مذہبی روادری کیسے کیسے نبھائی گئی

گرو تیغ بہادر سکھوں کے نویں گرو تھے۔ اورنگ زیب کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ ان کے حالات کے بارے میں ان کے بیٹے گرو گوبند سنگھ کا بیان سکھوں کی مذہبی مجالس میں پڑھا جاتا ہے کہ اورنگزیب عالم گیر بادشاہ وقت تھے۔ کشمیر کے ہندو پنڈتوں کو مذہبی تعصب کا نشانہ بنایا گیا۔ گرو صاحب اپنے وقت بااثر شخصیت تھے۔ پنڈت غریب مسئلہ لے کر ان کے پاس پہنچ گئے۔ گرو کہنے لگے بادشاہ سے کہہ دو ہم گرو

Read more

مدینہ منورہ کے خواجہ سرا

 میں نے دنیا میں آنکھ کھولی تو مدینہ منورہ کو زندگی کا حصّہ پایا۔ میری پیدائش سے پہلے ہی اماں اور بابا کے عشق کا رُخ مدینہ منورہ کی طرف مڑ چکا تھا۔ دونوں میں اگر کوئی قدر مشترک تھی تو وہ یہ منزل تھی، جہاں ہر سال انہیں روضہِ پاک کے سامنے جا کھڑے ہونا ہوتا تھا اور اپنے وجود کے پورے عجز و انکسار کے ساتھ سلام پیش کرنا ہوتا تھا نبیؐ جی کے حضور۔ میں کچھ دن

Read more

عمر متین اور ہم جنس پسندوں کی پوشیدہ کہانیاں

 فون کی گھنٹی بجی، "میرے ایک مریض‌ کو دیکھ لو اور دوا لکھ دو، اس کو ڈپریشن، ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور موٹاپے کی پرابلم ہے۔” میری ایک دوست کا فون تھا جو سائکولوجسٹ ہے اور اس کے پاس دوا لکھنے کا لائسنس نہیں‌ ہے۔ وہ صرف کاؤنسلنگ کرسکتی ہے۔ لیکن میں‌ تو اینڈوکرنالوجسٹ ہوں‌، سائکائٹری میں‌ ہاؤس جاب کی تھی لیکن میرے پاس سائکائٹرسٹ کا لائسنس نہیں‌ ہے۔ اگر اینٹی ڈپریسنٹ کھا کر اس لڑکے نے خود کشی کر

Read more

یورپین اور پاکستانی لڑکیوں میں کیا فرق ہے؟

”ایک یورپین لڑکی اور آپ میں کیا فرق ہے؟“ ٹرینر نے تربیت میں شریک لڑکیوں سے پوچھا۔ تھوڑی دیر کے لئے سب لڑکیوں کو چپ لگ گئی۔ یہ سوال ان کے لئے بہت غیر متوقع تھا۔ ”یورپین لڑکی ہونا“ ایک گالی سے کم نہ تھا۔ جو کچھ معاشرے کے اہم کرداروں نے ہمیں بتا رکھا ہے کوئی بھی اپنے آپ کو ایک یورپین لڑکی کہنے پر تیار نہ تھی۔ ہم نے آہستہ آہستہ اس سوال کی چیر پھاڑ کی۔ یہ

Read more

دوپٹہ لینے کے دس فائدے

زیادہ اثر کے لئے اپنے معاشرتی اور مذہبی جذبات ایک طرف رکھ کر پڑھیں۔ اس کالم کو ہر قسم کے جنونی خواتین اور حضرات سے دور رکھیں۔ دوپٹہ لینے کے مذہبی اور اخلاقی فائدوں سے بہنیں واقف ہوں گی ہی۔ لہٰذا ان فائدوں پر یہ مضمون نہیں لکھا گیا، یہ معلوماتی کالم محض "علاوہ ازیں” فائدوں پر لکھا گیا ہے۔ فائدہ نمبر 1۔ دوپٹے کا سب سے اہم اور کثرت سے استعمال باورچی خانے میں کیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں

Read more

بیکار کے شغل اور عزت کا میٹر

کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے کہ ایک دوست کا فون آیا جنہوں نے رسمی دعا سلام کے بعد جھٹ سے نہ ملنے کا شکوہ کر ڈالا، بڑے ہی مان اور لاڈ سے۔ ایک لمحے کو تو سوچ میں پڑ گئے کہ آخر پہلے بھی کون سا انہی کی گود میں براجمان رہتے تھے۔ عید بکر عید کے سوا ملاقات ہوتی ہی کتنی تھی۔ ویسے بھی قبلہ، ہماری آدم بیزاری تو اپنی مثل آپ ہی ہے۔ امید ہے کہ

Read more

میری زندگی کی دو کہانیاں

کچھ کہانیاں انسان کی پرورش اور تربیت کے دوران اس کے خون میں شامل ہو کر اس کے ساتھ ساتھ عمر کا سفر طے کرتی ہیں اور زندگی گزارنے کے ہُنر یا گُر کے طور پر ایک گہرا اثر چھوڑ جاتی ہیں۔ آج 22 جولائی کا دن میرا یومِ پیدائش لوٹ آیا ہے تو جانے کیوں مجھے دو ایسی کہانیاں یاد آ گئی ہیں جو مجھے ہمیشہ میری بنیاد کی تہوں میں پڑی ملی ہیں۔ اس طرح کی کہانیاں اب

Read more

جنید جمشید بچ گیا ماں!

جنید جمشید کی موت پر مجھے آج زہرہ نگاہ سے سنی ہوئی ایک نظم یاد آ گئی ’’میں بچ گئی ماں‘‘۔ نظم ایک ایسی بیٹی کی زبان میں کہی گئی ہے جسے پیدا ہو کر سماج کی گندگی کی نذر ہونا ہے، مگر جسے ماں اس گندگی کی نذر ہونے سے پہلے ہی اپنی کوکھ میں ضائع کر دیتی ہے۔ اب وہ ضائع ہو چکی بیٹی زہرہ نگاہ کی نظم میں کہہ رہی ہے کہ ’’میں بچ گئی ماں‘‘۔

ایسا لگ رہا ہے کہ جنید جمشید کو بھی اسے تخلیق کرنے والے نے اوپر ہی فضا کی کوکھ میں ضائع کر دیا، ہمارے ہاتھوں مزید گندا ہونے سے پہلے اور ہم ہاتھ ملتے رہ گئے اور وہ اب کہیں بیٹھا کہہ رہا ہے کہ ’’میں بچ گیا ماں‘‘۔

Read more

ملا جنید جمشید کے مرنے پر میں خوش نہیں ہوں

چترال سے آتی ہوئی پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 661 شام ساڑھے پانچ بجے اسلام آباد ایئر پورٹ میں اترنا تھی مگر چار بجے کے قریب ایبٹ آباد کے علاقے حویلیاں کے نزدیک اس کا ریڈار سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ ٹی وی نیوز کے مطابق جہاز کے کیپٹن صالح جنجوعہ کا آخری پیغام کنٹرول روم میں ‘مے ڈے’ کا سنائی دیا۔ ایویشن سے جن کا تعلق نہ بھی ہو انھیں بھی معلوم ہے کہ اس پیغام کا مطلب انتہائی خطرہ ہوتا ہے۔ اس ابتدائی خبر کے موصول ہونے کے بعد ٹی سکرینوں میں ایک آگ لگ گئی اور ہر سکرین ایک دوسرے سے پہلے گمشدہ جہاز کی قسمت کا فیصلہ ڈھونڈنے میں لگ گئی۔ ہر ٹکر اور ہر نیوز فلیش پہلے سے مزید سنسنی پھیلانے میں مصروف ہوگئی۔ شام پانچ کے ارد گرد اس بات کی تصدیق عینی شاہدین کی جانب سے موصول ہوچکی تھی کہ یہ بد قسمت طیارہ حویلیاں کے قریب بودلہ گاؤں کے نزدیک گر کر تباہ  ہوگیا ہے۔ اس میں عملے سمیت 47 لوگ شامل تھے۔

Read more

شلواریں قمیضیں بیچتا ہے تو جنید بڑا اور معتبر نام ہو گیا؟

مجھے میرے دونوں صحافی دوست کہہ رہے تھے کہ دیکھو نہ تو جنید بین الاقوامی سنگر تھا اور نہ ہی وہ عالم دین یا مولانا ہے، جیسا کہ میڈیا میں ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے۔ ایسے ہی اسے سر پر چڑھایا جا رہا ہے۔ بس یہ ہوا ہے کہ جو کل تک دین اور مذہب کو دکانداری بنانے پر جنید جمشید پر تنقید کر رہے تھے، آج وہ بھی ہوا دیکھ کر اس کی تعریف کر رہے ہیں۔

