کیا انسان کی کوئی فطرت ہے؟

اگر آپ اپنے عزیزوں ’دوستوں اور رشتہ داروں سے پوچھیں کہ
’کیا انسان کی کوئی فطرت ہے؟‘
تو امکان اغلب ہے کہ ان میں سے اکثر یہ کہیں گے کہ
’جی ہاں انسان کی ایک مخصوص فطرت ہے‘

اور اگر مزید پوچھیں کہ وہ فطرت کیا ہے؟ تو وہ اپنے عقیدے اور نظریے ’انسانی نفسیات کے علم اور سماجیات کی معلومات کے مطابق اس کا جواب دیں گے۔

کوئی کہے گا انسان کی فطرت میں نیکی ہے
کوئی کہے گا انسان کی فطرت میں بدی ہے
کوئی کہے گا انسان بڑا صبر والا ہے اور کوئی کہے گا وہ بے صبرا ہے۔
کوئی کہے گا انسان جھگڑالو ہے کوئی کہے گا انسان صلح جو ہے

Read more

کیا مرد ماضی کی ذہنی زنجیروں سے آزاد ہو سکتے ہیں؟

دنیا کے ہر ملک اور معاشرے میں نجانے کتنے مرد اور عورتیں خود سے اور ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں
مرد تبدیلی سے کیوں گھبراتے ہیں؟
مرد عورتوں کا استحصال کیوں کرتے ہیں؟
مرد ان عورتوں سے جارحیت سے کیوں پیش آتے ہیں جن سے وہ محبت کا دعویٰ کرتے ہیں؟
مرد عورتوں کو اپنے برابر کا انسان کیوں نہیں سمجھتے؟

یہ اتنے اہم سوال ہیں کہ ان پر ماہرین نفسیات اور سماجیات نے ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔ وقت کی کمی کی وجہ سے میں یہاں نہایت اختصار سے ان سوالوں کے حوالے سے چند معروضات پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔

Read more

چیچک کی ویکسین سے کورونا کی ویکسین تک

درویش جب ویکسین لگوا کر اپنی کٹیا کی طرف لوٹ رہا تھا تو سوچ رہا تھا کہ آخر مختلف بیماریوں کو کم کرنے والی اور انسانوں کی قوت مدافعت کو بڑھانے والی ویکسین کی تاریخ کیا ہے؟

انسانی تاریخ میں ایک وہ زمانہ تھا جب انسان سوچا کرتے تھے کہ ان کی بیماری کا تعلق ان کے گناہوں سے ہے۔ اس لیے جب وہ بیمار ہوتے تھے تو اپنے گناہوں کی معافیاں مانگتے تھے اور شفایابی کی دعائیں کرتے تھے۔

انسانی تاریخ میں دعا سے دوا کا سفر تین ہزار سال کا سفر ہے۔

پانچ سو قبل مسیح  میں بقراط وہ پہلے طبیب تھے جنہوں نے اپنے مریضوں کو بتایا کہ ان کی بیماریوں کا ان کے گناہوں سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے مریضوں کو سمجھایا کہ بیماریوں کا تعلق حفظان صحت کے اصولوں سے ہے۔ بقراط نے مشورہ دیا کہ متوازن خوراک کھانے ، روزانہ ورزش کرنے ، زیادہ پانی پینے اور گہری نیند سونے سے انسان صحت مند رہتا ہے۔

Read more

کیا آپ کے بچے مستقبل کے شاعر، فنکار اور دانشور ہیں؟

میری چھوٹی بہن عنبرین کوثر نے جب مجھے بتایا تھا کہ ان کی پہلوٹی کی بیٹی عفیفہ پہلے دن سکول گئی ہے تو میں نے انہیں ایک مزاحیہ بٹن بھیجا تھا جس پر لکھا تھا
Do not let your school interfere with your education

سچ بات تو یہ ہے کہ خوش قسمتی سے بعض سکول بچوں کی تخلیقی صلاحیتیوں کو جلا بخشتے ہیں اور بدقسمتی سے بعض سکول انہیں ملازمت اور نوکری کے لیے تیار تو کرتے ہیں لیکن ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ میں نے زمانہ طالب عملی میں ایک نفسیاتی تحقیق پڑھی تھی جس میں انہوں نے ہزاروں بچوں کا نفسیاتی تجزیہ کر کے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ سکول کی پہلی جماعت کے بچوں میں تخلیقی صلاحیتیں 85 %تھیں جبکہ دسویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے وہ صلاحیتیں صرف 15 % رہ گئی تھیں۔

آج میں آپ کو دو ماؤں اور دو بچوں کی کہانیاں سناتا ہوں۔ دونوں مائیں کئی برسوں سے میری مریضائیں ہیں اور اپنی اینزائٹی اور ڈپریشن کا علاج کرواتی ہیں۔

Read more

ڈاکٹرلبنیٰ مرزا: میری۔ ہم سب۔ کی پہلی ڈاکٹر دوست

پچھلے ہفتے جب ڈاکٹر لبنیٰ مرزا سے فون پر بات ہوئی اور میں نے انہیں مبارکباد دی کہ امریکہ کے ڈاکٹروں نے انہیں بطور اینڈوکرونالوجسٹ ایوارڈ دیا ہے تو مجھے کسی کا قول یاد آیا کہ ایک مخلص دوست آپ کے دکھوں کو آدھا اور سکھوں کو دگنا کر دیتا ہے۔ اس کسوٹی پر پرکھتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں کہ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا میری مخلص دوست ہیں۔

آج سے چار سال اور چار سو کالم پیشتر جب میں نے ’ہم سب‘ پر لکھنا شروع کیا تھا تو جس ڈاکٹر سے سب سے پہلے میری ملاقات ہوئی تھی وہ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا تھیں۔ میں نے جب ان کے کالم پڑھنے شروع کیے تو مجھے یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ وہ زندگی کے بہت سے موضوعات اور مسائل پر میری ہم خیال نکلیں۔ میں نے جب جنسیات کی نفسیات پر ایک تفصیلی کالم لکھا اور اس حقیقت کا اظہار کیا کہ بہت سے پاکستانی مرد اور عورتیں hermaphrodite، homosexual، transsexual and transvestite لوگوں کو سائنس ’طب اور نفسیات کی بجائے مذہب اور اخلاقیات کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو ڈاکٹر لبنیٰ مرزا کا تفصیلی خط آیا اور میں نے جانا کہ وہ اس موضوع پر تخصص رکھتی ہیں اور اپنے شاگردوں کو یہ موضوعات پڑھاتی رہتی ہیں۔ اس طرح دو طبیبوں اور دو ادیبوں میں مکالمہ ایک قدم اور آگے بڑھا۔

Read more

ایک زنجیر اتنی ہی مضبوط ہوتی ہے جتنی اس کی کمزور ترین کڑی

دنیا کے مختلف شہروں اور ملکوں میں زندگی گزارنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہر معاشرے میں دو طبقے موجود ہوتے ہیں : مراعات یافتہ طبقہ اور غیر مراعات یافتہ طبقہ پہلے طبقے کو جو مراعات حاصل ہوتی ہیں دوسرا طبقہ ان سے محروم رہتا ہے۔ مراعات یافتہ طبقے کا بچہ سکول جاتا ہے غیر مراعات یافتہ طبقے کا بچہ مزدوری کرتا ہے اور تعلیم سے محروم رہتا ہے مراعات یافتہ طبقے کا مرد اچھی ملازمت

Read more

کیا آپ انسانی لاشعور کے تالے کی کنجیوں کو جانتے ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ ہر ہوائی جہاز میں ایک بلیک باکس ہوتا ہے۔ اگر ہوائی جہاز کا حادثہ ہو جائے تو اس بوکس کو کھولا جاتا ہے کیونکہ اس ڈبے میں جہاز کے سب راز پوشیدہ ہوتے ہیں۔ جہاز کی طرح انسان کے اندر بھی خفیہ رازوں کا ایک بلیک بوکس ہوتا ہے جو لاشعور کہلاتا ہے۔

پچھلی کئی صدیوں سے بہت سے شاعر اور دانشور ’ماہرین سماجیات و نفسیات انسانی لاشعور کے تالے کی کنجی تلاش کر رہے ہیں۔ اس کالم میں میں ان چار ماہرین کا ذکر کرنا چاہوں گا جنہوں نے اس تالے کی چار کنجیاں تلاش کی ہیں۔ عین ممکن ہے وہ کنجیاں آپ کو بھی تالا کھولنے کی تحریک بخشیں۔

Read more

میری تخلیقات انسانیت کے نام میرے محبت نامے ہیں

جاوید دانش کا اپنے فیس بک لاؤ پروگرام۔ آوارگی۔ کے لیے خالد سہیل سے انٹرویو ڈاکٹر خالد سہیل دانش : ڈاکٹر صاحب! کرونا وبا نے آپ کی زندگی کو کیسے متاثر کیا؟ سہیل: کرونا وبا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے تنہائی کے ساتھ وقت گزارنے کا زیادہ موقع ملا۔ میں نے کرونا وبا اور تنہائی سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ ایک لکھاری ہونے کے ناتے بھی اور ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے بھی ایک لکھاری ہونے کے ناتے

Read more

کیا آپ کا بڑھاپا آپ کی زندگی کا سنہرا دور ہے؟

یہ ان دنوں کی بات ہے جب کینیڈا کی گلیوں ’بازاروں اور چوراہوں میں چہل پہل ہوا کرتی تھی اور چاروں طرف زندگی کی گہما گہمی کے آثار دکھائی دیتے تھے۔ لوگ ہنستے کھیلتے مسکراتے ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے تھے اور بڑے تپاک سے گلے ملتے تھے۔ ان دنوں نہ تو کرونا وبا کا خوف و ہراس تھا اور نہ ہی لوگ دو دو ماسک پہنے چھ چھ فٹ کے فاصلے سے ڈرتے گھبراتے ایک دوسرے سے مکالمہ کرتے

Read more

کیا آپ دیومالائی دانشور جوزف کیمبل کے خیالات اور نظریات سے واقف ہیں؟

بیسویں صدی کے مشہور دانشوروں میں امریکہ کے جوزف کیمبل ایک مستند ، معتبر اور معزز دانشور سمجھے جاتے ہیں جنہوں نے دیومالائی ادب پر بے شمار کتابیں لکھیں وزڈم لٹریچر پر بصیرت افروز انٹرویو دیے اور عوام و خواص میں بہت مقبول ہوئے۔

وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے نفسیات، سماجیات اور روحانیات کے علوم کا گہرا مطالعہ کر کے انہیں دیومالائی ادب کے ساتھ جوڑا۔ ان کی کتابیں پڑھتے ہوئے اور مکالمے سنتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے ایک دانا بزرگ پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھے ہوں اور تاریخ کے آتے جاتے قافلوں کا مشاہدہ اور مطالعہ کر کے اپنا تجزیہ پیش کر رہے ہوں۔

Read more

درویش کی کٹیا، زرتشت اور گاتھاز

مجھے نوجوانی کا وہ دور اچھی طرح یاد ہے جب میں اپنی محبوب کتابوں کے عشق میں گرفتار ہو گیا تھا۔ میں پشاور صدر کی آرٹس کونسل کی لائبریری میں باقاعدگی سے جاتا اور ہر ہفتے دو چار کتابیں لے آتا۔ جب وہ کتابیں واپس کرنے جاتا تو چند اور کتابیں لے آتا۔ ہر کتاب پر خفیہ نشان لگاتا تا کہ پتہ چلے کہ میں نے کون سی کتابیں پڑھ رکھی ہیں۔ ہر دفعہ لائبریری کے کسی اور حصے کے شیلف سے کتابیں لیتا

کبھی ادب کبھی فلسفے کے شیلف سے
کبھی مذہب کبھی روحانیات کے شیلف سے
کبھی نفسیات کبھی سماجیات کے شیلف سے
کبھی شاعری کبھی افسانوں کے شیلف سے

