بیسویں صدی کی سیاسی تاریخ کا دھارا موڑنے والا جرثومہ

یہ تو طاعون کا جرثومہ ہے اور نہ ہی ہسپانوی فلو جیسی وبا کا باعث۔۔۔ یہ کہانی ایک ایسے جرثومے کی ہے جس نے آج تک ایک انسان کو بیمار نہیں کیا لیکن لاکھوں انسان اس کی وجہ سے لقمہ اجل بنے، اور آج تک اس جرثومہ کے سیاسی اثرات آپ دیکھ سکتے ہیں۔ اب تھوڑا پیچھے چلتے ہیں، بیسویں صدی کے آغاز میں کسی وجہ سے رسد میں کمی کے باعث قدرتی ربڑ کی قیمت میں ایک دم اضافہ

Read more

کہاں ہو تم چلے آؤ۔۔۔۔۔ بولتی دھنیں بنانے والے فرحت انگیز موسیقار کریم شہاب الدین

دیکھا نہ تھا کبھی ہم نے یہ سماں ایسا نشہ تیرے پیار نے دیا کھو گئے سپنوں میں ہم تیری یاد آ گئی غم خو شی میں ڈھل گئے اِک چراغ کیا جلا سو چراغ جَل گئے ماضی کے یہ گیت کل بھی مقبول تھے اور آج بھی مقبول ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اِن گیتوں کے گلوکاروں کے نام تو عوام جانتی ہے لیکن اکثریت کو اِن مقبول ترین نغمات کے خالق، یعنی موسیقار اور شا عر کا

Read more

کرنل (ر) نادر علی کی 1971ء کے بارے میں یاد داشتیں

میں 1962ء سے 1966ء تک مشرقی پاکستان میں تعینات رہا۔ اس وقت حالات پرامن تھے اور ایک جوان میجر کے طور پر میرا تجربہ خاصا خوشگوار رہا۔ میری ڈیوٹی سنٹرل آرڈیننس ڈپو میں تھی لیکن میں 1965ء کی جنگ میں رضاکارانہ طور پر کمانڈو بٹالین جوائن کرکے دو سال تک چٹاگانگ میں رہا۔ اس دوران ہماری کمپنی شمالی بنگال میں تعینات تھی لیکن 1965ء میں ادھر کوئی جنگی کارروائی ہی نہیں ہوئی۔ 1967ء کے شروع میں واپس آنے کے بعد

Read more

استنبول: جزیروں پر بسا اک شہر کوئے یار جیسا

استنبول میں ٹھیک طرح سے یہ میرا پہلا دن تھا۔ شعیب دمرجی نے مجھے ہوٹل سے لیا اور ہم اس کے دفتر چلے گئے۔ دمرجی برادران نایاب خوشبویات کا کاروبار کرتے ہیں اور ان کا دفتر جامع سلیمان اعظم کے قریب ہے۔ کچھ خوشبویات کی قیمت پاکستانی رقم میں لاکھوں روپے فی سوگرام بنتی تھی۔ ہم چائے کے لیے کچھ دیر دفتر میں رکے پھر عمارت کی چھت پر چلے گئے ’جہاں استنبول کا ایک خوبصورت نظارہ آنکھوں کے سامنے

Read more

کیسوبا کے کارونجھر کا سرمایہ دار کمپنیوں سے سودا کس نے کیا؟

کارونجھر کو پہلی نظر میں دیکھتے ہی سرائیکی زباں کے لیجنڈ شاعر رفعت عباس کے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ ”یہ پہاڑ تو نہیں ہے یہ تو کوئی تہذیب ہے جو پتھرا گئی ہے ہر پتھر ایک حسیں مورت کی طرح ہے“ واقع میں کارونجھر عام پہاڑوں سے مختلف اور دنیا کے حسیں پہاڑوں میں سے ایک ہے۔ اس کا ہر پتھر کھلتے گلاب کی مانند ہے۔ یہ پہاڑ دیکھنے والے کا دل موہ لیتا ہے۔ کارونجھر ہر

Read more

برِ صغیر کے نامور گیت نگار فیاض ہاشمیؔ پر ایک تحریر

’ یہ راتیں یہ موسم یہ ہنسنا ہنسانا، مجھے بھول جانا انہیں نہ بھلانا‘ ’ تصویر بناتا ہوں تصویر نہیں بنتی‘ ’ چلو اچھا ہوا تم بھول گئے، اک بھول ہی تھا میرا پیار او ساجنا‘ جیسے گیت لکھنے والے طلعت محمود کو طلعت محمود بنانے والے نگار ایوارڈ یافتہ اور فنکاروں کو تراشنے والے فیاضؔ ہاشمی ( 18 اگست 1920 سے 29 نومبر 2011 ) فیاضؔ ہاشمی 18 اگت 1920 کو کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کلکتہ میں

Read more

پی ٹی وی کو کیسے زندہ رکھا جائے؟

یادش بخیر، یہ 1988 ء کے سنہرے سجیلے دنوں کی دلستاں یادوں کی بازآفرینی ہے۔ شاید ہمارے ”محبوب“ جنرل کے ”بلیک اینڈ وائٹ“ دور حکومت کی نزعی ساعتیں تھیں جب راوی چین ہی چین لکھتا تھا۔ اداسی اور خموشی میں ملبوس ایک سہ پہر ابو لکڑی کے ڈبے کا چار فٹ طویل بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی لے کر جب گھر آئے تھے تو ہمارا گھر پوری شمس کالونی میں وہ واحد ”خوش قسمت“ گھر قرار پایا جو ٹی وی

Read more

دی میٹ – امریکہ میں تہذیب مشرق کا جہان حیرت

لیجیے "دی میٹ” میں کھڑے ہیں اور اقبال یاد آ گئے! مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آبا کی جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سی پارا تو کہانی کچھ یوں ہے کہ ہمارا بھی دل سی پارا بلکہ پارا پارا تھا۔ پھر یک لخت خیال آیا کہ کیوں؟ ہم کس بنیاد پہ اتنے دکھی ہیں؟ یہاں تو غیروں نے ان موتیوں کو سینے سے لگا رکھا ہے، قدر افزائی بھی ہے، ستائش و دیکھ

Read more

عدیلہ سلیمان اور آرٹ دشمنی کی روایت

کراچی میں ’ کِلنگ فیلڈ آف کراچی ‘کے عنوان سے آرٹسٹ عدیلہ سلیمان کی نمائش پر ریاستی اداروں کے ردعمل سے اس بات کا اعادہ ہوا کہ ہم آرٹ دشمن ہیں۔ اس واقعے کے بارے میں مضامین رقم ہو رہے ہیں، احتجاج کیا جا رہا ہے اور ہمیں ممتاز مصور صادقین کی یاد آرہی ہے جن کی تصویروں کو فحش قرار دے کر حملہ کیا گیا تھا۔ یہ سنہ 1976 کی بات ہے۔ اس ثقافتی سانحے کی ہماری تاریخ میں

Read more

عمان کی ایک اداس سہ پہر۔ شہر خالی، کوچہ ویران

جیسا کہ چند پچھلی تحریروں میں اشارہ دیا گیا، دوستوں کو علم ہوگا کہ اس خادم کا رُخ بین الاقوامی اجتماعات میں شرکت کی غرض سے اکثر بیروت کی جانب رہتا ہے کہ ہمارے مستقر دمشق سے کوئی تین ساڑھے تین گھنٹے کی مسافت پر، ایک سرسبز پہاڑوں کے سلسلے سے گزرتے راستے کے ایک سرے پر، بحرِ متوسط کے کنارے آباد ہے۔ گزشتہ ماہ بھر سے البتہ، اہلِ لبنان کی ایک معتدبہ تعداد، جن میں اکثریت نوجوان طبقے کی

Read more

کراچی کی قتل گاہوں میں روندے گئے ہمارے علم…

جان تو عزیز ہمیشہ سے تھی لیکن اس بار واقعہ بھی سخت ہوگیا ہے۔ اس کی تاب کیوں کر لائیں گے؟ جو کچھ پیش کیا جا رہا تھا اگر اسے معمول کے مطابق چلنے دیا جاتا تو اس طرح کا واقعہ نہ بنتا۔ پہلے پہل یہاں چہ میگوئیاں ہوئیں، سوشل میڈیا پر خبر پھیلی پھر بین الاقوامی اداروں نے اس کو نشر کرنا شروع کر دیا۔ کراچی کی تہذیبی تاریخ میں (اگر اس نوع کی کوئی چیز ہوسکتی ہے!) یہ

Read more

فرانکو زیفی ریلی  کی فلمیں اور اوپرا

فرانکو زیفی ریلی سے میرا تعارف بروک شیلڈز نے کرایا تھا۔میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ بروک شیلڈز میری دوست تھی جومجھے فرانکو کے پاس لے گئی۔ فرانکو زیفی ریلی جو پندرہ جون دو ہزار انیس کو چھیانوے برس کی عمر میں وفات پا گئے اطالوی فلموں اور اوپرا کے بادشاہ تھے۔ یہ انیس سو اسی کے اوائل کی بات ہے جب بروک شیلڈز جیسی حسینہ پر کالج کے بہت سے لڑکے فدا تھے اور کالج کی کلاسیں چھوڑ

Read more

خواجہ خورشید انور: موسیقی کا باغی ساحر

وہ کوئی ساز ڈھنگ سے بجانا نہیں جانتے تھے۔ لازوال دھنیں ماچس کی ڈبیا انگلی سے بجا کر تخلیق کیں۔ ایم اے فلسفہ میں اول آئے ، گولڈ میڈل لینے گئے ہی نہیں۔ مقابلے کے امتحان میں پورے ہندوستان میں ٹاپ کیا، لیکن بھگت سنگھہ جیسے انقلابیوں سے تعلقات کی وجہ سے نااہل قرار پائے۔ یہ ناہلی ہندوستان کی فلمی موسیقی کیلئے نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوئی۔ اس سے فلمی موسیقی کو خواجہ خورشید انور ملے۔ جنہوں نے آواز دے

