وجاہت مسعود کی کالم نگاری یا زمین کی رہائی کے لئے دعا

ہماری موجودہ اُردو صحافت کے نقار خانے میں وجاہت مسعود کی آواز صاف اور الگ سنائی دیتی ہے۔ اسی لئے تو یہ ممکن ہے کہ ہم ذرا ٹھہر کر یہ جان سکیں کہ یہ آواز ہم سے کیا کہہ رہی ہے۔ ان کے کالموں کا یہ انتخاب گویا وہ روشنی ہے جو صحافت کے دھندلکوں سے نمودار ہو کر فکری ادب کی دہلیز پر آ بیٹھی ہے۔ ٹیلی ویژن کے ٹاک شو کی مانند، اُردو خبارات کے ادارتی صفحات بھی

Read more

پاکستان کا تابکار عشرہ

ایڈیٹرز: نیلوفر فرخ، امین گل جی، جان میک کیری پبلشر: (اؤ یو پی) آکسفورڈ یونیورسٹی پریس ترجمہ وتبصرہ : مہ ناز رحمن ستر کے عشرہ کی پاکستان کے لئے کیا اہمیت تھی، یہ وہی بتا سکتے ہیں جو تب جوان تھے اور پاکستان کی تقدیر بدلنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ نیلوفر فرخ، امین گل جی، جان میک کیری نے تواس عشرے کی غیر رسمی ثقافتی تاریخ بیان کرنا چاہی تھی لیکن سیاسی تاریخ ثقافت کی چلمن کو ہٹا کر

Read more

فرخ سہیل گوئندی کی کتاب لوگ در لوگ

فرخ سہیل گوئندی کے بارے میں یہ لکھنا آسان ہوگا کہ وہ کیا نہیں ہیں۔ فرخ سہیل گوئندی ایک کٹر سیاسی نظریاتی کارکن، دانشور، مصنف، کالم نگار، شاعر، سیاح، پبلشر اور ایک نظریاتی شخصیت ہیں۔ فرخ سہیل گوئندی کے کان میں سوشلزم کی اذان بھٹو صاحب نے دی اور وہ اس ازان پر لبیک کہتے ہوئے اس دور میں بھی کہ جب سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام کے بطن سے پھوٹنے والی ”جمہوریت“ کے سامنے بہت سے دانشور سرنگوں ہوکر

Read more

تیسری جنس ہونے کی اذیت سہتی ایک ہستی کی کہانی

”شانی بیٹا ماموں کے لئے چوکی رکھ دو۔ “ امی مجھے پکارتیں۔

ماموں نے سفید ململ کا دوپٹہ بڑے سلیقے سے اوڑھا ہوتا اور چھینٹ کے سادہ سے سوتی کپڑے پہنے ہوئے ہوتے۔ مگر ان کے بڑے بڑے پھولوں والے چھینٹ کے کرتے میں ہلتے دو بھاری بھرکم غبارے، میری آنکھوں اور دماغ کا امتحان لینے پر تل جاتے تھے۔ ماموں ہے نہ۔ تو آدمی ہونا چاہیے اورآدمی ہے تو پھر اس کے پاس دودھ کیسے؟ مرے پاس زنانہ چھاتیوں کے لئے ایک ہی لفظ تھا ”دودھ“۔ میرا ننھا ذہن خود سے اُلجھتا رہتا۔ وہ چوکی پہ بیٹھا یا بیٹھی امی سے باتیں کرتا رہتا، ان کی گفتگومیرے پلے نہیں پڑتی تھی۔

Read more

آئنہ نما: دھرتی سے جڑے افسانے

ظفر عمران کا افسانوی مجموعہ ’’آئنہ نما‘‘ موصول ہوا۔ سیل فون ایک طرف رکھا، اور مکمل پڑھ کر ہی سانس لی۔ کہانیاں کیا ہیں، ہمارے اردگرد بکھرے ہوئے کردار ہیں، جن کی معصوم خواہشات ہیں لیکن احساسات اور رویے پیچیدہ ہیں، جو عین انسانی نفسیات ہے۔ ظفر عمران جیسا ادیب ہی ان کو بیان کر سکتا ہے۔

Read more

فرض کرو ابھی اور ہو اتنی آدھی ہم نے چھپائی ہو

ڈاکٹر مجاہد مرزا بیسویں صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائی کے معروف ترقی پسند طالب علم رہنماؤں میں شمار ہوئے۔ ان کی آب بیتی ”پریشاں سا پریشاں“ پر سادہ لفظوں میں ابنِ انشا کے بقول یہی کہا جا سکتا ہے کہ

”فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو۔
فرض کرو ابھی اور ہو اتنی، آدھی ہم نے چھپائی ہو ”

Read more

آئنہ نما: فریب کار بانسری سے عشق ممنوع تک

افسانہ اردو ادب کا ایک خاصہ رہا ہے۔ اپنی بے پناہ مقبولیت کے باعث اردو افسانے ہر زمانے اور عمر میں باعث تکریم ٹھہرا۔ چھہ عشروں کے بعد بھی اشفاق احمد کا گڈریا اور منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ آج بھی اردو ادب کی شان سمجھے جاتے ہیں۔ زمانے میں ہونے والی انقلابی سائنسی تبدیلیوں نے کسی حد تک اردو ادب کی اس صنف کو بھی متاثر کیا اور کافی عرصے سے کوئی معیاری افسانوں کا مجموعہ منظر عام پر نہیں آیا۔ اس خلا کو ہم سب کے جانے پہچانے مصنف ظفر عمران نے ایک دھواں دار انٹری کے ذریعے ”آئنہ نما“ سے پر کیا ہے۔

Read more

پریشاں سا پریشاں ۔ عام آدمی کی خاص کتاب

اب کی بار تو یقین ہو چلا ہے کہ رزق اور موت کی طرح اپنے حصے کے لفظ بھی آپ کو خود ہی ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ تب ہی تو رمضان کے آخری عشرے میں انگلستان میں بیٹھے ہوۓ حسن معراج نے، ماسکو میں رہنے والے ڈاکٹر مجاہد مرزا صاحب کی خود نوشت، ہری پور میں رہنے والے زاہد کاظمی صاحب کے توسط سے بھیجی تو گویا حیرتوں کا ایک جہاں وا ہو گیا۔  اس قدر ضغیم کتاب اگر آپ کو

Read more

مجاہد مرزا: پریشاں سا پریشاں

مجاہد مرزا سے میری گنی چنی ملاقاتیں ہیں، پہلی بار ہم لاہور میں ملے تھے، یہ 2015 کا سال تھا، اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام پاک چین کانفرنس میں شرکت کے لیے لاہور گیا ہوا تھا۔ شام ایک کلب میں آمنا سامنا ہوا اور یہ بھلا آدمی دِل میں سما گیا۔ یوں نہیں ہے کہ مجاہد مرزا کو میں سرے سے جانتا ہی نہیں تھا، جانتا تھا اور جس بے باکی اور معصومیت کو بہم کرکے وہ مختلف موضوعات پر لکھتے رہے ہیں، اخبارات میں اور سوشل میڈیا پر، وہ میری نظر میں تھا۔

Read more

مقامی آدمی کا موقف اور رفعت عباس

کبھی کبھار تاریخ میں بڑے بڑے سپہ سالار گم ہو جاتے ہیں، شکست فاش سے دوچار ہوجاتے ہیں، لیکن کسی طوائف کے گھر کی دیوار پر جلتا ہوا چراغ صدیوں تک روشن رہتا ہے، وہ انکار کی علامت بن کر قائم رہتا ہے اور قومیں اسی طوائف کے انکار پر فخر کرتی رہتی ہیں۔ ایسا ہی ایک کردار ہے رفعت عباس کی شاعری کا، جس کا نام ہے : ”موراں“۔ جب محمد شاہ تغلق نے ملتان کو فتح کیا تو

Read more

ہیکل سلیمانی کی تعمیر، الاقصیٰ کی بربادی اور خفیہ خزانے کی تلاش

سچی بات ہے شدید ڈپریشن والی ملکی صورت حال ہے۔ نہ اخبار پڑھنے پہ دل مائل، نہ ٹی وی دیکھنے پر آنکھیں راضی۔ ایسے میں ایک حیرت انگیز کتاب آپ کے لیے کتنی بڑی نعمت ہے۔ ”دیوار گریہ کے آس پاس“ کیا پڑھی کہ میرے تو چودہ طبق روشن ہوگئے۔ تب سوچا کہ یہ تو ”ہم سب“ قارئین سے شئیر کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلے مختصر سا تعارف پاکستانی ڈاکٹر کاشف مصطفی کا جو اِس وقت دنیا کے بہترین ہارٹ

Read more

عمران کون؟ میرا ہیرو

اگر جنابِ من جہانا (محترم جہانزیب عزیز، مبادا آپ جاناں ملک سمجھ لیں ) نے سال ڈیڑھ سال قبل ابنِ صفی کی عمران سیریز پر کام کرنے کا تذکرہ نہ کیا ہوتا تو 2018 کے الیکشن مہم کی گہماگہمی کے عروج پر ”عمران کون؟ “ کو میں کسی سیاسی تحریر کا عنوان ہی سمجھتا۔

ہم جیسی ستر کی دہائی میں لڑکپن گزارنے والی نسل کا پالا عمران نام کے دو ہیرووں سے پڑا، کھیل کے میدانوں کے رسیا لڑکوں (اور ان سے زیادہ لڑکیوں کا) آیئڈیل یونانی دیومالائی دیوتاؤں کا حسن لئے عمران خان، اور سخن شناسی کے دعویداروں کے لئے ابں ِ صفی کا تراشیدہ چُلبُلا، چالاک، لا ابالی، اور بلا کا ذہین سیکرٹ ایجنٹ عمران۔

Read more

عام آدمی – پریشاں سا پریشاں

میں مجاہد مرزا صاحب سے مل نہیں سکا۔ پار سال، جس روز ہماری ملاقات طے ہوئی، لندن میں فیض میلہ تھا۔ میں پچھلی قطار میں بیٹھا تھا اور مجاہد صاحب، اپنی ہر کہانی کی طرح، اس بار بھی فرنٹ لائین میں تھے۔ میں نے کئی بار کوشش کی کہ انہیں باہر بلا لوں مگر انتظامی امور میں ان کا مرکزی کردار دیکھ کر ایسا نہ کر سکا اور لوٹ آیا۔ اندر خانے ایک خوف یہ بھی تھا کہ اگر ملاقات اچھی نہ رہی تو بالواسطہ پتہ چلنے سے پہلے فیس بک پہ اس کا نتیجہ جلی حروف میں چھپ جائے گا۔

کچھ ہفتے بعد ان کی فوج کی زندگی کے باب چھپنے لگے تو شناسائی کا ایک اور پہلو نکل آیا۔ دس قسطیں جھٹ پٹ گزر گئیں۔ زندگی کے اور ستم جاری تھے کہ اچانک کہیں سے ایک فون آیا اور چند لمحوں بعد مرزا صاحب کی خودنوشت، میرے میل باکس میں موجود تھی۔ مگر یہ سب تو پہاڑی مقام کا راستہ ہے۔ کہ میدانوں سے چلنے والی طویل الجثہ بسوں پہ بیٹھیے، کسی سرد مہر سے راولپنڈی پہنچئے اور وہاں سے کسی نسبتا مختصر ویگن میں بیٹھ کر آہستہ آہستہ شمال کی جانب بڑھ جائیں، چھتر پار کریں تو جہاں پہلی بار ہوا مقطر ملے، وہاں سے پہاڑ کا آنند لینا شروع کیجئے۔ یہ کتاب بھی ایسی ہی ہے۔

Read more

’’منطق الطیر، جدید‘‘ ناول، تاریخ اور عشق

ریل کی پٹڑی پر ہوا ابلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ حرارت کی لہریں تھیں جو کبھی نیچے سے اوپر کو اٹھتی اور کبھی اوپر سے نیچے کی جانب اترتی معلوم ہوتیں۔ گائوں میں چھوٹی چھوٹی نہروں کے کنارے کچے راستے اس موسم میں دھول سے اٹ جاتے ہیں۔ کیکر پیلے پھولوں کی چادر اتار کر پھلیوں کے گہنے کانوں میں آویزاں کر لیتے ہیں۔ ٹاہلیوں کی چھائوں فاختائوں کا ٹھکانہ بنتی ہے۔ گھاس حبس کی باس دیتا ہے اور

