کیا طاقت کا سرچشمہ دولت ہے؟

جدید ٹکنالوجی اور کتاب کا آپس میں رشتہ جوڑنے کے لیے ہم چند احباب نے فیصلہ کیا ہے کہ انفرادی طور پر کتاب پڑھنے کے بجائے ”زوم“ کے ذریعے محفل سجا کر اجتماعی طور پر کتابیں پڑھی جائیں اور ان پر سنجیدہ گفتگوہ بھی کی جائے۔ یعنی جو روایتی ”بک کلب“ ہوا کرتا تھا، اس کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آن لائن کر دیا جائے۔ اس عمل کی بیک وقت کئی برکات ہیں۔ اس سے کتاب پڑھنے، پرانے سماجی تعلقات بحال کرنے، یا نئے سماجی تعلق قائم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کی راہ نکلتی ہے۔

Read more

کلیمان بے تجلی، مسیحان بے صلیب

”کلیم بے تجلی“ اور ”مسیح بے صلیب“ کی تراکیب علامہ اقبال نے کارل مارکس کے لئے استعمال کی ہیں۔ علامہ کا اشارہ غالباً اس حقیقت کی طرف ہے کہ اشتراکیت کا یہ بانی مفکر ”داس کپیتال“ کی صورت میں ایک ایسا نسخہ پیش کرنے میں کامیاب ہوا جس پر اشتراکیت کا پورا قصر تعمیر ہوا۔ کئی ایک جدلیاتی فلاسفہ نے مارکس ہی کے فکر سے متاثر ہو کر کئی ایک ممالک میں اشتراکیت کی تخم ریزی کی۔ چوں کہ اس

Read more

ڈارون سے دریدا تک

ہم انسان جب بھی کوئی فعل سرانجام دیتے ہیں تو ہمارے پیش نظر ایک مقصد ہوتا ہے۔ سماج ایسے ہی تشکیل پاتے ہیں۔ قانون اور آئین بنانا، اس کے نفاذ کے لیے ادارے تشکیل دینا، نظریات قائم کرنا، عمارتیں بنانا، ادبی فن پارے تخلیق کرنا یعنی کہ ہر فعل میں کسی نہ کسی مقصد کی موجودگی پائی جاتی ہے۔ گویا جینیاتی سطح پر بے مقصد اور اتفاقی تبدیلیوں نے بالآخر ایسے جاندار تشکیل دیے ہیں جو با مقصد افعال سرانجام دیتے ہیں۔ انسان میں مقصد یا معنی کی قوت کی موجودگی ہی نے مختلف متھالوجی، مذاہب اور نظریات و ادبیات کو تشکیل دیا ہے۔

Read more

پنجاب دشمنی: دلیل مگر لازم ہے

اختلاف رائے رحمت ہے؛ دلیل مگر لازم ہے۔ بغض معاویہ میں کسی کے خلاف زہر اگلنے کو وتیرہ بنا لینا، ثابت کرتا ہے کہ’’ مجھےتو اور کوئی کام بھی نہیں آتا‘‘…… ہمارے ایک محترم، جن کی ادب دوستی کی میں دل سے قدر کرتا ہوں، بسا اوقات ایسی باتیں کر جاتے ہیں، جن سے تعصب کا تعفن ساری فضا کو مکدر کر کے رکھ دیتا ہے۔ میرے فاضل دوست نے اپنی گزشتہ ’’نثری ہجو‘‘ میں پنجاب کے بارے میں انہی

Read more

باتیں قاضی جاوید کی

پاکستان کے ممتاز فلسفی، ادیب اور مترجم قاضی جاوید  14 نومبر  2020کو انتقال کر گئے۔  زیر نظر انٹرویو چند برس قبل لیا گیا تھا۔ سابق گورنر جنرل پاکستان، ملک غلام محمد کی برائیاں تو ہم سنتے اور پڑھتے ہی رہتے ہیں۔ کیا مضائقہ ہے، آج اگر ان کے ایک نیک کام کا ذکر ہو جائے، جس کا جیتا جاگتا ثبوت لاہور میں ادارہ ثقافت اسلامیہ کی صورت میں موجود ہے، اس کے قائم ہونے میں ان کا رسوخ کام آیا

Read more

انقلاب کیسے آتا ہے؟

مارکسزم انقلاب کی پہلی جامع نظریاتی دستاویز ہے۔ جس کا عملی اظہار روس میں ولایمیرلینن کی قیادت میں ہوا۔ لینن ازم کارل مارکس کے فلسفہ انقلاب کی عملی تعبیر ہے۔ چی گویرا انقلاب کے لافانی ہیرو ہیں۔ دنیا میں آج بھی سب سے زیادہ پرنٹ ہونے والی تصویر چی گویرا کی ہے۔ جس کا واضح مطلب ہے کہ چی گویرا کی انقلابی جدوجہد قبولیت کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔ دوسرا نام بھگت سنگھ شہید کا ہے جو جنگ آزادی

Read more

مارک ٹوین کے نام ایک خط

بصیرت سے شاداب آنکھیں، ہونٹوں پر گھنی مونچھوں کا چھجہ اور تفکر میں ڈوبا وجہیہ چہرہ ایک ایسے مزاح نگار کا پتہ دیتے ہیں، جس نے جیفری چاسر، جوناتھن سوفٹ، اور ایلگزانڈر پوپ کی طنز و مزاح کی روایت کو نئے رنگوں سے سرشار کیا اور امریکی ادب میں ظرافت کی صنف کو رفعت عطا کی۔ بلاشبہ آپ نے خیال کی وارفتگی، تمثیل کی اوٹ، مزاح کی چٹک و طنز کی چوٹ سے انسانوں کو چاک گریباں کی زحمت دی

Read more

منجھلے بھائی جان کی صحافت

ناصر نے لکھا تھا۔ ’خیال آ گیا مانوس رہ گزاروں کا / پلٹ کے آ گئے منزل سے تیرے دیوانے‘۔ ارے، پلٹ کے کدھر سے آتے، کہیں گئے ہی نہیں۔ ابھی کل ہی کی تو بات ہے۔ اپریل 1949 ءمیں سول اینڈ ملٹری گزٹ نے ایک خبر شائع کی۔ حکومت نے پرزور تردید کی اور پھر صحافت کے جملہ منجھلے بھائی جان رواں ہو گئے۔ غداری کے الزامات میں تتر بتر ایسی مہم چلی کہ 6 مئی 1949 کو مغربی

Read more

پی ڈی ایم کا جلسہ لاہور اور محمود اچکزئی کی آدھی بات

پی ڈی ایم کے جلسوں کی جس سیریز کا آغاز گجرانوالہ سے ہوا تھا اختتام اس کا 13 دسمبر کو لاہور میں ہوا۔ جلسے کے بعد وہ ہی ہر بار کی طرح حکومت اور اپوزیشن میں روایتی طنزیہ جملے سننے اور دیکھنے کو ملے۔ جن کابنیادی نکتہ ایک مشہور بھارتی فلم کا مکالمہ ”کتنے آدمی تھے؟“ رہا۔ حکومت جلسے کو ناکام ترین کہتی رہی اور پی ڈی ایم کامیاب ترین۔ حکومت کی جانب سے وزیر اعظم پاکستان سے لے کر

