یکم مئی اور سانحہ "ہے مارکیٹ”۔

شاعر مشرق نے اپنی نظم میں جب لینن کو خدا کے حضور پیش کیا تو لینن خدا سے کچھ یوں شکوہ دراز ہوا: تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات اگرچہ اقبال کے الفاظ تو ایک مزدور کی پوری زندگی کا احاطہ کرتے ہیں لیکن انیسویں صدی میں جب دنیا صنعتی دور میں داخل ہو رہی تھی تو اس وقت دنیا بھر کے مزدوروں کے اوقات واقعی بہت تلخ ہو چکے

Read more

وہ لڑکی جس کا نام سن کر لوگ احتراماً اپنے سر سے ہیٹ اتار لیتے ہیں

میڈم میری کیوری نے پولینڈ کے ایک پسماندہ قصبے میں آنکھ کھولی۔ مصائب اور مالی مشکلات میں گھرے ہوئے ماں باپ نے اس کا نام مانیا سکلوڈو وسکا رکھا مگر لوگ اسے صرف مانیا کے نام سے پکارے تھے۔ اس نے ابتداء میں ٹیوشن پڑھا کے گزر بسر کرنی شروع کی۔ جب وہ 19 برس کی ہوئی تو اسے ایک امیر خاندان کی 10 سالہ بچی کو پڑھانے کا موقعہ ملا جس کا بڑا بھائی اس میں دلچسپی لینے لگا۔ جب دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا تو ایک دن لڑکے کی ماں نے مانیا کو کان سے پکڑا اور کار پورچ میں سارے نوکروں کو جمع کر کے چلاتے ہوئے کہا، ”دیکھو!

یہ پاگل لڑکی جس کے پاس پہننے کے لئے صرف ایک فراک ہے، جس کے جوتوں کے تلووں میں سوراخ ہیں۔ اور جسے چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک بار اچھا کھانا نصیب ہوتا ہے اور وہ بھی ہمارے گھر سے، یہ میرے بیٹے کی بیوی بننا چاہتی ہے۔“ اس پر تمام نوکروں نے بلند آواز میں قہقہہ لگایا اور خاتون ایک دھماکے سے دروازہ بند کر کے اندر چلی گئی۔ ”

Read more

فن اور اخلاقیات

فن ایک عمل خالص کا نام ہے۔ ایسا عمل جو اندرونی تحرک کی بنا پر ابھرتا ہے اور کسی بھی قسم کی جکڑ بندیوں سے آزاد ہوتا ہے۔ نقالی کا نام فن نہیں بلکہ یہ نام ہے موجود امثال میں جدت لاتے ہوئے نقطۂ کمال کی جانب بڑھنا۔ فن کو سات اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے جنہیں اصطلاح میں فنون لطیفہ کہا جاتا ہے۔ اس میں فن تعمیر (روم میں پینتھیان، مصر میں اہرام، اور بھارت میں تاج محل

Read more

روس: سلطنت سے بالشویک انقلاب تک

1 ’532.500 مربع میل پر مشتمل روس رقبہ کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک (جس سرحدیں 14 ممالک سے ملتی ہیں) یورپ کے مشرقی سرے پر واقع ہے اور کوہ یورال (جو براعظم یورپ اور ایشیا کو تقسیم کرتا ہے) کے دونوں طرف واقع ہونے کی وجہ ”یورشیائی“ ملک کہلاتا ہے۔ کوہ یورل کے مغربی جانب یورپ اور مشرقی جانب براعظم ایشیا ہے۔ روس کا 25 فی صد حصہ یورپ اور 75 فی صد ایشیا میں ہے

Read more

لاہور کے سقراط عزیز الحق کے ادبی، سیاسی و سماجی افکار

(عزیز الحق کے حوالے سے پہلا یادگاری لیکچر) انیس مارچ 2023 کو ٹیم عزیز نے زوم پر پہلے سالانہ عزیز الحق لیکچر کا اہتمام کیا تا کہ ڈاکٹر سید عظیم ہمیں لاہور کے سقراط عزیز الحق کے افکار عالیہ سے متعارف کروا سکیں۔ اس لیکچر میں جن تیس سے زائد دوستوں نے شرکت کی ان میں مرد، عورتیں، نوجوان، بزرگ، طلبا، اساتذہ، سیاسی کارکن اور سماجی دانشور شامل تھے۔ اس سیمینار میں میزبانی کے فرائض خاکسار نے ادا کیے۔ میں

Read more

ارتقائی نظریات کا المیہ

ارتقا ایک وسیع اور پیچیدہ موضوع ہے۔ علمی محفلوں میں عام طور تین طرح کے ارتقا پر بحث کی جاتی ہے ان میں سرفہرست حیاتیاتی ارتقا، کائنات کا ارتقا اور سماجی علوم میں ارتقائی اصولوں سے استفادہ یا مطابقت وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ لفظ ارتقا کو خاصے مختلف معانی میں بھی لکھا اور بولا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ترقی، جدت، بالیدگی، طلوع و عروج، اٹھان، پیش رفت، تسلسل، توسیع، وسعت، پھیلاؤ، آشکار، تغیر، تبدیلی یا کایا پلٹ، موافقت،

Read more

عورت عورت کے تناظر میں : منتخب نظموں کا تانیثی مطالعہ

تانیثیت انگریزی لفظ feminism کا اردو متبادل ہے۔ یہ ایک کثیر الجہتی اصطلاح ہے جس میں حقوق نسواں اور آزادی نسواں کے نظریے اور تحریک کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ عورت اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہے، اپنے استحصال کے خلاف بولتی ہے اور بلا جنسی تفریق وہ اپنے لیے مرد کے برابر آزادی اور حقوق طلب کرتی ہے یہی رجحان تانیثیت ہے جو تحریک کی شکل اختیار کرتا ہے۔ عورت سمجھتی ہے کا اس کا مرد سے

Read more

پس قانون: پاکستانی قانون پر برطانوی نوآبادیاتی اثرات

نوآبادیاتی نظام (Colonialism) کی اصطلاح کا استعمال، ہمارے مین سٹریم میڈیا، علمی حلقوں اور روزمرہ کی گفتگو میں شاذونادر ہی کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر پڑھے لکھے لوگ بھی اس اصطلاح سے ناواقف ہیں۔ ہمارے ہاں عام طور پر برصغیر پاک و ہند میں مسلم دور حکومت کو جہالت، پس ماندگی، لاقانونیت اور عیش و عشرت کا زمانہ قرار دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف انگریز کے دور حکومت (جسے نوآبادیاتی نظام بھی کہا جاتا ہے ) کو ترقی، امن و

Read more

آپ نے محبت کی قوس قزح کے کتنے رنگ دیکھے ہیں؟

علی حسن اویس کا ڈاکٹر سہیل کو خط جناب مکرمی ڈاکٹر خالد سہیل! آپ مجھے نہیں جانتے مگر میں آپ کو جانتا ہوں اور پچھلے تقریباً تین سال سے جانتا ہوں۔ میرا آپ سے پہلا تعارف ”ہم سب“ پر مضمون بعنوان ” کارل مارکس ایک وفادار انقلابی اور بے وفا شوہر“ سے ہوا اور تب سے آج تک آپ کی تحریروں کا منتظر رہتا ہوں۔ ظاہر ہے کہ آپ کا تعارف صرف الفاظ اور ان میں مقید معلومات تک ہی محدود ہے۔

Read more

حاکم اور عوام کا اون، دودھ اور گوشت

یہ دنیا صرف صاحب حیثیت کی جنت ہے۔ عام آدمی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہ ہمیشہ غلام اور مزدور ہی ہے اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔ اس کی حالت سدھارنے کے نام پر اس کا استحصال کر لیا جاتا ہے اور یہ پھر اپنے کوہلو میں جت جاتا ہے اور شرفاء کے لئے خون پسینہ ایک کر دیتا ہے۔ اشرافیہ کا مطمح نظر بس ایک ہی رہا ہے کہ عام آدمی کو آم آدمی ہی سمجھا اور بنایا

Read more

اسلامی معاشی نظام کے ماہرین کہاں ہیں؟ مکمل کالم

میرے ایک عزیز دوست نے مشورہ دیا ہے کہ میں ملکی مسائل کے بارے میں غور کرنا اور ان پر کڑھنا چھوڑ دوں، میرے دوست کی یہ بات اس لحاظ سے درست ہے کہ ہمارے ملک کو جس قسم کے مسائل کا سامنا ہے انہیں حل کرنا کسی فانی انسان کے بس کی بات نہیں، شاید اسی لیے ہم نے اپنی اپنی پسند کے لیڈر کو دیوتا کا درجہ دے رکھا ہے۔ لیکن میری مجبوری یہ ہے کہ نہ تو

Read more

اراکین اسمبلی کی دولت اور عوام کی غربت میں غیر معمولی اضافہ

پاکستان برسوں سے معاشی بدحالی کا شکار ہے مگر پھر بھی ملک میں اشرافیہ لکھ پتی سے کروڑ پتی بلکہ ارب پتی ہوتی جا رہی ہے جبکہ عام پاکستانی لکھ پتی سے ککھ پتی ہو رہے ہیں۔ ایسے میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑھائی میں ہے۔ جی ہاں وہ طبقہ ہے ہمارے حکمران اور سیاستدان، جو عوام کے مسائل حل کرنے کے نام پر ووٹ لے کر پارلیمنٹ پہنچتے ہیں۔ اتنے

Read more

ڈیفالٹ کو اردو میں کیا کہتے ہیں؟

حکمران اشرافیہ کے کچھ افراد کو یہ سوال کرتے سنا گیا ہے کہ ڈیفالٹ کو اردو میں کیا کہتے ہیں۔ تو جواب عرض ہے کہ اردو میں ڈیفالٹ کا آسان مطلب ”نا دہندگی“ ہے۔ اور نادہندہ سے مراد ایک ایسا شخص، گروہ، تنظیم یا ملک ہے، جو اپنا واجب الادا قرض یا اس کا کوئی حصہ بروقت ادا کرنے سے انکار کردے، یا وہ طے شدہ ادائیگی کرنے سے قاصر ہو۔ جیسا کہ ظاہر ہے ڈیفالٹ کا ترجمہ اور تعریف

Read more

سید سبط حسن: قوم نے اس عظیم مفکر کو کیوں بھلا دیا!

