نوشابہ کی ڈائری: کیا ہر وقت دہلی کی باتیں، چھوڑیں نہ یہ دہلی دہلی

20 مئی 1987 ڈائری! شکر ہے تم مل گئیں۔ تم کھو گئی تھیں تو تمھارے کھونے کے افسوس کے ساتھ یہ ڈر بھی تھا کہ کسی کے ہاتھ نہ لگ جاؤ۔ جانے کیا کچھ کھوگیا، وہ گھر جہاں بچپن گزرا، شہر، محلہ، اسکول، سہیلیاں، مس نرگس، زہرہ باجی۔ ہجرت کرنے میں یہ سب تو ہوتا ہے۔ میں جو کچھ ساتھ لے کر چلی تھی اس میں سب سے قیمتی تم ہو، اور یہاں پہنچ کر ڈھونڈا تو تم غائب۔ میرپورخاص

Read more

پاک چین عسکری تعاون سود مند ہوگا؟

وقت اور حالات کے ساتھ بہت سارے مشکل فیصلے کیے بغیر ترقی کی منازل کبھی طے نہیں ہو سکتیں لیکن ایسا کرنے کے لئے خود اپنے آپ کا بہر لحاظ مضبوط و مستحکم ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ پاکستان اپنے قیام کے ساتھ ہی بہت سارے فیصلے نہایت مضبوطی کے ساتھ اسی لئے نہیں کرپایا کہ خود پاکستان کسی بھی لحاظ سے ایک مستحکم ملک نہ تو اپنے وجود کے فوراً بعد سے تھا اور نہ ہی بعد میں اپنے

Read more

انور کانگو اور انڈونیشیا کا قتل عام

تصور کیجیے کہ ایک قاتل جو قتل عام کا مرتکب ہوا ہو ۔ بے گناہوں کو اغوا، تشدد اور قتل کے بعد ان کی لاشیں ٹھکانے لگانا جس کا معمول ہو، اپنے گناہوں پر شرمندہ ہونا تو دور کی بات ان پر فخر محسوس کرے اور ان پر دوبارہ عمل پیرا ہونے کے لیے بے چین ہو۔ یہ 1965ء کا واقعہ ہے انڈونیشیا کا باشندہ انور کانگو نامی بے رحم قاتل جو بے گناہوں کو قتل کرنے کے بعد ان

Read more

ضیا کے نظریات کی قربانی کب ہو گی؟

ہماری الہامی کتاب میں جہاں خدائے ذولجلال نے اپنی امت کے لئے دنبے کو اتارا، تو وہیں ہماری آزمائش کے لئے ایک شیطان کو بھی ہم پر مسلط کر دیا۔ ہم سینکڑوں سالوں سے روایتی عید کے تابع ہوکر آسمان تک چوپایوں کی صدائیں بلند کر رہے ہیں اور سال کے ایک روز کفارہ ادا کرکے باقی ایام ایک غائبانہ اطمینان کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن اس سکے کا دوسرا رخ دیکھنے سے قاصر ہیں کیونکر ہمارے ہاتھوں میں بندوق

Read more

سٹینلے والپرٹ کی کتاب "جناح آف پاکستان” پر پابندی کیوں لگی؟

جنرل ضیاء الحق، آمر صدر کے دورحکومت میں محمد علی جناح کی اب تک کی سب سے مستند سمجھی جانے والی سوانح عمری 1984 میں جناح اوف پاکستان کے نام سے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، امریکہ سے شائع ہوئی۔ اس کتاب کے مصنف معروف امریکی اسکالر پروفیسر اسٹینلے والپرٹ تھے۔ پروفیسروالپرٹ ہندوستان کی تاریخ پر دسترس رکھنے والے ماہرین میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ پروفیسر والپرٹ نے جناح کے علاوہ گاندھی، جواہر لعل نہرو اور ذولفقار علی بھٹو کی سوانح حیات

Read more

نیب کا زنبور اور ٹین کے سیاستدان

آج تک جس طرح نیب حسبِ ضرورت محمود و ایاز کو ایک صف میں یا ایک صفحے پر لانے میں حسبِ ضرورت کامیاب ہوا۔ ماضی کا کوئی ادارہ یا ایجنسی اتنے موثر ثابت نہیں ہو سکے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

نیب کے پہاڑ تلے آئے اونٹ کا بلبلانا

ملیشیا کے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق بدعنوانی کے الزام میں مجرم قرار دیے گئے اور انہیں بارہ برس جیل کی سزا ہوئی۔ ان پہ دس ملین ڈالر ملیشیا کے ترقیاتی منصوبوں سے خورد برد کا الزام تھا۔ دنیا بھر میں بدعنوانی بھی رائج ہے لیکن سمجھدار حکومتیں اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی خاطر اس کے سد باب بھی تلاش کرتی ہیں۔ برادر ملک ترکی، ملیشیا سعودی عرب والی مثالیں سامنے ہیں جہاں انسداد رشوت ستانی کی مہم کامیاب ہوئی۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 2017 ؁ میں متعدد شہزادوں کو جو بدعنوانی میں ملوث تھے، بلا کر ایک ہوٹل میں قید کر لیا تھا۔ انہیں رہائی اسی وقت ملی جب انہوں نے اقبال جرم کیا اور لوٹی ہوئی دولت واپس کی۔ اطلاعات کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے 406 بلین ڈالر لوٹی ہوئی رقم واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کرائی۔

Read more

نوشابہ کی ڈائری: ٹی وی فریج بیچ کر اسلحہ خریدنا ہوگا 28 دسمبر 1986

اتنے دنوں میں جانے کیا کچھ ہوگیا، سب سے بڑا واقعہ تو باجی کی شادی ہے۔ باجی کے پیادیس جانے کا افسوس تو تھا لیکن مزہ بہت آیا۔ شادی تک کئی دس بارہ دن پورا خاندان ہمارے گھر پر تھا۔ پھر محلے کی عورتیں لڑکیاں، میلہ لگا تھا گھر پر، روز ڈھول بج رہا ہے گانے ہورہے ہیں، پھر مہندی اور ابٹن۔ ہم گا بجا اور رسمیں کر رہے ہوتے اور خاندان کے بزرگ کمرے میں بیٹھے باتیں بنا رہے

Read more

عید کے بعد قربانی؟

عید کے بعد سیاست گرم ہورہی ہے دو سالہ جمود ٹوٹ رہا ہے۔ عمران خان کا سحر بھی ختم ہوچکا ہے۔ انہیں آخری بلندی سے نیچے کی طرف آنا پڑے گا۔ ان دنوں راولپنڈی، اسلام آباد اور لاہور سیاسی سرگرمیوں کے محور ہیں۔ بہت کچھ سوچا جا رہا ہے، بہت کچھ ہونے جا رہا ہے۔ مولانا نے اس مرتبہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو قائل کر لیا ہے کہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے سوا کوئی