Read more

سرمائے کو مراعات اور مزدور؟

دو ہفتے قبل وزیراعظم عمران خان نے فیصل آباد کا دورہ کیا جہاں انہوں نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس کے زیر انتظام ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے ایوب خان کی پالیسی کو سراہا اور ذوالفقار علی بھٹو کی صنعتیں قومیانے کے عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سرمایہ کاروں کو یہ نوید بھی سنادی کہ وہ پیسہ لگائیں اور ڈریں نہیں۔ اس موقع پر انہوں نے سرمایہ کاروں کو امپورٹ ڈیوٹی میں

Read more

Existential Security And Decline Of Religion

A growing number of people in today’s world no longer consider religion as a source of support and meaning in their lives. This new-old thought has prevailed mostly in the inhabitants of affluent and developing countries, who have access to safe environments. Most of this includes the younger generation.
Be that as it may; it comes to a factual fact that this decline in religion happened because of scientific knowledge and modern technology. Scholars like Karl Marx, Max Weber, and Emile Durkheim had once also predicted that the spread of scientific knowledge would banish religions for the world.
Read more: Existential Security And Decline Of Religion

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل سے چند سخت مذہبی اور روحانی سوالات

محمد جنید: ڈاکٹر صاحب! میرا نام محمد جنید ہے۔ میں آپ کے کالم دو سال سے متواتر پڑھ رہا ہوں۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ اگر آپ برا نہ مانیں تو میں آپ سے ایسے موضوعات پر چند سخت سوالات کرنا چاہتا ہوں جن سے آپ کترا کر نکل جاتے ہیں؟

خالد سہیل: مجھے خوشی ہوئی کہ آپ مجھ پر اتنا اعتماد اور اعتبار کر رہے ہیں۔ سخت سوال پوچھیے میں جواب دینے کی عاجزانہ ’طالب علمانہ اور درویشانہ کوشش کروں گا۔

محمد جنید: سوال پوچھنے سے پہلے یہ کہتا چلوں کہ یہ سوال صرف میرے ذہن میں نہیں آپ کے ’ہم سب‘ کے بہت سے قارئین کے ذہنوں میں بھی آتے رہتے ہیں؟ آپ یہ بتائیں کہ آپ اسلام کے موضوع پر کیوں نہیں لکھتے؟

Read more

انقلاب اسلامی کے متعلق جیمز ڈیوس کا نظریہ

گزشتہ تحریروں میں ہم نے مختلف مقامات پر کارل مارکس کے نظریہ انقلاب کو اشارتاً بیان کیا ہے جس کے مطابق کسی بھی معاشرے کے اندر رونما ہونے والی سیاسی و اجتماعی تبدیلیوں کی وجہ صرف اور صرف اقتصادپر مبنی ہوتی ہے۔ معاشرے کے اندر اقتصادی بدحالی خودکار طریقے سے طبیعی طور پر مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی انقلاب کو جنم دیتی ہے جس کے لیے کسی منظم آئیڈیالوجی یا رہبری کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ کارل مارکس کے نظریے

Read more

سمیرا گمال: نیل کی ساحرہ

یہ سمیرا گمال ہیں۔ (اہل مصر جمال کو گمال بولتے ہیں۔) اس میں تو کوئی شک نہیں تھا کہ ان کے انگ انگ سے جمال پھوٹ رہا تھا وہ نام نہ بھی بتاتے تو ان کی شخصیت خود اس امر کی غماض تھی۔ بلبل صاحب نے ان کا تعارف کراتے ہوئے کہا عالم عرب کی مشہور بیلے ڈانسر سمیرا گمال جن کا رقص دیکھنے کو ایک دنیا امڈ پڑتی ہے یہ نیل کی بیٹی ہیں۔ میں نے ان کے سراپا

Read more

انقلاب اسلامی کے بارے میں تھیڈا سکافل کا نظریہ

انقلاب ایک اجتماعی روئیداد ہے اور کسی بھی انقلاب کو سمجھنے کے لیے لازمی ہے کہ اس کو قوانین علوم اجتماعی کی روشنی میں پڑھا اور پڑھایا جائے۔ علمی ماحول نہ ہونے کی وجہ سے دنیا میں وقوع پذیر ہونے والی اہم ترین سیاسی و سماجی تبدیلیاں ہمارے ہاں آ کر اپنی اصلی اہمیت کھو دیتی ہیں۔ اگر خوش قسمتی سے کسی اجتماعی روئیداد کو بہت زیادہ توجہ مل بھی جائے تو اس کا دائرہ چند واقعات تک ہی محدود

Read more

خواتین کالم نگاروں میں زاہدہ حناکا مقام

صحافیانہ نقطہ نظر سے کالم سے مراد وہ تحریر ہوتی ہے جو کوئی لکھاری کسی بھی اخبار کے اداراتی صفحہ پر یا کسی اور صفحہ پر حالات حاضرہ، سیاست، معیشت، معاشرت، ادب، کتاب و صاحب کتاب، شاعر ادیب اور دیگر موضوعات پر مختصر تجزیہ کسی بھی ایک عنوان کے تحت قلم بند کرے۔ اس طرح کی تحریر لکھنے والا کالم نگار کہلاتا ہے۔ لمحہ موجود میں کالم کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ معروف ادیب و کالم نگار زاہدہ حنا نے اپنے کالم ”کے ایل ایف: کالم اور کالم نگار“ میں لکھا کہ ”کالموں کو جمہوری دنیا میں نہایت اہمیت دی جاتی ہے اور وہاں کے حکمران اپنے اپنے ملکوں کے اہم کالم نگاروں کو پڑھتے ہیں تاکہ اپنی پالیسیاں بنانے میں ان کی رائے کو مد نظر رکھیں کیونکہ وہ ان کی تحریروں کو زبان خلق، تصور کرتے ہیں“ ۔

اردو میں کالم نگاری کی ابتدا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 1877 ء میں اس وقت ہوئی جب ہندوستان سے سجاد حسین کی ادارت میں اخبار ”اودھ پنچ“ جاری کیا گیا۔ وہی اس کے مدیر اعلیٰ تھے۔ سجاد حسین نے اس اخبار میں فکاہیہ کالم لکھنا شروع کیے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ اردو میں کچھ فارسی کی ملاوٹ سے 1731 ء میں جعفر زٹلی نے طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے طرز پر فکاہیہ کالم لکھے۔ منشی سجاد کے علاوہ کالم نگاری کرنے والوں میں تربھون ناتھ ہجر، رتن ناتھ سرشار، مچھو بیگ، ستم ظریف، جوالا پرشاد برق، نواب سید محمد آزاد، منشی علی احمد شوق اور اکبر الہ آبادی شامل تھے۔

Read more

جاگ پنجابی جاگ

استاذی پروفیسر خالد سعید اور برادرم ڈاکٹر اختر علی سید کی ہدایت پر درویش 7 اور 8 نومبر کو ملتان لٹریری فیسٹیول میں شریک ہوا۔ استاذ الاساتذہ ڈاکٹر انوار احمد کی ہم نشینی سے سرفراز ہوا۔ ڈاکٹر مقبول گیلانی اور عزیزم علی نقوی کی دلدار میزبانی سے لطف اٹھایا۔ کشور ملتان میں رضی الدین رضی، شاکر حسین شاکر، قمر رضا شہزاد اور نوازش علی ندیم بندہ عاجز کے قدیمی مہربان ہیں، چشم گستاخ نے محبت اور علم کے ان نایاب

