خدمات سے واقف ہیں؟

فریڈا فروم رائشمان نام سنہرے حروف سے لکھا جائے گا کیونکہ انہوں نے تحلیل نفسی اور سائیکو تھراپی کی روایات میں گرانقدر اضافے کیے۔ سگمنڈ فرائڈ نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں اینزائٹی میں مبتلا ان NEUROTICSکا علاج کیا جو ان کے کلینک میں آ کر ان کے کاؤچ پر لیٹ جاتے تھے اور آزاد تلازمہ خیال اور فری ایسوسی ایشن سے علاج کرواتے تھے۔ فرائڈ کے مریض ان مالدار خاندانوں کے چشم و چراغ تھے جو برسوں کی تحلیل نفسی کی فرائڈ کو فیس دیتے تھے۔

Read more

کیا آپ ایک صحتمند گرین زون خاندان بنانا جانتے ہیں؟

میری اپنی مریضہ ماریا سے پہلی بار ملاقات دس برس پہلے ہوئی تھی۔ ان دنوں وہ اپنے شوہر کے ہاتھوں بہت پریشان تھی اور اس پریشانی کو دور کرنے کے لیے حد سے زیادہ شراب پیتی تھی۔ میں جب ماریا کے شوہر رچرڈ سے ملا تو اسے کھل کے مجھے بتایا کہ وہ اپنی بیوی سے محبت نہیں کرتا۔ میں نے جب اس سے پوچھا کہ تم ماریا کے ساتھ کیوں رہتے ہے؟

Read more

عورتوں کی جدوجہد۔ خط نمبر 06

چاہے مشرق ہو یا مغرب عورتوں کا ایک بنیادی مسئلہ ان کی شادی ’خاندان اور بچے ہیں۔ آپ یہ بتائیں کہ آج کے دور کی پاکستانی نوجوان خواتین کو شادی کے حوالے سے کس قسم کے مسائل کا سامنا ہے؟

آپ کی سہیلیوں کا ارینجڈ شادی اور لو میرج کے بارے میں کیا نظریہ اور تجربہ ہے؟
آپ کا کالج اور یونیورسٹی کے نوجوانوں کی ڈیٹنگ کے بارے میں کیا مشاہدہ ہے؟

Read more

جنس اور جارحیت کی نفسیات

جنس اور جارحیت کا رشتہ
پیچیدہ بھی ہے گنجلک بھی
شعوری بھی ہے لاشعوری بھی
صحتمند بھی ہے مریضانہ بھی

جنسی مباشرت بظاہر ایک جارحانہ عمل ہے لیکن جب یہ عمل دو محبوبوں کے درمیان ہوتا ہے تو اس میں محبت، پیار، اپنائیت اور خلوص آپس میں بغلگیر ہو جاتے ہیں اور دو چاہنے والے اپنی خوشی اور رضامندی سے ایک دوسرے کو جنسی معراج تک پہنچاتے ہیں اور جب اس معراج سے واپس لوٹتے ہیں تو ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ مشرق کی تانترک روایت تو جنسی مباشرت کو نروان حاصل کرنے کا روحانی طریقہ سمجھتی ہے۔

لیکن جب جنسی تعلق غیر صحتمند ہو جائے تو پھر ایک فریق مباشرت کو جارحیت کے طور پر اور اپنے غصے، نفرت، تلخی اور بدلہ لینے کے جذبے کے لیے جنس کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

Read more

قصہ میر تقی میر کے پاگل پن کا۔۔۔

سورن کرکیگارڈ SOREN KIERKEGAARD نے ایک جگہ لکھا ہے ’ شاعر ایک ایسا دکھی انسان ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے داخلی کرب کا اظہار کرتا ہے تو اس کے غم شعر و نغمہ میں ڈھل جاتے ہیں‘۔ میر تقی میر کا شعر ہے خوش ہوں دیوانگیِ میر سے سب۔۔۔۔۔ کیا جنوں کر گیا شعور میں وہ ! جب ہم میر تقی میر کی زندگی کا نفسیات کے آئینے میں مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ان