Read more

ایک کیلائیڈوسکوپ کی روداد

میں ایک دُم کٹا بندر تھا جس نے ایک متعفن پنجرے میں جنم لیا اور اندھیرے کو اپنی ماں سمجھا۔ مجھے نفرت کی گھٹی پلائی گئی اور میرے کانوں میں جہالت کا سیسہ انڈیلا گیا تاکہ میں گونگا اور بہرا ہوجاؤں۔ میں نے تتلی کے پر نوچے، کتابوں کو پھاڑا اور خوشبو کا بلات کار کیا۔ یقینا میں عمر بھر موت کا بینڈ ماسٹر ہی رہتا مگر ایک نیلی شام سے ذرا پہلے سوال کے ہاتھوں نے مجھے اپنی بانہوں میں جکڑا اور پنجرے سے باہر اُچھال دیا (پاؤں پھسلا تو آسمان میں تھے ) ۔

Read more

پاکستانیوں کے مغالطے

یاسر پیرزادہ ایک معروف دانشور، مصنف، کالم نگار کی حیثیت سے ملک کی سیاسی اور سماجی اشرافیہ میں ایک منفرد نام رکھتے ہیں۔ بنیادی طور پر بیوروکریٹ ہیں مگر لکھنے اور پڑھنے کا جنون رکھتے ہیں او ر اسی جنون کی بنیادپر اپنی تحریریوں کی مدد سے نئی نسل کی علمی و فکری راہنمائی کرنے والوں میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ اپنی تحریروں کا ایک وسیع حلقہ رکھتے ہیں او ران کو پسند کرنے والے او ران پر تنقید کرنے والے بھی موجود ہیں۔

Read more

اپنے سائے کی پہچان – پیرزادہ سلمان کی شاعری کے ساتھ

نظام الدین میں اب تھک گیا ہوں تھک گیا ہوں یہ دیکھو گھر بدلتے، رزق چُنتے، راہ تکتے تھک گیا ہوں چھتوں پر رقص کرتے، آہ بھرتے زیست کرتے تھک چکا ہوں میں اب تھک چکا ہوں تھکتے تو خیر صوفی سنت بھی ہوں گے، اس تماشے کا حصّہ بنے بغیر، شاید اس تماشے کو دیکھتے دیکھتے۔ لیکن پیرزادہ سلمان کی یہ چھوٹی سی کتاب ہمیں نہ تو اپنی تھکن کا قصہ سناتی ہے، نہ اپنے اس نا مبارک زمانے

Read more

بھید بھرے انسانوں کے بھید کھولتا ہوا عاصم بٹ کا ناول

عاصم بٹ کے نئے ناول ’’بھید‘‘ کے مطالعے کے بعد اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اردو ناول رواں صدی میں سرعت کے ساتھ فکشن کی نئی منزلوں کا سراغ پانے کے لیے کوشاں ہے۔ یہ نئی منزلیں ایسی ہیں، جن سے اردو ناول پچھلی صدی کے دوران یکسر نابلد نہیں تو کم از کم ناآشنا ضرور رہا ہے۔ پچھلی صدی کے اردو ناول میں ہیئت یا فارم کو وہ اہمیت بالکل نہ دی گئی جو اس نئی صدی میں منظرِ

Read more

پریشاں سا پریشاں

کوئی ڈیڑھ عشرہ پہلے کی بات ہے کہ میری، مبنی بر تحقیق کتاب ”محبت۔ تصور اور حقیقت“ شائع ہوئی تھی۔ درحقیقت میں نے اس نوع کی تحقیق کو تین حصوں میں منقسم کیا تھا۔ ارادہ تھا کہ اگلی جلد ”مباشرت۔ تعیش اور ضرورت“ اور آخری ”مناکحت۔ تعلق اور کدورت“ ہوگی بلکہ میں نے یہ پہلی ( پھر اس ضمن میں آخری ) کتاب جب اپنے دوست نذیر لغاری کو تحفہ کی اور اس کی کار میں سوار کہیں جاتے ہوئے

Read more

محبت اور جنس کی کشمکش

ایک تخلیق کار جب کسی خیال کے گرد تخلیقی تار وپور بُنتا ہے تو اس کے سامنے اپنا سماج، رواج اور بشری تعلقات اور ان سے وابستہ سوالات ہوتے ہیں۔ روایت اور جدت کے حُسن میں کہانی اپنا سفر طے کرتی ہے۔ میں نے ناول ”زینہ“ کے بارے میں کچھ ایسا ہی محسوس کیا ہے۔مجھے یاد ہے جب میں پہلی بار خالد فتح محمد سے گوجرانوالہ میں ملا اس وقت ان کے پہلے ناولٹ ”خلیج“ کی تقریب پذیرائی تھی۔ جس پر میں نے ایک مضمون پڑھا تھا۔ شاید 10 یا 12 برس پہلے کی بات ہے۔ اب 2019 ء ہے اس دوران خالد فتح محمد کی دوسری تخلیقات منظر عام پر آئی ہیں۔ جو اس بات کا ثبوت کہ وہ تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال قلم کار ہیں۔ اگر ”خلیج“ کی اشاعت کو دیکھا جائے اور ان کے موجودہ ناول کے درمیان گیارہ، بارہ برس ہ کا فرق ہے جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے۔

Read more

ریڈیو پاکستان کا مجلہ آہنگ – نیا شمارہ آ گیا

ریڈیو پاکستان کے تازہ مجلہ ”آہنگ“ میں رمضانُ المبارک کے حوالے سے خصوصی مضامین بڑے اہتمام سے شامل کیے گئے ہیں۔ اسلامی عبادتوں میں صوم یعنی روزہ بڑی اہمیت رکھتا ہے اس حوالے سے ”فلسفۂ صوم“ کے عنوان سے علاّمہ سیّد محمد رضی کے مضمون سے رسالے کا آغاز ہوتا ہے۔ تاریخِ انسانیت اس بات پر گواہ ہے کہ اس عالمِ انسانیت میں بہت سے شب و روز ایسے آتے ہیں جن کے نقش آج بھی تاریخ کے اوراق پر

Read more

حساب جاں: ڈاکٹر شکیل احمد کی سوانح حیات

خود نوشت، سوانح حیات، عمر کا حساب ہوتی ہے۔ بہت کم لوگ اس حساب کا لیکھا جوکھا رکھ پاتے ہیں۔ جو رکھتے ہیں وہ اوروں کے لئے سبق کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ نہ رکھنے والوں کی تعداد بھی بہت ہے۔ یہ دنیا تو ہے وجود سے عدم کی جانب جانے کا نام۔ وہ لوگ یقینا خوش قسمت ہیں جو اس کا لیکھا جوکھا رکھتے ہیں اور اپنی زندگی کی کہانی دوسروں سے ساجھا کرنے کی ہمت جٹا پاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ گاندھی کی طرح حق گوئی و بے باکی کم لوگوں میں ہی پائی جاتی ہے۔ ایسے لوگ نادر ہی ہوتے ہیں، جو اپنی کمیوں اور خامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی نشان دہی بھی کرتے ہیں۔

Read more

لیاقت علی: جھوٹے آدمی کے اعترافات

بعض دوست، مجھے کتب بینی کا قاعدہ سکھاتے ہیں، کہ کتاب کا شروع سے آخر تک، باقاعدہ مطالعہ مفید ہے، لیکن میں اس راسخ العقیدگی کی پیروی کبھی نہیں کر سکی۔ اکثر میرے ساتھ یہی ہوتا ہے کہ کتاب ملی، کہیں سے بھی کھولی اور مطالعہ شروع کردیا۔ یہی سلوک میں نے لیاقت علی کے افسانوی مجموعے ”جھوٹے آدمی کے اعترافات“ کے ساتھ بھی کیا۔ کتاب کھولنے پہ صفحہ 92 کی آٹھویں لائن کے ایک شعر پہ نگاہ ٹھہر گئی:

Read more

تبصرہ کتب ,کتاب۔ پریشاں سا پریشاں

ڈاکٹر مجاہد مرزا ہم سب کے قارئین کے لئے ایک جانا پہچانا نام ہیں۔ اپنی کاٹ دار تحریروں اور متنوع موضوعات کے باعث ممتاز ہیں۔ زیر نظر کتاب ان کی آپ بیتی ہے جس میں انہوں نے جگر کھول کر رکھ دیا ہے۔ جنوبی پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور میں ایک کثیرالعیال گھرانے میں پیدا ہوے۔ چھوٹے ہونے کے باعث قدرے لاڈلے لیکن والد کی عدم توجہی کا شکار ایک حساس بچہ جو کبھی اس ضد پر آ جاتا کہ اللہ میاں کو ”دیکھنا“ ہے تو کبھی کمہاروں کے ساتھ بیٹھا گھنٹوں مٹی کے برتن بنتے دیکھتا ہے۔مطالعے کے رسیا مجاہد نے لڑکپن میں جب علی پور کا ایلی نامی کتاب دیکھی تو بڑے عرصے تک اسے غلط فہمی کا شکار رہا کہ یہ اسی کے شہر کے کسی علی کی داستان ہے۔ والد جنگلی لکڑی کا کام کرتے تھے اور شہر کے متمول افراد میں شمار ہوتے تھے۔ ایک کاروباری دھوکے سے ان کی مالی حالت خراب ہو گئی جس سے ننھے مجاہد کو زندگی کی تلخ حقیقتوں کا کم عمری میں ہی ادراک ہونا شروع ہو گیا۔ مجاہد ویسے بھی بہت حساس اور زودرنج طبیعت کے مالک تھے۔

Read more

فیصل کی کتاب "نازک جذبات”۔

فیصل سے میری ملاقات ایکسپو سنٹر کے انٹرنیشنل بُک فیئر میں ہوئی۔ فیصل نے اپنا تعارف کروایا۔ فیصل سے مل کر معلوم ہوا کہ یہ ایک نہایت سادہ دل اور پرخلوص شخصیت کا مالک ہے۔ یہ ایک مصنف، رائٹر اور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ صحافی بھی ہے۔ ان کو دیکھ کر بالکل نہیں لگا کہ یہ نوجوان لڑکا کم عمری میں لکھاری بھی بن سکتا ہے۔ فیصل نے میری لکھی گئی کتاب خریدی اور پھر اس کے بعد ہماری ملاقات نہ ہو سکی۔ کچھ دن قبل مجھے اس نوجوان نے ایک کتاب ڈاک کے ذریعے بھیجی۔

Read more

NO FORTUNES TO TELL: حارث خلیق کی انگریزی شاعری کا نیا مجموعہ

وہ بالادست ریاست جس کی پیش گوئی پچھلی صدی میں جارج آر ویل نے کی تھی اب ہمارے سر پر مسلّط ہے اور یہ ریاستی جبر صرف پاکستان میں ہی نہیں بل کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں واضح ہے جہاں لوگوں پر مکمل قابو پانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ان نامساعد حالات میں فن و ثقافت، شاعری اور موسیقی سب استبداد کی زد میں ہیں اور تنگ نظر قوم پرستی، جنگ جوئی اور تشدد کی بھرمار ہے۔ ایسے

Read more

انسان ناقابلِ شکست ہے

ہم شاعر علی سردار جعفری کی تعظیم و تکریم کرتے رہے، انھیں داد دیتے رہے۔ ان کی شخصیت ہشت پہلو تھی۔ وہ نثر کے بھی بادشاہ تھے۔ جس کا ہمارے یہاں کم لوگوں کو علم ہے۔ چند دنوں پہلے اسلام آباد سے دانشور اور پنجابی کے ادیب احمد سلیم کا فون آیا کہنے لگے ’’ ڈاکٹر کہکشاں عرفان کی کتاب ’’علی سردار جعفری: بحیثیت نثر نگار‘‘ بھجو ا رہا ہوں۔ ذرا دیکھ لیجیے گا۔‘‘ میری زبان سے بے اختیار نکلا

Read more

چار درویش اور ایک کچھوا

لڑکا کتابوں کی دکان میں داخل ہوا اور دکاندار سے کہنے لگا، کھچوے پر کوئی کتاب موجود ہے؟ دوکاندار نے نیچے کیبن میں کئی کتابیں کھنگالنے کے بعد سر اٹھا کر پوچھا، ”ہارڈ بیک آر پیپر بیک“؟ لڑکے نے سمجھتے نہ سمجھتے ہوئے جواب دیا، ”آف کورس ہارڈ بیک ود فور کیوٹ لٹل لیگز“۔ اس کو مطلوبہ کتاب مہیا کی گئی تو میری باری آئی۔ عرض کیا حضور مجھے بھی وہ کھچوے والی کتاب دیجیے۔ دکاندار نے شرارتاَ مسکرا کو