Read more

جیسے عوام ویسے حکمران کا کلیہ کیا ہے؟

ہمارے ہاں آج کچھ لوگوں کو یہ بات پسند نہیں کہ حکمران دراصل عوام کا پرتو ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بات بڑی حد تک درست ہے۔ تاریخی تجربہ یہ ہے کہ قوموں پر عموماً ویسے ہی حکمران مسلط ہوتے ہیں، جیسی قومیں خود ہوتی ہیں۔ ماضی میں میں شاید اس اصول پر کچھ اعتراض کیا جا سکتا ہو، مگر دنیا میں جوں جوں جمہوریت کا رواج بڑھتا گیا توں توں اس بات پر پر یقین بڑھتا گیا کہ ”جیسے عوام ویسے حکمران“ والی بات درست ہے۔

اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ جہاں سچی جمہوریت نہیں ہوتی وہاں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عوام پر جو حکمران مسلط ہوتے ہیں وہ سوچوں اور خیالات کے اعتبار سے عوام کے بالکل برعکس بھی ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں اس کی ایک مثال مارشل لاز اور اس کے نتیجے میں اقتدار پر قابض ہونے والے حکمران رہے ہیں۔ مارشل لا کے علاوہ بھی پاکستان کے عوام بار بار اس تجربے سے گزرے ہیں، اس لیے وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ عالمی سطح پر اس کی ایک بڑی مثال نازی جرمنی اور ہٹلر کی ہے۔

Read more

فرائڈ اور تحلیل نفسی انسانی نفسیات کے راز : قسط نمبر 2

سگمنڈ فرائڈ کے ایک مریض نے اپنے نفسیاتی علاج کے دوران انہیں اپنا ایک خواب سنایا۔ کہنے لگا ’میں نے خواب میں ایک کتا دیکھا۔ میں نے جب اسے ٹھوکر ماری اور اس نے منہ موڑا تو مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ اس کتے کا سر ایک انسان کا سر تھا اور وہ انسان میرا باپ تھا‘

فرائڈ نے اس مریض کی تحلیل نفسی کے دوران اسے بتایا کہ اس کے لاشعور میں اپنے والد کے بارے میں غصے نفرت اور تلخی کے جذبات پوشیدہ ہیں۔ جب وہ انہیں جاگتے ہوئے سوچتا ہے تو وہ احساس گناہ کا شکار ہو جاتا ہے کیونکہ اسے یہ سکھایا گیا تھا کہ بیٹے کو باپ کا احترام کرنا چاہیے۔ علاج کے دوران مریض نے فرائڈ کو بتایا کہ اس کا باپ ایک ظالم اور جابر باپ تھا اور بچپن سے اسے مارتا پیٹتا تھا جس کی وجہ سے بیٹے کے دل میں باپ کے لیے نفرت کے جذبات پنپتے رہے لیکن چونکہ اسے ان جذبات کے اظہار کا موقع نہ ملا اس لیے اس نے انہیں اپنے لاشعور میں دھکیل دیا اور وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو گیا۔ تحلیل نفسی کے دوران وہ جذبات دوبارہ شعور کی سطح پر آئے اور اسے تھیراپی میں ان کے اظہار کا موقع ملا۔ اس طرح اس مریض کا نفسیاتی مسئلہ حل ہوا اور وہ ایک صحتمند زندگی گزارنے لگا۔

Read more

تخلیقی اقلیت کے خواب اور مسائل پر تبصرہ

جب کوئی شخص ”تخلیقی اقلیت“ کے یہ دو الفاظ سنتا ہے تو اس کے دماغ میں بہت سے سوالات پیدا ہوسکتے ہیں : تخلیقی صلاحیتں کیا ہیں؟ تخلیقی عمل کیا ہے؟ کیوں کچھ لوگ تخلیقی ہوتے ہیں اور ان کی مشترکہ خصوصیات کیا ہیں؟ کیا وہ اپنے خاندانوں اور معاشروں کی روایات اور اقدار کے ساتھ تنازعات میں نہیں ہیں؟ اگر ایسا ہے تو کیا وہ مسائل کو حل کرنے کے قابل ہیں؟ جب میں نے خالد سہیل کتاب کی

Read more

زندگی: ایک فرضی مکالمہ ( 2 )۔

ژاں پال سارتر کلام کر رہا تھا:

انسان اس کے سوا کچھ نہیں جتنا وہ اپنے آپ کو پروجیکٹ کرتا ہے۔ اس کا وجود صرف اتنا ہے جتنا وہ خود سے آگاہ ہو پاتا ہے۔ سو وہ اپنے اعمال کے مجموعے سے زیادہ کچھ نہیں، اپنی زندگی سے زیادہ کچھ نہیں۔

نجیب محفوظ: بات صرف اتنی ہے کہ انسان اپنے لئے ایک مختلف زندگی چاہتا ہے۔
ژاں پال سارتر: نظریہ وجودیت انسانی زندگی کو ممکن بناتا ہے۔
میلان کنڈیرا: یہ امکان ہر شخص پر سایہ فگن رہتا ہے اور اس کی زندگی کی نوعیت کو تبدیل کرتا ہے۔

Read more

آدھی گواہی سے پورے ووٹ تک

آج کی تاریخ تک کورونا کی جان لیوا وبا نے دنیا کے تیرہ لاکھ افراد کو شہر خموشاں میں دھکیل دیا ہے۔ اگرچہ ان مرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد امریکی شہریوں کی ہے، اس کے باوجود نومبر 2020ء میں ہونے صدارتی انتخابات نے ملک میں زندگی کی رمق سی پیدا کر دی ہے۔ مستقبل کے صدر، نائب صدر اور بقیہ نمائندوں کو چننے اور ووٹ دینے کا حق عوام میں طاقت پیدا کرتا ہے۔ یقیناً جمہوریت کا تقاضا

Read more

بیروت، تو مر نہیں سکتا

ایک بار پھر بیروت سے آداب۔ احباب واقف ہیں کہ چند ہفتے قبل بیروت کو بندرگاہ پر لمبے عرصے سے ذخیرہ کیے گئے کیمیائی کھاد کے ایک ذخیرے میں ہونے والے دھماکے نے لرزا دیا تھا۔ اس دھماکے سے جغرافیائی اعتبار سے ایک محدود علاقے میں تباہی ہوئی لیکن مسئلہ یہ رہا کہ یہ علاقہ بیروت کے سیاحتی کاروبار کے دل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جمیزی نامی محلہ بیروت کی شبینہ گاہوں، ریستورانوں اور مے خانوں کا مرکز تھا اور

Read more

امریکی انتخابات: تین نومبر، تین ریاستیں اور تین ہفتے

انتخابات سے تین ہفتے قبل دونوں صدارتی امیدواروں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کی نظریں اب تین ریاستوں پر جمی ہوئی ہیں۔

سیاسی مبصرین کی آرا بتاتی ہیں کہ تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں تین ریاستوں فلوریڈا، اوہائیو اور پینسلوینیا میں ہار جیت نتائج کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔

Read more

سو عظیم آدمی اور کتابیں ‎

پہلی کتاب جو میں نے پڑھی، وہ تھی ’سو عظیم آدمی‘۔ امریکی مصنف مائیکل ہارٹ نے اسے لکھا تھا، محمد عاصم بٹ نے ترجمہ کیا اور تخلیقات لاہور نے اسے چھاپا تھا۔ کتاب کا حقیقی عنوان ہے: تاریخ کی سو موثر ترین شخصیات کی درجہ بندی۔ معلوم نہیں مترجم نے کن وجوہ کی بنا پر ترجمے کا عنوان تبدیل کر دیا۔ ’موثر ترین‘ کی جگہ انہوں نے ’عظیم‘ کا لفظ استعمال کیا۔ مصنف نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ فہرست میں شامل تمام اشخاص عظیم یا مشہور نہیں، بلکہ یہ ایسے افراد کی لسٹ ہے جنہوں نے اپنے کارہائے نمایاں کی بدولت تاریخ کا دھارا تبدیل کر دیا اور دنیا کو گہرے انداز میں متاثر کیا۔ اب یہ اثر مثبت بھی ہو سکتا ہے اور منفی بھی۔ ان شخصیات کی کامیابی دنیا کو ترقی سے ہم کنار بھی کر سکتی ہے اور تنزلی سے دو چار بھی۔ معلوم نہیں مترجم کو کیا سوجھی ہو گی؟ المختصر، جیسے ترجمہ ہوا ویسے ہی ذہن میں بیٹھ گیا: سو عظیم آدمی۔

Read more

بھگت سنگھ کون ہے؟

پاکستانی، ہندوستانی، بنگالی نوجوانوں کے لئے انقلابی سوچ کی وہ کہانی جس کو انہیں ایک بار ضرور پڑھنا چاہیے۔ تاکہ وہ اپنے بچوں کو بتا سکیں کہ بھگت سنگھ کیسے پیدا ہو تا ہے اور وہ کون ہو تا ہے؟

بھگت سنگھ بننے کا پہلا قطرہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

19 سال کے کرتار سنگھ سرابھا نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان میں کہا اس کی پارٹی انگریز حکومت کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دینا چاہتی ہے کیونکہ یہ سرکار تشدد اور نا انصافی پر قائم ہے۔ اسے عدالت میں بیان بدلنے کا مشورہ دیا گیا اس نہ صرف انکار کیا بلکہ لندن میں پھانسی پانے والے مدن لال دھینگڑا کا بیان دہرایا؛

”جو ملک غیر ملکی سنگنیوں کی نوک سے دبا ہوا ہے، وہ ہمیشہ جنگ کی حالت میں ہو تا ہے“ ۔ اسے 16 نومبر 1915 کو پھانسی دے دی گئی۔

Read more

کیا آپ فرانسیسی فلسفی لوئی ایلتھوزر کی دانائی اور دیوانگی سے واقف ہیں؟

فرانسیسی فلسفی لوئی ایلتھوزر  نے اپنی سوانح عمری کے دیباچے میں ایک اعتراف کیا ہے، جس کی تلخیص اور ترجمہ حاضر ہے۔

دو تاریکیوں کے درمیان
میں ایک تاریکی سے ابھرا اور دوسری تاریکی میں ڈوب گیا۔ ان دو تاریکیوں کے درمیان جو چند لمحے تھے ان کی یادیں میرے دل کی دیواروں پر کندہ ہیں۔ میں وہ یادیں آج قلم بند کرنا چاہتا ہوں۔

وہ اتوار کا دن تھا اور نومبر کی سولہ تاریخ تھی۔ صبح کے نو بجے تھے۔ خواب گاہ کی کھڑکی سے دودھیا روشنی کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔ کھڑکی پر جو پردے پڑے تھے، وہ وقت اور حالات کی زد پر آ کر بوسیدہ ہو گئے تھے۔

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کا ایک اور نیا علمی سفر

ڈاکٹر خالدسہیل کا ایک ٹی وی پروگرام ”ان سرچ آف پیس“ میری نظروں سے گزرا اور اس پروگرام نے گزشتہ سے پیوستہ ایک اور علمی پروگرام کی یاد تازہ کر دی جس کا نام ”ان سرچ آف وزڈم“ ہوا کرتا تھا۔ یہ پروگرام تقریباً 36 اقساط پر مشتمل تھا اور اپنی نوعیت کا ایک منفرد پروگرام ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں مقبول ہوا۔ اس علمی پروگرام کے روح روا ں ذہن کی الجھی ڈور کو کو سلجھانے والے

Read more

مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کا قیام: مشرقی پاکستان اسمبلی کے خوں چکاں واقعات اور ڈپٹی سپیکر کا پراسرار قتل

مشرقی پاکستان کے ڈپٹی سپیکر شاہد علی، جو سپیکر کا منصب سنبھالنے کے لیے بے چین تھے، دو روز تک بے ہوش رہنے کے بعد 26 ستمبر 1958 کو انتقال کر گئے۔ یوں اقتدار پر قابض رہنے کی یہ بے رحمانہ لڑائی جس میں سیاسی، جمہوری اور پارلیمانی، تمام روایات کو پامال کر دیا گیا تھا اپنے افسوسناک انجام کو پہنچی۔

Read more

کیا مودی چین کے معاملے پر وہی ‘غلطی’ دہرا رہے ہیں جو نہرو نے کی؟

دو جون 2017 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بین الاقوامی فورم پر اپنے خطاب میں کہا کہ چین اور انڈیا میں سرحدی تنازع کے باوجود دونوں ممالک کی درمیان پچھلے چالیس سال میں ایک بھی گولی نہیں چلی ہے۔‘ چین نے مودی کے اس بیان کا خیرمقدم کیا تھا۔ یہ تین سال پہلے کی بات ہے اور اب صورت حال یہ ہے کہ وہ اب یہ دوبارہ نہیں کہہ سکتے۔‘

Read more

کیا مودی چین کے معاملے پر وہی ‘غلطی’ دہرا رہے ہیں جو نہرو نے کی؟

دو جون 2017 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بین الاقوامی فورم پر اپنے خطاب میں کہا کہ چین اور انڈیا میں سرحدی تنازع کے باوجود دونوں ممالک کی درمیان پچھلے چالیس سال میں ایک بھی گولی نہیں چلی ہے۔‘ چین نے مودی کے اس بیان کا خیرمقدم کیا تھا۔ یہ تین سال پہلے کی بات ہے اور اب صورت حال یہ ہے کہ وہ اب یہ دوبارہ نہیں کہہ سکتے۔‘

Read more

نئے نظام کی تشکیل وقت کے ضرورت

ایک انگریزی محاورہ ہے کہ کائنات میں۔ تبدیلی ہی ایک ایسی شے ہے جو ناقابل تبدیل ہے۔ یہ کائنات مسلسل حرکت پذیر ہے ایک ایک زرہ ہمہ وقت تبدیل ہو رہا ہے یہاں جامد کوئی شے نہیں ہے انسانوں، خاندانوں سے لے کر حکومتوں اور نظاموں تک ہر چیز ہر وقت تبدیل ہو رہی ہے۔ تبدیلی کی رفتار کبھی تیز ہے اور کبھی سست لیکن یہ رکتی کبھی نہیں ہے۔

ایک وقت تھا کہ انسانوں کا آنا اور جانا بہت اہمیت رکھتا تھا۔ لوگ پیغمبروں کا انتظار کرتے اور رحمدل اور نیک حکمرانوں کا جو آ کر ان کی قسمتوں کو بدلیں اور بقول شاعر،