Read more

خلا کے گہرے سمندر میں کبھی تیر سکے گا؟

یہ میری خوش بختی ہے کہ میرا اپنے بچپن کے دوست سہیل زبیری سے ’جو اب ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ سائنسدان بن چکے ہیں‘ میرا متواتر مکالمہ ہوتا رہتا ہے اور ہم سائنس اور نفسیات کے مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کرتے رہتے ہیں۔ وہ خارجی دنیا کے راز مجھ سے اور میں داخلی دنیا کے راز ان سے شیر کرتا ہوں۔ ہم دونوں کی خواہش ہے کہ ہم سائنس اور نفسیات کے علوم عام فہم زبان میں عوام تک پہنچائیں۔ میں نے سہیل زبیری کے ایک مضمون کا ’ہم سب‘ کے قارئین کے لیے ترجمہ کیا تھا اب میں ایک اور مضمون کا ترجمہ اور اس مضمون کے ساتھ ساتھ اپنے چند شاعرانہ تاثرات پیش کرنا چاہتا ہوں۔

Read more

کامیاب زندگی کے راز (خط نمبر 4)

محترمہ مقدس مجید صاحبہ! مجھے آپ سے اس ادبی ’سماجی اور نظریاتی مکالمے سے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ ہزاروں میلوں کے جغرافیائی اور کئی دہائیوں کے عمر کے فاصلوں (جسے روایتی لوگ جنریشن گیپ کہتے ہیں ) کے باوجود ہم ایک دوسرے سے بامعنی مکالمہ کر رہے ہیں۔ مجھے اس بات کی بھی مسرت ہے کہ آپ کسی خوف‘ ڈر اور سنسر شپ کے بغیر اپنا پورا سچ لکھ رہی ہیں۔ آپ کا ادب پارہ پڑھ کر مجھے

Read more

کیا مردوں کو خود احتسابی کی ضرورت ہے؟

ڈاکٹر کامران احمد ایک ماہر نفسیات بھی ہیں اور ایک سماجی کارکن بھی۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے ساتھ کئی برس اور کئی ممالک میں کام کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ لے لی اور کینیڈا میں سکونت پذیر ہو گئے۔ میری جب ان سے ملاقات ہوئی تو میں ان کے زندگی کے بارے میں تجربے ’مشاہدے‘ مطالعے اور تجزیے سے بہت متاثر ہوا اور ہم نے مل کر پہلے امن کے موضوع پر ایک کتاب لکھی اور پھر کینیڈا ون پر

Read more

نئی نسل کے نئے سوال۔۔۔۔خط نمبر 02

میں جب پاکستان کے پچھلے پچاس برس کی تاریخ پر نگاہ دوڑاتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ بعض حوالوں سے پاکستان نے ترقی کرنے کی بجائے ترقی معکوس کی ہے۔ پچاس سال پہلے جو ہم سوال پوچھ سکتے تھے اب نہیں پوچھ سکتے کیونکہ ادیب شاعر اور دانشور خوف زدہ رہتے ہیں کہ کہیں ان پر فتویٰ نہ لگ جائے کہیں انہیں جیل میں نہ ڈال دیا جائے کہیں انہیں قتل نہ کر دیا جائے۔

Read more

باکرہ اور نفسیاتی مسائل

ایک سہ پہر مجھے اپنے کلینک کے سٹاف روم میں شوخ و چنچل سوشل ورکر نینسی ملی تو میں نے بے اختیار پوچھا
’آج تو تم کچھ زیادہ ہی خوش دکھائی دے رہی ہو۔ کوئی خوش خبری ہے تو مجھے بھی بتاؤ‘

نینسی نے فورا مجھے اپنا بایاں ہاتھ دکھایا جس میں ایک قیمتی ہیرے کی انگوٹھی جگمگا رہی تھی۔ کہنے لگی ’مارک نے ایک گھٹنے پر جھک کر پچھلے ویک اینڈ پر مجھے پروپوز کیا ہے‘

’مبارک ہو۔ مٹھائی کب کھلاؤ گی‘
’جب آپ چاہیں‘

جب میں اپنے کمرے میں آیا تو میں نے سوچا کہ کینیڈا میں ملنے والی تمام عورتوں میں نینسی وہ واحد لڑکی تھی جو چوبیس سال کی ہوتے ہوئے بھی باکرہ تھی۔