Read more

سندھی ادب کے افق کا قطب تارہ۔ منظر جو رہ گیا

یہ اس دور کی بات ہے جب ہم بچے ہوا کرتے تھے۔ غالبن ٹین ایج کے ایام تھے۔ ہمارے گھر میں ادبی کتب آتی بھی تھیں اور چھوٹے بڑے سب بڑے شوق و ادراک کے ساتھ انھیں پڑھتے بھی تھے۔ میں چونکہ سب بھائی بہنوں میں چھوٹی تھی تو آنکھیں پھاڑ کے ان کی باتیں سنتی ہی رہتی تھی اور کوشش کرتی تھی کہ وہ جو کتابیں پڑھتے ہیں وہ میں بھی پڑھوں اور پھر ان کے ساتھ اپنی ماھرانہ رائے کا اظھار بھی کروں۔ بس اسی لگن میں کافی کتابیں پڑھ ڈالیں۔

Read more

”سُرمئی نیند کی بازگشت” میں خواب کی چاپ

”سُرمئی نیند کی بازگشت” میں جیسے خوابوں کی چاپ سے منسلک تاریخ مرتب کی جا رہی ہو، پیش منظر کا نوحہ کہتی نطمیں پچھوکڑ کا عکس بنتی کوئی تبدیلی دکھاتی آہ و زاری کرتی گلی گلی نظر آتی ہیں۔ شاعر (نصیر احمد ناصر) نے کچھ نظمیں دوستوں کے نام کر کے انہیں بھی اپنی شاعری کے قبیلے میں اور قریب کرنے کی ترکیب سوچی ہے۔ یہ ایک خوبصورت قدم ہے کہ ”آ ملے ہیں سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک”۔

Read more

کئی چاند تھے سر آسمان از شمس الرحمن فاروقی

اردو ادب کا دامن ناول نگاری کے حوالے سےزیادہ زرخیز نہیں ہے، جتنے بہترین ناول لکھے گئے ہیں وہ سب انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ اگر اردو کے بہترین ناولوں کی فہرست مرتب کی جائے اس میں شمس الرحمن فاروقی کا ”کئی چاند تھے سر آسمان“ یقیناً پہلے دس ناولوں میں شمار ہو گا۔ اس ناول کا عنوان احمد مشتاق کے شعر سے ماخوذ کیا گیا ہے ؛

Read more

بیٹی کی "قندیل”۔۔۔ گویا دبستاں کھل گیا

ایسی باتیں اچانک ہوتی ہیں۔ جیسے کوئی قندیل آنکھوں کے سامنے جل اٹھے۔ اور اس کے پیچھے پیچھے ایک نئی دنیا کے نظارے۔ یوں ہوا کہ برق سی لہرائی، پھر ہزاروں صفحے ہوا کے ساتھ اُڑنے لگے۔ کتابوں کی جلد کھُل گئی اور وہ ترتیب سے لگے کتب خانوں کی الماریوں سے باہر نکل کر سامنے آنے لگیں، اندھیروں میں اُترنے لگیں۔ میں مبہوت ہوکر دیکھ رہا تھا۔ یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟ اس تلاطم کے پیچھے شاید کچھ بھی نہیں، ایک

Read more

”ٹوٹی ہوئی سڑک“ کا آدمی

جمیل اختر کی ”ٹوٹٰی ہوئی سڑک“ پڑھ کر احساسِ قوی ہوا کہ انہیں اس معاشرتی، اخلاقی اور نفسیاتی سڑک کی مرمت کی فکرمجھ ایسوں سے زیادہ ہے، جسے وہ افسانہ در افسانہ مرمت کرنے کا مصمم ارادہ کیے ہوئے ہے۔ بہت کچھ ہے جسے اُس نے افسانوں میں کہہ کر اپنے لئے ایک مناسب راہ چن لی اور بہت کچھ ہے جو ان افسانوں کو پڑھنے والا کہنا چاہے گا۔ پہلی کاوش پہلے تاثر سا اثر رکھتی ہے جسے کسی

Read more

”گرد کا طوفان“: نئے سانچوں میں ڈھلنے کو تلملاتی زندگی

شہر قائد پچھلی دو تین دہائیوں میں جن وحشتوں کی لپیٹ میں رہا، ہماری سوسائٹی جن دکھوں، اندیشوں اور المیوں کا شکار رہی، گرد کے طوفان میں کس طرح گِھری رہی اور اہلِ کراچی جن پتھر بھرے راستوں پر چلتے رہے، زندگی بسر کرتے رہے، وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ اقبال خورشید کا ناولٹ ”گرد کا طوفان“ اسی تناظر میں تحریر کیا گیا ہے۔ اس کا قصہ دو ایسے نوجوان دوستوں کے گِرد گھومتا ہے جو غربت اور بے روزگاری

Read more

ہم نفسوں کی بزم میں

شمیم حنفی سے کون واقف نہیں ہے۔ ہمسایہ ملک کی تہذیبی زندگی کا تصور جن شخصیات کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، شمیم حنفی ان میں سے ایک ہیں۔ نقاد، خاکہ نگار، ڈراما نویس، کالم نگار، مترجم، مرتب، ان کی شخصیت کے خاص گوشے ہیں۔ بیسویں صدی کی ادبی حیثیت کی تفہیم اور تاریخ، تہذیب اور تخلیقی تجربے کی مباد یات کو شمیم حنفی کی تحریرں کو پڑھے بغیر سمجھا نہیں جا سکتا۔ ” ہم نفسوں کی بزم میں“

Read more

ڈاکٹر رفیع مصطفیٰ کے ناول اے تحیّر عشق کا ایک جائزہ

مقصد اس تعارف کا یہ بتانا ہے کہ یہ ناول کس مزاج کی کتاب ہے۔ اس میں کیا کچھ ہے بلکہ یہ بھی کہ کیا کچھ نہیں ہے اور یہ جاننے کے بعد اگر یہ کتاب آپ کے ذوق پر پوری اترے تو خریدیں، پڑھیں اور محظوظ ہوں ورنہ مصنف کو داد ضرور دیں کہ اس زمانے میں جس میں توجہ کا دورانیہ گھٹ کر منٹوں میں ناپا جانے لگا ہے انہوں نے نہ صرف ناول جیسا ضخیم ادب تخلیق

Read more

شہاب نامہ سے گیم چینجر تک

سیاسی موضوعات پر لکھنا اور لکھتے چلے جانا، خاصا بیزارکن کم ہے۔ ہماری سیاست ہے کہ کولہو کے بیل کی طرح ایک مدار میں گھومتی چلی جاتی ہے۔ وہی الزام تراشیاں، وہی دعوے، آپ کسی حکومتی رکن کے چند سال پرانے بیان اٹھائیں اور ان کے آخر میں ن لیگ کے کسی رکن کا نام لگا دیں، آپ کو تازہ خبر لگنے لگے گی۔ جیسے خان صاحب کے پٹرول کی قیمتوں پر دیے گئے بیان، بیرونی قرضوں کے حوالے سے

Read more

تقریب رونمائی مزاح کبیرہ کا آنکھوں دیکھا حال۔

محکمہ پولیس کے بارے ایک بڑا غلط تاثر قائم ہے کہ اس محکمہ کے ساتھ جڑے ہوئے افسران بیمار اجسام کے ساتھ ساتھ بیمار اذہان کے مالک ہوتے ہیں جن کی ذاتی زندگی پریشانیوں میں گھری ہوئی ہوتی ہے۔ شاید محکمہ پولیس میں ہماری پیدائش سے پہلے ایسے لوگ لازمی پائے جاتے ہوں گے لیکن اب محکمہ پولیس کا ہر افسر اس کوشش میں ہے کہ اس جماعت پولیس کو معاشرے کے سامنے حقیقی معنوں میں انسان دوست جماعت کے

Read more

ناصر محمود ملک کا مزاحِ کبیرہ

مزاحیہ مضمون نگاری ادبی صنف ہے، اس صنف پر طبع آزمائی وہی کرتے ہیں، جوزبان و بیان پر عبور رکھتے ہوئے حسِ مزاح سے آشنا بھی ہوں۔ مزاحیہ مضمون نگاری کوئی سہل نہیں، جیسا کہ بچوں کے لیے لکھنا کوئی بچوں کا کام نہیں، اسی طرح مزاح لکھنا ہر لکھاری کا کام نہیں، یہ کارنامہ وہی تخلیق کار ہی انجام دے سکتا ہے جو عام واقعے کو مزاحیہ پیرایے میں شگفتگی سے قلمبند کر سکے۔ مزاحیہ مضمون نگاری اور پھکڑ پن میں

Read more

مسئلہ سمت ہے، رفتار نہیں ہے مرے دوست

کشمیر میں ادب کا باب نیل مت پران سے ستی سر کی اساطیری روایت سے کھلتا ہے۔ ادب کو اساطیر سے نکالنے کے پہلی کاوش ایک کشمیری شاعر دامودر گپت نے آٹھویں صدی میں ”نٹنی مَتَم“ سے کی۔ مغل دور میں کشمیرنے تہذیبی عروج کو جا لیا۔ کشمیر کو پرشکوہ بنانے میں ایک مغل گورنر ظفر خان احسن پیش پیش تھا۔ اس نے کشمیر کو چنپا، گلاب، چیری کے ساتھ ساتھ مشاعرے سے متعارف کرایا۔ اس نے ہم عصروں کا

Read more

رفیع مصطفیٰ کے ناول۔ اے تحیرِ عشق۔ کے رومانوی کرداروں کی بزدل شرافت

میرے ایک ادیب دوست کا فون آیا۔ پوچھنے لگے ’کیا آپ رفیع مصطفیٰ کو جانتے ہیں۔ ’جی ہاں۔ جانتا ہوں۔ کئی دفعہ مل بھی چکا ہوں‘ ’ آپ کی ان سے کس قسم کی دوستی ہے؟ ‘ ’ایسی ہی دوستی جیسی ایک نیک و پارسا انسان کی ایک عاصی و پاپی سے ہو سکتی ہے۔ وہ پارسا ہیں میں پاپی IT IS A FRIENDSHIP OF A SAINT AND A SINNER ’آپ کا ان کے ناول‘ اے تحیرِ عشق ’کے بارے

Read more

کتابوں کی باتیں

کہتے ہیں کہ تناور پیڑ کے نیچے اگنے والے پودے پنپ نہیں سکتے مگر شائستہ سعیدنے جناتی دانشوروں، فلسفیوں، ادیبوں اور شاعروں کے گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنی شخصیت کو منوایا ہے۔ وہ سید محمد تقی کی بیٹی اور رئیس امروہوی اور جون ایلیا کی بھتیجی ہیں۔ خاندان سے متعلق وہ پہلے بھی ایک کتاب ”دو نسلوں کی مائیں“ لکھ چکی ہیں۔ زیر نظر کتاب ”پاکستانی خاندان اور عورت۔ پرورش، پابندی، خود مختاری“ کا دیباچہ ڈاکٹر محمد علی صدیقی نے لکھا ہے۔

Read more

 حسین محمد جعفری: ابتدائی اسلام کے اسکالر

اسکردو میں کتابوں کی زیادہ دکانیں نہیں ہیں۔ لیکن جب بھی وہاں جاتا ہوں میرے دوست عزیز علی داد مجھے سودے بکس ضرور لے جاتے ہیں۔ جہاں آپ کو گلگت بلتستان کی تاریخ سے لے کر اس خطے کی نسلی اور مذہبی رنگا رنگی تک بے شمارموضوعات پر کتابیں مل جاتی ہیں۔  اسی طرح اپنے ایک سفر کے دوران مجھے اردو میں ایک کتاب نظر آئی جس کا عنوان تھا ”تاریخ تشّیع“ معلوم ہوا کہ یہ کتاب سید حسین محمد