Read more

سیکولرازم، کمیونزم اور سوشل ازم کے بارے میں چند سوالات کے جوابات

میں کراچی یونیورسٹی میں ”بین الاقوامی تعلقات“ کا نو وارد طالب علم ہوں۔ مختلف نظریات (Ideologies ) میرے پسندیدہ موضوع ہیں۔
جن میں سیکولرازم، لبرل ازم، کیپیٹل ازم، کمیونزم اور سوشل ازم وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن ابھی تک صرف دو کو کسی حد تک سمجھ پایا ہوں۔ سیکولرازم اور لبرل ازم کو، باقی ابھی تک تشنہ تکمیل ہے۔

لہذا اس سلسلے میں چند سوالات کے جوابات درکار تھے۔ کمیونزم اور سوشلزم کے حوالے سے کیونکہ آپ ایک ایسے ملک میں رہائش پذیر ہیں جہاں وہ اس نظام کو پریکٹس کر رہے ہیں۔ اور اس کے نتائج سے بھی بہرہ ور ہوچکے ہیں۔

Read more

الوداع حاصل بزنجو الوداع

بلوچستان کے شہر خضدار سے آگے نال شہر کی سڑکیں دور دور تک ریگستانی قصے بیان کر رہی ہوتی ہیں، کبھی ان سڑکوں کو سیلاب کی شدت کا سامنا ہوتا ہے تو کبھی تھر کے ریگستان کی طرح یہ سڑکیں، پہاڑ اور ریگستانی علاقہ پانی کی بوند بوند کو ترستا ہے۔ میرے اس نال شہر میں جانے کی ہمیشہ دو وجوہات ہوتی تھیں ایک تو یہ شہر سیاسی تاریخ کے معتبر نام میر غوث بخش بزنجو کا شہر تھا دوسرا

Read more

کیا اخلاقیات کے لیے مذہب ضروری ہے؟

ایک شام مجھ جیسے پاپی کو ایک نیک اور پارسا دوست فاطمہ کا فون آیا۔ موسم کی حرارت اور ڈونلڈ ٹرمپ کی گمراہ کن قیادت کی شکایت کے بعد کہنے لگیں

”آج میں آپ سے ایک سنجیدہ سوال پوچھنا چاہتی ہوں“

”فرمائیں۔ جو سوال چاہے پوچھیں“ میں نے جواب دیا

کہنے لگیں، آپ بخوبی جانتے ہیں کہ میں ایک پکی مسلمان ہوں۔ میں خدا، پیغمبروں، آسمانی کتابوں، قیامت اور جنت دوزخ پر ایمان رکھتی ہوں۔ میرا مذہب زندگی کے ہر موڑ اور ہر موقع پر میری رہنمائی کرتا ہے اور میں ایک اچھی مسلمان بن کر زندگی گزارنے کی پوری کوشش کرتی ہوں۔ لیکن وہ تمام لوگ جو کسی خدا اور مذہب پر ایمان نہیں رکھتے وہ نیکی بدی، اچھے برے، خیر و شر میں کیسے تمیز کرتے ہیں؟ آپ کے خیال میں کیا اخلاقیات کے لیے مذہب ضروری ہے؟

Read more

قوت بازوئے احرار جہاں ‎

گیارہ ستمبر 2001 کے بعد کا زمانہ تھا جب میں آئرلینڈ پہنچا۔ یہاں خبروں کے لیے ابھی الجزیرہ بھی میسر نہیں تھا۔ سکائی نیوز اور سی این این پر اس وقت عراق پر ہونے والے حملوں کی تمہید باندھی جا رہی تھی۔ ایک دن اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے پارلیمنٹ سے خطاب کیا جس کو تمام چینلز نے براہ راست نشر کیا۔ تقریر کیا تھی اسے سن کر یوں لگتا تھا کہ صدام حسین اگلے چالیس

Read more

جوزف سٹالن کی بیٹی اور بھارتی راجکمار کا رومان

ایک ڈھلتی عمر کے چھوٹے قد والے اور صحت کے مسائل سے دوچار بھارتی راجکمارسے سوویت روس کو بھلا کیا خطرہ ہو سکتا تھا۔ یہ خیال تھا ولادیمیر سیمی شاستنی کا جو 60 کی دہائی میں کے جی بی کے سربراہ تھے۔ اگر انھیں رتی بھر بھی اندازہ ہوتا کہ اس بھارتی رئیس اور جوزف سٹالن کی بیٹی سویتلانا آلیلویوا کی وجہ سے ان کا عہدہ خطرے میں پڑ جائے گا تو شاید ان کی سوچ مختلف ہوتی۔ کریملن کی

Read more

جنگ آزادی 1857ء اور پنجاب

تاریخ میں 1857 ء کو ایک غیر معمولی حیثیت حاصل ہے۔ اس حوالے سے پنجاب کے کردار پر بہت کچھ لکھا گیا اور مختلف نقطہ ہائے نظر سامنے آچکے ہیں اور مزید بھی آتے رہتے ہیں۔ ایک سوچ وہ ہے جسے عبداللہ ملک مرحوم نے پاکستان ٹائمز میں ”پنجاب نے برطانیہ کا ساتھ کیوں دیا؟ کے عنوان سے مضامین لکھ کر پیش کیا۔ جس کا بنیادی استدلال پنجابیوں کی فوج میں بھرتیوں کو بنایا جو 1857 ء سے دوسری جنگ

Read more

ہم فوج کے نہیں، سیاست میں مداخلت کے مخالف ہیں

اس تمام کائنات میں انقلاب کے کل تین دبستان اور معیار موجود ہیں۔ اک کارل مارکس کا ہے اور دو جناب آصف محمود اور جناب عامر ہاشم خاکوانی صاحب کے۔ ان تین کے علاوہ، انقلاب نہ تو کسی نے چاہا ہے، نہ لکھا ہے اور نہ ہی بعد از کسی نے نوچا ہے۔ خیر مارکس تو بعد از انقلاب نوچنے کی کیفیت سے پہلے ہی اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔ باقی دو دبستان چونکہ وطن عزیز میں موجود ہیں،

Read more

سجاد ظہیر: ترقی پسندوں کا بادشاہ

بقول قاضی عبد الستار، ”سامو گڑھ کے سینے میں وہ میزان نصب ہوئی، جس کے ایک پلڑے میں روایت تھی اور دوسرے میں دِل، ایک طرف سیاست تھی دوسری طرف محبت، ایک طرف فلسفہ حکمت تو دوسری طرف شعر و ادب اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک طرف تلوار تھی اور دوسری طرف قلم۔“ جنگ میں بادشاہ کو شکست بھی ہوتی ہے۔ بادشاہ فاتح بھی ہوتا ہے۔ جنگ بادشاہ کے اشاروں پر لڑی جاتی ہے۔ وہ لندن اور

Read more

تبدیلی آپ کی جھولی میں

تبدیلی کے موضوع پر لکھتے ہوئے تھوڑا ’گھبرا۔‘ رہا ہوں۔ کچھ عرصہ سے یہ تصور خوش نما بدنام سا ہو گیا ہے۔ حلقۂ یاراں میں اس کا استعمال شجر ممنوعہ ہوتا جا رہا ہے۔ چند دن پہلے جب غیر ارادی طور پر یہ لفظ ادا ہوا تو ایک رفیق راہ کہنے لگا کہ۔ ”یہ دھوکہ بھی کھا رکھا ہے“ ۔ کچھ اہل حکمت یہ بھی مشورہ دے رہے ہیں کہ دل چھوٹا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن بندہ بشر

