شبلی فراز اور پی ٹی آئی کا سیاسی دوغلا پن

شبلی فراز صاحب نے اپنی پریس کانفرنس میں میاں نواز شریف کی محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف اور جنرل ضیا الحق کے حق میں کی گئی تقریر چلائی۔ اور یہ کہا کہ جس سیاسی رہنما اور اس کی پارٹی نے پاکستان پیپلز پارٹی اور بی بی کے خلاف اتنے ظلم کیے، آج پیپلز پارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ شبلی صاحب لیکن یہ بتانا بھول گئے کہ بی بی ہی خود چل کر میاں نواز شریف کے پاس گئی تھیں اور دونوں سیاسی رہنماؤں نے اپنے ماضی کو دفن کر کے میثاق جمہوریت کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس کا مظاہرہ گزشتہ دہائی میں دیکھنے کو بھی ملا۔

Read more

سوشل میڈیا کے ’’نیٹ فلیکس‘‘ کا دور

اجتماعی طورپر نہایت ڈھٹائی سے ہم ایک مہذب اور دین دار معاشرہ ہونے کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ہماری روزمرہّ زندگی کے حقائق اور رویے اگرچہ ہماری ’’اصلیت‘‘ کو مسلسل عیاں کرتے رہتے ہیں۔خود کو دھوکا دینے ہی میں تاہم عافیت محسوس ہوتی ہے۔حقائق کو تسلیم کرلینا زندگی کو اذیت ناک بناسکتاہے۔ ذہنی کوفت اور اذیت سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے مثال کے طورپر گزشتہ دو روز سے اپنا ٹویٹر اکائونٹ دیکھنے سے گریز کو ترجیح دے رہا ہوں۔اسے کھولیں

Read more

پی ڈی ایم کا لاہور جلسہ: اگر اجتماع کورونا کے پھیلاؤ کا سبب ہو سکتا ہے تو سیاسی کارکنان کیوں جائیں گے؟

حکومتی ادارے بتا رہے ہیں کہ نہ صرف کورونا کے متاثرین کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، وائرس کی اس لہر میں زیادہ سختی نظر آ رہی تھی اور اموات بھی زیادہ ہو رہی ہیں لیکن اب لاہور میں حکومت مخالف جلسہ ہونے کو ہے تو کیا وائرس کا پھیلاؤ سیاسی کارکنان کو وہاں جانے سے روک سکتا ہے؟

Read more

میاں صاحب اب بتا دیں نیب کسٹڈی میں کیا ہوا

میاں صاحب اور مریم نواز دونوں بیک ڈور رابطوں کی وجہ سے چپ رہ کے موقعے گنوا چکے ہیں اور کئی راز ابھی تک سینوں میں دفن کیے بیٹھے ہیں، جس کی وجہ سے اتنی کامیاب مہم کے باوجود پی ڈی ایم کی عوامی رابطہ مہم کو وہ طے شدہ مقاصد حاصل نہیں ہوئے جس کی بین الاقوامی پولیٹیکل سائنٹسٹ توقع کر رہے تھے۔ کیونکہ دو چار نام لینے کے بعد بھی میاں صاحب نے وہ حدود پار نہیں کیں جس کا ان پر الزام لگ رہا ہے۔ ورنہ اگر لندن آتے ہی میاں صاحب اپنی گردن اور جسم کے نشانوں کی پلیٹ لیٹس کم ہونے کے بعد کی تصویر لیک کر دیتے جنہیں دیکھ کے ہی شاید شیریں مزاری بھی رو پڑی تھیں تو حکومت کو اس غلیظ پروپیگنڈے کا موقع ہی نہ ملتا جو پچھلے ایک سال سے جاری ہے، اور انٹرنیشنل پریشر بھی پوچھتا کہ ایک تین مرتبہ کے منتخب وزیراعظم کے ساتھ نیب کسٹڈی میں کیا کیا گیا۔

Read more

عمران خان اکیلے ہیں یا اپوزیشن متحد نہیں ہے؟

گزشتہ روز میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں وزیر اعظم عمران خان نے یہ اعتراف کیا کہ اپوزیشن کے اعتماد میں اضافہ ہؤا ہے۔ انہوں نے اگرچہ اسے ممکنہ طور پر ’غیر ملکی سازش‘ کا نتیجہ قرار دیا جس کی گواہی اب وفاقی وزیر شیریں مزاری نے یہ کہتے ہوئے دی ہے کہ ’حکومت کے پاس معلومات ہیں کہ پی ڈی ایم کو بیرون ملک سے امداد مل رہی ہے‘۔ روز نامہ ڈان کو دیے گئے انٹرویو میں البتہ وہ

Read more

پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک: کیا اپوزیشن کے استعفے حکومت کو کوئی نقصان پہنچا پائیں گے؟

ماضی کے مختلف ادوار میں اپوزیشن جماعتیں بشمول تحریک انصاف اگرچہ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے اعلانات تو کرتی رہی ہیں مگر جب بات عملدرآمد پر آتی ہے تو ایسا کرنے میں سب یکجا نہیں ہوتے۔

Read more

بھٹو کی پھانسی اور نواز شریف کی نااہلی

عمران خان صاحب 2008 سے حکومت میں ’’باریاں‘‘ لینے والے ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کے خلاف غم وغصے کا اظہار کرتے ہیں تو ’’بے جواز‘‘سنائی نہیں دیتے۔کرکٹ کی وجہ سے حاصل ہوئی بے پناہ شہرت کو انہوں نے بہت لگن سے لاہور میں کینسر کے علاج کے لئے ایک جدید ترین ہسپتال کی تعمیر کے لئے چندہ جمع کرنے کے لئے استعمال کیا تھا۔وہ ہسپتال تعمیر ہوگیا تو سیاست دانوں کی بے حسی اور کرپشن سے اُکتائے پڑھے لکھے شہری متوسط

Read more

پنجابی کو جاگنا ہی ہو گا

آپ پنجاب کی بات کریں تو لاہور اور ملتان کے بعد فیصل آباد یاد کیا جاتا ہے۔ اس انڈسٹریل شہر کے علاوہ ساہیوال اور سرگودھا سمیت چند دیگر شہر امرتسر اور جالندھر وغیرہ سے کسان لا کر آباد کیے گئے اور اس کا مقصد لاہور اور ملتان کے درمیان پھیلی پنجاب کی ان زمینوں کو آباد کرنا تھا۔ بہت سی رعایتیں دینے کے علاوہ انگریز سرکار نے کسانوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اگلے چند سال تک یہ زمینیں

Read more

پارلیمنٹ میں بیٹھی خواتین ہراسانی پر آواز بلند کیوں نہیں کرتی ہیں؟

پاکستان تحریک انصاف کی سعدیہ سہیل کہتی ہیں کہ خواتین کو ہراساں کرنے کا رجحان بہت زیادہ ہے اور جو خواتین سیاست کے لیے نکلتی ہیں ان کے بارے میں یہ سوچا جاتا ہے کہ یہ ہمارے لیے ہی باہر نکلی ہیں جو ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی بد قسمتی ہے۔

Read more

پاکستانی سیاست میں استعفوں کی دستک

لگتا یہی ہے کہ پی ڈی ایم، قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے اجتماعی استعفوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ قمر زمان کائرہ اور مریم نواز کے بیانات سے ایسا ہی دکھتا ہے، اگر یہ فیصلہ ہو جائے، تو یہ ایک بہت مشکل اور ممکنہ طور پر تباہ کن دور کا آغاز ہو سکتا ہے، پی ڈی ایم میں شامل جہاندیدہ اور تجربہ کار قیادت سے اس قسم کے فیصلہ کی توقع نہی کی جانی چاہیے زرا دیکھتے ہیں کہ قومی

Read more

سیاسی کوہ پیماؤں کی نئی مہم جوئی

آنے والے ہفتے ملکی سیاست میں اہمیت کے حامل قرار دیے جا رہے ہیں، سیاسی صورتحال میں کسی بڑی تبدیلی کے امکانات پر ان گنت قیاس آرائیاں ہیں، لیکن حتمی طور پر کسی بھی پیش گوئی پر یقین بھی نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ سیاسی پنڈت خود شش وپنج میں ہیں کہ مستقبل میں کیا منکشف ہونے والا ہے۔ اس نسبت باریک بینی کے ساتھ سیاسی صورتحال کی ان تمام چالوں پر سمجھنا ہوگا، جو اس وقت سیاسی بساط پر بچھا

Read more

31 دسمبر تک تمام پارٹیوں کے اراکین اپنے استعفے قیادت کو جمع کروا دیں گے: اپوزیشن کا فیصلہ

حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ 31 دسمبر تک تمام پارٹیوں کے ارکان پارٹی قائدین کے پاس استعفے جمع کروا دیں گے جو لانگ مارچ کے بعد سپیکر قومی اسمبلی کو بھجوائے جائیں گے۔

Read more

اسمبلیوں سے استعفے یا احتجاجی تحریک: اپوزیشن جماعتیں اب کیا کریں گی؟

پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی قیادت احتجاجی تحریک کے دوسرے مرحلے پر غور کر رہی ہے۔

احتجاجی تحریک کے پہلے مرحلے کے احتتام پر اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں نے اسمبلیوں سے استعفوں کا آپشن استعمال کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

Read more

آخر جنوری ہی کیوں؟

پی ڈی ایم کے احتجاجی جلسوں کے کارواں نے ملتان میں پڑاؤ ڈالا اور کامیابیاں سمیٹنے کے بعد لاہور روانگی کے لیے اپنے خیمے اٹھا لیے۔ ملتان کے جلسے کو روکنے کا حکومتی اعلان حکومت کے لیے شرمندگی ثابت ہوا۔ سیاسی طور پر پختہ حکومت ایسے اعلانات نہیں کرتی کیونکہ عمومی طور پر عوامی جلسوں کو روکنا ناممکن ہوتا ہے۔ جلسہ روکنے کا اعلان ہونے کے بعد نہ روکے جانے کی صورت میں اسے اپوزیشن کی کامیابی سمجھا جاتا ہے جو اس مرتبہ بھی ہوا۔