Read more

اک ٹکڑا دھوپ کا اور دوسری کہانیاں

”اک ٹکڑا دھوپ کا اور دوسری کہانیاں“ اسد محمد خاں صاحب کی کہانیوں کا نیا مجموعہ ہے جسے ریڈنگز لاہور کے اشاعتی ادارے ”القا“ پبلی کیشنز نے چھاپا ہے۔ اس سے پہلے اسد صاحب کی پانچ کہانیوں کی کتابوں پر مشتمل مجموعہ ”جو کہانیاں لکھیں“ کے نام سے اکادمی بازیافت، کراچی کی طرف سے 2006ءمیں چھپ چکا ہے۔ کہانیوں کی ان پانچ کتابوں کے نام درج ذیل ہیں:”کھڑکی بھر آسمان“، ”بُرجِ خموشاں“، ”غصے کی نئی فصل“، ”نربدا“اور ”ٹکڑوں میں کہی

Read more

ہاروکی موراکامی کا ناول ’کافکا آن دی شور‘

’کبھی کبھی قسمت ایک ریتیلے طوفان کی طرح اپنی سمتیں بدلتے ہوئے مستقل آپ کاتعاقب کرتی رہتی ہے۔ تب آپ کے لئے بہتر یہی ہے کہ آپ خود کو اس طوفان کے حوالے کر دیں۔ طوفان کے ختم ہونے پر آپ وہ نہیں رہتے جو آپ طوفان سے پہلے تھے‘ ۔

جاپانی مصنّف ہاروکی موراکامی کے قلم سے تحریر شدہ ناول ’کافکا آن دی شور‘ میں دو کہانیاں ساتھ ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔ ایک کہانی پندرہ سالہ لڑکے کی ہے جس کا والد پیشنگوئی کرتا ہے کہ پندرہ سال کی عمر میں وہ اپنے والد کا قتل کر کے اپنی ماں اور بہن سے ہم بستری کرے گا۔ اپنے والد کی ایک سیاہ پیشنگوئی سے بچنے کے لئے وہ اپنی پندرہویں سالگرہ پرگھر سے بھاگ کر پہچان چھپانے کی خاطر کافکا نام اختیار کرتا ہے۔

Read more

ایک مکمل نامکمل ناول – سندھی ناول موہن جودڑو کے اردو ترجمے پر تبصرہ

مجھے ہمیشہ اچھا لگتا تھا کہ دنیا بھر کے بڑے ناول، کہانیاں اردو میں ترجمہ ہوکر مجھے ملتی تھیں کہ میں بغیر کسی دوسری زبان کی دیوارپھلانگے دھم سے اس دنیا میں کود جاتی تھی، ان کرداروں کے ساتھ ان کے تہواروں میں شریک ہوتی، کبھی گرجا گھروں میں تو کبھی معبدوں میں، کبھی لاطینی امریکہ کی فضا میں سانس لیتی تو کبھی روس کی سخت سردی میں ان کرداروں کے ساتھ سماوار سے قہوہ پیتی اور باہر نکلتے ہوئے اپنے اور گھوڑے بان کے منہ سے نکلتی بھاپ والے منظرکا کراچی کی ہلکی پھلکی سردی میں لطف اٹھاتی۔

Read more

مابین: ضیا حسین ضیا کا ناول

اس خاک بہ سر، ایک عجیب شخص کا ماجرا جو بہت ”خاص“ ہونے کے باوجود خود کو ”عام“ کہنے پر مصر تھا۔ جسے کائنات کے ذرّے ذرّے نے اپنے ہر نقش میں یوں ضم کر لیا تھا کہ وہ خود ہی زمان ومکان ہو گیا، لا متناہی اور بے حساب ہو گیا۔ کرۂ ارض پہ تھا تو تصویرِ ازل رہا اور جب بالا نشین ہوا تو تصورِ ابد کا نقشِ اول ٹھہرا۔ عقل ووجدان کی ہم رکابی شیوۂ ذات ہوئی تو کلامِ قدرت سے لے کر ذوقِ تسکینِ قدرت کا رقیب بن بیٹھا۔ خود سے کیا ڈرتا کہ زمین کی مٹی اور خاک سے عشق کرتا کرتا آسماں ہو چکا تھا اور پھر اس کے جذب وکشف نے کیف سرور کے ہر جذبے کی سمفنی سے ساتھ عشق و مستی کی ایسی دھمال ڈالی کہ ارض وسما کے مفہوم ہی بدل ڈالے اور سماں کچھ یوں بدلا کہ اِک نقش ادنی، نقش گرازل کی سلطنتِ ہمہ گیر کے نقوشِ دل پذیر کی ماہیت وہیت پر خندہ زن ہو بیٹھا۔ جسے اِذنِ معرفت بھی ہوا تو یوں کہ گکہ گریہ شبِ تار ہوا اور سوچیں پر توِ ُخر۔

Read more

گمشدہ چیزوں کے درمیان

’’گمشدہ چیزوں کے درمیان‘‘ محمد سلیم الرحمٰن کے عالمی ادب سے انتخاب کردہ افسانوں کا مجموعہ ہے جو تراجم کی صورت میں ’’آج کی کتابیں‘‘ کے زیرِ اہتمام کراچی سے چھپا ہے۔ ترجمہ کسی بھی زبان و ادب کی ثروت مندی میں فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کا اندازہ آپ اُس زبان میں کیے جانے والے تراجم کی اہمیت اور کیفیت سے لگا سکتے ہیں۔ اس خیال کا اطلاق اردو زبان میں کیے جانے والے تراجم پر کیا

Read more

”جوٹھن“ اور دلت ڈسکورس

مابعد نوآبادیات کے ہندوستانی ڈسکورس میں ”دلت“ کی اصطلاح ایک خاص اہمیت کی حامل ہے۔ دلت قدیم نوآبادیاتی، استحصالی و استعماری طاقتوں، برہمن واد اور مذہبی قوتوں کے خلاف ایک مضبوط مزاحمت کا نام ہے، جو زمین ذادوں کی طرف سے حملہ آوروں استحصالی و استعماری اور مذہبی قوتوں کے خلاف ایک مضبوط آواز کے طور پر سامنے آئی ہے۔دلت ایک پہچان کا نام ہے، جو ظلم اور برہمن واد کے خلاف کھلی بغاوت ہے۔ دلت کے معنی مظلوم کے ہیں، یہ نام ہندوستان کے اس مظلوم، ذات پات اور طبقاتی تفریق کے نظام میں جکڑے اور استحصالی طبقے کی چیرا دستیوں میں پسے اس مظلوم طبقے نے اپنے لیے خود چناہے۔ اس نام کو اعلٰی ہندو طبقوں نے اپنی ذات اور ناموس پر حملہ قرادیا ہے، ہندوستان کے آئین میں ان کے لیے ”شیڈولڈ کاسٹ“ کا نام چنا گیاہے اور اسی کو استعمال کرنے کی سختی سے تاکید کی گئی ہے۔

Read more

نثری نظم اور کتاب ”ایسا ضروری تو نہیں“

اگر میں بات یہیں سے شروع کرلوں کہ ہر شخص شعر کہے ایسا ضروری تو نہیں، تو یہ ایک جملۂ معترضہ ہوگا مگر ایسا کہنا ضروری ہے کیونکہ اگر آپ کے پاس کچھ کہنے کو نہیں تو کس حکیم نے کہا ہے کہ درخت کٹوا کر کاغذ ضائع کریں۔ لیکن یہ اشد ضروری ہے کہ آپ شعرکہیں، نثر لکھیں یا کسی اور طرح اظہار کریں جب آپ کے پاس اظہار کرنے کو کچھ ہو۔ روبینہ فیصل کی کتاب ”ایسا ضروری تو نہیں“ پڑھ کر اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ ہے اور یہی اس کے شاعرانہ رخ کا جواز بھی ہے اور خصوصیت بھی۔

Read more

جلتی ہوا کا گیت

سچ تو ہے کہ میرے لیے یہ کہنا نہایت مشکل ہے کہ اعلیٰ شاعری، آفاقی شاعری اور عالمگیریت کی وسعت کہاں تک ہے؟ لان جینس جسے Sublimityکہتا ہے اس کی وصف کیا ہے؟ اور کیسی شاعری زندہ رہے گی یا کس شاعری کو آنے والا زمانہ دریافت کرے گا یا کون سی شاعری ہماری نسل کے ہاتھوں بے اعتنائی کا عذاب سہہ رہی ہے۔ مگر ایسا ضرور ہے کہ آج جب کہ بعض اوقات ایک نشست میں شاعر کی پوری کتاب ختم کر کے قاری ہاتھ جھاڑ کر بے زاری سے کھڑا ہو جاتا ہے وہاں اگر کوئی شعر، کوئی مصرعہ، کوئی اچھوتی بات چونکا دے تو شاید یہی اچھی شاعری ہے، جو Elevateیا Upliftکرے، جسے آپ لمحوں میں نہ گزار لیں بلکہ اس کے ساتھ بار بار جینا چاہیں، اسے زندگی کے کئی رنگوں، حادثوں اور گزرگاہوں میں شامل سمجھیں۔

Read more

اورحان پاموک کی دی ریڈ ہیرڈ وومن

تاریخ کے گرد گھما پھرا کر داستان کہنا یا پھر کسی گھمبیر کلاسک تھیم کو لے کر اس کے گرد ایک نئی کہانی بننا نئے زمانے میں اپنی جڑیں گہری کرتا جا رہا ہے پھر چاہے ایلف شفق کی فورٹی رولز آف لو ہو یا اورحان پاموک کی ریڈ ہیرڈ ویمن۔ اورحان پاموک نے بھی اپنے اس نئے ناول میں اسی فارمولے کو اپنایا ہے اور دو مشہور زمانہ کلاسک ایڈیپس ریکس اور شہنشاہ نامہ میں رستم و سہراب کی حکایت پر پرکار کا سرا رکھ کر دوسرے سرے سے اس کے گرد دائرہ بنا ڈالا ہے۔ایک انتہائی عام سے ینگ نوجوان سیم کی کہانی جس کے شعور سنبھلتے ہی اس کے کندھے پر زندگی کی ذمہ داریاں اپنا بوجھ ڈالنے لگیں اور اسے اپنے خوابوں کی تعبیر کے لئے ایک کنویں کھودنے والے محمد کے ساتھ مزدوری کرنی پڑی تا کہ وہ اپنی پڑھائی کے لئے مطلوبہ رقم حاصل کر سکے۔

Read more

کہاں سے لاؤں انھیں

اردو ادب میں، عام طور پر یادنگاری کے دو طریقے رائج ہیں۔ ایک انداز سوانح عمری لکھنے کا ہے جب کہ دوسری طرز خاکہ نگاری کی ہے۔ دونوں عوامل میں تحدید اور اختیار کے اپنے اپنے ضابطے ہیں۔ ان آسائشات اور مشکلات کے اعتبار سے سوانح نویسی اور خاکہ نگاری کا مطالعہ کیا جائے تو خاکہ لکھنا، سوانح عمری لکھنے سے زیادہ مشکل کام ہے۔ سوانح عمری لکھنے میں ایک سہولت لکھنے والے کے پاس ہوتی ہے کہ وہ جس

Read more

اکبر سومر و کے ناول ’کھماچ‘ پر تبصرہ

ایک فلیٹ میں ہم جنس پرست اُنس رہتا ہے جس کی دوست مونا ہے۔ اُنس کے ساتھ کچھ ماہ گزارنے کے بعد مونا اس کی غیر سنجیدہ روّیے اور اُنس کے بوائے فرینڈ شہاب پوپی کے ساتھ اس کی اٹیچمینٹ سے بیزار ہوجاتی ہے۔ اسے اُنس کے ساتھ اپنی زندگی بے معنی لگنے لگتی ہے۔ کچھ روز بعد اُنس اپنے آپ کو شدید تنہائی کا شکار پاتا ہے۔ وہ مونا سے جھگڑا کر کے مونا کو گھر سے نکال دیتا ہے۔

آگے چل کر مونا عماد کی قربت بھی حاصل کرتی ہے۔ خاندان اور عزّت کے نام پر بلیک میل کر کے زارا کی منگنی زبردستی اس کے اَن پڑھ کزن سے کر دی جاتی ہے۔ منگنی کے دوسرے روز زار ا زہر کھا کر خود کشی کر لیتی ہے جس سے عماد کو شدید صدمہ پہنچتا ہے۔ زارا کی موت کے لئے عماد اپنے آپ کو بھی ذمیدار سمجھتا ہے۔ زارا کی یادوں سے چھٹکارا پانے کے لئے عماد ربیعہ سے تولقات استوار کر لیتا ہے۔ جب رومیسا کو عماد کے ربیعہ کے ساتھ بھی تعلقات کا پتہ چلتا ہے تو وہ پہلے کی طرح عماد کو محبتوں کے سیراب میں چھوڑ دیتی ہے۔