بعض لوگ زندگی سے بڑے ہوتے ہیں اور بہت کچھ کر جاتے ہیں۔ ایک ایسا شخص جو ادیب بھی تھا، صحافی بھی اور سیاسی میدان میں عملی طور پہ شامل بھی، مظلوموں اور مفلسوں کا ہمدرد، ظلم اور تشدد کے خلاف آواز بلند کرنے والا انسان دوست، استحصالی نظام کا تجزیہ کرنے والا مفکر، متبادل نظام پہ روشنی ڈالنے والا ریفارمر، ایک سادہ زندگی گزارنے والا درویش؛ کہنے کو وہ صرف ایک ذات تھی لیکن وہ اپنے اندر ان سب

Read more

فرانز فینون: جائزہ اور افادہ، وفات کے ساٹھ برس بعد

نو آبادیاتی نظام Colonialism کے بارے میں یہ خوش گمانی عرصہ ہوئی دور ہو چکی کہ محکوم ممالک کو آزادی ملنے کے ساتھ اس کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ اس کا ثبوت پوسٹ کولونیلزم، نیو کولونیلزم، ڈیجیٹل کولونیلزم اور ہائپر کلونیلزم جیسی اصطلاحات کا وہ استعمال ہے جو نو آبادیات کے بہ ظاہر خاتمے کے بعد شروع ہوا۔ نوآبادیات یا استعماریت کے بارے میں ایک بات تو طے ہے کہ آج دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں ہے کہ جس

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب زندگی کے راز

مصنف ڈاکٹر خالد سہیل تبصرہ دعا عظیمی ”زندگی ایک راز ہے اور وقت بھی ایک راز ہے اور وقت کی کوکھ میں بہت سے اور راز بھی پوشیدہ ہیں جن سے شاعر اور دانشور ہمارا تعارف کراتے رہتے ہیں تاکہ ہم وقت کی اہمیت اور افادیت کو بہتر سمجھ سکیں۔“ یہ ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب ’زندگی کے راز‘ کی چند سطور ہیں۔ اس کتاب کو ”کتابی دنیا“ والوں نے زیور طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ کتھئی اور سرمئی رنگوں

Read more

ادب، معیشت اور سیاست

ادب، معیشت اور سیاست میں قریبی رشتہ موجود ہے۔ غور کریں تو سیاسی اور معاشی انقلابات حقیقت بن کر ادب کے توسط سے ہی عوامی شعور میں ابلاغ کی راہ پاتے ہیں لیکن تاریخ میں کئی بار ایسا بھی ہوا ہے کہ ادب نے سیاسی اور معاشی انقلابات کی راہ ہموار کی ہے۔ ادب انقلاب سے قبل، دوران انقلاب اور بعد از انقلاب، تینوں مرحلوں میں اپنا اثر و رسوخ دکھاتا ہے۔ اسی طرح ہمارے ناقدین میں ایک عمومی رائے

Read more

امید پرستی اور پاکستان کے عوام

فرانس کے شہرہ آفاق مصنف والتئیر کی یوں تو سینکڑوں تحریریں ہیں۔ لیکن جو دوام اور شہرت اس کے ناول ”کاندید“ (امید پرست) کو حاصل ہوئی، اس مقام سے اس کی دوسری تحریریں محروم رہی ہیں۔ کاندید بنیادی طور پر انسانی زندگی میں حق و باطل، ظالم اور مظلوم کے اثرات کا بیان ہے۔ آج کا یورپ اٹھارہویں صدی کی اس روشن خیال فکر کا نتیجہ ہے جس نے یورپ کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو اپنے سحر میں لیا۔

Read more

تنہائی کے سو سال: ریویو

یہ سلسلہ مئی کی آخری تاریخوں میں اس صبح شروع ہوا جب لاہور کی گہماگہمی میں بیٹھے اپنی نوعیت کے تنہا شاعر اور میونخ میں بیٹھی لاک ڈاؤن کے دنوں کی گرم دوپہریں اور سرد راتیں تنہا گزارتی ایک لڑکی نے مل کر قدیم مصریوں کی نہ قابل فراموش ایجاد، نظام وقت، کو (جس کو ماپنے کا ایک آلہ صدیوں بعد جرمن قفل ساز نے گھڑی کی صورت میں بنایا تھا) مات دی اور یوں انہوں نے کرہ ارے دو

Read more

اگر لوگ خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو جائیں تو۔ ۔ ۔

کارل مارکس کا ایک قول مشہور ہے اور میں نے جیسے کئی بار کہیں پڑھا ہے اسی طرح اس قول کو نقل کر رہا ہوں۔ وہ قول اس طرح ہے کہ ”اگر لوگ بھوک اور افلاس سے خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو جائیں تو یہ سرمایہ دار رسیوں اور کفن کی دکانیں کھول دیں گے“ اس وقت ہر طرف سیلاب ہی سیلاب کی تباہ کاریاں پھیلی ہوئی ہیں۔ لوگ بھوک افلاس، بے گھری، دربدری اور بیسیوں دیگر مسائل کا سامنا

Read more

احمد جاوید کا ناول جینی

کارل مارکس۔ اک نابغہ کہ جس نے اپنی فکر و فلسفہ سے اک عالم کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ کہیں ہدف ملامت ٹھہرائے گئے تو کہیں مسیحا قرار دیے گئے۔ اقبال انہیں مسیح بے صلیب اور کلیم بے تجلی قرار دیتے ہیں تو بعضوں کا مذہب ان کا محض نام لینے سے بھرشٹ ہوتا ہے۔ تاہم ہر دو صورتوں میں ان کے افکار کی اہمیت مسلمہ ہے کہ جس سے چشم پوشی ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان

Read more

کامیابیوں کو سراہیں مگر اپنی توہین مت کریں!

جب ہم بچوں کو ان کی کامیابیوں کے لیے سراہتے ہیں تو ہمیں فطری صلاحیت یا ذہانت پر کم اور کوشش پر زیادہ توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ جیسا کہ ہمیں انھیں بتانا چاہیے کہ ”آپ نے اس ہوم ورک پر بہت محنت کی!“ بجائے اس کے ”آپ بہت ذہین ہیں“ ۔ اسی طرح بچوں کی موجودگی یا عدم موجودگی، ہر دو صورتوں میں دوسروں کے سامنے بھی ہمیں بچوں کی فطری صلاحیتوں کی بجائے اختیاری خوبیوں کو اجاگر کرنا چاہیے۔

Read more

مائنس عمران ہوا تو مسلم لیگ نون بھی پلس نہیں ہو گی

ترکی کے ادیب اورحان پاموک سے کسی نے پوچھا کہ آپ کیوں لکھتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ’میرے اندر ایک دھن سی پیدا ہوتی ہے جو مجھ سے لکھواتی ہے یا جیسے غالبؔ نے ”آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں“ کہا ہے۔ کارل مارکس نے کہا تھا کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے، پہلے سانحے اور پھر تماشے کی صورت میں۔ آج پاکستان میں تاریخ خود کو دہرا رہی ہے، بس منظرنامہ بدل چکا ہے

Read more

اقبال اور اشتراکیت

اشتراکیت ایک مکمل نظریہ حیات کا نام ہے جس کے اندر سب کو مساوی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ اشتراکیت کا یہ نظام کیپٹلزم کے خلاف سامنے آیا۔ اس نظام کا خواب 1844 میں کارل مارکس نے دیکھا۔ جو آگے چل کر مارکس ازم کے نام سے منسوب ہو گیا۔ اس نے کسان اور محنت کش کو اہمیت دی۔ اس نظام کا مقصد یہ تھا کہ کسان اور محنت کش کو اس کا حق ملنا چاہیے۔ کارل مارکس نے اس کے

Read more

کارل مارکس, فرانز مہرنگ اور شاہ محمد مری

” کارل مارکس کی داستان حیات“ فرانز مہرنگ نے لکھی اور اسے اردو قالب میں ڈھالا، معروف دانشور، مورخ، محقق، انسان دوست، ترقی پسند ادیب ڈاکٹر شاہ محمد مری نے۔ اس کا اردو قالب مجھے کچھ برس پہلے پڑھنے کو ملا۔ اس سے پیشتر مارکس کی زندگی کے بارے میں کئی عبارتیں اور مضامین ملتے تھے لیکن ٹکڑوں میں۔ شاہ محمد مری صاحب کی اس ترجمہ کی ہوئی کتاب کا دوسرا ایڈیشن 2016 میں شائع ہوا اور میں نے اسے