مجھے اپنے ان دونوں صحافی دوستوں سے شدید اختلاف تھا۔ میں نے کہا کہ آپ صرف یہ ماننا نہیں چاہ رہے کہ کسی داڑھی والے شخص کے اتنے زیادہ چاہنے والے ہو سکتے ہیں۔

Read more

کڑک سردیوں کی گرم یادیں

اس بار سردی نہیں آئی۔ دسمبر بھی ایسے خاموش گذر رہا جیسے بھینس بین سن رہی ہو۔ بچوں کو اب بھی سکول چھوڑنے جانا ہوتا ہے، ذرا بھی خنکی محسوس نہیں ہوتی۔ کچھا بنیان پہن کر ہی کئی کلومیٹر دور بچوں کو سکول چھوڑ آتا ہوں۔ دسمبر کو ذرا شرم نہیں آ رہی کہ ایک معزز انسان کچھا بنیان پہن کر سردار بنا پھر رہا۔ ذرا سردی ہوتی تو ہماری مجال تھی کہ ایسی بدمعاشی کرتے۔

جب خود سکول جاتے تھے تو اکثر لیٹ پہنچا کرتے تھے۔ بھائی صاحب کو اپنی جراب نہیں ملتی تھی کبھی ان کا بستہ غائب ہوتا۔ ہم سکول پہنچتے سر میسی مولا بخش پکڑ کر تیار کھڑے ہوتے۔ دو دو سوٹیاں ہاتھ پر کھا کے ہاتھ گرم ہو جاتے۔ اگر سر کا موڈ ہوتا یا ہم زیادہ لیٹ ہوتے تو دو دو سوٹیاں تشریف کو بھی سن کر دیتی تھیں۔ کرسی پر بیٹھے ہوتے پر ذرا محسوس نہ ہوتا کہ بیٹھے ہیں کوئی تشریف رکھتے ہیں۔

Read more

لندن کا سردار اور پشاوری بابا

تب کی بات ہے جب ہم ایک نیوز ویب سائٹ چلاتے تھے پشاور ون کے نام سے، آفس میں کوئی پنگا تھا اور کیس ہمارے پاس لگا ہوا تھا ایک رنگروٹ رپوٹر وہ والی ویب سائٹ دیکھتا پکڑا گیا تھا، اب سامنے سر جھکائے کھڑا تھا ابھی سماعت جاری تھی کہ ایک اور کٹا کھل گیا ہمارے ساتھی فوٹو گرافر کی فوٹو سٹوری میں آدھی فوٹو کسی اور کی اپ لوڈ ہو گئی تھیں۔ فوٹو گرافر صاب اس غم میں مرنے والے ہو چکے تھے۔

ماحول میں ہلکی گرمی تھی اور ہمیں تپ چڑھی ہوئی تھی کہ ایسے میں سیل فون کی گھنٹی بجی۔ یار گل سن میں انہاں دوناں منڈیاں نوں چھڈنا نہیں سمجھ آئی تینوں میری ساری شرافت اور مسکینی پنجابی میں بات سنتے ہی ختم ہو گئی کہ پنجابی میں بات کزن اور بھائیوں سے ہی کرنی ہوتی جدھر کسی دید لحاظ کی ضرورت نہیں پڑتی میں نے پوچھا کون بکواس کر رہا۔ وہ پھر بولا یہ دونوں بھائی میں سیدھے کر دینے۔ یہ سن کر ہم سوچ میں پڑ گئے کہ یہ میرے بھائیوں کا ذکر ہے کیا؟

سیل فون پر نمبر چیک کیا تو یو کے کا نمبر تھا۔ پوچھا کہ اپ کون؟ تو آگے سے جواب ملا سردارامیت سنگھ۔ او سردار