بظاہر ملتان کا جلسہ حکومت کی پسپائی اور اپوزیشن کی کامیابی تھی لیکن معاملات کا بغور جائزہ لینے سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جلسے سے چند گھنٹے قبل اپوزیشن کو کھلی چھٹی دے دینا دراصل کسی بیک ڈور سمجھوتے کی وجہ تھی۔ اس مفروضے کو تقویت اس وقت ملی جب ملتان جلسے میں موجود پی ڈی ایم قائدین کی تقریریں سامنے آئیں۔ مریم نواز کے علاوہ پی ڈی ایم کے دیگر رہنماؤں نے لو پروفائل کے ساتھ اپنا بیانیہ پیش کیا۔ یہاں تک کہ آصفہ بھٹو کی پہلے سے تیار کی ہوئی تقریر میں بھی سلیکٹرز کا لفظ کہیں موجود نہیں تھا۔

Read more

لاہور جلسہ: حکومت اور اپوزیشن بند گلی کے قیدی بن چکے ہیں

اپوزیشن اتحاد نے واضح کیا ہے کہ 13 دسمبر کو لاہور کا جلسہ ہر صورت میں مینار پاکستان پر ہی منعقد ہوگا۔ مریم نواز سمیت تمام اپوزیشن لیڈروں نے کورونا کی دوسری لہر کی وجہ سے اس جلسہ کو ملتوی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ لاہور میں ایک اجتماع سے خطاب سے کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا ہے کہ اتوار کا جلسہ حکومت کے کفن میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اب آر یا

Read more

اپوزیشن کو این آر او نہ دینا عمران خان کی غلطی ہے

2018 انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے زیادہ ووٹ حاصل کر کے کامیابی تو اپنے نام کرلی، مگر جتنی سیٹوں پر پی ٹی آئی نے فتح پائی وہ حکومت تشکیل دینے کے لئے ناکافی تھی، البتہ انہیں اتحادیوں کا سہارا لینا پڑا۔ دوسری طرف چار دہائیوں سے سیاست کے میدان میں نہ صرف سرگرم بلکہ کئی مرتبہ ملک کے اوپر حکمرانی کرنے والی جماعتیں نون لیگ اور پیپلز پارٹی اپوزیشن میں آ گئیں، تو انہیں بھی مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر قوم پرست و علاقائی جماعتوں کو ساتھ ملانا پڑا تاکہ حکومت وقت کو مشکلات سے دو چار کیا جاسکے۔

پیپلز پارٹی کو تو پہلے ہی سندھ تک محدود کر دیا تھا، جبکہ پانامہ کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی نا اہلی نے تو ان کی سیاست کا جنازہ نکال دیا۔ نون لیگ نے اپنی ڈوبتی ہوئی سیاسی کشتی کو بچانے کے لیے الیکشن دھاندلی زدہ قرار دے کر اسٹیبلشمنٹ پر الزام لگادیا۔ اور نون لیگ کی سیاست میں جان ڈالنے کے لیے کمر کھس لی۔ مولانا صاحب کی مثال بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ کی سی ہے ہی جبکہ پیپلز پارٹی بھی اپنا کھویا ہوا مقام و وقار پانے کے لیے سرگرم ہو گئی۔ مولانا فضل الرحمن کا اپنے ہزاروں کارکنوں کے ساتھ اسلام آباد میں دھرنا دینے کے بعد ان جماعتوں کو مولانا میں امید کی کرن نظر آئی اور غنیمت سمجھ کر انہوں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے اتحاد قائم کر لیا، تاکہ حکومت کو ٹف ٹائم دیا جاسکے اور حکومت کے فیصلوں و قانون سازی میں عمل دخل رہیں۔

Read more

سلگتے مسائل اور قیادت کا بحران

بیماری اور تندرستی میں کشمکش کا نام بحران ہے۔ سراسیمگی، دیوانگی کی حالت، مدوجزر اور تغیروتبدل آتا رہے تو اسے بحران کہتے ہیں۔ بحرانی کیفیت میں اچھے اور غلط کی تمیز نہیں کی جا سکتی ہے۔ عدم اعتماد کی فضا قائم رہتی ہے۔ ملک میں اس وقت قیادت کا بحران ہے۔

قیادت کے بحران میں خود ساختہ لیڈروں کے ریوڑ ہوتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی بہتات ہوتی ہے۔ سیاست محض خود نمائی، الزام تراشی، بلاضرورت اتحاد، بے مقصد جلسے، غیرضروری تقریروں تک محدود ہوتی ہے۔ قیادت کے بحران سے قیادت کافقدان جنم لیتا ہے۔

Read more

کوئٹہ سفر نامہ: وادی زیزری، پشین ریسٹ ہاؤس

زیارت ریزیڈنسی اور زیرو پوائنٹ وزٹ کرنے کے بعد ہم نے گاڑی کا رخ وادی زیزری کی طرف کیا۔ خوبصورت نظاروں کے بیچ بل کھاتی سڑک پر ہمارا سفر ایک خوشگوار احساس تھا۔ ان دیکھی منزل سے زیادہ حسین سفر لگ رہا تھا اور جی چاہتا تھا یہ سفر ختم ہی نا ہو۔ راستے میں خوبصورت پختون بچے لسی کی بوتلیں بیچتے ہوئے نظر آئے جن سے ہم نے لسی لی۔ چچا اور مجھے لسی بہت پسند ہے۔ زیتون سمیت انواع اقسام کے درختوں اور آسمان سے باتیں کرتے پہاڑوں کے بیچ چلتے ہوئے ہم اپنی منزل ’محکمہ جنگلات کی زیزری ہٹس‘ کی طرف رواں دواں تھے۔ تقریباً ایک گھنٹہ بعد چچا نے گاڑی روک دی اور ہم نے وہی اپنا کیمپ لگانے کا سوچا کیونکہ مقامی لوگوں نے بتایا کہ ہماری گاڑی کے لیے آگے راستہ موزوں نہیں، صرف جیپ یا اونچی گاڑیاں جا سکتی تھیں۔

Read more

آصفہ اور مریم: موروثی سیاست کے الزامات کی حقیقت

آصفہ بھٹو کے میدان سیاست میں اترنے کے بعد موروثی سیاست پر ایک بار پھر زور و شور سے تبرہ بازی ہو رہی ہے۔ سرسری جائزہ بھی لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ اس طرح کے الزام اور اتہام کے تیر ان کی طرف سے آتے دکھائی دیں گے، جو موجودہ ہائبرڈ حکومت یعنی مکس اچار والی حکومت کے گن گاتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو کہیں سے یہ سن گن لگ گئی کہ سیاست میں موروثیت ناجائز ہے۔ یہ بد بخت جمہوریت کے مقابلے میں آمریت کا کلمہ پڑھتے ہوئے تو شرمسار نہیں ہوتے مگر بندوق برداروں کے ہاتھوں جمہوری حکومت کے قلع قمع کو ملک کی بقا اور سلامتی کا ضامن سمجھتے ہیں۔ انہیں سیاست میں کچھ سال بعد ایک ”عمران خان“ تو گوارا ہے جو اسٹیبلشمنٹ کی بیساکھی پر اقتدار میں آ کر اشاروں پر ناچنا جانتا ہو مگر انہیں قائد اعظم کی نیک سیرت، پاکدامن اور سیاسی بصیرت سے مالا مال بہن فاطمہ جناح ہر گز گوارا نہیں کیونکہ وہ آمریت کے قبیح کاروبار کو ببانگ دہل للکارنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔

Read more

حکومت، اپوزیشن اور سرائیکی صوبہ

پی ڈی ایم کے جلسے کے حوالے سے ملتان اور وسیب کے باقی تمام اضلاع میں تین روز تک جاری رہنے والی سیاسی کشیدگی کے بعد کون جیتا اور کون ہارا یہ بحث تو شاید 13 دسمبر کو لاہور مینار پاکستان پر ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے تک جاری رہے مگر اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ حکومت پنجاب اور ملتان انتظامیہ نے کارکنوں پر مقدموں، پکڑ دھکڑ اور رکاوٹوں کے ذریعے جس طرح جلسے کو کامیاب کرانے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا اسے تحریک انصاف حکومت کی بدانتظامی حوالے سے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا کیونکہ قلعہ کہنہ قاسم باغ کے بجائے چوک گھنٹہ گھر میں ہونے والے جلسے نے جس طرح پورے ملک کو اپنی طرف متوجہ کر لیا اس طرح کی توجہ شاید آزادی کے ساتھ جلسہ کر کے حاصل نہیں کی جا سکتی تھی۔

Read more

ملتان جلسہ

گزشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ حکومت اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کو کورونا کے خطرے کے پیش نظر جلسے جلوس سے روکنے کی اخلاقی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گلگت میں انتخابات کے موقع پر خود وزیراعظم اور ان کے وزراء ہزاروں لوگوں کے اجتماعات سے ایس او پیز کی دھجیاں اڑا کر خطاب کرتے رہے، جونہی مگر اپنا سیاسی مقصد پورا ہوا کورونا کو آڑ بنا کر نہ صرف اجتماعات پر پابندی کا اعلان کر دیا بلکہ اپوزیشن سے مطالبہ شروع کر دیا کہ وہ اس پابندی کا لحاظ کرتے ہوئے اپنی احتجاجی تحریک ختم کر دے۔

اس کے بعد بھی لیکن اپنی روش نہ بدلی، ملتان میں پی ڈی ایم کے جلسے سے صرف دو روز قبل وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر جنہیں تحریک انصاف کا سمجھدار چہرہ سمجھا جاتا اور جو کورونا کی صورتحال کی مانیٹرنگ اور بچاؤ کے اقدامات تجویز کرنے کی خاطر قائم کیے گئے ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ بھی ہیں، نے ایک بڑے مجمعے سے خطاب کیا جس میں کورونا سے بچاؤ کی خاطر بتائی جانے والی احتیاطی تدابیر ان کے سامنے پامال ہوتی رہیں۔

Read more

ملتان جلسہ میں عکس بے نظیر

جلسہ تو ہو کر رہے گا کا نعرہ لگانے والی اپوزیشن نے بالآخر ملتان میں جلسہ کر ہی دیا۔ ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ میں ہونے والے جلسے کو روکنے کے لیے حکومت نے ہر حربہ استعمال کیا۔ ایک خوف کی فضا پیدا کی گئی پیپلزپارٹٰی اور نون لیگ کے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ جلسہ گاہ کو جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا۔ مخدوم سید یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے ورکروں کے ساتھ قاسم باغ میں جانے کے لیے زور لگاتے رہے۔