Read more

لیاری ایکسپریس وے کی اجڑی ہوئی بستی اور مزمل خان کا کینوس

اپنی گیلری میں کام کی نوعیت اور اس کا معیار سیٹ کرنے کی ذمہ داری بورڈ پر ہے۔ اور خدا جانے مجھے قریب قریب سبھی کا کام دلکش لگتا رہا ہے۔ لیکن ایک کام ایسا بھی آیاکہ میرا گیلری کے ڈسپلے ایریا سے ہلنے کا دل نہیں کرتا۔ وجہ ؟ پینٹنگز او ر صرف پینٹنگز۔ گیلری کا حصہ بنے مجھے نو ماہ ہو چلے ہیں۔ اتنے میں مائیں بچہ جن دیتی ہیں۔ لیکن میں ایسی سست ہوں کہ اب تک

Read more

امیر تیمور کی قبر کشائی اور ہٹلر کی پسپائی

موبائل فون کا الارم مسلسل بج رہا تھا اور میں گہری نیند میں اسے گاڑی کی سیٹی سمجھ رہا تھا۔ اٹھا تو چار بجنے میں صرف دس منٹ باقی تھے۔ گاڑی نے میرا انتظار نہیں کرنا تھا۔ ننگے پاوں واش روم جانے کی غلطی کر بیٹھا۔ وضو کرتے پاوں پھسلا اور دھڑام سے نیچے گرا۔ ایک لمحے کو جیسے ہر چیز گھومتی ہوئی محسوس ہوئی۔ سر سے شدید قسم کی ٹیس اٹھ رہی تھی۔ مجھے ایسے لگا جیسے آخری وقت

Read more

نوبیل انعام کی بے ادبیاں

خوان بڑا، خوان پوش بڑا، بیچ میں سے نکلا ایک ہی بڑا۔ اس دفعہ کے نوبیل انعام برائے ادب پر یہی بات صادق آتی ہے۔ بڑے طمطراق کے ساتھ اعلان ہوا کہ اس بار ایک نہیں، دو انعامات دیے جائیں گے۔ پچھلے سال کا انعام وقت پر نہیں دیا جاسکا تھا۔ سوئیڈش اکادمی کے طریق کار کے بارے میں سخت سوالات اٹھائے گئے اور ان کی کارکردگی مشتبہ پڑ گئی تھی۔ افواہوں کے بعد اسکینڈل کی زد میں آئی ہوئی

Read more

شادی شدہ جوڑوں میں طلاق کی تین بڑی وجوہات کیا ہیں؟

نشہ ایک لعنت ہے، جو دیگر کئی مسائل کے علاوہ گھریلو جھگڑوں اور طلاقوں کا سبب بھی بنتا ہے، مگر سماجی سائنسدانوں کاکہنا ہے کہ انٹرنیٹ گیمز کی صورت میں نشے سے بھی بڑی لعنت سامنے آ چکی ہے جو بڑی تعداد میں گھر خراب کر رہی ہے۔ ان گیمز کی وجہ سے ہونے والی طلاقوں کی تعداد تو نشے کے باعث ہونے والی طلاقوں سے بھی زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ اگرچہ اس طرح کی گیمز کئی ایک ہیں

Read more

کیوبا کے عوام کی رگوں میں دوڑتا رمبا رقص

رمبا رقص بال روم ڈانسنگ کا ایک مشہور رقص ہے۔ اس رقص کو ’دلربائی کا مظہر‘ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کیوبا کا تقریباً ہر شخص رمبا ڈانس سے آگہی و شناسی رکھتا ہے۔ جس طرح کیوبا کے سگار مشہور ہیں، اسی طرح رمبا ڈانس کو بھی کیوبا کی قومی شناخت خیال کیا جاتا ہے۔ ہر برس اگست میں کیوبن دارالحکومت ہوانا کی سبھی گلیوں میں رمبا رقص کرنے والے جوڑے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی

Read more

آئین پاکستان 1973ء میں غلام اور لونڈیوں کی تجویز کس نے دی تھی؟

جب پاکستان کے آئین پر بحث بالکل آخری مراحل میں داخل ہو چکی تھی تو جمیعت العلماء اسلام کے ایک ممبر مولانا نعمت اللہ صاحب نے اپنی طرف سے ایک اہم نقطہ کا ذکر فرمایا۔ ان کے مطابق اگر آئین میں تبدیلی نہ کی گئی تو بہت نقصان ہونے کا اندیشہ تھا۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ آئین میں شق 10 الف یہ تھی: ”غلامی معدوم اور ممنوع ہے اور کوئی قانون کسی بھی صورت میں اسے پاکستان

Read more

کانستینتین روکوسووسکی : ”کمانڈر ایر“ سے فاتح مارشل تک

آٹھ مئی 1945 کو شہر برلن کے علاقے کارلس ہورسٹ کے انجنیرنگ کالج میں جو مہمان پہنچے وہ کوئی عام مہمان نہیں تھے۔ دسیوں جرنیلوں کے علاوہ ان میں جرمنی کی تمام مسلح افواج کے کمانڈر اور دو مارشل بھی تھے جن میں سے ایک مارشل سوویت تھا اور ایک امریکی۔ یہ اعلٰی عسکری عہدیدار جرمنی کی شکست کے محضر نامے پہ دستخط کرنے کی خاطر جمع ہوئے تھے۔ سوویت یونین کی جانب سے اس دستاویز پر مارشل گیارگی ژوکوو

Read more

شہزادے کی موت

شہزادے کی اس موت کی اطلاع مجھے اخبار سے ملی۔ ورنہ شاید میں اس سے بے خبر رہتا۔ بہت دن سے اس طرف سے گزرنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ اس لیے میں نہیں دیکھ سکا کہ شہزادے کی لاش سڑک کے ساتھ ڈھیر پڑی ہے، اس کا ملبہ اور اینٹ گارا اٹھایا جارہا ہے۔ ایک زمانے میں ادھر سے روز گزر ہوتا تھا۔ ایک کے بعد ایک درس گاہ کا راستہ اس جگہ سے گزرتا تھا۔ عین اس کے

Read more

جب ناران پریوں کا مسکن تھا

کیوائی سے کوئی پانچ کلومیٹر آگے پارس نام کا ایک چھوٹا سا سٹاپ آتا ہے۔ یہاں بھی کافی ٹورسٹ دم لینے کو رکتے ہیں کہ چائے پانی کرلیں۔ ہم بھی یہاں کچھ دیر کو رکے تھے۔ یہاں سے ایک بار دوستوں کے ساتھ جیپ لے کر شاران گئے تھے۔ اتنا خوبصورت جنگل میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ہم کیمپنگ کا سامان ساتھ لے کر گئے تھے۔ شاران سے بھی اوپر ایک پیدل کا ٹریک ہے لیکن ہماری ہمت

Read more

پاکستان میں صحافت کی متبادل تاریخ

ترقی یافتہ دنیا میں اساتذہ کا کتابیں لکھنا ایک عام سی بات ہے لیکن پاکستان میں کتابیں لکھنا اور شائع کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ ایسے اساتذہ بھی کم ہیں اور ایسے ادارے تو اور بھی کم ہیں جو کتابوں کی اشاعت کے لئے تعاون کرتے ہوں۔ ڈاکٹر تو صیف احمد خان، سوسائٹی فار آلٹرنیٹو میڈیا اینڈ ریسرچ اور بدلتی دنیا پبلی کیشنز مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے ’پاکستان میں صحافت کی متبادل تاریخ‘ کو کتابی شکل میں ہمارے لئے مرتب کیا۔ طلبا اور محققین کے لئے تعلیم اور تحقیق کے حوالے سے اس کتاب کی افادیت اپنی جگہ لیکن پاکستان کی جمہوری جدوجہد کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے بھی اس کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔

Read more

عطا اللہ عیسیٰ خیلوی – فوک گائیکی کو نئی زندگی دینے والا

موسیقی اور گائیکی اس کی زندگی کے اولین دور کی ایک پُر اسرا ر رگ ِجاں تھی! چودہ برس کی عمر میں اس القا کے اسرارو رموز تو اس وقت انہیں کیا سمجھ آتے تھے بس دھندلکے میں چھپا ایک اسرارہی تھا، لیکن اسے پانے کی جستجواٹل تھی۔

یہ ساز و آہنگ کی پُراسراریت کیسے اس کی کی زندگی میں داخل ہوئی؟ وہ شاید خود بھی نہیں جانتا تھا۔ لیکن وہ یہ ضرور جان گیا تھا کہ یہی اس کی متاع حیات، اس کے وجود، اور بے لوث انسانی جذبات اور احساسات کی جمالیاتی گواہی ہے۔ یہ سفر اس کا اپنا اور انتخاب بھی اپنا تھا؛ اور یہ دریا اسے خود ہی پار کرنا تھا۔ وہ ایک ایسے معاشرے میں پیدا ہوا تھا جہاں زندگی کے تخلیقی خوابوں کا پیچھا پرلے درجے کی بے وقوفی کے زمرے میں رکھنا دانشمندی کی پہچان ٹھہری تھی۔ اس کے شوق کی راہ میں اس کا زمیندار خاندان اور قبائلی ثقافت تاریک رات کی طرح تن کر کھڑے ہوگئے۔

Read more

سوات کے سات رنگ

یہ کوئی پہلی بار تو نہیں ہوا تھا میں تو اکثر خوابوں میں پہاڑوں کے ساتھ ہمکلام ہوتی ہوں۔ مگر اب کی بار یہ سلسلہ تھوڑا عجیب تھا۔ اب اکیلے پہاڑ مجھ سے ملنے نہیں آتے تھے۔ اب دریاوں کے گیت بھی سُنائی دینے لگے تھے۔ دریاوں کے ساتھ جُڑے پتھروں پر میں اپنے قدموں کے نشان دیکھنے لگی تھی۔ چشموں اور آبشاروں کے رنگوں سے میرا وجود رنگنے لگا تھا۔ میں ان پتھروں پر چلتی تھی۔ میں بادلوں کے

Read more

ہیرلڈ مر گیا، ہیرلڈ زندہ باد!