Read more

کیا آپ سیاہ فام موسیقار شاڈے کے روشن خیال نغموں سے واقف ہیں؟

میری ایک فنکارہ دوست نے پچھلے ہفتے جب مجھ سے پوچھا کہ آپ کی آنکھیں آخری بار کب پرنم ہوئی تھیں تو میں نے کہا پچھلے مہینے کی اس شام جب میں نے سیاہ فام موسیقار SADE کے روشن خیال نغمے سنے تھے۔ میں جذباتی انسان نہیں ہوں لیکن یوٹیوب پر ان کا نغمہ PEARLS سنتے اور وڈیو دیکھتے ہوئے نہ چاہتے ہوئے بھی ایک افریقی عورت کے غم کی شدت سے میری آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔ اس نغمے

Read more

گولڈن گرلز کے نام خالد سہیل کا دوست نامہ

محترمہ رابعہ الربا و معظمہ تحریم عظیم صاحبہ! میں آپ دونوں کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ آپ نے مل کر ایک سنجیدہ مکالمے کا آغاز کیا ہے۔ اس مکالمے سے ان لڑکیوں اور عورتوں کے جذبات و خیالات کا اظہار ہو گا جو خود اپنے خیالات و جذبات کے اظہار سے کتراتی اور گھبراتی ہیں۔ آپ کے مکالمے سے دیگر خواتین لکھاریوں کو بھی بے خوف و خطر لکھنے کی ہمت ہو گی۔ میں ’ہم سب‘ کی بہت سی

Read more

دریا – ایک گرین زون کہانی

ایک صبح جب آئینہ دیکھا تو میں حیران و ششدر رہ گیا۔ مجھے اپنے چہرے میں بہت سی تبدیلیاں نظر آئیں۔ وہ تبدیلیاں اتنی معمولی تھیں کہ اوروں کو نظر نہ آئی تھیں۔ لیکن اتنی معمولی بھی نہ تھیں کہ میں انہیں نطر انداز کر سکتا۔ میری آنکھوں کی چمک کم ہو گئی تھی اور میرے دل کے شکوک و شبہات بڑھ گئے تھے۔ مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ ایک ذہنی طوفان اور جذباتی بحران کی آمد آمد ہے۔ میں ایک پھسلتی ڈھلوان پر کھڑا ہوں اور اگر ایک دفعہ پھسلنا شروع ہو گیا تو میں اسے روک نہ سکوں گا۔ گہری کھائی میں گرتا چلا جاؤں گا۔ میں اس عمل سے بخوبی واقف تھا کیونکہ میری زندگی میں ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا تھا۔

Read more

کیا آپ اپنے دوستوں کو غلط مشورے دیتے ہیں؟

انسانوں کی طرح لفظوں کی بھی اپنی جداگانہ شناخت اور شخصیت ہوتی ہے۔ بعض الفاظ میٹھے ہوئے ہیں بعض ترش اور بعض کڑوے۔ بعض الفاظ دل پر زخم لگاتے ہیں بعض مرہم۔ بعض الفاظ ذہن کو کچوکے لگاتے ہیں بعض اسے پرسکون بنا دیتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے دوستوں کو اپنے الفاظ سے سکھی کر دیتے اور بعض دکھی۔ میری ایک مریضہ عالیہ چار سال کی تھراپی کے بعد صحت مند ہو گئیں تو ایک دن مجھ سے کہنے لگیں

Read more

شہرِ تمنا کے آٹھویں دروازے کے دربان

میں جب پیدا ہوا تھا تو مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ میں اپنے بدن میں رہتا ہوں اور اس شہر کے کئی دروازے ہیں۔

مجھے اپنے بدن کے پہلے دروازے کا اس وقت پتہ چلا جب میری اماں نے بڑی محبت سے مجھے گلے لگایا اور اپنے پستان سے مجھے دودھ پلایا۔ پھر مجھے میری اماں نے بتایا کہ اسے منہ کہتے ہیں۔ یہ شہر کا پہلا دروازہ تھا۔

Read more

کیا آپ لاہور کے سقراط کو جانتے ہیں؟

پاکستان کے اخبار، مساوات، کے 31 مئی 1972 کے ایک کالم میں ترقی پسند شاعر و دانشور ظہیر کاشمیری رقم طراز ہیں، آج لاہور کا سقراط مر گیا ہے۔ اس سقراط کا ایتھنز لاہور میں تھا۔ ینگ پیپلز فرنٹ اس کی اکادمی تھی۔ وہ کئی سالوں سے مسلسل حق اور خیر کی تبلیغ کرتا تھا لیکن آج وہ شعور و دانش پھیلانے کے جرم میں نیلے زہر کا پیالہ پی چکا ہے اور لاہور سے، اپنے ایتھنز سے، ہمیشہ کے لیے جدا ہو چکا ہے،

Read more

مسیحا کا کرب (پرانی ڈائری کا ایک ورق)۔

یہ آج سے تیس برس پہلے کی بات ہے جب میں کینیڈا کے ایک نفسیاتی ہسپتال میں کام کیا کرتا تھا اورشیزوفرینیا کے مریضوں کا علاج کرتا تھا۔ آج اپنی چھوٹی سی لائبریری میں میں کچھ اور تلاش کر رہا تھا کہ مجھے اچانک پرانی ڈائری کا ایک ورق مل گیا۔ سوچا آپ سے شیئر کروں تاکہ آپ کو ان دکھی مریضوں کے کرب کا اندازہ ہو سکے جو اپنی زندگی کا توازن قائم کرنے کی کوشش میں اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں۔

پرانی ڈائری کا ورق

آج شام میں بہت غمزدہ اور اداس ہوں۔ صورت حال یہ ہے کہ جب میں اپنی چھٹیوں سے لوٹا تو مجھے معلوم ہوا کہ میری غیر موجودگی میں میری ایک مریضہ نے خودکشی کر لی تھی۔ وہ شیزوفرینیا کی مریضہ ایک دکھی عورت تھی جو علاج کی خاطر کئی بار نفسیاتی ہسپتالوں میں داخل ہوئی تھی۔ اس نے اپنے بازو اتنی بار چاقو سے کاٹے تھے کہ ان پر زخموں کے مستقل نشان بن گئے تھے۔ اس نے جتنے بھی ڈاکٹروں اور نرسوں سے علاج کروایا تھا ، وہ سب اس سے نا امید ہو چکے تھے۔

Read more

فنکار، فن اور پاگل پن

”شاعر ایک آزردہ ہستی ہے جس کا دل پراسرار کرب سے زخمی ہے، مگر اس کے لبوں کی حیران کن بناوٹ ایسی ہے کہ جب ان میں سے آ ہیں اور چیخیں برآمد ہوتی ہیں، تو وہ دلکش موسیقی کی طرح سنائی دیتی ہیں۔“

Soren Kierkegaard

یہ خیال نیا نہیں ہے کہ تخلیقی صلاحیت اور جنون کا کوئی آپسی تال میل ہے، گو کہ دونوں عوامل اور ان کی حرکیات کے بارے میں ہماری سمجھ کے ساتھ ساتھ صدیوں سے اس خیال میں تغیر وقوع پذیر ہوتا رہا ہے۔ یونانیوں کے ہاں الوہی دیوانگی کا تصور ملتا ہے، جس سے مراد ان کا یہ عقیدہ تھا کہ دیوانگی صرف ذہنی بیماری ہی نہیں ہے بلکہ یہ ایک ذہنی کیفیت بھی ہے جس میں روحیں ان پر قابض ہو جاتی ہیں اور انہیں دیوتاؤں کا وجدان حاصل ہو جاتا ہے۔

Read more

ورجینیا وولف: ڈپریشن اور نسائی ادب

ورجینیا وولف بیک وقت خوش نصیب بھی تھیں اور بد نصیب بھی۔ ایک طرف انہوں نے تخلیقی اظہار کی بلندیوں کو چھوا اور ایسے ناول لکھے جو ان کی وفات کے 80 سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد آج بھی عالی قدر مقام رکھتے ہیں، دوسری طرف انہیں بار بار ڈپریشن کے دورے جھیلنا پڑے اور آخرکار انہوں نے اپنے کوٹ کی جیبیں پتھروں سے بھریں اور پانی کی جانب ڈوبنے کے لیے چل دیں، یوں انہوں نے

Read more

پاگل پن اور خود کشی کے بارے میں تھومس زاز کے متنازع نظریات

جب ’ہم سب‘ پر ماہر نفسیات آر ڈی لینگ کی تخلیقات اور خدمات کے بارے میں میرا کالم چھپا تو محترمی ساجد علی نے ’جن کا میں تہ دل سے احترام کرتا ہوں‘ مشورہ دیا کہ میں متنازع اور باغی ماہر نفسیات THOMAS SZASZکے بارے میں بھی ایک کالم لکھوں۔ چنانچہ اس کالم کا کریڈٹ ساجد علی صاحب کو جاتا ہے۔ تھومس زاز نے عمر بھر نفسیات کی روایت کو اس قدر چیلنج کیا کہ ان پر ANTI  PSYCHIATRY کا

Read more

کیا آپ ڈپریشن کے رازوں سے واقف ہیں؟

ڈپریشن کے شکار افراد کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ کسی بھی معالج کے لیے کبھی انتہائی مایوس کن ثابت ہوتا ہے اور کبھی بہت ثمر آور. دائمی ڈپریشن کے مریض بالخصوص اپنے معالج, رفقاء اور خاندان کے لیے ایک چیلنج ثابت ہوتے ہیں. اپنے تیس برس کے پیشہ ورانہ تجربات سے مجھے بتدریج یہ آگاہی حاصل ہوئی کہ ڈپریشن ایک انتہائی گنجلک انسانی حالت ہے جس کی حیاتیاتی, نفسیاتی, سماجی ثقافتی اور متعدد دیگر جہتیں ہیں. ڈپریشن کا شکار

Read more

کیا آپ ماہر نفسیات R۔ D۔ LAING کی تخلیقات اور خدمات سے واقف ہیں؟

مرزا غالبؔ فرماتے ہیں میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا ایک وہ زمانہ تھا جب ذہنی مریضوں کو پاگل اور دیوانہ کہا جاتا تھا۔ گلی کے بچے انہیں پتھر مار کر ان کا مذاق اڑاتے تھے اور محلے کے بزرگ ان کے پاؤں میں زنجیر ڈال کر کسی پاگل خانے چھوڑ آتے تھے اور بقیہ زندگی کے لیے بھول جاتے تھے کیونکہ ان کا کہنا تھا دیوانے کے ہمراہ بھی رہنا ہے

Read more

ویلنٹائن ڈے اور محبت کی مختصر نظمیں

چودہ فروری کی آمد آمد ہے۔ چاہت کے قدموں کی دھیمی دھیمی چاپ سنائی دے رہی ہے اور ساری دنیا کے عشاق محبت کی مختصر نظمیں تلاش کر رہے ہیں تا کہ اس موقع پر اپنی محبوباؤں سے اپنے رومانوی جذبات کا برملا اظہار کر سکیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اردو شاعری کی زنبیل محبت کی مختصر نظموں سے بھری پڑی ہے۔ آج میں آپ سے منیر نیازی کی ایک ایسی مختصر نظم شیر کرنا چاہتا ہوں جس کے

Read more

ادھورے انسان سے پورے انسان تک

ماہرین نفسیات اور سماجیات کا کہنا ہے کہ انسانی ارتقا میں خاندان ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ خاندان ایک ان دیکھے دھاگے سے ایک طرف افراد اور دوسری طرف سماج سے جڑا ہوتا ہے اور دونوں میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ بچے جو صحت مند خاندانوں میں پرورش پاتے ہیں،  وہ اپنے معاشرے کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہوتے ہیں اور سماجی ارتقا میں فعال کردار ادا کرتے ہیں۔

Read more

کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے دوست آپ سے کتنی محبت کرتے ہیں؟

ایک صبح غیر متوقع طور پر گھنٹی بجی۔ میری دیرینہ دوست زہرا نقوی جو دن رات ٹورنٹو شہر کے بے گھروں کی خدمت کرتی ہیں، کا فون تھا۔ ان کی آواز میں اداسی کی آمیزش تھی۔ کہنے لگیں ہماری مشترکہ دوست ہما دلاور کو کورونا وائرس نے آن دبوچا ہے۔