تین دن ملتان انتظامیہ اور ورکروں کے درمیان آنکھ مچولی ہوتی رہی اور حکومتی کارکردگی نے روایتی احتجاجی جلسے کی بجائے ایک بھرپور مزاحمتی جلسہ بنا دیا۔ تمام تر خوف کے باوجود جنوبی پنجاب کے اضلاع سے کارکن قافلوں کی صورت میں نکلے۔ ڈیرہ غازی خان، راجن پور اضلاع سے سب سے بڑا قافلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار دوست محمد خان کھوسہ کی قیادت میں ملتان پہنچا۔ انتظامات نا ہونے کے باوجود جلسے میں عوام کی تعداد قابل تعریف تھی۔

Read more

کرونا بنا ہمارا دوست، ہمارا دشمن۔

دوستو، آپ سے کرونا کے حوالے سے کچھ شیئر کرنا چاہتی ہوں، کرونا ہمارا دشمن ہے جان لیوا ہے نہیں نہیں اففف اللہ یہ کیا کہہ دیا بھائی یہ تو ہمارا دوست ہے۔ مگر دوست بھی تو نہیں کہہ سکتی سننے میں آیا ہے کہ کرونا کی دوسری لہر شروع ہو چکی ہے مگر مجھے اب تک یہ سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ کرونا کوئی وائرس ہے یا جادوگر؟ کرونا پوچھ کر جاتا ہے کہ میں اس جگہ آ سکتا ہوں یا نہیں۔

میں یہ نہیں کہتی کہ کرونا نہیں لیکن دوستو۔ وائرس میں بھی سیاست اففف اب میں ان لوگوں سے کیا کہوں۔ جب سے ملتان میں جلسہ ہوا میں تو سکتہ میں ہوں کیونکہ اگر وائرس ہے تو پھر سب پڑھے لکھے جاہل ہیں کیونکہ اس جلسہ میں بڑے بڑے عظیم لوگ تھے چالیس سال سابقہ وزیراعظم۔ وا اہ میرے مولیٰ۔ تیری عظمت کو سلام۔ انسانوں کے کالے کرتوتوں کو تو صرف خدا ہی جانتا ہے جس نے ان پر پردہ پوشی کی ہوئی ہے مریم نواز بی بی، ٹھیک کہا کہ جدھر پی ٹی آئی کا جلسہ ہوا کرونا پوچھتا ہے کہ جاؤں یا نہیں۔

Read more

سیاست عوام کی زندگی سے اہم نہیں!

عالمی و ملکی سطح پر کورونا کی لہر میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے، متاثرہ مریضوں اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث ایک ہی روز میں 59 افراد وفات پا گئے ہیں، جبکہ 3 ہزار سے زائد نئے مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے، دوسری طرف حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان جلوسوں اور جلسوں کے انعقاد کے بارے میں اختلاف رائے ختم ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہا ہے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے کورونا سے پیش آنے والی صورت حال کے بارے میں پارلیمانی قائدین کا اجلاس طلب کیا تھا، لیکن حزب اختلاف کی جماعتوں نے شرکت نہیں کی ہے۔

Read more

ٹکراو اور بداعتمادی کی سیاست

ہماری سیاست اور جمہوریت بند گلی میں ہے۔ کیونکہ دونوں فریق حکومت او رحزب اختلاف ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔ سیاست اور جمہوریت مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھتی ہے او ر اس کی کنجی مکالمہ سے جڑی ہوتی ہے۔ لیکن یہاں کوئی بھی فریق کسی سے بات چیت یا مفاہمت کے لیے تیار نہیں۔ عمومی طور پر حکمران طبقہ کی ضرورت سیاسی مفاہمت ہوتی ہے۔ حکومت ہی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ صورتحال

Read more

اسحاق ڈار کی ہارڈ ٹاک

بی بی سی کا ایک پروگرام ہے، نام ہے ”ہارڈ ٹاک“ ، اس کے مہمان بنے ہمارے جناب سابقہ وزیر خزانہ، محترم اسحاق ڈار صاحب۔ اب یہ مجھے نہیں پتہ کہ اس پروگرام میں شرکت کا مشورہ انہیں کس نے دیا، اور یہ ہمت انہوں نے کس کے کہنے پر کر لی۔

لیکن وہ جو بھی سوچ کر گئے تھے، لگتا کچھ ایسا ہی ہے کہ اس میں کامیاب نا ہو سکے۔ وجہ ہارڈ ٹاک کے اینکر کے تابڑ توڑ سوالات، بلکہ کہہ لیجیے کہ تابڑ توڑ حملے۔ جن کا سامنا، گردن کی ہڈی میں بیماریوں کا سامنا کرنے والا یہ شخص تو بالکل بھی نہیں کر سکتا تھا۔

Read more

جلسۂ ِ ملتان اور آصفہ بھٹو

’’کتنے لوگ تھے؟‘‘ والا سوال اٹھانا وقت کا زیاں ہوگا۔’’مکدی گل‘‘ یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد-پی ڈی ایم- پیر کے روز ملتان میں اپنا جلسہ منعقد کرنے میں کامیاب رہا۔چار سے زیادہ دنوں تک پھیلی پولیس اور انتظامیہ کی پھرتیاں اسے روکنے میں مضحکہ خیز حد تک ناکام رہیں۔واضح طورپر غیر ضروری نظر آتی ان پھرتیوں نے تجسس اور تنائو کا جو ماحول پیدا کیا اس نے مجھ ایسے ’’ٹی وی بیزار‘‘شخص کو بھی مجبور کردیا کہ بستر

Read more

وزیر اعظم اور ان کے وزراء نشے میں ہیں: قیصر شریف

جماعت اسلامی کے ترجمان قیصر شریف کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے وزرا اقتدار کے نشے میں چور ہیں اسی لیے انہیں جماعت اسلامی کے جلسے جلسیاں نظر آرہی ہیں، جماعت اسلامی اس وقت حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ نجی ٹی وی نیوز ون کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے قیصر شریف کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اور ان کے وفاقی وزرا نشے میں ہیں، انہیں 22 کروڑ عوام نظر نہیں آرہے تو

Read more

سیاست و عدالت: کون کون کٹہرے میں کھڑا ہوگا؟

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی الزام تراشی کا سلسلہ حسب معمول جاری ہے ۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ملتان میں پی ڈی ایم جلسہ کے دوران سخت گیر اقدامات کرنے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے جبکہ وزیر اطلاعات شبلی فراز نے واضح کیا ہے کہ حکومت پابندی کے باوجود 13 دسمبر کو لاہور کا جلسہ تو نہیں روکے گی لیکن اس کا اہتمام کرنے والے لیڈروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ کابینہ کے

Read more

اینٹی ہاتھی ٹیکنالوجی

انسان قد میں ہاتھی سے بہت چھوٹا ہے مگر ہسٹری پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ چھوٹے انسانوں نے بڑے ہاتھیوں سے بڑے کام لیے جن میں زیادہ تر جنگ کے دنوں میں دشمن کو تباہ و برباد کرنا اور امن کے دنوں میں سواری اور کاشت کاری وغیرہ شامل تھے۔ تاہم پاکستانی سیاست میں سیاسی ہاتھیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نیا طریقہ ایجاد کیا گیا جسے یہاں ”اینٹی ہاتھی ٹیکنالوجی“ لکھا جا رہا ہے۔ اینٹی ہاتھی ٹیکنالوجی

Read more

اسحاق ڈار: ’فوج بطور ادارہ نہیں، کچھ افراد جمہوری عمل کو کمزور کر رہے ہیں‘

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ فوج کا بطور ادارہ نہیں بلکہ کچھ افراد کی بات کرنی ہو گی، ہیلری کلنٹن بھی ڈیپ سٹیٹ سے متعلق پاکستان کی مثال دے چکی ہیں۔

Read more

ملتان کی سیاست اور پی ڈی ایم کا جلسہ

پیر کی صبح اُٹھ کر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) میں جمع ہوئی جماعتوں نے اس دن ’’ہر صورت ‘‘ ملتان میں جلسہ منعقد کرنے کا ارادہ باندھ رکھا ہے۔عمران حکومت نے اگرچہ دو روز قبل ہی ریاستی قوت کے استعمال کے ذریعے اسے روکنے کی تیاری شروع کردی۔سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور ان کا گھرانہ ریاستی جبر کا خصوصی نشانہ نظر آیا۔گیلانی خاندان پر ہوا یہ فوکس تاہم اسے مقامی سیاست میں بھرپور احیاء

Read more

جناب! عوام کو ہلکا نہ لیں

ہو سکتا ہے کہ یہ سوچ حاوی ہو کہ لگتے رہیں نعرے، ہوتے رہیں جلسے، چلتی رہے تحریک اور بڑھتے رہیں لانگ مارچ، ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔ اپوزیشن حکومت کا کیا بگاڑ لے گی؟ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

فوج عمران خان کو نہیں بچائے گی

حکومت کی تمام تر کوششوں اور رکاوٹوں کے باوجود ملتان میں پی ڈی ایم کا جلسہ ہوگیا۔ اب یہ بات اہم نہیں ہے کہ جلسہ کتنا کامیاب تھا اور اس میں کتنے لوگوں نے شرکت کی۔ اہم ترین سوال یہ ہے کہ اپوزیشن نے حکومت کے انتباہ، کورونا وبا کے خطرہ و اندیشہ اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے پکڑ دھکڑ اور جلسہ گاہ بند کرنےکے باوجود جلسہ منعقد کیا اور حکومت کو جد و جہد جاری رکھنے کا پیغام

Read more

پی۔ ڈی۔ ایم اور کرونا وائرس

تاریخ پاکستان کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو ہمیشہ انتخابات پر جماعتیں متفق نہیں رہیں۔ ہمیشہ اقتدار میں آنے والی جماعت نے شفاف انتخاب ہونے کا دعویٰ کیا جبکہ ہارنے والی جماعتوں نے انتخابات چوری ہونے یا دھاندلی کا الزام لگایا۔ شاید ہارنے والی جماعت فقط اس لیے اس نعرے کو لگاتی ہے تاکہ جماعت کے کارکن اور ووٹر جماعت سے جڑے رہیں اور کوئی جواز رہے۔ 90 کی دہائی کی چھوڑ کر اگر حالیہ دو دہائیوں بات کروں کو 2002 مشرف دور حکومت کو بھی دھاندلی زدہ کہا گیا اور ق لیگ و دیگر حکومتی جماعتوں نے انتخابات کو درست قرار دیا۔