Read more

نوجوان لکھاری ابصار فاطمہ کا پہلا سنجیدہ ناول

’ہم سب‘ پر کالم لکھتے رہنے کے دوران جن لکھاریوں ’ادیبوں اور دانشوروں سے میری غائبانہ ملاقاتیں ہوئیں ان میں سے ایک ابصار فاطمہ بھی ہیں۔ میں نے جب ان کے کالم اور افسانے پڑھے تو مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کم عمری میں ہی زندگی اور ادب کے بارے میں سنجیدہ رویے کی مالک بن چکی ہیں۔ حال ہی میں ان کے پہلے ناول۔ افسانے کی حقیقی لڑکی۔ پڑھنے کا موقع ملا تو میں حیران بھی ہوا اور متاثر

Read more

کیا آپ روشنی کے راز جانتے ہیں؟

ہم سب جانتے ہیں کہ روشنی کی کئی قسمیں ہیں دیے کی روشنی چراغ سر راہ کی روشنی بلب کی روشنی چاند کی روشنی سورج کی روشنی دل کی روشنی دماغ کی روشنی روح کی روشنی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا روشنی ایک مادی حقیقت ہے یا خیالی استعارہ؟ اس کا تعلق بصیرت سے ہے یا بصارت سے؟ جب ہم ماہرین روحانیات سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ نروان اور enlightenment کی معراج تک پہنچنے کے

Read more

عورتوں کی آزادی کا استعارہ۔ لو سیلوم

لوسلوم کو ادب ’فلسفے اور نفسیات کی دنیا میں وہ عزت اور عظمت نہیں ملی جس کی وہ بجا طور پر حقدار تھیں۔ جو تھوڑی بہت مقبولیت ملی بھی تو اس لیے نہیں کہ وہ ایک نابغہ روزگار فیمنسٹ اور مایہ ناز ماہر نفسیات تھیں بلکہ اس لیے کہ وہ سگمنڈ فرائڈ کی دوست اور فریڈرک نیٹشے کی محبوبہ تھیں۔ یہ علیحدہ بات کہ انہوں نے نیٹشے سے شادی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ نیٹشے وہ واحد دانشور مرد نہ تھے جو ان کی زلف کے اسیر ہوئے تھے اور وہ بھی پہلے یا آخری دانشور نہ تھے جن سے شادی کرنے سے لو سیلوم نے انکار کیا تھا۔ لو سیلوم ایسی لیلیٰ تھیں جن کی زندگی میں بہت سے مجنوں آئے لیکن وہ سب مجنوؤں سے ایک مخصوص ذہنی قربت لیکن رومانوی فاصلہ رکھتی تھیں۔

Read more

کچھ ڈاکٹر عزیز الحق اور رابعہ سنبل کے بارے میں: ڈاکٹر شیر شاہ اور عظمیٰ عزیز سے گفتگو

نوٹ: ’ہم سب‘ پر پاکستان کے دانشور عزیز الحق کے بھائی انوارالحق کا انٹرویو چھپنے کے بعد میری آنسرنگ مشین پر ڈاکٹر شیر شاہ کا ایک میسج تھا کہ وہ مجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے ان سے رابطہ قائم کیا تو کہنے لگے کہ وہ عزیز الحق کی دوست رابعہ سنبل کی بہن ڈاکٹر انیتا کو جانتے ہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں عزیز الحق کی بیٹی عظمیٰ عزیز کو جانتا ہوں۔ میں نے ڈاکٹر شیر

Read more

کیا آپ انارکسٹ فیمنسٹ ایما گولڈمین سے واقف ہیں؟

فیمنزم تحریک کی دو سو سالہ تاریخ میں جہاں اس تحریک کا سوشلزم اور ہیومنزم کے ساتھ خصوصی تعلق ہے وہیں اس کا تعلق انارکزم کے ساتھ بھی ہے۔ فیمنزم اور انارکزم کے اس تعلق کی خصوصی نمائندہ جو نڈر خاتون ہیں ان کا نام EMMA GOLDMAN ہے۔ جب میں نے ایما گولڈمین کی خود نوشت سوانح عمری LIVING MY LIFE پڑھی تو مجھے یہ جان کر بہت مسرت ہوئی کہ اس کتاب کا ترجمہ میری سوشل ورکر دوست زہرہ