میں ہما دلاور کے بارے میں سوچنے لگا جو خوبصورت نثری نظمیں لکھتی ہیں، فیملی آف دی ہارٹ کی ہر دلعزیز ممبر بھی ہیں اور نجانے کتنے دوستوں کے دل جیت چکی ہیں۔ میں نے مزاج پرسی کے لیے فون کیا تو پتہ چلا کہ اپنی تمام تر کوششوں اور حفاظتوں کے باوجود ان کا سارا خاندان کورونا وائرس کے زیر عتاب آ گیا ہے۔

Read more

ایرک فرام: نفسیات،سماجیات اور سیاسیات

ماہرین نفسیات کی اکثریت نے انفرادی اور خاندانی نفسیات پر اپنی توجہ مرکوز کی لیکن ایرک فرام نے فرد کو سماج کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی ، اسی لیے ان کی کتابیں نفسیات ، سماجیات اور سیاسیات کے علوم کے درمیان بہت سے پل تعمیر کرتی ہیں۔ ایرک فرام ایک انسان دوست ماہر نفسیات کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ایرک فرام  روایتی یہودی خاندان میں 1900 میں فرینکفرٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا

Read more

منٹو کے افسانے صرف ذہنی بالغوں کے لیے ہیں

ڈاکٹر خالد سہیل ادیب بھی ہیں اور ماہر نفسیات بھی۔ ڈاکٹر صاحب نے اس مختصر مضمون میں منٹو کے افسانوں کے بارے میں اتنی بصیرت رکھ دی ہے جس کے لئے کسی گٹھل طبع نصابی مدرس کو شاید ادبی تنقید کی اصطلاحات میں الجھی کئی کتابیں لکھنا پڑتیں۔ رند بخشے گئے قیامت میں / شیخ کہتا رہا حساب حساب

Read more

مذہب، سائنس اور انسانی نفسیات

(محترمی سہیل تاج کا ڈاکٹر خالد سہیل سے ایک ادبی اور نظریاتی فورم ممتاز مفتی گروپ کے لیے انٹرنیٹ پر تین جنوری 2021ء کو مکالمہ) سہیل تاج : تعارف : ڈاکٹر خالد سہیل کی زندگی میں کئی ایک دلچسپ اتار چڑھاؤ آئے۔ ان کی امی انہیں ڈاکٹر بنانا چاہتی تھیں۔ والد کچھ سال ذہنی انتشار کا شکار ہوئے اور پھر ٹھیک ہو گئے اور ان میں ایک صوفیانہ کیفیت در آئی۔ ڈاکٹر صاحب ان تمام حالات کو اپنے اندر جذب

Read more

ابراہم ماسلو: نفسیات اور روحانیت

ملک کے عوام واضح طور پر دو طرح کی سوچ کے حامی بن چکے ہیں ایک سٹیٹس کو برقرار رکھنے والے اور دوسرے سٹیٹس کو سے بالکل نکل جانے کی سوچ رکھنے والے۔ حزب اختلاف نے پہلی بار اس سوچ کو آگے بڑھایا ہے۔ اس سے پہلے کی جمہوریت کے حق میں تحریکیں مارشل لاء ہٹائے جانے، انتخاب کرائے جانے اور جمہوریت بحال کیے جانے سے متعلق ہوا کرتی تھیں لیکن اس بار کی تحریک مارشل لاء کا صفحہ پھاڑے جانے کے مطالبے کی امین ہے۔

Read more

پاپی اور پارسا کی دوستی

اگر کوئی شخص مجھ سے پوچھے کہ آپ سے دوستی کی خاطر کس ادیب نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں تو میں کہوں گا۔ جاوید دانش، ایک وہ زمانہ تھا جب لوگ دانش سے شکایت کرتے تھے ’خالد سہیل کا لہجہ پنجابی ہے، اسے لکھنوی انداز سے اردو لکھنا سکھاؤ‘

پھر وہ دور آیا جب دوستوں نے دانش سے کہا ’تمہارا دوست خالد سہیل گوری لڑکیوں کو ڈیٹ کرتا ہے۔ اسے کہو کسی مشرقی عورت سے شادی کر لے‘

اور پھر وہ وقت بھی آیا جب مشرقی مولویوں نے دانش کو مسجد میں سمجھایا ’تمہارا ساتھی گمراہ ہو گیا ہے۔ خدا اور مذہب کو چھوڑ کر انسان دوست بن گیا ہے۔ اسے واپس مذہب کی طرف لاؤ۔ اگر تم نہیں لاؤ گے تو اور کون لائے گا‘

Read more

ماہر نفسیات ایرک ایرکسن اور انسانی زندگی کے مختلف ادوار

ایرک ایرکسن کا موقف تھا کہ انسانی شخصیت کسی پتھر کی طرح ٹھوس نہیں بلکہ ایک سیال مادے کی طرح لچک دار ہے جس میں پیدائش سے موت اور بچپن سے بڑھاپے تک تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ مثبت بھی منفی بھی۔ زندگی کے ہر دور میں انسان کو ایک نیا چلینج قبول کرنا پڑتا ہے۔ اگر وہ اس چیلنج کو قبول کرنے میں کامیاب ہو جائے تو ذہنی صحت اور بلوغت کی اگلی منزل تک پہنچتا ہے ورنہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایرک ایرکسن  نے انسانی شخصیت کی نشوونما اور ارتقا کو آٹھ ادوار میں تقسیم کیا۔

Read more

کریمہ بلوچ کی پراسرار موت اور پرخطر زندگی

محترمہ افشیں بلوچ صاحبہ! چند روز پیشتر ’ہم سب‘ کے ایک دوست نے مجھ سے فرمائش کی کہ میں کریمہ بلوچ کے بارے میں کچھ لکھوں جن کی پچھلے دنوں 2020 کی 21 دسمبر کی لمبی ترین اور تاریک ترین رات کو ٹورانٹو میں پراسرار طریقے سے موت واقع ہوئی۔ کریمہ بلوچ اور آزادی اظہار کے چاہنے والوں اور انسانی حقوق کا احترام کرنے والوں کی خواہش ہے کہ کینیڈا کی حکومت اور پولیس اس پراسرار موت کی غیر جانبدارانہ

Read more

ماہر نفسیات جون بولبی کا نظریہ اور ماں بچے کا رشتہ۔ قسط نمبر 6۔

انسانی نفسیات کے راز کی اس سیریز میں پہلی دو قسطوں میں ہم نے فرائڈ اور انفرادی لاشعور ’تیسری قسط میں ینگ اور اجتماعی لاشعور‘ چوتھی قسط میں سالیوان اور انسانی رشتوں کی نفسیات اور پانچویں قسط میں بوون اور خاندان کی نفسیات پر تبادلہ خیال کیا۔ آج میں ماہر نفسیات جون بولبی اور بچے کے ماں سے رشتے کی نفسیات کے بارے میں کچھ عرض کروں گا۔

جون بولبی انگلستان میں 1907 میں پیدا ہوئے اور 1990 میں فوت ہو گئے۔ بچوں کے مادرانہ کرداروں سے رشتوں کی نفسیات کے بارے میں ان کے خیالات اور نظریات بہت مقبول ہوئے۔

جب بولبی کے والدین کی شادی ہوئی تو ان کی والدہ کی عمر 31 برس اور ان کے والد کی عمر 43 برس تھی۔ خاندانی مسائل کی وجہ سے بولبی کی نگہداشت منی نامی ایک آیا کرتی تھیں۔ بولبی کو اپنی ماں کے ساتھ دن میں صرف ایک گھنٹہ گزارنے کا موقع ملتا تھا۔ جب بولبی کی عمر چار برس تھی اور ان کی آیا انہیں چھوڑ کر چلی گئی تو وہ بہت اداس ہو گئے۔

Read more

کیا آپ کی داڑھی حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے؟

میں نے دو ہفتے پہلے کینیڈا کے ایک حجام کو ’پھر دوسرے حجام کو اور پھر تیسرے حجام کو فون کیا اور درخواست کی کہ وہ میری حد سے زیادہ بڑھی غیر مہذب داڑھی کو تراش کر مہذب بنا دیں لیکن تینوں باربرز نے انکار کر دیا۔ میں نے ان کی بہت منت سماجت کی کہ مجھے کینیڈا ون ٹی وی کے سٹوڈیو جا کر ڈاکٹر بلند اقبال کے ساتھ۔ دانائی کی تلاش۔ کا ایک پروگرام ریکارڈ کروانا ہے لیکن

Read more

فرحت پروین: نفسیات کی گتھیاں سلجھانے والی افسانہ نگار

اگر میرا اواگون پر ایمان ہوتا تو میں کہتا کہ اس جنم کی افسانہ نگار فرحت پروین پچھلے جنم میں ضرور ایک ماہر نفسیات رہ چکی ہیں۔

فرحت پروین کے افسانے جوں جوں آگے بڑھتے ہیں وہ افسانے کے کرداروں کی شخصیت کی پرتیں اور ان کے تضادات کی گرہیں کھولتی چلے جاتے ہیں۔

بعض دفعہ یوں لگتا ہے وہ نفسیاتی جراحی کر رہی ہوں لیکن اس جراحی میں کہیں بھی ان کے ہاتھ نہیں کانپتے اور وہ جذبات کی تحلیل نفسی کرتے ہوئے کہیں بھی بقول احمد ندیم قاسمی ’جذباتیت‘ کا شکار نہیں ہوتیں۔

فرحت پروین کا ہر افسانہ اپنے اندر زندگی کا ایک راز لیے ہوئے ہوتا ہے اور جو قاری اسے سنجیدگی سے پڑھتا ہے وہ ان کا ہمراز بن جاتا ہے۔

Read more

خاندان کی نفسیات (قسط نمبر 5)

انسانی نفسیات کے رازوں کی پہلی تین قسطوں میں ہم نے فرائڈ اور ینگ کی انفرادی نفسیات اور چوتھی قسط میں سالیوان کی دو انسانوں کے رشتوں کی نفسیات پر تبادلہ خیال کیا۔ آج ہم مرے بوون اور خاندان کی نفسیات کے حوالے سے گفتگو کریں گے۔ MURRAY BOWEN نے اپنی نفسیاتی تحقیق سے یہ ثابت کیا کہ کسی انسان کی نفسیات سمجھنے کے لیے اس کے خاندان کی نفسیات جاننا بہت اہم ہے۔ مرے بوون 1913 میں ٹینیسی امریکہ

Read more

تخلیقی ذہن پہ تبلیغی اثرات ۔۔۔۔ جنید جمشید اور دوسرے مشاہیر کا نفسیاتی جائزہ

دسمبر 2016 میں جنید جمشید کا اپنی دوسری بیوی نیہا سمیت جہاز کے حادثے میں جاں بحق ہونا بہت سے لوگوں کے لئے شدید صدمے کا باعث بنا۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو جنید جمشید کو اس کی جوانی کے دنوں میں اس کے خوبصورت خد و خال اور میوزک گروپ کی وجہ سے چاہتے تھے۔ وہ بھی تھے جن کا تعلق اس مذہبی جماعت سے تھا جس نے اسے ایک ”تبلغی سکالر“ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کچھ کا تعلق ائر فورس سے تھا جنہوں نے اس کی میت کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ قومی پرچم میں لپیٹ کر اس کی آخری رسومات ادا کیں۔

جنید جمشید کا سوگ منانے والوں میں اس کی پہلی بیوی عائشہ اور اس کے رشتہ دار بھی شامل تھے۔ اور اس ہجوم میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے نے آج سے 20 سال پہلے ہی ایک آرٹسٹ جنید جمشید کا سوگ منا لیا تھا جب اس نے اپنے خوبصورت لمبے بال کاٹ کر، لمبی سی داڑھی رکھ کر اور تبلیغی جماعت میں شمولیت اختیار کر کے اپنا حلیہ بدل لیا تھا۔

ایک دوپہر میرے سماجی کارکن دوست منیر سامی کا فون آیا اور انہوں نے پوچھا کہ ڈاکٹر خالد سہیل کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ معروف و مقبول لوگ مذہبی شدت پسند کیوں بن جاتے ہیں؟

Read more

دو پیروں والی ماں

مجھے بچپن کا وہ زمانہ یاد ہے جب
جنگل میں ہر روز سیر کو جانا
پرندوں کی چہکار سننا
راتوں کو چاندنی میں گھومنا پھرنا
صبح سویرے شبنم بھری گھاس پر چلنا
تالابوں میں اپنے دوستوں کے ساتھ نہانا
اور
اپنی ماں کا دودھ پینا
میرا معمول ہوا کرتا تھا