دروازہ کھلتے ہی سب کچھ ایک تعزیت میں بدل گیا۔ جیسے میں ملاقات کے لیے نہیں، ماتم کے لیے آیا ہوں۔ کراچی کی کتنی ہی پرانی اور بہت دیکھی بھالی جگہیں دیکھتے دیکھتے اس طرح بدل گئی ہیں کہ اب وہاں جانے کا مطلب اپنے آپ کو اجنبی میں تبدیل ہوتے دیکھنا ہے۔ ہارون ہائوس میں واقع روزنامہ ڈان کے دفاتر بھی ایسا مقام بن گئے ہیں۔ طالب علمی کے دور میں متواتر جانا ہوتا تھا۔ سیکیورٹی کا انتظام بھی

Read more

گم شدہ بغداد کی کہانی: مرے بچے یہاں پر کھیلتے تھے

کاظمین کے ٹیکسی سٹینڈ پر حسب وعدہ میرا ٹیکسی ڈرائیور منتظر تھا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی میں نے منتدرل الزیدی Muntader۔ al۔ zaidi کی بش پر جُوتا پھینکنے والی شہرہ آفاق نظم کو پھر سُننے کی خواہش کی۔ افلاق ہنسا۔ ” بس اسے ہی سنتے جانا ہے۔ نہیں آج آپ نئی چیزیں سُنیں گی۔ “ پھر گاڑی میں ایک دلکش آواز گونجی تھی۔ کیا آواز تھی اور کیا گیت تھا؟ معلوم ہواتھا کہ یہ Give me love کے Songs of

Read more

اندلس کے 50 دانش وروں کا تذکرہ

سر زمین اندلس کی سیاسی تاریخ سے تو ہر کوئی واقف ہے مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ بغداد کی طرح سر زمین اندلس نے بھی بہت سے عالم اور دانش ور جنم دیے جن کے علمی اور فکر ی کام سے یوروپ میں جہالت کی گھٹا چھٹی اور علم کے نور سے یہ خطہ زمین منور ہؤا۔ اسلامی سپین میں جب مسلمانوں کا عروج تھا تو اس وقت یہاں کا دارلخلافہ قر طبہ ایک چمکتے ہوئے ہیرے کی

Read more

امریکہ نے کیسے ترقی کی؟

امریکی کون ہیں اور امریکہ کیا ہے؟ دنیا کی ناقابل چیلنج سپر پاورامریکہ اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کی 70 سالہ تاریخ کے تناظر میں ہر پاکستانی امریکہ میں مختلف حوالوں سے دلچسپی رکھتا ہے لیکن پاکستان میں امریکہ کے بارے میں معلومات نامکمل اور محدود ہیں۔ امریکہ کو سمجھنے کے لئے اس کی تاریخ کے مختلف ادوار کو دیکھنا پڑتا ہے۔ پہلا دور امریکہ کی دریافت کے بعد یورپی آباد کاروں کی آمد کا دور ہے، اس کے بعد

Read more

فضائی حدود بندش اور گنگا اغوا کی سازش

بین الا قوامی سیاست ایک سیاسی بساط ہے اور فضائی حدود کی بندش کو ایک سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ماضی میں بھی اس کا استعمال ہوتا رہا ہے۔ حالیہ بھارتی جا رحیت کے بعد پاکستان نے بھارت پر فضائی حدود کے استعمال پر پابندی عائدکی ظاہر ہے یہ پابندی منا سب حالت میں تو نہیں لگی، پاکستان کی فضائی حدود میں آکر بھارتی طیاروں نے کوئی خیر کا عمل تو نہیں کیا اور پاکستان کی قومی سلامتی کو براہ راست خطرہ بھی ہوا، گو کہ بھارت تین عدد درختوں کی تباہی کے علا وہ کچھ حاصل نہ کرسکا۔

ایسا ہی ایک واقعہ مشرقی پاکستان کے سانحہ سے پہلے بھارت نے کیا، بھارت نے ایسے ہی ایک ڈرامے کو بنیاد بنا کر ایسی فضائی بندش کی پابندی عائد کی تھی۔ قصہ کچھ یو ں ہے کہ بھارت کا ایک مسافر طیارہ فوکر ایف 27 سری نگر سے نئی دہلی جاتے ہو ئے اغوا ہوا، اس سے بھارت نے ایک تیر سے دو شکار کیے ایک تو آزادی کشمیر کی تحریک کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کیا جائے اور دوسرا مشرقی پاکستان سے مغربی پاکستان کا فضائی رابطہ کاٹ دیا جائے۔

Read more

وادیِ عشق و من ۔ چراغ کے لے کہاں سامنے ہوا کے چلے

بام دنیا میں ایک مہمان خانہ مل گیا۔ استور اب میرا انتظار کر۔ فی الحال تو میں یہیں رکا جاتا ہوں۔ گھر سے استور جانے کے لیے نکلا تھا۔ جادو کے سے اثر والے نام کی جگہ، اس کی عجیب سی کشش تھی۔ وہاں جارہا ہوں، سب سے یہی کہا تھا، سب کو یہی بتایا تھا۔ اس لیے کہ باقاعدہ بتانا پڑ رہا تھا کہ جس جگہ میں جا رہا ہوں، وہ کون سی ہے اور کہاں ہے۔ لیکن جب

Read more

پاکستان آرمی ایوی ایشن: ماضی، حال اور مستقبل

پاکستان کی تاریخ میں جب بھی جنگوں کا تذکرہ جھڑتا ہے، تو ذہن میں جنگ 65 اور 71 کی جنگوں میں فلمائے گئے مناظر ذہن میں آجاتے ہیں، لیکن ساتھ ہی شہداء کا ذکر خون گرمانے لگتا ہے، انہی جنگوں میں پاکستان آرمی ایویشن نے اپنا لوہا منوایا، حا لانکہ یہ مختصر سا فضائی بیڑا دشمن کا عملاً کوئی حربی کردار ادا نہیں کرسکتا تھا، لیکن اس کی خدمات جنگ میں کسی مسلح دستے سے کسی طور کم بھی نہیں تھیں۔

آرمی ایوی ایشن اپنے غیر مسلح کردار میں بھی پاک فوج کے شہیدوں کی میتوں، زخمیوں کے میدان جنگ سے انخلا، میدان جنگ میں تازہ دم افواج اور سازو سامان کی فراہمی اور سب سے بڑھ کر پر خطر جاسوسی مشن (جن میں اکثر مشن بغیر کسی حفاظتی حصار کے پاک آرمی ایویشن نے مکمل کیے ) کو یقینی بنایا، 1979 میں جب روسی مسلح افواج برادر اسلامی ہمسائے افغانستان میں داخل ہوئیں تو پاکستان کی سلامتی بھی براہ راست خطرے میں آگئی، تاہم وہی وقت مسلح افواج کو نئے سازو سامان سے مسلح کرنے کا بھی تھا، امریکا نے وقت کو غنیمت جانا اور پاکستان کو اتحاد کی پیشکش کی، یہ پیشکش مونگ پھلی کے دانو ں ( جو محض 40 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے ) کی حیثیت رکھتی تھی کیونکے کارٹر انتظامیہ کو صورتحال کی سنگینی کا صحیح انداز ہ ہو ہی نہ سکا تھا۔

Read more

پہنچنا اسلام آباد اور پھر بام دُنیا کا راستہ ناپنا

جس کا کوئی انتظار نہ کر رہا ہو۔ اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اُترتے ہی ایک سرخوشی کا احساس میرے سارے بدن میں دوڑ گیا۔ خوشی جو دست برداری سے حاصل ہوئی۔ میرے قدموں کی چال دھیمی ہوگئی۔ کندھے پر لٹکا ہوا بستہ بھی جیسے لہرانے لگا۔ رکتا رکاتا میں آگے بڑھنے لگا۔ غسل خانے گیا، منھ دھویا، بال بنائے، رومال سے چہرہ رگڑتا ہوا واپس آکر سامان لانے والی بیلٹ کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ میرا سامان ابھی نہیں

Read more

وزیراعظم عمران خان کا روسی خبررساں ادارے سپوتنک سے خصوصی انٹرویو کا مکمل متن

شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے کرغیزستان روانگی سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے روسی صحافتی ادارے سپوتنک کو ایک خصوصی انٹرویو دیا۔ پاکستان کا وزیر اعظم بننے کے بعد یہ ان کا روسی میڈیا سے پہلا اں ٹرویو ہے۔ اس اہم انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے روسی صدر پوتین کے ساتھ اپنی ملاقات سے توقعات، بھارت کے ساتھ تعلقات، ایران کے خلاف امریکی پابندیوں اور افغانستان کی صورت حال جیسے

Read more

ہمارے زمینی پڑاؤ کی جھلکیاں – وٹنی میوزیم آف امریکن آرٹ میں

"چلیں اماں! آپ کو عیدی دوں " ہماری بیٹی ہم سے مخاطب تھی ، ہماری حیرت دیکھ کے بولی ” آپ میری مہمان ہیں اور عید کا دوسرا دن! چلیے، موج میلہ کریں " بیٹی ہماری رگ رگ سے واقف سو جب اس نے بیگ سے دو ٹکٹ نکالے تو قطعی حیرت نہیں ہوئی۔ ہم وٹنی میوزیم آف امریکن آرٹ جا رہے تھے! نیویارک کے گرین وچ علاقے میں دریاۓ ہڈسن کے کنارے ایک جدید آرکیٹیکچر کی شاہکار سات منزلہ