Read more

صادقین، اک داستانوی شخصیت

1968۔ 69 ء میں جب میں نے کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ اکنامکس میں ایم اے سال اول میں داخلہ لیاتو میرا قیام کراچی یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل میں رہا جہاں ہمارے گروپ کی سربراہ نزہت سلطان تھیں۔ وہ انگریزی ایم اے فائنل کر رہی تھیں۔ طلعت شہناز ایم اے فائنل فزکس میں تھیں، ممتاز موسیٰ تھرڈایئر آنرز بائیو کیمسٹر ی میں اور بلقیس جسے ہم سب بلی کہتے تھے، فزیالوجی تھرڈ ایئر آنرز میں تھیں۔ کچھ عرصہ بعد ممتاز کے

Read more

ایک ’مرتد‘ کی موت قوم کی ’حیات‘ ہے

ایڈیشنل سیشن جج پشاور کی عدالت میں ایک نوجوان نے ایک معمر شخص کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ ملک کے قانون نے اپریل 2018 میں اس شخص کے خلاف کسی طالب علم کی شکایت پر توہین مذہب و رسالت کا مقدمہ قائم کیا تھا لیکن دو برس سے زائد مدت گزرنے کے باوجود فاضل عدالتیں مقدمہ کا فیصلہ کرکے ملزم کو رہا کرنے یا سزا دینے کا حکم نہیں دےسکی تھیں۔ بالآخر ایک نوجوان کو خواب میں عندیہ دیا

Read more

گلگت بلتستان الیکشن اور سیاسی ہجرت کا رحجان

کسی ایک آئیڈیالوجی کو تھامے رکھنا اور اسی کے اندر رہ کر سیاسی جدوجہد کرنے کی پاکستان میں تاریخ کچھ شاندار نہی۔ گو کہ اس ملک کا قیام ایک سیاسی جد وجہد کا نتیجہ تھا مگر بانی پاکستان کی رحلت کے بعد عنان اقتدار زیادہ تر طالع آزماؤں کے ہاتھ رہا اور انھوں نے سیاست کی پنیری میں اپنی پسند اور مرضی کے سیاست دان اگائے۔ اس طرح ایک دور ادوار کو چھوڑ کر پاکستان کی مجموعی سیاسی صورتحال ایک

Read more

ماسٹر شریف اوچوی صاحب کے ایک نالائق شاگرد کی یادداشتیں

یادش بخیر۔ امتداد مدت ہجراں۔ ہنگام کہنہ سالی۔ اگر ہم سے پوچھا جائے کہ ہمارے سب سے پیارے استاد کون ہیں؟ تو ہم فوراً کہیں گے کہ ماسٹر چوہدری محمد شریف اوچوی صاحب۔ اب پوچھئے کہ ان میں ایسی کیا خاص بات تھی؟ ہم کچھ سوچیں گے لیکن کچھ کہہ نہ پاویں گے کیونکہ ایک شاگرد اپنے استاد کی شخصیت میں وہ سب کچھ دیکھ لیتا ہے جو شاید استاد بھی اپنے متعلق نہ جانتا ہو۔ ہمارے لئے یہ بڑے

Read more

آہ! پروفیسر عنایت علی خان

دو ہزار سات یا آٹھ کی بات ہے رات کے کوئی نو بجے میرے بھائی کا فون آیا مشاعرے میں چل رہے ہو؟ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں، میں نے فوراً کہا چلو۔ بھائی نے کہا، تو میرے پاس آجاؤ۔ ڈیفنس سے اٹھ کر فوراً ہی بھائی کے پاس این ای ڈی کی اسٹاف کالونی میں ان کے گھر پہنچا اور وہاں سے ہم دونوں اسٹیل ٹاؤں یعنی گلشن حدید کے لیے چل پڑے جب مشاعرے میں پہنچے تومشاعرہ اپنے

Read more

یہ قومی مفاد کیا بلا ہے؟

قومی مفاد یا نیشنل انٹرسٹ کسی بھی ریاست کے رولنگ ایلیٹس کی پسندیدہ اصطلاح ہے۔ ویسے تو عام طور پر قومی مفاد سے مراد کسی ملک کے عزائم و مقاصد ہے۔ لیکن درحقیقت قومی مفاد ایک ایسا جادوئی چراغ ہے جس کو رگڑنے سے حکمران طبقہ اپنی ذاتی مفادات اور خواہشات کے حصول میں با آسانی کامیاب ہو جاتا ہے۔

تاریخی اعتبار سے اس اصطلاح نے پندرہویں صدی میں جنم لیا جب قوم پرستی یا نیشنلزم اپنے ابتدائی مراحل میں تھا اور قومی ریاستیں وجود میں آنا شروع ہو گئی تھیں۔ اس سے قبل مذہبی مفادات کو قومی مفادات پر فوقیت حاصل تھی۔ دراصل مذہبی مفادات کو قومی مفادات پر فوقیت کے پیچھے بھی سیاسی محرکات شامل تھیں۔ چونکہ اس دور میں روم مذہب کے نام پر ایک عظیم سلطنت قائم کر چکا تھا، اس لیے مذہبی مفادات کی تحفظ دراصل سلطنت روما یا با الفاظ دیگر حکمرانوں کے مفادات کی تحفظ تھی۔

Read more

تحفظ بنیادِ اسلام بِل سے شیعہ علما کو واقعی اختلاف ہے؟

پنجاب اسمبلی سے تحفظِ بنیادِ اسلام بل منظور ہوا، جو اب تنقید کی لہروں پر تیرتا ڈھولتا اسلامی نظریاتی کونسل کی دیواروں سے ٹکرا گیا ہے۔ یہاں سے یہ سیلابِ بلا خیز کس کے گھر جائے گا اس بات کا علم کسی کو نہیں ہے۔ اس بات کا اندازہ البتہ سبھی کو ہے کہ پانی جب گزرتا ہے تو استثنا کسی کو نہیں دیتا۔ جھونپڑی پر عباس کا علم لگا ہو یا نعلینِ پاک کا نقش کھنچا ہوا ہو، خس

Read more

کیا کبھی عوام کی حکومت قائم ہو گی؟

سوچتا ہوں کہ اس ارض پاک پر کبھی کوئی ایسی سحر طلوع ہو گی جس میں کوئی داغ نہ ہو، جس میں باد نسیم چلتی ہو جو لوریاں سناتی ہو، جو روح کو معطر کرتی ہو، جو فضا میں خوشبو گھولتی ہو۔ اس سحر کی آس آنکھوں میں سجائے ہم نے ستر سال گزار دیے، کئی نسلیں اس سحر کے خواب آنکھوں میں سجائے قبروں میں جا اتریں لیکن یہ سحر نہیں آئی، اس صبح کے انتظار میں کئی بہنوں