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل سے چند سخت مذہبی اور روحانی سوالات

محمد جنید: ڈاکٹر صاحب! میرا نام محمد جنید ہے۔ میں آپ کے کالم دو سال سے متواتر پڑھ رہا ہوں۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ اگر آپ برا نہ مانیں تو میں آپ سے ایسے موضوعات پر چند سخت سوالات کرنا چاہتا ہوں جن سے آپ کترا کر نکل جاتے ہیں؟

خالد سہیل: مجھے خوشی ہوئی کہ آپ مجھ پر اتنا اعتماد اور اعتبار کر رہے ہیں۔ سخت سوال پوچھیے میں جواب دینے کی عاجزانہ ’طالب علمانہ اور درویشانہ کوشش کروں گا۔

محمد جنید: سوال پوچھنے سے پہلے یہ کہتا چلوں کہ یہ سوال صرف میرے ذہن میں نہیں آپ کے ’ہم سب‘ کے بہت سے قارئین کے ذہنوں میں بھی آتے رہتے ہیں؟ آپ یہ بتائیں کہ آپ اسلام کے موضوع پر کیوں نہیں لکھتے؟

Read more

مشرقی شرفا کے بارے میں ایک خط: ڈاکٹر خالد سہیل کے نام

ہما جمال کا ادبی محبت نامہ محترم ڈاکٹر خالد سہیل! آج بہت عرصہ بعد آپ سے خط و کتابت کا خیال دل میں ابھرا۔ لوگ آپ کو خط لکھتے ہیں اور باتوں باتوں میں آپ سے نفسیاتی الجھنیں کا حل معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوچا کیوں نہ میں آپ سے ایک اہم مسئلے پر ادبی گفتگو کرلوں لیکن ڈاکٹر صاحب ادبی گفتگو میں اگر بے ادبی کی بات ہو جائے تو کیا یہ اعلیٰ ادب کہلائے گا؟ جیسے

Read more

ماہر نفسیات سالیوان اور انسانی رشتوں کی نفسیات انسانی نفسیات کے راز۔ قسط نمبر 4

انسانی نفسیات کے رازوں کی اس سیریز کی پہلی دو قسطوں میں ہم نے سگمنڈ فرائڈ کے نظریات اور تیسری قسط میں کارل ینگ کے خیالات کا جائزہ لیا۔ ان دونوں ماہرین نفسیات کے خیالات میں قدرے اختلاف کے باوجود یہ قدر مشترک تھی کہ ان کا موقف تھا کہ انسان کے نفسیاتی مسائل اس کے شعور اور لاشعور کے تضادات سے جنم لیتے ہیں۔ فرائڈ کا زیادہ جھکاؤ جنسیات کی طرف اور ینگ کا زیادہ جھکاؤ روحانیات کی طرف تھا لیکن ان دونوں دانشوروں نے انسانی نفسیات کے جدید علم کی ایسی پختہ اور دیرپا بنیادیں رکھیں کہ ان پر ماہرین نفسیات کی آنے والی نسلوں نے بلند و بالا عمارتیں تعمیری کیں۔ ان ماہرین میں سے ایک ماہر نفسیات جن کے خیالات پر آج ہم اپنی توجہ مرکوز کریں گے ان کا نام ہیری سٹاک سالیوان ہے۔

Read more

کیا آپ افسانے کی جوان بیٹی افسانچہ کے حسن و جمال سے مسحور ہیں؟

آج سے چند سال نہیں چند دہائیاں پیشتر میں نے خلیل جبران کا دو جملوں کا مختصر ترین افسانچہ پڑھا تھا
ایک عورت دو مردوں کے درمیان بیٹھی تھی
اس کا ایک رخسار سرخ تھا دوسرا زرد
اور آج تک اس ایک عورت اور دو مردوں کے رشتے کی نفسیات کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں۔

افسانچے کا یہی کمال ہے۔ وہ غزل کے دو مصرعوں کی طرح قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور اس پر انسانی زندگی اور نفسیات کے راز اجاگر ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔

Read more

آپ اپنی ذہنی صحت کے بارے میں کتنے فکرمند ہیں؟

کیا آپ ایک دکھی انسان ہیں؟ کیا آپ اپنے دکھوں کو سب سے چھپائے پھرتے رہتے ہیں؟ کیا آپ کسی نفسیاتی مسئلے کا شکار ہیں؟ کیا آپ ایک خوشحال ’صحتمند اور پرسکون زندگی کے راز جاننا چاہتے ہیں؟ اگر آپ کا ان سوالوں کا جواب اثبات میں ہے تو آپ گرین زون کے فری سیمینار سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ آج سے چند ماہ پیشتر ’ہم سب‘ پر میرا ایک کالم چھپا تھا گرین زون سیمینار کی دعوت۔ خوشحال زندگی

Read more

کارل ینگ اور اجتماعی لاشعور

انسانی نفسیات کے راز کی پہلی دو قسطوں میں ہم نے سگمنڈ فرائڈ ، لاشعور اور تحلیل نفسی کے بارے میں گفتگو کی تھی۔ اس قسط میں ہم کارل ینگ اور ان کے خیالات پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے۔

CARL JUNG سوٹزرلینڈ کے باشندے تھے۔ انہوں نے انسانی نفسیات کے علم میں گرانقدر اضافے کیے ’بہت سی گتھیوں کو سلجھایا اور بہت سے رازوں کو جانا۔ ان کے اجتماعی لاشعور اور INTROVERT/EXTROVERT کے تصورات بہت مقبول ہوئے۔

Read more

کرونا کی وبا اور نفسیاتی مسائل

کرونا کی وبا نے ساری دنیا میں نجانے کتنے مردوں اور عورتوں ’جوانوں اور بوڑھوں‘ غریبوں اور امیروں اور کالوں اور گوروں کو زندگی میں پہلی دفعہ نفسیاتی مسائل کا شکار کر دیا ہے اور جو لوگ پہلے سے نفسیاتی مسائل کا شکار تھے ان کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔

Read more

فرائڈ اور تحلیل نفسی انسانی نفسیات کے راز : قسط نمبر 2

سگمنڈ فرائڈ کے ایک مریض نے اپنے نفسیاتی علاج کے دوران انہیں اپنا ایک خواب سنایا۔ کہنے لگا ’میں نے خواب میں ایک کتا دیکھا۔ میں نے جب اسے ٹھوکر ماری اور اس نے منہ موڑا تو مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ اس کتے کا سر ایک انسان کا سر تھا اور وہ انسان میرا باپ تھا‘

فرائڈ نے اس مریض کی تحلیل نفسی کے دوران اسے بتایا کہ اس کے لاشعور میں اپنے والد کے بارے میں غصے نفرت اور تلخی کے جذبات پوشیدہ ہیں۔ جب وہ انہیں جاگتے ہوئے سوچتا ہے تو وہ احساس گناہ کا شکار ہو جاتا ہے کیونکہ اسے یہ سکھایا گیا تھا کہ بیٹے کو باپ کا احترام کرنا چاہیے۔ علاج کے دوران مریض نے فرائڈ کو بتایا کہ اس کا باپ ایک ظالم اور جابر باپ تھا اور بچپن سے اسے مارتا پیٹتا تھا جس کی وجہ سے بیٹے کے دل میں باپ کے لیے نفرت کے جذبات پنپتے رہے لیکن چونکہ اسے ان جذبات کے اظہار کا موقع نہ ملا اس لیے اس نے انہیں اپنے لاشعور میں دھکیل دیا اور وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو گیا۔ تحلیل نفسی کے دوران وہ جذبات دوبارہ شعور کی سطح پر آئے اور اسے تھیراپی میں ان کے اظہار کا موقع ملا۔ اس طرح اس مریض کا نفسیاتی مسئلہ حل ہوا اور وہ ایک صحتمند زندگی گزارنے لگا۔

Read more

انسانی نفسیات کے راز

کیا آپ انسانی دماغ میں دلچسپی رکھتے ہیں؟ کیا آپ انسانی ذہن کے راز جاننا چاہتے ہیں؟ کیا آپ انسان شخصیت کو ایک پہیلی ’ایک بجھارت اور ایک معمہ سمجھتے ہیں؟ کیا آپ انسانی دماغ کو انسانی جسم کا بلیک باکس گردانتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو عین ممکن ہے آپ قسط وار کالموں کی اس سیریز سے کچھ استفادہ کرسکیں۔ انسانی نفسیات کی تفہیم میں پچھلی ایک صدی میں حیرت انگیز تبدیلیاں آئی ہیں کیونکہ ماہرین طب ’سائنس اور

Read more

دو دوست اور تین ادبی محبت نامے، فرحت پروین اور خالد سہیل

فرحت پروین کا پہلا خط

میں نے۔ درویشوں کے ڈیرے۔ کو اس طرح دن رات لگ کر پڑھا جیسے اگلے دن اس میں سے میرا امتحان ہو۔ انتہائی دلچسپ انداز ہے۔ خوش قسمت ہیں آپ کہ حسب دلخواہ زندگی جیئے۔ امیر حسین جعفری میرا بہت اچھا دوست ہے اس کی وساطت سے آپ کی شخصیت کے بارے میں جانا تو اس بار میں سوچ کے امریکہ آئی تھی کہ آپ سے ضرور ملوں گی کچھ سوال تھے میرے ذہن میں۔ اور آپ کے اور رابعہ کے خطوط پر مشتمل کتاب پڑھ کر یہ طلب دوچند ہو گئی۔ سچ اور صرف سچ پر مشتمل یہ کتاب اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے۔ جو آپ بیتی ہوتے ہوئے بھی جگ بیتی ہے میں دوبار کینیڈا آئی مگر چونکہ آپ سے اپائنٹمنٹ نہیں لی تھی تو سوچا اگلی بار خاص طور پر آپ سے اپائنٹمنٹ لے کر آؤں گی اور پھر کرونا وبا کی وجہ سے بارڈر بند ہو گئے۔
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

Read more

کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ذہنی طور پر نابالغ ہے؟

نوٹ: ڈونلڈ ٹرمپ کی بھتیجی میری ٹرمپ ’جو ایک سائیکولوجسٹ ہیں‘ کی حالیہ کتاب TOO MUCH AND NEVER ENOUGH: HOW MY FAMILY CREATED THE WORLD ’S MOST DANGEROUS MAN کے چند اقتباسات کا ترجمہ اور تلخیص ڈونلڈ ٹرمپ آج بھی ایک ایسے بچے کی طرح سوچتا ہے جسے اپنے جذبات پر کوئی قابو نہیں۔ ڈونلڈ کو اپنے بچپن میں نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور جب کوئی انسان بچپن میں نفسیاتی بحران اور تشدد کا شکار ہوتا ہے تو

Read more

امریکی موسیقار روڈ رگس خود کشی کے بعد کیسے زندہ ہو گئے؟

جنوبی افریقہ کے سیاہ فام اور سفید فام مرد و زن اپنے محبوب موسیقار روڈ رگس کے انقلابی گانے سن رہے تھے کہ ایک نوجوان نے آ کر خبر دی کہ روڈ رگس فوت ہو گئے ہیں۔

لیکن کیسے؟ کسی پرستار نے پوچھا

دوسرے نوجوان نے کہا کہ انہوں نے خود کشی کر لی ہے۔ سٹیج پر اپنی کنپٹی پر بندوق رکھ کر اپنے آپ کو گولی مار لی ہے۔

پھر کیا تھا، دیکھتے ہی دیکھتے یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح دور دراز کے علاقوں تک پھیل گئی اور سارے افریقہ میں سوگ منایا جانے لگا۔