Read more

ہمارا اپنا عشق شکن بے ہدایت مولوی کزن

پہلی بار اس کو تب دیکھا جب چھٹیوں میں پشاور سے گاؤں جانا ہوا تھا۔ وہ میرے کزن کے ساتھ بیٹھا نقل تیار کر رہا تھا۔ تھا تو ہمارا کزن ہی لیکن فیصل آباد رہتا تھا۔ فیصل آباد کے سکول میں وہ بار بار فیل ہوتا رہا تو اس کے ابا جی نے اسے پنڈ ہی بھیج دیا۔ پنڈ میں ابھی تعلیم سائنس کے اصول پر ہی دی جاتی تھی۔ اصول سادہ سا ہی تھا کہ ہڈیاں گھر والوں کی اور بوٹیاں استاد محترم کی۔ استاد کا مولابخش بندے کی بوٹیاں تو اڑاتا ہی تھا مگر ہڈیاں بھی اکثر استاد ہی توڑا کرتا تھا۔

Read more

ٹرانس جینڈر اور شائزوفرینیا

جس بات کو ہمارا دماغ نہ جانتا ہو، اس بات کو ہماری آنکھیں‌ نہیں‌ دیکھ سکتی ہیں۔ جن لوگوں‌ نے میڈیکل کالج میں‌ ریڈیالوجی کی کلاس لی ہوئی ہے یا میرج آف آرنلفینی کی مشہور پینٹنگ دیکھ رکھی ہے وہ سمجھ سکتے ہیں کہ ہمیں‌ پیتھالوجی ایکس رے یا سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی میں‌ تبھی دکھائی دے گی جب ہم اسے سیکھ لیں‌ گے۔ پینٹنگ بھی آپ خود دیکھیں‌ اور سیکھیں‌ کہ اس کو کیسے دیکھنا ہے۔

Read more

میاں بیوی کے”مثالی” تعلقات اور عالمی سفارت کاری

میرے ایک دوست نے اپنے جاننے والے کا ایک شاہکار واقعہ سنایا۔ ایک محفل میں گھریلو ماحول کی بہتری اور میاں بیوی کے درمیان ہم آہنگی کے حوالے سے بات چیت ہو رہی تھی۔ صاحب کا دعوی تھا کہ اس کے گھریلو تعلقات انتہائی مثالی ہیں۔ کبھی جھگڑا نہیں ہوا۔ کبھی اختلاف نہیں ہوا۔ غصہ ناراضگی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بس ہم میاں بیوی ایک چھوٹے سے اصول پر عمل کرتے ہیں۔ ہر کوئی چونک کر رہ

Read more

اولاد کی تربیت کے لیے وقت نکالنا ضروری ہے

عائشہ سعدیہ ایک لطیفہ پڑھا تھا: میاں بیوِی میں شدید اختلاف کے باوجود بچوں کی مسلسل پیدائش بھی مشرقی روایات کی خوبصورتی ہے۔ اس پہ بہت ہنسا جا سکتا ہے، پر مجھے اسے پڑھ کر رونا بھی بہت آتا ہے، یہ ایک لطیفہ سہی پر اس میں پوری ایک داستان موجود ہے۔ جیسے ایک آرکیٹیکچر کو کورا کاغذ دے کر کہا جاتا ہے اس پہ وہ نمونہ بناؤ کہ جب وہ زمین پہ وجود میں آئے تو دنیا عش عش

Read more

پارکنگ کے بڑھتے مسائل

کچھ عرصہ قبل پارکنگ کے بڑھتے مسائل پر چند گذارشات کیں تو کافی دوستوں نے دلچسپی بھی ظاہر کی اور سوالات بھی اٹھائے۔ کچھ احباب کا کہنا تھا کہ گنجان آبادی کی وجہ سے ان مسائل کا سامنا ساری دنیا کو ہے اور تمام بڑے شہروں میں اس طرح کے مسائل ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساری دنیا میں پارکنگ کے مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور خصوصاً بڑے شہروں کے

Read more

سارے موسم من کے موسم 

کچھ لوگوں کے نزدیک باہر کے موسم کا اندر کے موسم سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اندر کا موسم تب خوش گوار ہو گا جب باہر کا موسم دل فریب اور حسین ہو گا لیکن میرے نزدیک حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سارے موسم من کے موسم ہوتے ہیں۔ موسم تو انسان کے اندر اس کلی سے پھوٹتا ہے جو وجود قلب میں پیوست ہوتی ہے۔ بظاہر موسمی بارش انسان کے من کے اندر خوشی کے شادیانے نہیں بجا سکتی

