نوشابہ کی ڈائری: ”نو گو ایریا“ ختم․․․ مہاجر ”اردو بولنے والے سندھی“ ہو گئے

16 جولائی 2003 سال اور قد بچے کی عمر بتاتے ہیں لیکن بچوں کے شعور کی اٹھان کا پتا ان کے سوال دیتے ہیں۔ وہ سوال جو ہمیں پریشان یا سوچنے پر مجبور کردیں۔ کچھ دنوں پہلے سارنگ نے جب پوچھا، ”ماما! آپ ڈائری کیوں لکھتی ہیں، کوئی پڑھتا نہیں تو فائدہ؟“ تو مجھے خبر ہوئی کہ میرا بیٹا تیزی سے بڑا ہو رہا ہے۔ اس کا پہلا سوال میرے ہاتھ میں پکڑی ڈائری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تھا،

Read more

جشن احفاظ الرحمن

انتیس ستمبر کو کراچی کی سول سوسائٹی احفاظ الرحمن کی زندگی اور کارناموں کا جشن منا رہی ہے۔ بارہ اپریل 2020 ء کو پانچ سال تک کینسر سے لڑنے کے بعد جب اس نے آنکھیں موند لیں تو کرونا کی وبا کووڈ 19 کی وجہ سے کراچی میں سخت قسم کا لاک ڈاؤن چل رہا تھا۔ ایک طرف وائرس کا خوف، دوسری طرف پولیس کی سختی اس لئے صرف چند قریبی رشتہ دار اور دوست ہی جنازے میں شرکت کر

Read more

وارث میر اور روشن خیالی

مضامین کے اس سلسلے کے پہلے حصوں میں ہم نے عبدالسلام خورشید اور مسکین حجازی کے سرکاری صحافت کے مطالعہ پاکستانی مکتب فکر سے لے کر سرکاری بیانیوں کو للکارنے والے ضمیر نیازی اور ڈاکٹر مہدی حسن کی کتابوں اور مضامین کا ذکر کیا۔ اس مضمون میں ہم پاکستانی صحافت کے ایک اور بڑے نام پروفیسر وارث میر کا ذکر کریں گے جن کی تحریروں کو پڑھنا آج کے پاکستانی صحافیوں کے لیے ضروری ہے تاکہ ان کے ذہن روشن

Read more

نواز شریف پاکستان کے چی گویرا بن سکتے ہیں

جمہوریت نواز شریف کا نام نہیں ہے۔ نواز شریف نے کبھی جمہوریت کی جنگ لڑی ہے اور نہ جمہوریت کے کبھی پرچارک رہے ہیں۔ نواز شریف کی جماعت کے اندر جمہوریت ہے اور نہ مسلم لیگ ن جمہوری جماعت ہے۔ کاروباری اور تاجر پیشہ نواز شریف نے ہمیشہ نفع و نقصان کی بنیاد پر سیاسی فیصلے کیے ہیں۔ اقتدار کی سیاست میں کوئی ایک فیصلہ نواز شریف کا ایسانہیں ہے۔ جس سے جمہوریت کو تقویت ملی ہو۔ مسلم لیگ ن

Read more

مودودیؒ، نصراللہ اور زرداری

”نواب زادہ نصراللہ خان بعض لوگوں کو اس لیے برے لگتے ہیں کہ مولانا مودودی ؒجیسی باتیں کرتے ہیں“ ۔ یہ جملہ پڑھے ہوئے، یوں سمجھئے کہ مدت بیت چکی تھی جب نواب زادہ نصراللہ خان سے ملاقات ہوئی۔ وہ اس سیاست کا زمانہ تھا جسے نوے کی دہائی سے منسوب کیا جاتا ہے یعنی میاں اور بی بی کی لڑائی یوں جاری تھی جس کانقشہ حضرت صوفی تبسم جیسے عدیم المثال شاعر نے بچوں کے لیے ایک نظم میں

Read more

پاکستان کی خارجہ پالیسی ۔ گزشتہ نصف صدی کا مختصر خاکہ

انگریزی سے ترجمہ : محمد نادر دھونس، دھاندلی اور ریاستی مشینری کو استعمال کرکے جنرل ایوب نے صدارتی الیکشن میں کامیابی کا اعلان کر دیا تھا مگر گرتی ہوئی مقبولیت کو بحال کرنے کے لیے کشمیر میں در اندازی شروع کروا دی جس کا نتیجہ تباہ کن جنگ میں نکلا۔ 1965 کی جنگ اور الیکشن میں حاصل ہونے والی نام نہاد کامیابی کے بدولت ایوب خان صدارتی عہدے پر براجمان ہوگیے۔ مگر اب وہ امریکا سے ناراض تھے۔ 60ء کی

Read more

دل پر اب الہام اترتے ہیں عذابوں کی طرح

بہت دنوں کے بعد ہفتے کے روز فیس بک کھولی تو وہاں سرمدؔصہبائی نے اپنی ایک تازہ غزل لگائی ہوئی تھی ۔اسے دیکھنے کے بعد رات گئے تک اس کے طلسم میں کھویا رہا۔ مذکورہ غزل نے چونکا دینے کے علاوہ کافی طمانیت اس وجہ سے بھی فراہم کی کہ سرمدؔ صاحب میرے دیرینہ دوستوں میں شامل ہیں۔کئی حوالوں سے وہ میرے اُستاد نہیں تو ہر صورت رہ نما تو ہیں۔ زندگی میں کچھ نہ کچھ کرنے کی تڑپ کے

Read more

انصار عباسی نے لڑکی دیکھ کر حق بیان کیا

انصار عباسی نے پی ٹی وی پر ایک لڑکی کو ورزش کرتے دیکھ کر وزیراعظم عمران خان، چیئرمین سی پی جنرل ر عاصم سلیم باجوہ اور شبلی فراز کو متوجہ کیا اور بتایا کہ یہ پی ٹی وی ہے۔ گو ہماری نوجوانی میں یہ رویہ عام تھا کہ کسی جگہ کوئی قابل توجہ حسینہ دکھائی دیتی تھی تو لڑکے اپنے دوستوں کو بھی متوجہ کیا کرتے تھے کہ وہ محروم نہ رہ جائیں، مگر ہماری رائے میں اب عمر کے جس حصے میں انصار عباسی صاحب ہیں، ان کے متوجہ کرنے کا مقصد محض دوسروں کو فحاشی سے روکنا ہی ہو گا۔

ہم پورا پروگرام تو نہیں دیکھ سکے جو غالباً عباسی صاحب نے اپنا ولولہ انگیز تبصرہ کرنے کے لیے بغور دیکھا ہو گا، مگر جو دیکھا وہ واقعی قابل اعتراض ہے۔ یعنی ایک جوان عمر خاتون، بلکہ خاتون کیا لڑکی کہیے، پاجامہ اور فل بازو والی ٹی شرٹ پہنے ٹی وی پر ورزش کر رہی ہے۔ کیا اسے مشرقی اقدار کا ذرا خیال نہیں؟ کیا وہ نہیں جانتی کہ مشرقی خواتین کبھی اس قسم کی مغربی ورزش نہیں کرتیں؟ اگر وہ یہ چونچلے کرنے کی بجائے وہ بی بی اپنے گھر کا جھاڑو پوچا کرے، کپڑے دھوئے اور کھانا پکائے تو کیا اس سے بہتر ورزش نہیں ہو جائے گی؟

Read more

فوج اور سیاست: اونٹ پہاڑ کے نیچے

اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں نواز شریف کی دوٹوک اور بیباک تقریر سے پاکستانی سیاست میں جھٹکوں کی امید تو کی جارہی تھی۔ وزیروں کے رد عمل اور ملک دشمنی کے طعنوں سے حکومت کی بدحواسی کا اظہار بھی ہورہا تھا لیکن یہ اندازہ کرنا ممکن نہیں تھا کہ اس تقریر سے ایسا بھونچال برپا ہوگا کہ خود پاک فوج کے ترجمان کو ’حقائق ‘ بتانے کے لئے اے آر وائی نیوز کو انٹرویو دینا پڑے گا۔ اور بتانا

Read more

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں

ہمارے ہونے میں تو ہمارے اماں ابا کا دخل ہے ہی لیکن ہم جیسے ہیں، اس میں بھی ان کا کافی دخل ہے۔ اب یہی دیکھ لیجیے کہ جب ہم بچے تھے تو ہمیں یہی نہیں بتایا گیا کہ ہماری ذات کیا ہے، ہمیں یہ بھی نہیں بتایا گیا تھا کہ شیعہ سنی کا کیامسئلہ ہے۔ ہمیں کبھی یہ سوچنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی کہ ہم شیعہ ہیں یا سنی۔ جب بھی ایسی کوئی بات ہوئی تو امی

Read more

شکیل پٹھان کی بائیسویں برسی کے موقع پر

پاکستان کے اقتداری ڈھانچے کے دو ادوار ہیں۔ پہلے ڈھانچے میں بھارت کے اترپردیش سے آئی بیوروکریسی نے پنجاب کی بیوروکریسی سے اتحاد کیا، جاگیردار اور مذہبی قوتیں اس کی فطری اتحادی بن گئیں، پچاس کی دہائی میں فوج اس اتحاد کا حصہ بنی، جس نے تیزی سے اس پر کنٹرول حاصل کر لیا، بعد کے آنے والے برسوں میں شہری صنعت کار بھی اس گروہ کا حصہ بن گئے۔

دوسرا دور بھٹو کا دور تھا۔ ان کی حکومت صرف دو سال ہی اپنے اختیار کے تحت چلی، جس کے بعد پاکستان کی فوج نے خود ملکی معاملات کو سنبھالنا شروع کر دیا، اور اگلے چند سالوں میں مکمل طور پر واپس اسی قوت سے موجود نظر آتی ہے۔

Read more

ٹرمپ کی چین پر چڑھائی

جی ہاں امریکی صدارتی انتخاب تک پہنچنے میں فقط پانچ ہفتوں کا فاصلہ رہ گیاہے۔ اسے ذہن میں رکھیں تو ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے پیر کی شام جو خطاب کیا اسے انتخابی مہم کا حصہ قرار دے کر نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔امریکی اشرافیہ کی سوچ اور ترجیحات سے تھوڑی آگہی کے سبب اگرچہ میں اس تقریر کو نہایت سنجیدگی سے لینے کو مجبور ہوں۔ میری دانست میں اس تقریر کے ذریعے امریکی صدر

Read more

جماعت اسلامی اپوزیشن کی اے پی سی میں کیوں شریک نہیں ہوئی؟

جماعت اسلامی جو ہر دور میں خود کو عوام دوست اور جمہوریت کا داعی قرار دیتی رہی ہے، نے اتوار کو حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ کرنے والی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے انکار کیا تھا۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے یہ کہا گیا تھا کہ ملک کی دونوں بڑی اپوزیشن پارٹیاں دراصل حکومت کی بی ٹیم کی حیثیت رکھتی ہیں اور ملک میں سامراجی ایجنڈا نافذ کرنے کے لئے تحریک انصاف کا ساتھ دے رہی ہیں۔