Read more

فلسفہ، سائنس اور تہذیب

ہمارے ملک میں کتاب دوستی کا جائزہ ڈاکٹر ساجد علی کے اس جملے سے لیا جا سکتا ہے کہ ”اس ملک میں کسی ترجمے کا دوسرا ایڈیشن چھپنا بہرحال ایک واقعہ ہے“ ۔ یہ وہ فقرہ ہے جو انہوں نے کارل پوپر کے چند منتخب کردہ مضامین کا اردو میں ترجمہ کرتے ہوئے ایک کتاب بعنوان ”فلسفہ، سائنس اور تہذیب“ میں تحریر کیا ہے۔ معلوم نہیں 26 سال پہلے مترجم نے ان مضامین کا انتخاب کن بنیادوں پر کیا تھا۔

Read more

تھامس ہابس کا معاہدہ عمرانی اور جدید جارح ریاستیں

ایک انگریز سیاسی مفکر تھامس ہابس نے تقریباً چار سو سال پہلے اپنے تصور معاہدہ عمرانی میں یہ کہا تھا کہ انسان اپنے ابتدائی دور میں غیر محفوظ تھا۔ اسے دوسرے انسانوں سے اپنی جان و مال کے لالے پڑے رہتے تھے۔ طاقتور کمزور کے جملہ حقوق کو اپنی مرضی کے تابع سمجھتا تھا۔ یعنی معاشرہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی کہاوت کا مصداق تھا۔ پھر معاہدہ عمرانی کے تحت اسی معاشرے کے لوگوں نے خود میں سے

Read more

یورپ: جنت کی ٹکٹوں سے صنعتی انقلاب تک

عظیم الشان رومن سلطنت صدیوں پہلے ٹوٹ چکی ہے اور قسطنطنیہ میں موجود بازنطینی سلطنت بھی سیاسی اور انتظامی طور پر کمزور ہے۔ ادھر جرمنی کے کچھ علاقوں میں ہولی رومن ایمپائر قائم ہو چکی ہے۔ لیکن یورپ میں ابھی بھی ایک ایسی طاقت موجود ہے جس کا یورپ کے سیاسی اور بالخصوص مذہبی معاملات پر کافی گہرا اثر و رسوخ ہے۔ اور وہ طاقت موجود اٹلی کے شہر روم میں موجود مرکزی کیتھولک چرچ ہے، جو کے پورے یورپ

Read more

بُرا حال ہویا پنجاب دا….

مہنگائی عام لوگوں کی آمدنی اور اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں تناسب کا نام ہے۔ مہنگائی کا واویلا بڑھنے لگے تو جان لیجئے کہ عام شہریوں کی آمدنی جامد ہو گئی ہے جبکہ منڈی میں اجناس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ ان دنوں بھی غریب اور سفید پوش طبقہ چکی کے دو پاٹوں میں پس رہا ہے۔ وسائل کم ہیں اور ضروریات زندگی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے۔ 2016ءمیں افراط زر کی شرح 3.8 فیصد تھی

Read more

کیا خان صاحب پنجاب کے ضمنی الیکشن ہار گئے؟

پنجاب کے 14 اضلاع میں 20 صوبائی نشستوں پر 175 امیدواران کے درمیان ہونے والے مقابلے میں ایک طرف سیاسی جماعتیں اور ان کے نمائندہ سیاست دان برسر پیکار تھے تو دوسری طرف عام آدمی، اس کا سیاسی، سماجی، معاشی شعور، پاکستان کے ماضی قریب کے سیاسی حالات بارے مزدور، ریڑھی بان، متوسط طبقے کی رائے۔ پڑھے لکھے، کسان، کھیت مزدور، ان پڑھ، نیم پڑھے لکھے اور کم پڑھے لکھے نوجوان طبقہ کی شعوری صورت کے درمیان بھی ایک جنگ

Read more

ارونا آصف علی: ہندوستان چھوڑ دو تحریک کی ’ہیروئن‘ جو اپنے نظریات کی بنا پر شوہر سے دور ہوئیں

آصف علی 41 سال کے تھے اورارونا 18 سال کی۔ مگر گھوش کے مطابق ارونا اور آصف علی کا نظریہ اور ذوق اس قدر یکساں تھا کہ عمر میں 21 سال کے فرق کے باوجود وہ شادی کے بندھن میں بندھنے کے لیے پرعزم تھے۔

Read more

شخصیات کی آڑ میں نظریات پر نشانہ

میں آج سوچ رہا تھا کہ انسانی مساوات۔ انصاف اور بلاتخصیص احترام کے نظریے کے حامل افراد کے ساتھ پوری معلوم تاریخ میں کیا سلوک کیا گیا ہے۔ قدیم ایران میں مزدوک نامی شخص نے ظالمانہ طبقاتی نظام اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف آواز بلند کی اور محروم۔ غریب اور مظلوم عوام کی اکثریت اس کے گرد جمع ہو گئے۔ اس کا پیغام سادہ اور عام فہم تھا کہ ہمیں اپنے مجموعی وسائل اور دولت و املاک

Read more

ملی بقا کا انقلاب آفریں دستور العمل

حضرت شاہ ولی اللہؒ کی فکری فراست کی بدولت مرہٹوں کا زور ٹوٹ گیا تھا۔ وہ اپنے عہد کے بہت بڑے منصوبہ ساز (strategist) تھے۔ انہوں نے احمد شاہ ابدالی سے بروقت امداد طلب کر کے شمالی ہندوستان کے مسلمانوں کو مکمل تباہی سے بچا لیا تھا اور اسی دوران مسلمانوں کی زبوں حالی کے حقیقی اسباب و علل بھی دریافت کر لیے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سوچنے سمجھنے اور موثر حکمت عملی اختیار کرنے کی بے پناہ صلاحیتیں

Read more

روحانی خوابوں اور جلیبی دار گفتگو کے ذریعے شہرت پانے والے ماورائی میڈیائی بابے

80 کی دہائی مرد مومن مرد حق ضیاء الحق کی وجہ سے کافی مشہور ہے، اس دور میں ایک ایسے کلچر کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی جسے یورپ کی اجتماعی دانش چار دیواری تک محدود کر کے ہر انسان کا انتہائی ذاتی عمل قرار دے کر آگے بڑھ چکی تھی اور ریاستی معاملات کو تمام مذاہب عالم سے الگ تھلگ کر کے ریاست کو ایک سیکولر چہرہ عطا کر چکے تھے تاکہ ریاست ہر طبقہ کو رنگ، نسل

Read more

قرضے، مہنگائی اور نظام کی ناکامی

ہمارا وطن پاکستان ان دنوں خوفناک معاشی بحران کی دلدل میں دھنسا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ملکی کرنسی کی قدر روزانہ کی بنیادوں پر کم ہو رہی ہے، جس سے مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے۔ ملکی خزانہ اس حد تک خالی ہو چکا ہے کہ چند ماہ کی تنخواہوں کے سوا کچھ نہیں بچا۔ سرمایہ دارانہ ممالک کے معیشت دان اور معاشی تجزیہ کار پیش گوئی کر رہے ہیں کہ پاکستان کو اپنی مالیاتی ضروریات کو پورا

Read more

مشکل فیصلے

بحیثیت فرض شناس پاکستانی قوم ہم نے کبھی اس بات کا عمیق مطالعہ و مشاہدہ کیا ہے کہ جب کبھی ارض مقدس پاکستان معاشی مشکلات کے گورکھ دھندوں میں پھنسا ہے تو ہمارے نام نہاد جمہوریت پسند راہنما (قطع نظر کسی بھی سیاسی جماعت کے ) ہم عوام کو ہی کیوں دو دھاری تلوار کے نیچے کاٹتے ہیں۔ ہمیشہ ہی عوام کو کیوں کہا جاتا ہے کہ قربانی کے لئے تیار ہو جائیں کیونکہ مشکل حالات ہیں اور ہمیں ملکی

Read more

قوموں کی ترقی کے رہنما اصول

کسی بھی فرد، ادارے یا ملک کی ترقی کے کچھ رہنما اصول ہوتے ہیں۔ یہ چند اصول اگر کسی بھی قوم میں ہوں تو اس ملک کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا اور یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کے ملک میں جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام ہو تب ہی آپ ترقی کریں گے۔ آپ کے ملک میں قدرتی وسائل ہوں تب ہی آپ ترقی کریں گے۔ جاپان، سنگاپور اور جنوبی کوریا میں تو قدرتی ذرائع نہ ہونے

Read more

لینن کا مقبرہ

وطن عزیز میں سوشلزم، کمیونزم وغیرہ کے بارے میں اتنا متواتر، موثر اور شدید پروپیگنڈا کیا گیا کہ کسی بھی عام پاکستانی کو ان نظاموں کے اکابر یا ان سے متعلق کسی بھی چیز کا محض نام لینے سے ہی دنیا اور عقبٰی سے محرومی کا خطرہ نظر آنے لگتا تھا۔ اس موثر پروپیگنڈے کی بڑی وجہ ملک کے بالادست طبقات میں شخصیات اور اداروں کی امریکہ پرستی اور مغرب کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے کے بارے میں عمومی اتفاق

Read more

"پاکستان میں "خونی انقلاب

پاکستان میں ایک ”خونی انقلاب“ کی نوید کچھ روز پہلے شیخ رشید صاحب نے دی وہ عموماً ایسی بے پر کی اڑایا کرتے اور سیاسی ”پیشن گوئیاں“ بھی کرتے رہتے ہیں جس کی حیثیت نہیں ہوتی۔ میرا مشاہدہ اور مطالعہ ہے کہ کوئی بھی انقلاب دائمی نہیں ہوتا اور نہ ہی مسئلہ کا واحد حل انقلاب ہی ہے۔ اگر کبھی کوئی انقلاب برپا ہوا اور کامیابی سے بھی ہمکنار ہو گیا تو یہ صرف اس کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے

Read more

ایسے مزید کتنے سال اور آپ چلا لیں گے؟

دنیا میں کافی مفکرین گزرے ہیں جنہوں نے مزدور طبقے کے لیے آواز اٹھائی۔ لیکن مزدور طبقے کے لئے جو آواز جو نظریات کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز نے دیے ہیں اور سوشلسٹ کی بنیاد پر کمیونزم حکومت کا تصور دیا ہے وہ مقام کسی اور کو حاصل نہیں ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں سرمایہ درانہ نظام موجود ہے۔ دنیا میں پاکستان یا ترقی پذیر ممالک کے علاوہ مزدور طبقہ کو پھر بھی کافی مراعات حاصل ہے۔ لیکن پاکستان

Read more

عامر لیاقت حسین: ’ہم نے تو ایسی زندگی گزار لی کہ مر بھی گئے تو کوئی افسوس نہیں ہو گا‘

عامر لیاقت حسین نے خودکُشی کی کوشش کی تھی مگر بروقت ہسپتال پہنچا دیے گئے تھے جہاں ڈاکٹرز نے اُن کا معدہ صاف کر کے دوا کا اثر تو زائل کر دیا تھا مگر چونکہ اقدام خودکُشی پاکستانی قانون کے تحت جرم تھا لہٰذا پولیس کیس بن گیا تھا اور ظاہر ہے کہ ہسپتال کے ڈاکٹرز نے مزید تفتیش یا قانونی کارروائی کے لیے پولیس کو بلوایا ہوگا جو (ہمارے وہاں پہنچ جانے تک) نہیں آ سکی تھی

Read more

مطمئن رہنے کا فن سیکھنا پڑتا ہے!

میرا سفر گاؤں کی کچی گلیوں میں گلی ڈنڈا کھیلنے والے دوستوں سے شروع ہوا تھا اور پھر اس فہرست میں وہ بھی شامل ہوئے، جو گولف کھیلنے اور گھڑ سواری کے شوقین ہیں۔ ان سب کو میں تین دائروں، حصوں یا اقسام میں تقسیم کرتا ہوں۔ ایک وہ ہیں، جن کے پاس دولت بھی ہے، دو چار کے پاس شہرت بھی ہے، کاریں بھی ہیں، شراب بھی ہے، ایک نہیں بیک وقت کئی کئی گرل یا بوائے فرینڈز بھی

Read more

چے کے دل میں موجزن انسان دوستی کے نام

 وہ 14 جنوری 1928ء کو ارجنٹائن کے شہر رسایوں میں پیدا ہوا ۔ ایک ہشتو ہونے کے باعث وہ جسمانی طور پر کمزور تھا ( بلوچی میں ہشتو اس بچے کو کہتے ہیں جو نو ماں کی بجائے آٹھویں ماہ کو قبل از وقت پیدا ہوتا ہے )  ۔ جسمانی کمزوری کے ساتھ ہی وہ دمہ کے مرض میں مبتلا تھا۔ اس کمزور بچے کو دو سال کی عمر میں ہی مشکلات و تکالیف کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔

Read more

کارل مارکس اور انقلابی تحریکوں کا مستقبل

دنیا بھر میں قومی آزادی، سماجی انصاف، انسانی برابری اور محنت کشوں کے حقوق کے علم بردار، انقلابی، سوشلسٹ، مارکسسٹ جمعرات 5 مئی کو سوشلسٹ نظام کی معاشی بنا دیں مرتب کرنے والے عظیم فلسفی کارل مارکس کی 204 ویں سالگرہ منا رہے تھے۔ قبل ازیں، دنیا بھر کے ترقی پسندوں نے سال 2018 ء کو مارکس کے دو سو سال کے طور پر بھرپور طریقے سے منایا تھا۔ لیڈز میں کمیونسٹ پارٹی برطانیہ اور ساوتھ ایشین پیپلز فورم نے

Read more

خالد سعید: بالشتیوں میں سربفلک

موجودہ سیاسی و سماجی تناظر میں کثرت سے استعمال ہونے والی اصطلاح "بالشتیا” کے خالق پروفیسر خالد سعید 29 مئی کو اس دنیا سے سدھار گئے۔ وہ جب موجود تھے حتیٰ کہ جب وہ صاحب فراش بھی تھے کبھی یہ احساس تک نہ ہوا کہ دنیا ان کے بغیر کیا ہو گی۔ اس بات کا احساس عین اس صبح کو ہوا جب ان کے جانے کی اطلاع ملی۔ یہ اطلاع گو غیر متوقع نہیں تھی مگر پھر بھی ناقابل یقین

Read more

لاہور کا سقراط

ڈاکٹر خالد سہیل اور محترمہ عظمیٰ عزیز صاحبہ کی کتاب ہے۔ جدید طرز کے خطوط اور کتاب کے ہیرو کے ادبی اور فلسفیانہ کالمز اس میں شامل ہیں۔ دو سو چودہ صفحات پر مشتمل ظہیر کاشمیری صاحب کے ایک کالم کے عنوان سے اخذ کردہ نام والی کتاب پڑھتے محسوس ہوا جیسے سفر الٹا چل نکلا ہو۔ کتاب پڑھتے سمے میرے ہاتھ میں بھی سچ کی پاداش میں زہر کا پیالہ ہو۔ کردار کہانی سے نکل کر اس لمحے میں

Read more

کہاں گئے محمود و ایاز

محمود و ایاز کا ایک ہی صف میں کھڑا ہو جانا تو ہم غالباً ایک صدی سے سنتے آئے ہیں اور یہ راگ الاپتے بھی۔ سوال یہ ابھرتا ہے کہ کیا ایک صف میں کھڑا ہو جانا محض اتفاق ہے یا کچھ اور؟ لیکن ساتھ ہی دل و دماغ کی طرف سے گواہی آتی ہے کہ علامہ اقبال علیہ رحمہ کے تو ہر ہر مصرعے میں فلسفہ پنہاں ہے تو جہاں فلسفہ ہو وہاں محض اتفاق کیسے ہو سکتا ہے۔

Read more

چہروں کے ’گل‘ ہزارہا ناچیں نگاہ میں ”۔ نامور شاعر اور عالم، مقصود گل کا 72 واں یوم پیدائش

آج سندھ کے منفرد مزاحمت نگار اور رومان نویس شاعر، عالم، دانشور، مترجم، حضرت سچل سرمست رحہ کے شارح، کالم نویس، بچوں کے ادیب اور اپنی ذات میں ادارہ ساز اور شخصیت ساز شیریں مزاج شخص، ’مقصود گل‘ ( 1950 ء۔ 2015 ء) کی سالگرہ کا دن ہے، جو آج سے 72 برس قبل، اس حسین سرزمین سندھ کے لاڑکانے ضلع کے خوبصورت شہر رتودیرو میں، اپنے دور کے منجھے ہوئے سندھی شاعر، استاد، تعلیم دان، صحافی اور سماجی کارکن، قاضی عبدالحی ”قائل“ سرشاری کے گھر، 15 اپریل 1950 ء کو سنیچر کے روز پیدا ہوئے، جو ہجری تقویم کے لحاظ سے 27 جمادی الثانی 1369 ہجری کی تاریخ تھی۔

Read more

ناکام ہیرو، کامیاب ولن

انسان کی بڑی خواہشات میں سے ایک حکمرانی رہی ہے۔ شہرت منزل کو پانے کے لیے ایک سیڑھی ہے۔ خود کو دوسرے انسانوں سے اعلیٰ و ارفع ثابت کرنا اور منوانا حکومت کے حصول و دوام میں ہمیشہ سے مدد گار رہے ہیں۔ قدیم زمانہ سے حکمران، باد شاہ اور ان کے خاندان کے افراد ما فوق البشر خصوصیات کے حامل ہونے کے دعوے ٰ دار رہے ہیں۔ مصر، جاپان، تبت، سیام اور رومن سلطنتوں میں تو ان کی دیوتا

Read more

زبان اور سماج

ہر زبان کے پس منظر میں ایک سسٹم ہوتا ہے جو سماج کی نشاندہی کرواتا ہے اندرونی لحاظ سے بھی اور بیرونی لحاظ سے بھی اسے جاننا بے حد ضروری ہے تب ہی وہ سماج و افراد کے مابین تعلق استوار ہے۔ کوئی بھی ریاست یا قوم زبان کے اس پس منظر کو جب تک نہ سمجھے اس کی کامیابی کے راستے ہموار نہیں ہوتے۔ بیسویں صدی سے قبل فرد کو مرکزی حیثیت حاصل تھی جو سماجی، کلچر کی ایک

Read more

یمن اور افغانستان میں کیا ہو رہا ہے؟

سرمایہ دارانہ نظام جہاں بہت سے مواقع پیدا کرتا ہے وہاں دوسری طرف بہت سے مواقع چھین لیتا ہے۔ شاید اسی لئے کارل مارکس نے کہا تھا کہ ”آخری سرمایہ کار جس کو ہم پھانسی دیں گے وہ ہو گا جس نے ہمیں دیگر لوگوں کو پھانسی پر چڑھانے کے لئے رسی فروخت کی ہو گی۔“ ایک طرف یہ نظام معاشی مواقعوں کی بہتات پیدا کرتا ہے تو دوسری طرف یہ نظام اپنے فائدے کے لئے پورے پورے ملک اجاڑ