Read more

آپ کے تصور جاناں میں کون بسا ہوا ہے؟

ہر عاشق اور ہر محبوب اس رومانوی حقیقت سے واقف ہے کہ وہ بہانے بہانے سے زندگی کی گہما گہمی میں تخلیے کے وہ لمحے تلاش کرتا رہتا ہے جب وہ تصور جاناں میں محبوبہ سے ملاقات کرے اور وہ سب کچھ کرے جو وہ حقیقی دنیا میں نہیں کر سکتا۔ تنہائی کے ایسے لمحے محبوب کو خیالوں کی جنت میں لے جاتے ہیں۔ وہ خیالی دنیا کی ملاقاتیں اتنی دلفریب ’اتنی دل گداز‘ اتنی دلنشیں اور اتنی دلچسپ ہوتی ہیں کہ مرزا غالب بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے

؎ جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

Read more

کیا آپ اپنی ماں بولی لکھنا پڑھنا جانتے ہیں؟

کیا آپ کے والدین نے آپ کو گھر میں اپنی ماں بولی پڑھنا سکھائی تھی؟

کیا آپ کے اساتذہ نے آپ کو سکول میں اپنی مادری زبان لکھنا سکھائی تھی؟

میں پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کو نہیں جانتا، جہاں بچوں کو سکولوں میں اپنی مادری زبان میں تعلیم نہ دی جاتی ہو۔

مجھے نجانے کیوں میری ماں نے اردو، عربی اور انگریزی تو لکھنا پڑھنا سکھائی لیکن بہت سی اور پاکستانی ماؤں کی طرح اپنی ماں بولی پنجابی لکھنا پڑھنا نہ سکھائی۔

Read more

یہ بھی ایک معجزہ ہے کہ ہم اب تک زندہ ہیں

کیا آپ نے اوڈری لورڈی کا نام سن رکھا ہے؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ ایک سیاہ فام امریکی شاعرہ تھیں؟

کیا آپ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ انہوں نے ساری عمر عورتوں کے حقوق کی خاطر روایتی فیمنزم ’پدر سری اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جنگ لڑی اور سیاہ فام عورتوں کی جدوجہد میں گرانقدر اضافے کیے۔

Read more

کیا آپ کے شوہر ایک دہریہ ہیں؟

یہ اس دور کی بات ہے، جب آتش جوان تھا اور اپنے مذہبی اور غیر مذہبی اور لا مذہبی دوستوں سے خدا اور مذہب کے موضوعات پر گرما گرم بحثیں کیا کرتا تھا۔ اس دور میں ایک دن خبر آئی، کہ میرے ایک عزیز دہریہ دوست نے امریکہ سے پاکستان جا کر شادی کر لی ہے۔ وہ دوست اپنی بیگم کو لے کر واپس آئے تو میں نے فون پر اپنے دوست اور بھابی جان کو کینیڈا آنے کی دعوت

Read more

کیا آپ فرانسیسی فلسفی لوئی ایلتھوزر کی دانائی اور دیوانگی سے واقف ہیں؟

فرانسیسی فلسفی لوئی ایلتھوزر  نے اپنی سوانح عمری کے دیباچے میں ایک اعتراف کیا ہے، جس کی تلخیص اور ترجمہ حاضر ہے۔

دو تاریکیوں کے درمیان
میں ایک تاریکی سے ابھرا اور دوسری تاریکی میں ڈوب گیا۔ ان دو تاریکیوں کے درمیان جو چند لمحے تھے ان کی یادیں میرے دل کی دیواروں پر کندہ ہیں۔ میں وہ یادیں آج قلم بند کرنا چاہتا ہوں۔

وہ اتوار کا دن تھا اور نومبر کی سولہ تاریخ تھی۔ صبح کے نو بجے تھے۔ خواب گاہ کی کھڑکی سے دودھیا روشنی کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔ کھڑکی پر جو پردے پڑے تھے، وہ وقت اور حالات کی زد پر آ کر بوسیدہ ہو گئے تھے۔

Read more

حمایت علی شاعر: سماجی شعور اور عوام دوستی

نوٹ: یہ مقالہ 20 ستمبر 2020 کوکاروان فکر و فن شمالی امریکہ کے زیر اہتمام زوم انٹرنیٹ پر منعقد ہونے والے ایک بین الاقومی سیمینار۔۔۔ یاد رفتگاں۔۔۔ بنام حمایت علی شاعر۔۔۔ میں پڑھا گیا۔ ٭٭٭            ٭٭٭ ہم سب جانتے ہیں کہ ہر شاعر دانشور نہیں ہوتا اور ہر دانشور شاعر نہیں ہوتا لیکن حمایت علی ان معدودے لکھاریوں میں سے ایک تھے جو شاعر بھی تھے اور دانشور بھی۔ حمایت علی شاعر کو مقبولیت اور

Read more

کیا آپ اپنے جنسی جذبات سے پریشان رہتے ہیں؟

ساری دنیا کے بچے اور بچیاں جب سن بلوٖغت تک پہنچتے ہیں تو ان کے جسموں میں جنسی غدود فعال ہو جاتے ہیں اور وہ ایسے جنسی و رومانی جذبات محسوس کرنے لگتے ہیں جو انہوں نے پہلے محسوس نہ کیے تھے۔ ان جذباتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ان کے جسموں میں بھی تبدیلیاں آنی شروع ہو جاتی ہیں۔ لڑکیوں کے پستان بڑھنے لگتے ہیں اور انہیں حیض آنا شروع ہو جاتا ہے۔ لڑکوں کی مسیں بھیگنے لگتی ہیں اور انہیں

Read more

درخت

تحریر: ہر من ہیس انگریزی ترجمہ: جیمز وائٹ اردو ترجمہ۔ ۔ ۔ خالد سہیل میری نگاہ میں درختوں نے ہمیشہ بلند و بالا بزرگ مبلغوں کا مقام پایا ہے۔ جب میں انہیں جنگلوں اور بیابانوں میں کنبوں اور قبیلوں کی طرح پاتا ہوں تو انہیں بڑے شوق سے دیکھتا رہتا ہوں۔ میری نگاہ میں ان کی عزت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب میں انہیں کسی مقام پر بالکل تنہا کھڑے ہوئے پاتا ہوں۔ وہ مجھے تنہا انسانوں کی یاد

Read more

مقدس

صائمہ حسب عادت صبح جلدی اٹھی اور اس نے بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔ پھر وہ تلاوت کرنے کے لیے دوسرے کمرے میں گئی۔ اس نے طاق کی طرف ہاتھ اٹھایا تو کیا دیکھتی ہے کہ قرآن غائب ہے۔ اس نے سوچا شاید وہ بیسمنٹ میں قرآن رکھ کر بھول گئی ہو۔ وہ وہاں گئی تو وہاں بھی قرآن غائب تھا۔ پھر وہ اپنے بیٹے کے کمرے میں گئی لیکن وہاں بھی قرآن موجود نہ تھا۔ صائمہ کو جب اندازہ ہوا کہ گھر کے سب قرآن غائب تھے تو وہ بہت حیران ہوئی۔

Read more

خدا کو خدا حافظ کہنے کے بعد

زیبا شہزاد کا ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کے نام خط
آداب ڈاکٹر صاحب!
آپ کے کالم پڑھ کر جہاں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے وہیں جب آپ خود کو دہریہ لکھتے ہیں تو اس بارے جاننے کی آرزو ہوتی ہے کہ آپ دہریہ کیسے بنے؟ وہ کیا وجوہات تھیں جس نے آپ کو مذہب سے دور کیا۔ آپ اپنے کالمز میں بڑے فخریہ انداز خود کو دہریہ بتاتے ہیں وہی فخر جو کسی بھی مذہب سے منسلک افراد کو اپنے مذہبی ہونے پہ ہوتا ہے۔ آپ جب خود کو دہریہ لکھتے ہیں تو آپ کے لہجے سے کسی طرح کا ڈر یا خوف نظر نہیں آتا کہ آپ کے قاری یا آپ کے مریض اس بات کو کس طرح لیں گے۔

کسی بھی مذہب کو ماننا یا نہ ماننا ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور کوئی بھی دوسرا انسان اس پر اعتراض نہیں کر سکتا۔ دہریہ لوگوں کو بھی اس معاملے خدا کے ذات کو تسلیم کرنے سے انکار میں اتنی ہی آزادی ہے جتنی کسی بھی مذہب کے ماننے والے کو، کوئی مسلم ہونا چاہتا ہے کوئی سکھ، کوئی عیسائی اور کوئی ہندو یا پھر کسی اور مذہب پر چلنا چاہتا ہے اس پہ جبر نہیں۔ کسی بھی مذہب کو ماننا یا نہ ماننا ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور کوئی بھی دوسرا انسان اس سے یہ حق نہیں چھین سکتا کہ یہ اس کا خالص ذاتی معاملہ ہے۔

Read more

چیخ – جنوبی افریقہ کی ایک کہانی

یونیورسٹی کی چھٹیوں کے دوران میں کچھ عرصہ کام کیا کرتا تھا تا کہ اپنی فیس ادا کر سکوں۔ ایک مرتبہ مجھے مشرقی ٹرانزوال میں آٹے کے گودام میں ملازمت ملی۔ وہ گودام جوہانس برگ سے دو سو میل دور میرے والد کے کھیتوں سے دو میل کے فاصلے پر تھا۔ مجھے دو مہینوں کے لیے ملازمت ملی تھی۔ میری تنخواہ تیس پونڈ تھی اور میرا کام تیس سیاہ فام مقامی مزدوروں پر نگاہ رکھنا تھا۔ میں وہاں کا فورمین تھا۔ وہ مزدور عمر میں مجھ سے بڑے تھے۔ ان کا کام ریل گاڑیوں سے آٹے کی بوریوں کو خالی کرنا تھا، انہیں گودام میں بھرنا اور بعد میں ٹرکوں میں منتقل کرنا تھا۔

جب میں نے وہاں کام شروع کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہاں ایک سیاہ فام فورمین پہلے سے کام کر رہا تھا جو تجربہ کار بھی تھا اور مزدوروں میں مقبول بھی۔ اس کی تنخواہ مجھ سے آدھی تھی۔ عمر تقریباً چالیس برس ہوگی۔ سب لوگ اسے جون کہہ کر پکارتے تھے۔ جب مجھے پتہ چلا کہ مجھے اس سے دگنی تنخواہ ملے گی تو مجھے اچھا نہ لگا۔ میں نے اسے بتایا کہ وہ اپنا کام باقاعدگی سے پہلے کی طرح کرتا رہے میں اس کے کام میں مخل نہیں ہوں گا۔ میں نے اسے بتایا کہ میں مزدوروں کے ساتھ کام کروں گا اور اس کی اطلاع سفید فام مالک کو بھی نہ دوں گا۔

Read more

کیا ہم اپنے بچوں سے جھوٹ بولتے ہیں؟

میری ایک کینیڈین مریضہ جینیفر جب پچھلے ہفتے مجھ سے ملنے آئیں تو وہ بہت اداس تھیں۔ کہنے لگیں میری دس سالہ بیٹی کیرن مجھ سے دس دن سے ناراض ہے۔ میں نے جینیفر سے وجہ پوچھی تو کہنے لگیں کہ کیرن کہتی ہے کہ آپ ساری عمر مجھ سے جھوٹ بولتی رہی ہیں۔ آپ جب ہر سال مجھے کرسمس کے موقع پر تحفے دیتی تھیں تو کہتی تھیں کہ وہ تحفے میرے لیے سانتا کلاز لے کر آیا ہے۔ اب مجھے پتہ چل گیا ہے کہ سانتا کلاز ایک بہت بڑا جھوٹ ہے، بہت بڑا ڈرامہ ہے، بہت بڑا فراڈ ہے۔ اب میں سوچتی ہوں کہ اگر آپ نے میرے ساتھ سانتا کلاز کے بارے میں جھوٹ بولا ہے تو نجانے اور کتنی باتوں میں جھوٹ بولا ہوگا۔

Read more

کیا اخلاقیات کے لیے مذہب ضروری ہے؟

ایک شام مجھ جیسے پاپی کو ایک نیک اور پارسا دوست فاطمہ کا فون آیا۔ موسم کی حرارت اور ڈونلڈ ٹرمپ کی گمراہ کن قیادت کی شکایت کے بعد کہنے لگیں