Read more

آگے آگ کا دریا ہے

میاں نواز شریف کا اے پی سی خطاب غیر متوقع، ہوش رہا اور بعض حلقوں کے نزدیک مجنونامہ مگر جرات مندانہ تھا۔ بادی النظر میں یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا کہ نواز شریف نے بے حد حساس معاملات کو موضوع گفتگو بنایا ہے۔ 1993ء میں صدر غلام اسحاق کے ہاتھوں اپنی برطرفی سے قبل انہوں نے ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر نے ایوان صدر کے مقدس مقام کو سازشوں کے ذریعے ناپاک

Read more

بنگلا دیش کی عدلیہ پاکستان کے راستے پر

پاکستان میں تو انتظامیہ اور عدلیہ کی رسی کشی کی تاریخ خاصی پرانی ہے مگر اب لگتا ہے بنگلا دیش بھی اسی راستے پر چل رہا ہے۔ کچھ عرصے پیشتر بنگلا دیش سے یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ وہاں کے چیف جسٹس سریندر کمارسہنا نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ گوکہ اس بارے میں اتنظامیہ اور عدلیہ دونوں نے زیادہ تفصیلات نہیں بتائیں پھر بھی اس اعلان کے پیچھے بہت کچھ پوشیدہ ہے۔ سریندر کمار سہنا بنگلا دیش کے پہلے

Read more

کافر کافر کی واپسی

کراچی میں امیر یزید کے نعرے لگے تو اگلے دن پھر بین الاقوامی سازش کہہ کر تسلی دی گئی۔ یہ تکلف نہیں کیا گیا کہ بتایا جائے کہ یہ نعرہ کہاں بیٹھ کر کس نے ایجاد کیا۔ دو دن بعد اسلام آباد میں یہ مطالبہ بلند ہوا کہ شیعوں کے ساتھ وہی کیا جائے جو احمدیوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔ پڑھیے محمد حنیف کا تازہ کالم۔

Read more

مسئلہ عمران یا اس کی حکومت نہیں ہے۔۔۔

حکومتی وزرا اور مشیروں کی تمام تر موشگافیوں کے باوجود اے پی سی منعقد ہوگئی اور ایسی منعقد ہوئی کہ جس کی توقع نہیں کی جارہی تھی۔ غیریقینی صورتحال اس لیے بھی تھی کہ مولانا فضل الرحمن کسی واضح یقین دہانی کے بغیر اے پی سی میں شرکت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ وہ اس کانفرنس میں جے یو آئی کا وفد بھیجنے کا سوچ رہے تھے کہ بلاول بھٹو زرداری ان سے ملے اور ان کو اے پی

Read more

مرتضیٰ بھٹّو: ذوالفقار علی بھٹّو کے ’حقیقی سیاسی جانشین‘ جو اپنی ہی بہن بےنظیر کے دورِ حکومت میں مارے گئے

والد کی پھانسی بعد مرتضیٰ بھٹّو اور ان کے بھائی شاہنواز نے ذولفقار علی بھٹو کی موت کا بدلہ لینے کی ٹھانی اور مبینہ طور پر ’الذوالفقار‘ نامی تنظیم قائم کی۔ البتہ مرتضیٰ بھٹو کا خاندان اس حوالے سے ان کا دفاع کرتے ہوئے آج تک اس بات کی تردید کرتا ہے کہ ان کا اس نظیم سے کوئی تعلق تھا بھی یا نہیں۔

Read more

وہ گروہ جو بار بار قتل ہو کر فرقہ واریت کو فروغ دیتا ہے

اپنی فطرت کے برعکس یا کسی مصلحت کی خاطر میں کسی معاملے پر غیر جانبدار یا نیوٹرل بننا بھی چاہوں، تو ایلی ویزل کا پڑھا ہوا ایک قول سامنے آ جاتا ہے کہ ”ہمیں ہمیشہ مظلوم طبقے کا ساتھ دینا چاہیے، غیرجانبداری اور خاموشی ظالم کو طاقتور بناتی ہے“۔

اور یہ لکھنے کا باعث یہ ہے کہ ہر سال کی طرح کوہاٹ (در عباس۔ استرزئی) کے لئے رخت سفر باندھا کہ جو روحانی سکون وہاں جاکر محسوس ہوتا ہے کہیں اور نہیں ملتا، پر روانگی سے قبل اطلاع ملی کہ فرقہ وارانہ حملوں اور مزید تصادم کے خدشے کی وجہ سے زیارت بند کردی گئی ہے اور ان علاقوں میں ٹرانسپورٹ بھی آج کل کچھ شدید متعصبانہ نگرانی کے زیر اثر ہے۔ خبر سن کر کچھ دھچکا لگا کیونکہ گزشتہ دو تین ہفتوں میں یکے بعد دیگرے ایسے واقعات مسلسل دکھائی اور سنائی دے رہے ہیں، کچھ دن ضبط کیا کہ اس موضوع پر کچھ لکھا یا سوچا تک بھی نہ جائے کہ خاموشی سے شاید مسائل کا بہتر حل نکلتا ہو۔

Read more

شریعت الہی، فقہی قانون یا سیکولر قانون

شرعی قانون کی بنیادی شرط عدل و انصاف ہے۔ اگر ایک نظام قرآن و سنت پر مبنی ہونے کا دعوی کرے مگر اس کا نفاذ عدل کے بجائے ظلم کو فروغ دے تو وہ شرعی نظام نہیں ہو سکتا۔ اگر فقہی قانون کو دیکھا جائے تو پرانے زمانے کے فقہا نے قرآن و حدیث کی تشریح کر کے فقہی قانون ترتیب دیا۔ ان فقہا کی ذہنی استعداد اس زمانے کے لحاظ سے شاید قابل رشک ہو لیکن آج انسانی علم ترقی کرچکا ہے اور آج کے معیار کے مطابقت میں قدیم فقہا کی ذہنی استعداد بے انتہا محدود تھی۔

Read more

وزیراعظم عمران خان کے نام ایک کھلا خط

جناب وزیر اعظم! آپ کو پہلی دفعہ خط لکھ رہا ہوں, اس لیے پہلے میں اپنا تعارف کروا دوں۔ انتہائی کم عمری میں جب میری سیاسی تربیت ہو رہی تھی تب آپ کرکٹ کی دنیا کے چمکتے ستارے تھے۔ پاکستان میں مارشل لا لگا ہوا تھا اور فوجی حکومت ہر سیاسی آواز کو دبانے میں مصروف تھی۔ ٹی وی پر اناؤنسرز اور نیوز کاسٹرز کو اسلام کے نام پر دوپٹہ اوڑھنے کا حکم تھا مگر آپ کو’اسلامی دور‘ میں کھلی

Read more

ملک میں کیا جنسی ہراسانی کے واقعات کم ہوں گے۔

پھر ایک اور بنت حوا زیادتی کا شکار ہو گئی۔ موٹر وے پر مشکل میں پھنسی ایک خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس وحشیانہ اقدام سے متاثرہ خاتون اندر سے کتنی ٹوٹ پھوٹ گئی ہے، وہ اور اس کے بچے کتنے بڑے نفسیاتی مسائل کا شکار ہو گئے ہیں اس کا اندازہ کسی کو نہیں ہے۔ انصاف ملنا تو دور کی بات ہے ان کے اور ان کے خاندان کی ہنستی بستی زندگی

Read more

چراغ سب کے بجھیں گے، ہوا کسی کی نہیں

پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ ایک بار پھر سلگ رہی ہے۔ یہ فتنہ جو کچھ عرصہ دبائے رکھا گیا تھا ایک بار پھر سر اٹھانے لگ گیا ہے۔ فرقہ واریت کا لاوا جب پھوٹتا ہے تو یہ بہتا ہے، اور بہتا چلا جاتا ہے۔ یہ سونامی جب آتی ہے تو فتنہ و فساد اور قتل غارت بھی ساتھ لاتی ہے۔ پاکستان میں فرقہ واریت کی یہ آگ آج کی لگائی ہوئی نہیں بلکہ اس کی ایک تاریخ ہے۔ ویسے

Read more

اسرائیل کو تسلیم کرنے میں پاکستان کا فائدہ ہے

ایک تھا مشرقی پاکستان، وہ ہمارا تھا۔ پھر اس نے نام بدل لیا اور ہمارا بھی نہ رہا۔ وہ جدا کیوں ہوا؟ یہ کہانی بہت بار دہرائی جا چکی ہے۔ ہم اپنے جانی دشمن بھارت کو الزام دیتے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ جو ہمارے تھے، ہم سے خفا تھے ان کے دل ٹوٹ چکے تھے۔ بھارت سے مدد لے کر انہوں نے خود کو ہم سے الگ کر دیا۔ اپنا نام تک بدل لیا۔ بنگلا دیش۔ اور

Read more

زنا ، زنا بالجبر اور عورت کی حیثیت طے کرتے قوانین پر ایک نظر

جب پاکستان اس خطے پر ابھر تو اس نے ایسے قوانین کو اپنایا جو برصغیر پاک و ہند میں پہلے سے موجود تھے اور پاکستانی سول اور فوجداری ضابطے کے قانون بھی اسی روایت کا حصہ بن گئے۔ ریپ کے لیے قانون سازی ان اپنائے گئے قوانین کا ایک حصہ تھا۔ 1979 میں اس وقت تنازعہ کھڑا ہوا جب فوجی آمر جنرل ضیا الحق، جس نے پاکستان میں اسلامی قانون کے انتہائی قدامت پسند اور متنازعہ ورژن کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، ایک ایسا قانون نافذ کیا جس کی سزا ہم اب بھی بھگت رہے ہیں۔

اس قانون کا سب سے زیادہ تباہ کن نتیجہ 1979 میں حدود آرڈیننس کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ حدود آرڈیننس پانچ ایسے آرڈیننس کا مجموعہ ہے جن پر پارلیمنٹ میں کبھی بحث نہیں ہوئی۔ قومی بحث و مباحثے کے بغیر کوئی بھی قانون لاگو کرنا مارشل لا رجیم کا یوں بھی خاصہ رہا ہے۔ اقتدار میں غیر قانونی تسلسل کا جواز پیش کرنے کا یہ ایک عامیانہ سا حربہ ہوتا ہے۔

Read more

گلگت بلتستان کا مختصر سیاسی ارتقا (دوسری قسط)

ایک وقفے کے بعد گلگت بلتستان اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ ”گلگت بلتستان کا مختصر سیاسی ارتقا“ کا آج پھر سے مطالعہ کرنے کا اتفاق ہوا۔ رپورٹ کا دیباچہ، اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی کا پیغام اور ابتدائیہ تقریباً ایک دوسرے سے مماثل ہیں۔ نچوڑ یہی کہ گلگت بلتستان پر کئی سو سالوں سے راجوں اور سرداروں کی حکمرانی رہی۔ 1381 میں یہاںاسلام کی آمد ہوا۔ وقت کے ساتھ ساتھ علاقے میں اسلامی معاشرے کی بنیاد ڈالی گئی۔ مگر

Read more

لاہور موٹروے ریپ کیس: پاکستان میں ریپ جیسے جرائم کے لیے کس قسم کی قانون سازی کی ضرورت ہے؟

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں جرائم کی روک تھام کے لیے سزاؤں کا اذیت ناک اور سنگین ہونا ضروری نہیں بلکہ سزا کا یقینی ہونا بہت ضروری ہے اور ملک کے نظام عدل میں سائنسی بنیادوں پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔

Read more

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 377 کا خاتمہ کیوں ضروری ہے؟

پاکستان میں خوف کا بیانیہ مقبول ہے۔ خوف غیرقانونی حکومتوں کا کارگر ہتھیار ہے۔ جنرل ضیا نے اقتدار پرقبضہ تو کر لیا تھا مگر مرتے دم تک خوف میں رہے۔ اسی خوف کو انہوں نے اپنا ہتھیار بنایا اور خوف کو اسلامی لبادہ پہنا کر ظلم و جبر کے حربے آزماتے رہے ہیں۔ ملک وقوم آج بھی نتائج بھگت رہی ہے۔ خوف، ظلم اور جبر قوموں کی زندگیوں کو تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔ موجودہ عہد انسانی حقوق اور

Read more

ہم کیا ہیں؛ انپڑھوں کی منڈی

تعلیمی اداروں کو مرحلہ وار کھولنے کا آغاز ہوچکا ،دفتر آتے ہوئے گورنمنٹ ٹیکنالوجی کالج رائے ونڈ روڈ کے بچوں کو دیکھ کر خوشی ہوئی ،ان کی صحت و سلامتی کے لئے بے ساختہ دعا نکلی۔دھیان تعلیمی ناکامیوں اور حکومتوں کی کوتاہی کی طرف ہو گیا۔کچھ منصوبوں کے بارے پڑھا ،کچھ کا حشر نشر ہوتے خود دیکھا ۔تعلیم بالغاں سے لے کر نئی روشنی سکول اور پھر مسجد سکول جیسی کتنی ہی سکیمیں آئیں جن کے لیے عالمی اداروں نے

Read more

پاکستان میں صحافتی کتب کا سرمایہ

اس سلسلے کے پہلے حصے کا عنوان تھا ”پاکستان میں صحافتی کتب کا المیہ“ جو جولائی میں پیش کیا گیا تھا۔ اس میں ہم نے چند ایسی کتب کا جائزہ لیا تھا جو پاکستان میں جامعات کی سطح پر پڑھائی جارہی ہیں۔ پاکستان میں صحافت کے طلبا و طالبات کو جو کتابیں اردو میں پڑھائی جارہی ہیں ان کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ان میں صرف ایک ہی نقطہ نظر کو بیان کیا جاتا ہے اور مطالعہ

Read more

نوجوان طالب علموں کے مسائل

1945۔ 46 کے الیکشنز جیتنا یا ہارنا مسلم لیگ کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ اگرچہ قائداعظم اور مسلم لیگ نے 1940 کے بعد ہی نوجوانوں کو اپنی ٹارگٹ آڈئینس بنا لیا تھا اور وہ انہیں دو قومی نظریہ اور پاکستان بنانے کی ضرورت و اہمیت زمینی حقائق کے ساتھ سمجھا رہے تھے اور نوجوانوں کو اپنے علاقوں میں اس کی کمپین کرنے کا ٹاسک دے رہے تھے ’مگر ان الیکشنز کی خاص بات یہ تھی کہ اگر

Read more

کتا دریا کی طرف گیا ہی کیوں تھا؟

کسی ماں کے لیے اس سے زیادہ اذیت ناک مرحلہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کی اولاد کے سامنے اس کا دامن تار تار کر دیا جائے۔ یہ درندگی کی انتہا سے بھی کوئی پرے کی چیز ہے کہ اولاد کو سامنے کھڑا کیا جائے اور ان کی ماں کی عزت کا تماشا لگایا جائے۔ بلا شبہ جس طرح ان درندوں نے اولاد کے سامنے ممتا کو ذلیل کیا، ان کی جنت کی بے توقیری کی اور ان کی

Read more

اسرائیل اور عرب ممالک میں امن معاہدے: کیا تل ابیب کو تسلیم نہ کر کے پاکستان غلطی کر رہا ہے؟

متحدہ عرب امارات اور بحرین کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد یہ بحث بھی چل نکلی ہے کہ کیا پاکستان کو بھی اسرائیل سے اپنے تعلقات قائم کر لینے چاہیے۔

Read more

شیعہ اور سُنی نوجوان عقل کا دامن پکڑیں

یہ ستمبر 2012 کی بات ہے۔ میری شدید مشکلات کے دن تھے اور اسلام آباد جیسے شہر میں زندہ رہنے کی جہد میں مبتلا تھا۔ انہی دنوں، میں اسلام آباد سے شائع ہونے والے اک انگریزی اخبار میں کالم نویسی کرتا تھا۔ ستمبر کے مہینے میں ڈنمارک میں شائع ہونے والے اک اخبار میں آقا محمدﷺ کے خاکوں کے خلاف اسلام آباد میں احتجاج کا موسم تھا۔ میں اس معاملہ کو اک طالبعلم کی حیثیت سے دیکھ رہا تھا۔

انہی دنوں اک بڑے احتجاجی جلوس کا اعلان ہوا تو میں نے سوچا کہ جلوس کا حصہ بن کر، اس کے شرکاء سے گپ شپ کرتے ہوئے ان کے خیالات کے بارے میں تو کچھ جانا جائے۔ میں فیض آباد سے جلوس کا حصہ بنا اور راول ڈیم چوک تک ساتھ رہا۔ اس جلوس میں میری تقریباً ایک درجن شرکاء سے گفتگو رہی، اور میں یہ بات حلفا کہہ رہا ہوں کہ ان تمام کو موضوع کی جزئیات کا کچھ معلوم نہ تھا اور وہ راولپنڈی کے اک محلہ، صادق آباد سے مولوی صاحب کے کہنے پر جلوس کا حصہ بنے تھے جس کے اختتام پر انہیں پلاؤ کھلایا جانا تھا۔

Read more

کسی راؤ انوار کی تلاش؟

’’پولیس کا ہے فرض، مدد آپ کی‘‘ ، آمر مطلق جنرل ضیاء الحق کے دور میں یہ سلوگن خاصا مشہور ہواتھا۔ اس سے پہلے کے ادوار اور آج کل بھی پولیس غریب عوام کی چھترول کر کے ہی ’’مدد‘‘ کرتی آ رہی ہے۔ پولیس، برسراقتدار سیاستدانوں اور مافیاز کے درمیان گٹھ جوڑ کمزور ہونے کے بجائے مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ ریاست مدینہ کے داعی اور تبدیلی کے پیامبر عمران خان کے اقتدار میں

Read more

کیا ہم پنجرے میں بند مرغیاں ہیں؟

آج منظر یہ ہے کہ لاہور سیالکوٹ موٹر وے ریپ کیس پر بڑے شہروں میں صرف خواتین کے جلوس نکل رہے ہیں جیسے یہ صرف انھی کا مسئلہ ہو۔ ہر قومیت، فرقے، مسلک اور زبان بولنے والے کو اپنے اپنوں کے سوا اردگرد کے دیگر مسائل زدہ پاکستانی طبقات نظر آنے بند ہوتے چلے گئے ہیں۔

Read more

مشرق وسطیٰ کے باشندے کشمیر کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

قیام پاکستان کے وقت سے ہی کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک خصوصاً فلسطین اور مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک سے یکجہتی اور اسرائیل سے متعلق پاکستان کی پالیسی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ پاکستان کے پاسپورٹ پر اسرائیل پر سفر کرنے کی ممانعت آج بھی ثبت ہے۔ عرب اسرائیلی جنگوں کے دوران پاک فضائیہ کے ہوا بازوں کے معرکے تاریخ کا حصہ ہیں۔ حکومتی پالیسیوں کے علاوہ بھی عام

Read more

ریپ کے لیے سازگار فضا

چلیں جی سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی یہ بات مان لیتے ہیں کہ بدھ کو علی الصبح لاہور سیالکوٹ ایم الیون موٹر وے پر جس خاتون کا اس کے دو بچوں کے سامنے مسلح افراد نے ریپ کیا ، تشدد کیا ، سامان لوٹا اور فرار ہو گئے تو اس میں بنیادی غلطی عورت کی ہے۔ اس عورت کو دو چھوٹے بچوں کے ساتھ آدھی رات کو سنسان موٹر وے پر سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

Read more

ناصر شیرازی بطور میجر عزیز بھٹی: فوجی ہیرو کے کردار کے لیے کئی برس کا انتظار اور حقیقی تربیت

بعد از وفات شانِ حیدر کا اعزاز حاصل کرنے والے میجر عزیز بھٹی کی زندگی پر بننے والا ڈرامہ نشانِ حیدر مصنوعی سیٹ کے بجائے جہاں واقعات رونما ہوئے ان حقیقی جگہوں پہ فلمایا گیا اور اس ڈرامے میں مرکزی کردار نبھانے والے ناصر شیرازی نے فوجی کی حیثیت سے سخت تربیت بھی حاصل کی۔

Read more

فہمیدہ ریاض: ڈرو مت، پورا سچ بدصورت نہیں ہوتا

خبر پڑھی کہ معروف شاعرہ فہمیدہ ریاض کی بیٹی نے ملک میں صحافیوں اور ادیبوں کے اغوا اور تشدد کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنی مرحومہ والدہ کے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ صدارتی ایوارڈ لینے سے انکار کردیا۔ بہادر ماں کی بہادر بیٹی۔ خود فہمیدہ کے اپنے الفاظ ہیں۔ "فنکار کو اپنے فن کے ساتھ مکمل طور پر مخلص اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ میرے لیے فن مقدس ہے” فہمیدہ ریاض سے

Read more

یا اللہ! یا رسول! عاصم باجوہ بے قصور

سی پیک پاکستان کے عوام کی خوش حالی کا وہ منصوبہ ہے، جس کا سن کے بھارتی پردھان منتری مودی کو ایک رات بھی چین کی نیند نہیں آئی۔ ادھر اسرائیل نے بھی امریکا کو دھمکی دی کہ اگر سی پیک منصوبہ مکمل ہو گیا، تو تمام یہودی امریکا سے اپنا سارا سرمایہ نکال لیں گے۔ یہ تو پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے، امریکا کو یہودی کنٹرول کرتے ہیں، تو امریکا نے سی آئی اے میں اینٹی سی پیک

Read more

آصف فرخی: بس دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا

یہ 1978ء کی بات ہے جب میں ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی میں سال آخر کا طالب علم تھا اور طب کی تعلیم حاصل کرنے سے زیادہ ملک میں سوشلزم کے نفاذ میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب میں اور میرے جیسے بہت سے طالب علم دن میں جاگتے ہوئے اور رات میں سوتے ہوئے خواب دیکھتے تھے کہ پاکستان میں ایک انصاف پر مبنی غیر طبقاتی سماج کا ظہور ہونے والا ہے جہاں انصاف کا بول

Read more

کسی انہونی تک یہ انتظام چلتا رہے گا

وزیر اعظم عمران خان نے ایک حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ ان کے فوج کے ساتھ تعلقات بہت خوشگوار ہیں، غالباً اپوزیشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ لوگوں کی بڑی خواہش ہے کہ ان کے فوج کے ساتھ تعلقات خراب ہوجائیں۔ خان صاحب نے یہ کوئی بڑی خبر نہیں دی۔ ہر ذی شعور پاکستانی کو علم ہے کہ موجودہ حکومت اور افواج پاکستان ایک ہی صفحے پر ہیں۔ ماضی کی سویلین