Read more

گیم آف تھرونز کھیلنے والے اور گنگو بائی کاٹھیاواڑی

سعادت حسن منٹو نے اپنے دور کے اور خصوصاً بٹوارے کے وقت جو حالات دیکھے اس پر لکھا تھا ”کبھی کبھی میں سوچتا ہوں اپنی آنکھیں بند کر بھی لوں، مگر اپنے ضمیر کا کیا کروں“ ۔ میں یہ سوچ رہا ہوں کہ منٹو اگر آج اس معاشرے میں رہتا اور موجودہ دور کے تخت کے کھیل کے لئے حکمرانوں اور سیاستدانوں کی دلچسپی، محنت اور لگن دیکھتا تو کیا ہوتا؟ وہ کیا لکھتا؟ اس کے افسانوں کے عنوان کیا

Read more

پرویز ہود بھائی اقبال احمد کے خوابوں میں رنگ بھرتے ہیں

  اقبال احمد کی پیدائش بھارتی علاقے بہار میں ہوئی لیکن پروان پاکستان میں چڑھے۔ امریکہ میں پڑھتے رہے، وہیں پڑھاتے رہے۔ پاکستان کے پہلے مارشل لاء میں جیل ہوئی اور دوسرے میں سزائے موت سنائی گئی۔ تیسرے میں انہیں ناپسندیدہ شخص ڈیکلئیر کیا گیا۔ دراصل وہ حقوقِ انسانی کے علمبردار تھے۔ ایسوں کی سزائیں کچھ ایسی ہی ہوتی ہیں۔ اقبال احمد حد اور سرحد سے ماورا ایک مزاحمت کار تھے۔ کشمیر کی تحریکِ آزادی میں عملی طور پر حصہ

Read more

سیاسی لیڈر شپ اور عوام کی سیاسی تربیت

جب سے اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے کی مہم شروع کی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کے حواریوں کی جیسے نیندیں حرام ہو گئی ہیں۔ اپنی حلیف جماعتوں کے ساتھ صلاح مشورے تیز کرنے کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی نے جلسے جلوس بھی شروع کر دیے ہیں۔ اتوار کو پنجاب کے ضلع وہاڑی کی تحصیل میلسی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے اپنی تقریر میں اپوزیشن کے خلاف ہمیشہ

Read more

احمد خان کھرل اور پنجاب کی جاٹ بغاوت، جسے انگریزوں نے پھانسیوں اور جلاوطنیوں سے کچلا

دریائے راوی پار کر کے دائیں ہاتھ کچی پکی سڑک پر پانچ کلومیٹر دور جائیں تو پناہ دا کُھوہ سے ذرا آگے احمد خان کھرل کا مقبرہ ہے جنھیں قومی ہیرو سمجھا جاتا ہے۔

Read more

ایک گریجویشن لیول کا سٹوڈنٹ جس کا اپنا کوئی نقطہ نظر نہیں ہے

ایک گریجویشن لیول کا سٹوڈنٹ جو کہ حافظ ہونے کے ساتھ تھوڑی بہت مذہبی سمجھ بھی رکھتا ہے۔ گزشتہ دنوں کوچنگ کے سلسلہ میں میرے پاس آیا، دونوں ہاتھوں کے ساتھ جھک کر مصافحہ کرنے کے بعد انتہائی مؤدبانہ انداز میں میرے سامنے بیٹھ گیا۔ میں نے پوچھا کس سلسلہ میں آئے ہو تو اس کا کہنا تھا کہ میں بی اے کی انگریزی کی کوچنگ کے سلسلہ میں حاضر ہوا ہوں مزید پوچھنے پر اس نے بتایا کہ درس

Read more

کیا کبھی کسی موب لنچنگ کا حصہ کسی دینی جماعت کاسر براہ یا کوئی پیر بنا ہے

بی بی سی اردو نیوز کے مطابق توہین مذہب کے الزام میں قتل ہونے والے ایک ذہنی مریض مشتاق کے بھائی ذوالفقار نے بتایا کہ "جب میں نے مشتاق کو غسل دیا تو میرے لئے بہت تکلیف دہ وہ لمحہ تھا جب میں نے دیکھا کہ اس کے جسم کا کوئی ایک حصہ بھی ایسا نہیں تھا جہاں زخم نہ ہو” اس نے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ "یہی نہیں بلکہ غسل دیتے ہوئے مجھے پتہ چلا کہ ظالموں نے

Read more

انسان دوستی کی قوس قزح

چونکہ میری MAZDAگاڑی کی پلیٹ پر۔ HUMANIST۔ لکھا ہے اس لیے مجھ سے اکثر یہ سوال پوچھے جاتے ہیں کہ ہیومنسٹ کون ہوتا ہے؟ ہیومنزم کا فلسفہ کیا ہے؟ آپ کس قسم کے انسان دوست ہیں؟ میرے لیے ایسے سوالوں کا ایک جملے یا چند الفاظ میں جواب دینا مشکل ہوتا ہے اور اگر جواب دیتا بھی ہوں تووہ تسلی بخش جواب نہیں ہوتا۔ چنانچہ میں نے سوچا کہ میں ان سوالوں کا تفصیلی جواب لکھوں اور یہ بھی رقم

Read more

انجینئر محمد علی مرزا کی اپنے سٹوڈنٹس کو وارننگ

مادی دنیا میں رہتے ہوئے مادی حقیقتوں سے انکار بھلا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ دنیا کے سب فلسفے پیٹ سے ہی شروع ہوتے ہیں اور پیٹ پر ہی ختم ہوتے ہیں جو اس حقیقت کو جھٹلا کر کوئی بھی فیشنی جبہ پہنتا یا کوئی بھی خول اپنے چہرہ پر چڑھا کر عظیم بننے کی کوشش کرتا ہے یہ سب جھوٹ اور شعبدہ بازی تصور کیا جائے گا۔ کارل مارکس کا سارے کا سارا فلسفہ اسی مادی حقیقت کے گرد

Read more

بگڑتی معیشت اور شاہ ولی اللہ کا فلسفہ

ملکی سیاست کے حالیہ منظر نامے میں خاص و عام کی اکثریت ملکی معیشت کی گرتی ہوئی صورتحال پر شکوہ کناں اور فکر مند ہے۔ یہ فکر مندی بجا ہے، کیونکہ ماضی قریب کی مثالیں اس کے بھیانک نتائج پر شاہد ہیں۔ چاہے خلافت عثمانیہ کا سقوط ہو یا سویت یونین کا زوال، ان میں جنگوں سے زیادہ معیشت کی کمزوری انہیں لے ڈوبی۔ ظاہر ہے جب ریاست اپنے وسائل سے عام آدمی کے مسائل حل نہ کرسکے اور ان

Read more

پاکستان کا تعلیمی اور کھیلوں کے میدان میں گرتا ہوا معیار

اگر ہم پاکستان کے کسی بھی سکول یا کالج کے اشتہاری بورڈ یا پمفلٹ پڑھ لیں تو ہمیں یہ بات مشترکہ طور پر نظر آئے گی کہ ہمارے ادارے کے پڑھے ہوئے بچوں کی بورڈ میں پوزیشنز آئی ہیں. اتنے نمبر آنے والے طالبعلم کو مفت داخلہ دیا جائے گا. اور پھر بچوں میں پڑھائی کے نام پر ایک ریس شروع ہو جاتی ہے. بچے صبح آٹھ بجے سکول کالج کے لیے جاتے ہیں اور واپس آکر تین چار بجے

Read more

خرم بھائی، مولانا رومی اور مرغ گویم

مرغ گویم باہر نکلم چیل جھپٹم جان کھویم مرغ گویم مرغ گویم مرغ گویم مرغ گویم اور مرغ نے کہا، میرے بچو میرے بچو، جوتم باہر نکلو گے تو چیل جھپٹا مار کر تم کو لے جائے گی اور تم اپنی جانوں سے چلے جاﺅ گے، اپنی جانوں کو کھو دو گے۔ لہٰذا باہر نہ نکلا کرو۔ چیلوں سے ڈرا کرو مرغ گویم، مرغ گویم، مرغ گویم۔ مولانا شمسی کی آواز میں مثنوی مولانا روم کی طرز پر بڑے انداز

Read more

کیا سوال اٹھانا جرم ہے؟

تاریخ کے اوراق پلٹنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سوال اٹھانے کا جرم قدیم ہے۔ اس کی پاداش میں مارے جانا، ہمسر زندان ہونا، مصائب و آلام کا جھیلنا بھی روایات سے ثابت ہے۔ سوال کے جرم کی سزا سے تو موسیٰ بھی بچ نہیں پائے۔ حضرت خضر  نے موسیٰ سے اپنی راہیں جدا کرلی۔ حالانکہ موسیٰ کا سوال اٹھانا فطری امر تھا۔ حضرت خضر کے منع کرنے کے باوجود موسیٰ کا یوں گویا ہونا، کم فہمی، کم علمی کا

Read more

طلاق یافتہ یا بیوہ کے لیے ہمارے اکابر کا ردعمل

لڑکی کا شوہر انتقال کر جائے یا اسے طلاق ہو جائے تو وہ ایک نئی مصیبت کا شکار ہو جاتی ہے۔ ۔ ۔ طلاق یافتہ عورت یا بیوہ کے لیے دوسرا ساتھی ملنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ معاشرے کے دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جو ایک عورت کے لئے نہ صرف تکلیف دہ ہے بلکہ نا ممکن بھی ہے اس سلسلے میں گو کہ مغرب میں کافی بہتری آئی ہے مگر ہم ابھی تک اپنے