Read more

گلابی باغ و مقبرہ دائی انگہ

گلابی باغ و دائی انگہ سے منسوب یہ مقبرہ شالامار باغ لاہور کے قریب ہی واقع ہے۔ گلابی باغ جو کہ ماضی میں کافی وسیع تھا اب اس کا فقط ایک دروازہ موجود ہے۔ کنہیا لال ہندی لکھتے ہیں ”وسعت میں یہ باغ بہت بڑا تھا۔ چار طرف چار ڈیوڑھیاں عالیشان بنی ہوئی تھیں اور ایک بہت چوڑا کنواں وغیرہ امارات متعلق باغ کے تھیں وسط میں یہ بارہ دری عالیشان بنائی گئی گویا نمونہ خلد بریں کا بنا۔ دیگر

Read more

شنگریلا کے معبد

اسکردو کی شاہراہ میں شاہراہ نام کی کوئی شے نہ تھی۔ وہ تو بس راہ تھی۔ اک آہ تھی۔ بیابانوں میں ہوکتے کوُکتے مجنوں کی آہ۔ ایک ایسی راہ تھی جس پر سورج خود جلتا تھا۔ آندھیاں اس سڑک پر آکر اندھی ہوجاتی تھیں۔ بنجر اور سنگلاخ پہاڑ خوف کے تازیانے لئے ہر طرف پھیلے ہوئے تھے۔

عجب اتفاق تھا کہ ہم سارا دن دھوپ میں جلتے رہے اور جب شنگریلا ریزورٹ پہنچے تو بدلیوں نے سایہ کر دیا۔
ہم شنگریلا ریزورٹ کی راہ داریوں میں یوں پھرتے تھے جیسے صحرا کے مسافر کے سامنے اچانک کوئی نخلستان آ گیا ہو اور وہ پھولے نہ سماتا ہو۔

Read more

اور سندھ کے دوسرے پہاڑ (The Mount of Pub) کوہِ پب

ایک بار، سندھ میں ضلع جامشورو میں سہون شریف کے قریب ’لکی‘ اور ’کِھیرتھر‘ کے پہاڑی سلسلے کے دامن سے براستہ سڑک گاڑی میں گزرتے ہوئے، تخلیقی رو میں بہتے ہوئے ایسے ہی یہ بات ذہن میں آئی تھی، کہ اگر پہاڑوں اور پہاڑی سلسلوں کی زبان ہوتی، اور اُن سے اِس زمین پر گُزرنے والے موسمی، ماحولیاتی، سیاسی، سماجی و دیگر انقلابوں کے بارے میں پُوچھا جاتا، اور اگر یہ دیو قامت وجُود جواباً لب کُشائی کرتے تو کیا

Read more

کوئی ہے جو کوئٹہ کے اس اچھے ادارے کو تباہی سے بچا لے؟

بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف نیفرو یورالوجی کوئٹہ، گردوں کے امراض کے لیے کوئٹہ میں فاطمید فاؤنڈیشن کا قائم کر دہ ایک بہت اچھا ادارہ ہے۔ فاطمید اپنے مالک کی وفات کے بعد اس ادارے کو چلانے اور سنبھالنے میں مشکلات کا شکار تھی۔ دو ہزار پندرہ میں اس ادارے کا چارج بلوچستان ہائی کورٹ نے ایک حکم کے ذریعے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کو دے دیا۔ اس سے پہلے فاطمید فاؤنڈیشن اس ادارے کا انتظام چلاتی تھی۔ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے پاس اس کا چارج آیا تو اس ادارے کو خودمختار حیثیت دینے کے لیے صوبائی اسمبلی نے ایک ایکٹ منظور کیا۔

Read more

اک ذرا حسن کی وادی بونر تک

شاہراہ قراقرم پر دریائے سندھ کے دائیں طرف چٹانوں پر کندہ قدیم تہذیبوں کے خزانے سے گزر کر گلگت کی طرف سفر کریں گے تو ایک چھوٹا سا گاؤں گنی آئے گا بہت سی مسافر گاڑیاں اور ٹرک کھڑے نظر آئیں گے۔ گنی ہوٹل میں جس نے کھانا نہیں کھایا اس کے لئے اس سفر کا اصل سواد حاصل ہونا ممکن نہیں۔ گنی سے گزر کر آگے جائیں گے تو ایک میدانی گاؤں بونر داس آئے گا۔ یہاں سے آپ

Read more

وادی بابو سر کے گھر میں دیواروں پر لٹکتی بندوقیں اور محفلِ شعر و سخن

آوارگی تو جسم کے ہر خلیے میں رچی ہوئی تھی۔ شادی کے پہلے سات سال دانتوں تلے زبان دے کرگزار لئے تھے۔ تو اب جی رائیڈر ہیگرڈ کے میکو میزن اور ہنسیں کا روپ دھارنے کو چاہنے لگا۔ شمالی علاقہ جات کے پھلوں، سوغاتوں اور پر اسرار دنیا ؤں کی نمک خوار تھی۔ گرمائی تعطیلات میں بچوں کی انگلی پکڑی اور چھوٹی خالہ کے پاس اسلام آباد جا دھمکی۔ ”چھوٹی خالہ میرے بچے تیرے حوالے۔ بس پریوں کے دیس لکھنے

Read more

شاؤسر جھیل: شنگریلا کی تلاش میں بلتستان کا سفر

ہمارے ارد گرد آمنے سامنے سر سبز میدان اور برف پوش پہاڑیاں تھیں۔ ۔ ہر میدان کے پیچھے میدان ہر پہاڑی کے پیچھے پہاڑی۔ دنیا کے دوسرے اونچے میدانوں نے ہمارے سامنے پسپائی اختیار کر لی تھی۔ کہ دور کے پہاڑوں کے علاوہ باقی سب پہاڑ کوئی زیادہ اونچے نہ تھے۔ سبز، میدانوں میں نیلے پانیوں سے لدے چھوٹے چھوٹے ندی نالے جابجا دکھتے تھے۔ یہ پہاڑیاں ہرگز چھوٹی نہیں ہیں ان کی بلندی سترہ اٹھارہ ہزار فٹ تک ہے

Read more

چپاؤ: باجوڑ کی گمنام لیکن دلکش آبشار

ضلع باجوڑ میں دنیا کی نظروں سے اوجھل ایک ایسی آبشار ہے جو پاکستان کے چند خوبصورت ترین آبشاروں سے مشابہت رکھتی ہے چند ہی لوگ اس تک پہنچ پاتے ہیں اور وہ کسی کو بھی اس کا صحیح پتا نہیں بتاتے اور یہ بلند پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے۔ آبادی سے بہت دور، اس کی خوب صورتی تصویر میں دیکھ کر صرف اچھی ہے نہیں کہا جاسکتا بلکہ دیکھنے والے اس کی تصویروں میں کھو جاتے ہیں اس کو

Read more

رانی لونا کی محبت گہری تھی یا پورن بھگت کا کنواں؟

لونا، سیالکوٹ کے راجہ کی ملکہ ، تاریخ کے اوراق میں ایک ظالم عورت! مگر کیا تاریخ سچ بولتی ہے! تاریخ لکھنے والے تو بادشاہ وقت کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور وہ لکھتے ہیں جو انہیں زیر لب بتایا اور سمجھایا جاتا ہے۔ لونا کہتی ہے ایرا توں وی سچ سنایا توں وی لوناں دے زخماں تے متاں دا بس لون ہے لایا دھرمی بابل پاپ کمایا لڑ لایا تیرے پھل کمایا جس دا اچھراں روپ ہنڈایا (سہیلی! میرے

Read more

ڈاکٹر شیرشاہ سید سے ایک گفتگو

س: کچھ اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں بتائیے؟ ج: میں کراچی میں پیدا ہوا۔ لی مارکیٹ چاکیواڑہ کے علاقے میں۔ میرے ماں باپ غریب لوگ تھے۔ میرے والد صاحب اسکول ٹیچر تھے، میری والدہ کو پڑھنا لکھنا نہیں آتا تھا لیکن میری چھوٹی بہن کی پیدائش کے بعد انھوں نے پڑھنا شروع کیا اورجیسا کہ آپ کو پتہ ہے وہ پڑھ کے ڈاکٹر بن گئیں۔ میری جو اسکولنگ ہوئی وہ لیاری میں ہوئی اس کے این جے وی نریندرناتھ

Read more

عظیم شاعرہ مایا اینجلو کا بچپن، جنسی تشدد اور ٹراما سے رہائی

امریکہ کی مشہور شاعرہ، ادیبہ اور انسانی حقوق کی علمبردار ڈاکٹر مایا اینجلو کا کہنا ہے۔
” ایک ان کہی داستان کو اپنے اندر رکھنے سے بڑا کوئی دکھ نہیں۔ “

مجھے اس جملے کی سچائی اور طاقت کا اندازہ ان کی شہرہ آفاق کتاب ( میں جانتی ہوں پنجرہ میں قید چڑیا کیوں گاتی ہے۔ I Know Why the Caged Bird Sings) پڑھ کر ہوا۔ کئی سال قبل پڑھی اس کتاب کا اثر مجھ پر وقت کے ساتھ گہرا ہی ہوتا گیا۔ اس کی وجہ آگہی اور تجربہ کا وہ سفر ہے جو میں نے امریکہ میں رہتے ہوئے طے کیا۔ مایا اینجلو نے کل سات سوانح عمریاں لکھی ہیں۔ یہ اس سلسلے کی پہلی کتاب ہے۔ جو کہ ان کی تین سے سترہ سال کی زندگی کا احاطہ کرتی ہے۔