Read more

شادی کو غیر ضروری رسموں سے آزاد کرنا چاہئے

شادی یوں تو زندگی کا ایک بہت حسین پہلو ہے اور فطرت انسانی ہے۔ شادی نام ہے مسرت کا۔ ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد کا گھر بس جائے اور وہ خوش و خرم رہے۔ مگر کچھ ہمارے اندر کے احساس کمتری نے اور کچھ معاشرے کی روش نے اس خوبصورت فریضے کو ایک بوجھ بنا دیا ہے۔ نکاح ماں با پ کا اپنی اولاد کے لئے ایک اہم فریضہ اور سنت چاہے کوئی سی بھی

Read more

رباب کے بول اور نیلے گدھے کا سچ

لوک گیتوں کے ساتھ رباب کی دھیمی دھن من کے پیالے میں شہد کی حلاوت گھول دیتی ہے۔ دھیمے سرتال میں سارنگ چرواہے کا وہ نغمہ آج بھی لفظ بہ لفظ یاد ہے جو رگوں میں دوڑنے والے خون کو میٹھا شہد بنا دیتا تھا۔ سارنگ رباب کے آخری تار پر انگلی یوں ہی بے خیالی میں ہلاتا اور پھر دھمیے سر میں نغمہ اٹھاتا۔ کہا اس دلربا نے۔ اس دل خانہ خراب میں اک انجان سی کسک ہے۔ میں

Read more

عالم برزخ سے قندیل بلوچ کا خط

میں یہاں بہت خوش ہوں۔ یہاں کا موسم بے حد خوشگوار ہے۔ ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں۔ سبزہ ہی سبزہ پھول ہی پھول۔ جدھر نگاہ اٹھاؤ قدرت کے حسین نظارے۔ ایسا لاجواب سماں کہ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی۔ تصویروں میں سوئٹزر لینڈ بالکل ایسا ہی دکھائی دیتا تھا۔ اونچے اونچے پہاڑ اور درمیان میں ہری بھری وادی۔ میرے دائیں جانب ایک آبشار ہے اور بائیں جانب ایک جھرنا۔ یہاں بیٹھ کر آپ کو خط لکھنے کا بہت مزا آرہا

Read more

سرد رت کی بارش اور مضافات کا دُکھ

’ سردیوں کی نہایت مدہم رفتار سے رِم جھم بارش ۔ انسان اندر ہی اندر سکڑتا چلا جاتا ہے ۔ گرم لحاف میں لپٹے لپٹے پرانے زخموں کے ٹانکے کھلنے لگتے ہیں ۔ یادوں کے عطر دان سے خوشبو کے مرغولے اٹھتے ہیں اور چار سُو پھیلتے چلے جاتے ہیں ۔ باہر برستی بارش کھڑکی کا کوئی دریچہ کھول کر اندر آ جاتی ہے اور دل کے دالان میں بھی رم جھم شروع ہو جاتی ہے‘ ….یہ جناب عرفان صدیقی

Read more

بڑے انسان اور گھن چکر لوگ

خواب ہر کسی کے ہوتے ہیں۔ کسی کے خواب بڑے ہوتے ہیں۔ کوئی سوچتا ہے کہ وہ بڑے ہو کے دنیا فتح کر لے گا۔ کوئی سوچتا ہے وہ وہ سب کچھ کرے گا جو اس کے ماں باپ نہ کر سکے۔ کوئی اپنی قسمت سے دور بھاگنا چاہتا ہے۔ تو کوئی چاہتا ہے کہ ماں باپ جیسا ہی بن جائے۔ ماں باپ جیسی ہی زندگی بنا لے تو وہ کامیاب ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ ہم سب میں

Read more

اجی ریپ، شادی اور زنا بالرضا میں آخر فرق ہی کیا ہے؟

یہ جو نیا فساد ڈالا دیا ہے ناں ان بے غیرت، کافر سازشیوں نے عورت کی مرضی والا، اس سے ساری گڑبڑ ہو گئی ہے۔ ورنہ ہم مرد تو عورت پر شادی کا احسان دھرتے ہوئے بہت باریکیوں میں نہیں جاتے تھے۔ دلہن کی عمر کیا ہے؟ دولہا کی عمر کیا ہے؟ کیا وہ ایک دوسرے کو جانتے ہیں؟ کیا وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں؟ کیا عورت شادی پر راضی ہے؟ شادی کرنا بھی چاہتی ہے یا نہیں؟