Read more

معراج محمد خان: روشنی کا مینار

معراج محمد خان بائیں بازوکی تحریک کے سرگرم کارکن تھے۔ انھوں نے کارل مارکس کے فلسفہ کو دل کی گہرائیوں کے ساتھ قبول کیا اورایک غیر طبقاتی سماج کے قیام کے لیے اپنی زندگی کو وقف کیا۔ ان کے بھائی منہاج محمد خان برنا ممبئی میں ترقی پسند تحریک میں شامل ہوئے۔ انھوں نے جامعہ ملیہ دہلی میں تعلیم حاصل کی، برنا صاحب جدوجہد کا استعارہ تھے۔ انھوں نے جامعہ ملیہ دہلی میں شرنارتھیوں کے داخلہ کے لیے ہڑتال کرائی۔

Read more

فیڈرل اکاونٹیبلیٹی کمیشن

اس دنیا میں مالیاتی کرپشن کسی ایک ملک یا قوم کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ کرپشن نے دنیا کے اربوں انسانوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔ کرپشن کاخاتمہ تو شاید اب ممکن ہی نہیں رہا تاہم اب اقوام عالم کی ایک فہرست جاری ہوتی ہے جس میں پتہ چلتا ہے کہ کون کتنا کرپٹ ہے یا پھر کسی ملک میں کرپشن کی شرح کیا ہے اور اسی بنیاد پر ملکوں کے مالی معاملات، نظام حکومت اور اس کے شہریوں

Read more

اب پنجاب میں کوئی کتاب چھاپ کر دکھائے

اگر پنجاب تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ پر ہو بہو عمل ہوتا ہے تو پھر علما بورڈ کی منظور شدہ مذہبی کتابوں کے علاوہ کوئی بھی کتاب شائع یا درآمد کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ سائنس، تاریخ، فلسفے، جغرافیے، حالاتِ حاضرہ، ادبیات وغیرہ کو بھول جائیں۔ کیونکہ غالب و اقبال کی شاعری سمیت ہر کتاب میں کچھ نہ کچھ ایسا ضرور نکل آئے گا جو قومی سلامتی، ثقافتی و مذہبی اقدار و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے منافی ہو۔ پڑھیے وسعت اللہ کا کالم بات سے بات۔

Read more

عثمان بزدار کی بوری میں سوراخ

وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی بوری میں ہونیوالا سوراخ بندہوگیا ہے ہر گز نہیں‘متبادل کی تلاش جاری ہے‘ جلد یا تاخیر‘ عثمان بزدار کو جانا ہے‘ یہ بات سب ہی جانتے ہیں کوئی مان رہا ہے کوئی نہیں مان رہا‘ سبھی سٹیک ہولڈرز کو پیغام دیدیا گیا ہے کہ پنجاب میں تبدیلی ناگزیر ہے تاہم فیصلہ کن قوتوں اور شخصیات کسی ایک نام پر متفق نہیں ہورہے‘ وزیراعظم عمران خان نے بھی نا چاہتے ہوئے رضامندی ظاہر کر دی ہے

Read more

سگریٹ نوشی اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا یوٹرن

مئی کے ماہ میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ایک رپورٹ پیش کی کہ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کو کورونا زیادہ متاثر کرتا ہے بہ نسبت اس کے کہ جو سگریٹ نوشی نہیں کرتے۔ بھلا ہو میڈیا کا یہ خبر پہنچی کچھ کمزور دل والے افراد کو اور کچھ زندگی سے پیار کرنے والے کو جن میں ہمارے استاد محترم بھی شامل ہیں نے فوراً سگریٹ نوشی ترک کی اور حفاظتی اقدامات کو اپنے ارد گرد بڑھانا شروع کر دیا۔

Read more

پاکستان میں سیاسی مخالفین کو کچلنے کے چند واقعات

سپریم کورٹ آف پاکستان نے دو روز قبل خواجہ برادران کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے لکھا کہ نیب انتقامی کارروائیوں کر رہا ہے۔ نیب کو لکیر کے اس پار کچھ نظر نہیں آتا۔ نیب سیاسی جماعتوں کے بندے توڑنے کا کام کر رہا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان کے دنیا کے نقشے پر ظہور پذیر ہونے کے ساتھ ہی سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے مختلف سیاسی شخصیات مختلف ناموں سے ادارے بناتے رہے جن کے ذمہ ایک کام لگایا جاتا کہ وہ سیاسی مخالفین پر بے بنیاد مقدمات بنائیں تاکہ وہ سیاست سے توبہ کر کے گوشہ نشین ہو جانے کے ساتھ ساتھ اپنی آنے والی نسلوں کو بھی بتا دیں کہ وہ سیاست سے دوری اختیار کریں۔

Read more

جنرل ضیا الحق اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی

کبھی کبھی کسی موضوع پر قلم اٹھانے سے پہلے دل کرتا ہے کہ قاری کے سامنے ہاتھ جوڑوں، اس کے پاؤں پکڑوں اور عرض کروں کہ صرف تین منٹ کی بات ہے، سن لیں، گالی دیں، اختلاف کریں، بحث کریں لیکن ایک انٹرنیٹ یا وٹس ایپ پر پڑھا ہوا جھوٹ تاریخی سمجھ کر منہ نہ پھیر لیں۔

Read more

وزیر اعظم عمران خان کو اٹھارہویں ترمیم سے بیر کیوں ہے؟

کچھ دن پہلے ہی کپتان نے کراچی میں اٹھارہویں ترمیم کے خلاف دل کی بھڑاس یہ کہہ کر نکالی تھی کہ اٹھارہویں ترمیم نے وزیر اعلیٰ کو اتنے اختیارات تفویض کر دیے ہیں کہ وہ ڈکٹیٹر بن گئے ہیں۔ یہ الفاظ بولتے وقت اگر کوئی ہمدردی سے خان صاحب کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ دیتا تو شاید ان کی آنکھیں چھلک پڑتیں مگر کیا یہ کہنا کہ وزیراعلی ڈکٹیٹر بن گئے ہیں اپنی کمزوری اپنی بے بسی اپنی بے چارگی کا اظہار نہیں تھا۔

Read more

پاکستانی فوج میں افسران کو دورانِ سروس اور ریٹائرمنٹ کے بعد کون کون سی مراعات ملتی ہیں؟

فوج کی مشہور روایت کے مطابق پاکستان کے پہلے آرمی چیف جنرل گریسی کو اپنے ماتحت فوجی افسر کا خط موصول ہوا جس میں آرمی چیف سے پلاٹ لینے کی درخواست کی گئی تھی۔ آرمی چیف نے جواباً پوچھا ’کس قانون کے تحت؟‘ کہا جاتا ہے خط لکھنے والے ایوب خان خود تھے۔

Read more

رنگ میں بھنگ ڈالنے کی کوشش

عمران حکومت سے ناراض ہوئے لوگوں کو دلوں کی بھڑاس نکالنے کا ایک اور بہانہ مل گیا ہے۔ہفتے کی شام غیر منتخب مشیروں کی شہریت اور اثاثوں کے بارے میں تفصیلی معلومات منظر عام پر آئیں۔ریگولر اور سوشل میڈیا پر سوالات اب یہ اٹھنا شروع ہوگئے ہیں کہ غیر ملکی شہریت کے حامل مشیر ’’قومی مفادات‘‘ کا تحفظ کیسے کرپائیں گے۔جن مشیروں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے وہ پارلیمان سے لئے وزراء کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقت ور