Read more

شیریں عبادی، انسانی حقوق اور نوبل کا امن انعام

شیریں عبادی وہ پہلی ایرانی اور مسلمان خاتون ہیں جنہیں امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا اور ان کی انسانی حقوق کے حوالے سے خدمات کو سراہا گیا۔ شیریں عبادی 1947 میں ایران کے شہر ہمدان میں پیدا ہوئی تھیں۔ یہ وہی شہر ہے جہاں مشہور ایرانی طبیب اور دانشور بو علی سینا کا مزار ہے۔ شیریں عبادی کو شروع سے ہی انسانی حقوق میں دلچسپی تھی اس لیے انہوں نے تہران یونیورسٹی سے 1969 میں قانون میں ڈگری

Read more

بیجنگ نے تو مجھے تتّے توے پر بٹھا دیا

بیجنگ میں میرا حال تتّے توے پر بیٹھنے جیسا ہوگیا تھا۔ پہلی حیرت اسلام آباد سے بیجنگ کے لیے جانے والے مسافروں کو دیکھ کر ہوئی۔ ان میں اکثریت تو نوعمر بچیوں اور بچوں کی تھی۔ جن کی بہار آئی پڑی تھی۔ دوسری پختہ عمر کے لوگوں کی تھی جن کے چہرے مہرے، لباس اور حال احوال انہیں کہیں جنوبی پنجاب اور کہیں خیبر پختون سے تعلق کا بتاتے تھے۔ اب کچھ جاننے کا تجسّ کشاں کشاں اُن کے پاس

Read more

مونے کے واٹر للیز۔ پیرس کی آرٹ گیلری، ایک طلسم کدہ

اور آج دن تھا، مونے دیکھنے کا۔ بہت سال پہلے میں مونے کی محبت میں گرفتار ہوئی۔ مونے کے بنائے ہوئے پانی میں تیرتے ہوئے للیز، کنارے پہ جھکے درخت اور ان کا عکس۔ میں جب بھی کسی ملک جاتی ہوں چاہے میڈیکل کانفرنس میں جاؤں یا گھر والوں کے ساتھ۔ وہاں کی آرٹ گیلیریز جانا اور وہاں گھنٹوں بتانا ایک ایسا شوق ہے جو کبھی کم نہیں ہوا۔ شروع میں صاحب بہت حیران ہوتے کہ ذات کی عورت، پیشے

Read more

ماسٹر عبدالعزیز : لٹل ماسٹر (حنیف محمد) کے بڑے استاد

1947 میں جونا گڑھ سے ایک خاندان کراچی آن بسا۔ ہجرت سے پہلے ان کے یہاں خوش حالی کا دور دورہ تھا لیکن نئے ملک میں معاشی دشواریوں نے گھیر لیا۔ خاندان کے سربراہ شیخ اسماعیل 1949 میں کینسر سے انتقال کر گئے تو بچوں کی تربیت اور دیکھ ریکھ کی ذمہ داری خاتون خانہ امیر بی پر آ گئی۔ اس باہمت عورت نے بیٹوں کو پائوں پر کھڑے ہونے میں بڑی مدد دی۔ کرکٹ اس خاندان کے خون میں

Read more

آزادی صحافت سے عورتوں کے حقوق کی جدوجہد تک: مہناز رحمن سے ایک گفتگو

عورت فاؤنڈیشن کیا ہے؟ عورت فاونڈیشن ایک قومی غیر منافع بخش غیر سرکاری تنظیم ہے۔ 1986 میں قائم ہونے والی اس آرگنائزیشن کے بانیوں میں نمایاں نام شہلا ضیا (مرحومہ) اور نگار احمد کا ہے۔ اس کے قیام کا مقصد ملکی سطح پر ہر طبوے میں بالخصوص پسماندہ اور مظلوم خواتین میں آگہی پھیلانا ہے۔ فاؤنڈیشن کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں ہے جب کہ پانچ دفاتر علاقائی اور صوبائی سطح پہ کراچی، پشاور، لاہور، کوئٹہ اور گلگت میں کام

Read more

صحرا تھر میں چنکارا ہرن کو بچانے کی ضرورت

بھارومل امرانی تھرپارکر دنیا کی سبز ریگستانی زون میں سے ایک ہے، جس میں منفرد اور خوبصورت جغرافیائی، زمین کی تزئین، ثقافت، روایات، پودے اور حیوانات پائی جاتی ہے، اسی وجہ سے تھرپارکرکو اوپن ایئرمیوزم سے منسوب کرنے کے ساتھ پاکستان کے پانچ اہم ماحولیاتی ایکوسسٹم میں شامل کیا جاتا ہے۔ ماحولیات کے مایرین نے ملک میں آٹھ اہم جیو ویودتا کے امیر علاقے منتخب کیے ہیں ان میں تھرپارکر بھی ایک ہے۔ بد قسمتی سے یہ خوبصورت صحرا گذشتہ

Read more

موسمی تبدیلی کے اثرات میں صحرا تھر کی بھٹکتی زندگی

تھرپارکر کا تصورآنے سے ہی ریت کی زندگی ذہن میں آ جاتی ہے، جس کے زندہ رہنے کے سارے ذریعے ریت کے ٹیلوں پے بارش کی رم جھم سے اپنا دم لیتے ہیں، اگر بارش نہیں ہوتی تو صحرا تھر کے سماجی، معاشی، ثقافتی اور ماحولیاتی رنگ روپ بے رنگ ہوکر بکھر جاتے ہیں۔ صحرا تھر کے روکھے پھیکے چہروں کو پڑھنے اور اُن پر لکھی آڈھی ترچھی لکیروں کے کرب کو سمجھنے کی کوشش کرنے کے لئے کوئی نہیں

Read more

میری بنیادی شناخت ادب کے قاری کی ہے : آصف فرخی

سوال:آپ افسانہ نگار ہیں، مترجم، نقاد اور مدیر بھی ہیں، کبھی کبھی آپ ہمیں اینکر بھی نظر آتے ہیں۔ آپ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں بیک وقت لکھتے ہیں۔ آپ کی فیلڈ آف اسپیشلائزیشن یعنی آپ کی شناخت کیا ہے؟ ڈاکٹر آصف فرخی: میری بنیادی شناخت اگر کوئی ہے، جس پر ایک سوالیہ نشان ہے، وہ پہلی شناخت ہے۔ اور جس پر مجھے اصرار ہے وہ ایک پڑھنے والے کی ہے۔ ادب کے ایک قاری کی ہے۔ ایک ایسا

Read more

لاہور کے ماتھے کا جھومر: لاہور کینال

(لاہور کے بیچوں بیچ گزرتی نہر کی عہد بہ عہد تصاویر کے لئے تحریر کے آخر میں موجود گیلری ملاحظہ کریں) لاہور میں رہنے والے سندھیوں کے روح رواں سائین گووند رام مالھی لاہور کے ایسے ہی دیوانے نہیں۔ پرائیویٹ اداروں میں نوکری کے سلسلے میں کچھ سال لاہور میں کیا رہے ہر وقت ”لہور“ کے ہی گن گاتے رہتے ہیں۔ جناب آج کل ہم کو داغ مفارقت دے کر کراچی نشین ہوگئے ہیں مگر جب بھی لاہور آتے ہیں،

Read more

ڈاکیومینٹری: ہنزہ میں خودکشی کا بڑھتا رجحان

اس ڈاکیومینٹری میں آراء ہنزہ کے شہریوں کی ہیں جن میں سماجی رہنما و کارکن، ماہرین تعلیم ویونیورسٹی سکالرز شامل ہیں۔ ان آراء سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن بحیثیت مجموعی یہ آراء ہمیں مسئلہ کی حساسیت اور نوعیت کی جانب رہنمائی ضرور کرتی ہیں۔ کسی مسئلہ کی موجودگی سے سرے سے ہی انکار یا نظر انداز کرنا اس کا حل نہیں ہے۔ انکار اور نظر انداز کرنے کے رویے کا نتیجہ یہی نکلا ہے کہ مسئلہ اور زیادہ

Read more

فہمیدہ ریاض: وجود کرب سے آگے

ادب، جو اپنے گرد و پیش میں بکھری ہوئی زندگی اور اپنے عہد کے عصری تقاضوں سے بے خبر ہو وہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کچے رنگوں سے بنی کوئی تصویر جو موسم کی سختیوں سے متاثر ہو کر اپنی دلکشی کھو بیٹھتی ہے۔ ہر دور کا ادب اپنے اپنے عہد کے چہرے پر پڑی وقت کی خراشوں سے ایسے خدوخال ابھارتا ہے جو لفظوں، لکیروں اور رنگوں کے محتاج نہیں ہوتے اور پھر وقت کی بے رحمیوں کے

Read more

کھوکھرا پار کہاں واقع ہے؟

تقسیمِ ہند کا تذکرہ ہو تو ساتھ ساتھ ہجرت کا ذکر لازمی ہے۔ بی بی سی اردو سروس کے معروف صداکار اور محقق رضا علی عابدی نے اپنی کتاب ’’اخبار کی راتیں‘‘ میں اپنے کنبے کی پاکستان ہجرت کا ذکر یوں کرتے ہیں؛ "ہمارے گھر کا سامان زیادہ تر اونے پونے بکا۔ میرا دارالمطالعہ ردی والے تول کر لے گئے۔ مزید کہتے ہیں کہ سارا کنبہ واہگہ کی سرحد پر پہنچا۔ ہندوستان کے کسٹم والے ہمارا سامان دیکھنے لگے۔ ایک

