قومی مکالمہ یا ڈائیلاگ ہونا چاہیے۔ یہ مکالمہ کسی ایک یا دو فریق کے درمیان نہیں بلکہ ریاست یا سماج سے جڑے تمام فریقین جو فیصلہ سازی کے عمل میں اہمیت رکھتے ہیں کو اس کا حصہ بننا ہوگا۔ سیاست کی سمجھ بوجھ رکھنے والے بہت سے اہل علم یا اہل سیاست کے بقول ملک میں جو بحران موجود ہے اس کا ایک بڑا حل یا اس کی ابتدائی کوشش قومی ڈائیلاگ سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ سوچ اور فکر کوئی نئی نہیں اس سے قبل بھی ہم بہت سے اہل دانش کی جانب سے اس تجویز کو سن چکے ہیں۔ لیکن ہمارا سیاسی ماحول، تناو یا محاذ آرائی بداعتمادی، ایک دوسرے کے سیاسی قد یا وجود کو قبول نہ کرنے کے کلچر نے عملاً ڈائیلاگ کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
جو لوگ عمومی طور پر مختلف فریقین کے درمیان ڈائیلاگ پر زور دیتے ہیں ان کے سامنے دو سوچ اور فکر کا غلبہ ہے۔ اول ایک طبقہ کے بقول اس ڈائیلاگ میں فوج، عدلیہ، بیوروکریسی، بار ایسوسی ایشن، میڈیا سمیت حکومت اور حزب اختلاف اس کا حصہ ہوں۔ جبکہ دوسرے طبقہ کے بقول ڈائیلاگ صرف اور صرف حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ہی ہونا چاہیے اور ہر اس عمل سے گریز کرنا چاہیے جو آئینی حدود سے تجاوز کرے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک داخلی اور خارجی محاذ پر لاتعداد سنگین نوعیت کے مسائل سے دوچار ہے۔ مسائل کی نوعیت ایسی ہے کہ کوئی بھی فریق سیاسی طور پر تنہائی میں یہ معاملات حل نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے مجموعی طور پر ایک بڑا اتفاق رائے یا متفقہ طور پر اجتماعی سطح کی کوششوں کی ضرورت ہے۔
Read more