Read more

معراج محمد خان: روشنی کا مینار

معراج محمد خان بائیں بازوکی تحریک کے سرگرم کارکن تھے۔ انھوں نے کارل مارکس کے فلسفہ کو دل کی گہرائیوں کے ساتھ قبول کیا اورایک غیر طبقاتی سماج کے قیام کے لیے اپنی زندگی کو وقف کیا۔ ان کے بھائی منہاج محمد خان برنا ممبئی میں ترقی پسند تحریک میں شامل ہوئے۔ انھوں نے جامعہ ملیہ دہلی میں تعلیم حاصل کی، برنا صاحب جدوجہد کا استعارہ تھے۔ انھوں نے جامعہ ملیہ دہلی میں شرنارتھیوں کے داخلہ کے لیے ہڑتال کرائی۔

Read more

KEN WILBER اور انسانی شعور کے ارتقا کا نظریہ

کین ولبر 1949 میں امریکہ کے شہر اوکلاہوما میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ڈیوک اور نیبراسکا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی لیکن تعلیم مکمل کرنے سے پہلی ہی وہ یونیورسٹی چھوڑ کر ایک ادیب اور فلاسفر بننے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے نکل کھڑے ہوئے۔ 1973 میں انہوں نے اپنی پہلی کتاب THE SPECTRUM OF CONSCIOUSNESS لکھی۔ اس کتاب کو بیس پبلشرز نے رد کیا۔ آخر 1977 میں QUEST BOOKS نے اس کتاب کو چھاپا۔ کین ولبر کو ان کی جن

Read more

سرمایہ داری بربریت، سوشلزم بقائے انسانیت

جب سے انسانی محنت کے استحصال کا آغاز ہوا تب سے سماج طبقات میں بٹنا شروع ہوا۔ جس قدر انسانی محنت کے استحصال میں شدت آتی گئی اسی قدر طبقاتی تفاوت میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔ آج اگر پوری دنیا کی دولت اور اس کی تقسیم پر ایک نظر ڈالی جائے تو اندھے کو بھی نظر آ جائے کہ کس طرح مخص ایک فیصد لوگ دنیا کی 90 فیصد سے زائد دولت پر ناجائز طور پر قبضہ جمائے بیٹھے

Read more

وقت بے درد مسیحا ہے

میں اس بات پر بالکل بھی راضی نہیں تھا کہ اس سے ملوں کیوں کہ اس وقت میں بالکل بھی نہیں چاہتا تھا کہ میری بیٹی اس سے شادی کرے۔ میرا خیال تھا کہ ایک دفعہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرلے پھر عملی زندگی میں کسی عملی قسم کے آدمی کوپسند کرکے اس سے شادی کرے۔ یہ تو مجھے اندازہ تھا کہ وہ کسی بھی ایسے شخص سے شادی نہیں کرے گی جو صرف میری پسند کا ہو۔ ارینج میرج

Read more

سید منور حسن روشنی کا مینار

اگچہ سید منور حسن بیمار تھے، مگر یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ رب کے حضور پیش ہونے والے ہیں۔ موت برحق ہے اور سب نے ہی اس عارضی دنیا سے حقیقی دنیا کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ سید منور حسن بھی وہیں چلے گئے جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آتا۔ لیکن کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی موجودگی اور غیر موجودگی دونوں کا احساس غالب رہتا ہے۔ جو لوگ بھی سید منور حسن کو جانتے ہیں

Read more

سید منور حسن: ایسا کہاں سے لاؤں۔۔۔۔!

دکھ ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ وبا کے ہنگام کہ جب بے چینی اور خوف نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں دھرتی کے روشن چراغ بجھتے جاتے ہیں۔ خیر بانٹنے والے رخصت ہوئے جاتے ہیں۔ یوں کہ جیسے تسبیح کے ٹوٹنے پر دانے گرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ ستارے روز ٹوٹ کر گرتے ہیں غضب ہوا آج تو، آفتاب ٹوٹا ہے تقسیم ہند سے چھ برس قبل مسلم لیگ سے وابستہ سید خاندان میں اک چراغ ”منور“ ہوا۔ کیا خبر

Read more

سید منور حسن: تند مزاج درویش

کراچی میں تازہ وارد ایک نوجوان سید منور حسن کی خدمت میں حاضر ہوا، ٹٹول کر جیب سے ایک رقعہ نکالا اور جھک کر ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ سید صاحب نے دیکھے بغیر اِسے میز پر ڈال دیا، کچھ دیر کے لیے دراز کو ٹٹولا، فارغ ہو کر اچٹتی سی ایک نگاہ رقعے پر ڈالی اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ اٹھتے اٹھتے جیسے انھیں کچھ یاد آیا اور انھوں نے نگاہ التفات کے منتظر اجنبی کی طرف دیکھا

Read more

ہمارے خوابوں کی تعبیر کون بتائے گا – مکمل کالم

سنجیدہ اور خشک مضامین میں اکثر ہمیں اس قسم کے جملے پڑھنے کو ملتے ہیں کہ بیسویں صدی کا جدید ذہن بے چینی اور اضطراب کا شکار ہے، مادیت نے ماڈرن آدمی کی مت مار دی ہے، انسان کا سکون چھن چکا ہے، راتوں کی نیند حرام ہو چکی ہے اور جدید آدمی اب فقط مصنوعی خوشی کے سہارے جی رہا ہے۔ ایسے مضامین چونکہ بھاری بھرکم دانشوروں کے قلم سے پھوٹتے ہیں سو خاصے بارعب لگتے ہیں، بندہ ان ثقیل باتوں کے بوجھ تلے ہی دب جاتا ہے۔ اگلے روز ایسے ہی ایک ہمدم دیرینہ سے گفتگو ہو رہی تھی جو جدیدیت کے سخت ناقد ہیں اور نہ جانے کیوں مجھے جدید انسان سمجھتے ہیں۔ مجھ سے پوچھنے لگے کہ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا آپ مضطرب نہیں رہتے، کیا آپ سچی خوشی کے متلاشی نہیں، کیا آپ کو رات کو سکون کی نیند آتی ہے؟

میں نے کہا الحمدللہ ایسی کوئی بات نہیں، نہ ہی میں مضطرب ہوں اور نہ بے چین، زندگی سے خاصا مطمئن اور شاد ہوں، اور رہی بات نیند کی تو ہمیشہ سے ہی مجھے ایسی گہری نیند آتی ہے کہ بیدار ہونا عذاب لگتا ہے۔ میری بات سن کر وہ مضطرب ہو گئے، پھر کہنے لگے اچھا چھوڑیں یہ بتائیں کہ آج کل موبائل فون کون سا اچھا آ رہا ہے، آپ کو تو پتا ہے میں ہمیشہ جدید ماڈل استعمال کرتا ہوں۔ میں نے جواب دیا حضرت آپ ان ماڈلز کے چکر میں نہ پڑیں ویسے بھی بندہ عشق شدی ترک ’ماڈل‘ کن جامی۔ مصرع کی داد دیے بغیر انہوں نے فون بند کر دیا۔

Read more

جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن کا انتقال: کارل مارکس سے مولانا مودودی تک سفر