”آج میں آپ سے ایک سنجیدہ سوال پوچھنا چاہتی ہوں“

”فرمائیں۔ جو سوال چاہے پوچھیں“ میں نے جواب دیا

کہنے لگیں، آپ بخوبی جانتے ہیں کہ میں ایک پکی مسلمان ہوں۔ میں خدا، پیغمبروں، آسمانی کتابوں، قیامت اور جنت دوزخ پر ایمان رکھتی ہوں۔ میرا مذہب زندگی کے ہر موڑ اور ہر موقع پر میری رہنمائی کرتا ہے اور میں ایک اچھی مسلمان بن کر زندگی گزارنے کی پوری کوشش کرتی ہوں۔ لیکن وہ تمام لوگ جو کسی خدا اور مذہب پر ایمان نہیں رکھتے وہ نیکی بدی، اچھے برے، خیر و شر میں کیسے تمیز کرتے ہیں؟ آپ کے خیال میں کیا اخلاقیات کے لیے مذہب ضروری ہے؟

Read more

بانو قدسیہ، راجہ گدھ اور مقدس دیوانگی

بانو قدسیہ کا ’راجہ گدھ‘ ایک ایسا فلسفیانہ ناول ہے جو تخلیقی طور پر بہت طاقتور لیکن نظریاتی طور پر بہت کمزور ہے۔ وہ انسانوں کے نفسیاتی اور سماجی مسائل کا روحانی حل پیش کرتا ہے۔ جب ہم ’راجہ گدھ‘ کا تخلیقی تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں بہت سی ادبی اور فنی خوبیاں موجود ہیں جو اسے باقی ناولوں سے ممتاز کرتی ہیں۔ ’راجہ گدھ‘ کی پہلی خوبی اس کی READABILITY ہے۔ میں نے

Read more

سلطان جمیل نسیم۔۔۔ اپنے فن کے آئینے میں

(یہ مضمون CANADA INTERNATIONAL COUNCIL OF ARTS کی AUGUST 16 TH، 2020 کی زوم میٹنگ میں پیش کیا گیا۔ میزبان تھے شعیب ناصر اور ڈاکٹر بلند اقبال) خواتین و حضرات! آج ہم سب سلطان جمیل نسیم کی یاد میں جمع ہوئے ہیں۔ سلطان جمیل نسیم روایت اور جدت کے سنگم پر کھڑے ایک منفرد اور ہمہ جہت افسانہ نگار تھے۔ مجھے مئی 2007 کی وہ حسیں اور خنک شام یاد ہے جب میرے فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے فون

Read more

کیا آپ روایت سے بغاوت کی قیمت جانتے ہیں؟

(عادل سیماب اور راشد مغل کے زیر انتظام منعقدہ PROFESSOR، S ASSOCIATION FOR STUDENT SERVICES کے بین الاقوامی سیمینار میں 10 اگست 2020ء کو پڑھی گئی اس تحریر کا عنوان  CREATIVE MINORITY۔ ۔ ۔ TRADITIONAL MAJORITY تھا۔) ٭٭٭      ٭٭٭ آج میں تین حوالوں سے بات کروں گا۔ ذاتی حوالہ، تاریخی حوالہ اور نفسیاتی حوالہ۔ عارفؔ عبدالمتین کا شعر ہے میری عظمت کا نشاں ، میری تباہی کی دلیل میں نے حالات کے سانچوں میں نہ ڈھالا خود کو بیس

Read more

گرین زون سیمینار کی دعوت۔۔۔ پر سکون زندگی کی طرف سات قدم

میرے ’ہم سب‘ کے دوستو! پچھلے چند مہینوں میں ان مردوں اور عورتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جو مجھ سے اپنے نفسیاتی مسائل کے بارے میں مشورہ کرنا چاہتے ہیں لیکن میں اپنی گوناگوں ادبی و سماجی مصروفیات کی وجہ سے انہیں اتنا وقت نہیں دے سکتا جس کے وہ خواہشمند ہیں۔ پچھلے چند ہفتوں میں کرونا وبا کی وجہ سے میری پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں بھی بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔ میرے ان مریضوں کی تعداد

Read more

جب دہشت پھیلانے والا امن کا پرچارک بن جائے

کیا انسان بنیادی طور پر نیک ہے یا بد؟ اچھا ہے یا برا؟ خیر کا نمائندہ ہے یا شر کا استعارہ؟ تشدد پرست ہے یا امن پسند؟ وہ کیسے حالات ہیں جو ایک پارسا کو پاپی اور پاپی کو پارسا بنا دیتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے بارے میں ماہرین بشریات ’نفسیات اور سماجیات برسوں‘ دہائیوں بلکہ صدیوں سے غور و خوض کر رہے ہیں۔ ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے میں نے نہ صرف بہت سے دانشوروں

Read more

جب خانہِ کعبہ میں ایک شخص مہدی بن بیٹھا

( LAWRENCE WRIGHT کی کتاب THE LOOMING TOWER: AL QAEDA AND THE ROAD TO 911 کے ایک باب کا ترجمہ) 20 نومبر 1979 کی صبح تھی۔ مرحوم شاہ فیصل کے بیٹے ترکی الفیصل کو، جو سعودی عرب کا وزیر تھا، شاہ خالد کا پیغام ملا کہ وہ اس سے ملنا چاہتا ہے۔ شہزادہ ترکی اس وقت شہزادہ فہد کے ساتھ تیونس میں ایک عرب کانفرنس میں شرکت کر رہا تھا۔ شہزادہ ترکی کی عمر چونتیس برس تھی اور اس کے

Read more

ٹورانٹو کے دانشور دوست ضمیر احمد کی یاد میں

ایک دفعہ فیض احمد فیض لندن کے اردو مرکز میں اپنے دوستوں کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہے تھے کہ ایک اجنبی تشریف لائے اور کہنے لگے کہ میں نے آپ کی چند نظموں کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ فیض صاحب نے کہا ’سنائیں‘ ۔ جب فیض صاحب نے ان کے ترجمے سنے تو پہلے تو وہ گہری سوچ میں ڈوب گئے پھر فرمانے لگے ’ترجمہ کرنے والے کو کم از کم ایک زبان پر تو عبور حاصل

Read more

ایک دوست کی کہانی: خلیل جبران کی زبانی

میں اپنے اس دوست کو نوجوانی کے اس دور سے جانتا تھا جب وہ زندگی کی راہ بھٹک چکا تھا جب وہ اپنی خواہشات کی شہ پر موت سے ہولی کھیلنے سے باز نہ آتا تھا۔ میں اسے اس دور سے جانتا تھا جب اس کی تشنہ آرزوئیں اسے نفسانی خواہشات کی بے جا تکمیل کے سمندر میں دھکیلے چلی جاتی تھیں۔ میں اسے اس وقت بھی جانتا تھا جب وہ گاؤں میں ایک ظالم لڑکے کی طرح جانا جاتا تھا جس

Read more

KEN WILBER اور انسانی شعور کے ارتقا کا نظریہ

کین ولبر 1949 میں امریکہ کے شہر اوکلاہوما میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ڈیوک اور نیبراسکا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی لیکن تعلیم مکمل کرنے سے پہلی ہی وہ یونیورسٹی چھوڑ کر ایک ادیب اور فلاسفر بننے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے نکل کھڑے ہوئے۔ 1973 میں انہوں نے اپنی پہلی کتاب THE SPECTRUM OF CONSCIOUSNESS لکھی۔ اس کتاب کو بیس پبلشرز نے رد کیا۔ آخر 1977 میں QUEST BOOKS نے اس کتاب کو چھاپا۔ کین ولبر کو ان کی جن

Read more

چند گز کا فاصلہ

ہم لاکھوں کی تعداد میں موجود تھے لیکن اب کہانی سنانے کو صرف چند سو باقی رہ گئے ہیں۔ ”کیا ہم خوش قسمت ہیں کہ ابھی تک زندہ ہیں یا بدقسمت کہ مرنے والوں کا سوگ منا رہے ہیں؟“ ہم اپنے آپ سے پوچھتے ہیں۔

ہماری ماؤں نے ساری دنیا میں سمندر سے چند گز کے فاصلے پر لاکھوں انڈے دیے تھے۔ انہیں امید تھی کہ ہم مختصر سا فاصلہ طے کر لیں گے لیکن اس مختصر سے فاصلے کو طے کرتے کرتے ہمیں ایک طویل مدت لگی اور لاکھوں جانوں کی قربانی دینی پڑی۔ اب ہم واپس اس جگہ پر آ گئے ہیں جہاں سے ہماری ماؤں نے اس سفر کا آغاز کیا تھا۔ جب ہماری ماؤں نے انڈے دیے تھے تو انہوں نے ہمیں ریت میں چھپا دیا تھا تاکہ ہم انسانوں، جانوروں اور پرندوں کی نظروں سے اوجھل رہیں لیکن ایسا نہ ہوا ہم حوادث کا شکار ہو گئے۔ ہم میں سے جو آج تک زندہ ہیں شاید خوش قسمت ہیں کہ اپنے ماضی، حال اور مستقبل کا جائزہ لینے اور اپنی کہانی سنانے کے لئے باقی رہ گئے ہیں۔

Read more

مذہب، جنس اور نفسیات

انسانی بچہ جس خاندان، سکول اور معاشرے میں پلتا بڑھتا ہے اس ماحول کی روایتیں اور رویے اپنے اندر ایک اسفنج کی طرح جذب کرتا چلا جاتا ہے۔ یہ رویے اور روایتیں اس کی شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

اگر ایک بچہ ایک روایتی مذہبی ماحول میں تربیت پاتا ہے تو عین ممکن ہے اسے مذہبی اعتقادات بھی وراثت میں ملیں اور وہ ان نظریات کو بھی بغیر سوچے سمجھے اپنی شخصیت کا حصہ بنا لے۔
جب بچہ جوان ہوتا ہے تو اس کے جسم، دماغ، اور ذہن میں اہم تبدیلیاں آنی شروع ہو جاتی ہیں۔ لڑکیوں کو حیض آنا شروع ہو جاتا ہے اور لڑکوں کو شہوانی خواب آنے لگتے ہیں۔

Read more

ہم اختلاف میں عدم برداشت کے قائل اور متشدد کیوں ہو چکے ہیں؟

ڈاکٹر صاحب میں کافی عرصہ سے یہ محسوس کر رہا ہوں کہ ترقی یافتہ معاشروں کی نسبت ترقی پذیر معاشروں میں جہاں متعدد امور میں بالغ النظری اور مفاد عامہ کی فکر پر تعصب، سطحیت اور خودنمائی غالب ہے وہیں سنجیدہ فکر رکھنے والے خواتین و حضرات بھی اس اثر سے محفوظ نہیں۔ ہمارے وہ احباب جو معاشرے میں رائج غلط روایات اور چلن پر انگلی اٹھاتے ہیں ان کی اکثریت غلطی کی جڑ کی نشاندہی اور اس پر صائب رائے دینے کے بجائے اپنے اپنے تعصبات کی عینک سے اسے ”اجاگر“ کرتی نظر آتی ہے۔ اپنے موقف پر گویا ان کا اپنا یقین بھی متزلزل ہوتا ہے جبھی فکر انگیز اور منطقی دلائل کے بجائے تضحیک و تمسخر کا سہارا لیا جاتا ہے۔ جہاں مذہب پرست لبرل خیالات کا غیر منطقی انداز میں تمسخر اڑاتے ہیں وہیں لبرل خیالات رکھنے والے اپنے موقف کی قوت اجاگر کرنے کے بجائے مذہب کی تضحیک اہم سمجھتے ہیں جسے یہ آزادی فکر اور آزادی اظہار سے تعبیر کرتے ہیں تو وہیں اس پر مذہب پرست طبقہ کے ایسے ہی اظہار کو خود تنگ نظری سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس قضیہ میں خود نمائی اور خود ستائش کا عنصر منطق پر غالب نظر آتا ہے۔