Read more

عثمان بزدار کا ’’کلّہ‘‘

بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات تھی، کوئی ساڑھے گیارہ بجے برادر محترم منیر احمد خان کا فون آیا۔ خان صاحب ایک پرانے سیاسی کارکن ہیں۔ طلبہ سیاست میں بھی سرگرم رہے، اور بعد ازاں قومی سیاست میں بھی نام بنایا۔ مسلم لیگ کے مختلف برانڈز سے استفادہ کرتے ہوئے پیپلز پارٹی سے مصافحہ کیا لیکن یہاں زرداری صاحب ان کو اور وہ زرداری صاحب کو راس نہ آئے۔ تحریک انصاف کو بھی سونگھتے پائے گئے لیکن سیاسی فعالیت سے

Read more

مُلا، مسجد اور مندر

بچپن میں کھیل کود کے میدان وافر تعداد میں موجود ہوتے تھے، کیونکہ نجی زمینیں کمرشل پلاٹوں میں تبدیل ہوکر ابھی آباد نہی ہوی تھیں اور نہ ہی آبادی اتنی زیادہ بڑھی تھی کہ ان پر تعمیراتی کام کی ضرورت پڑتی۔ لہذا ہم سب ہم عمر لڑکے ان پرائیویٹ میدانوں اور پلاٹوں میں کرکٹ، ہاکی اور فٹ بال ہر طرح کا کھیل آسانی سے کھیلتے تھے۔ ہمارے محلہ میں صرف ایک شیعہ گھرانا ہوتا تھا جس کے باسی دربار کے

Read more

قلم اور اسلام آباد میں آوارگی

ہفتہ کی شام اسلام آباد میں بادل خوب برسے، مارگلہ کی پہاڑیوں پر بارش کے بعد آرام کرتے بادلوں کا حسیں منظر دیکھ کر میرے قلم نے کہا یار ذرا موسم و مناظر کا لطف لیاجائے تو دل نے امادگی ظاہر کی سو قلم کے ہمراہ لطف اندوز ہونے کے لیے نکل کھڑا ہوا باتوں باتوں میں معلوم ہی نہ ہوا کہ ریڈ زون پہنچ گئے ”جہاں پارلیمنٹ، ایوان صدر، سینیٹ، وزیر اعظم ہاؤس، سپریم کورٹ اور وزیر اعظم آفس

Read more

پاکستان کا پہلا ’اسلامی قدم‘ اور ’کافروں‘ کے اعتراضات!

’قرارداد مقاصد‘ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی وہ واحد تخلیق ہے جسے آج بھی آرٹیکل ٹو۔ اے کے تحت (جنرل ضیا الحق کے اسلامی نظام اور جماعت اسلامی کے ’طفیل‘ ) ’آئینی تحفظ‘ حاصل ہے۔ خود آرٹیکل ٹو۔ اے کی اپنی کیا حیثیت ہے؟ اس کو اگر ایک جملے میں سمونا ہو تو ہم یوں کہنے کی جسارت کر سکتے ہیں کہ ’آئین پاکستان کے کسی ایک آرٹیکل کو آئین کے کسی دوسرے آرٹیکل پر کسی قسم کی

Read more

وزیر اعظم صاحب خدارا نوٹس لینا بند کریں

سوشل میڈیا پر اکثر ان جملوں کو دہرایا جاتا ہے کہ کبھی تنہائی یا ویرانے میں محافظوں کو موجود پاکر گھبرا یا ہوا دل ٹھیر جایا کرتا تھا اور دل و دماغ پر چھائے خوف کے سائے چھٹ جایا کرتے تھے لیکن اب یہ زمانہ آ گیا ہے کہ دن کی روشنی میں بھی چوک چوراہوں یا گلی کوچوں میں محافظوں کو دیکھ کر دل سہم جاتا ہے اور عدم تحفظ کے احساس سے کلیجہ منھ کو آنے لگتا ہے۔

Read more

کچھ رحم کریں یہ ملک ہے آپ کی تجربہ گاہ نہیں

ہم میں سے وہ لوگ جنہوں نے سرکاری سکول یا کالج سے تعلیم حاصل کی اور میٹرک یا ایف، ایس، سی میں سائنس پڑھی ہوگی، وہ اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے کہ سائنس کے مضامین کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ ایک فرسودہ سی تجربہ گاہ میں برائے نام تجربے بھی کروائے جاتے تھے اور پھر سالانہ امتحانات میں پریکٹیکل کے امتحان کا ڈھونگ بھی رچایا جاتا تھا۔ جسے پاس کرنا لازم ہوتا تھا۔ ہم چونکہ ایک ایوریج سٹوڈنٹ ہوا کرتے تھے لہذا اکثر اوقات یہ پیریڈ انجوائے کرتے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوتی تھی کہ ہمارے ہاں اکثر سکولوں کی لیبارٹریز میں تجربے کرنے کے لئے سامان ضرورت سے کم ہوتا تھا اور جب تک ہماری باری آتی پیریڈ کا وقت ختم ہوچکا ہوتا اور ہم واپس اپنی کلاس میں پہنچ جاتے۔

لیکن سالانہ امتحانات میں کسی کی سفارش ہوتی تو پریکٹیکل میں بہتر نمبر مل جاتے ورنہ ایوریج نمبر سب کو ملتے تھے اور یوں سرٹیفیکیٹ کی شکل کچھ ہوجاتی۔ لیکن اگر آپ غور کریں تو سائنسی مضامین میں جو فارمولے اور تھیوری کوئی تین دہائیاں پہلے یعنی ہمارے زمانے میں پڑھائی گئی تھی، سلیبس آج بھی وہی ہے اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ہمارے اساتذہ نے بھی وہی پڑھا تھا اور آج ہمارے بچوں کو بھی وہی کچھ پڑھایا جا رہا ہے اور تجربہ گاہوں میں وہی تجربات کروائے جاتے ہیں۔

Read more

”بھٹو نے قتل کا منصوبہ بنایا تھا“

آٹھ فروری 1986 ء

مس نرگس نے آج کلاس میں کہا ”لڑکیو! تم ڈائری لکھا کرو“ ، انھوں نے ڈائری لکھنے کے بہت سے فائدے بتائے، مجھے فائدوں سے کیا، مس نرگس نے کہہ دیا یہی کافی ہے۔ مجھے اپنے اسکول کی ساری ٹیچرز میں سب سے اچھی وہی لگتی ہیں، بلکہ لگتا ہے ان سے اچھا کوئی ہے ہی نہیں، ہاں بس امی کو چھوڑ کر، اور زہرہ باجی کو بھی۔ مس نرگس مجھے ایک تو اس لیے اچھی لگتی ہیں کہ وہ بہت پیاری سی ہیں۔ بڑی بڑی آنکھیں ریکھا جیسی، گورا رنگ، اور آواز اور لہجہ۔ ۔ ۔ لگتا ہے خالدہ ریاست بول رہی ہے۔