Read more

جلال چانڈیو: سندھیوں کی عالم لوہار اور اللہ رکھی سے جان چھڑوانے والا

10 جنوری کو جلال چانڈیو کی 18 ویں برسی ہے۔ ”سندھی قوم کو میرا شکرگذار رہنا چاہیے کہ میں نے ان کی پنجابی فنکاروں عالم لوہار اور اللہ رکھی (نورجہان) سے جان چھڑائی، بھلے سندھ کے شہری بابو ٹائپ لوگوں کو میرے کلام اچھے نہ لگیں مگر سندھ کے گاؤں پر میرا راج ابھی ایک یا دو سو سال تک چلے گا، شہری بابو میرے مرنے بعد مجھے یاد رکھیں گے کہ جلال چانڈیو بھی کوئی چیز تھا۔ “ چپڑی

Read more

سماجی تبدیلی کی خواہاں باکمال فنکارہ: ثانیہ سعید

اسٹیج، تھیٹر اور ٹی وی کی دنیا میں فنِ اداکاری کے افق پر کئی ستارے ابھرے، جھلملائے اور پھر شہابِ ثاقب کے مانند ٹوٹ کے گم ہوئے مگر جس ستارے کو ہم تین دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے مسلسل جگمگاتا دیکھ رہے ہیں اس کی تابناکیوں میں وقت کے ساتھ اضافہ ہی ہوا ہے۔ اس محنتی، باشعور، سماجی تبدیلی کی خواہاں، سچی اور باکمال فنکارہ کا نام ہے ثانیہ سعید۔ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ کراچی میں مختصر

Read more

ایاز میلو اور امر سندھو

زمانہ ہوا کہ امر سندھو نے شاہ حسین کے ان الفاظ کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے جن الفاظ میں شاہ حسین روتی، دکھی، مصیبت زدہ لڑکیوں کا حال بیان کر رہا ہے۔ وہ لڑکیاں جو بہت دکھی بھی ہیں پر ان کو ایسا کوئی پرسان حال بھی میسر نہیں جس کو اور نہیں تو وہ اپنا حالِ دل ہی سنا سکیں۔ ان کے ساتھ رو سکیں انہیں وہ سب کچھ بتا سکیں جو ان پر بیتتی ہے۔ پر کوئی

Read more

فیض کا تصورِ شناخت اور ثقافت، اورقومیت سے متعلق اکہترواں ابہام

تصورِ شناخت اور عدم شناخت کے بیانیے مابعد نو آبادیات کلامیوں کا ایک بنیادی جُزو رہے ہیں، فیض کے ہاں شناخت کا تصور دو مختلف فکری منطقوں میں ایک طے شدہ مگر منقسم سطح پر دکھائی دیتا ہے۔ فیض تاریخ کو دورانیہ، جغرافیے کو توسیع، علاقے، طبقات اور زبانوں کو ثقافت کی روح گردانتے ہیں۔ فیض کے نزدیک ثقافت، کسی بھی سماجی اکائی کے مکمل طرزِ حیات کا نام ہے۔ ثقافت کے دو بنیادی لازمے ہیں : نمبر 1 ”ذریعہ“

Read more

جنوبی افریقہ سیریز میں یاسر شاہ کا کردار

پاکستان نے اپنے دورہ جنوبی افریقہ کا آغاز جنوبی افریقہ انویٹیشن الیون کے خلاف تین روزہ میچ میں فتح کے ساتھ کر لیا ہے۔ میچ کی خاص بات پہلی اننگ میں اظہر علی اور بابر اعظم کی سنچریاں اور دوسری اننگ میں امام الحق اور حارث سہیل کی نصف سنچریوں کے ساتھ ساتھ محمد عامر کی دوسری اننگ میں تین وکٹیں تھی۔ اس میچ کی ایک اور خاص بات پاکستانی ٹیم کا ٹارگٹ چیز کرنا بھی تھا۔ اگرچہ یہ میچ

Read more

کیا معروف مصور گل جی پہلے ڈیم بنانا چاہتے تھے؟

جب گل جی کے بارے میں لکھنے بیٹھا تو اچانک ایک عجیب سا خیال آیا، میں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ زندگی میں گل جی سے میرا پہلا تعارف کیا تھا؟ اور جو کچھ یاد آیا وہ حیرت انگیز تھا۔ ایم ایم شریف (معروف خطاط)، گل جی، زریں پنا (کلاسیکل رقاصہ)، مہاراج کتھک، صادقین، منصور ملنگی، فصیح الرحمن، عدنان سمیع خان، افشاں، آغا طالش، صبیحہ، سنتوش، محمد علی، زیبا اور کئی دوسرے ایسے آرٹسٹ تھے جن کا ذکر پہلی

Read more

الطاف فاطمہ سے گفتگو

کہیں کہیں کسی گھرانے میں ایک بہن ہوتی ہے، خاموش طبع، مدہم، گہری اور ذمہ دار۔ بولنا ہے تو ضرورت کے برابر اور نیچی آواز میں۔ مانو، گھر میں ایک سایہ سا موجود ہے۔ مگر یہ کہ سب کام پورے۔ تعلیم بھی حاصل کی۔ سب کی خدمت کی۔ سب سے محبت کی۔ سب کے کام آئی۔ کئی نسلوں کو تعلیم دی۔ کسی سے دشمنی نہیں رکھی۔ کسی جھگڑے میں نہیں پڑی۔ سب کے دکھ میں روئی۔ سب کی خوشیوں میں شریک ہوئی۔ بظاہر چپ کی چادر تلے دنیا کو غور سے دیکھا اور یہاں رہنے کا حق کہانیوں کی صورت میں ادا کیا۔ ناول لکھے۔ نواسی برس کی عمر گزار کر ایک روز چپکے سے رخصت ہو گئی۔ الطاف فاطمہ ہم پاکستان والوں کے لئے کچھ ایسی ہی تھیں۔ اب چلی گئی ہیں تو گھر والوں کو محسوس ہو رہا ہے کہ جسے سب سے کم سوچا تھا، اسی نے زندگی کا حقیقی حق ادا کیا۔ ایسے لگتا ہے گویا گھر کی ایک دیوار گر گئی۔

Read more

فہمیدہ ریاض کا ریڈیو پاکستان سے آخری انٹرویو (2)

  س۔ آپ نے سات سال کا طویل عرصہ ہندوستان میں جلا وطنی میں گذارا اور پھر بینظیر بھٹو کی شادی کے دن پاکستان واپس لوٹ کر آئیں تو واپسی پر کیسا ماحول پایا؟ ج۔ جب واپس آئی تو پھر ایک بہت لمبی کہانی ہے۔ بالکل ایک بڑا جوش تھا بڑا جذبہ تھا۔ ہمیں لگتا تھاکہ طویل جدوجہد کامیاب ہوئی ہے اور اب ملک میں ایک جمہوری دور شروع ہو رہا ہے اس زمانے میں نیشنل بک فاﺅنڈیشن ایک ادارہ

Read more

(فہمیدہ ریاض کا ریڈیو پاکستان سے آخری انٹرویو (نومبر 2016

فہمیدہ ریاض کا جنم 28 جولائی 1945ء کو ہندوستان کی تاریخی فوجی چھاؤنی میرٹھ میں ایک علمی و ادبی گھرانے میں ہوا۔ ان کے والد ریاض الدین احمد ماہر تعلیم تھے۔ یہ ذکر قیام پاکستان سے کوئی 17 سال قبل کا ہے جب سندھ کے معروف ماہر تعلیم نور محمد نے حیدر آباد میں ایک اسکول قائم کیا تو اپنے اسکول کے لئے انہوں نے ایک مسلمان استاد کے لئے علی گڑھ یونیورسٹی کی انتظامیہ سے درخواست کی اور یوں

Read more

حسین نقی سے باتیں (3)

بھٹو کے ساتھ جو ہوا ان کا مقسوم تھا مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع ہونے پر بھٹونے کہا کہ شکر ہے! پاکستان بچ گیا۔ فلیٹزہوٹل میں پریس کانفرنس کرنے آئے تو میں نے کہا کہ ’آپ نے تاریخ پڑھی ہے اورآپ سے بہترکوئی نہیں جانتا کہ پاکستان نہیں بچا۔ اس پر بولے: نہیں نہیں ہم کو حکومت دے دی جائے تو معاملات سدھار دیں گے۔ میں بولا” حکومت بنانا آپ کا حق ہی نہیں، اس لیے آپ کو کیوں

Read more

حسین نقی سے باتیں (1)

ممتاز ادیب مشتاق احمد یوسفی لکھتے ہیں:” سیاست کی کثافت اور polarizationکی مخرب اقدار کشش سے کتنے صحافی اور کالم نویس ہیں جو خود کو بچا سکے ہیں، ان حالات میں حکومتیں اگر Fourth estateکواپنا زرخرید ترجمان و تابع فرمان بنانا چاہیں توتعجب نہیں ہونا چاہیے۔ صحافی ہو یا سیاست دان، جج ہویا بینکراور بیوروکریٹ… یہ سب اسی ترکیب سے ”پکڑائی“دیتے ہیں، جس طرح بعض علاقوں میں بندر پکڑے جاتے ہیں۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ ناریل میں اتنا سوراخ

Read more

خالد اقبال، جنرل ایوب اور پنکچر گاڑی

’وہ شاکر علی کا بڑا گہرا دوست تھا۔ میں ہنستا تھا کہ یار نہ تم بولتے ہو، نہ وہ بولتا ہے تو پھر تم لوگ دوست کیسے ہو؟ کیا باتیں کرتے ہو؟ شاکر مسکرا دیتا تھا۔ ان دنوں پاک ٹی ہاؤس میں بڑی رونقیں ہوتی تھیں۔ میں جب بھی وہاں بیٹھے بیٹھے کچھ لکھتا تو اس کے نیچے ایسے ہی قلم سے کوئی خاکہ بنا دیا کرتا تھا۔ ایک دن شاکر علی نے میری ڈرائنگ دیکھی تو کہنے لگا کہ

