شہزادہ داؤد کی المناک موت کا سن کر بہت دکھ ہوا۔ جس شخصیت سے کوئی ملا ہو اس سے بات کی ہو یا اس سے کسی قسم کا تعلق ہو تو اس کی موت کا صدمہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ شہزادہ داؤد کی موت نے مجھے بہت دکھ دیا کیونکہ میں ان کی ہی فیکٹری میں ملازمت کرتا رہا ہوں اور ان سے دو چار مرتبہ مل چکا ہوں گو کہ بات کرنے کا اتفاق تو صرف ایک مرتبہ ہی ہوا تھا۔ جن لوگوں سے ان کی زیادہ ملاقات رہتی تھی ان سے تو میں نے شہزادہ صاحب کی تعریف ہی سنی ہے۔ ان کی وفات نے مجھے ماضی کی بہت سی باتیں یاد دلا دیں۔
میں نے چند ایک جگہ نوکری کرنے کے بعد داؤد ہرکولیس میں نوکری کی۔ میں نے جتنی جگہ بھی نوکری کی میں نے اپنے ادارے سے اتنی بے لوث محبت کسی دوسری جگہ نہ پائی۔ یہاں کے ملازمین اس ادارے سے عشق کرتے تھے۔ اس کی ہم عصر دوسری فیکٹریوں کے مقابلے میں کم تنخواہ کم سہولیات کے باوجود ان کے عشق میں کبھی کمی نہ آئی۔ یہ بات میرے جیسے نووارد کے لیے حیران کن تھی۔
Read more