Read more

”ہیولا“ کا افسانہ نگار

”اِک چپ، سو دکھ“ کے افسانوں کو پڑھ کر پہلی خوشی یہ ملی کہ سردرد نہیں ہوا۔ اردو کے کچھ نہایت جدیدیئے افسانہ نگاروں کا یہ چلن عام ہے کہ وہ حتی المقدور کوشش کرتے ہیں کہ قاری کو افسانہ سمجھ نہ آئے، اُس کے دماغ کا دہی بن جائے، وہ سر پر اپنی اماں یا بیگم کا ڈوپٹہ باندھ، صبح شام پیراسیٹامول کی گولیاں نگلتا رہے لیکن ”عظیم ترین علامتی افسانے“ کی کہانی پن (اگر موجود ہو؟ ) تک

Read more

تم نے ایسا کیوں کیا عالمگیر؟

پہلی ہی سطر میں مجھے کہہ لینے دیجیے کہ حالیہ عرصے میں شائع ہونے والے ناولوں میں سید کاشف رضا کا ناول ”چار درویش اور ایک کچھوا“ دل کو چھو کے نکل گیا۔ اس کی سطریں مجھے ازبر ہوگئیں اور اس کے اشارے مجھ پر بیت گئے۔

کالام سے آگے گھبرال نام کا یک گاؤں آتا ہے۔ بلند پہاڑوں میں گھرا ایک گاؤں جس کے گھر شیشم کی لکڑیوں کے بنے ہیں۔ کبھی یہاں مندروں میں گھنٹیاں بجتی تھیں اب میناروں سے حی علی الفلاح کی بزرگ صدائیں آتی ہیں۔ میناروں کے اس پار چترال کے پہاڑ دکھتے ہیں جو اکثر برف کی سفید چادر اوڑھے رہتے ہیں۔ اس گاؤں سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر ایک مقام شاہی باغ ہے۔ یہ قدرتی طور پر بنا زمین کا ایک وسیع ٹکڑا ہے جس کے اطراف میں پانی ایک گولائی میں بہتا ہے۔

باغ کے بیچ میں جس رخ بھی بیٹھ جائیں آپ کو بل کھاتی ہوئی کوئی آبشار نظرآئے گی۔ ہلکی سی خنکی میں کسی بھی ایک آبشار کو دیر تک دیکھیے۔ آپ محو ہوجائیں گے۔ گم ہوجائیں گے۔ بہتے پانی کی نغمگیں دل کی دھڑکوں میں بندھ کردماغ کو اپنے سحر میں لے لے گی۔ اور اس کے بہاؤ میں خود کو بہتا ہوا محسوس کریں گے۔ ایک سرد آہ بھر کر جب آپ واپس اپنے منظر میں آجائیں گے تو محسوس کریں گے کہ ہلکی ہلکی پھوار میں آپ کا بدن بھیگ چکا ہے اور سردی کا احساس بڑھتا جارہا ہے، مگر آپ یہاں سے جانا نہیں چاہتے۔ آپ پوچھیں گے، یہ سب کیا ہے۔ میں کہوں گا، سید کاشف رضا کی نثر ہے!

Read more

” گل مینہ“ از زیف سید

فروری کے دوسرے ہفتے کی بات ہے۔ حسبِ عادت سابقہ میں نے فروری میں کراچی سے کتابیں منگوائیں۔ سٹی بک پوائنٹ کے محمد اسد نے نئی کتابوں کی فہرست بھیجی۔ میں نے ان میں سے چند منتخب کر کے بھیجنے کی درخواست کی۔ محمد اسد کا پیغام آیا کہ بھائی جان آپ نے ایک ناول، جوکہ میں نے آپ کی طبیعت کے عین مطابق ہے بھیجا، مگر آپ نے وہ نہ بھیجنے کا کہا ہے۔ میری تجویز ہے کہ آپ وہ ناول پڑھیں۔کتابیں آگئیں اور میں دوسری کتابوں کا مطالعہ کرنے میں مصروف ہو گیا۔ میرے ناقص علم میں زیف سید کا نام نہیں تھا۔ اس وجہ سے شاید ان کے نئے آنے والے ناول ”گل مینہ“ کو نہ بھجنے کا کہہ بیٹھا۔ مجھے اندازہ نہ تھا کہ آج کے عہد میں اتنا شاندار فن پارہ تخلیق ہو سکتا ہے۔

Read more

کیا یہ بدن میرا تھا

میری ڈھیر ساری کتابوں کے اندر سے جھانکتی ایک کتاب دیگر کتابوں سے علحدہ اپنی دنیا میں مگن تھی کہ ایک روز اپنی تمام تر مصروفیات بالاطاق رکھ کر میں نے اس کتاب کو کھوجنے کا ارادہ کیا۔ کتاب کا عنوان کتاب کا تعارف تھا اور پھر سرورق سے بھی اندازہ ہو گیا کہ روایتی افسانوں سے ہٹ کر اس مجموعے میں کچھ مختلف پڑھنے کو ملے گا۔ کیا یہ بدن میرا تھا صبا ممتاز کے افسانوں پر مشتمل ایک گلدستہ پے۔ جسے پڑھنے کے بعد اندازہ ہو جاتا ہے کہ مصنفہ کا ادبی قد کاٹھ خاصا بلند ہے۔

Read more

قرآنی انسائیکلو پیڈیا: ایک جائزہ

علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کا مجموعہ مضامین قرآن ”قرآنی انسائیکلو پیڈیا“ شائع ہوا تو بارسلونا سپین میں مقیم منہاج القرآن کے راہنما اسد اقبال قادری نے یہ تحفہ مجھے بھجوایا۔ میں اس بابرکت تحفہ پر ان کا شکر گذار ہوں۔ میرا یقین ہے کہ قرآن حکیم انسانوں کے لیے خدا کی ابدی راہنمائی اور تعارفِ خدا ہونے کے ساتھ انسانیت کا دستورِ حیات اور قانونِ فطرت ہے۔ آیات قرآنی کا اعجاز ہے کہ ان میں باربار تفکر و تدبر نئے نئے معنی و مفاہیم سامنے لے کر آتاہے۔

قرآن حکیم نے ہر دور میں لوگوں کے بند ذہنوں کو کھولا ہے۔ قرآن نے تقلید ی فکر کی بجائے اجتہادی فکر پیدا کی ہے۔ آج بھی عالمی فکر ی تحریک پر قرآن کی گہری چھاپ ہے۔ حقیقت میں قرآن کو شامل کیے بغیر انسانیت کے فکری سفر اور اس کے ارتقاء کی تاریخ کو سمجھا نہیں جا سکتا۔ اس ضمن میں علامہ طاہر القادری ایسے خوش نصیب ہیں کہ مالک کائنات نے انہیں قرآن مجید سے عوام و خواص کو مستفید کرنے کے لیے چن لیا ہے۔ باشبہ ڈاکٹر طاہر القادری کا شمار عالم اسلام کی نمایاں ترین شخصیات میں ہوتا ہے اور ان کے علمی و قلمی کارنامے اہل علم سے ہرگز پوشیدہ نہیں۔

Read more

سلیم شاہد کی شعری کلیات: زرِ رہگزر

’’زرِ رہگزر‘‘ سلیم شاہد کے شعری کلیات کا نام ہے۔ زر سے شروع، زر پر ختم اور درمیان میں رہ۔ سیاق اور سباق کی یہ عجوبگی سلیم شاہد کی ساری شاعری میں موجود ہے۔ شاعر نے زندگی کرنے کے لیے شاعری کو چنا اور پھر جیون بھر اپنے شوق کے ساتھ رہا۔ اس کلام نے بیسویں صدی کے ساتویں اور آٹھویں عشرے میں اپنا چہرہ دکھایا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نئے ملک کو وجود میں آئے چند عشرے ہی

Read more

اختر حفیظ کی کتاب ’تیس منٹ‘ پر تبصرہ

آج جب بہت سے سندھی لکھاری قارئین کے پاس وقت کی کمی کا بہانا بنا کر فلیش فکشن کی صورت میں کہانی کے نام پر اخباروں میں چھوٹے سے واقعاتی ٹکڑے پیش کرتے ہیں تب شاید قاری کے دماغ میں یہ خیال آتا ہو گا کہ سندھی کہانی کا وقت ختم ہو گیا۔ لیکن فلیش فکشن کے داعی شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ عمدہ کہانی قارئین کو خود اپنی طرف کھینچ کر ان کا وقت لے ہی لیتی ہے۔

Read more

روس کی ایک جھلک: سلمیٰ اعوان کی آنکھ سے

سفرنامے نثری آمد و آورد کا ایک حسین امتزاج ہیں۔ مسا فر اپنے بیرون کو بیان کرتا ہے مگر اندرونی احساسات کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اسی وجہ سے سفرنامہ محض معلومات کی ٹوکری نہیں انسانی احساس کی آمیز ش سے ایک جغر افیا ئی حد کا دو سر ی حد سے اقبال ہے۔ و سیع مکان کے ایک مکین کا دو سرے سے متعا ر ف ہے۔ اس تعارف میں سفر نا مہ نگار کی ذات کا بیانیہ بھی ہے اور حال کا منظرنامہ بھی۔ دونوں ملیں تو تسکین جمال کا باعث ہیں۔ سفر نا مہ نگا ری اگرچہ خالص تخلیقی ادب سے ذرا ہٹ کر ہے کہ یہ تخلیق در تخلیق کے زمرے میں ہے۔ یہ مو جو د کو بیان کرنے کا نام ہے۔ تاہم بیان کرنے والے کا طرز بیان اسے ایک نئی جہت دیتا ہے۔

Read more

’’آ فائن بیلنس‘‘ ایمرجینسی کے دور کی کہانی

کچھ دن پہلے بڑی ہی عمدہ اور دل چسپ کتاب ہاتھ لگی۔ لکھنے والے روہنتوں مستری ہیں۔ مستری کینیڈین لکھاری ہے۔ پیدا تو وہ ہندوستان میں ایک پارسی گھرانے میں ہوئے، مگر بعد ازاں کینیڈا ہجرت کر گئے۔ ان کا یہ ناول ’’آ فائن بیلنس‘‘ 1995ء میں شایع ہوا۔ کینیڈین ادبی ایوارڈ گِلر اپنے نام کیا اور مشہور ادبی ایوارڈ بکر پرائز کے لیے شارٹ لسٹ ہوئے۔ اس ناول کے علاوہ مستری متعدد کتابوں کا مصنف ہیں۔ جن میں کچھ کتابوں کے مخلتف زبانوں میں تراجم اورکچھ کو فلمایا بھی جا چکا ہے۔ مستری کی زیادہ تر کہانیاں ہندوستان کی معاشرتی، معاشی اور سیاسی زندگی کا احاطہ کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ پارسیوں کی مذہبی زندگی اور ان کے رسم ورواج اور اقدار وغیرہ کی بھی کہیں کہیں جھلک نظر آتی ہے۔ مختصرا یہ کہ ان کی بہت سی کہانیاں ہندی ناسٹلیجیا کے گرد گھومتی ہیں۔

Read more

ابھی انسان الجھن میں

سندھی شاعری اپنے موضوعات کے لحاظ سے بہت ہی نفیس خیالات، تصورات اور موضوعات پر پھیلی ہوئی ہے اور جدید سندھی شاعری تو سماج کے اندر ہونے والے واقعات، ظلم اور نا انصافی کے خلاف مزاحمت کی کئی داستانوں سے لب ریز ہے، وہ جبر ظلم اور تاریکی کے خلاف صف آرا رہی ہے۔ ہماری ملکی تاریخ کے تاریک اورجبر کے دور میں اسی شاعری پر قدغن بھی لگی اور شاعروں کو زندانوں اور عقوبت خانوں کا جبر بھی سہنا پڑا۔آج میں جس کتاب کے بارے میں بات کرنے لگا ہوں وہ سندھ کی نامور سیاسی رہنما نظیر قریشی کی سندھی شاعری کی کتاب ”ایاں ساھ سوچن میں“ یعنی ابھی انسان الجھن میں ہے۔ ادی نظیر کی پہچان ان کی 25 سالہ سیاسی سفر کے جدوجہد کی داستان ہے جس میں انہوں نے سندھیانی تحریک سے لے کر سندھی عورت تنظیم کا سفر کیا ہے۔ آپ کا شمار سندھیانی تحریک کی ان ان گنت خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے سندھی خواتین کو سیاست کے سفر میں شامل کیا۔