Read more

یورپ کی سیاست جدید دور میں اور اس کا پس منظر

ڈارون کا اصول طاقتور کا قائم رہنا اور اسی اصول کو میکیاولی کے ہاں فروغ ملنا اس بات کا عکاس ہے کہ اب وہی زندہ رہے گا جو اپنے حقوق خود مانگے گااور اپنے لیے خود جدوجہد کرے گا. اسی بات سے آگے چلتے ہوئے ہر فلسفی اور ہر ذی شعور انسان نے کچھ مخصوص نعرے لگانے شروع کر دیے. لوگوں کے احساسات اور جذبات ایسے سحر انگیز نعروں میں جکڑ لیے گئے. مثال کے طور پر حریت, مساوات, آزادی اظہار

Read more

گلگت بلتستان : منگو کوچوان اور عبوری صوبہ کی کہانی

1857 کی جنگ آزادی ہند کو کچلنے کے بعد تاج برطانیہ نے مغلیہ سلطنت کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو رنگون کے ایک جیل میں مرتے دم تک قید کر دیا – رنگوں کے اس زندان  میں مرنے سے قبل بہادر شاہ ظفر نے انسانی روح کو ہلا دینے والی شاعری کے زریعے اپنی بے بسی اور بدنصیبی کا زکر ان الفاظ میں کیا. کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار

Read more

حسن ناصر: قلعہ لاہور میں دورانِ حراست ہلاک ہونے والے کمیونسٹ رہنما جن کی والدہ نے ان کی لاش پہچاننے سے انکار کر دیا

لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں قبرکشائی کی کارروائی کے دوران ایک بزرگ خاتون آگے بڑھتی ہیں۔ لاش کے بالوں کو ٹٹولتی ہیں، ماتھے کو گھورتی ہیں اور دانتوں پر ایک ماہر دندساز کی طرح غور کرنے کے بعد پیروں کی ساخت دیکھی ہیںپھر ان کی آماز بلند ہوتی ہے ’یہ میرے بیٹے کی لاش نہیں ہے۔‘

Read more

فیض کے دو عشق اور روشنی کا استعارہ

کارل مارکس نے کہا تھا ”فلسفیوں نے اب تک بس دنیا کی تشریح کی ہے اصل نکتہ تو اس کو بدلنے کا ہے“ فیض احمد فیض ایک ترقی پسند ذہن تھے انھوں نے گھسے پٹے، مفلوج زدہ، غلیظ اور بوسیدہ نظام کو بدلنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ وہ ایک بے قرار روح کی مانند تھے۔ وہ تہلکہ مچانے والے شاعر تھے۔ ادب میں جن ناموں کی گونج سب سے نمایاں رہی ان میں ایک نمایاں نام فیض احمد

Read more

مسیحی ماحولیات اور مسلم معاشیات

تحریر: یوول نوح حراری – ترجمہ: زبیر لودھی  اگرچہ سائنس ہمیں تکنیکی سوالات جیسے خسرہ کے علاج کے طریقہ کار کے واضح جوابات مہیا کرتی ہے، لیکن پالیسی کے سوالات کے بارے میں سائنس دانوں میں کافی اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ تقریباً تمام سائنس دان اس بات پر متفق ہیں کہ گلوبل وارمنگ ایک حقیقت ہے، لیکن اس خطرے کے بہترین معاشی رد عمل کے بارے میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہے۔ تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں

Read more

کشمیر میں نیشنل ازم اور زمینی حقائق

اپنی سرزمین سے محبت کرنے والا ہر شخص میرے لیے محترم ہے، چاہے وہ شکست خوردہ ہی کیوں نہ ہو۔ نیشنل ازم جب تعصب کا روپ دھار لے تب وہ برائی بھی بن جاتا ہے، لیکن پاکستان جیسے ملک میں جو مختلف لسانی اور ثقافتی قومیتوں پر مبنی ہو، نیشنل ازم کو فروغ دینا ایک لازمی سیاسی ضرورت بھی بن جاتا ہے۔ ویسے ذاتی طور پر تو میں ہیومن ازم ( رشتہ انسانیت) پر یقین رکھنے والا انسان ہوں، لیکن

Read more

مغربی ادب۔ افلاطون سے پوسٹ مارڈن ازم تک (آٹھویں قسط)

مغربی ادب۔ ریلزم اور نیچرل ازم کے دور میں انیسویں صدی میں یورپ کی سوسائٹی کئی ایک سیاسی، سماجی، سائنسی اور اخلاقی تبدیلیوں سے گزرتی چلی گئی۔ تبدیلی کا یہ عمل اس قدر شدید اور تیزرفتار تھا کہ رومانس ازم کی حسین اور خیالی ادبی دنیا اس کے سامنے بہت دیر تک پاؤں نہ ٹکا پائی اور بالآخر فطری اور حقیقی دنیا میں اپنی بقاء کے امکانات ڈھونڈنے لگی۔ انیسویں صدی میں ہونے والی اہم سیاسی تبدیلیوں کا آغاز ہمیں

Read more

نکولائی چوشیس: دن میں بیس مرتبہ الکوحل سے ہاتھ دھونے والے ’سفاک آمر‘ جن کا انجام انتہائی افسوسناک ہوا

ایسے سفاک آمر کی کہانی جس نے اپنی عوام کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔۔۔ اور پھر جب عوامی انقلاب کے بعد آمر اور ان کی اہلیہ کو فوجی عدالت نے سزائے موت سُنائی تو ’مادر ملت‘ نے ایک درخواست کی اور وہ یہ کہ ان کے شوہر اور انھیں ایک ساتھ فائرنگ کر کے ہلاک کیا جائے۔

Read more

پر اسرار اموات اور ”جمہور“

یہ نہ کوئی داستان گوئی ہے اور نہ من پسند گھڑا ہوا کوئی واقعہ، بلکہ یہ حال کی اشرافیائی حکومت بور ماضی کے سیاسی سچ کے وہ دلسوز واقعات ہیں جن کی یاد دہانی ہر اس دور میں ضروری ہے کہ جس دور میں نئی مگر اس ملک کی سیاسی تاریخ سے نا آشنا نسل کو آگہی دینا ضروری ہو۔ دنیا کی تاریخ کے اجمالی مطالعے کی روشنی میں طاقت اور کمزور کی کشمکش اور طاقتور سے اپنے انسانی اور

Read more

سرمایہ داروں کے مکر۔ چند تجربات

پاکستان اور دنیا میں سرمایہ داروں کا تسلط اس قدر گہرا ہو گیا ہے کہ معیشت تو معیشت اب تو جمہوریت اور سیاست بھی سرمایہ دارانہ ہو گئی ہے۔ ایک وقت تھا کہ سرمایہ صنعت میں لگتا اور ملک میں روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوتے۔ لیکن اب سرمایہ زمین اور سوسائٹیوں میں لگنے لگا جس سے روزگار کے مواقع کم ہوتے گئے اور امیر، امیر ترین۔ راولپنڈی رنگ روڈ کا اسکینڈل، اسلام آباد سے میلوں دور جنگل میں بننے والی عبدالعلیم خان کی پارک ویو سوسائٹی کا سی ڈی اے میں شامل ہونا صرف دو مثالیں ہیں۔

اسلام آباد میں پارک ویو سوسائٹی اور بحریہ انکلیو کی قیمتوں کو مزید آسمان پر پہنچانے کے لیے اسلام آباد کے راول چوک پر ایک انٹر چینج پر کام تیزی سے جاری ہے۔ جواز یہ تراشا گیا ہے کہ ٹریفک کا بہاؤ، روانی میں خلل ڈالتا ہے۔

Read more

میں بھی کمیونسٹ تھا

جی ہاں تھا، اس لیے کہ میں امام علی نازش اور بعد میں بہت ہی قلیل مدت کے لیے جام ساقی والی کمیونسٹ پارٹی کا رکن تھا، لیکن ایک عرصہ سے نہیں ہوں۔ کوئی شخص تب تک خود کو کمیونسٹ نہیں کہہ سکتا جب تک وہ کسی ایسی پارٹی کا رکن نہ ہو جو کمیونسٹ نظریے کو لاگو کیے جانے کی حامی ہو، کیونکہ اصطلاح کمیونسٹ لفظ کمیون سے ماخوذ ہے جو منظم اکٹھ کو کہتے ہیں۔ البتہ انسان انفرادی

Read more

تخلیق سے جنون تک

لوئی آلتھوسر اکتوبر 1918 ء کو نارتھ الجیریا میں پیدا ہوئے۔ یہ نارتھ افریقہ کا ایک ملک ہے۔ وہ پیرس میں پڑھتے رہے۔ جہاں وہ ایک دن فلسفے کے پروفیسر بن گئے۔ وہ فرانس میں معتبر اور معزز ہوئے۔ انہوں نے empiricist اور Marxist کام میں گراں قدر اضافہ کیے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک تنقیدی سوچ کے حامل بھی رہے۔ انہوں نے کارل مارکس کے کام پر تنقید بھی کی۔ لوئی 1980ء میں اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے۔ ذہنی

Read more

اقبال علوی جدوجہد کا ورثہ چھوڑ گئے

40ء کی دہائی کے آخری عشرہ میں ہندوستان میں انگریزی سامراج کے خلاف مزاحمتی تحریکیں فعال ہوئیں۔ ان میں سے کئی تحریکوں میں عظیم فلسفی کارل مارکس کے فلسفہ سے متاثر ہونے والے نوجوان اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ حیدرآباد دکن میں معروف شاعر مخدوم محی الدین تلنگانہ ،کسانوں کو استحصال سے خاتمے کی جدوجہد کے اہم رہنماؤں میں شامل تھے، آپ محض ایک کمیونسٹ وادی نہیں بلکہ اردو کے خوبصورت شاعر بھی تھے۔ اقبال علوی حیدرآباد کے علاقہ

