”بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے“
کئی نسلوں سے میری جبلت کا کلیدی عنصر ہوئی ”خوئے غلامی“ کی وجہ سے میں اکثر کئی اہم معاملات پر تبصرہ آرائی سے گریز کرتا ہوں۔ قانون اور ضوابط کے تحت نکالے اور اور چلائے اخبار کیلئے لکھتے ہوئے چند محدودات کا ویسے بھی احترام لازمی ہوتا ہے۔ خود کو ”حق گو“ ثابت کرنے کے چکر میں اپنائی عدم احتیاط صحافتی ادارے کو بالآخر مجبور کردیتی ہے کہ وہ اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے ایسے صحافی کو فارغ کردے۔اندھی
Read more


































