Read more

’’گل مینہ‘‘ کی تلاش میں

حال ہی میں، رومیل پبلیکیشنز راولپنڈی کے زیرِ اہتمام سامنے آنے والی کتاب، ’’گل مینہ‘‘ ظفر سید کا دوسرا ناول ہے۔ کچھ ہی سال پہلے، ان کا پہلا ناول، ’’آدھی رات کا سورج‘‘ جب فکشن ہاوس لاہور نے شایع کیا، تو اس نے بھی پڑھنے والوں کو چونکا دیا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ کمرشل لکھنے والوں اور والیوں کی بے محِابا دلدل میں بے تحاشا ڈبکیاں کھاتے قارئینِ غلام اس نوع کی بے تکلف نثر، اس

Read more

اختر رضا سلیمی کا ناول ”جندر“

”جندر“ اختر رضا سلیمی کا نیا ناول پڑھ کر ایسا لطف آیا کہ میں اسے تقریباً ایک ہی نشست میں پڑھ گیا۔ شعور کی رو میں بہتا ہوا یہ ناول، خیالات کا ایک دائرہ مکمّل کر کے اپنے نقطۂ آغاز پر آکر ختم ہوجاتا ہے۔ اس کا مرکزی کردار ولی خان (اپنی دانست میں ) بسترِ مرگ پر لیٹا، موت کا منتظر ہے، خیالات کے گھیرے میں بار بار دور جاتا اور یوں ایک خاص مقام پر ٹھہرا ہوا وہ وقت کے سنگ ہائے میل ماپتا واپس اسی نقطے پر پلٹ پلٹ کر اپنی کہانی کو مکمل کرتا ہے۔

Read more

”رنگ باتیں کریں“ (یعقوب آسی کے ریڈیو ڈرامے) اور پنج ریڈیو

ایک مقبول خیال یہی ہے کہ بظاہر ریڈیو اور خاص طور پر ڈراموں کا دَور ختم ہو چکا، لیکن در حقیقت ایسا نہیں ہے۔ اس کا اندازہ مجھے ایک انٹر نیٹ لائبریری میں مختصر ریڈیو ڈراموں کے ایک مجموعے کو پڑھ کر ہوا۔ یہ مشہور ڈیجیٹل لائبریری ہے جو سینئر رائٹر اعجاز عبید کی دہائیوں کی محنتِ شاقہ اور عرق ریزی کا ثمر ہے۔ اعجاز عبید ادب کی دنیا کے وہ خاموش محسن ہیں جو ہمہ وقت دنیا بھر میں

Read more

لاہور آوارگی از مستنصر حسین تارڑ

تذکرہ لاہور کا ہو اور قلم مستنصر حسین تارڑ کا، تو لاہور کے زمانوں کی سیر نہ کرنا شاید محرومی ہی ہو گی۔ سفرنامے کسی بھی ملک اور علاقے کی ثقافت، رسوم و رواج، لوگوں کے معیار زندگی اور ان کی تاریخ کا بے ساختہ اظہار ہوا کرتے ہیں۔ جغرافیائی دلکشی اور خوبصورتی کے ساتھ ساتھ یہ سفرنامے کسی مسافر کے مشاہدے اور اس کے زاویہ نگاہ کو بھی بیان کرتے ہیں۔ سفرنامے لکھنے والوں کی ایک لمبی قطار ہے اور ہر مسافر نے اپنے اپنے اسلوب اور انداز بیاں سے پڑھنے والوں کو مسحور کیا ہے۔ بعض سفرنامے بس اک بار ہی اپنے قاری کو اس مقام تک لے جا پاتے ہیں جہاں تک سفر کرنے والا پہنچا ہوتا ہے، لیکن کچھ سفرنامے ہمیشہ کے لیے انسان کے ذہن و دل پر نقش ہو کر اسے ان جغرافیائی حدود اور مناظر میں قید کر دیتے ہیں جسے مصنف نے بیان کیا ہوتا ہے۔

Read more

شکستہ تعبیر

سوانح عمری ادب کی وہ صنف ہے جس نے مجھے ہمیشہ ہی متحیر کیا۔ عظیم شخصیات کی زندگیوں میں حائل رکاوٹوں، آدرشوں کی تکمیل کے لئے ان کی حوصلہ مندی اور استقامت کو میں شوق اور استعجاب کے عالم میں ڈوب کر پڑھتی ہوں۔ بھلا ہیرے کی تراش خراش کا عمل کسے نہیں پسند۔ ایسا نہ ہو تو بھلا کیسے پتہ چلے کہ گوتم بدھ نے شہزادے کا لبادہ تج کے عام لوگوں کے دکھ سکھ سے ناطہ کیوں جوڑا، سچ کے شیدائی، مجسم سوال سقراط نے زہر کا پیالہ کیوں پیا؟انقلابی چی گویرا نے سرمایہ داری اور استحصالی قوتوں کے خلاف بغاوت کی شمعیں کیوں فروزاں کیں؟ مارکس نے دنیا کے محنت کشوں کو یکجائی کا پیغام کیوں دیا؟ یہ تو محض چند مثالیں ہیں۔ میں ان عظیم شخصیات کی جن کی زندگیوں نے ثابت کیا کہ سچ اور حق پہ کھڑی بنیادوں کو ابدیت اور معنویت حاصل ہے۔ زندگی تو سب ہی گزار لیتے ہیں لیکن دوام تو ان کو حاصل ہے جنہوں نے انسانیت کی فلاح کے لئے اپنی زندگیاں داؤ پر لگا دیں۔

Read more

پاکستانیوں کے مغالطے اور مرشد

"پاکستانیوں کے مغالطے” صاحب طرز و فکر کالم نگار جناب یاسر پیرزادہ کے منتخب کالموں کا مجموعہ ہے جو حال ہی میں کتابی صورت میں شائع ہوا ہے، صاحب کتاب گزشتہ کئی برسوں سے ایک قومی روزنامے میں ”ذرا ہٹ کے“ کے عنوان سے کالم لکھتے ہیں اور اپنے کالم کے ذریعے تعلیم بھی دیتے ہیں اور جادوئی نثر سے دل بھی لبھاتے ہیں، فکر انگیز نکات بیان کرکے تڑپاتے بھی ہیں، سلگتے مسائل کی طرف نہ صرف انگلی اٹھاتے

Read more

ادھوری کہانیاں

سجاد جہانیہ وہ شخصیت ہے کہ جس کی وجہ سے اس کالم نگار کا حرف، لفظ، قلم، قرطاس سے رابطہ ہے، ان کی مہربانیاں اس طور ہیں کہ میرے دل میں موجود ان کے لیے جذبہ محبت بالکل ختم ہی ہوگیا اور۔ ۔ محبت سے اگلے درجے عقیدت میں تبدیل ہوگیا ہے۔بقول انور مسعود: خدا کی قسم محبت نہیں عقید ت ہے تم سےدیار دل میں بہت احترام ہے تیرا

Read more

ایک قدیم ہسپانوی ناول – چلتا پرزہ

اُردو ترجمے کی روایت میں محمد سلیم الرحمن کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اُن کا شمار اُردو کے ان معدودے چند مترجمین میں ہوتا ہے جن کے کیے ہوئے تراجم عزت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ فورٹ ولیم کالج، دہلی کالج، انجمن ترقی اُردو سے لے کر آج تک صاحبان فن مترجمین کی فہرست حیرت انگیز حد تک مختصر ہے، مولوی عنایت اللہ دہلوی، ظ انصاری، مولانا ظفرعلی خاں، ابن انشا، محمد حسن عسکری، شاہد حمید، محمد سلیم الرحمن، محمد عمر میمن۔ ایسا نہیں کہ اردو میں یہی مترجم موجود ہیں۔ مترجمین کی فہرست لا متناہی ہے مگر جن ترجموں پر صاد کیا جاسکتا ہے، وہ ترجمے انہی مترجمین سے مخصوص ہیں۔

Read more

کیا ہمیں اپنے بچوں کو گڈ بائے مسٹر چپس نامی ناول پڑھانا چاہیے؟

پاکستانی کالجوں میں ہائیر سکینڈری سطح پر جیمز ہلٹن کا ناول ’ گڈ بائے مسٹر چپس‘ پڑھائے جانے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ا گر ایک طرف اس کے 40 سال سے زائد عرصہ سے پڑھائے جانے پر اعتراض اٹھایا جا رہا ہے تو دوسری طرف اس پہ ایک شدت پسندانہ نظریہ سے تنقید کی جا رہی ہے۔جہان تک پہلے اعتراض کا تعلق ہے ، یہ کتاب خود ثابت کرتی ہے کہ یہ ماڈرن فکشن میں سب سے محبوب تخلیق ہے جس نے کئی نسلوں کو اپنے سحر میں مبتلا رکھا ۔ 1934ء میں اپنی تخلیق سے لے کر آج تک یہ کتاب کبھی طباعت سے باہر نہیں رہی۔ ایک استاد کی زندگی کا سادہ زبان میں بیان طلباء کے دل کو چھو جاتا ہے اور وہ ہمیشہ کے لئے اس کے گرویدہ ہو جاتے ہیں۔ دوسرے اعتراض کے ضمن میں البتہ بات کو سمجھنے کے لئے ادبی رویّہ چاہئے۔ کتاب پر اعتراض اس بنیاد پر ہے کہ حقیقی زندگی کے ہیروز کو نظر انداز کر کہ ایک فرضی کردار مسٹر چپس کو پڑھنا ایک بے کار عمل ہے اعتراض کرنے والے لوگ ناول گڈ بائے مسٹر چپس کی بجائے مسلم تاریخ کے کسی کردار کی سوانح پڑھانے کی وکالت کرتے ہیں۔ مجھے کہنے دیجئے کہ ایک انتہائی غیر مناسب تقاضا ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ گڈ بائے مسٹر چپس ایک فرضی تخلیق ہے اور وہ بھی انگریزی ادب کی۔ یہ انتہائی نا معقول بات ہے کہ انگریزی ادب کی تخلیقات کی جگہ بھی مذہبی شخصیات پڑھائے جانے کی بات کی جائے۔ ہمارے سلیبس میں دیگر بہت سے ایسے مضامین ہیں جہاں مذہبی تعلیمات کو جگہ دی جا سکتی ہے۔ کیا ہم نے یہ ان کو وہاں صحیح مقام دے دیا؟

Read more

ممتاز شیخ کا بڑا کارنامہ ”لوح“

ممتاز شیخ کا نام علمی وادبی حلقوں میں ایک عرصے سے خوب جانا پہچانا جاتا ہے۔ وہ بذات ِ خود بھی تخلیق کار ہیں لیکن انہوں نے اپنی ذات کو پسِ پشت رکھ کر اپنے آ پ کو اعلیٰ ادبی اقدار کے فروغ کی خاظر اجتماعی ادبی سرگرمیوں کے لئے وقف کیا ہوا ہے جو کہ نہایت قابلِ قدر بات ہے خصوصا اس تناظر میں کہ ان کی یہ موقر مساعی زیادہ تر ان کے ذاتی وسائل پر منحصر ہوتی ہیں۔ ممتاز شیخ نے اولڈ راوئینز کے پلیٹ فارم کو جو عزت و توقیر بخشی اسے بہت قدر کی نگا سے دیکھاجاتا ہے۔

چند سال قبل اولڈ راوئینز کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے اعلیٰ معیار کے مشاعرے جتنے معروف و مقبول ہوئے وہ سب کو یاد ہو گا۔ ان مساعی کے اگلے مرحلے میں ممتاز شیخ نے اعلی معیار کے ایک ادبی جریدے کا خواب دیکھا اور اس کی تعبیر کی تلاش میں سرگرادں ہو گئے حالانکہ انہیں خوب علم تھا کہ ادبی پرچوں کی اشاعت کسی بھی دور میں منافع بخش کاروبار نہیں رہی بلکہ مبینہ طور پر یہ پرچے اپنی قیمت بھی پوری کرنے سے قاصر رہتے ہیں اسی لئے مدیران لمبے عرصے تک ان کا بوجھ اٹھا نہیں پاتے۔

