آج تک کی انسانی تاریخ طبقاتی جہدوجہد کی تاریخ ہے۔ آزاد اور غلام، اعلی طبقے اور ادنی طبقے، مالکان اور خانہ زاد غلام، دستکار اور آقا یعنی دوسرے الفاظ میں ظالم و مظلوم طبقات تاریخ کے ہر دور میں ایک دوسرے کے خلاف مستقل طور پر کھڑے رہے۔ یہ لوگ ایک دوسرے کے خلاف مسلسل ایک خفیہ اور کھلی لڑائی لڑتے رہے۔ اس لڑائی کا خاتمہ ہر دفعہ یا تو سماج کی انقلابی تنظیم نو میں ہوا یا دعوے دار طبقات کی مشترکہ بربادی پر ہوا۔ یہ اس پیغام کا مفہوم ہے، جو کارل مارکس اور فریڈرک انگلس نے اپنی مشہور تخلیق کمیونسٹ مینی فیسٹو میں دیا۔
اس منشور کو دنیا کی سب سے زیادہ با اثر سیاسی دستاویز قرار دیا جاتا ہے۔ پیٹر آسبارن جیسے دانشور نے اس دستاویز کو انیسویں صدی کی سب سے اہم ترین تحریر قرار دیا ہے۔ کچھ دانشور اسے اکیسویں صدی کا منشور بھی قرار دیتے ہیں۔ اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ، لیکن اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ اس تحریر کو ان معدودے چند سیاسی دستاویزات میں شامل کیا جاتا ہے، جن کو پوری دنیا میں کثرت سے پڑھا جاتا ہے۔ ”زوم ریڈنگ روم“ کی گزشتہ مطالعاتی نشست میں ہم نے سیاسی تاریخ کی اس اہم ترین دستاویز پر گفتگو کی ہے۔
Read more