اس وقت مولانا فضل الرحمن و نون لیگ نے مل کر اپنا وزیراعظم لگانا چاہا مگر پاکستان پیپلز پارٹی نے شاہ محمود قریشی کو وزیراعظم کا امیدوار نافذ کیا۔ اپوزیشن کی تقسیم کی وجہ سے ظفر جمالی صاحب وزیراعظم منتخب ہوئے۔ اس کے بعد 2008 کے انتخابات کو بھی اگر دیکھا جائے تو تحریک انصاف نے تو اس کا بائیکاٹ کیا مگر پیپلز پارٹی نے میدان مارا تو اب اپوزیشن میں ق لیگ نے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دے دیا۔ ہم نے دیکھا کہ نون لیگ کیسے پیپلز پارٹی حکومت کے خلاف اور ججز بحالی تحریک میں نکلی۔

Read more

پی ڈی ایم کا ملتان میں سیاسی قوت کا مظاہرہ، گھنٹہ گھر چوک جلسہ گاہ میں تبدیل

لاہور — پاکستان میں حکومت مخالف حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا ملتان میں جلسہ جاری ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے جلسہ گاہ کو بند کیے جانے کے بعد ملتان کے چوک گھنٹہ گھر کو ہی جلسہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم نے جلسے کے لیے ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ اسٹیڈیم کا انتخاب کیا تھا جہاں انتظامیہ اور کارکنان کے درمیان گزشتہ شب سے ہی آنکھ مچولی جاری رہی۔

Read more

پی ڈی ایم ملتان جلسہ: حکومتی پابندی کے باوجود عوام کی بڑی تعداد گھنٹہ گھر چوک پر موجود، آصفہ بھٹو کا خطاب شروع

پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا کی دوسری لہر میں تیزی کے باوجود حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے ملتان کے گھنٹہ گھر چوک پر سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنے کے لیے جلسے شروع کر دیا ہے اور عوام کی بڑی تعداد وہاں موجود ہے۔

Read more

آصفہ بھٹو زرداری: کیا فلاحی کاموں میں دلچسپی رکھنے والی آصفہ کو سیاست نے چُن لیا ہے؟

آصفہ بھٹو زرداری اپنی بڑی بہن بختاور کے برعکس سیاسی معاملات پر زیادہ کھل کر بات کرتی ہیں اور اکثر انھیں بلاول کے بعد کی قیادت کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے لیکن اس میں مشکلات کیا ہوں گی؟

Read more

ملتان کا جلسہ فیصلہ کن معرکہ

پنجاب کے موجودہ وزیراعلیٰ جناب عثمان بزدار کی حکومت گزشتہ اڑھائی سال کے عرصہ میں اپنے متعلق ایک ہی تاثر قائم کر پائی ہے کہ وہ ایک کمزور حکومت کے کمزور سربراہ ہیں پنجاب میں موثر حکمرانی یا گڈگورننس قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے بعض حریف تو انہیں صوبے کے سب سے نا اہل، غیر موثر وزیراعلیٰ کا خطاب بھی دیتے ہیں لیکن اب جبکہ پی ڈی ایم کی تحریک واپس پنجاب میں عور کر آ رہی ہے اور 30 نومبر 2020 کو ملتان کے جلسہ کے ذریعے تحریک کو پنجاب کے اہم مرکزی سیاسی منطقے میں داخل کرنے جا رہی ہے تو پنجاب کی بزدار حکومت اپنی کمزوری کے علی الرغم خم ٹھونک کر میدان میں اتر رہی ہے جس کا مصمم ارادہ ہے کہ ملتان میں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پنجا

Read more

جسے چاہیں اسے نواز دیں

اعتزاز احسن کا خیال ہے کہ بر صغیر کا وہ علاقہ جسے آج پاکستان کہا جاتا ہے، تہذیبی طور پر کبھی بھی ہندوستان کا حصہ نہیں رہا۔ ’انڈس ساگا‘ نامی اپنی کتاب میں، شمال میں واقع گورداسپور اور جنوب میں کاٹھیا وار کو ملا کر کھینچی گئی لکیر کے جنوب مشرق میں واقع خطے کو وہ ’انڈیا‘ جبکہ شمال مغرب میں موجودہ پاکستان کو وہ ’انڈس‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اعتزاز صاحب کے خیال میں، بعد از مسیح ابتدائی صدیوں کے دوران مشرقی حصے میں جہاں بادشاہت کا نظام رائج تھا تو اس کے برعکس انڈس چھوٹی چھوٹی نسبتاً جمہوری مزاج رکھنے والے ریاستوں پر مبنی تھا۔

انڈیا میں ذات پات پر مبنی سخت گیر مذہبی نظام استوار تھا تو انڈس وسط ایشیائی معتدل مزاج تہذیب کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ انڈیا برہمن راج کی گرفت میں تھا تو انڈس محبت اور امن کا پیغام بکھیرنے والے صوفیوں کی سر زمین تھا۔ دریائے سندھ کے کنارے پر ہی صدیوں پہلے شمالی دروں سے امنڈنے والے رشیوں نے وید لکھے تھے۔ سکھوں کے گرو نانک نے بھی پانچ دریاؤں کی زمین پر جنم لیا اور اسی خطے میں امن و آشتی کا پیغام پھیلایا۔ اعتزاز احسن کا خیال ہے کہ انڈس میں ’انڈیا‘ کی نسبت برداشت اور رواداری کا نظام استوار رہا ہے۔ چنانچہ آج کے پاکستان کو صدیوں قدیم انڈس کی تہذیبی وراثت کا ہی امین ہونا چاہیے۔

Read more

ماں کی قبر کی گیلی مٹی پر دعا کرنے کے لیے کتنے دن کافی ہوں گے؟

نواز شریف کی والدہ شمیم اختر نے زندگی میں بہت نشیب و فراز دیکھے۔ انہوں نے ساٹھ اور ستر کی دہائی میں وہ وقت بھی دیکھا جب ہر طرف ان کے شوہر کے کاروبار کا طوطی بولتا تھا۔ کاروبار میں ایسی برکت ہوئی کہ دنیا بھر میں میاں شریف کا نام ہوا۔ اس وقت یہ خاندان پاکستان کے رئیس ترین خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔ بھٹو دور میں نیشنلائزیشن کا نعرہ لگا تو میاں شریف سب کچھ سمیٹ کر دساور کے سفر پر جا نکلے۔ عرب ممالک نے پاکستان کے ایسے بزنس مین کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔

آپی جی کی دعاؤں میں ایسی برکت ہوئی کہ کاروبار بیرون ملک بھی پھلنے پھولنے لگا۔ سربراہان مملکت سے ملاقاتیں ہونے لگیں۔ بڑے بڑے لوگ گھر پر مدعو ہونے لگے۔ لیکن اس سے آپی جی کی سوچ میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ انہوں نے تمام تر امارات کے باوجود ہمیشہ سادہ لباس پہنا۔ نماز روزے کی پابندی کی۔ عزیز رشتہ داروں کا ہر مشکل میں خیال رکھا۔ کس کے گھر تعزیت کے لیے جانا ہے؟ کہاں مبارک باد دینی ہے؟ کہاں کسی بچے کے رشتہ کی بات کرنی ہے؟ کہاں کس کی چپکے سے مدد کرنی ہے؟ کس کے لئے نماز کے بعد خصوصی دعا کرنی ہے؟ کس کی کامیابی کے بعد شکرانے کے نفل پڑھنے ہیں؟ یہ سب فیصلے ہمیشہ سے آپی جی نے خود ہی طے کیے تھے۔ لیکن ان کی زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ ان کی دعائیں تھیں، نماز روزے کی عادت تھی۔ وہ آخری وقت تک اس معمول کی پابند رہیں۔ اس میں کوئی رخنہ یا رکاوٹ انہیں قبول نہیں تھی۔

Read more

مذاکرات یا لانگ مارچ: حکومت ابھی فیصلہ کر لے

پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 2006 میں اپنی ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوئے آئندہ انہیں نہ دہرانے کا عہد کرتے ہوئے ”میثاق جمہوریت“ پر دستخط کیے اور یہ طے کیا گیا کہ معاملات باہمی مشاورت سے طے کیے جائیں گے۔ لیکن افسوس کہ اس معاہدے کی سیاہی سوکھنے سے پہلے ہی اس کی خلاف ورزی کی گئی اور بار بار کی گئی۔ وہ خواہ جنرل پرویز مشرف سے مذاکرات ہوں، عدلیہ بحالی کی تحریک

Read more

نواز شریف: جانے کس جرم کی پائی ہے سزا؟

نواز شریف کو اکتوبر 1999 ء کے بعد سے اب تک تقریباً ایک جیسے حالات کا ہی سامنا رہا ہے جن میں غاصب طاقتوں کا غیظ وغضب اور وفاداری کی قسمیں کھانے والے ساتھیوں کی بے وفائی سمیت پارٹی میں پھوٹ ڈالنے کی کوششوں کا سامنا وغیرہ شامل ہیں۔ مثلاً جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء کے بعد شریف خاندان کی خواتین کو تقریباً ایک سال تک نظربند رکھنے کے بعد جب رہائی دی گئی تو اس وقت نواز شریف

Read more

وبا کے موسم میں سیاسی تصادم اور اصلاح کا پہلو

ملک میں کورونا کی شدت میں شدید اضافہ ہورہاہے اور دنیا بھر سے حاصل تجربوں کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ وبا پاکستان میں بھی مزید پھیلے گی۔ اس کی ایک وجہ گزشتہ روز وزیر اعظم نے ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے بیان کی ہے کہ لوگ اس وبا کو سنجیدگی سے لینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں سیاسی تصادم کا موسم بھی شدید ہے۔ اپوزیشن30 نومبر کو ملتان میں جلسہ

Read more

بلاول بھٹو زرداری: پی پی پی چیئرمین کی جانب سے حکومت مخالف جلسے جاری رکھنے کے اعلان پر سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل

حکومتی وزرا اس سے پہلے الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ پی ڈی ایم کے جلسے ملک میں کورونا پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔

Read more

نعیم بخاری، پی ٹی وی چیئرمین: عمران خان کے ’فوٹ سولجر‘ جو خواتین سے متعلق بیانات سے متنازع ہوئے