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب: Creative Minority

کتاب کا نام اس کے مواد و مقاصد کی جھلک دیتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کتاب میں تخلیقی صلاحیتوں کے حامل لوگوں، ان کی نفسیاتی و سماجی زندگی اور ان کے زندگی کو دیکھنے اور گزارنے کے غیر معمولی ڈھنگ کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اپنے اس review میں میں کتاب کے خلاصے کے ساتھ ساتھ اس کو اپنے نظریے سے بیان کرنے کی کوشش کروں گی کہ اس کتاب کو پڑھنے کے دوران اور پڑھنے کے بعد مجھے کن

Read more

جب آپ کے بھائی کو کوئی آپ کی آنکھوں کے سامنے قتل کر دے

تعارف : عزیز الحق ایک ایسے دانشور تھے جو لاہور کے پاک ٹی ہاؤس کی ادبی اور سیاسی محفلوں میں بڑے ذوق و شوق سے شامل ہوتے تھے اور ادب ’فلسفے اور سیاست کے متنازعہ موضوعات پر گرما گرم بحثوں میں شرکت کرتے تھے۔ وہ بیک وقت کارل مارکس کے بھی مداح تھے اور ژاں پال سارتر کے بھی۔ وہ اپنے آپ کو EXISTENTIALIST MARXIST کہلانا پسند کرتے تھے۔

اور پھر مئی 1972 میں ان کی ناگہانی موت نے ان محفلوں کو سونا کر دیا۔ چونکہ ان کی موت قتل کی وجہ سے ہوئی اور قاتل نے عزیز الحق کو قتل کرنے کے بعد اپنے آپ کو بھی قتل کر دیا اس لیے وہ موت اور بھی پر اسرار ہو گئی۔ میں نے عزیز الحق کی زندگی کے حالات اور ان کے مقالات پڑھے تو مجھے ان کی پراسرار موت کے بارے میں تجسس ہوا۔

Read more

ادب اور فلٹر والا کیمرہ

ادب معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے جس میں ہمیں اس معاشرے کا حقیقی عکس دکھائی دیتا ہے۔ اسی میں ہمیں معاشرے کے تمام خد و خال اور نقوش دکھائی دیتے ہیں اسی میں ہمیں اس کی خوبصورتی اور دلکشی کے ساتھ اس کی ہر کجی اور کمزوری بھی بعینہ دکھائی دیتی ہے۔ اسی آئینے میں معاشرے اپنا آپ سنوارتے اور اپنے کمزوریوں اور کجی کو دور کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ یا اگر موجودہ حالات میں اس کی تعریف کی

Read more

سارتر کا وجودی فلسفہ اور مارکسزم

ژاں پال سارتر نے 1940 کی دہائی میں ایک معرکتہ الآرا کتاب لکھی اور اس میں اپنا وجودیت کا فلسفہ پیش کیا۔ وہ کتاب BEING AND NOTHINGNESS کے نام سے چھپی۔ اس کتاب میں سارتر کا انداز تحریر ’کئی اور مغربی فلسفیوں کی طرح‘ مشکل بھی ہے اور گنجلک بھی۔ کچھ مسائل فرانسیسی سے انگریزی میں ترجمے کے بھی ہیں۔ سارتر کی موت سے پہلے کسی شاگرد اور مداح نے ان کی کتاب کی تلخیص شائع کی۔ جب کسی دوست

Read more

کیا اطلاق میں ناکامی، نظریہ کی ناکامی ہوتی ہے

ممتاز مضمون نگار محترم برکت حسین شاد کی ایک پوسٹ پر ایک صاحب علم، دوست نے تبصرہ کرتے ہوئے سوشل ازم کو روس اور چین کے حوالے سے ایک ناکام شدہ اور متروک نظریہ کہا اور اس کے مقابلے میں سوشل ڈیموکریٹک نظام کی کامیابی کی مثال مدلل طریقے سے تاریخی معاشی ارتقا کی روشنی میں بیان فرمائی ہے۔ محترم تبصرہ نگار سوشل ڈیموکریٹک نظام کی مثال کے طور پر یورپ کی فلاحی جمہوری حکومتوں کو سرمایہ دارانہ نظام کی

Read more

کورونا، ماحولیات، انسان اور کرۂ ارض

صدر بائیڈن نے کورونا ویکسین سے متعلق دانشورانہ ملکیتی حقوق سے استثنیٰ کا محض اشارہ تو دیا، لیکن ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) دسمبر تک محفوظ جملہ حقوق (TRIM) بارے کچھ نہ کرسکے گی۔ امریکہ اور یورپ کی اجارہ دار فارما کمپنیاں بھاری منافع خوری کے مفاد میں ترقی پذیر دنیا کے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے میں ذرا سا عار بھی محسوس نہیں کررہیں۔ جب تک WTO کوئی فیصلہ اگر کرے گی بھی، پسماندہ ملکوں کے خدانخواستہ پندرہ کروڑ

Read more

چند مفید اور ضروری کتابیں

آج کے دور میں کتاب کی اہمیت سے انکار ناممکنات میں سے ہے۔ کتاب کی اہمیت و ضرورت پر بہت کچھ لکھنا بھی بہت کم ہے۔ سوچ رہا تھا اس دن کی مناسبت سے کیا لکھوں، کیسے لکھوں، کتنا لکھوں؟ کتاب کے بارے کچھ سطور لکھنے سے کیا میں کتاب کے ساتھ انصاف کر سکوں گا؟ کافی سوچ بچار کے بعد آخر فیصلہ کیا اس دن کی مناسبت سے کچھ نہ لکھنا بھی بہت زیادتی ہے تو اٹھا قلم اور

Read more

مزدور سے متعلق تصورات کی تصحیح

سوشل میڈیا ہر شخص کا اخبار، ہر شخص کا ڈائجسٹ اور ہر شخص کا اپنا ذریعۂ اظہار یعنی میڈیم بن چکا ہے۔ یکم مئی کے روز لوگوں نے یہ جانے بغیر کہ ”یوم مئی“ کی تاریخ کیا ہے، یوم مئی کو سب سے پہلے کہاں سرکاری طور پر منایا جانے لگا اور مزدور جن کے لیے یہ دن اب دنیا بھر میں ماسوائے روس کے ( کیونکہ یہاں اب یکم مئی کو ”یوم بہار و محنت“ کا نام دیا جا چکا ہے ) ”یوم مزدور“ کے نام سے منایا جانے لگا ہے، وہ مزدور کس نوعیت کا مزدور ہو سکتا ہے، ہر طرح کے طغرے اور تاثرات سوشل میڈیا پر آویزاں کیے۔ دانشوروں نے اخبارات میں مضمون لکھے جیسے ایک بڑے افسر یاسر پیرزادہ نے مزدوروں کے بارے میں مضمون لکھا۔

Read more

زاویۂ نگاہ تبدیل کیجیے

پاکستان میں جب سوویت یونین اور اس سے وابستہ اشتراکی نظام کی بات کی جاتی ہے تو اس پر بہت تأسف کا اظہار کیا جاتا ہے کہ سوویت یونین نے مشرقی یورپ کے ملکوں میں اشتراکیت کو رواج دینے، اس کی برقراری اور استحکام کی خاطر جارحیت اور جبرو تشدد اختیار کیا تھا۔

شاید ایسی بات کرنے والے یہ نہ بھولتے ہوں کہ سرمایہ دار ملکوں امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی، بلجیئم وغیرہ نے بھی دوسرے ملکوں میں اپنی سربراری کی خاطر کبھی جارحیت اور جبر و تشدد کی راہ اختیار کرنے سے گریز نہیں کیا، جس کی تازہ مثالوں میں افغانستان، عراق اور لیبیا کی حالت زار کو پیش کیا جا سکتا ہے مگر بات کرنے والوں کو سوویت یونین کے حکام کے اعمال غیر انسانی لگتے ہیں، البتہ انہیں چین کے واقعات تقریباً بھول جاتے ہیں۔

Read more

‘بھٹو کی سب سے بڑی خوبی ہی ان کی خامی تھی’

سن 1970 میں پاکستان کے عام انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے۔ ایوب خان کی کابینہ میں وزیرِ خارجہ رہنے والے ذوالفقار علی بھٹو نے ان سے اپنی راہیں جدا کر کے جس سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تھی اب وہ سندھ میں اس کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

لاڑکانہ سے کشمور جاتے ہوئے ان کے پارٹی کارکنوں کے قافلے میں ایک شخص کچھ زیادہ ہی جوش میں آ گیا اور اس کی گاڑی بھٹو کی گاڑی سے جا ٹکرائی۔ زوردار دھچکہ لگا، بھٹو کی جناح کیپ دور جا گری اور ڈارئیور بھی بری طرح اسٹیئرنگ سے ٹکرایا لیکن اس نے بروقت گاڑی کو سنبھال لیا ورنہ تاریخ کا دھارا شاید کوئی اور رُخ اختیار کر لیتا۔