Read more

پردہ از مولانا مودودی اور مسلم عورت کی حالتِ زار

’کراچی یونیورسٹی میں کرکٹ کھیلتی لڑکیوں پر ایک طلبا تنظیم کا حملہ۔ بلّوں سے پٹائی‘ ’پی ٹی آئی کے جلسے میں خواتین سے بدتمیزی اور دست درازی کے متعدد واقعات۔ نوجوانوں میں گھری ہراساں لڑکی کی وڈیو جاری‘ ’انگلستان میں پاکستانی نژاد ڈاکٹر کا بالغ بیٹی پر تشدد، لائسنس معطل‘ ’حاملہ عورت کو سگے بھائیوں اور باپ نے لاہور ہائی کورٹ کے پر ہجوم احاطے میں اینٹیں مار مار کر ہلاک کردیا۔ پولیس سیمت سینکڑوں افراد خاموش تماشائی بنے رہے‘

Read more

میں کسی کی ایجنٹ نہیں تھی

یاد کرتی ہوں کہ سب سے پہلے مجھے ایجنٹ کس نے کہا تھا۔ میں لندن میں تھی اور بی بی سی میں کام کرتی تھی۔ ایک رات پہلے مشرقی بنگال میں آرمی ایکشن ہوا تھا۔ اور دل پر چھری چل گئی تھی۔ بی بی سی کی بنگالی سروس کے تمام ارکان ایمرجنسی میٹنگ کرنے کامن ویلتھ انسٹیٹیوٹ جارہے تھے۔ لپک جھپک میں نے ان کے ساتھ ہونا چاہا۔ ’’نہیں ہمارے نام پر یہ سب نہیں ہوگا۔‘‘ میں نے کہا۔ انہوں

Read more

ایک بار محبت کر کے تو دیکھو!

عرصہ ہوا کا فکا کی کہانی کایا کلپ پڑھی تھی۔ اس میں ایک ایسے شخص کا قصہ ہے جو ایک صبح سو کے اٹھتا ہے تو خود کو انسان کی بجائے ایک بڑے سے کیڑے میں تبدیل پاتا ہے۔ پہلے تو اس کایا کلپ کو وہ خود بھی نہیں سمجھ پاتا اس کے لیے سب کچھ بدل جاتا ہے ہر چیز ہر بات کے معنی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ وہ حیران ہوتا ہے اور خود کو بے بس محسوس کرتا

Read more

خوشبو کی ٹائم مشین

آج ایک پرانا اشتہار نظر سے گذرا جس میں ایک خاتون کالے لباس میں ملبوس فرما رہی ہوتی ہیں کہ“ لوگ مجھ سے ہمیشہ پوچھتے ہیں کون سا پرفیوم لگایا ہے“۔ پھر نہایت رازداری سے ماحول بنا کر گویا ہوتی ہیں، ”میرا جواب ہر دفعہ یہی ہوتا ہے، پرفیوم نہیں بلیک کیٹ ٹیلکم پاوڈر“۔ سننے میں تو نہیں آیا لیکن مجھے امید ہے ادارہ تحفظ بلیات نے یقینا اس پر خوشی کا اظہار کیا ہو گا کہ کسی نے ہمارے

Read more

پاکستانی شناختی بحران کے تین حوالے

وطنِ عزیز کو شناختی بحران کا سامنا پیدائش سے ہی رہا۔ جناح اور ان کے ساتھ کام کرنے والوں کے ذہنوں میں شناخت کے حوالہ جات کافی واضح تھے۔ مطالعہ پاکستان، اسلامیات اور نسیم حجازی کے علاوہ، قدرت اللہ شہاب، اشفاق احمد اور دیگران کی تحاریر میں موجود ”تاریخ“ سے متاثرہ شاید جانتے ہی نہ ہوں کہ پاکستان کو اسلامی جمہوریہ جناب جنرل ایوب خان صاحب نے بنایا۔ محترم فیلڈ مارشل کے مارشل لاء سے قبل، پاکستان میں اسلام بھی