ایک وقت تھا کہ اپنی جاذب نظر شخصیت اور سلجھی ہوئی بات چیت کے باعث نعیم بخاری ناصرف مردوں بلکہ عورتوں میں بھی یکساں مقبول تھے مگر پھر انھوں نے خواتین سے متعلق چند ایسے جملے کسے جنھیں ناگواری نظروں سے دیکھا گیا۔

Read more

نیشنل ڈائیلاگ :کیا ممکن ہو سکے گا؟

قومی مکالمہ یا ڈائیلاگ ہونا چاہیے۔ یہ مکالمہ کسی ایک یا دو فریق کے درمیان نہیں بلکہ ریاست یا سماج سے جڑے تمام فریقین جو فیصلہ سازی کے عمل میں اہمیت رکھتے ہیں کو اس کا حصہ بننا ہوگا۔ سیاست کی سمجھ بوجھ رکھنے والے بہت سے اہل علم یا اہل سیاست کے بقول ملک میں جو بحران موجود ہے اس کا ایک بڑا حل یا اس کی ابتدائی کوشش قومی ڈائیلاگ سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ سوچ اور فکر کوئی نئی نہیں اس سے قبل بھی ہم بہت سے اہل دانش کی جانب سے اس تجویز کو سن چکے ہیں۔ لیکن ہمارا سیاسی ماحول، تناو یا محاذ آرائی بداعتمادی، ایک دوسرے کے سیاسی قد یا وجود کو قبول نہ کرنے کے کلچر نے عملاً ڈائیلاگ کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

جو لوگ عمومی طور پر مختلف فریقین کے درمیان ڈائیلاگ پر زور دیتے ہیں ان کے سامنے دو سوچ اور فکر کا غلبہ ہے۔ اول ایک طبقہ کے بقول اس ڈائیلاگ میں فوج، عدلیہ، بیوروکریسی، بار ایسوسی ایشن، میڈیا سمیت حکومت اور حزب اختلاف اس کا حصہ ہوں۔ جبکہ دوسرے طبقہ کے بقول ڈائیلاگ صرف اور صرف حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ہی ہونا چاہیے اور ہر اس عمل سے گریز کرنا چاہیے جو آئینی حدود سے تجاوز کرے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک داخلی اور خارجی محاذ پر لاتعداد سنگین نوعیت کے مسائل سے دوچار ہے۔ مسائل کی نوعیت ایسی ہے کہ کوئی بھی فریق سیاسی طور پر تنہائی میں یہ معاملات حل نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے مجموعی طور پر ایک بڑا اتفاق رائے یا متفقہ طور پر اجتماعی سطح کی کوششوں کی ضرورت ہے۔

Read more

ہندوستان کے کائو بوائز اور مسز اندرا گاندھی کا حلقہ گرہ گیر

ہمارے کتب خانہ میں دو ڈیجٹل کتابیں موجود ہیں۔ پہلی تو مشہور زمانہ جاسوس کم فلبی کے بارے میں ہے۔ اے سپائی امنگ فرینڈز مصنف بین میکن ٹائر اور جان لا کیئرے۔ اس کی تعریف ٹوئیٹر پر وکرم سود صاحب نے کی تھی۔ موصوف را کے چیف رہے۔ سن دو ہزار تین میں ریٹائر ہوئے۔ تعلق ہندوستان کے محکمہ ڈاک سے تھا۔ ہمارے محکمہ ڈاک کے اعلیٰ افسران بھی اُن کی طرح ایک ہی مقابلے کے امتحان سے آتے ہیں۔

Read more

گلگت بلتستان الیکشن: حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ جاری

گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے بعد اس وقت حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ جاری ہے اور سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کی جانب سے آزاد اراکین کی حمایت سے اکثریت حاصل ہونے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعتیں انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے احتجاج کر رہی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سربراہ بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ وہ انتخابی نتائج کو ہر دستیاب فورم پر چیلنج کریں گے۔

Read more

اپوزیشن کو آن بورڈ لینا ضروری

وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات پر مذاکرات کی دعوت دے دی ہے۔ اپوزیشن کو آن بورڈ لینا ایک اچھی روایت بن سکتی ہے بشرطیکہ ہر اہم معاملے پر ایسا ہی کیا جائے۔ یقیناً انتخابی اصلاحات جمہوریت کی بقا کے لئے وقت کی اہم ضرورت ہیں لیکن مذاکرات کا عمل ایک تسلسل کا حصہ ہونا چاہیے نہ کہ حکومت محض نمائشی طور پر اپوزیشن کو آن بورڈ لینے کا دعویٰ کرے اور عملی طور پر حقائق اس کے

Read more

مریم نواز کا بیانیہ: مٹھا مٹھا ہپ

پنجابی زبان جو کہ میری ماں بولی بھی ہے اس کی خوبصورتی یہ ہے کہ بولنے اور سننے میں میٹھی و شیریں تو ہے ہی، سمجھنے میں بھی سہل اور آسان ہے۔ میرا ایک مرحوم دوست ڈاکٹر عنائت کہا کرتا تھا کہ جو مزا ”سواد“ کا پنجابی زبان میں ادا کرنے میں آتا ہے کسی اور زبان میں کہاں؟ اسی زبان کا ایک مشہور اکھان ہے کہ ”مٹھا مٹھا ہپ تے کڑوا کڑوا تھو“ ۔ یعنی جہاں سے فائدہ مل

Read more

پی ڈی ایم کا میثاق پاکستان

گلگت بلتستان کے الیکشن ہوچکے اور سب کچھ توقع کے مطابق ہوا۔ انتخابات میں توقع کے مطابق تحریک انصاف نے اکثریت حاصل کی اور توقع کے مطابق ہی دیگر سیاسی جماعتوں نے انتخابی نتائج کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ بلتستانی مقامی لیڈر شپ کے مطابق ان انتخابات میں بھی 2018 والا فارمولا اپنایا گیا۔ امیدواروں کی وفاداریاں تبدیل کرائی گئیں، فارم 45 نہیں دیا گیا۔ جو بھی ہوا برا ہوا اس سے بہتر ہو سکتا تھا۔ حکومت نے

Read more

وسیع تر قومی مکالمہ لازم ہے مگر…

انسان کو روز اول سے کسی نظام حکومت کی ضرورت رہی ہے۔ قدیم دور کے انسان بھی اپنی مذہبی، معاشی اور سماجی ضروریات کے تحفظ کے لئے کسی اتھارٹی کے قیام کی خواہش رکھتے تھے۔ اسی لیے چند خاندان مل کر قبیلہ بناتے اور پھر کوئی طاقتور شخص اس کی سرداری پر قابض ہو جاتا۔ زمانے نے کچھ ارتقائی مراحل طے کیے تو مختلف قبائل کے اشتراک سے ریاستیں وجود میں آئیں، اور ان کا نظام و انصرام سنبھالنے والے

Read more

ووٹ کی عزت کے نعرے!

” ہم فوج سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں مگر اس سے پہلے جعلی حکومت کو گھر بھیجا جائے“ مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز کے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہے گئے یہ الفاظ سن کر اس لیے کوئی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ ہمارے سیاستدان جب اقتدار سے دور ہوں تو وہ عوام کے قریب ہو جاتے ہیں انہیں عوام کا احساس بھی ہوتا ہے عوام کے ووٹ بھی یاد آتے ہیں

Read more

پی ڈی ایم کے گنبد، ہوا میں معلق تحریک اور بیانیہ کا بوجھ

سیاسی تحاریک رجحان سازی کرتی ہیں اور ہواؤں کے رخ موڑ دیتی ہیں۔ معجزوں کا ظہور ہوتا ہے اور نئی قیادتیں جنم لیتی ہیں۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا جائزہ لیں تو اس امرپر سوچنا ضروری ہے کہ پی ڈی ایم کی بنیاد کیوں اور کن وجوہات پر رکھی گئی ہے۔ اپوزیشن کا کردار کیا ہوتا ہے۔ جمہوریت کیا ہے۔ سیاست کے مقاصد کیا ہیں۔ حکومت گرانے کی اتنی جلدی کیوں ہے۔ اگر پی ڈی ایم کی بنیاد اس وجہ سے

Read more

گلگت بلتستان الیکشن کے دلچسپ نتائج

15 نومبر کو منعقد ہونے والے گلگت بلتستان کے الیکشن کے نتائج نے سب اندازے، تبصرے اور تجزیے الٹ کر دیے۔ گلگت بلتستان کے الیکشن کے حوالے سے عموماً یہ بات کی جاتی تھی کہ یہاں اس پارٹی کی جیت ہوتی ہے جس کی وفاق میں حکومت ہو۔ یہ بات اس حوالے سے بھی درست تھی کہ 2009 میں گلگت بلتستان کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کی جیت ہوئی اور وفاق میں بھی پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ 2015 کے

Read more

گلگت بلتستان انتخابات: کیا تحریک انصاف کو وہ کامیابی نہیں ملی جو ماضی کی حکمراں جماعتوں کو ملتی تھی؟

پاکستان میں گلگت بلتستان کی تیسری قانون ساز اسمبلی کے انتخاب کے غیر حتمی نتائج لگ بھگ سامنے آ گئے ہیں اور اب حکومت سازی کے لیے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف متحرک نظر آتی ہے جبکہ حزب اختلاف کی جماعتیں بھرپور احتجاج کا اعلان کر رہی ہیں۔

Read more

’’جیہڑا جتّے، اوہدے نال‘‘ کی برقرار عادت

یہ کالم لکھنے کے لئے پیر کی صبح 10:52پر قلم اٹھایا ہے۔ میرے موبائل کی سکرین پر No Serviceآرہا ہے۔اتوار کا سارا دن بھی اس ’’سروس‘‘ سے محروم رہا۔ موبائل فون کے ذریعے گھر سے رابطہ برقرار رکھنے والے اطمینان کی عدم دستیابی کے سبب باہر نکلنے سے خوف آتا رہا۔ دورِ حاضر میں روزمرہّ زندگی کے لئے ’’بنیادی‘‘ ہوئی اس سہولت سے محرومی کی جووجہ ہے اسے ’’فسادِ خلق‘‘ کو ’’بھڑکانے‘‘ کے الزام سے بچنے کے لئے زیر بحث