Read more

نوشابہ کی ڈائری 17: عظیم طارق کے قتل پر ہر ایک دکھی ہے

اس شہر کی قسمت میں شاید یہی ہے، مکمل سناٹا یا پھر گولیوں کی دل دہلاتی آواز۔ کئی مہینے ایسا سکوت رہا کہ آپریشن کرنے والوں کے امن قائم کردینے کے دعوے پر یقین آنے لگا تھا۔ ہم لوگ بندوقوں کی دھائیں دھائیں اور موت کی خبروں کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ کچھ دن گولی نہ چلے اور کسی کے قتل کی اطلاع نہ ملے تو طبیعت بے چین ہوجاتی ہے، لگتا ہے اب کچھ زیادہ برا ہونے والا ہے۔

ذیشان کو آنے میں ذرا دیر ہو جائے تو میں اور میری ساس پریشان ہوجاتی ہیں۔ ذیشان کچھ بدلے بدلے سے لگنے لگے ہیں۔ انھیں غصہ بہت کم آتا تھا، ہر وقت ہنساتے ہنساتے رہتے تھے، بے فکر، اپنی ذات اور میری اور گھر والوں کی محبت میں مگن، مگر اب خاموش اور بے زار سے رہتے ہیں، بات بات پر چیخ پڑتے ہیں، پھر معافیاں مانگ مانگ کر مجھے مناتے ہیں۔ جب انھیں پتا چلا تھا کہ باپ بننے والے ہیں تو کتنا خوش تھے، کبھی میرے لیے پھل لا رہے ہیں کبھی ناریل کا پانی ”پیو پیو، بچہ گورا ہوگا“ مجھے زبردستی پلاتے، خوش تو اب بھی ہیں، میرے کھانے پینے کا خیال بھی اسی طرح رکھتے ہیں، لیکن وہ بات نہیں۔ شاید وہ واقعہ ان پر بہت اثرانداز ہوا ہے۔

Read more

سیاست دان دوسروں کی صفائیاں دینے پر کیوں مجبور ہوتے ہیں؟

الماری میں پڑی گرد آلود تاریخ کی کتب کو جھاڑ کر مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ وطن عزیز میں جب بھی جرنیلوں پر کرپشن کے الزامات لگے ان کے دفاع میں سیاست دان سینہ تان کر کھڑے ہو گئے جب جب جنرل ایوب خان سے لے کر جنرل عاصم باجوہ تک جرنیلوں کے دامن کرپشن کے الزامات سے آلودہ ہوئے ان کی ڈھال سیاست دان ہی بنے۔

قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب ”شہاب نامہ“ میں لکھتے ہیں کہ جنرل ایوب نے جب اپنے پسر گوہر ایوب کے نام پر گندھارا انڈسٹری کا معاملہ میڈیا کی زینت بنا تو صدر کے وزیروں اور رفیقوں میں کوئی ایسا نہ تھا جو انھیں اس سے باز رکھتا۔ سب لوگ انھیں ایڑ لگا لگا کر اسی راستے پر گامزن رکھنا چاہتے تھے جو انھوں نے غلط طور پر اختیار کیا تھا۔ اس وقت کے وزیرخزانہ مسٹر محمد شعیب نے ایک پریس کانفرنس منعقد کی اور اعداد و شمار کی شعبدہ بازی سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ گندھارا انڈسٹری کی تجارتی کارروائی میں ہر گز پیچیدگی نہیں اور یہ انتہائی کھرا، بے لاگ اور صاف سودا ہے۔ ایک وزیر نے اسمبلی کے ایوان میں کھڑے ہو کر یہاں تک اعلان کر دیا اگر صدر مملکت کا بیٹا گندھارا انڈسٹری کا حقدار نہیں تو اسے کسی یتیم خانے میں داخل کر دیا جائے۔ ہر وزیر اخبار والوں پر حسب توفیق لعن طعن کر رہا تھا کہ گندھارا انڈسٹری کی آڑ میں قومی صحافت سربراہ مملکت کے وقار کو مجروح اور پاکستان کی بنیادوں کو کمزور کرنے میں مصروف عمل ہے۔

Read more

مرغزار چڑیا گھر سے کاون کی منتقلی: کیا کاون کو 35 برس بعد اسلام آباد سے کمبوڈیا منتقل کرنے کا عمل محفوظ ہے؟

پاکستانی حکومت آج کل کاون کو کمبوڈیا بھیجنے کی تیاریوں میں مصروف ہے جبکہ ماہرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا کاون کی 35 برس بعد کسی دوسرے ملک منتقلی کاون کے فائدہ مند ہے بھی یا نہیں۔

Read more

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے خواتین قیدیوں کی رہائی کے احکامات، کون کون رہا ہوگا؟

عمران خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ معمولی نوعیت کے جرائم میں ملوث خواتین قیدیوں کی رہائی کی ہدایات وزارت انسانی حقوق اور اٹارنی جنرل سے مشاورت کے بعد جاری کی گئی ہیں۔

Read more

احمد نورانی کی خبر اور دو نمبر جمہوریت‎

کئی دنوں سے خیال تھا کہ دو نمبر جمہوریت کے نعرے یا دلیل کی حقیقت واضح کروں اور عرض کروں کہ جس چیز کو تحریک انصاف دو نمبر جمہوریت کہتے نہیں تھکتی تھی اس کا مطلب در اصل کیا ہے۔ شکر گزار ہونا چائیے احمد نورانی کا جنہوں نے اس مطلب کو ثبوت کے ساتھ سب کے سامنے رکھ دیا اور دو نمبر جمہوریت کی وضاحت کر دی۔ جن دوستوں کے لئے یہ تصویر ابھی تک ادھوری ہے اسے میں

Read more

اوچ شریف: میونسپلیٹی سے ٹاؤن کمیٹی کا سفر معکوس؟

12 اگست 2020 ء کو سوشل میڈیا کے ذریعے وائرل ہونے والے ایک سرکاری نوٹیفیکیشن نے اہل اوچ کو حیران و پریشان کر کے رکھ دیا۔ 10 اگست کو سیکرٹری پنجاب لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی طرف سے جاری کیے گئے اس نوٹیفیکیشن میں میونسپل کمیٹی اوچ شریف کو ٹاؤن کمیٹی کا درجہ دے دیا گیا تھا۔ 1979 ء کے بعد یہ دوسری بار ہوا کہ اوچ نے میونسپلیٹی سے ٹاؤن بننے کی ”ترقی

Read more

جنرل وحید کاکڑ: جرنیل ایسے بھی ہوتے ہیں

ہمارے جرنیل پرشکوہ اور شاندار بھی ہوتے تھے بہت زیادہ مدت نہیں ہوئی پشتون جرنیل جنرل عبدالوحید کاکڑ ایسے چیف بھی ہو گذرے ہیں جو پلیٹ میں سجے اقتدار کو آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں اور اصرار کے باوجود مدت ملازمت میں توسیع پر بھی آمادہ نہ ہوں جو شام کے کھانوں اور سماجی تقریبات سے کوسوں دور اپنے بچوں اور احباب میں پر سکون زندگی کو ہر چیز پر ترجیح دیتے ہوں، جرنیل ایسے بھی ہوتے ہیں ۔ ‎جنرل

Read more

نواز شریف اور عمران خان کی پراگریس ٹرینڈ لائنز

اسی کی دہائی میں انجینئرنگ کی تعلیم جس ادارے سے حاصل کی، وہاں اس زمانے میں بھی سمیسٹر سسٹم رائج تھا۔ سمیسٹر کے اختتام پر خراب رزلٹ کی صورت میں سٹوڈنٹ کے مستقبل کا فیصلہ ہوا کرتا۔ اس کے لئے ایک پالیسی وضع تھی، مگر اس پالیسی پر من و عن عمل کی بجائے سٹوڈنٹ کو کمانڈانٹ کی سربراہی میں قائم ایک فیکلٹی کی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جاتا، جہاں وہ اپنی خراب پرفارمنس کا دفاع کرنے کی کوشش کرتا۔ گاہے بگاہے کسی سٹوڈنٹ کی قسمت یاوری کرتی اور پالیسی کے برعکس بھی اسے کچھ ریلیف مل جاتا۔

اس ضمن میں ایک متھ مشہور تھا، کہ فیکلٹی کمیٹی آپ کی سمیسٹر کے دوران پراگریس دیکھتی ہے، اگر شروع میں اچھی کارکردگی ہو مگر اختتام کے نزدیک پرفارمنس خراب ہو جائے تو اسے لاپرواہی کی نشانی سمجھتے ہوئے سخت فیصلہ ہوتا ہے، جبکہ اگر شروع میں پرفارمنس خراب ہو اور بتدریج بہتری ہو رہی ہو لیکن فائنل میں کچھ اونچ نیچ رہ جائے تو ہمدردانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے کچھ رعائت مل جاتی ہے۔ اس ساری تھیوری کو پراگریس ٹرینڈ لائن سے تعبیر کیا جاتا تھا، کہ اگر ٹرینڈ مثبت ہے تو بہتر، اور اگر ٹرینڈ منفی ہے تو معاملہ گڑبڑ ہے۔

Read more

بارشوں سے تباہی

اس کالم میں گزشتہ برس کے اپریل سے گندم کی فصل کے حوالے سے بے موسم کی بارشوں کا ذکر تواتر سے ہوا۔ چند قارئین اس کی وجہ سے ناراض بھی ہوئے۔شکایات شروع ہوگئیں کہ ان کی نظر میں ’’اہم ترین‘‘ سیاسی موضوعات کو نظراندازکرتے ہوئے میں ’’موسم کا حال‘‘ بتانا شروع ہوگیا ہوں۔ دورِحاضر کا کالم نویس سوشل میڈیا پر اپنی تحریروں کے لئے زیادہ سے زیادہ Likesاور Sharesحاصل کرنے کا محتاج ہے۔ چند دن ’’اڑی‘‘ دکھانے کے بعد

Read more

نوشابہ کی ڈائری: جو قائد کا غدار ہے، وہ موت کا حق دار ہے

12 اکتوبر 1991 اب یقین آیا کہ دنیا بہت چھوٹی ہے۔ صدام حسین نے قبضہ کیا ہے کویت پر، لڑ رہے ہیں سعودی حکم راں اور صدام حسین، حملہ کیا امریکا نے عراق پر، اور نام بدل گیا ہمارے ننھے منے فہد کا۔ میرے منہ پر اب تک اس کا نیا نام نہیں چڑھا ہے، اکثر اسے ”صدام“ کی جگہ ”فہد“ کہہ جاتی ہوں، اور تو اور خود بھائی جان جنھوں نے نام تبدیل کیا انھیں بھی اب تک اپنے

Read more

ارتکاز وجمود کا شکار سرمایہ اور ہماری معیشت

پاکستان کی معیشت کو اگر ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو یہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ اور عوام کا استحصال۔ ریاست اور سماج پر آج تک جن طبقات اور اداروں کا غلبہ رہا ہے، آج معیشت کی زبوں حالی اور غربت و تنگ دستی کا شکار عوام، ان ہی کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آج بھی ریاست کا اشرافیہ کی کی خدمت گزاری کا کردار اور معاشرے و سماج پر جاگیرداروں کا تسلط پوری طرح قائم ہے۔ اسٹیٹ بنک کے سابق گورنر عشرت حسین کی کتابPakistan The Eonomy of Elitist State کا بنیادی موضوع بھی یہی ہے۔