Read more

بے ٹی فریڈین اور سیمون دی بووا۔ دو فیمنسٹوں کا تاریخ ساز مکالمہ

بے ٹی فریڈین امریکی فیمنسٹ ہیں جن کی کتاب THE FEMININE MYSTIQUEنے شمالی امریکہ کی لاکھوں عورتوں کی زندگیاں بدل دیں اور سیمون دی بووا ایک فرانسیسی فیمنسٹ ہیں جن کی کتاب THE SECOND SEXکے بہت سی زبانوں میں ترجمے ہوئے۔ ان دونوں خواتین کی زندگی کا مقصد عورتوں کی آزادی و خودمختاری کی تحریک کو بڑھاوا دینا تھا۔ ان کی منزل ایک تھی لیکن راستے جدا تھے اس لیے ان کا مکالمہ فیمنزم کی مختلف تحریکوں کی نفسیات ’سیاسیات

Read more

کیا آپ غیر روایتی فیمنسٹ اینائس نن کو جانتے ہیں؟

ANAIS NIN ایک ایسی غیر روایتی فیمنسٹ تھیں جنہیں عمر بھر روایتی مردوں کے ساتھ ساتھ روایتی عورتوں اور روایتی فیمنسٹوں کی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن وہ اپنی خود اعتمادی کی وجہ سے اپنے نقطہ نظر اور اپنے فلسفہ حیات پر ڈٹی رہیں۔ بالآخر ساری دنیا کے مردوں اور عورتوں نے ان پر عزت اور شہرت اور عظمت کے پھول نچھاور کیے اور مرنے سے ایک سال پیشتر LOS ANGELES TIMESنے انہیں 1976 WOMAN OF THE YEARکے ایوارڈ

Read more

سیمون دی بووا۔ ایک دانشور فیمنسٹ

جب ہم بیسویں صدی کی عورتوں کی جدوجہد اور فیمنسٹ تحریک کے بارے میں سنجیدگی سے سوچتے ہیں تو ہمارے ذہن میں سیمون دی بووا اور ان کی اہم کتاب THE SECOND SEXکے نام ابھرتے ہیں۔ اس کتاب کا نجانے کتنی زبانوں میں ترجمہ ہوا اور اسے پڑھ کر نجانے کتنی ہزاروں لاکھوں عورتوں کی زندگیاں بدل گئیں۔ سیمون 1908 میں فرانس کے ایک متمول گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والدین کو اعلیٰ تعلیم کا بہت شوق تھا

Read more

الزبتھ سٹینٹن اور عورتوں کی بائبل

ELIZABETH CADY STANTON کے نام اور کام کے بغیر مغرب کی فیمنسٹ تحریک کی تاریخ نامکمل رہے گی۔ انہوں نے اس تحریک کو نظریاتی ’سماجی اور سیاسی بنیادیں فراہم کیں جس پر بعد کی فیمنسٹ خواتین نے بلند و بالا عمارتیں تعمیر کیں۔ الزبتھ سٹینٹن کا موقف تھا کہ جب تک ہم عورتوں کے مذہبی خیالات اور نظریات تبدیل نہیں کریں گے اور ان کی مذہبی شناخت نہیں بدلیں گے اس وقت تک وہ پوری طرح آزاد و خودمختار نہیں

Read more

مغربی عورتوں کی آزادی کی طویل جدوجہد کی مختصر کہانی

عورتیں اپنے مسائل کو سلجھانے کی کوشش انفرادی طور پر تو صدیوں سے کر رہی تھیں لیکن مغرب میں عورتوں کی اجتماعی جدوجہد کی باقاعدہ تحریک کی ابتدا انیسویں صدی میں ہوئی جب عورتوں کے مسائل سیاسی اور مذہبی حلقوں میں زیر بحث آنے لگے۔ یہ وہ دور تھا جب ذاتی آزادی کا تصور مقبول عام ہو رہا تھا۔