Read more

گلگت بلتستان: حکومت جیت گئی، تحریک انصاف ہار گئی

گلگت بلتستان میں انتخابات سے ایک روز پہلے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس میں پاکستان کی سلامتی اور عوام کو لاحق بھارتی دہشت گردی کے خطرات سے آگاہ کیا۔ دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ میڈیا کو بتایا گیا کہ بھارتی ایجنسیاں پاکستان میں تخریب کاری اور تشدد کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ اتوار کو گلگت بلتستان کے عوام نے تحریک انصاف کو کامیاب کروا کے

Read more

سیاسی مذاکرات: شرائط اور فریقین

2018 ءکے عام انتخابات سے قبل ہی پارلیمنٹ کو زیر اثر لانے اور حکومت کو تابع مہمل بنانے کی کوششوں کا آغاز ہو گیا تھا۔ پانامہ سے اقامہ نے دفعہ 62 کو فعال کیا پھر۔ بلوچستان حکومت کے خلاف عد م اعتماد کی تحریک جو مسلم لیگ میں دارڑ کی صورت سامنے لائی گئی اس کوشش کے مراحل تھے نیز 2018ء مارچ میں ہونے والے سینیٹ انتخابات کی پشتہ بندی تھی اور حتمی طور پر 2018 ءکے عام انتخابات کے

Read more

گلگت بلتستان انتخابات: غیر حتمی نتائج میں پاکستان تحریک انصاف کو برتری حاصل، بلاول بھٹو، مریم نواز کا الیکشن میں دھاندلی کا الزام

گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے حتمی نتائج ابھی سامنے نہیں آئے ہیں تاہم مقامی و سرکاری ذرائع ابلاغ پر نشر کردہ ابتدائی نتائج کے مطابق تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو برتری حاصل ہے۔ ساتھ ہی حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکمران جماعت پر دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے۔

Read more

اپوزیشن نے گلگت بلتستان انتخابات کے نتائج مسترد کر دیے

گلگت بلتستان اسمبلی کی 23 نشستوں پر اتوار کو ہونے والی پولنگ کے بعد نتائج کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق وفاق میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے گلگت بلتستان کی آٹھ نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے جب کہ دوسرے نمبر پر آزاد امیدوار آگے ہیں جن کی تعداد سات ہے۔

Read more

ارشد وحید چودھری راہی ٔ ملک عدم

ارشد وحید چودھری کی جواں سالی میں موت نے بوکھلا دیا ہے۔وگرنہ ہفتے کی سہ پہر سے ذہن میں دو موضوعات طے ہوچکے تھے۔ مطمئن تھا کہ اتوار کی صبح اُٹھنے کے بعد ان میں سے کسی ایک کو زیر بحث لاتے ہوئے روانی میں کالم لکھ ڈالوں گا۔ عمر کے حوالے سے ارشد مجھ سے کئی برس جونیئر تھا۔ ہم دونوں نے کبھی کسی صحافتی ادارے میں ایک ساتھ کام بھی نہیں کیا۔ گزشتہ برس کے آغاز میں لیکن

Read more

گلگت بلتستان کا سیاسی منظرنامہ

گلگت بلتستان الیکشن میں اب صرف چند ہی دن رہ گئے ہیں۔ یہ اس خطے کے تیسرے عام انتخابات ہیں۔ آج سے تقریباً 10 برس قبل پہلی بار یہاں عام انتخابات کا انعقاد ہوا۔ یہ انتخابات اس وقت کی حکومت نے گلگت بلتستان کو نیم صوبائی حیثیت دے کر یہاں منعقد کرائے۔ اس طرح سے یہاں بیوروکریسی کے نظام کا خاتمہ ہو گیا۔ اس زمانے میں وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ ان انتخابات میں پی۔ پی کے کارکن جناب مہدی علی شاہ وزیر اعلٰی منتخب ہوئے اور ڈاکٹر شمع خالد کو گورنر گلگت بلتستان مقرر کر دیا گیا۔

Read more

گلگت بلتستان الیکشن: موسیقی، ترانے اور تقریری زبان

جلسے، جلوس، کارنر میٹنگز اور ریلیوں کو انتخابی سیاست کی جان سمجھا جاتا ہے۔ نوے کی دہائی کے بعد تو اس میں ترانے اور موسیقی کا تڑکا بھی لگایا گیا تاکہ عوام کو اور زیادہ راغب کیا جاسکے۔ ملکی سطح پر سنا تھا کہ سیاسی جلسوں میں مجلس احرار کے شورش کاشمیری اور بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو کی تقریریں سامعین کو اپنے سحر میں جکڑ لیا کرتی تھیں۔ خصوصاً بھٹو صاحب کا عوامی انداز خطاب جلسے میں موجود افراد کو جذباتی طور پر اچھلنے پر مجبور کر دیتا تھا۔

پھر آمریت کا دور آیا اور صرف نمائشی اسلام کا لبادہ اوڑھے جنرل ضیا الحق نے ٹی وی سے لے کر فلم انڈسٹری تک کو برقعہ پہنایا تاکہ مذہبی حلقوں میں اپنی واہ واہ ہوں اور اقتدار کو طول ملے۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف آئے ان کی تقریروں کے تو ہم خود شاہد ہیں، اول اول بے نظیر بھٹو کی اردو کمزور تھی اس لئے اپنا موقف جامع انداز میں بیان کرنا مشکل ہو رہا تھا، انگلش میڈیم میں ابتدائی تعلیم اور پھر آکسفورڈ یونیورسٹی کی پڑھائی اردو بولنے میں مخل تھی۔ لیکن بعد ازاں انہوں نے لب و لہجہ میں گرفت حاصل کر لیا اور جلسوں میں گھنٹوں خطاب کر لیتی تھی۔ نواز شریف چونکہ پنجاب سے ہیں اور تعلیم بھی ملک میں ہی حاصل کی ہے لہذا اردو بولنا مشکل نہیں تھا مگر تقریروں میں کبھی عوامی انداز در نہیں آیا۔

Read more

گلگت بلتستان میں صاف شفاف انتخابات ناگزیر

پاکستان مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان میں اپنی پانچ برس کی مدت اقتدار مکمل کرچکی اور اب 15 نومبر کو قانون ساز اسمبلی کے 23 حلقوں میں سیاسی جماعتوں و آزاد کھڑے ہونے والے 330 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ عمومی طور پر مقامی سیاسی قیادت وفاقی حکومت میں برسر اقتدار سیاسی جماعت کو ہی کامیاب کراتی آئی ہے، تاہم حالیہ انتخابات میں صورتحال قدرے تبدیل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان کے انتخابات کو سنجیدگی سے لیا اور مرکزی قیادت نے بھرپور انتخابی مہم چلانے کے لئے بلند بالا پہاڑوں اور ٹھنڈے موسم میں ڈیرے ڈالے۔

Read more

اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات: ‘بحران سے نکلنے کے لیے مریم نواز نے آگے کا راستہ بتا دیا ہے’

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے آغاز کے بیان پر سیکرٹری جنرل پی ایم ایل این احسن اقبال کہتے ہیں کہ مریم نواز نے بحران سے نکلنے کے لیے آگے کا راستہ بتا دیا ہے۔

Read more

فوج سے مذاکرات کا فیصلہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے کیا جائے گا: بلاول بھٹو زرداری

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے بیان پر ​پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا ہے کہ فوج سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کا فیصلہ حزب اختلاف کے سیاسی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے پلیٹ فارم سے کیا جائے گا۔

Read more

بویا پیڑ ببول آم کی آس لگائے

پاکستان کی سیاست میں یوں تو غداری بغاوت کے فتووں کی کہانی بڑی پرانی ہے، اور کردار کشی اور گالم گلوچ کے قصے بھی نئے نہیں ہیں مگر ان قباحتوں کو عروج و دوام ہمارے جدید ریاست مدینہ کے روح رواں صادق و امین فرشتے وزیراعظم عمران خان صاحب کی سیاست کے پچھلے پانچ سات سالوں میں حاصل ہوا۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح سے لے کر دختر ملت شہید محترمہ بینظیر بھٹو تک پاکستان کی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے والی خواتین یہاں تک موجودہ وزیراعظم صاحب کی بیگمات بھی مخالفین کی جانب سے کردارکشی کا شکار رہیں، مگر محترمہ فاطمہ جناح اور شہید رانی بینظیر بھٹو کو اپنے مخالفین کی جانب سے شدید ترین اور گھٹیا ترین غیر اخلاقی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، انہیں غداری، بغاوت اور انتہائی گری ہوئی مغلظات اور کردار کشی کا بھی منہ دیکھنا پڑا۔

Read more

عاصم باجوہ آج بھی بہت کارآمد ثابت ہو رہے ہیں: اسد عمر

وفاقی وزیر اسد عمر نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کی اتھارٹی کی مدت ختم ہو گئی ہے لیکن وہ آج بھی میرے لیے بہت کار آمد ثابت ہو رہے ہیں۔ میں ان کا بے حد شکر گزار ہوں جس طرح وہ آج بھی ہماری مدد کررہے ہیں۔‘

Read more

گلگت بلتستان الیکشن۔ خواتین کی آواز کتنی شامل ہوگی

گو کہ ملک کا آئین اس بات کی ضرور گارنٹی دیتا ہے کہ ریاست کے ہر شہری کو انتخابات میں آزادی سے حصہ لینے اور ووٹ دینے کا مکمل حق حاصل ہے مگر عملاً ایسا دکھائی نہیں دیتا ہے۔ رائے دہی کے استعمال میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں ان سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف ملکی سطح کی فیصلہ سازی میں خواتین کے حصہ پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال کوئی حوصلہ افزا نہیں ہے۔ 1956 سے لے کر 1972

Read more

جمہوری تحریک کی اخلاقی بنیاد پر مریم نواز کا حملہ

ریکارڈ درست رکھنا ضروری ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو واضح کرنا پڑے گا کہ وہ سیاست میں مداخلت کے سوال پر فوج کے ساتھ لڑنا چاہتی ہے یا اس کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے دوبارہ اقتدار تک پہنچنا چاہتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور ممکنہ طور پر مستقبل میں پارٹی قیادت کی مضبوط امید وار مریم نواز کے بی بی سی اردو کو انٹرویو نے اس بنیاد کو ہلا دیا ہے جس پر ’ووٹ کو عزت دو‘