Read more

ایک عورت پانچ عاشق – ہندی لوک کہانی

تاجروں کے خاندان کی ایک بیٹی کی شادی ایک ایسے مرد سے ہوئی جو سیر و سیاحت کا بہت شوقین تھا۔ ایک مرتبہ وہ سفر پر روانہ ہوا اور طویل عرصہ تک اس کی کوئی خبر نہ آئی۔ اس کی بیوی انتظار اور احساس تنہائی کے ہاتھوں تاجروں کے ایک نوجوان خوبرو بیٹے کی محبت میں گرفتار ہو گئی۔ دونوں ایک دوسرے کی محبت کے اسیر تھے ایک دن اس نوجوان کا کسی آدمی سے جھگڑا ہو گیا۔ اس آدمی نے پولیس پر رپورٹ لکھوائی۔ سربراہ پولیس نے اس نوجوان کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔ جب یہ خبر تاجر کی بیوی یعنی اس نوجوان کی محبوبہ تک پہنچی تو اس نے اپنے سب سے قیمتی کپڑے زیب تن کیے اور غصے میں آگ بگولا سربراہ پولیس کی خدمت میں پہنچی پہلے وہ آداب بجا لائی اور پھر ایک تحریری رنجش پیش کی کی۔ درج تھا :

”جس شخص کو قید میں ڈالا گیا ہے وہ میرا عزیز بھائی ہے وہ بے گناہ ہے اس کے خلاف جھوٹی شہادت پیش کی گئی ہے اور اسے ناجائز طریقے سے مقید کیا گیا ہے وہ میرے نان نفقے کا ذمہ دار ہے اور اس کے بغیر میں لاوارث ہوں اس لئے میں یہ درخواست کرتی ہوں کہ ا سے جلد سے جلد رہا کیا جائے۔“

Read more

کیا آپ رومانوی دانائی سے واقف ہیں؟

راؤ طاہر قیوم کا خط پیارے طبیب، آداب میرا نام راؤطاہرقیوم ہے اور پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل ہوں اور میاں چنوں میں پریکٹس کرتا ہوں۔ گزشتہ سال جب آپ پاکستان تشریف لائے تھے تو آپ کے ساتھ بالمشافہ گفتگو کا شرف حاصل ہوا تھا۔ آپ کی پیاری بہن عنبرین کوثر کے گھر پر عبدالستار اور زبیر لودھی کے ساتھ آپ کی پیاری پیاری گفتگو سننے کا اتفاق ہوا تھا۔ عبدالستار اور زبیر لودھی نے تو آپ کی باتوں

Read more

نئے مذہب کے پیروکاروں کا اجلاس: ایک رپورتاژ

خواتین و حضرات! میرا نام کرن کرونائی ہے اورمیرا تعلق کرونائی مذہب سے ہے۔ میں مذاہب عالم کی اس 2120 کی بین الاقوامی کانفرنس میں آپ سب مہمانوں کو خوش آمدید کہتی ہیں۔ مجھ سے پہلے آپ جن مذاہب کے نمائندوں کی تقریریں سن چکے ہیں ان میں یہودی بھی تھے عیسائی بھی ’مسلمان بھی تھے ہندو بھی‘ سکھ بھی تھے اور بدھسٹ بھی۔ ان میں سیاہ فام افریقی قبائل کے رہنما بھی تھے اور سرخ فام انڈین قبائل کے

Read more

عورتوں کے نفسیاتی مسائل میں تھراپی کا کردار

پچھلے دو سال سے ڈاکٹر خالد سہیل کے creative psychotherapy clinic سے میرا مسلسل رابطہ رہتا ہے۔ ان کے اس طریقہ علاج کی بنا پر مجھے لکھنے لکھانے کے ہنر سے آشنائی ہوئی۔ اور اب مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس مصروفیت کی بنا طبیعت میں ایک عجیب سا ٹھہراؤ اور سکون کا دور دورہ ہے۔ جیسے ہی کوئی نئی سوچ ذہن کے پردے پہ ابھرتی ہے تو یہ خیال رہتا ہے کہ چونکہ ان خیالات کو سپرد قلم کرنا ہے لہذا الفاظ کے چناؤ کی طرح سوچ کا معیار بھی بہتر ہونا چاہیے۔ لہذا اس لیے جیسے ہی کسی منفی سوچ کا گزر ہو تو دماغ کے سبھی فلٹر آن ہو جاتے ہیں اور یوں فلٹریشن کا خود کار نظام اپنے آپ کام کرنے لگتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب! میں آپ سے جاننا چاہتی ہوں کہ یہ خودکار نظام کب اور کیسے وجود میں آتا ہے؟
اور کر یٹو تھیراپی کا اس میں کیا کردار ہے؟
وہ اس سلسلے میں کیسے مدد گار ہوتی ہے؟

Read more

پہاڑی پر جلتی آگ – افریقی لوک کہانی کا ترجمہ

لوگوں کا کہنا ہے کہ پرانے زمانے میں ادیس ابابا کے شہر میں ارہا نامی ایک نوجوان رہا کرتا تھا۔ وہ لڑکپن میں گاؤں سے شہر چلا آیا تھا۔ اور ایک مالدار تاجر ہسپٹم ہسیائی کے ہاں ملازم ہو گیا تھا۔

ہسپٹم ہسیائی اتنا مالدار تھا کہ اس نے وہ تمام چیزیں خرید لی تھیں جو دولت خرید سکتی تھی۔ اس کا دل زندگی کی عیاشیوں سے بھر چکا تھا اسی لیے کبھی کبھار وہ اپنی زندگی میں بوریت محسوس کرنے لگتا۔

ایک سرد رات جب چاروں طرف ٹھنڈی ہوا کے جھونکے چل رہے تھے ہسپٹم نے ارہا کو حکم دیا کہ وہ آگ جلانے کے لیے لکڑیاں جمع کر کے لائے۔ جب ارہا آگ جلا چکا تو ہسپٹم گویا ہوا ’ایک انسان کتنی سردی برداشت کر سکتا ہے؟‘ وہ اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا۔ ’کیا یہ ممکن ہے کہ ایک انسان انٹوٹو کی پہاڑی کی چوٹی پر تمام رات بغیر کمبل‘ کپڑوں اور آگ کے گزارے اور نہ مرے؟ ’

Read more

بدعنوان سیاست دان کی واپسی

تخلیق ارسکین کیلڈویل۔ ۔ ۔ امریکہ – ترجمہ ڈاکٹر خالد سہیل قصبے کی انتظامیہ کا سالانہ اجلاس ہو رہا تھا۔ جارج ولیمز کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ اس نے سیم بلنگز کا نام بطور خزانچی پیش کر دیا۔ حیرت کی بات یہ کہ سب لوگوں نے بڑے جوش و خروش سے اس کی تائید کی اور وہ بلا مقابلہ ہی خزانچی بن گیا۔ یہ ایندروسکوگن جیسے قصبے کی تاریخ میں پہلی مثال تھی جب کوئی خزانچی بلامقابلہ منتخب ہوا

Read more

آپ اپنی زندگی میں کن محاذوں پر جنگ لڑتے ہیں؟

مجھ سے کئی نوجوان دوست پوچھتے ہیں
”ڈاکٹر سہیل! ہم آپ کو ایک کامیاب رائٹر اور ڈاکٹر، ہیومنسٹ اور سائیکو تھراپسٹ کے طور پر جانتے ہیں لیکن ہم نہیں جانتے کہ آپ اس منزل تک کیسے پہنچے۔ آپ کو اس کامیابی کے راستے میں کن دشواریوں اور کن آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا اور آپ ان سے کیسے نبرد آزما ہوئے؟“

آج میں آپ سے اپنی زندگی کی چند آزمائشوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں اور زندگی کے ان محاذوں کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جن پر میں کئی سالوں بلکہ کئی دہائیوں سے جنگ لڑ رہا ہوں۔

جب مجھے اپنی نوجوانی میں اندازہ ہو گیا کہ میں ایک غیر روایتی انسان ہوں تو مجھے یہ بھی احساس ہو گیا کہ مجھے اپنی راہ خود بنانی ہے اور مجھے اپنی غیر روایتی زندگی کے لیے قربانی بھی دینی ہے۔

Read more

ادیب، ادب اور آزادی: ژاں پال سارتر کا مضمون

جب ہم ادب کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرتے ہیں تو ہمیں چند اہم سوالوں کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے
ادب کیا ہے؟
ادب کا فن اور زندگی سے کیا رشتہ ہے؟
ادیب کیوں اور کن لوگوں کے لیے لکھتا ہے؟

جب ہم ادب کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارے ذہن میں الفاظ اور معانی کے کئی تصورات ابھرتے ہیں۔ ویسے تو ادیب بھی کسی پینٹر اور موسیقار کی طرح ایک فنکار ہوتا ہے لیکن ان سب کے دائرے مختلف ہیں۔ پینٹر رنگوں سے اور موسیقار آوازوں سے اپنے فن کا اظہار کرتا ہے جبکہ ادیب الفاظ کا سہارا لیتا ہے۔

Read more

کیا آپ نے کبھی فادرز ڈے پر اپنے ابو جان کو خط لکھا ہے؟

پیارے ابو، آپ کیسے ہیں؟ جانتی ہوں ربط کا قصہ تمام ہوئے ایک عمر گزر گئی اور مزاج پرسی کا تکلف بھی جاتا رہا۔ لیکن آپ سے اور خود کلامی سے کبھی بھی دل نہیں بھرا۔ جانتی ہوں مجھ سے زیادہ آپ مجبور ہیں لیکن پھر بھی دل برداشتہ ہو کے کبھی کبھی کچھ کہنے سننے کو جی چاہتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے جیسے زندگی اپنی ہی سناتی رہی اور ہماری بات بیچ میں ہی رہ گئی۔ خیر وہ اس کی عادت ہے ہر پل نفسا نفسی میں ہی رہتی ہے۔ بات کو آگے بڑھاتی ہوں۔

وقت قلیل ہے اور قصہ جیسے شیطان کی آنت۔ تحریر کا سوچتے ہی سب سے پہلے گویا بچپن کا گمان ہونے لگا۔ جب آپ نے شروع شروع میں مجھے خط و کتابت کی ضرورت سمجھائی تھی۔ میں آپ کو خط لکھتی تھی اور آپ والد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین استاد ہونے کا بھی فرض انجام دیتے تھے۔ میرا خط، خواہ میں آپ کے ساتھ اسی گھر میں ہوں یا دوسرے ملک میں، میری املاء سمیت مجھے نا صرف واپس بھیجتے تھے بلکہ اس پہ اتنا تبصرہ کرتے کہ مجھے ازبر ہو جاتا۔

Read more

خوش آدمی

تخلیق۔۔۔ سومرسٹ ماہم / ترجمہ۔۔۔ ڈاکٹر خالد سہیل دوسروں کی زندگیوں میں مداخلت کرنا کتنا خطرناک کام ہے۔ میں نے اکثرسیاستدانوں ’فلاحی کارکنوں اور اسی قسم کے دوسرے لوگوں کی خود اعتمادی کو حیرانی کی نگاہ سے دیکھا ہے جو دوسرے انسانوں کو اپنی عادت و اطوار‘ نظریات اور طرز زندگی بدلنے پر مجبور کرتے ہیں۔ میں نے ہمیشہ یہ سوچتے ہوئے غیروں کو نصیحت کرنے سے احتراز کیا ہے کہ جب انسان دوسرے انسان کو اپنی ذات کی طرح

Read more

مولانا رومی اور شیخ سعدی کی حکایات

ایک دن میں نے شاہد اختر سے پوچھا، کیا آپ میرے رفیق ہیں یا رقیب؟
شاہد اختر بہت حیران ہو کر کہنے لگے میں تو آپ کو اپنا رفیق اور اپنا دوست سمجھتا ہوں آپ مجھے کیوں اپنا رقیب سمجھتے ہیں۔

میں نے مسکراتے ہوئے کہا وہ اس لیے کہ ہم دونوں کی مشترکہ محبوبائیں ہیں اور وہ عالمی ادب کی کہانیاں ہیں جن کے ہم دونوں بڑے ذوق و شوق سے اردو میں تراجم کرتے ہیں۔
اس نیم مزاحیہ اور نیم سنجیدہ گفتگو کے دوران ہم دونوں نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے تراجم کو یکجا کر کے ایک مشترکہ کتاب بنائیں گے اور اس کا نام ”نگر نگر کی کہانیاں۔ ۔ ۔ عالمی ادب کے اردو تراجم“ رکھیں گے۔ اس سلسلے میں شاہد اختر روسی اور یورپی ادیبوں کی اور میں ایشیائی اور شمالی امریکی ادیبوں کی کہانیاں ترجمہ کر رہا ہوں جن میں سے چند، ہم سب، پر چھپ چکی ہیں۔ آج میں آپ کو مولانا رومی اور شیخ سعدی کی تین چھوٹی چھوٹی کہانیوں کے ترجمے سناتا ہوں۔ امید ہے آپ کو پسند آئیں گے۔