Read more

دراڑیں: سمیش کی دھمکی صرف مریم کو نہیں ملی تھی

مجھے کل یہاں لندن میں ایک ذریعے نے بتایا کہ سمیش کی دھمکی صرف مریم نواز کو نہیں ملی، زرداری صاحب کو بھی کچھ ایسا کہا گیا ہے کہ انہوں نے میاں صاحب کو صاف کہہ دیا کہ آپ واپس آئیں کیونکہ اگر ”مار“ کھانی ہے تو مل کے کھائیں گے، حالانکہ دیکھا جائے تو پچھلے تین سال سے مار تو سبھی کھا رہے ہیں بلکہ میاں صاحب کی تو پوری پارٹی جیل میں ہے تو ایسا کیا ہے کہ زرداری صاحب چاہتے ہیں کہ میاں صاحب واپس آئیں اور کیوں ایک دم تلخیاں اتنی بڑھ گئیں؟

Read more

کیا پاکستانی عورت کے بنیادی مسائل یہی ہیں؟

نظریے آفاقی ہوتے ہیں اور اپنے اندر کائناتی منظر پیدا کرتے ہیں لیکن وہ نظریات جو تضادات کی بناء پر تشکیل پاتے ہیں، اپنے کینوس کے اندر ضم ہو کر اپنی موت آپ مر جاتے ہیں لیکن اگر کسی نظریے میں آفاقی عناصر وجود رکھتے ہوں تو وہ تحت السریٰ سے بلند ہو کر گنبد آفاق میں اپنی حقانیت کا اعلان کرتا ہے ، چاہے وہ مارٹن لوتھر کا مذہبی نظریہ ہو یا جرمن فلاسفر کارل مارکس کا نظریۂ اشتراکیت و اشتمالیت ہو ، وہ ایک بڑے طبقے کو اپنا گرویدہ بنا ہی لیتا ہے۔

یہاں میں بابلی، مصری اور وادیٔ سندھ کی تہذیب میں جنم لیتے نظریات کی بات کرنا چاہتا ہوں اور نہ ہی یونانی فلسفے اور مغربی عقلیت پسندی کے مدارج پر بحث کرنا چاہتا ہوں ۔ میرا آج کا مضمون کائناتی منظرنامے پر دھنک کی طرح رنگ بکھیرتی عورت ہے۔

Read more

مجھے اچھا لگتا ہے شوہر سے ایک قدم پیچھے چلنا۔ کیوں؟(مکمل کالم)۔

آج میرا ارادہ عورت مارچ کے خلاف لکھنے کا ہے اور اس ضمن میں مجھے اپنے پیٹی بند بھائیوں اور ان بہنوں کی مدد درکار ہے جو عورت مارچ کو مغرب زدہ این جی اوز کا یجنڈا، صیہونی سازش، غیر ملکی امداد اکٹھا کرنے کی مہم اور ہماری اخلاقی اور مذہبی اقدار پر حملہ سمجھتے ہیں۔ جو لوگ میری اس بات طنز سمجھ رہے ہیں ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ میں گزشتہ دو دن سے پوری نیک نیتی کے ساتھ عورت مارچ کے خلاف دلائل اکٹھے کر رہا ہوں۔

Read more

مستقبل کا مشترکہ عالمی نظام

کمیون ازم بنیادی طور پر سوشل ازم کے مختلف ماڈلز میں سے ایک ماڈل ہے، کمیون کا لفظی مطلب ایک امداد باہمی پر مبنی دیہاتی سوسائٹی ہے، یہ ماڈل افقی ہے، اور دوسرا ماڈل شہری معاشرے سے متعلق ہے اور یہ عمودی ہے، یعنی آبادی کی بہت بڑی تعداد کو بلند و بالا عمودی عمارات میں بسانا، وہیں کام کرنے، اور بنیادی تعلیم و تربیت کے مواقع فراہم کرنا ہوتا ہے۔ یہ ماڈل کم و بیش کسی فائیو سٹار ہوٹل

Read more

پروفیسر فتح محمد ملک کی کتاب: اسلامی روشن خیالی یا اشتراکی ملائیت

پروفیسر فتح محمد ملک صاحب کی تصنیف ”انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان میں“ ترقی پسند سیاست اور ادب سے تعلق اور دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ایک خاص کشش رکھتی ہے۔ کتاب میں پروفیسر فتح محمد ملک صاحب نے انجمن ترقی پسند مصنفین کے قیام کا پس منظر اور زوال تک کے نہ صرف واقعات بیان کیے ہیں بلکہ انہوں نے ان اسباب اور وا قعات پر بھی روشنی ڈالی ہے جن کے تناظر میں انجمن کا ہنگامہ برپا اور

Read more

مطالعۂ تاریخ از مولانا کوثر نیازی

کتاب دوست برادرم کاشف منظور نے محبت کے ساتھ کوثر نیازی کی لگ بھگ 80 صفحات پر مبنی ایک چھوٹی مگر بڑی حقیقت کی ترجمان کتاب ”مطالعہ تاریخ“ بھیجی ہے جسے 1991ء میں جنگ پبلشرز لاہور نے شائع کیا تھا۔ کتاب وصول پا کر میں خود ماضی میں کھو گیا کہ یہ کتاب میں نے آج سے کوئی تینتیس، چونتیس سال پہلے اپنے گریجویشن کے زمانے میں پڑھی تھی۔ یہ کتاب جو اصل میں گورنمنٹ کالج لاہور کی ”مجلس تاریخ“

Read more

کتابیں بولتی ہیں

ان دنوں میں رابرٹ بی ڈاؤنز کی کتاب (Books that changed the world) پڑھ رہا ہوں جس کا غلام رسول مہر نے ترجمہ کیا ہے۔ اس کتاب نے مجھ پر کتب بینی کے کئی در وا کیے۔ ہمارے ہاں عمومی طور پر کتابوں اور کتب خانوں کے حوالے سے جو تصور عام ہوا وہ یہ کہ کتابیں بے جان ، غیر موثر اور بے حیثیت چیزیں ہیں جو خانقاہوں اور یونیورسٹیوں کے سایہ دار رواقوں اور علمی مامنوں میں رکھی

Read more

کیا مفکروں کے خواب سراب ہوتے ہیں؟

جس طرح پچھلے چند کچھ روز میں شاعر و مفکر اقبال کی شخصیت کو متنازع بنایا گیا ہے اور طرح طرح کی لفاظی کی گئی ہے ”جیسا خواب ویسا مجسمہ“ یہ دراصل ہم سب کا اقبال سے نا آشنائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اقبال کی زیادہ تر شاعری سے مصنف خود اختلاف رکھتا ہے لیکن ایک قد آور شاعر و مفکر کے بارے میں ایسے خیالات سمجھ سے بالاتر ہیں۔ کارل مارکس کے نظریات سے یورپ کا ایک بڑا

Read more

کمیونسٹ منشور کے بارے میں معلومات اور اس کے اثرات

آج تک کی انسانی تاریخ طبقاتی جہدوجہد کی تاریخ ہے۔ آزاد اور غلام، اعلی طبقے اور ادنی طبقے، مالکان اور خانہ زاد غلام، دستکار اور آقا یعنی دوسرے الفاظ میں ظالم و مظلوم طبقات تاریخ کے ہر دور میں ایک دوسرے کے خلاف مستقل طور پر کھڑے رہے۔ یہ لوگ ایک دوسرے کے خلاف مسلسل ایک خفیہ اور کھلی لڑائی لڑتے رہے۔ اس لڑائی کا خاتمہ ہر دفعہ یا تو سماج کی انقلابی تنظیم نو میں ہوا یا دعوے دار طبقات کی مشترکہ بربادی پر ہوا۔ یہ اس پیغام کا مفہوم ہے، جو کارل مارکس اور فریڈرک انگلس نے اپنی مشہور تخلیق کمیونسٹ مینی فیسٹو میں دیا۔

اس منشور کو دنیا کی سب سے زیادہ با اثر سیاسی دستاویز قرار دیا جاتا ہے۔ پیٹر آسبارن جیسے دانشور نے اس دستاویز کو انیسویں صدی کی سب سے اہم ترین تحریر قرار دیا ہے۔ کچھ دانشور اسے اکیسویں صدی کا منشور بھی قرار دیتے ہیں۔ اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ، لیکن اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ اس تحریر کو ان معدودے چند سیاسی دستاویزات میں شامل کیا جاتا ہے، جن کو پوری دنیا میں کثرت سے پڑھا جاتا ہے۔ ”زوم ریڈنگ روم“ کی گزشتہ مطالعاتی نشست میں ہم نے سیاسی تاریخ کی اس اہم ترین دستاویز پر گفتگو کی ہے۔

Read more

ایرک فرام: نفسیات،سماجیات اور سیاسیات

ماہرین نفسیات کی اکثریت نے انفرادی اور خاندانی نفسیات پر اپنی توجہ مرکوز کی لیکن ایرک فرام نے فرد کو سماج کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی ، اسی لیے ان کی کتابیں نفسیات ، سماجیات اور سیاسیات کے علوم کے درمیان بہت سے پل تعمیر کرتی ہیں۔ ایرک فرام ایک انسان دوست ماہر نفسیات کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ایرک فرام  روایتی یہودی خاندان میں 1900 میں فرینکفرٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا

Read more

کیا سعادت حسن منٹو روایت شکن تھا؟

کچھ شاعر، دانشور اور ادیب روایات کے پجاری ہوتے ہیں اپنی ساری زندگی وہ اسی روایتی فریم آف مائنڈ میں مشغول رہ کر کچھ ادب تخلیق کر کے رخصت ہو جاتے ہیں۔ مگر کچھ دانشور اور ادیب روایتی سرکل آف لائف سے مطمئن نہیں ہوتے ایسے لوگ روایات کو چیلنج کرتے ہوئے جیتے ہیں اور ایک ایسا ادب تخلیق کر جاتے ہیں جو ان کے وقت کے لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتا اوروہ ان تصورات و ادب کو فضول

Read more