Read more

صرف مزار قائد نہیں، قائد کے نظریات بھی قابل احترام ہیں

18 اور 19 اکتوبر کی درمیانی رات بھی ایک عجیب رات تھی۔ پہلے یہ شور اٹھا کہ مسلم ن کے کارکنوں نے کیپٹن صفدر صاحب کی قیادت میں مزار قائد پر نعرہ بازی کی ہے اور اس سے مزار کا تقدس مجروح ہوا ہے۔ اور اس مزار پر یہ سیاسی نعرے بازی خلاف قانون بھی ہے۔ پھر یہ خبر ملی کہ کیپٹن صفدر صاحب کو مزار قائد کا تقدس مجروح کرنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اور ان کی اہلیہ مریم نواز صاحبہ نے یہ الزام لگایا کہ ان کے ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑ کر انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔

ہمارا خیال تھا کہ ابھی کچھ روز مزار قائد پر کیپٹن صفدر کی نعرہ بازی اور ان کی گرفتاری پر بحث چلے گی۔ لیکن ابھی یہ بحث شروع ہی ہوئی تھی کہ سندھ کے سابق گورنر زبیر صاحب کا پیغام منظر عام پر آ گیا ہے کہ کیپٹن صفدر صاحب کی گرفتاری سے قبل رینجرز نے اس صوبے کے محافظ آئی جی پولیس کو بھی اغوا کر لیا تھا تاکہ ان پر دباؤ ڈال کر مریم نواز صاحبہ اور کیپٹن صفدر صاحب کے خلاف مقدمہ درج کرایا جا سکے۔

Read more

گلگت بلتستان انتخابات: انتخابی معرکے کی تیاریاں کہاں تک پہنچیں؟

گلگت بلتستان کی صوبائی اسمبلی کے تیسرے انتخابات کے لیے میدان سج گیا ہے اور پولنگ میں محض تین روز باقی ہیں۔ تاہم اس سے قبل تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنما جلسوں میں مصروف ہیں۔

Read more

مریم نواز: فوج سے بات ہو سکتی ہے لیکن عوام کے سامنے، چھپ چھپا کر نہیں

پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ان کے اردگرد موجود بہت سے لوگوں سے بات چیت کے لیے رابطے کیے گئے ہیں اور وہ بات کرنے کو تیار ہیں لیکن یہ بات عوام کے سامنے ہو گی۔

Read more

مریم نواز کے الزامات کے بعد پاکستانی جیلوں میں قید خواتین کے حالات پر بحث

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے جیل میں ان کے قید خانے میں کیمرے نصب کرنے کے الزامات کے بعد پاکستان میں جیلوں میں خواتین سے روا رکھے جانے والے سلوک اور انھیں دستیاب سہولتوں کے بارے میں ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔

Read more

سازشی کہانیوں کی پذیرائی

کج بحثی میں اُلجھنے سے کیا حاصل؟ کبھی کبھار گلاس کو آدھا بھرا دیکھ کر بھی دل کو اطمینان دِلانا پڑتا ہے اورکراچی واقعہ کے بار ے میں آئی ایس پی آر کی رپورٹ آجانے کے بعد منگل کی شام پاکستان پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری نے یہی پیغام دیا ہے۔غور طلب حقیقت بنیادی طورپر اس کے باوجود یہ رہی کہ جس واقعہ کی بابت رپورٹ جاری ہوئی اسے پاکستان کے آئینی طورپر ’’چیف ایگزیکٹو‘‘ ٹھہرائے وزیر اعظم عمران

Read more

اصل نئے پاکستان کا راستہ کیا ہے؟

2007 میں ارسلان افتخار کی خلاف ضابطہ پولیس سروس آف پاکستان میں ہونے والی تعیناتی کی رپورٹ ہیرلڈ میں پڑھی تو میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا شدید ناقد بن گیا تھا، لیکن جب وہی افتخار محمد چوہدری زیر عتاب آئے اور انھیں پرویز مشرف کی جانب سے خلاف قانون اپنے عہدہ سے ہٹایا گیا تو میں دیگر وکلا، سول سوسائٹی اور سیاسی کارکنوں کی طرح ان کا ہمدرد اور حامی بن گیا اور عدلیہ بحالی

Read more

اعلان لاتعلقی کی آہٹ

بیلنس آف پاور ایک تھیوری ہے۔ طاقت کا ترازو سیدھا کرنا۔ مخالف کے پاس الٰہ دین کا چراغ آ جائے تو اس کے برابر طاقت حاصل کرنے کے لیے بوتل کا جن آزاد کرنا پڑتا ہے۔ مسلم لیگ نے کبھی سیاسی تحریک چلائی نہ اسے اس کی تربیت ہے۔ اب بھی اسے سیاسی ا تالیق جو پڑھا رہے ہیں وہ سیاست نہیں، یہی وجہ ہے کہ پی ڈی ایم بنا کر حکومت کے خلاف اپوزیشن نے طاقت کا جو توازن قائم کرنے کی کوشش کی اس کا سارا فائدہ سیاسی موسمیات سے واقف اور تربیت یافتہ پیپلز پارٹی کو ہو رہا ہے۔

Read more

گلگت بلتستان الیکشن 2020: گلگت بلتستان میں تیر چلے گا، شیر دھاڑے گا یا پھر بلا سب پر بھاری رہے گا؟

گلگت بلتستان میں انتخابی مہم پورے جوش و خروش سے جاری ہے اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے سربراہان نے اس خطے میں ڈیرے جما رکھے ہیں۔ بی بی سی کی فرحت جاوید نے حال ہی میں اس خطے کا دورہ کیا اور ووٹرز سے جاننے کی کوشش کی کہ وہ ان انتخابات کو کیسے دیکھ رہے اور اس مرتبہ کس جماعت کا ساتھ دیں گے۔

Read more

فردوس عاشق اعوان کا تقرر مریم نواز کے لیے

ملک میں رواں دواں حالیہ سیاست کے حوالے سے تین پہلوؤں کا تجزیہ کرتے ہیں جن کے اثرات ہماری سیاست کو مستقبل قریب میں متاثر کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلے ایاز صادق اور فواد چوہدری کے بیانات کو لیتے ہیں۔ ایاز صادق کے بیان کا تعلق لوکل آڈینس سے ہے یعنی حکومت اس بیان کو اپنے انداز سے پیش کر کے پبلک میں نون لیگ کو ڈی گریڈ کر سکتی ہے۔ یہ علیحدہ بات کہ ایاز صادق کے بیان

Read more

موجودہ سیاسی منظر نامہ اور پس پردہ حقائق!

موسم سرما کی آمد آمد ہے، درجہ حرارت نقطہ انجماد کی جانب گرا جاتا ہے، خزاں سبزہ و گل کا حسن گہنانے کو آیا ہی چاہتی ہے، اس کے برعکس پاکستان کی سیاست کا درجہ حرارت گرم سے گرم تر ہوتا جا رہا ہے۔ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر یک جا ہوجانے والے حزب اختلاف کی قیادت بظاہر مولانا فضل الرحمٰن کے پاس ہے، لیکن خصوصی اہمیت تین بار وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہونے والے اور

Read more

دو چھوٹی خبریں: بڑی مفاہمت کی نوید بن سکتی ہیں

کراچی پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ گزشتہ ماہ مسلم لیگ (ن) کے لیٖڈر کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مزار قائد کی توہین پر قائم کیا گیا مقدمہ جھوٹا تھا۔ کیپٹن (ر) صفدر اپنی اہلیہ مریم نواز کے ہمراہ جب مقبرے پر پہنچے تھے تو اس وقت شکایت کنندہ وہاں موجود ہی نہیں تھا۔ ملک کے دوسرے سرے پر پشاور میں اے این پی کی قیادت نے وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ کو گزشتہ دنوں ننکانہ میں دیے

Read more

کیپٹن صفدر مقدمے میں مدعی موقع پر موجود ہی نہیں تھا‘، مقدمہ خارج’

سندھ پولیس نے پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف بانی پاکستان محمد علی جناح کے مزار پر پر نعرے بازی کرنے اور دھمکیاں دینے کے الزام میں درج ایف آئی آر کو ’جھوٹا‘ قرار دیتے ہوئے اسے خارج کر دیا ہے۔

Read more

بلتستان ترقی کو نہیں وفاق کو ووٹ دیتا ہے

6 نومبر کو مریم نواز نے بلتستان ریجن کے صدر مقام سکردو میں بڑے جلسے سے خطاب کیا، مسلم لیگ کا پاور شو واقعی دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا، مگر کیا یہ مجمع پورا یا کم از کم آدھا ووٹ بھی شیر کو دے گا؟ بلتستان کا سیاسی کلچر اور ماضی کی انتخابی روایات بتلاتی ہیں، نہیں۔ بلتستان کی زمین پر پاؤں رکھ کر دیکھیں تو یہ آفتاب نصف النہار کی طرح عیاں ہے کہ آنے والا اتوار چھوڑ کے اگلے اتوار کو ہونے والے انتخابات میں بلتستان ریجن سے مسلم لیگ نون کو 9 میں سے ایک بھی سیٹ نہیں مل رہی۔ بلکہ میں ذرا آگے بڑھ کے کہتا ہوں کہ بلتستان کے 9 میں سے ایک بھی حلقے میں مسلم لیگ نون دوسرے نمبر پر بھی نہیں آ رہی۔ (صرف حلقہ گانچھے 2 میں دوسری پوزیشن کا بہت معمولی امکان بن سکتا ہے ) ۔ مگر کیوں؟ اس لیے کہ بلتستان وفاق کو ووٹ دیتا ہے نہ کہ سیاسی جماعت کو۔

Read more

اپوزیشن اتحاد: کیا مولانا کی رفو گری کام آئے گی؟

چک شہزاد میں آج اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں بظاہر ملک کی سیاسی صورت حال پر غور کیا گیا لیکن دراصل یہ اجلاس بلاول بھٹو زرداری کے بی بی سی کو دیے گئے اس انٹرویو کے پس منظر میں منعقد ہوا تھا، جس میں انہوں نے گوجرانوالہ جلسہ میں نواز شریف کی طرف سے آرمی اور آئی ایس آئی کے سربراہوں کا نام لینے پر بات کی تھی۔ اور کہا تھا کہ یہ

Read more

یہ فوج کو بغاوت کرنے کا کہہ رہے ہیں، وزیراعظم کا مسلم لیگ ن کی قیادت پر الزام

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کی جانب سے اپنی تقاریر میں آرمی چیف اور خفیہ ایجنسی کے سربراہ کا نام لیے جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ فوج سے کہہ رہے ہیں کہ وہ بغاوت کرے۔