کراچی میں تازہ وارد ایک نوجوان سید منور حسن کی خدمت میں حاضر ہوا، ٹٹول کر جیب سے ایک رقعہ نکالا اور جھک کر انھیں پیش کر دیا۔ سید صاحب نے دیکھے بغیر اِسے میز پر ڈالا، کچھ دیر کے لیے دراز ٹٹولی، فارغ ہو کر اچٹتی سی ایک نگاہ رقعے پر ڈالی اور اٹھ کھڑے ہوئے۔

اٹھتے اٹھتے جیسے انھیں کچھ یاد آیا اور انھوں نے نگاہ التفات کے منتظر اجنبی کی طرف دیکھا اور بلا تمہید بولے کہ پھر چلیں؟
’کہاں؟‘
’ہمارے ہاں یہ وقت ظہر کی نماز کا ہوتا ہے۔‘

سننے والے نے اس مختصر جملے میں بے تکلف شگفتگی میں لپٹی ہوئی طنز کی گہری کاٹ کو محسوس کیا، ان کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز ادا کی اور سوچا، اس شخص کے ساتھ بات کرنا کتنا مشکل ہے۔

Read more

ورڈزورتھ بطور نقاد

ادب و شاعری ہو یا ریاست و معاشرت ہو، مذہب و اخلاق ہو یا فلسفہ و تنقید ہو، ہر شعبہ ہائے زندگی میں ایک ارتقا نظر آتا ہے، ہر زمانے میں ان علوم کی ماہیت کو نئے سے نئے زاویوں سے سمجھا گیا اور ان پر مباحث سے کئی ایک نئے راستے کھلے، تقریباً ہر دور میں مفکرین و فلاسفہ نے اپنی بساط کے مطابق ان علوم میں اضافے کیے، جس سے ایک فطری طور پر تغیر واقع ہوا اور

Read more

شکریہ ٹامس ایلوا ایڈیسن

نامور امریکی تاریخ دان اور مصنف ول دیورانٹ سے ایک انٹرویو کے دوران انٹرویو لینے والے نے سوال کیا کہ ”اگر میں آپ سے کہوں کہ تاریخ کے سب سے زیادہ متاثر کن شخص کا نام لیں تو کیا وہ نام کارل مارکس کا ہوگا“ ویل ڈیورانٹ نے جواب دیا کہ ”اگر آپ لفظ کے وسیع ترین مفہوم میں بات کریں تو پراثر کے معاملے میں سب سے زیادہ حصہ تکنیکی موجدوں ایڈیسن جیسے انسانوں کو دینا پڑے گا۔ بلاشبہ

Read more

جدید ذہن کے اشکالات اور روایتی مذہبی فکر

عموماً ہم دیکھتے ہیں کہ اہل مذہب ہمیشہ سوال کرنے اور کچھ حساس موضوعات (ان کے نزدیک) پر مکالمے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہوتا ہے کہ دین مکمل ہے اور ہمیں مذہبی موضوعات پر عقلی استدلال کے طرف جانا ہی نہیں چاہیے۔ لیکن عموماً ایسا ہوتا نہیں ہے اور بچپن اور عموماً جوانی میں مذہب اور تصور خدا کو لے کر ہمارے ذہن میں طرح طرح کے سوالات اٹھتے رہتے ہیں۔ اور یہ عین فطری بھی

Read more

بکھرتا سماج اور مذہبی انتشار

کالم کا عنوان معروف دانشور فرخ سہیل گوئیندی سے مستعار لیا ہے۔ سماج کی ابتری پر ان کے کالموں کے مجموعے کا عنوان ”بکھرتا سماج“ ہے۔ سماجی زوال کے پیش آنے والے چند تجربات میں اس تحریرکے ذریعے آپ کو شریک کرنا چاہوں گا۔ اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں کتابوں کی ایک بہت بڑی دکان ہے۔ چند ماہ قبل میں دکان سے نکلا تو پارکنگ میں ایک صاحب ہاتھوں میں دو تھیلے لیے کھڑے تھے اور لگ رہا

Read more

مذہبی طبقے کو کیا کرنا چاہیے؟

سوشل سائنس علوم کا وہ شعبہ ہے جس کا تعلق انسانی معاشرے سے ہے۔ یورپی نشاۃ ثانیہ ریفارمیشن انلا ئٹمنٹ (روشن خیالی اور انڈسٹریل ریولوشن جیسی تحریکات، سوشل سائنسز کی وجود کا سبب ہے۔ یورپی تاریخ میں نشاۃ ثانیہ چودہویں سے سترہویں صدی کے دور کو کہا جاتا ہے۔ اس دور میں کلاسیکی فلسفے پہ دوبارہ بحث چھڑ گئی۔ اس کے علاوہ جمالیاتی حلقۂ عمل، فنون، موسیقی، مجسمہ سازی اورادبی حلقے میں اس دور کے لوگوں نے اپنے فنی جوہردکھاے جو کہ انلائٹمنٹ ریفارمیشن اور صنعتی انقلاب کا پیش خیمہ بنا۔

Read more

پاکستانی عورتوں کی زندگی میں رومانس

پاکستانی خواتین کی زندگی میں رومانس کی ایک ہی انتہاء ہے اور وہ ہے شادی، ہم بھی ان عقلمندوں میں سے ایک تھے جنہیں یقین تھا کہ شادی کے بعد زندگی بہت رومانٹک ہوتی ہے اس میں ہمارا زیادہ قصور نہیں تھا، زیادہ قصور ہمارے ادبی عقائد کا تھا جنہوں نے ہمیں اس مقام پر پہنچایا۔ اس ادبی عقیدہ رومانس کا تعلق بانو قدسیہ سے جڑا تھا۔ انہوں نے مجھے یہ ایمان دیا کہ رومانس اور محبت بھی کوئی چیز

Read more

آصف فرخی: کیا آدمی تھے وہ، کیسے چلے گئے!

سوموار یکم مئی 2020 شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے میں نے آصف صاحب کو فون کیا تو فون ان کے چھوٹے بھائی طارق نے اٹھایا۔
”ڈاکٹر صاحب آصف بھائی کی تو طبیعت بہت زیادہ خراب ہے۔“ طارق کی گھبرائی ہوئی آواز آئی تھی۔

”گزشتہ چند دنوں سے ان کی طبیعت خراب تھی۔ آٹھ دن قبل انہوں نے کچھ کھایا تھا جس سے ان کا پیٹ خراب ہوگیا تھا۔“ ہمارے مشترکہ دوست عرفان خان صاحب نے مجھے فون کر کے بتایا کہ ”آصف صاحب کو متلی ہو رہی ہے اور پیٹ خراب ہے۔“

میں نے فوراً ہی ان کے بھی دوست اور بہت اچھے جنرل پریکٹشنر ڈاکٹر سجاد کو فون کر کے کہا کہ وہ آصف کو فون کر لیں اور انہیں فوڈ پوائزنگ کے لیے کوئی دوا بتائیں۔ سجاد نے فوراً ہی فون کیا اور انہیں پیٹ میں درد اور ہاضمے کی خرابی کی دوا فون پر ہی بتائی اور ساتھ ہی کہا تھا کہ وہ پینے والے نمکیات ( او آر ایس ) کے ساشے منگوا لیں ا ور دن میں کم از کم تین ساشے پئیں۔

