مدینہ یا جدہ سے فلائٹ پکڑو تو آپ کو ایک اور ہی ہجوم ٹکرائے گا۔
بہت سے پہلی بار جہاز کا سفر کررہے ہوتے ہیں۔ بہت سے پہلی بار عمرہ کرکے یا مدینے میں سرکارﷺ کے حضور سلام پیش کرنے کے نشے میں اونچا اونچا اُڑ رہے ہوتے ہیں اور اس کیفیت میں انہوں نے اپنا حلیہ بھی مصنوعی اور عربی بنایا ہوا ہوتا ہے۔
اکثریت غریب، میلی، انگوٹھا چھاپ یا برائے نام پڑھی لکھی ملے گی۔
اگر فلائٹ ایمرٹس کی ہے تو پھر دبئی تک کئی اور ہمارے آس پاس کے ملکوں کے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔
جیسے بنگلہ دیشی، انڈین، برمی وغیرہ۔
یہ مسافر اپنی ایکسائٹمنٹ میں اتنے لاؤڈ ہورہے ہوتے ہیں کہ جہاز مچھلی مارکیٹ کا منظر بن جاتا ہے۔ عملہ بڑی جفاکشی کے بعد انہیں نشستوں پر بٹھانے میں کامیاب ہو پاتا ہے۔
اکثر مرد تازہ تازہ گنجے ہوئے ہوتے ہیں۔ تازہ تازہ داڑھی بڑھائی ہوتی ہے۔
غور سے دیکھو تو سب مردوں کا سینہ فخر سے یوں پھولا ہوا ہوگا، جیسے ابھی ابھی میلہ لوُٹ کر لوٹے ہوں!
ایسے میں اگر مجھ جیسی عورت کو سیٹ ایسی ملے کہ اسے اس طرح کے مسافروں کے بیچ میں گھس کر بیٹھنا پڑے تو گھبراہٹ ہونے لگتی ہے۔
اس بار بھی میری ساتھ والی سیٹ پر سادہ سے داڑھی والے بنگالی مولوی کو دیکھ کر میں نے دل ہی دل میں ناک سُکیڑ لی کہ اب اس کے ساتھ جُڑ کر بیٹھنا پڑے گا!
ہر پاکستانی لبرل عورت کی طرح مجھے بھی مولوی دکھتے چہرے سے خواہ مخواہ کی جھنجھلاہٹ محسوس ہوتی ہے، جیسے ہر برائی کا ذمہ دار وہی ہو!
Read more