Read more

بلاول بھٹو زرداری: ’فوجی قیادت کا نام لینا نواز شریف کا ذاتی فیصلہ، انتظار ہے کہ وہ کب ثبوت پیش کریں گے‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی کُل جماعتی کانفرنس میں یہ اتفاق ہوا تھا کہ کسی ایک ادارے کا نام نہیں لیا جائے گا بلکہ صرف ’اسٹیبلیشمنٹ‘ کہا جائے گا۔

Read more

ٹائیگر فورس اور شیر جوان فورس: ماضی کے طلبا رہنما نوجوانوں کی حالیہ سیاسی سرگرمیوں کو کیسے دیکھتے ہیں؟

نوجوانوں کے سیاست میں کردار سے متعلق بی بی سی نے ماضی کے طالبعلم رہنماؤں سے بات کی ہے اور ان سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ تب اور آج کے نوجوان میں کیا فرق ہے اور ان کا ملکی سیاست میں کردار کتنا اہمیت کا حامل ہے۔

Read more

پی ٹی ایم سے پی ڈی ایم تک: شکست خوردہ ریاستی بیانہ

وطن عزیز ایک ایسی بدنصیب کھیتی ہے۔ جس کو باہر سے زیادہ اپنی باڑ سے نقصان پہنچا ہے۔ اس کی راکھی کے دعویدار ایوب خان ہو، یحییٰ خان ہو، ضیاء الحق ہو یا مشرف، سب نے ریاستی مفادات کے بیانیہ کی آڑ میں ملک وقوم کو خطرات اور سانحات سے دوچار کیا۔ چاروں نے سیاسی لیڈر شپ کو ملک وقوم کے لئے خطرہ اور خود کو ناگزیر باور کرایا۔ ایک خود کو ڈیگال دوسرا خود کو بین الاقوامی معاملات کا

Read more

مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا

عمومی طور پر پاکستانی سیاست میں ہمیشہ سے ایک بڑا ٹکراو حکومت او رحزب اختلاف کی سیاست میں نمایاں نظر آتا تھا۔ یہ ٹکراو کی کیفیت آج بھی ہماری سیاست میں بالادست ہے۔ کوئی بھی فریق دوسرے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ہر فریق کی کوشش ہے کہ وہ دوسرے فریق کو نہ صرف شکست دے بلکہ اس کے سیاسی وجود کو ہی قبول کرنے سے انکاری ہے۔ لیکن اس بار سیاسی محاذ آرائی یا ٹکراو کی سیاست

Read more

پنڈی یا لندن: گیم کس کے ساتھ ہو گی

ماتھے پر پسینہ، کانپتی ٹانگیں، ابھی نندن کو چھوڑ دو، انڈیا حملہ کر دے گا۔ ایاز صادق کے قومی اسمبلی میں دیے بیان نے زلزلہ برپا کر دیا۔ اے کی ہو گیا۔ لٹے گئے۔ قسم کا ماحول پیدا ہو گیا۔ اس ماحول میں خواجہ آصف کی اسی ٹاپک پر کی گئی اسمبلی میں تقریر اوجھل ہو گئی۔

خواجہ آصف نے اسی ٹاپک پر بولتے ہوئے کہا کہ ابھی نندن کو چھوڑنے کے لیے میٹنگ بلائی گئی۔ ایک گھنٹہ ہم انتظار کرتے رہے وزیر اعظم کا۔ وہ نہیں آئے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ اس اجلاس میں شریک تھے۔ شاہ محمود قریشی بھی تھے۔ ہمیں بتایا گیا کہ ابھی نندن کو چھوڑ دیا جائے تو ہمارا بھارت مہان خوش ہو گا۔ ( خواجہ صاحب نے یہ نہیں بتایا یا شاید انہیں نہیں بتایا گیا کہ خوش ہو گا تو کیا کرے گا ) ۔

Read more

اے این پی اور پیپلز پارٹی کے لئے ’’دہائی مچانے‘‘ کا موقع

اتوار کی سہ پہر طویل وقفے کے بعد میں نے اسلام آباد کے نواح میں واقع ایک دیہات میں چند گھنٹے صرف کئے۔ خودروجھاڑیاں اور درخت رونق سے محروم نظر آئے۔ فرض کرلیا کہ سردی کی آمد سے گھبراگئے ہیں۔تھوڑی دیر بعد مگر احساس ہوا کہ فصلوں اور سبزیوں کی کاشت کے لئے جو رقبے مکانات تعمیر ہونے سے بچ گئے ہیں کسانوں کی توجہ سے محروم ہیں۔زمین خشک مٹی کی تہہ میں چھپ گئی ہے۔ کاشت کاری کے لئے

Read more

مسلم لیگ (ن) کا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اور وزیر داخلہ کی وارننگ، آگے کیا ہو گا؟

لاہور — موسمِ خزاں کی آمد کے باوجود پاکستان میں سیاسی درجۂ حرارت اب بھی زیادہ ہے۔ ایک جانب جہاں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان سیاسی گرما گرمی عروج پر ہے تو وہیں مسلم لیگ (ن) کے اسیٹبلشمنٹ مخالف بیانیے اور حکومتی وزیر کی وارننگ کے بعد سیاسی ماحول میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کے پاکستانی سیاست میں کردار کے بارے میں جو باتیں پہلے بند کمروں اور سرگوشیوں میں ہوتی تھیں۔ اب وہ سیاسی اجتماعات اور چوراہوں میں ہونے لگی ہیں۔ اِس تمام صورتِ حال پر وائس آف امریکہ نے پاکستان کے چند معروف تجزیہ کاروں سے بات کی ہے۔

Read more

میاں صاحب! عوام طاقت کا سرچشمہ نہیں

سیاست میں بیانیہ روح کی حیثیت رکھتا ہے۔ بیانیہ کی جاندار ی اور جامعیت سیاستدانوں کو طاقت اور پذیرائی بخشتی ہے۔ بیانیہ محض اظہاریہ نہیں ہوتا ہے کہ کسی سیاسی رہنما نے تقریر کردی تو اس خطاب کو بیانیہ قرار دے دیا جائے۔ سیاسی اصطلاح میں بیانیہ ایک جامع سیاسی پروگرم ہوتا ہے۔ جس سے یہ امر واضح کیا جاتا ہے کہ سیاست اور سیاسی فلسفہ کیا ہوگا۔ معاشی وسماجی طریق کیسا ہوگا۔ داخلی و خارجی پالیسی کیا ہوگی۔ جس

Read more

پی ڈی ایم مکس اچار اور ابو بچاؤ

ابھی ابھی وجود میں آئے پی ڈی ایم کے دو تین جلسوں کے بعد اس پر جس طرح کے تیر برسائے جا رہے ہیں اور باتوں کے نشتر چبھوئے جا رہے ہیں وہ بہت دلچسپ اور مزیدار تو ہیں ہی غور طلب بھی ہیں۔ کچھ باتیں بلا سوچے سمجھے منہ سے نکلتی ہیں مگر ان کے اندر موجود معنی و مطالب بہت گہرے ہوتے ہیں۔ بات کرنے والا بھی جن سے بے خبر ہوتا ہے اورجس کی وجہ سے ان

Read more

ایاز صادق کے خلاف غداری کی مہم چلانے والے کون لوگ ہیں؟

ایاز صادق کے خلاف لاہور میں راتوں رات بینرز اور پوسٹرز آویزاں کیے گئے، جس میں انھیں غدار وطن قرار دیا گیا۔ تاہم جب ان بینرز کا مقامی میڈیا پر خوب چرچا ہوا تو پھر لاہور کی انتظامیہ نے یہ بینرز ہٹانا شروع کر دیے۔

Read more

مسلم لیگ ن کی مشکلات اور چیلنجز، راستہ کیسے نکلے گا؟

اسلام آباد —  پاکستان مسلم لیگ(ن) کی طرف سے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت بیانیہ اور ایاز صادق کے ابھی نندن بیان کے بعد ڈی جی آئی اس پی آر کے بیان کے سےمسلم لیگ(ن) مزید مشکلات کا شکار نظر آ رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت خود بند گلی میں ہے، اگر یہی بیانیہ جاری رہا تو آنے والے دنوں میں پارٹی میں توڑ پھوڑ کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔

اسٹیبشلمنٹ اور حکومت سے مذاکرات کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں اطراف کسی قسم کی لچک فی الحال موجود نہیں جس کی وجہ سے بات چیت کے دروازے نہیں کھل رہے، لیکن ایسا کرنا حکومت اور مسلم لیگ (ن) دونوں کے لیے فائدہ مند ہو گا۔

Read more

صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن: عاصمہ جہانگیر گروپ کے وکیل لالا لطیف آفریدی کون ہیں؟

انتخابات میں فاطمہ جناح کی حمایت کرنے کی پاداش میں لطیف آفریدی کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ فوجی صدر ایوب خان کے دور میں انھیں طالبعلم رہنما کی حیثیت سے پابند سلاسل رکھا گیا اور وہ بطور سیاسی کارکن سابق ڈکٹیٹر ضیاالحق کے دور میں بھی پانچ مرتبہ جیل گئے۔

Read more

صدر عارف علوی کے خلاف مواخذے کی تحریک

مسلم لیگ (ن) نے جسٹس فائز عیسی قاضی کے خلاف ریفرنس مسترد ہونے پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے خلاف مواخذہ کی تحریک پیش کرنے بارے غور و خوض شروع کر دیا ہے۔ سابق سپیکر ایاز صادق کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ پیپلز پارٹی سمیت اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے ساتھ رابطہ کر کے ان کی رائے لیں تاکہ متفقہ طور پر فیصلہ کیا جاسکے، مسلم لیگ نون نے جانبداری پر سپیکر کو خط لکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ غیر جانبدار نہ ہوئے تو پارٹی قائمہ کمیٹیوں کے علاوہ دیگر تمام سرکاری تقریبات، خصوصی کمیٹیوں کے اجلاس اور سپیکر کی دعوت پر کسی مشاورتی اجلاس میں شریک نہیں ہوگی، مسلم لیگ نون کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے ترقیاتی فنڈز نہ ملنے پر احتجاج کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بھی اپنے اقتدار میں اپوزیشن کو فنڈز نہیں دیے تھے۔ اس لئے ہمارا احتجاج بے سود ہوگا۔

Read more