Read more

بیگم اختر کی گائیکی میں درد اور تنہائی

ناک میں ہیرے کی چمکتی لونگ، لبوں پہ سنجیدہ مسکراہٹ، ساڑھی میں لپٹا باوقار جسم، غزل، ٹھمری اور دادرا کی تانیں الاپتی، سروں کے دریا میں غرق بھلا کون ملکہ غزل بیگم اختر کے سوا اور کون ہو سکتا ہے۔ جن کی گائیکی میں ایسا جادو تھا۔ کہ اس کا توڑ کوئی نظر نہیں آتا تھا۔ انکے پرستار اس بات پہ متفق ہیں کہ بیگم اختر کی گائیکی کی انفرادیت ان کی پرسوز آواز میں پنہاں تھی۔ گہرے درد اور

Read more

پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ مصور اسماعیل گل جی اور افغان بادشاہ ظاہر شاہ

  گل جی پاکستان کے معروف عالمی شہرت رکھنے والے مصور اور خطاط تھے جنہوں نے اپنے شوق فن پر انجینرنگ کی ڈگری کو قربان کردیا تھا ۔امریکہ سے انجینرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود وہ خطاطی اور پینٹنگ میں نئے جہتوں کو رنگوں سے آشکار کرتے تھے ۔ گل جی پہلے پاکستانی مصور تھے جنہوں نے کابل میں پہلی نمائش منعقد کی اور پورٹریٹ اور موزیک کے فن کو افغانستان میں نئی جدت سے متعارف کرایا۔ انہوں نے

Read more

صادقین اپنی تصویریں مہنگی کیوں بیچنا چاہتے تھے؟

فنکار اگر اپنے حلیے سے فنکار نہ لگے تو اس کی ساری فنکاری آدھی رہ جاتی ہے۔ وہ سوپر ٹیلینٹڈ ہو، وہ اپنے فن میں مہان ہو، جب تک اس میں کچھ ادا، کچھ خاص ٹیڑھ یا ایسا کہہ لیں کہ تھوڑا اسٹائل نہیں آتا، وہ قبولِ عام کی سرحد سے ایک یا 2 فٹ پیچھے رہتا ہے۔ لمبی چوڑی مثالیں گنوانے کے بجائے سیدھے صادقین پر لینڈ کرتے ہیں۔ وہ لیجنڈری فنکار تھے۔ مست ملنگ حلیہ تھا اور دنیا

Read more

استاد اللہ بخش نے کرشن جی کی تصویریں کیوں بنائیں؟

منی ایچر کے بعد دوسری روایت ہمارے پاس یورپ سے امپورٹ شدہ ریئلزم والی تصویروں کی رہی ہے۔ راجہ روی ورما (Raja Ravi Varma) برِصغیر میں ریئلزم والی تصویروں کے بانی کہلائے جاسکتے ہیں۔ آئیے اسے ہم سادہ زبان میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب سے 15 سے 20 سال پہلے تک وہ جو سنیما کے بڑے بڑے پوسٹروں پر جو تصویریں ہوتی تھیں، جو رنگ ہوتے تھے اور جس طرح کی خوبصورت شکلیں اور منظر پینٹ کیے جاتے تھے،

Read more

اختر شیرانی کی سلمیٰ اور دیدار سنگھ پردیسی 

اختر شیرانی کی شاعری میں سلمیٰ کا ذکر اہل ادب کے لیئے یقیناً دلچسپی کا باعث رہاہے سلمی ٰ کون تھی جس کے حسن کی تعریف میں اختر شیرانی نے اس قدر خوبصورت  شاعری تخلیق کی کہ اسے ہندوستان کا کیٹس کہا جانے لگا کبھی تو سلمیٰ کے خرام رائیگاں کو کہکشاں سے تشبیہ دی گئی اور کبھی اسے بہار میں کھلنے والے وہ غنچہ قرار دیا گیا جس کی شادابی پہ ابھی باد صرصر کا کوئی اثر نہیں ہوا

Read more

یہ انسان تھے یا فرشتے؟

ایرینا سینڈلر کا تعلق (وارسا) پولینڈ سے تھا ۔دوسری جنگِ عظیم کے دوران اسے اس کیمپ میں پلمبر کا کام مل گیا ،جہاں نازی فوج نے کئی ہزار یہودی خاندانوں کو محصور کر رکھا تھا ۔ ایک خوفناک موت ان یہودی خاندانوں کے آس پاس منڈلا رہی تھی ۔ایرینا سینڈلر روز اس کیمپ میں محصور معصوم بچوں اور ان کی طرف بڑھتی ہوئی موت کو دیکھتی اور انہیں بچانے کا منصوبہ بناتی رہتی بالآخر اس کا منصوبہ مکمل ہوا. اس

Read more

پاکستانی مصوری کی تاریخ، منی ایچر آرٹ اور حاجی محمد شریف

ہمارے ہاں تصویر بنانا ایک طویل عرصے تک اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا، تاہم مغل دور میں اگر ہم دیکھیں تو مصوری باقی دیگر تمام فنون کے ساتھ ساتھ جیسے تیسے چلتی رہی اور اپنے آپ کو منواتی بھی رہی۔ ویسے تو اگر ہم پاکستانی مصوری کی جڑیں تلاش کرنے جائیں گے تو ہمیں اجنتا اور ایلورا کے غاروں سے بھی گزرنا پڑے گا، موہن جو دڑو کی ڈانسنگ گرل سے بھی ملاقات کرنی پڑے گی اور ٹیکسلا میں پائے

Read more

زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا، پیام آیا

1۔ زہے مقدر: کیا واقعی دو ہفتے بعد میری زندگی بدلنے والی ہے؟ اس کتاب کا وہ صفحہ الٹنے والا ہے جس کی راہ میں ہزارہا قسم کے مسائل الجھے ہوئے تھے۔ یہ سوال میں نے اپنے جرنل پر تب لکھا جب مجھے شکے تھا کہ میاں صاحب کا ارادہ بدلے گا، ویزہ نہیں لگے گا، چھٹی کہاں ملے گی، بچوں کے امتحان یا کوئی بھی بیکار کا مسئلہ ہمارے قدموں سے الجھے گا اور خدا کی عظیم ترین سرزمین

Read more

بہاولپورکا عجائب گھر۔۔۔ جنوبی پنجاب کی ثقافتی اقدارکا امین

ترقی یافتہ معاشروں میں عجائب گھرکی اہمیت مسلمہ ہے۔عجائب گھرکا قیام متمدن قوموں کی پہچان اوران کے ورثے وثقافت کی بقاء و ارتقاء کی ضمانت ہوتے ہیں۔ متمدن قومیں نسلِ نو میں ثقافت کے تحفظ ان کے فروغ کے بارے میں شعور وآگاہی پیدا کرنے کے لئے عجائب گھر وں کا قیام عمل میں لاتی ہیں۔عجائب گھرایک ایسا ادارہ ہے جہاں تاریخی،سائنسی،سماجی وثقافتی اہمیت کی حامل اشیاء عوام اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے افراد کو معلومات وتفریح فراہم کرنے

Read more

فیمنستانی: آزادی کے آزاد جشن سے آدھی آبادی محروم کیوں؟

آپ کو پاکستان کا بہترواں یوم آزادی مبارک ہو۔ آزادی تو ہے لیکن کیا یہ آزادی صرف نام کی ہے؟ غربت، تعلیمی نظام، طبقاتی فرق اور ذہنی غلامی؟ کیا یہ چیزیں ایک آزاد ریاست کی نشانی ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر جنسی تفریق۔ زیر نظر ویڈیو کو پھر سے غور سے دیکھئے۔ اس میں کون سی چیز موجود نہیں ہے؟ جی ہاں۔۔۔ خواتین! خواتین جن پر پاکستان کی آدھی آبادی مشتمل ہے۔ 14 اگست کو یہ خواتین آپ کو

Read more

شاہ قاچار، وزیر جنگ اور رضا خان: محلاتی سازشیں اور بدقسمت ایرانی قوم

میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔ افریقا میں قیام کے دوران ہی (1938-46) انہوں نے اپنی سوانح لکھنا شروع کی تھی

Read more

عراق پر امریکی حملے کے پیچھے چھپے اہم راز اور سابق امریکی وزیردفاع ڈک چینی کا اعتراف

سابق امریکی وزیردفاع اور نائب صدر  ڈک چینی کے اپنی کتاب ’اِن مائی ٹائم‘ میں اعترافات ’ڈک چینی‘ کہلانے والے رچرڈ چینی عراق کی پہلی جنگ کے وقت جارج بش سینئر کی انتظامیہ میں ڈیفنس سیکریرٹری (1993-1989ء) تھے اور امریکی تاریخ کے بدترین دہشتگردی کے واقعہ نائن الیون کے وقت یہ جارج بش جونیئر کی انتظامیہ میں نائب صدر (2001-2009ء) کے عہدے پر فائز تھے۔ اس حوالے سے ان کی یاد داشتیں جو2011ء میں’ In My Time: A Personal and

Read more

سعادت حسن منٹو کی شادی کیسے ہوئی؟ منٹو کے اپنے قلم سے

میں نے کبھی لکھا تھا کہ میری زندگی میں تین بڑے حادثے ہیں، پہلا میری پیدائش کا جس کی تفصیلات کا مجھے کوئی علم نہیں، دوسرا میری شادی کا، تیسرا میرا افسانہ نگار بن جانے کا۔ آخری حادثہ چونکہ ابھی تک چلا جا رہا ہے، اس لیئے اس کے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ وہ لوگ جو میری زندگی کے اندر جھانک کر دیکھنا چاہتے ہیں، ان کی خاطر میں اپنی شادی کی داستان بیان کرتا ہوں۔ یہ

