محمد حنیف، ہمارے ہم عصر ہیں۔ پہلا ناول لکھنے کے بعد ان کے تائب ہو نے کے بہت ساز گار حالات تھے۔ ناول بہت معروف ہوا، بورا بھر کے رائلٹی ملی۔ اب اگر سیانے ہوتے تو پرنٹنگ پریس کھولتے، زیادہ سیانے ہوتے تو ڈیفینس یا بحریہ ٹاؤن میں پلاٹ لے کر پراپرٹی کا بزنس کرتے۔ ادبی محفلوں میں جاتے، باقی وقت، دفتر کی جھولنے والی کرسی پہ، منہ پہ اخبار ڈالے دن میں خواب دیکھا کرتے، چاہے نہ بھی دیکھتے، فقط اونگھتے رہتے۔ سیانے ہوتے تو دوسرا ناول کبھی نہ لکھتے۔
دوسرا ناول لکھنے کے بعد بھی وقت تھا، ادبی میلوں میں سپیچیں دیتے اور ٹی وی پہ تجزیہ نگاری کرتے۔ باقی وقت ٹوئٹر اور فیس بک پہ دانشوری بگھارتے۔ تیسرا ناول نہ لکھتے لیکن مشیت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ناول نگاری کا مرض، دق کے دائمی بخار کی صورت ہڈیوں میں اتر چکا تھا اور اب لکھنے اور لکھتے رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔
ریڈ برڈز، لکھا جاتا رہا۔ چھہ سال کی تنہائی، تکلیف۔ ایک پورے عہد کا اکلاپا اور ایک زمانے کے لاپتہ لوگوں کا نوحہ۔ ناول کا لوکیل، تنہائی ہے۔ جدید انسان کی ازلی و ابدی تنہائی۔ صحرا، جہاں ریت ہے، جہاں بکر وال ہیں اور ان کی جنگلی تہذیب اور اس تہذیب سے خائف، اسے تباہ کرنے کے درپے ایک امریکی پائلٹ جو کہانی شروع ہونے سے پہلے مر چکا تھا۔
Read more