Read more

ہما دلاور کے دس سوال

ہما دلاور کے ڈاکٹر سہیل سے دس سوال سوال نمبر 1۔ دانائی کیا ہے؟ سوال نمبر2۔ دانائی کا منبع کہاں ہے؟ سوال نمبر 3۔ زندگی گزارنے کے لئے دانائی کتنی اہم ہے؟ سوال نمبر 4۔ کیا دانائی سیکھی یا سکھائی جا سکتی ہے؟ یا سوال نمبر 5۔ کیا دانائی کوئی خزانہ ہے جسے تلاش اور حاصل کیا جا سکتا ہے؟ سوال نمبر6۔ کیادانائی اور علم کا کوئی رشتہ ہے؟ اور اگر ہے تو کیا رشتہ ہے؟ سوال نمبر 7۔ کیا

Read more

اپنے شاعر چچا عارف عبدالمتین کی یاد میں

یہ میری خوش بختی ہے کہ عارفؔ عبدالمتین میرے چچا تھے۔ وہ نہ صرف اردو اور پنجابی کے شاعر تھے بلکہ ایک نقاد اور دانشور بھی تھے۔ میں نے ان سے اور ان کی شاعری سے ادب اور زندگی کے بہت سے راز جانے۔ انہوں نے میری ادبی اور نظریاتی شخصیت کی نشوونما میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ مجھے نوجوانی کا وہ دور یاد ہے جب میں اپنے والدین اور اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ پشاور میں اور میرے

Read more

کیا آپ صفائی کا جنون کی حد تک خیال رکھنے کے مرض کا شکار ہیں؟

میری عمر بتیس سال ہے، میری بیوی مجھ سے پندرہ سال بڑی ہے، ہماری شادی کو چھ سال ہو گئے ہیں، ہمارا پانچ سال کا ایک بیٹا ہے۔ ہماری پیار کی شادی تھی، میری بیوی اب بھی مجھ سے بہت محبت کرتی ہے۔ میری ساس انتہائی وہم کا شکار خاتون ہیں، جس سے یہ بیماری ان کی بیٹی یعنی میری بیوی کو بھی منتقل ہوئی ہے۔ جب میں باہر سے گھر میں داخل ہوتا ہوں، تو سب سے پہلے مجھے کپڑے تبدیل کر کے نہانا پڑتا ہے، اس سے پہلے میں کسی سے نہ مل سکتا ہوں نہ بات کر سکتا ہوں، یہاں تک کہ عید کی نماز پڑھ کر جب میں گھر میں داخل ہوا تو میرا بیٹا دوڑ کر میرے پاس آیا اور میرے گلے لگ کر عید مبارک دی، مگر اس کی ماں نے دور سے غصے میں اسے آواز دی کہ ”پاپا ابھی گندے ہیں، جب نہا کر پاک ہوجائیں گے، تب مل لینا“ مجھے اس کے اس رویے سے اتنی تکلیف ہوئی کہ بہ مشکل میں نے خود کو اور اپنے جذبات کو قابو کیا۔

Read more

کالے جسموں کی ریاضت – ژاں پال سارتر کا مضمون

ژاں پال سارتر کے مضمون کا ترجمہ

کیا تم امید رکھتے ہو کہ جب کالے لوگوں کی محصور آوازیں آزاد ہوں گی تو وہ تمھاری شان میں قصیدے کہیں گے؟
جب صدیوں سے سیے ہوئے ہونٹ کھلیں گے تو کیا وہ تمھاری تعریف کریں گے؟

جب ان کے سر جنھیں تمھارے آبا و اجداد نے زمین تک جھکا رکھا تھا، اٹھیں گے تو ان کی آنکھوں میں تحسین و آفرین کی شمعیں جلیں گی؟

سیام فام انسان اپنی جھکی ہوئی کمروں کو سیدھا کر کے کھڑے ہو گئے ہیں اور ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ تم میری طرح ان آنکھوں سے نکلتے ہوئے شعلوں کو دیکھ سکو۔ تین ہزار سال سے سفید فام انسان سیاہ فام انسانوں کو دیکھتے رہے ہیں لیکن وہ یک طرفہ ٹریفک تھی۔ انھوں نے سیاہ فام لوگوں کو یہ اجازت نہ دی کہ وہ ان کو پلٹ کر دیکھ سکیں۔ سفید فام لوگوں نے ہر چیز کو ایک خاص نگاہ سے دیکھا۔ اپنی جلد کی سفیدی کو ایک خاص رنگ دیا اور اسے ایک مجسم روشنی جانا۔ انھوں نے سفیدی کو دن، حسن، سچائی، نیکی اور ایسی روشنی سمجھا، جو زندگی کی تاریکیوں کو اجاگر کرتی ہے لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔ کالے لوگ اعتماد سے کھڑے ہو گئے ہیں، ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ رہے ہیں اور کالی روشنی سے ماحول کو منور کر رہے ہیں۔ وہ کالے رنگ کو ایک نئے معنی عطا کر رہے ہیں۔

Read more

کیا آپ کامیاب ادیب بننے کے راز جانتے ہیں؟

ڈاکٹر خالد سہیل صاحب! میں آپ کے کالم بڑی دلچسپی سے پڑھتا ہوں۔ ان سے مجھ پہ نفسیات کے بہت سے در وا ہوتے ہیں۔ آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ آپ نے بہت سے لوگ دیکھے ہوں گے جو کثیرالجہت منصوبے تشکیل تو دے لیتے ہیں۔ مگر ان کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتے۔ مجھے افسوس ہے کہ کبھی تو اس وقت منزل ہاتھ سے نکل جاتی ہے جب دوگام کا سفر باقی نظر آنے لگتا ہے۔

Read more

رچرڈ بیوک اور شعور کا ارتقا

RICHARD BUCKEکا شمار بیسویں صدی کے صف اول کے ماہرین نفسیات و روحانیات ’فلسفیوں اور دانشوروں میں ہوتا ہے۔ انہیں اپنی درویشانہ شخصیت کی وجہ سے اتنی بین الاقوامی شہرت نہیں ملی جس کے وہ مستحق تھے۔ رچرڈ بیوک 1837 میں انگلستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد HORATIO BUCKE پادری تھے۔ انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ انگلستان سے کینیڈا ہجرت کی اور لندن اونٹاریو میں سکونت اختیار کی۔ رچرڈ بیوک نے پہلے اپنے والد کے ساتھ کھیتوں میں

Read more

نعیم چشتی کے ڈاکٹر خالد سہیل سے دس نفسیاتی سوال

چشتی صاحب! آپ کے سوال بظاہر سادہ لیکن در پردہ بہت گمبھیر ہیں۔ ہر سوال کے جواب میں ایک پورا مقالہ لکھا جا سکتا ہے۔ میں ان سوالوں کا اختصار سے جواب دینے کی کوشش کروں گا۔ پہلا سوال : نفسیاتی طور پر صحتمند انسان کیسا ہوتا ہے؟ جواب : آج سے ایک سو سال پہلے کسی نفسیات کے طالب علم نے سگمنڈ فرائڈ سے پوچھا تھا کہ ذہنی صحتمند انسان کی دو نشانیاں بتائیں تو انہوں نے فرمایا تھا

Read more

خدا کا اپنی روح سے مکالمہ

خدا : آخر کار میں اداس ہو گیا ہوں۔ بات دراصل یہ ہے کہ میں ہزاروں برس سے تنہا ہوں اور میں ادیبوں کی یہ بات سننے کو تیار نہیں کہ احساس تنہائی بہت قیمتی چیز ہے کیونکہ میں ادیب نہیں ہوں۔ اب تو وہ مقام آ گیا ہے کہ میں جھوٹ بول کر خود فریبی میں مبتلا بھی نہیں ہو سکتا۔ نہ تو میں مثالی کردار بننا چاہتا ہوں اور نہ ہی اپنی ذات پر لعنت ملامت کرنا چاہتا

Read more

ایک پیشہ ور ہنسنے والا

جب کوئی شخص مجھ سے یہ سوال کرتا ہے کہ آپ کیا کام کرتے ہیں تو میں چند لمحوں کے لیے گھبرا جاتا ہوں۔ میرا چہرہ سرخ ہو جاتا ہے اور زبان میں لکنت پیدا ہو جاتی ہے اگرچہ عام حالات میں مجھے لوگوں سے گفتگو کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی۔ مجھے ان لوگوں پر رشک آتا ہے جو بڑی سادگی سے کہہ سکتے ہیں۔

میں ایک معمار ہوں
میں حجام ہوں
میں کتب فروش ہوں
میں ایک ادیب ہوں
کیونکہ لوگ ان پیشوں سے بخوبی واقف ہیں لیکن میرے جواب کے بعد مجھے اپنے جواب کی تشریح کرنی پڑتی ہے۔

Read more

درویش کی کٹیا اور ایک درویشنی

جب اپنے اور پرائے، دوست اور رشتہ دار، درویش سے پوچھتے ہیں کہ کرونا کی وبا میں اس کا کیا حال ہے تو وہ کہتا ہے کہ درویش اپنی کٹیا میں اکیلا رہتا ہے۔ وہ تنہا ہونے کے باوجود احساس تنہائی کا شکار نہیں ہے۔ وہ اپنا بہت اچھا دوست ہے اس لیے اپنی صحبت سے محظوظ ہوتا ہے۔ وہ پہلے بھی امن اور آشتی سے رہتا تھا اور کرونا وبا کے دوران بھی شانتی اور سکون سے زندگی گزار رہا ہے۔ اسے اب زیادہ یقین ہوتا جا رہا ہے کہ خاموشی، تنہائی اور دانائی پرانی اور پکی سہیلیاں ہیں۔

ایک دوپہر درویش کی کٹیا میں اس سے ملنے ایک درویشنی چلی آئی اور اپنے ساتھ اپنے ہاتھ کا پکا ہوا لذیذ کھانا بھی لائی۔ کھانے کے بعد جب درویش میز سے پلیٹیں اٹھا رہا تھا تو درویشنی نے درویش سے کہا

Read more

عنبرین کوثر اور خالد سہیل کے محبت نامے

میری جان میرے پیارے بھائی جان! آپ ہمیشہ خوش رہیں 25 مارچ 2020 کے انتظار میں ارشاد صاحب، میں اور میری نواسی نیہا، جو اب ہمارے ساتھ ہی رہتی ہے، خوشی سے دیوانے ہو رہے تھے کیونکہ اس دن آپ کو کینیڈا سے پاکستان پہنچنا تھا۔ میں اور نیہا آپ کے لیے آپ کے پسندیدہ کھانوں کی لسٹ بنا رہے تھے۔ چونکہ 24 مارچ کو ہماری بیٹی وردہ کی سالگرہ ہوتی ہے تو ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ

Read more

کیا میاں بیوی طلاق کے بعد بھی دوست رہ سکتے ہیں؟

ڈاکٹر صاحب!
آپ کی تحریر اور اپنے موضوع نفسیات پہ گرفت نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا ہے۔ آپ کا ہر کالم میرے لیے سوچ کے نئے در وا کرتا ہے۔ مجھے خود بھی کافی حد تک انسانی نفسیات اور رویوں کو پڑھنے، سمجھنے اور سلجھانے کی کافی دلچسپی ہے۔ انسانی تعلق جو ایک مرد اور عورت کے درمیان محبت، ریلیشن شپ یا شادی کا ہے ایک ایسا موضوع ہے جو مجھے اپیل کرتا ہے۔ میں جانتی ہوں کہ تعلق بنتے ہوئے کافی وقت لیتا ہے لیکن جب اسے توڑا جاتا ہے تو عموماً ایک تلخی کے ساتھ ختم کیا جاتا ہے جیسے اس میں کبھی محبت اور مٹھاس نہ رہی ہو۔ ایک طرح کی تلخی اور نفرت کے جذبے سے تعلق ختم کیا جاتا ہے۔

Read more