Read more

جب سنی محرم منایا کرتے تھے

زیادہ پرانی بات نہیں ہے۔ قوموں کی زندگی میں تیس پینتیس سال کی بھلا کیا اہمیت ہوتی ہے۔ 1979 کا تاریخ ساز اور تباہ کن سال گزرے نصف دہائی بیت چکی تھی مگر ابھی ہمارے معاشرے میں اس کا زہر سرائیت نہیں کر پایا تھا۔

ہمیں کوئی علم نہیں تھا کہ ہمارے ہم جماعتوں کا مسلک کیا ہے۔ مسلک کیا ہمیں تو ان کی ذات کے بارے میں بھی علم نہیں ہوتا تھا کیونکہ اس زمانے میں پنجاب یونیورسٹی کے یونی لیب سکول میں طلبا کو پہلے دو ناموں سے ہی پکارا جاتا تھا۔ ہمارے نام کے ساتھ خان نہیں لگتا تھا۔ ایسے میں جب پانچویں یا چھٹی جماعت میں ایک ٹیچر نے بے خیالی میں ایک ہم جماعت کا پورا نام پکار دیا تو سارے ہم جماعت بے تحاشا ہنسنے لگے۔ تنویر سعید باجوہ۔ باجوہ؟ باجوہ کیا ہوتا ہے؟ تنویر کے نام کے ساتھ یہ کیوں لگا دیا گیا ہے؟ باجوہ سے ملتا جلتا لفظ جو ہم بچوں نے اس وقت تک سنا تھا وہ باجرا تھا، یہی گمان گزرا کہ ٹیچر نے کچھ غلط پڑھ دیا ہے۔ معصومیت سی معصومیت تھی۔

Read more

طلبہ تنظیموں کی برکات

میرے ایک استاد محترم طلبہ تنظیموں کے بڑے معترف ہیں۔ وہ ایسے استاد نہیں کہ جن سے میں نے اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں کچھ پڑھا ہو بلکہ حقیقی معنوں میں وہ میرے گرو ہیں مگر ان سے بے حد متاثر ہونے کے باوجود میں کبھی بھی دل سے ان کے طلبہ تنظیموں سے متعلق موقف کی تائید نہیں کر پایا۔ وہ کہتے ہیں کہ طلبہ تنظیموں سے طلبہ کی سیاسی تربیت ہوتی ہے جس سے وہ بعد کی عملی سیاست کا حصہ بن کر اچھے اور تربیت یافتہ سیاست دان بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طلبہ تنظیموں کے انتخابات پر جنرل ضیا نے پابندی لگائی تھی کہ ملک میں سیاسی ذہن کو ہی نہ پروان چڑھنے دیا جائے۔ خیر میں جب یہ باتیں ان سے سنا کرتا تھا تب ہی میں خود جامعہ کراچی میں داخل ہوا۔ تب طلبہ سیاست پر پابندی تھی اور طلبہ تنظیموں کے جامعہ میں انتخابات پر پابندی لگے دو دہائیوں سے زائد وقت بیت چکا تھا۔ جامعہ میں داخلہ فارم کے ساتھ ہی ہم سے ایک حلف نامہ بھی جمع کرایا جاتا تھا کہ داخل ہونے والا کسی طلبہ تنظیم کا رکن نہیں۔

Read more

پرویز رشید نے راز سے پردہ اٹھا دیا

پاکستان کی تاریخ میں اعلیٰ عدلیہ اور فوج نے کئی بار بڑے بڑے معرکے سر کئے ہیں حتیٰ کہ آئین شکنی، مارشل لأ کے نفاذ اور دیگراقدامات کو ہمیشہ جائز قراردیا گیا۔ اس مقصد کے لئے 1950ء کی دہائی میں جسٹس منیر نے نظریہ ضرورت ایجاد کیا جو آج تک رائج ہے۔ جوڈیشل ایکٹوازم کے سرخیل افتخار محمد چوہدری اور جسٹس کھوسہ نے اعلان کیا تھا کہ نظریہ ضرورت کو دفن کردیا گیا ہے لیکن دونوں نے نظریہ ضرورت کا

Read more

اسرائیل میں قادیانی: عمران ریاض کے وڈیو پر تبصرہ

عزیزم مکرم عمران ریاض صاحب آپ کا اسرائیل میں قادیانیوں پر پروگرام ایک محب وطن پاکستان کی حیثیت سے کوئی بھی سنے تو اس کے جذبات کا انگیخت ہونا اس کے ایمان کا تقاضا ہے۔ اور اس حد تک تو بات جائز اور درست ہے لیکن اس خبر کی تصدیق آپ نے جن ذرائع سے کی ہے راقم ایک سابق فوجی کی حیثیت سے پہلے کر چکا ہے اورثابت ہوا ہے کہ یہ تدریجی جھوٹ یک طرفہ مشہور کیا جا

Read more

پاکستانی عوام اور خارجہ پالیسی: دل تو پاگل ہے

ہم جلد باز لوگ ہیں۔ بحثیت قوم ہمیں محبت بڑی جلدی ہو جاتی ہے۔ ذرا کسی نے تھوڑی سی اہمیت دی، ہم نے اسے پیار کا انداز سمجھ لیا۔ جب پاکستان بنا تو اس سے پہلے ہمیں کسی سے محبت ہوتی، ہم نے نفرت کرنا سیکھی۔ محمد علی جناح کا خیال اور گمان تھا کہ پاکستان الگ ملک بن بھی گیا، تب بھی انڈیا پاکستان تعلقات ایسے ہی رہیں گے، جیسے امریکہ اور کینیڈا کے ہیں۔ آنا جانا بھی آسان

Read more

نوشابہ کی ڈائری (13): ایک دوسرے کے اغوا شدہ کارکنوں کا آپس میں تبادلہ

کل پڑوس میں میلاد تھا، قادر کے آنے کی خوشی میں۔ وہ واقعی موت کے منہ سے نکل کر آیا ہے۔ جب پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ہاتھوں قادر کے اغوا کا پتا چلا تھا تو پہلا خیال یہی آیا تھا کہ اب اس کا زندہ واپس آنا ممکن نہیں، پڑوسن خالہ تو بیٹے کے اغوا کا سن کر نیم پاگل ہو گئی تھیں۔ پیپلز پارٹی کے مغوی کارکنوں کی ماؤں کا بھی یہی حال ہوا ہوگا۔ وہ تو فوج نے آگے بڑھ کر دونوں جماعتوں کے مذاکرات کرائے۔ پورے تین دن چلے تھے مذاکرات، جیسے دو ملک قیدیوں کے تبادلے کی بات چیت کر رہے ہوں، تینوں دن پڑوس میں آیت کریمہ کا ورد ہوتا رہا تھا۔

اخبار میں تھا کہ کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل آصف نواز کی ہدایت پر فوج بیچ میں پڑی پھر دونوں نے ایک دوسرے کے اغوا شدہ کارکنوں کا آپس میں تبادلہ کیا۔ کچھ ہی عرصے میں فوج نے یہ دوسری بار لوگوں کی جان بچائی ہے۔ پچھلے سال حیدرآباد پولیس نے لوگوں پر قیامت ڈھائی تھی تب بھی فوج ہی کام آئی تھی۔ غنی بھائی بتا رہے تھے کہ پولیس نے جب اچانک پکے قلعے کا محاصرہ کیا تو پہلے بجلی، پانی اور گیس کی فراہمی بند کردی۔ عورتیں بھوک سے روتے بلکتے بچوں کو لیے سروں پر قرآن رکھ کر رحم کی اپیل کرتی گھروں سے نکلیں لیکن رحم تو کیا کیا جاتا ان پر گولیاں برسا دی گئیں۔ پولیس والے دو دن تک پکا قلعہ گھیرے رہے تھے۔ آخر مکینوں کی بیس جانیں لے کر قلعہ فتح کر لیا گیا۔ پھر فوجی آئے اور انھوں نے لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال پہنچایا، حالات سنبھالے۔ انھیں آنا ہی تھا تو پہلے کیوں نہیں آئے؟ خیر کوئی مجبوری ہوگی۔ کہتے ہیں قلعے کے اندر اسلحہ تھا، دہشت گرد تھے۔ تھا بھی تو قلعے میں بسنے والے عام لوگوں کا کیا قصور؟

Read more

بھٹو ہوں یا ضیاالحق

جنرل محمد ضیاالحق اور ان کے رفقا کے حوالے سے (گزشتہ کالم میں) یہ عرض کیا گیا تھاکہ افغانستان سے سوویت فوجوں کی واپسی اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تکمیل ان کی دو ایسی کامیابیاں (Achievements) ہیںکہ پاکستانی قوم اور اس کے اداروں نے جن کے اعتراف کا حق ادا نہیں کیا۔ اس کا ہمارے بعض دوستوں نے بہت بُرا منایا، سوشل میڈیا پر بھی دِل کے پھپھولے پھوڑے گئے اور باقاعدہ کالم آرائی کرکے بھی غبار نکالا (یا

Read more

عتیقہ اوڈھو اور ناچتی بوتل

یہ خبر پڑھ کر کہ ”نو برس بعد اداکارہ عتیقہ اوڈھو کو شراب کی بوتلیں جہاز سے لے جانے کے مقدمے سے بری کر دیا گیا“ ، ہمارے ذہن کے پردے پر جو فلم چلی وہ کچھ یوں تھی،
استغاثہ: ملزمہ پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ دو بوتل شراب لے کر جہاز میں جا رہی تھی۔
قاضی: کیا آپ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتی ہیں؟

ملزمہ:
خود اپنی مستی ہے جس نے مچائی ہے ہلچل
نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل

قاضی: کیا بوتل ناچ رہی تھی؟
استغاثہ: نہیں۔ ایسی کوئی شہادت نہیں ہے۔
قاضی: کیس ڈسمس کیا جاتا ہے۔ نشہ نہیں تھا تو وہ سرکہ ہو گا۔ نیز ملزمہ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ آئندہ مستی میں ہلچل مچانے سے گریز کرے۔

Read more

ہمارے وزرا جیسا کوئی نہیں!