1833 میں اوہائیو امریکہ میں اوبرلن وہ پہلا کالج تھا جس نے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کے لیے علم کے دروازے کھولے یہ علیحدہ بات ہے کہ اس کا مقصد اچھی بیویاں اور مائیں پیدا کرنا تھا۔ ان تعلیمی سرگرمیوں کا سہرا ایما ولارڈ اور فرانسس رائٹ کے سر جاتا ہے جنہوں نے اپنی پراثر تقریریں کر کے عوام کو تعلیم نسواں کے مسئلے کی سنجیدگی کا احساس دلایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک عورتوں کو معاشرے میں ان کا صحیح مقام نہیں ملے گا معاشرہ تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔

Read more

کیا آپ لفظ و معنی کے پراسرار رشتے سے واقف ہیں؟

میں نے جب اپنے سچ کی تلاش میں نکلے ہوئے ادیب ’شاعر اور دانشور دوستوں سے پوچھا کہ کیا آپ HERMENEUTICS ہرمانیوٹکس کی روایت سے واقف ہیں تو انہوں نے مجھے عجیب و غریب نگاہوں سے دیکھا۔ ان میں سے اکثر نے یہ لفظ اور یہ اصطلاح پہلے نہ سنی تھی لیکن وہ اس کے بارے میں کچھ جاننے کے خواہشمند تھے۔ میں نے انہیں بتایا کہ ہرمانیوٹکس فلسفے ’نفسیات اور ادب کی وہ روایت ہے جس کا بنیادی موقف

Read more

جب آپ کے بھائی کو کوئی آپ کی آنکھوں کے سامنے قتل کر دے

تعارف : عزیز الحق ایک ایسے دانشور تھے جو لاہور کے پاک ٹی ہاؤس کی ادبی اور سیاسی محفلوں میں بڑے ذوق و شوق سے شامل ہوتے تھے اور ادب ’فلسفے اور سیاست کے متنازعہ موضوعات پر گرما گرم بحثوں میں شرکت کرتے تھے۔ وہ بیک وقت کارل مارکس کے بھی مداح تھے اور ژاں پال سارتر کے بھی۔ وہ اپنے آپ کو EXISTENTIALIST MARXIST کہلانا پسند کرتے تھے۔

اور پھر مئی 1972 میں ان کی ناگہانی موت نے ان محفلوں کو سونا کر دیا۔ چونکہ ان کی موت قتل کی وجہ سے ہوئی اور قاتل نے عزیز الحق کو قتل کرنے کے بعد اپنے آپ کو بھی قتل کر دیا اس لیے وہ موت اور بھی پر اسرار ہو گئی۔ میں نے عزیز الحق کی زندگی کے حالات اور ان کے مقالات پڑھے تو مجھے ان کی پراسرار موت کے بارے میں تجسس ہوا۔

Read more

سارتر کا وجودی فلسفہ اور مارکسزم

ژاں پال سارتر نے 1940 کی دہائی میں ایک معرکتہ الآرا کتاب لکھی اور اس میں اپنا وجودیت کا فلسفہ پیش کیا۔ وہ کتاب BEING AND NOTHINGNESS کے نام سے چھپی۔ اس کتاب میں سارتر کا انداز تحریر ’کئی اور مغربی فلسفیوں کی طرح‘ مشکل بھی ہے اور گنجلک بھی۔ کچھ مسائل فرانسیسی سے انگریزی میں ترجمے کے بھی ہیں۔ سارتر کی موت سے پہلے کسی شاگرد اور مداح نے ان کی کتاب کی تلخیص شائع کی۔ جب کسی دوست

Read more

جب سارتر کی زندگی کی شام آ گئی

جب ژاں پال سارتر 1980 میں فوت ہوئے تو ان کے جنازے میں ساری دنیا سے آئے ہوئے پچاس ہزار لوگ شامل تھے۔ ایسا بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی مغربی فلاسفر کو اتنی مقبولیت ’عزت اور عظمت حاصل ہوئی ہو۔ سارتر کی موت کی خبر فرانس کے بڑے بڑے اخباروں کے ساتھ ساتھ امریکہ کے نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کی شہ سرخیوں میں بھی شامل تھی۔ ان کی موت کے بعد فرانس کے صدر ویلر دیستینگ نے ان کے احترام میں دوستوں کے ساتھ ان کی لاش کے ساتھ ایک گھنٹہ گزارا اور اٹلی کے صدر نے ان کی محبوبہ اور شریک حیات سیمون دی بووا کو تعزیتی پیغام بھیجا۔

Read more