پھر وہ دوسری ٹیچرز کی طرح نہیں کہ بس کتاب میں جو ہے وہی پڑھا دینا، بات بات پر ڈانٹنا، ذرا سی غلطی پر اسکیل سے ہاتھ لال کر دینا۔ مس نرگس تو ہم سے جانے کہاں کہاں کی باتیں کرتی ہیں۔ ۔ ۔ مسکرا مسکرا کر۔ اسی پر تو ان کی شکایت ہو گئی تھی کہ لڑکیوں سے جمہوریت اور بھٹو کے بارے میں باتیں کرتی ہے، اور صدر ضیاء الحق کے خلاف بھی۔ خیر یہ پرانی بات ہے جب میں چھٹی کلاس میں تھی۔ مجھے شکایت والی بات کچھ دنوں پہلے ہی پتا چلی، نویں جماعت میں آنے کے کچھ عرصے بعد۔

Read more

ہم خوش قسمت ہیں یا بد قسمت؟ – مکمل کالم

ہمارے ایک بزرگ دوست تھے، اب بھی حیات ہیں، خدا انہیں دنیا میں ہی جنت نصیب کرے، بڑی مزے مزے کی باتیں کرتے ہیں۔ ایک دن کہنے لگے کہ خوش قسمتی یا بد قسمتی کوئی چیز نہیں ہوتی، یہ آپ کے اچھے برے فیصلے ہوتے ہیں جن کے نتائج بھگتنے پڑتے ہیں۔ اگر فیصلے دانشمندی کی بنیاد پر کرو گے تو نتائج خوشگوار نکلیں گے اور اگر فیصلے حماقت پر مبنی ہوں گے تو نتیجہ بھی ویسا ہی نکلے گا۔ کوئی بھی شخص زندگی میں کسی ایک فیصلے کی وجہ سے کامیاب یا نامراد نہیں ہوتا، یہ فیصلوں کا ایک سلسلہ ہوتا ہے جو کسی کو ظفر مند اور کسی کو ناکامران بناتا ہے۔

کامیاب لوگ بھی زندگی میں غلط فیصلے کرتے ہیں اور ناکام لوگ بھی کوئی نہ کوئی درست فیصلہ کرتے ہیں، مگر کسی بھی شخص کی ناکامی یا کامیابی ایک فیصلے پر نہیں ٹکی ہوتی۔ زندگی کے ہر مرحلے پر کوئی نہ کوئی موڑ ایسا ضرور آتا ہے جب آپ کو اپنا اختیار استعمال کر کے راہ منتخب کرنی پڑتی ہے، ہو سکتا ہے نادانستہ طور پر آپ غلط راہ کا انتخاب کر لیں مگر کوئی بات نہیں ایسی ایک آدھ غلطی کی گنجایش ہوتی ہے بشرطیکہ آدمی اس غلطی کا ادراک کرے اور اگلی مرتبہ درست فیصلہ کرے۔ لیکن اگر آپ کسی شاہراہ پر گاڑی چلاتے ہوئے مسلسل غلط راستوں کا انتخاب کرتے رہیں گے تو منزل پر پہنچنا تو دور کی بات، ہو سکتا ہے کہ راستے میں حادثہ کروا کے ٹانگ تڑوا بیٹھیں اور پھر بد قسمتی کا رونا روئیں!

Read more

کرامت علی: راہ گزر تو دیکھو

1968۔ 70 کے دوران کراچی یونیورسٹی میں جمعیت کا راج تھا۔ سات سال قبل حسین نقی کے این ایس ایف کے پلیٹ فارم سے جیتنے کے بعد سے جمعیت یونین کے الیکشن جیتتی چلی آ رہی تھی۔ این ایس ایف دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ کاظمی گروپ اور رشید گروپ۔ لیکن یونیورسٹی سے باہردنیا بدل رہی تھی۔ پیپلز پارٹی کا قیام عمل میں آ چکا تھا اور اس کا روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ عوام کے لئے

Read more

پاکستان میں صحافتی کتب کا المیہ (دوسرا حصہ)

اگر برصغیر میں اردو صحافت کی تاریخ کی بات کی جائے تو اس میں مولوی محبوب عالم کی 1903 میں تالیف کردہ فہرست اخبارات ہند کو ممتاز مقام حاصل ہے۔ جس کی تربیت اور مقدمہ و حواشی طاہر مسعود نے لکھ کر مغربی پاکستان اردو اکیڈمی سے 1992 میں شائع کی اور کتاب کا عنوان رکھا ”اردو صحافت کی ایک نادر تاریخ“ مگر سرورق پر طاہر مسعود صاحب نے صرف اپنا نام دیا ہے اور ٹائٹل سے اصل مولف مولوی

Read more

محمد حنیف اور پرویز ہودبھائی پر غداری کا الزام لگانے والے صحافی کا اپنا کردار

1977 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزام کے ساتھ ملک کی اہم اپوزیشن سیاسی قوتیں ’پاکستان نیشنل الائنس‘ (پی این اے ) کے نام سے ایک اتحاد تشکیل دے کر مشترکہ پلیٹ فارم سے ”اینٹی بھٹو موومنٹ“ کا آغاز کر چکی تھیں جو دراصل یک نکاتی ایجنڈے پر امریکی سی آئی اے سپانسرڈ تحریک تھی، جس کا واحد مقصد ایٹمی پروگرام سے دستبردار نہ ہونے کی امریکی ڈکٹیشن قبول کرنے سے انکار پر پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم

Read more

پانچ جولائی: بھٹو کی جمہوریت سے ضیاء کی آمریت تک کا سفر

سانحات اچانک رونما نہیں ہوا کرتے۔ برسوں واقعات کی ایسی لڑی بنتی رہتی ہے کہ جن کے نتائج سانحات کی صورت ہمارے سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں۔ سانحات کا رونما ہونا ہرگز اچنبھے کی بات نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم بطور سماج سانحات سے سبق حاصل نہیں کرتے، بلکہ ایسے ”کارنامے“ شدو مد سے ”سر انجام“ دیتے رہتے ہیں جن کے نتائج بد دیر پا اور اثرات جس کے دہائیوں پہ پھیلے ہوتے ہیں۔ ہند کے عبد الرحیم اجمیری،

Read more

مائنس ون فارمولہ کی سیاسی حقیقت

پاکستان کی سیاست کی خوبی یہ ہے کہ اس میں بحران کی کیفیت کو پیدا کرنا یا اسے برقرار رکھنا ہمارے سیاسی فریقین کی سیاست کا اہم جز ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ تواتر کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی یا سیاسی شگوفے چھوڑنا بھی ہمیں سیاسی منظر نامہ میں غالب نظر آتے ہیں۔ اس وقت بظاہر حکومت کو کوئی بڑا خطرہ نہیں مگر اسلام آباد کا سیاسی ماحول اور اس سے جڑے سیاسی یا میڈیا کے محاذ پر موجود

