کیا ہوتا اگر اس کی جگہ ہم ہوتے؟ کیا ہوتا اگر اس کی جگہ ہماری بیٹی ہوتی؟ کیا ہوتا اگر اس کی جگہ ہماری بہن ہوتی؟ کیا ہوتا اگر یہ ہماری ماں ہوتی اور ہم ان ننھے منوں میں شامل ہوتے جو بے قرار، بے چین اپنی ماں کو ایک شقی القلب شخص سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ان بچوں کا دادا بھی ہے۔ دادا۔ کیسا پیارا لفظ ہے یہ۔ ابا کے ابا! ہم اپنے دادا دادی کو نہ دیکھ سکے، ابھی تک اس حسرت کو دل میں چھپائے بیٹھے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اگر ابا ایسے تھے تو ابا کے ابا کیسے ہوں گے؟
کتنے شفیق، کتنے محبت کرنے والے؟ یہ بد قسمتی ہمارے بچوں کے حصے میں بھی آئی ہے، نہ دادا دیکھنے کو ملے نہ نانا۔ وہ بھی ہمارے جیسے محروم۔ مگر پھر خیال آتا ہے، کیا ہوتا اگر یہ دادا ان بچوں کے دادا جیسے ہوتے جو اپنے ننھے منے ہاتھوں سے اپنے دادا کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ان کی ماں کو لاتیں، تھپڑ مارنے کے ساتھ ساتھ بیلن سے بلا دریغ پیٹ رہا ہے۔ صاحب ہمارے ساتھ ایک مشکل ہے۔ ہم ہر صورت حال میں یا خود کو ڈال دیتے ہیں یا بچوں کو۔
Read more