Read more

ڈاکٹر شیر شاہ سید کا ناول غبار

1947 کی تقسیم ایک ایسا سانحہ تھی کہ جس کے اثرات آج بھی پاکستان اور ہندوستان میں برابر نظر آتے ہیں۔ نو آباد لوگوں کو یہاں پر آئے ہوئے کس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے برعکس وہ یہاں سے جانے والوں کو بھی اپنے آباؤ اجداد کی زمین کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہنے کے علاوہ اپنے املا ک سے بھی کنارہ کش ہونا پڑا۔ ہندوستان سے آنے والے مہاجرین ابتدا میں کراچی آئے پھر کچھ لوگ دوسرے شہروں میں نقل مکانی کر گئے اور ان میں سے اکثر کراچی اور اس کے نواح میں آباد ہوگئے حکومت کی طرف سے ان کو یہاں سے جانے والے لوگوں کے مکانا ت آلاٹ کر دیے گئے اور اس کے علاوہ یہاں پر کچی آبادیاں بھی بن گئیں۔ کراچی امیدوں روشنیوں کا اور زندگیوں کا شہر تھا اگرچہ اس کے اندر پہنچنے والی معاشرتی برائیوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور آج کا کراچی پہلے والا کراچی نہ رہا۔

Read more

پاکستانیوں کے مغالطے

لاہور (نیوز ڈیسک) معروف کالم نگار یاسر پیرزادہ کی نئی کتاب ”پاکستانیوں کے مغالطے“ شائع ہو گئی ہے۔ تقریبا ساڑھے تین سو صفحات کی اس کتاب میں سماجی موضوعات پر سو سے زائد کالم شامل ہیں جن میں سے زیادہ تر کالم پاکستانیوں کے عمومی رویوں کے بارے میں ہیں۔ یاسر پیرزادہ نے اپنے مخصوص طنزیہ اور ہلکے پھلکے انداز میں ہمارے سماجی رویوں اور معاشرے کے منافقانہ پن پر تنقید کی ہے اور پاکستانیوں کے ذہنوں میں پائے جانے والے مغالطوں کو بے نقاب کیا ہے۔

Read more

غازی صاحب کا شہد کا چھتّا

برصغیر پاک و ہند میں خطوط لکھے جانا کا سنہرا دور 1857ء کے بعد شروع ہوا اور تقریباً 2000ء میں تمام ہوا۔ سیل فون، ای میل وغیرہ جیسی جدتوں اور بدعتوں کی موجودگی میں اب کون خط لکھنے کا تکلف کرے گا۔ دنیا کے ہر گوشے میں آپ جس سے چاہیں، جب چاہیں، فی الفور مخاطب ہو سکتے ہیں۔ یہ سہولتیں، یہ رعایتیں پہلے کہاں تھیں۔ ان چیزوں کو ایجاد کرنے والے یہ کہنے میں حق بہ جانب ہوں گے:

Read more

حسین مجروح کے مجموعہ فردیات ”اشعار“ پر کچھ بات

محترم جناب حسین مجروح ادبی حلقوں میں کسی تعارف کے محتاج نہ ہیں بلکہ ایک ایسا معتبر نام ہیں جن کے بارے میں ان کی غیر موجودگی میں بھی ہمیشہ اچھا ہی سنا اور لوگوں کو ان کے کلام کے ساتھ ساتھ ان کے عمدہ اخلاق اور زندہ دلی کی تعریف کرتے پایا۔ آپ سے پہچان حلقہ ارباب ذوق کے توسط سے ہوئی جب آپ حلقہ کے کرتا دھرتا تھے اور ایوانِ اقبال میں شاندار ہفتہ وار اجلاس کا انعقاد و اہتمام کیا کرتے تھے اور آنے والے مہمانوں کو ایسی گرم جوشی اور خلوص سے خوش آمدید کہتے کہ ہر کوئی خود کو اجلاس میں مہمانِ خاص تصور کرتا۔

Read more

کلینک سے کتاب تک

ہفتے بھر اسلام آباد اور وزیر آباد کی سیر کرنے کے بعد آج صبح لاہور واپسی ہوئی تو دفتر پہنچتے ہی میز پر ایک کتابی پارسل دکھائی دیا۔ ڈاکٹر مبشر سلیم کی کتاب ”کلینک سے کتاب تک“ نکلی۔

ڈاکٹر مبشر اچھا لکھتے ہیں۔ میری خواہش رہی کہ وہ ”ہم سب“ پر ریگولر اپنے مضامین بھیجا کریں۔ دو چار بھیج کر وہ تھک گئے۔ ان کا انداز بیان دلچسپ ہے۔ چھوٹے چھوٹے دلچسپ واقعات کو مضامین کی شکل دیتے ہیں۔

عام طور پر وہ اپنے کلینک میں پیشے آنے والے واقعات کے بارے میں لکھتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ عام لوگ طبی معاملات کے بارے میں کتنا کم علم رکھتے ہیں اور ایک ڈاکٹر کو اس سے کہیں زیادہ پریشانی کا شکار ہونا پڑتا ہے جتنا آپ ”شکوہ ایڈیٹری“ میں ایک ایڈیٹر کو پریشان دیکھتے ہیں۔ ایڈیٹر نے صرف مضمون کی زندگی موت کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے، ڈاکٹر نے انسان کی۔

Read more

ایک دن کی زندگی

”ایک دن کی زندگی“ آزاد مہدی کا چوتھا ناول ہے۔  اس سے پہلے وہ ”میرے لوگ“،  ”دلال“ اور ”اس مسافر خانے میں“ کے ساتھ اردو ناول کی دنیا میں اپنی آمد کا اعلان کر چکا ہے۔  آزاد مہدی ناول لکھنے والوں کے قبیلے کا وہ خوش نصیب فرد ہے جس کے دو یا دو سے زیادہ ناول چھپ چکے ہیں۔  چار ناول لکھنا تو دور، خالی پڑھنا مشکل ہوتا ہے کیوں، وجہ یہ ہے کہ محنت لگتی ہے۔  خون خرچ

Read more

درویشوں کا ڈیرہ

ڈاکٹر خالد سہیل سے ہلکی پُھلکی شناسائی ان کے مضامین کے حوالے سے ہی تھی۔ یہ امیر حسین جعفر ی تھے۔ اردو ادب کے مایہ ناز شاعر اختر حسین جعفری کے منفرد شاعر اور دانش ور بیٹے جنہوں نے کینیڈا میں اُن کی قربت میں بارہ تیرہ سال کا عرصہ گزارا۔ پاکستان آئے اور ہمارا اُن سے مکمل غائبانہ تعارف کروایا۔ کہیں اُن کے ایک خواب کا بھی ذکر ہوا۔ تو پہلی مبارک باد ڈاکٹر خالد سہیل کو۔ آپ کوئی

Read more

روشن نظر سے لکھی ایک کتاب کا احسان

گزشتہ برس یہی رخصت ہوتے جاڑوں کے دن تھے جب مجھے برادر فاروق عادل کی کتاب ’جو صورت نظر آئی‘موصول ہوئی۔ قومی اور انفرادی سطح پر یہ بارہ مہینے کچھ زیادہ خوشگوار نہیں رہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والے فیصلے امید کی کھیتیاں روندتے رہے۔ عدالتوں میں سنائے جانے والے فیصلوں سے حرف قانون کی پاسداری کی خوشبو گم ہوتی رہی۔ سڑکوں پر شہریوں کا احترام مجروح ہوتا رہا۔ اخبار میں لکھے لفظ سے ضمیر کی آزادی بخش طراوت

Read more

عالم کِسو حکیم کا باندھا طلسم ہے

طلسمِ گوہربار پڑھتے ہوئے میر کا یہ مصرع بار بار یاد آتا رہا۔ پتا نہیں یہ شعر منیر شکوہ آبادی کی نظر سے گزر ا ہوگا یا نہیں۔  ذیل میں قطعیت سے کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ اتنا کہا جا سکتا ہے کہ طلسمِ گوہر بار اس مصرع کی مجسم تصویر ہے۔  ہوتا یوں ہے کہ بعض اشعار زمانی اور زمینی حدود سے ماورا ہو کر بعض کیفیات کے بیان کے لیے مخصوص ہو جاتے ہیں۔  یہی تخصّص ہمیں

Read more

15 پر اسرار کہانیاں، مصنفہ فلک زاہد

کہتے ہیں کہ ایک اچھا لکھاری وہی ہوتا ہے جسے تخلیق کاری کا فن خوب آتا ہو۔ فلک زاہد ان میں سے ایک ہے۔ یہ میری جگری سہیلی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک زبردست لکھاری بھی ہے۔ 2 کتابوں کی مصنفہ ہے اور کالمنگار بھی ہے۔ فلک زاہد کی پہلی کتاب ”15 پر اسرار کہانیاں“ ایک چونکا دینے والی کتاب کا نام ہے جو اس کم عمر لڑکی نے لکھی ہے۔ نہایت پر اسرار جذبات سے ابھری ہوئی کتاب ہے۔ میں نے جب اس کتاب کو پڑھا تو پہلے تو مجھے یقین ہی نہ آیا کہ اتنی زبردست کہانیاں اس بچی نے تخلیق کیں؟

Read more

مستنصر حسین تارڑ کا بہاؤ

بہاؤ زندگی کا نام ہے وہ زندگی جو پانی کے سنگ بہتی ہے، پانی کے ساتھ ٹھہرتی ہے اور پانی کے ساتھ ہی کوچ کر جاتی ہے۔ یہ زندگی کے، وقت کے، تہذیب اور فطرت کے سفر کا نام ہے کہ یہ سب ایک تغیر میں ہیں، ہونے سے نہ ہونے اور گم ہو جانے سے پھر سے دوبارہ طلوع ہو جانے تک کے سفر کا۔ مستنصر حسین تارڑ کا ناول بہاؤ زندگی کے ہر بنیادی عنصر کی علامت کو بیان کرتا ہے، یہ امید سے نا امیدی تک اور خشکی سے تری تک کا سفر ہے۔

بہاؤ اس قدر نئے معانی آپ پر آشکار کرتا ہے کہ انسان سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ اس نے کیا پڑھا، کیا سمجھا اور کیا جانا، اور جو سمجھا شاید ادھورا سجھا، جو جانا بہت ہی کم جانا۔ میں نے یہ ناول آج پڑھا جب اس ناول میں پیش کی گئی تعبیریں ہماری زمین پر حقیقت ہو کر اترنے لگی تھیں اور اس میں چھپائی گئی پہلیاں کھلی آنکھوں سے دیکھے جانے کے قابل ہونے لگی تھیں۔

Read more

محمود درویش: گم شدہ وطن کی یاد میں!

فلسطینیوں کی ابتلا اور جدوجہد اور محمود درویش کا نام اور کلام اب لازم و ملزوم ہو کر رہ گئے ہیں۔ محمود درویش کی شاعری صرف غم اور احتجاج تک محدود نہیں۔ اس میں جلاوطنی روداد، وطنِ مالوف کی بربادی، غاصبوں کی تعدی، ناتمام محبتیں، اشتیاق، فراق اور زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں سبھی شامل ہیں۔ ان سب میں مل کر ایک بڑا کینوس ترتیب دیا ہے جس کا چپہ چپہ جاذبِ نظر ہے۔ لسطینی ادب میں محمود درویش کی

Read more

مائی نیم از ریڈ پر ایک تبصرہ

آیئے آج آپ کو اُرحان پامک کے ناول مائی نیم از ریڈ کے ساتھ ایک مختصر سی ملاقات کر وایئں۔ یہ ناول سلطنتِ عثمانیہ کے عہد کی کہانی ہے اور اس کہانی میں فنِ تصویر کشی (چھوٹی تصاویر، مینیئچر پینٹنگ) بنیادی جھگڑا ہے جس کے ذریعے اورحان پامک ایک دلچسپ داستان بُنتا چلا جاتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ پینٹ کرتا چلا جاتا ہے۔ پینٹ کا لفظ اس لئے کہا کیوں کہ اُرحان خود بھی مصور بننا چاہتا تھا لیکن تقریباً بائیس سال کی عمر میں ناول نگاری میں ہی نام پیدا کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ کہانی چونکہ عثمانی دور کے مصوروں کے ایک گروہ کے گرد گھومتی ہے اس لئے کہانی پڑھتے وقت اس کے کینوس پر پینٹ ہوتے جانے کا احساس زیادہ ہوتا ہے اور منظر آنکھوں کے سامنے آتا جاتا ہے۔

Read more

کرنوں کی میزبانی: ثروت حسین کی شاعری

ثروت حسین مختلف شاعر ہے۔ ہمارے ہاں مختلف ہونا عام طور پر متضاد ہونا سمجھا جاتا ہے۔ لیکن مختلف، متضاد کا مترادف ہرگز نہیں۔ ہم جب مختلف کلام پر غور نہیں کرتے تو اُسے مشکل کَہ کر ایک طرف رکھ دیتے ہیں کیوں کہ وہ کلام قرأت میں ہم سے محنت کا تقاضا کر رہا ہوتا ہے۔ جب اُس کے مطلوبہ ہم گزاری نہیں کی جاتی تو قاری اُس نرول جذباتی احساس سے اپنے دامن کو بھر نہیں سکتا اور

Read more

ریڈ برڈز، دکھ کا منظر نامہ!