Read more

وارث میر…. ایک سچا صحافی

ایک کوتاہ نظر، کم علم اور کم ظرف سرکاری عہدے دارنے نامور صحافی اور دانشور پروفیسر وارث میر پر غدار وطن ہونے کی تہمت تو لگا دی، شاید وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ چاند کا تھو کا اپنے ہی منہ پر آ کر گرتا ہے اور ہوا بھی ایسا ہی. اس بیان کے ردعمل میں سندھ اور پنجاب کی صوبائی اسمبلیوں نے وارث میر کے حق میں متفقہ قرار دادیں مںظور کرتے ہوئے انہیں ایک محب وطن قرار دے

Read more

بدلتے حالات میں پیپلزپارٹی کا کردار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( 2 )

بے نظیر بھٹو کے بعد پنجاب سے پیپلز پارٹی کی بیدخلی کی سب سے بڑی وجہ مفاہمت کی پالیسی تھی۔ اگرچہ یہ نعرہ خود محترمہ نے لگایا لیکن وہ اس کا مطلب سیاسی پسپائی نہیں لیتی تھیں۔ آصف علی زرداری کو صدر منتخب ہونے کے لئے بہت سی قوتوں سے مصالحت کرنا پڑی۔ ایسے وقت میں جب بے نظیر بھٹو دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں آصف علی زرداری کو وہ شرائط یاد کروائی گئیں جو جنرل پرویز مشرف کی ٹیم نے رہا کرتے وقت ان سے منوائی تھیں۔

آصف علی زرداری نے ایک مشکل وقت میں پارٹی کو اقتدار دلایا لیکن ان کے اتحادیوں کی فرمائشوں نے ان کے مخالفین کو ایک بار پھر موقع دیا کہ وہ آصف علی زرداری پر کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگا سکیں۔ آصف علی زرداری نے کسی کو ناراض نہیں ہونے دیا۔ نواز شریف کی خواہش تھی کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی ان کی حریف نہ رہے۔ نواز شریف کی یہ خواہش پوری ہو گئی۔ پیپلز پارٹی کے جن کارکنوں اور رہنماؤں نے برسہا برس تک ضیاء الحق اور پھر نواز شریف سے لڑائی کی تھی ان کے لئے مفاہمت کی نئی تشریح ناقابل قبول تھی۔

Read more

نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کا ”مشترکہ“ جج کون تھا؟

عدلیہ سے بنا کے رکھنے اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو راضی اور ہو سکے تو اپنی جیب میں رکھنے کے رویہ کے حوالے سے نواز شریف اور شہید بے نظیر بھٹو، دونوں کا مائنڈ سیٹ ایک اور سیاسی کردار یکساں رہا ہے، بدقسمتی سے 90 ء کے بعد کی دو دہائیوں میں اس ملک میں ’نون‘ لیگ اور پیپلزپارٹی، دونوں ہی بڑی سیاسی جماعتوں کی تاریخ یکساں ”روشن“ ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس دور میں پنجاب میں ایف آئی اے کا ایک افسر احمد ریاض شیخ جو بعد میں کسی نہ کسی طرح ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کے عہدہ تک پہنچا اور پی پی پی کی شرمیلا فاروقی کا سسر ہے، اور لاہور ہائی کورٹ کا ایک جج

Read more

بدلتے حالات میں پیپلزپارٹی کا کردار

حکومت کی کمزور ہوتی گرفت اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے سرپرستی کم ہونے کی خبروں نے مولانا فضل الرحمان‘ شہباز شریف‘ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کو الگ الگ سطح پر متحرک کر دیا ہے۔ مولانا نے اختر مینگل والا محاذ سنبھالا‘بلاول نے پی ٹی ایم کے منتخب افراد سے رابطے کئے۔ شہباز شریف کورونا کی آڑ میں آرمی چیف سے صحت یابی کی دعا بذریعہ فون لے چکے ہیں۔ انہیں ایسے امکانات دکھائی دے رہے ہیں کہ سول

Read more

عہد حاضر کا استاد اور پروفیسر وارث میر

” کسی بھی قوم کی ترقی و تنزلی میں اس کے اہل فکر و دانش کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہ طبقہ جس قدر عصری تقاضوں کو سمجھنے اور تاریک راہوں میں روشنی کے چراغ جلانے والا ہو، اسی قدر تیزی سے وہ قوم ترقی کی منازل طے کرتی ہے لیکن جس قوم کا دانشور طبقہ اپنے کردار سے غافل ہو جائے یا اس کی ادائیگی سے پہلو تہی کرے، اس قوم کے زوال کے امکانات بھی اسی قدر بڑھ جاتے ہیں“

یہ الفاظ صحافت کے عظیم استاد اور حریت فکر کے مجاہد پروفیسر وارث میر کے ایک مضمون کے ہیں جو عہد حاضر کے اساتذہ اور اہل فکر و دانش کے لیے سنہری حروف کا درجہ رکھتے ہیں۔ آج کے دن نو جولائی کو تینتیس برس قبل وفات پا جانے والے صحافت کے عظیم استاد پروفیسر وارث میر کی فکر انگیز تحریریں، عملی جدوجہد اور بلند حوصلہ و کردار عہد حاضر کے اساتذہ کے لیے مشعل راہ ہیں۔ پروفیسر وارث میر نے ضیا کی بدترین آمریت کے دوران پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے استاد ہونے کے باوجود حریت فکر کا علم بلند رکھا اور سیاسی، سماجی و مذہبی مسائل پر اپنی تحریروں کے ذریعے فکری رہنمائی کی، چالیس سال قبل لکھی گئی آزادی اظہار رائے، خواتین کے حقوق، فوج کے سیاسی کردار، جمہوریت اور آئین کی بالادستی پر ان کی فکر انگیز تحریریں آج بھی تازہ محسوس ہوتی ہیں۔

Read more

’’مرشد مروا نہ دینا‘‘

5 جولائی آیا اور گزر گیا صرف پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اس روز 43 سال قبل اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹنے کے دن کو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔ بلاول بھٹو کی بات اصولی طور پر درست ہے۔ شاید سانحہ مشرقی پاکستان جسے ایک آمر فیلڈ مارشل ایوب خان کی پالیسیوں کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے کے علاوہ 5 جولائی1977ء