Read more

پنجابی بزدل نہیں اور پٹھان چور نہیں

بھائی صاحب۔ عرض یہ ہے کہ لفظ پنجابی، بلوچ، سندھی، پٹھان اور اس قبیل کے دیگر الفاظ کو ہمارے ہاں بہت سطحی انداز میں مجموعی تناظر میں غلط اور ایک دوسرے سے کم تر اور برتر کے معنوں میں برتا جاتا ہے اس لئے چند باتوں کی تفصیل جان لینا ضروری ہے۔ آپ کو شاید معلوم ہو گا کہ اس ملک میں دس کروڑ سے زیادہ لوگ ناخواندہ ہیں۔ کثیر ثقاقتی تناظر میں رویے ناخواندگی میں پروان چڑھتے ہیں۔ ناخواندہ

Read more

بندر، جگنو اور سماجی اقدار کی مسخ شدہ لاش کا نوحہ

’’سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے۔ ‘‘کیا ہوتا ہے؟ اور کیوں ہوتا ہے؟ یہ ہم سے بہتر اور کون جانتا ہو گا؟ یقین نہ آئے تو ایرانی افسانہ نگار ’’جمال میر صادقی‘‘ کا فارسی افسانہ ’’بوزینہ ہاؤ کرم شب تاب‘‘ (جس کا ترجمہ ڈاکٹر معین نظامی نے ’’بندر اور جگنو‘‘ کے نام سے کیا ہے) پڑھ کر دیکھ لیجیے۔ یہاں آپ کو جنگل اور اپنے سماج میں اگر کہیں مشابہت نظر آئے تو اس میں قصور نہ

Read more

’ایڈلٹری‘ اب جرم نہیں، اب عورت مرد کی ملکیت متصور نہیں ہوگی

بھارت کی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے جمعرات کے روز ایک متفقہ فیصلے میں یہ قرار دیا ہے کہ ‘ایڈلٹری’ یعنی ’’شادی شدہ افراد کا غیر ازدواجی جنسی تعلق‘‘ جرم نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر اس فیصلے کو صارفین تاریخی قرار دے رہے ہیں, اور فیصلے کو تحسین کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ معروف بھارتی صحافی سدھانند دھومے نے لکھا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دینے کے محض تین

Read more

معاشرتی دباؤ کا انتخاب کون کرتا ہے؟

میں بچپن سے اس کھوج میں ہوں کہ معاشرتی دباؤ کا انتخاب معاشرہ کن بنیادوں پر کرتا ہے اور آخر کون ان بنیادوں کا تعین کرتا ہے؟ بس میں روزانہ ہزاروں لڑکیاں کنڈیکٹر سے لے کر مسافر تک سب کی نگاہ عذاب کو جھیلتی ہیں۔ کوئی معاشرتی دباؤ ان کے دفاع کو نہیں آتا۔ کراچی یونیورسٹی کے پبلک ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے ریسرچ کی ہے کہ %55 خواتین اور بچیاں پبلک ٹرانسپورٹ میں ہراساں کی جاتی ہیں۔ در حقیقت یہ اعزاز

Read more

صالح خان ترین مغرب کی اخلاقی بے راہ روی سے بیزار کیوں ہوئے؟

ہم ٹہلتے ٹہلتے بھائی صالح خان ترین کے گھر کے سامنے سے گزرے تو دیکھا کہ وہ اپنے فون کو ٹکٹکی جما کر دیکھ رہے ہیں اور پریشانی کے آثار چہرے سے ہویدا ہیں۔ سانسیں تیز چل رہی ہیں، چہرہ سرخ ہے اور اس پر پسینے کے قطرے نمایاں ہیں۔ ہم نے دروازے پر دستک دے کر ان کو متوجہ کیا اور اندر داخل ہو گئے۔ انہوں نے پھرتی سے فون بند کیا اور ہمیں اپنے قریب پڑی کرسی پر

Read more

کھل نائیک: شباب، شراب، اور کباب

یہ نوجوانی میں دیکھی ایک فلم ہے۔ فلم کا نام تو یاد نہیں، لیکن ایک شاٹ یاد ہے، کہ مصطفے قریشی کے سامنے شراب کا گلاس دھرا ہے، اور وہ اسے خباثت بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ اسی ایک شاٹ سے ہدایت کار نے یہ واضح کر دیا، کہ یہ صاحب کھل نائیک ہیں۔ ولن ہیں۔۔۔ فلم، ریڈیو، ٹی وی، تھیٹر کے لیے کردار نگاری اہم ”جاب“ ہے۔ جب ایک مصنف کسی کردار کو لکھتا ہے، تو ہدایت کار،