Read more

پاکستان میں ٹویٹر پر بڑھتا ہوا مصنوعی سیاسی بیانیہ

پاکستان میں اپنی نوعیت کی ایک منفرد تحقیق سامنے آئی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ ملک میں آیندہ آنے والے عام انتخابات کے متعلق ٹویٹر پر استعمال ہونے والے سیاسی ’ہیش ٹیگز‘ پر کی جانے والی زیادہ تر ٹویٹس کے ذریعے سیاسی بیانیہ دراصل خودکار طریقہ سے تشکیل دیا جا رہا ہے، جسے سائنسی زبان میں ’ہیومن بوٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں یوں تو سوشل میڈیا کے اثرات اور اس پر ہونے والی بحث

Read more

کچھ ذکر ایران کا: چالاک سرکار انگلشیہ، دھوکے باز رضا پہلوی اور عربوں کی ذلت

میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔ افریقا میں قیام کے دوران ہی (1938-46) انہوں نے اپنی سوانح لکھنا شروع کی تھی

Read more

سر رچرڈ ایچرلے – پاکستان فضائیہ کے دوسرے سربراہ

اپنی شاندار حسِ مزاح اور مرچ مسالے سے بھرپور زبان (فلاوری لینگوئج) کی وجہ سے پاک فضائیہ کے ا ولین افسروں اور جوانوں کی یادوں میں ہمیشہ زندہ رہنے والےزندہ دل افسر، سر رچرڈ ایچرلے کی شخصیت کا ہر پہلو یادگار رہا جس پر پاک فضائیہ اُنہیں ہمیشہ یاد رکھے گی! قیامِ پاکستان کے بعد تینوں مسلح افواج کی کمان انگریز کمانڈروں کو دینا پڑی کہ ہمارے پاس اعلیٰ کمان کا تجربہ رکھنے والے مسلمان، مقامی افسران نہ ہونے کے

Read more

سنجے دت، نرگس، مادھوری اور ایک پرانا خط

بچپن میں سب لوگ ہیرو بننا چاہتے ہیں مجھے ولن بننا پسند تھا۔ تھوڑا بڑا ہوا تو اتنا کمپرومائز کیا کہ چلو موقع ملا تو کیریکٹر ایکٹر بن جاؤں گا، ہیرو ۔۔۔ بات نہیں بنتی۔ کلین شیو پپو بچہ جو دنیا کے سارے اچھے کام کرتا پھرے، ویسا کیسے بنا جا سکتا ہے؟ انہی دنوں سنجے دت کی خبریں اخباروں اور فلمی رسالوں میں بہت زیادہ آیا کرتی تھیں۔ وہ ڈرگز لیتا تھا، ممنوع اسلحہ رکھتا تھا، ہر دوسری ہیروئین

Read more

ایک صدی قبل اجمیر شریف کی زیارت کا سبق آموز احوال (مع نادر تصاویر)

(میرے دادا جان (1892-1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق ان کا کہنا ہوتا تھا کہ انھوں نے اس کا چپہ چپہ دیکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔ افریقا میں قیام کے دوران ہی (1938-46) انہوں نے اپنی سوانح لکھنا شروع کی

Read more

راجہ مہندرا پرتاپ سنگھ: مارکسسٹ انقلابی جس نے ہندوستان کی آزادی کا بیڑہ اٹھایا

یہ 1959 کے اختتام کی بات ہے، جب میں دلی میں روزنامہ جنگ کے نامہ نگار کی حیثیت سے تعینات تھا۔ ایک ملاقات میں بنے بھائی، سجاد ظہیر نے پوچھا کہ تم پرانے مارکسسٹ انقلابی، راجہ مہندرا پرتاپ سنگھ سے نہیں ملے، جنہوں نے دو سال قبل عام انتخابات میں جن سنگھ کے رہنما اٹل بہاری واجپائی کو شکست دے کر زبردست کارنامہ انجام دیا ہے۔ میں دوسرے ہی دن وقت لے کر تین مورتی کے قریب ممبر پارلیمنٹ کے

Read more

سنگیت کے سمندر کی حقیقی شہزادی لتا منگیشکر کی داستان

لتا جی بلاشبہ گائیکی کی دنیا کی لیجنڈ شخصیت ہیں. جب بھی ان کا ذکر آتا ہے تو سمجھ نہیں آتی کہ کس طرح کے لفظوں سے ان کی مداح سرائی کی جائے. لتا جی کی عظمت کی داستان چند لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ جس طرح مصور رنگوں سے دنیا کی خوبصورتی بیان کرتا ہے،موسیقار سروں سے کھیلتا ہے اورعظیم نغمہ سامنے لے آتا ہے جیسے لکھاری خوبصورت لفظوں سے نغمہ ترتیب دیتا ہے

Read more

خبرناک کا علی میر کون ہے؟

وجاہت مسعود صاحب کی محبت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آج ایک ایسے شخص کے بارے میں لکھنا چاہتا ہوں جس کا ایک زمانہ دیوانہ ہے۔ اسے سات خون معاف ہیں۔ میں نے اپنی آ نکھوں سے دیکھا ہے کہ لوگ اسے ملتے وقت سمجھ نہیں پاتے کہ اپنی عقیدت کا اظہار کیسے کریں۔ ویسے تو یہ بہت سے مشہور لوگوں کے ساتھ ہوتا ہو گا لیکن میر محمد علی جس کی نقل اتارتا ہے اور بسا اوقات اچھا خاصا تماشا

Read more

میرے بھی ہیں کچھ خواب!

28 اگست 1963ء کو امریکہ کے لاکھوں سیاہ فام اور سفید فام شہریوں نے واشنگٹن میں ایوان نمائندگان سے انسانی غلامی کے عظیم ترین مخالف ابراہم لنکن کی یادگار تک پرامن مارچ کیا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ امریکی آئین، قوانین اور پالیسیوں میں رنگ و نسل کی بنیاد پر ہر قسم کا سیاسی، سماجی اور اقتصادی امتیاز ختم کیا جائے۔ اس موقع پر تحریک کے قائدڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ نے لنکن میموریل کی سیڑھیوں پہ سیاہ فام امریکیوں

Read more

بچوں میں ڈس لیکسیا (Dyslexia) کا مرض کیا ہے اور اس کا علاج کیسے کریں؟

جب میں نے کہانی کی آخری سطر پڑھ کر کتاب بند کی اور 11 سالہ حمید کی آنکھوں میں جھانکا تو اس کی شفاف، سیاہ اور روشن آنکھوں میں خوشیوں کے کئی رنگ جھلک رہے تھے۔ دو سال قبل امریکہ عراق جنگ کی ہولناکیوں کو جھیل کر امریکہ آنے والے حمید کی آنکھوں میں علمی ترقی کے خواب دیکھنے کا ہنر پوری آب و تاب سے زندہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اسکول کے تدریسی اوقات میں دو

Read more

دیہاتی خواتین میں خود کشی کا رجحان بڑھ کیوں رہا ہے؟

دیہی علاقوں میںخواتین خود پر ہونے والے ظلم و تشدد سے اتنی عاجز آچکی ہیں کہ اب ان میں خودکشیوں کا رجحان بڑھ گیا ہے اور کئی علاقو ں میں اجتماعی خودکشیوں کے واقعات بھی پیش آچکے ہیں جن میں بعض عورتوں نے اپنے بچوں کے ساتھ کووئیں میں کود کر خوکشی کرلی۔ بعض دفعہ عورتوں کو قتل کرنے کے بعد ان کی موت کو خودکشی کا رنگ دے دیا جاتا ہے، جو پولیس تفتیش کے نتیجے میں قتل کا

Read more

انعام، جو ہم نے کھو دیا

رقص تخلیق کا اوج ہے ۔ رقص، جس کی بلند ترین سطح پر عمل اور عامل ایک ہوجاتے ہیں، رقص اور رقاص کی تفریق مٹ جاتی ہے۔ تخلیق اور تخلیق کار میں دوئی نہیں رہتی۔ یہی عمل ہمیں ہر تخلیقی صنف میں دکھائی دیتا ہے۔ ہم مائیکل اینجیلو کو ’’ڈیوڈ‘‘ میں ، ڈی ونچی کو ’’مونا لیزا‘‘ میں دیکھ سکتے ہیں۔ ’’تکبر و تعصب‘‘ میں ہمیں جین آسٹن دکھائی دیتی ہے، ’’تنہائی کے سو سال‘‘ میں مارکیز اور ’’سرخ میرا

Read more

جمہوری ثقافت میں جنسی آزادی کا کردار

کچھ عرصہ قبل مجھے گجرات یونیورسٹی میں جانے کا موقع ملا۔ دریائے چناب کے مغربی کنارے پر واقع گجرات یونیورسٹی ایک صوفی درویش حافظ حیات کی درگاہ کے احاطے میں واقع ہے۔ نشست کے اختتام پر ایک خاتون نے آگے بڑھ کر ایک سوال کیا۔ سوال میں اس قدر اخلاص تھا کہ مختصر طور پر یہی عرض کی کہ میں اپنا نقطہ نظر لکھ کر پیش کروں گا۔ سوال کرنے والی خاتون صحافت اور ابلاغیات کی استاد پروفیسر ثوبیہ عابد

Read more

تونسہ کی ایک فرض شناس اور بہادر استانی کی داستان

پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان کے قدامت پسند ماحول میں ایک بہادر خاتون ٹیچر گھر سے 27 کلومیٹر دور موٹر سائیکل چلاکر سکول جاتی ہیں، جہاں وہ قبائلی بچوں کو تعلیم دیتی ہیں،33 سالہ ماہ جبین بی بی ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ کی بستی سوکڑ کی رہائشی ہیں،انہوں نے بہاو الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ایم اے پولیٹیکل سائنس اور ایم ایڈ بھی کر رکھا ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں پر خواتین کا گھروں سے نکلنا

Read more