دنیا کے تمام ممالک میں نظام حکومت متعین ہے۔ کچھ ممالک میں صدارتی نظام نافذ ہے، کچھ ممالک میں پارلیمانی نظام ہے، کچھ ملکوں میں آمریت ہے اور کچھ میں بادشاہت ہے۔ مگر ان تمام نظام حکومت میں ایک چیز مشترک ہے وہ ہے وزراء۔ خواہ حکومت کا سربراہ صدر ہو، وزیر اعظم ہو، آمر ہو یا کوئی بادشاہ اسے حکومتی امور چلانے کے لئے وزراء درکار ہوتے ہیں۔ مگر ہمارے وزراء ہماری قوم کے لئے اللہ تعالی کی طرف

Read more

نوشابہ کی ڈائری: الطاف حسین کو پیرصاحب کہنے لگے ہیں

20 جولائی 1989 ء منگنی کیا ہوئی لگتا ہے زندگی ہی نئی نئی سی ہوگئی ہے۔ پتا نہیں انگلی میں پہنی انگوٹھی زیادہ چمکتی ہے یا اسے دیکھ کر میری آنکھیں، ہر لمحہ اس انگوٹھی کے سنہرے پن میں رنگ گیا ہے۔ بھابھی نے جب ذیشان کی تصویر دکھائی تو سچی بات ہے دل پورے زور سے دھڑکا تھا، مگر زبان سے یہی کہنا پڑا تھا کہ ”نہیں نہیں مجھے ابھی شادی نہیں کرنی“ اپنی بات تو نبھانا تھی نا،

Read more

شاہ محمود قریشی: کیا بازی پلٹ گئی؟

مخدوم شاہ محمود قریشی کو ملکی سیاست میں قدم رکھے چار دہائیاں ہونے کو ہیں جب کہ خارجہ امور سے بھی خاصے واقف ہیں۔ تنظیم تعاون اسلامی یا سعودی عرب کی قیادت میں قائم او آئی سی کے بارے میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا حالیہ سخت بیان جس کے بعد سعودی عرب نے نہ صرف پاکستان کو دیے گئے تین ارب ڈالر قرض میں سے ایک ارب ڈالر واپس لے لیے بلکہ موخر ادائیگی پر تیل فراہم کرنے کی

Read more

میر حاصل بزنجو: ایک نادر سیاستداں چلا گیا

طبعاً ملنگ تھے اور فائیو سٹار ہوٹل سے لے کر فٹ پاتھ تک بیٹھنے میں کبھی کوئی عار نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے زندگی بھر صرف ایک اثاثہ بنایا یعنی ان کے دوست نظریاتی حدود سے ماورا ہر طبقے سے تھے: وسعت اللہ خان کی تحریر

Read more

17 اگست 1988ء: میں نے جائے حادثہ پر کیا دیکھا؟

جنرل ضیاء الحق کا طیارہ گرا تو قریب تر مقامی لوگوں کے بعد بہاول پور سے جو چند سویلین فوری جائے وقوعہ پر پہنچے، میں بھی ان میں شامل تھا۔ لہٰذا ہر سال 17 اگست کا دن نہ چاہتے ہوئے مجھ پر عجیب کیفیت طاری کر دیتا ہے۔ بے چینی، تکان، خوف، وحشت۔ اس قسم کی سب کیفیات مجتمع ہو کر سارا دن مضطرب رکھتی ہیں۔۔۔ وہ تمام کیفیات، آنکھوں دیکھی چیزیں نظروں کے سامنے محسوس ہوتی ہیں، اور سنی

Read more

شریر سیاسی خاکے: میاں محمد نواز شریف

پچیس دسمبر کو میاں محمد نواز شریف لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کی سالگرہ پر دنیا بھر میں چراغاں ہوتا ہے اور پاکستان کے علاوہ پورے یورپ اور امریکہ میں اس دن سرکاری چھٹی بھی ہوتی ہے۔ ان کا تعلق ایک ایسے کشمیری خاندان سے ہے جو اننت ناگ سے ترک وطن کر کے امرتسر میں آباد ہوا تھا۔ میاں صاحب کی آنکھوں میں جو مقابل کو مسحور کر دینے کی صلاحیت ہے، شاید اس کی وجہ اننت ناگ سے تعلق ہی ہو۔

Read more

بانو قدسیہ پتی بھگتی، اشفاق احمد پتنی بھگت کیوں نہیں؟

نیلم احمد بشیر نے پنڈورا باکس کھولاہے یا ایک ایسی پٹاری کا ڈھکن اٹھا دیا ہے جس میں برسہا برس کے خوابیدہ سوالات کلبلا کلبلا کے پھن پھیلا رہے ہیں۔ بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کی تحریروں کی آئیڈیل عورت! کون ہے وہ آخر؟ بے جان، گونگی، ستی ساوتری، سر جھکائے، نگاہیں نیچی رکھے، اپنی خواہشات سے بے نیاز، ممتا کے شیرے سے لتھڑی، پتی ورتا، جی حضوری میں باکمال، لب پہ قفل لگائے، قربانی کے لئے ہمہ وقت تیار،

Read more

سیاسی جماعتوں کو بلدیاتی ادارے کیوں ناپسند ہیں؟

سوال یہ ہے کہ بلدیاتی ادارے ایک سیا سی تصور یا نظریے کے طور پر سیاسی جماعتوں کے اندر کیوں فروغ پذیر نہیں ہو سکے؟

اس سوال کا جواب ایک اور سوال میں ہے کہ ایک دور میں پیپلز پارٹی جیسی مثالیت پسند پارٹی نے بھی لاہور پیپلز پارٹی کے ایک فعال کارکن آغا نوید جیسے بے لوث مقامی رہنما کی قدر کیوں نہیں کی جنہوں نے ان کے لیے 1983 کی ایم آرڈی موومنٹ میں شا ہی قلعے میں میں مہینوں ناقابل تصور تشدد برداشت کیا۔ آغا نوید کی قید کی داستان جو فرخ سہیل گوئندی نے ”دوسرا جنم“ کے نام سے چھاپ دی ہے جو پیپلز پا رٹی کے عام کارکنوں کی مارشل لا کے خلاف جدوجہد کی ایسی داستان ہے جس کو پڑھنے کے بعد ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ کم ازکم اس رات آپ آسانی سے سو سکیں۔ قائد کے پاکستان کو ہم نے کیسا بنا دیا۔ اس کتاب کے واقعات ناقابل بیان ہیں لیکن یہاں سب سے کم درجے کی اذیت کا ذکر کرتے آغا نو ید صفحہ 61 پر لکھتے ہے۔

Read more

جنرل ضیا کی واپسی

یقیناً چند صحافیوں نے کوڑے کھائے لیکن کتنے صحافیوں نے تلوے چاٹے؟ سیاستدان پھانسی پر جھومے، شاہی قلعے کے عقوبت خانوں میں رہے لیکن ان سے کتنے زیادہ تھے جو سیاسی کارکنوں کی لاشوں کو روندتے ہوئے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے: پڑھیے محمد حنیف کا کالم۔

Read more

چودہ اگست کے بعد سترہ اگست

 آج جنرل محمد ضیا الحق کو جسمانی طور پر رخصت ہوئے تینتیسواں برس لگ گیا اور پرویز مشرف کو سبکدوش ہوئے بارہ برس مکمل ہو گئے۔وہ الگ بات کہ ضیا الحق جیسا کوئی نہیں۔نہ ان سے پہلے نہ بعد میں۔ ان کی روح پاکستان کے قومی جسد میں تینتالیس برس سے حلول ہے۔جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو کم ازکم فانی زندگی سے معزول ہو کر گڑھی خدا بخش جانا پڑا۔مگر ضیا الحق نے

Read more

جنرل ضیاء کا ایک اچھا ورثہ

17 اگست جنرل ضیاء الحق کا یوم وفات ہے۔ وہ ایک فوجی دکتیٹر تھے جس نے ملک میں جمہوریت کی بساط برسوں تک لپیٹے رکھی۔ ان کے عہد حکومت میں بہت سے ایسے رجحانا ت شروع ہوئے جن کی وجہ سے ملک کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ ان چیزوں کو عموماً ضیاء الحق کا ورثہ کہا جاتا ہے۔ لیکن دنیا میں کوئی شخص مجسم شر نہیں ہوتا۔ ضیاء الحق نے بھی کچھ کام کام ایسے کیے تھے جنہیں ہم ان

Read more

ہمیں سردیوں میں جمہوریت اور گرمیوں میں صرف آم چاہیے!

جنرل ایوب خان کا خیال تھا کہ پاکستان کے لوگ اتنے غریب اور جاہل ہیں کہ انہیں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ووٹ کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ آپ نے اسی لیے لوگوں کو ’بنیادی جمہوریت‘ کا سبق پڑھایا تھا۔ اسی طرح آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ پاکستان جیسے گرم علاقوں کے لیے جمہوریت بالکل بھی مناسب نہیں ہے۔ جمہوریت تو صرف برطانیہ جیسے سرد علاقوں کو ہی راس آتی ہے۔ اب جمہوریت کا موسم گرما

Read more

نوشابہ کی ڈائری: انھیں بس چوبیس گھنٹے کا ٹائم ملا ہے بدلہ لینے کے لیے…

25 دسمبر 1988

لگ بھگ تین مہینے ہوگئے لیکن اب تک وہ خوف ناک منظر بھول نہیں پائی۔ بہت کوشش کی لیکن تصویر بنے دماغ سے چپکے ہوئے ہیں۔ اس دن کا خیال آتے ہی جسم میں ایسی ٹھنڈی لہر دوڑ جاتی ہے جیسے ان جانے میں پگھلی برف میں ہاتھ ڈال دیا ہو۔ خوابوں میں گولیوں کی تڑتڑاہٹ گونجتی ہے، بندوقیں اٹھائے سائے مجھ پر جھپٹتے ہیں اور میں چیخ کر اٹھ جاتی ہوں۔ حیدرآباد سے آئے اتنے دن ہوگئے لیکن لگتا ہے اب بھی انھیں پتلی پتلی پتلی گلیوں میں برستی گولیوں سے بچتی بھاگ رہی ہوں۔

Read more

عمران خان اور سویلین بالادستی

موجودہ پاکستان میں قائد اعظم کے بعد جن چار سیاست دانوں کو عوام نے بے پناہ چاہا اور ان پہ اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے وہ ہیں ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور عمران خان۔ کرشماتی شخصیت کے مالک عمران خان اس وقت ملک کے وزیراعظم ہیں۔ ان کے پاکستانی سیاست میں قدم رکھنے کی وجہ سے عوام کی ایک بڑی تعداد نے سیاست میں دلچسپی لینا شروع کی۔ وہ خواتین ووٹرز کو الیکشنز کی طرف

Read more

فیصلے کی گھڑی

انڈیا اور امریکہ کی بڑھتی قربت کے بیچ چین اور انڈیا کا سرحدی تنازعہ، عرب امارات اور اسرائیل کے مابین جگری یاری، سعودی عرب اور پاکستان کے مابین ہلکی پھلکی موسیقی انہی تبدیلیوں کا شاخسانہ ہے: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

پیرمحمد کرم شاہ الازہری اور تحریک پاکستان

1940 ء میں قرار داد پاکستان منظور ہونے کے بعد کانگرس نے جلسے اور جلوسوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر چکا تھا۔ وہ علاقے نہرو اورگاندھی کا خصوصی ہدف تھے جن میں مسلمانوں کا زور تھا۔ اسی طرح کا ایک بہت بڑا جلسہ بھیرہ (ضلع سرگودھا) میں بھی ہواجس میں جواہر لعل نہرو خود شریک ہوا جبکہ بعض روایات کے گاندھی نے بھی بنفس نفیس شرکت کی اور سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش

Read more

اسرائیل، فلسطین اور کشمیر: تنازعات کے حل کی کلید

مشرق وسطیٰ کے بحران کے بنیادی فریقین اسرائیل (یہودی) اور فلسطینی عوام تھے فلسطینیوں کی اکثریت مسلمان اور عربی بولتی ہے لہٰذا تنازعے کے متحاربین عرب اسرائیل بن گئے۔ 1967ء کی جنگ کے بعد یہ تنازعہ اسرائیل اور مسلم ممالک کی کشمکش بن گیا۔ فلسطینی عوام یہودی ریاست کے جبر و استحصال اور بے دخلیوں کے نتیجے میں دریائے اردن کے مغربی کنارے اور اردن کے کچھ حصوں میں آن بسے۔ مسلم ممالک نے 80 کی دہائی تک فلسطینیوں کی

Read more

یوم شہادت ضیاالحق

شطرنج کی بساط پر پھیلے مہروں کو کبھی دیکھا ہے؟ چند مہرے اور ایک شاہ۔ مہروں کو استعمال کر کے شاہ کو مات دی جاتی ہے۔ یہی کچھ ہوا آج سے بتییس سال پہلے، جب صدر ضیا الحق کو طیارہ حادثے میں شہید کر دیا گیا۔ حادثے کی مکمل تحقیقات آج تک سامنے نہ آ سکیں۔ لیکن جو کچھ سامنے آیا اس کے مطابق یہ کوئی فنی خرابی نہیں بلکہ سراسر سازش تھی۔ آم کی پیٹیوں میں رکھی گئی گیس

Read more

جنرل ضیا کا آخری تحفہ

مرحوم کی زندگی کا سچا واقعہ جس کے راوی پی ٹی وی کے سابق مینجنگ ڈائریکٹر اختر وقار عظیم ہیں۔ واقعہ جنرل ضیا کے مرحوم ہونے سے چند دن پہلے کا ہے اور راوی نے اپنی یاداشتوں کی کتاب ’ہم بھی وہیں موجود تھے‘ ، میں رقم کیا ہے۔

اس واقعہ سے آپ کو نہ صرف یہ اندازہ ہوگا کہ شہادت سے چند دن پہلے مرحوم کی ذہنی حالت کیا تھی لیکن یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مرحوم کی اصل وراثت کیا ہے۔

Read more

آم پھلوں کا بادشاہ کیسے بنا؟

آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ آم پھلوں کا بادشاہ ہے۔ حالانکہ پھلوں میں سیب بھِی شامل ہے جس کی مدد سے آپ ڈاکٹروں کو اور دیگر آفت جاں عناصر کو خود سے دور رکھ سکتے ہیں، انگور بھی شامل ہیں جن کے خاندان کی مداحت میں شعرا نے دیوان کے دیوان لکھ ڈالے ہیں، تربوز بھی ہے جن سے آپ گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں پہلے نہر میں بے تحاشا واٹر بال کھیل سکتے ہیں، اور پھر اسے دو ٹکڑے کر کے وہیں نہر کنارے بیٹھ کر کھا بھِی سکتے ہیں، اور کھانے کے بعد اس کو ہیلمٹ کی جگہ پہن کر سکون سے ٹھنڈے ٹھنڈے گھر بھی جا سکتے ہیں۔

Read more

جنرل ضیا الحق، اختر عبد الرحمن اور خاقان عباسی

1988 کا ذکر ہے۔ قریبی عزیزہ نے پوچھا: تالپور صاحب کی برسی میں چلو گے، جنرل ضیاء الحق بھی آئیں گے؟ چند لمحے سوچا، دونوں شخصیات سے کوئی انسیت اور نسبت تو تھی نہیں، پھر بھی یہ سوچ کر کہ اکیلی کیسے جائیں گی۔ برسی میں جانے کی ہامی بھر لی۔ برسی والے دن بتایا گیا کہ پہلے میر علی احمد تالپور مرحوم کی بیگم کے گھر جائیں گے اور پھر وہاں سے ان کے ساتھ مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب میں۔ سو برسی والے دن بیگم تالپور کے گھر پہنچے اور تھوڑے انتظار کے بعد وہاں سے روانہ ہوئے۔

ہوٹل کے اطراف میں کڑے حفاظتی اقدامات تھے۔ ہم چونکہ بیگم تالپور کی معیت میں پہنچے تھے۔ اس وجہ سے بآسانی ہوٹل کی حدود میں داخل ہو گئے۔ خواتین تو اندر تشریف لے گئیں۔ اور ہم ہوٹل کی لابی اور دکانوں میں گھومتے پھرتے، ہوٹل سے باہر نکل آئے۔ کراچی کے نو منتخب شدہ میئر کا ان دنوں خوب چرچا تھا۔ چونکہ ایم کیو ایم نے پہلی دفعہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا تھا اور عظیم الشان کامیابی سے ہم کنار ہوئی تھی۔ ہوٹل کے باہر ہی تھے، کہ میئر فاروق ستار بھی نئی نویلی کالی گاڑی میں سوٹڈ بوٹڈ وارد ہوئے۔ الطاف حسین کے بعد آمنے سامنے کسی بھی ایم کیو ایم رہنما کو دیکھنے کا پہلا اتفاق تھا۔ میئر کو دیکھنے کے بعد متحیر ہی کھڑے تھے، کہ جنرل ضیاء الحق کی آمد ہو گئی۔

Read more

ملائیت کے 73 سال

پاکستان کو بنے 73 سال بیت گئے ہیں۔ ان 73 سالوں میں بحث ہمیشہ یہی رہی کہ پاکستان میں کون سا نظام ہونا چاہیے۔ پارلیمانی یا صدارتی۔ جوں جوں پاکستان کی عمر بڑھتی گئی یہ بحث بھی بڑھتی گئی۔ پچھلی دو دہائیوں سے بحث کا زور اس بات پر رہا کہ پاکستان کو تباہ کس نے کیا۔ جمہوریت نے یا آمریت نے۔ سیاسی جماعتیں آمریت کو جی بھر کر گالیاں دیتی ہیں لیکن اقتدار کی خواہش ان سب سیاسی جماعتوں

Read more

دعا کی ضرورت ہے

واصف علی واصف صاحب سے اپنی پہلی ملاقات اور ان کے دو ارشادات کے حوالے سے ایک ”خون کے رشتے خونی ہوتے ہیں“ میری گزشتہ تحریر کا عنوان تھا۔ آج انہیں کے فرمائے ہوئے دوسرے جملے کو موضوع تحریر بنا رہا ہوں۔ واصف صاحب مملکت خداداد پاکستان کی حالت زار پر فرمایا تھا ”دعا کریں دعا کی ضرورت ہے“ پاکستان کی تہتر سالہ عمر میں ایک بھی لمحہ ایسا نہیں ملتا کہ ہمارے ملک یا اس کے باسیوں نے آزادی

Read more

”فیلڈ مارشل“ ضیا الحق کا شکریہ

جنرل محمد ضیا الحق کو اس دنیا سے رخصت ہوئے بتیس سال بیت گئے۔ 1988 ء کے ماہ اگست کی سترہ تاریخ کو ان کا فوجی طیارہ بہاولپور کے نزدیک حادثے کا شکار ہوا، اور وہ ٹینکوں کا ایک نمائشی مظاہرہ دیکھنے کے بعد اسلام آباد واپس آنے کی بجائے وہاں پہنچ گئے، جہاں جانا تو سب کو ہے، واپس کسی نے نہیں آنا۔ جنرل صاحب کے ساتھ جان دینے والوں میں چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل اختر عبدالرحمن کے علاوہ ایک لیفٹیننٹ جنرل، تین میجر جنرل اور پانچ بریگیڈیئر بھی شامل تھے۔

پاکستان میں متعین امریکی سفیر اور پینٹاگون کے ایک نمائندہ فوجی افسر بھی اس بدقسمت طیارے میں سوار تھے۔ ابھی تک اس طیارے کی تباہی کے اسباب کا تعین نہیں کیا جاسکا، نہ وہ ہاتھ تلاش کیے جا سکے ہیں جو اس کے ذمہ دار تھے۔ انہوں نے جو دستانے پہن رکھے تھے، وہ لہو کی تلاش میں رکاوٹ بن گئے۔ ان میں سے کون ابھی زندہ ہے، اور کون کون اپنی فرد عمل کے ساتھ منصف حقیقی کے روبرو پیش ہو چکا، اس بارے میں بھی قطعیت کے ساتھ کچھ کہنا ممکن نہیں۔

Read more

میں آزاد ہوں یا بدستور مغوی؟

اس الیکشن میں میں خود بھی بطور صحافی امیدوار ہوں اس لیے آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں پریس کلب کی سیاست میں فریق ہوں۔ یہی وجہ ہے یہاں میں کوئی غیرجانبدار تجزیے دینے کی بجائے آ پ کے سامنے اپنا نقطہ نظر رکھ رہا ہوں۔ پریس کلب کے یہ انتخابات تقریباً آٹھ ماہ کی تاخیر سے ہونے جا رہے ہیں۔ کلب کے آئین کے مطابق الیکشن دسمبر میں ہونے تھے مگر پھر روایتی طور پر برسر اقتدار دو مخالف

Read more

اپوزیشن کا رویہ اور پاکستان کے سیاسی مستقبل پر اثرات

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے قیادتوں کو اب یہ بات ضرور یاد آتی ہو گی کہ ملک میں دھاندلی زدہ الیکشن کے نتائج کو قبول کرتے ہوئے اسمبلی کا حلف اٹھا کر انہوں نے فاش سیاسی غلطی کی تھی۔ مولانا فضل الرحمان نے دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ غیر شفاف الیکشن میں بدترین دھاندلی کو مسترد کرتے ہوئے اسمبلی کا حلف نہ اٹھایا جائے۔ لیکن مسلم لیگ (ن) اور پیپلز

Read more

کل ہماری باری بھی ہوسکتی ہے

کسی قوم کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنی ہو تو اس قوم کے نوجوانوں کے ذہنوں کو مذہبی جنونیت سے بھر دو، اس کے سوچنے اور سوال کرنے کی قوت سلب ہو جائیں گی اور وہ ذہنی مرض کے اس صورت میں مبتلا ہو جائیں گے جو نہ تو خود اپنے آپ کو غور و فکر کے اہل سمجھے گے اور نہ دوسرے کو غور و فکر کرنے دیں گے۔

پاکستان میں مذہبی جنونیت کی ابتدا تو شروع ہی سے تھی۔ اگر ہم پاکستان کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں کچھ ایسے واقعات ملتے ہیں جن سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ شروع ہی سے پاکستان میں مذہبی جنونیت کو پروان چڑھایا گیا لیکن اسے لیگل پروٹیکشن ضیاء کے دور سے ملی۔

Read more

سر سبز پاکستان کی جانب ایک قدم

ہر 14 اگست کو ہم اپنا یو م آزادی جوش وولولہ کے ساتھ مناتے ہیں۔ 1980 ؁ء کی دیہائی میں ایک فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے عوام کی توجہ ملک پہ چھائے گمبھیر سایوں سے ہٹانے کی خاطر انہیں یوم آزادی کے موقع پہ جھنڈیاں لہرانے کو خصوصی جشن منانے پہ لگادیا۔ اس وقت سے یہ رسم ایسی جڑ پکڑ چکی ہے کہ یکم اگست سے ہی ملک کے کونے کونے پہ ہر سڑک کے کنارے ہر ٹریفک سگنل