Read more

مندر نہیں سکول اور ہسپتال

مجھے جگہ کا نام ٹھیک سے یاد نہیں لیکن ہم ملتان شہر کی ایک نہایت غریب کچی آبادی میں تھے۔ ہم اس بستی کے بچوں کے لیے کوئی ترقیاتی منصوبہ بنانے کی کوشش میں تھے اور اسی سلسلے میں ہم لڑکیوں اور لڑکوں کے ایک گروپ سے بات چیت کر رہے تھے۔ مقصد ان کے مسائل جاننا تھا۔ اس آبادی میں کافی گھر ہندوؤں کے بھی تھے۔ ان گھروں سے بھی کچھ بچیاں اور بچے اس محفل میں موجود تھے۔

Read more

پاکستان میں صحافتی کتب کا المیہ

پاکستان میں صحافت سے وابستہ اور اس سے دل چسپی رکھنے والے کچھ سمجھ دار اور باشعور لوگ اکثر اس بات کا شکوہ کرتے ہیں کہ آج کے صحافی یا صحافی ہونے کے دعویدار اکثر لوگ صحافتی قدروں سے ناواقف ہیں اور اپنے منہ میاں مٹھو بنے رہتے ہیں۔ ان کی اکثریت دائیں بازو کے قوم پرستانہ اور مذہبی کے ساتھ ساتھ تنگ نظر فرقہ وارانہ سوچ کی حامل ہے۔ صحافت کی بنیادی اقدار جن میں تنگ نظری اور قوم

Read more

ذکر صحافتی تاریخ کے اساطیری نیوز ایڈیٹر کا۔ ۔ ۔

ہماری خوش بختی کہ گزشتہ روز برادرم اسلم ہمشیرہ اور عزیزم اصغر جھبیل جیسے اساتذہ کرام نے اپنے قدوم میمنت لزوم سے کتاب سرائے کو رونق بخشی۔ مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے لیجنڈ فنکار اور شاعر طارق عزیز صاحب کا تذکرہ چھڑ گیا۔ ”ذکر یار“ سے شروع ہونے والی بات ان کی وفات کے حوالے سے اخبارات کی سرخیوں تک اور وہاں سے عباس اطہر صاحب تک جا پہنچی۔ کچھ معاصر اخبارات نے طارق عزیز صاحب کی وفات

Read more

عدالتی اصلاح کے نام  پر کون سا ادارہ تباہ کیا جائے گا؟

خبر ہے کہ تحریک انصاف کے ایک وفاقی وزیر نے بجٹ سیشن کے دوران مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے رابطہ کرکے اسے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا مشورہ دیا اور یقین دلایا کہ اگر اپوزیشن ایسی تحریک لاتی ہے تو تحریک انصاف کے دس بارہ ارکان قومی اسمبلی بھی اس کی حمایت کریں گے۔ مسلم لیگ (ن) نے البتہ اس تجویز پر عمل کرنے سے گریز کیا۔ انگریزی اخبار دی نیوز کی اس رپورٹ میں

Read more

ضیاء کا مارشل لاء ، مائنس ون اور پھلجڑیاں

حقیقت فقط اتنی ہے کہ گزرے اتوار کی صبح اُٹھا تو احساس ہوا کہ آج 5جولائی ہے۔اس حوالے سے جولائی 1977کی یاد آگئی۔ذہن میں کسی فلم کے سین کی طرح وہ لمحات گھومنا شروع ہوگئے جب تین ’’دانشور‘‘ بزرگوں کے ہمراہ بیٹھ کر جنرل ضیاء کی ’’میرے عزیز ہم وطنو…‘‘ والی تقریر سنی تھی۔اس خطاب کے ختم ہوتے ہی میرے سینئرز نے متفقہ اعلان کردیا کہ ہوشیار اور چالاک ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ضیاء کو سازشی انداز میں مارشل

Read more

جنرل ضیا الحق کس طرح آرمی چیف بنے تھے؟

یوں تو 5 جولائی 1977 کو گزرے 43 سال ہو گئے اگر حالات کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو ہم آج بھی وہاں کھڑے ہیں جہاں 43 سال قبل تھے فرق اتنا پڑا کہ چہرے تبدیل ہو گئے۔ چار دہائیاں قبل سیاسی شخصیات، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو چن چن کر پس زنداں کیا جاتا اور ان کی ننگی پیٹھ پر کوڑے برسائے جاتے، اظہار پر مکمل پابندی تھی، کھلے عام مارشل لا حکومت پر تنقید کرنا گویا موت کو آواز دینے کے مترادف تھا۔ آج بھی سیاسی شخصیات، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر جھوٹے فرضی مقدمات بنا کر پس زنداں یا پھر جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

یوں تو ضیا الحق نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد قوم سے وعدہ کیا کہ 90 روز میں پرامن انتخابات کروا کے فوج واپس بیرکوں میں چلی جائے گی پاکستانی قوم نے جنرل کی بات پر یقین کر لیا اور ایسا لگا کہ 90 دن بعد الیکشن ہو جائیں گے اور جمہوریت پھر سے چل پڑے گی مگر اس سیاہ دن مکمل جمہوری اقتدار کا جو سورج غروب ہوا وہ 43 سال گزرنے کے باوجود ابھی تک گہنایا ہوا ہے۔

Read more

5 جولائی 77:خوش گمانیوں کا سفرِ ناتمام

موضوع اس کالم کا کچھ اور سوچ رکھا تھا۔اتوارکی صبح اُٹھا تو جانے کیوں یاد آگیا کہ آج پانچ جولائی ہے۔ یہ دن 1977میں بھی آیا تھا۔زندگی کے کئی برس اس کے اثرات سے نبردآزما ہونے میں خرچ ہوگئے۔اپنے تئیں جو ’’مزاحمت‘‘ برپا کی تھی اس کے حوالے سے خود کو ’’ہیرو‘‘ تصور کرنے کی علت بھی پال رکھی تھی۔عمر کے آخری حصے میں داخل ہوا تو دیانت داری سے اس نتیجے پر پہنچا کہ جھک ماری تھی۔خواہ مخواہ زندگی

Read more

پانچ جولائی اور ضیاء باقیات

پیپلز پارٹی کے پہلے دور حکومت میں ہوش سنبھالا۔ اسلامی سربراہی کانفرنس، ایٹم بم کی تیاری کی خبریں اور باتیں، قائد اعظم اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے صد سالہ جشن حکومتی سطح پر منانا خوب یاد ہیں۔ بھٹو صاحب جب بیرون ملک جاتے تو وہاں کے طلبا کی نصابی و غیر نصابی پر خصوصی نظر رکھتے۔ شمالی کوریا کے دورے سے واپس تشریف لائے، تو وہاں کے طلبا کے دلکش ورزشی کرتب پاکستانی طلبا کو سکھانے کا اہتمام

Read more

پاکستان میں جمہوریت: ابھی طویل سفر باقی ہے

پاکستان پیپلز پارٹی ایک ایسے موقع پر جمہوری اور آئینی حق کے لئے ’یوم سیاہ‘ منا رہی ہے جب عملی طور سے معاملات طے کرنے کا سارا اختیار عسکری اداروں کو منتقل ہوچکا ہے۔ گو کہ 5 جولائی 1977 کو فوج نے ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹا تھا اور جنرل ضیا الحق نے اس ملک کی تاریخ کا بدترین مارشل لا مسلط کیا تھا لیکن چار دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی حالات کو جمہوریت اور آئین کے حق