محمد حنیف، ہمارے ہم عصر ہیں۔ پہلا ناول لکھنے کے بعد ان کے تائب ہو نے کے بہت ساز گار حالات تھے۔ ناول بہت معروف ہوا، بورا بھر کے رائلٹی ملی۔ اب اگر سیانے ہوتے تو پرنٹنگ پریس کھولتے، زیادہ سیانے ہوتے تو ڈیفینس یا بحریہ ٹاؤن میں پلاٹ لے کر پراپرٹی کا بزنس کرتے۔ ادبی محفلوں میں جاتے، باقی وقت، دفتر کی جھولنے والی کرسی پہ، منہ پہ اخبار ڈالے دن میں خواب دیکھا کرتے، چاہے نہ بھی دیکھتے، فقط اونگھتے رہتے۔ سیانے ہوتے تو دوسرا ناول کبھی نہ لکھتے۔

دوسرا ناول لکھنے کے بعد بھی وقت تھا، ادبی میلوں میں سپیچیں دیتے اور ٹی وی پہ تجزیہ نگاری کرتے۔ باقی وقت ٹوئٹر اور فیس بک پہ دانشوری بگھارتے۔ تیسرا ناول نہ لکھتے لیکن مشیت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ناول نگاری کا مرض، دق کے دائمی بخار کی صورت ہڈیوں میں اتر چکا تھا اور اب لکھنے اور لکھتے رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔

ریڈ برڈز، لکھا جاتا رہا۔ چھہ سال کی تنہائی، تکلیف۔ ایک پورے عہد کا اکلاپا اور ایک زمانے کے لاپتہ لوگوں کا نوحہ۔ ناول کا لوکیل، تنہائی ہے۔ جدید انسان کی ازلی و ابدی تنہائی۔ صحرا، جہاں ریت ہے، جہاں بکر وال ہیں اور ان کی جنگلی تہذیب اور اس تہذیب سے خائف، اسے تباہ کرنے کے درپے ایک امریکی پائلٹ جو کہانی شروع ہونے سے پہلے مر چکا تھا۔

Read more

سیاست، صحافت اور شدت پسندی کے تکون کی تفہیم

معروف ادیب رحمٰن عباس لکھتے ہیں ’جس عہد میں ہم سانس لے رہے ہیں اگر اس عہد میں اردو کی کوکھ سے سیاسی ناول پیدا نہ ہوئے تو اردو بیمار زبان تصور کی جائے‘ ۔ پروفیسر ارجمند آرا کے ذریعہ ناول The Ministry Of Utmost Happiness کا اردو کے قالب میں ڈھلنا، نہ صرف رحمٰن صاحب کے لئے تقویت کا سامان ہے بلکہ اردو کے عام قارئین کے لئے بھی خوش آئندبات ہے۔

ارجمند صاحبہ دہلی یونیورسٹی میں اردو زبان و ادب کی پروفیسر ہیں اور ترجمہ نگاری کے فن کی ماہر ہیں۔ رالف رسل کی سوانح سے لے کر انگریزی اور ہندی کی درجنوں کتابوں کو اردو میں منتقل کرنے کا تجربہ رکھتی ہیں۔ دی منسٹری آف اٹموسٹ ہیپی نیس کا ترجمہ بامحاورہ، سلیس اور رواں ہونے کے ساتھ ہی ادبی و تخلیقی معیار کے لحاظ سے اصل سے قریب تر ہے۔ دوران مطالعہ بعض اوقات قاری پر اس کے طبع زادہونے کا خیال گزرنے لگتا ہے کیوں ک خود مصنفہ کی تصدیق کے مطابق ناول کی کہانی پرانی دلی اور کشمیر پر مبنی ہونے کی وجہ کر اس کا کثیر حصہ بنیادی طور سے اردو میں ہی تخلیقی شعور میں نمو پاکر انگریزی میں صفحہ قرطاس پر ابھرا ہے۔

Read more

جندر: اختر رضا سلیمی کا نیا ناول

اختر رضا سلیمی کا دوسرا ناول ہے۔ اس سے پہلے وہ "جاگے ہیں خواب میں” کی صورت میں اُردو ناول کی دنیا میں اپنی آمد کا اعلان کر چکا ہے۔ پہلا ناول تجرباتی ناول تھا جس میں سلیمی نے بہت سے تصورات لے کر ان کو مہارت کے ساتھ ایک بیانیے میں پرو دیا۔ زمان، مکان، ماضی، حال، مستقبل، شعور، لاشعور، اجتماعی لاشعور، تاریخ، لوک روایت غرض ایک ایسی لڑی بنائی جس میں پڑھنے والے کے لیے بہت کچھ تھا۔

Read more

باصرسلطان کاظمی کی غزلیں

اپنے پہلے شعری مجموعے ”موج خیال“ کا انتساب باصر سلطان کاظمی نے اپنے والد ناصر کاظمی کے نام کرتے ہوئے یہ مصرع لکھا ہے : ”تونے ہی سکھائی تھی مجھ کو یہ غزل خوانی“۔  یہ بات بھی درست ہے کہ والد کی زندگی ہی میں ان کی شعر گوئی کا آغاز ہوچکا تھا۔ ناصر نے کتنا سکھایا یا باصر نے کتنا سیکھا، اس کا فیصلہ آسان نہیں مگر اتنا اندازہ مشکل نہیں کہ ناصر کاظمی کے اثرات باصر سلطان کاظمی

Read more

اوکاڑہ کے سیاسی کارکن رانا محمد اظہر کی یاد داشتیں

  وہ زمانہ نہیں رہا جب ملازم بچوں کو بھولپن میں کہنا پڑتا تھا کہ صاحب کہتے ہیں، میں گھر پر نہیں ہوں۔ اب دروازے کی کال بیل کی بجائے سیل فون کا زمانہ ہے۔ لیکن مزے کی بات ہے کہ سیل فون سے رابطہ کرنے پر ویسا ہی جواب ملتا ہے، میں میٹنگ میں ہوں۔ حنا جمشید ساہیوال ڈگری کالج میں اردو ادبیات پڑھاتی ہیں۔ کالم نگار ان سے ملا تو نہیں۔ ان کی کچھ تصویریں اورتحریریں ضروردیکھی ہیں۔

Read more

میں خمیازہ ساحل کا

علی سجاد شاہ جو سوشل میڈیا پر ابوعلیحہ کے نام سے متعارف ہیں، ایک ہمہ گیر شخصیت ہیں۔ بنیادی طور پر صحافت سے وابستہ علی بلاگر، اینکر، کامیڈی سکرپٹ رائٹر، فلم رائٹر وڈایریکٹر تو تھے ہی، اب ”میں خمیازہ ساحل کا“ ذریعے انہوں نے اردو افسانے کی پرخار وادی میں بھی قدم رکھ دیے ہیں۔ یہ کتاب بنیادی طور پر ان کی کچھ افسانوں اور ایک طویل ناولٹ کے علاوہ ان کی کچھ ذاتی تحریروں پر مشتمل ہے جنہوں نے سوشل میڈیا پر بھرپور پذیرائی حاصل کی تھی۔

Read more

دکھیارے: انیس اشفاق نے لکھا ہے

”دکھیارے“ انیس اشفاق کا ناول ہے۔ یہ منظر اور ماحول کی کہانی ہے۔ دونوں کا المیہ اور طربیہ ایک ہی ہے۔ دونوں کو ثبات نہیں۔ کچھ روحیں اس تبدیلی کو سہار لیتی ہیں مگر بعض کے لیے یہ تبدیلی سینے میں انی کی طرح پیوست ہو جاتی ہے۔ ناول کا راوی چھوٹا بھائی ہے جس کے لیے اپنے بڑے بھائی کی زندگی سے متعلق بے فکری پریشانی کا باعث بنتی ہے۔ وہ بہتا پانی رمتا جوگی ہے اپنی موج میں

Read more

پنجر: بٹوارے کی کہانی امرتا پریتم کی زبانی

بٹوارے کی داستان ہو اور امرتا پریتم اسے بیان کرے تو وہ دوآتشہ ہو جاتی ہے۔ دکھوں بھری کہانی کو امرتا پریتم ایسی حساس دل رکھنے والی ادیبہ لکھے تو لفظ لفظ لہو بن جاتا ہے۔ سنتالیس میں ہونے والی تقسیم کے پس منظر میں لکھے گئے شہرہ آفاق ناول ’پنجر‘ کے صفحات سے ہندوؤں، مسلمانوں اور سکھوں کا خون رستا دکھائی دیتا ہے۔ یہ تقسیم سے قبل گجرات (پاکستان) کے گاؤں چھتوانی میں بستی ہندو لڑکی پارو کی کہانی

Read more

رحمان فارس کی ”عشق بخیر“

شاعر سعد اللہ شاہ کہیں سے عمران خان کیلئے یہ نیک مشورہ ڈھونڈ لائے ہیں ۔ان کے مطابق عمران خان کو چاہئے کہ وہ جتنا وقت ورزش میں گزارتے ہیں اتنا وقت مطالعہ کیلئے بھی نکالیں۔ یہ مشورہ عمران خان تک پہنچتا ہے یا نہیں ؟ پھر وہ اسے مانتے بھی ہیں یا نہیں ؟ اسے چھوڑیں ، کالم نگار اپنے آج کے کالم میں ایک شاعر اور اس کی کتاب کو لے آئے ہیں۔ رحمان فارس ہماری نوجوان نسل

Read more

غلام نبی کمار کی شاہکار تخلیق ”اردو کی عصری صدائیں“

کشمیر کی حسین وادیوں میں اپنی زندگی کے خوشگوار لمحات گزارنے والے نوجوان ادیب، ناقداور محقق غلام نبی کمار کا شمار آج ملک کے معتبر قلم کاروں میں ہونے لگا ہے۔ غلام نبی کمار نے اردو تنقید کے میدان میں مضبوطی کے ساتھ اپنے قدم بڑھاتے ہوئے مختلف رسائل و جرائد کے ذریعہ مختلف اصناف ادب کی کتابوں پر تبصرے کرتے ہوئے تخلیق کے معنوی حسن اور بیانات کی پاکیزگی کو قارئین کے سامنے پیش کرنے میں کامیابی حاصل کی

Read more

سقوط ڈھاکہ اور الطاف فاطمہ

ادیب اور معاشرہ لازم و ملزم ہیں۔ اسلوب اور کہانی سماج میں رہتے ہوئے اسی کے تانے بانے سے جوڑے جاتے ہیں مگر الطاف فاطمہ کا چلتا مسافر پڑھ کر حیرانی ہوتی ہے۔ مصنفہ نے بنگلہ دیش میں قدم رکھے بغیر وہاں کی سیاست اور سماج کو اس قدر کھول کر اور واضح بیان کیا ہے کہ حیرانی ہوتی ہے۔ وہ نہیں رہیں مگر ادب کے قارئین کے لیے خوبصورت تحائف اپنی تخلیقات کے ذریعے دے گئی ہیں۔ الطاف فاطمہ

Read more

محمد عمر میمن …. اور ادیبوں کا شیش محل

محمد عمر میمن مدت سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ شاید ایک صدی ہونے کو آئی۔ لیکن ٹھیریے۔ بہت سنجیدہ آدمی ہیں۔ بگڑ نہ جائیں۔ کم از کم پچاس برس سے امریکہ میں ٹکے ہوے ہیں۔ اب تو پروفیسر امیریطس بھی ہو گئے۔ اردو سے انگریزی اور انگریزی سے اردو میں بہت تراجم کیے۔ اس لحاظ سے اس وقت اردو دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ انتظار حسین، عبداللہ حسین اور نیر مسعود، پر خاص طور پر مہربان رہے۔ پہلے

Read more