”عجیب عورت ہے یہ، منہ میں زبان ہی نہیں ڈالتی۔ سارا دن بک بک، ساری رات بڑ بڑ، سونے ہی نہیں دیتی کم بخت۔ بولے جاتی ہے بولے جاتی ہے“
”بہن میں نے آپ کو تو کچھ نہیں کہا“ وہ دھیرے سے بولی۔
”تو یہ باتیں سارا دن ہمیں ہی سناتی ہو نا۔ کبھی یہ کبھی وہ، کبھی اس کو بلا دو، کبھی اس کو، کبھی اماں، کبھی ابا، کبھی رضا کے ابا کبھی حسن۔
سمجھتی ہی نہیں ”دوسری عورت چیخ کر بولی۔
”آپا جی آپ کیوں اتنا ناراض ہو رہی ہیں؟“ پہلی عورت نے دھیرے سے کہا۔
”ناراض؟ خبیث عورت، دل کرتا ہے گلا دبا دوں تیرا۔ دن رات تیری بکواس سنو، نہ سونے دیتی ہے، نہ سانس لینے دیتی ہے۔ دن بھر جی جی کرو، رات بھر آنکھ نہ لگاؤ“ دوسری طیش میں تھی۔
”آپا جی آپ سو جایا کریں نا، میں آپ کو تکلیف نہیں دیتی“ پہلی بولی۔
”تکلیف کی بچی، تیری فضول کی بک بک سن کر سر درد ہی نہیں ختم ہوتا، نیند کیا خاک آئے گی“ دوسری بولی۔
”نہیں آپا جی، آپ ناراض نہ ہوں، آپ سو جایا کریں“ پہلی بولی۔
” چپ کرے گی اب یا دوں ایک تھپڑ“ دوسری کا غصہ ٹھنڈا ہونے میں نہیں آتا تھا۔
”نہ کرو خالہ، نہ کرو، بے چاری کو تھپڑ تو نہ مارو“ ایک طرف بیٹھی تیسری عورت بولی۔
” تو چپ کر رضیہ، یہ ایسے نہیں چپ بیٹھے گی جب تک دو تھپڑ نہ رسید کروں اسے“ دوسری نے کہا۔
ٹھاہ، ٹھاہ۔
Read more