Read more

4 اپریل 1979ء: ایک ملتانی کی یادداشت میں

سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کے تین روزہ تاریخی بیان نے ایک طرف تو اس سے والہانہ محبت کرنے والوں کے دل گرما دیے مگر دوسری طرف جہاں دیدہ لوگوں کو عالمی تاریخ کے اوراق پلٹ کر کسی حد تک باور کرا دیا تھا کہ ایک بڑا المیہ اقتدار پر فائز سانپ جیسی آنکھوں والے کے بدنیت کارندوں کے سبب ذیب کی طرف بڑھ رہا ہے مگر اندر سے امید کا ایک دیا تھا جو بجھتا نہیں تھا کہ

Read more

حکیم مسیح الملک لاہوری

دنیا بھر کا علاج کرنے والے حضرت مسیح الملک لاہور کا تن و توش ایسا ہے کہ انہیں دیکھتے ہی بندہ احتیاطاً سانس بھی آہستہ لینے لگتا ہے کہ لگتا یہی ہے کہ ذرا سی تیز ہوا سے بھی توازن کھو کر زمین پر گر سکتے ہیں۔ اس خدشے کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ وہ پنکھے کی بجائے ایئر کنڈیشنر استعمال کرنا پسند کرتے ہیں لیکن خود فراموشی اور انکسار کا یہ عالم ہے کہ اپنی ذات کو مکمل نظرانداز کرتے ہوئے اس ترجیح کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ پنکھے کی ہوا سے میز پر رکھے بے شمار کاغذات اڑ سکتے ہیں۔

ویسے اس بیان کردہ وجہ کو کچھ وزن تو دینا پڑتا ہے کہ صرف ان کی میز پر ہی اتنی کتابیں اور کاغذات موجود ہوتے ہیں جن سے ایک شریف آدمی پوری ذاتی لائبریری بنا سکتا ہے۔ شاید وہ خود بھی اس حقیقت سے آشنا ہیں اور ان کاغذات کو بقائمی ہوش و حواس پڑھنے کی بجائے انہیں دیکھتے ہوئے فی صفحہ دو سگریٹ استعمال کرتے ہیں۔ کاغذ اور سگریٹ کے اس توازن کا اثر ان کی میز پر بھی پڑا ہے اور ایک دوسرا شریف آدمی وہاں موجود سگریٹ کی ڈبیوں سے تمباکو فروشی کی اپنی ذاتی دکان کھول سکتا ہے۔

Read more

جونیجو کی بدمعاشی اور نصرت بھٹو کی خواہش

صرف میں ہی ایک بدمعاش جب اٹھائیس مئی انیس سو اٹھاسی کو جونیجو حکومت ڈسمس کردی گئی تو صدر ضیا الحق نے جونیجو کو ڈنر پر مدعو کیا اور بتایا کہ ان کی کابینہ کے چند وزرا کو نئی کابینہ میں بھی لیا جائے گا۔ اس پر جونیجو نے کہا تو کیا کابینہ میں صرف میں ہی ایک بدمعاش تھا۔ اس پر ضیا الحق نے کوئی جواب نہیں دیا۔ صدر، فوج کے سربراہ اور امریکہ اکتوبر انیس سو نوے کے

Read more

جنرل ضیاءالحق قائد اعظم کی بیٹی دینا واڈیا سے کیا چاہتے تھے؟

قائداعظم محمد علی جناح کی اکلوتی صاحبزادی دینا واڈیا 3 نومبر 2017ء کوعمر کی 98 بہاریں دیکھ کر گزر گئیں۔ لوگ اس وقت سوشل میڈیا پر ان کی مختلف تصاویر کے ساتھ تعزیتی پیغامات شیئر کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں نے اس موقع پر تنقید کے نشتر بھی چلائے ہیں مگر اطمینان کی بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔ دینا واڈیا قائداعظم کے انتقال کے بعد سوائے ایک بار کے کبھی پاکستان نہ آ سکیں۔

Read more

ظفر اقبال فاروقی: ایک رندِ پارسا

  یہ عجیب نمازِ جنازہ تھی، عام طور پر مولوی پہلے جنازہ پڑھنے کا طریقہ بتاتے ہیں یا تھوڑا بہت قربِ قیامت کے آثار پر گریہ آوری کی کوشش کرتے ہیں، اگر مرحوم کا ذکر کریں تو عام طور ان کے فضائل گنواتے ہیں یا ان کے قرض خواہوں سے مرحوم کے پس ماندگان کے حق میں در گزر یا حسنِ سلوک کی درخواست کرتے ہیں، مگر یہاں تو مولوی صاحب فرما رہے تھے:  ’’ مسلمانو! وقت بہت کم ہے

Read more

فسادی عناصر کے خلاف جنرل ضیا الحق کی تقریر۔۔۔

میرے عزیز ہم وطنو جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے یہ ملک اسلام کے نام پر بنایا تھا۔ انہوں نے غیر مسلم انگریزوں اور ہندوؤں کو شکست فاش دے کر یہ خطہ ارضی اس لئے حاصل کیا تھا کہ مسلمان یہاں اسلام کے اصولوں کے تحت زندگی بسر کر سکیں۔ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چایے کہ یہاں خلاف اسلام اعمال کی اجازت نہیں ہے۔ پاکستان میں 1977 کا اسلامی انقلاب

Read more

روس اور گرم پانیوں کا افسانہ

ہمارے ہاں ضیا الحق کے دور میں یہ تاثر شدت سے دیا گیا کہ سوویت یونین کی افغانستان میں فوجی مداخلت کا مقصد یہ تھا کہ وہ بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک پہنچ سکے، اور افغانستان کے بعد سوویت یونین کے حملے کا اگلا نشانہ پاکستان ہوتا۔ کارٹر دور کے مشیر برائے قومی سلامتی، برزنسکی اپنے انٹرویو میں، اور رابرٹ گیٹس اپنی کتاب میں یہ بات کہہ چکے ہیں کہ سوویت یونین کا افغانستان میں فوجی مداخلت کا کوئی

Read more

ممتاز قادری کا چہلم اور جنید جمشید پر حملہ

مورخہ 27 مارچ 2016– آج ممتاز قادری کا چہلم ہے۔ اور کل رات جنید جمشید پر ائیرپورٹ پر حملہ ہوا ہے۔ اطلاع ہے کہ حملہ کرنے والے کراچی سے جنید جمشید کے ساتھ ہی جہاز پر اسلام آباد آئے تھے اور ان کی آمد کا مقصد ممتاز قادری کے چہلم میں شرکت کرنا تھا۔ حملہ کرنے والے افراد، جنید جمشید کو گندی گالیاں دیتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ جنید جمشید کی طرف سے حضرت عائشہؓ کی شان میں

Read more