Read more

مریم نواز کو کیا کرنا چاہیے؟

پاکستانی عوام، مزاجا وراثتی سیاست کی امین ہیں۔ یہاں کوئی بھی پارٹی الیکشن کروا دے، ووٹ اسی کو ملتے ہیں، جو خود کو سابق پارٹی لیڈر کا وارث ثابت کر دے۔ اہل سادات کی حرمت کا دم بھرنے والی قوم کو یہ سمجھانا کہ وراثتی سیاست میں کوئی حرج نہیں، کیا مشکل ہے!؟ اگر عوام بھٹو کی بیٹی، نواز شریف کی بیٹی کو اپنا لیڈر مانتے ہیں، تو کسی فرد یا محکمے کو اس پر اعتراض ہی کیوں ہو؟ کیا

Read more

میجر عامر: فوج، سیاستدان اور افغان جہاد

عید کا دوسرا دن تھا اور دوستوں کے ساتھ گاؤں میں نشست اور گپ شپ جاری تھی۔ اتنے میں فون کی گھنٹی بجی۔ میجر ریٹائرڈ عامر لائن پر تھے۔ ”آپ کل ساتھیوں سمیت گیارہ بجے پنج پیر صوابی آجائیے۔ دوسرے مہمان بھی ہوں گے۔ بات چیت بھی ہو جائے گی اور لنچ بھی“ ۔ انکار کی مجال کہاں۔ افغان جہاد کے دوران تاریخی شہرت حاصل کرنے والے آئی ایس آئی کے عظیم اہلکار، جن کی ان گنت کہانیاں پڑھ سن

Read more

حکومت کی ناکامی یا نظام کی ناکامی

اس وقت پاکستان میں ایک اور حکومت اپنی ناکامی کا کلنک ماتھے پر سجا کر اپنے منطقی انجام کی طرف بڑی تیزی سے گامزن ہے۔ پاکستان میں کچھ حکومتوں کو فوجی ادوار میں شمار کیا جاتا ہے جبکہ کچھ کے لئے ہم سول حکومتوں کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور مارشل لاز کے لئے جو جواز فراہم کیا جاتا ہے اس میں سیاستدانوں کی کرپشن، بیڈ گورننس اور باہمی چپقلش کو قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے۔ پاکستان میں حکومتوں کی ناکامی

Read more

اپوزیشن کا رویہ اور اس کے پاکستان کے سیاسی مستقبل پر اثرات

سابق صدر آصف علی زرداری پر احتساب عدالت نے پارک لین ریفرنس میں فرد جرم عائد کر دی ہے۔ احتساب عدالت اسلام آباد میں ہو نے والی سماعت میں آصف زرداری بلاول ہاؤس کراچی سے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے جب کہ دیگر ملزمان کی بھی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری لگائی گئی۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ میرے وکیل آج سپریم کورٹ میں مصروف ہیں، آج مجھ پر فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔ جج نے کہا کہ دو سادہ سے سوالات ہیں انگلش میں، آپ وہ سن کر جواب دے دیں، جس پر آصف زرداری نے کہا کہ آپ اپنے آرڈر میں یہ ضرور لکھیں کہ وکیل کی غیر موجودگی میں مجھ پر فرد جرم عائد کی جا رہی ہے۔

Read more

خارجہ پالیسی: میرے نخچیر پہ کیا عالم تنہائی ہے

ایسے وقت میں جبکہ عمران خان اپنی دو سالہ غیرمعمولی کامیابیوں کو عوام میں اجاگر کرنے کا منصوبہ بنا چکے تھے سعودی عرب سے تعلقات میں تناؤ نے سارے منصوبے کو چوپٹ کر دیا۔ اوپر سے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے تمام سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مسئلہ کشمیر پر عدم دلچسپی پر سعودی عرب پر تنقید کی۔ حال ہی میں جب پاکستانی حکمرانوں نے ایک ترانہ بنا کر اور نقشے میں

Read more

تین عظیم شہر ایک ہی شخص کے ہاتھوں تباہ

1970ء کی دہائی تک ایشیاء میں چارعظیم شہر تھے جن میں لبنان کا دارالحکومت بیروت سرفہرست تھا۔ اسے مشرق کا پیرس بھی کہا جاتا تھا۔ ہر سال کروڑوں سیاح آرام کرنے، دکھ اور مسائل سے پرے بیروت کے عشرت کدوں میں وقتی پناہ تلاش کرتے تھے۔ بلاشبہ بیروت بحیرہ روم کے ماتھے کاجھومر تھا۔ بیروت کے بعد کراچی کا نمبر تھا۔ جنوبی ایشیاء کے خطے میں کراچی کے مقابلے کا کوئی شہر نہیں تھا۔ کراچی کا موسم، روزگار کی فراوانی،

Read more

حکومتیں، جمہوریت اور کشمیر

ہمارے ہاں سیاستدانوں نے ملکی سالمیت کے متعلق غیر ضروری اور غیر ذمہ دارانہ بیانات جاری کر کے حساسیت پیدا کر دی ہے۔ کشمیر پر بجا طور پر سیاسی قیادت کی کارکردگی فوجی آمروں سے بہتر رہی لیکن یہ بھی پیش نظر رہے کہ عوام نے ان سانپوں کو بار بار دودھ پلایا جو جمہوریت کو ڈس لیتے ہیں، ایسے خاندان نظام کو مسحکم نہیں ہونے دیتے یوں آپ چاہیں تو اس عدم استحکام کو تنازع کشمیر کے حل میں تاخیر سے جوڑ کر دیکھ سکتے ہیں۔

خاص طور پر انیس سو نوے کے عشرے میں مسلم لیگ ن کے پروپیگنڈا سیل نے بے نظیر بھٹو کو جس طرح سکیورٹی رسک قرار دیا وہ آج بھی یاد ہے، ن لیگ کے میڈیا سیل نے عمران خان کے خلاف سیتا وائٹ سکینڈل اٹھانے کے لئے ایک اخبار سے پیکیج ڈیل کی۔ پھر آصف علی زرداری کو مسٹر ٹین پرسنٹ کا نام دیا۔ بہرحال یہ اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے ہتھکنڈے تھے۔ اسامہ بن لادن سے رقم لینے، آئی جے آئی کی تشکیل اور سرکاری خزانے سے سیاستدانوں کی خریداری کے معاملات پر جب بھی بات ہوئی ایک درجہ پر آ کر رک گئی۔

Read more

نوشابہ کی ڈائری ( 8 ) ”آئندہ الطاف بھائی کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولیے گا“

۔7 اگست 1987
اف کتنے خوف ناک لمحات تھے۔ سوچتی ہوں تو لرز جاتی ہوں۔ دھماکے کی اطلاع ملی تو ابو صدر ہی گئے ہوئے تھے، اپنی دکان کے لیے سامان لینے۔ رضیہ بھابھی کوئی چیز مانگنے آئی تھیں تو انھوں نے بتایا صدر میں دھماکا ہوا ہے۔ میرے اور امی کے تو پیروں سے زمین نکل گئی تھی۔ میں رونا شروع ہو گئی اور امی جائے نماز پر بیٹھ گئی تھیں۔ ابو جب گھر آئے تو جان میں جان آئی۔ امی نے فوراً صدقہ دیا۔ کتنا خوف ناک دھماکا تھا دو سو سے زیادہ زندگیاں ایک لمحے میں ختم ہو گئیں۔

ضیا الحق نے تو دھماکے کا ذمے دار افغانستان کے ایجنٹوں کو قرار دے دیا اللہ اللہ خیر صلا۔ یہ آدمی تو اب مجھے بہت برا لگنے لگا ہے۔ اقتدار چھوڑ ہی نہیں رہا۔ بے چاری بے نظیر کو پکڑ کر جیل میں ڈال دیا تھا۔ بہت کچھ پڑھنے اور جاننے کے بعد احساس ہوا ہے کہ جنرل ضیا کے بارے میں میری سوچ غلط تھی۔ لوگ کہہ رہے ہیں دھماکا الذوالفقار نے کیا ہے۔ ہو سکتا ہے، وہ طیارہ اغوا کر سکتے ہیں تو دھماکا بھی کر سکتے ہیں۔ ظہور الحسن بھوپالی کو بھی الذوالفقار والوں ہی نے شہید کیا تھا۔

Read more

پائے لاگوں بانو آپا

یادوں کے دریچے وا ہوتے ہیں تو کیا کچھ یاد آنے لگتا ہے۔ ایک ایسی ہی یاد کا ذکر ہے۔ ایک روز ابا گھر آتے ہی بولے :

”آج ہم سب کو کسی کے گھر جانا ہے۔“

امی نے ہم سب بچوں کو اچھے کپڑے پہنائے اور تیار کیا۔ اس وقت ہم کرشن نگر میں رہتے تھے۔ بس میں سوار ہو کر ہم دور کی ایک بستی ماڈل ٹاؤن کے ایک بڑے سے گھر جا پہنچے۔ یہ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کے نئے نکور گھر ”داستان سرائے“ کی شاید افتتاحی تقریب تھی، جس میں انہوں نے کچھ دوستوں کو مدعو کر رکھا تھا۔ اتنا بڑا خوبصورت اور شاہانہ گھر دیکھ کر میں تو حیرت زدہ رہ گئی۔ پرتکلف کھانا کھانے کے بعد ہم سب کو پورا گھر گھمایا پھرایا گیا۔ اشفاق صاحب نے ہمیں اپنا ریکارڈنگ سٹوڈیو بھی دکھایا جہاں وہ غالباً اپنے ریڈیو پروگرام ”تلقین شاہ“ کی ریکارڈنگ کیا کرتے تھے۔ میں تو اس بات سے بھی بہت متاثر ہوئی کہ گھر میں ہی سٹوڈیو موجود ہے، واہ کیا بات ہے۔

Read more

یکساں تعلیمی نصاب یا سکولوں کو تکفیری مدرسے بنانے کا عمل؟

ترقی یافتہ ممالک رواداری، پلورل ازم اور برداشت کی مضبوط بنیادوں پر کھڑے ہیں۔ انہی اقدار نے مذہبی بنیاد پرستی پر قائم یورپ کو تاریک عہد سے باہر نکالا، پاپائیت اور بادشاہت کو رد کیا اور یورپ کو ایک ایسے جدید دور میں داخل کیا جو علم، انصاف اور خلاقیت کو قبول کرتا اور فرسودہ عوام دشمن ڈھانچوں کو رد کرتا ہے۔

پاکستان کی ستر سالہ کہانی معاشی، سماجی، علمی، فکری، سیاسی، اور ثقافتی فرسودگی کی داستان ہے۔ جہاں ایک ہی قسم کا مذہب مسلک ریاست کی طرف سے سپانسرڈ ہے اور ایک مخصوص فرقے کی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے مذہبی دکانداری عروج پر ہے۔ ستر سالوں سے نوجوانوں کو دیوبندی مدارس میں تیار کردہ یک نوعی مذہبیت پڑھائی جا رہی ہے اور ان کے ذہنوں کو تعصب، تنگ نظری اور نفرت سے بھرا جا رہا ہے۔ پاکستان بھر کے سکولوں کے نصاب سے وہ تنوع غائب ہے جس سے حقیقی دنیا میں طلبہ کا واسطہ پڑتا ہے۔

Read more