Read more

ایک کٹر مذہبی مشرقی باپ کی کہانی

ہمارے سماج میں رنگ برنگے پرندوں کو پنجروں میں ڈال کر ان کی رنگ برنگ خوبصورتیوں کو انجوائے کیا جاتا ہے کیونکہ ہمیں ہر قسم کی آزادی سے ڈر اور خوف محسوس ہوتا ہے۔ یہاں پر بچپن سے ہی انسانی ذہنوں کو مختلف قسم کے تقدیسی پنجروں میں قید کر لیا جاتا ہے۔ بچوں کو ایک ایسے بندھے بندھائے اور رٹے رٹائے تسلسل کا ایک ایسا ذہنی غلام بنا دیا جاتا ہے، جس سرکل سے وہ پوری زندگی باہر نہیں نکل پاتے اور پھر یہ سلسلہ نسل در نسل ایک ظالمانہ چکر کا روپ دھار لیتا ہے۔

بچوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کو روایتی اور گھسے پٹے جوابوں سے بہلانے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں مذہبی پٹی سے آگے بڑھ کر سوچنے کی بہت زیادہ ممانعت کی جاتی ہے۔ ہم اپنی نسلوں کو رنگ برنگی سوچوں کے سر چشموں سے سیراب ہونے کی آزادی نہیں دیتے کیونکہ ہمیں یہ ڈر ہوتا ہے کہ ہماری نسل بھی منصور، گلیلیو، سقراط اور چارلس ڈارون کی طرح آؤٹ آف دی باکس نہ چلی جائے اور روایتی حقائق کو ترک کے نئے حقائق کی تلاش کی لت میں مبتلا نہ ہو جائے، اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ اس مقدس شکنجے کی گرفت کو ڈھیلا کر دے گا جو کہ مختلف روایتی حربے استعمال کر کے ہمارے ذہنوں کے گرد کسا جاتا ہے۔

میں آج آپ کو ایک ایسے ہی کٹر مذہبی باپ کی سچی کہانی شیئر کرنا چاہوں گا۔ اس باپ کا نام عبدالقیوم ہے اور

Read more

سوچنا جرم ہے

ایک سال قبل صدا کاری کا جنون عروج پہ تھا۔ جب میں نے احمد ندیم قاسمی صاحب کی ایک آزاد نظم ”ایک درخواست کو احتجاجی لہجے میں ریکارڈ کرنے کی کوشش کی جس کے ابتدائیہ مصرعے کچھ یوں تھے

”دیکھنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حد نظر سے آگے بڑھ کے دیکھنا بھی جرم ہے
سوچنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے یقینوں اور گمانوں سے نکل کر سوچنا بھی جرم ہے ”

Read more

کارل مارکس، خیرات ا ور تبدیلی

چند دن پہلے عظیم انقلابی، دانشور، فلاسفر، صحافی، اور مصنف کارل مارکس کا یوم پیدائش گزرا ہے۔ جب تک دنیا میں طا قتور اور کمزور، غریب ا ور امیر، ما لک ا ور مزدور، آ جر اور اجیر، سرمائے اور محنت کی کشمکش رہے گی کارل مارکس کا نام گونجتا رہے گا۔ مارکس نے سرمایہ دارنہ نظام کے خلاف ایسی موئژ آواز اٹھائی کہ سرمایہ داروں کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہو گیا۔ اس کے انقلابی نظریات کی بدولت دنیا

Read more

وبا پر یقین نہ کرنے کے بارے میں

اس سے پہلے کہ کراچی یونیورسٹی کے کسی زبدة العلما طالب علم کے سفال تحقیق میں طوفان اٹھے، مسافر اقرار کرتا ہے کہ یہ عنوان آرتھر کوئسلر کے مضمون On Disbelieving the Atrocities سے اخذ کیا ہے۔ ارتھر کوئسلر کو عام طور سے ناول نگار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ظلمت نیم روز (Darkness at Noon) ان کا شہرہ آفاق ناول ہے۔ 1904 میں پیدا ہونے والے اس آسٹرین دانشور کا اصل میدان فلسفہ سائنس اور سیاسی سماجیات تھے۔

Read more

جھوٹی خبریں، مستند خبریں اور دیکھنے کی ضد

ایٹم کیا ہے؟ الیکٹران، پروٹان اور نیوٹران کیا کام سرانجام دیتے ہیں؟ کس سائنسدان نے سب سے پہلے ہمیں ایٹم اور اس کی ساخت کے بارے میں بتایا؟ یونانی فلاسفر ڈیموکریٹس نے سب سے پہلے اس پر کام کیا اور بعد کے سائنسدانوں جیسے ڈالٹن، جے جے تھامسن، ردرفورڈ اور بوہر نے ایٹم کی ساخت پر پر تجربے کیے۔ ہمارے جسم میں خون گردش کرتا ہے۔ یہ سب سے پہلے کس نے دریافت کیا؟ انگریز معالج ولیم ہاروے نے ہمیں یہ سمجھایا۔ اسی طرح حرکت کے قوانین اور دوسرے سائنسی ایجادات کے بارے میں ہم نے سائنس کی کتابوں میں پڑھا۔ ان تمام ان دیکھی چیزوں کے بارے میں ہمارے اساتذہ نے ہمیں پڑھایا اور اب بھی طلباء اس کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور یقین کے ساتھ دوسرے لوگوں تک یہ علم پہنچاتے ہیں۔

Read more

کیا آپ مذہبی عقیدے اور وجودیت کے فلسفے کے فرق سے واقف ہیں؟

میرا نام سردار عمر ہے (سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے بدلا گیا ہے ) . میں راولپنڈی پاکستان سے تعلق رکھتا ہوں, بین الاقوامی تعلقات کا طالب علم ہوں. میں ایک مشہور مذہبی گروہ (تبلیغی جماعت) کے مذہبی پس منظر سے تعلق رکھتا ہوں. میری تعلیم کا موضوع انٹرنیشنل ریلیشنز ہے جس میں تنقیدی سوچ کو اچھا سمجھا جاتا ہے لہذا مجھے اپنے معاشرتی اور ثقافتی عقائد کے حوالے سے کچھ نفسیاتی پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے. ایگزسٹینشلزم کے فلسفے کے مطالعے نے میرے ذہنی سکون کو برباد کر دیا ہے. میری یونیورسٹی کے پروفیسروں نے مجھے آپ سے ان پیچیدگیوں پر بات کرنے کی سفارش کی. یہاں کچھ سوالات ہیں جو میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں.

Read more

کامریڈ شہنشاہ بلبل بیگ

با ادب با ملاحظہ ہوشیار، شہنشاہ معظم بلبل بیگ تشریف لا رہے ہیں۔ زوردار دھماکہ اور پھر ایسا سناٹا جیسے حضرت اسرافیل علیہ السلام نے ابھی ابھی صور پھونکا ہو۔ مرسڈیز بینز کا دروازہ کھلا اندر سے ایک چھوٹے قد اور بڑے پیٹ والا شخص برآمد ہوا، تمام ملازمین سر جھکائے لائن میں کھڑے ہو گئے۔ بچے اپنی اپنی جماعتوں میں گہرا سانس بھر کے سیدھے کھڑے ہو گئے، ساری استانیوں نے سر سے دوپٹے اوڑھے، اسی دوران بلبل بیگ

Read more