Read more

روحانی بابوں کی تلاش میں ہم پہ جو گزری۔۔۔

بابوں اور روحانیت کے بارے میں کیا لکھا جائے، سب کچھ تو شہاب، اشفاق احمد، واصف علی واصف، ممتاز مفتی، بانو قدسیہ، بابا یحیی لکھ چکے ہیں۔ رہی سہی کسر جاوید چوہدری، اوریا مقبول جان، صفدر محمود، ہارون رشید، عطاءالحق قاسمی، اور بیشتر اردو کالم نگار وقتاً فوقتاً پوری کرتے رہتے ہیں۔ اور ان سب لوگوں کی باتوں کو ناکافی سمجھتے ہوئے بابوں نے خود بھی میدان میں اتر کر کتابیں شائع کرنا شروع کر دی ہیں۔ میرے خیال سے

Read more

گول روٹی نہ پکانے والی انیقہ خالد کا جنت سے اپنے والد کے نام خط

میرے پیارے بابا یہاں وقت کا پتہ نہیں لگتا پر سنا ہے ایک سال گذر گیا ہے۔ پر میں ایک پل کو بھی اس دن کو بھولی نہیں ہوں۔ پتہ ہے اس دن میں بہت خوش تھی کہ آج میں اپنے بابا کو اپنے ہاتھ سے روٹی بنا کر کھلاؤں گی اور مجھے اس بات کا یقین بھی تھا کہ آپ میری اس کوشش کی بہت تعریف کریں گے، میرے ماتھے کو بوسہ دیں گے، میرے ہاتھوں کو پکڑ کر

Read more

سنو! میرا لباس تمہارا مسئلہ نہیں

میرا تعلق پاکستان کے سب سے زیادہ ترقی پزیر صوبے کے ایک پسماندہ ترین علاقے سے ہے۔ صوبہ بلوچستان کا علاقہ ڈیرہ بگٹی۔ کراچی آنے کا مقصد اعلیٰ تعلیم کا حصول اور بہتر مستقبل کی تلاش تھی۔ دنیا کے تمام شعبوں میں سے میں نے صحافت جیسے مشکل شعبے کا انتخاب کیا۔ یہاں میں ایک نجی ادارے میں زیر تعلیم ہوں اور صحافت کے رموز سے واقفیت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہوں۔ آج ہی ہمیں یہاں باور کروایا گیا

Read more

بھوک انسان کی سب سے بڑی مجبوری

چار بجتے ہی آفس میں جیسے ہر طرف افرا تفری سی مچ جاتی ہے۔ چھٹی ہوتے ہی ہر کوئی اپنی چیزیں بھی سمیٹنے کی زحمت نہیں کرتا اور بھاگ نکلتا ہے۔ میں بھی ہر روز کی طرح سب کے ساتھ ہی چھٹی ہوتے ہی سامان سمیٹے بغیر باہر نکل گئی۔ رکشہ والا پندرہ منٹ سے کھڑا مجھے کوس رہا تھا۔ پندرہ منٹ میں کئی بار فون کر چکا تھا۔ خیر اللہ اللہ کر کے جب لفٹ سے باہر نکلی تو

Read more

ہمارا نیا کاروبار، فتوی اینڈ کو

یوں تو ہم اپنے بلاگ پر آنے والی تنقید پر بے نیاز رہتے ہیں۔ اپنے ہر لفظ کو قسمت کا لکھا جانتے ہیں۔ خود کو ہر لکھائی پر قادر جانتے ہیں۔ تعریف کو ہمیشہ سچ جانتے ہیں۔ لیکن پچھلے بلاگ پر ایک کمنٹ ایسا آیا کہ ہم بھی ذرا شش و پنج میں مبتلا ہو گئے۔ تحریر میں مدرز ڈے کو کاروبار بنانے کی مذمت کی تھی کہ علی وارثی نے جھٹ کمنٹ کر دیا۔ ‘کیوں بھئی؟ کاروبار میں کیا

Read more