وہی حالات ہیں فقیروں کے

منٹو کا افسانہ ”نیا قانون“ جو 1935 کے انڈیا ایکٹ کے پس منظر میں لکھا گیا تھا۔ اس کا مرکزی کردار منگو کوچوان اس کے بارے کہیں سے ادھوری سن گن لیتا ہے اور سمجھ بیٹھتا ہے کہ یکم اپریل کو نیا قانون آئے گا تو بہت کچھ بدل جائے گا۔ گوروں سے نجات ملے گی اور وہ آزاد ہو گا۔ یکم اپریل کو منگو ایک انگریز جو اس کے ساتھ حقارت سے پیش آ رہا ہوتا ہے اسے پیٹ ڈالتا ہے اور ساتھ ساتھ کہتا جاتا ہے پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ۔ اب ہمارا راج ہے بچہ۔ جب پولیس والے اسے پکڑ کر لے جا رہے ہوتے ہیں تو وہ چیخ چیخ کر نیا قانون نیا قانون کہتا رہتا ہے۔ مگر اسے جواب ملتا ہے نیا قانون، نیا قانون کیا بک رہے ہو قانون وہی ہے پرانا اور اسے حوالات میں بند کر دیا جاتا ہے۔

منگو کوچوان والا خواب اس ملک میں بار بار دیکھا گیا۔ بڑا خواب اس وقت دیکھا گیا جب تقسیم ہند کے نتیجے میں ہمیں آزادی ملی۔ لوگ سمجھ بیٹھے تھے کہ اب منزل مل گئی۔ تاہم یہ آزادی جب ملی تو خون کی ندیاں بہہ گئیں۔ اس طرح تقسیم کیا گیا کہ دونوں نوزائیدہ ریاستوں میں جنگ چھڑ گئی۔ پنجاب اور بنگال کے ٹکڑے ہوئے۔ تبادلہ آبادی کے بعد زمینوں اور گھروں کی الاٹمنٹ میں ہیر پھیر کیے گئے۔ ہندوستان نے جاگیرداری یک جنبش قلم ختم کر کے ماضی میں انگریزوں کے پر وردہ طبقہ پر کاری ضرب لگائی مگر یہاں جلد ہی وہی طبقہ حکومت کرنے لگا اور فیض کو کہنا پڑا

Read more

پروفیسر شکیل الرحمان : زندگی کی حسین لہروں سے کھیلنے والا مسافر

آورد بہ اضطرابم اول بہ وجود جز حیرتم از حیات، چیزی نفزود رفتیم، بہ اکراہ، ندانیم چہ بود زین آمدن و بودن ورفتن مقصود (میں اضطراب کی لہروں کے ساتھ اس فانی دنیا میں آیا۔ یہاں حیرتوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ اور جب یہاں سے لے جایا گیا تو یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ یہاں آنے کا مقصد کیا تھا۔ ) ۔ عمر خیام عمر خیام، ان کے نام پر مے خانے بھی بنے۔ سر مستی و

Read more

بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی فلمی گیت نگار قتیلؔ شفائی

ہنسو اور ہنستے ہنستے ڈوبتے جاؤ خلاؤں میں ہمیں پر، رات بھاری ہے ستارو تم تو سو جاؤ تمہیں کیا! آج بھی کوئی اگر ملنے نہیں آیا یہ بازی ہم نے ہاری ہے ستارو تم تو سو جاؤ اورنگ زیب خان المعروف قتیلؔ شفائی ہری پور سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ جب پیدا ہوئے تو اس وقت وہاں علم و ادب کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ علم و ادب کے ایسے بنجر علاقے میں شاعری۔ ۔

Read more

لاہور: کئی یادیں

لاہور جنت نگر ہے، جس نے لاتعداد جسموں کی مٹی کو خود سے مس کیا۔ نام لاہورف سانہ ہے، اس کا گلی کوچہ فسانہ متعلق ہے۔ اس شہرمیں ہوائیں مدھم، سلونی چلتی ہیں۔ یہاں کی سرخ، سبزچڑیاں میٹھے گیت درخت، درخت جو کسی دربچے، چھت، دیوار کے بیچ بنا اجازت کے نکل آتے اور گم گشتہ یادوں کو تازہ کیے ہوئے ہیں، گنگناتی ہیں۔ اندر ہی اندرنام، چہرے، آوازیں بولیاں رات، دن کے فسانے ٹھیرائے ہوئے، معماروں کے ہاتھو ں

Read more

اپندر ناتھ اشک اور گرتی دیواریں

بیدی: میرا ہم دم میرا دوست اور منٹو میرا دشمن کے خالق اپندر ناتھ اشک اپنے عہد میں، اپنے ہمعصر لکھنے والوں سے بہت پیچھے رہ گئے۔ یہ دور حقیقت میں بڑے لکھنے والوں کا دور تھا۔ اشک بسیار نویس تھے۔ پھر اپنا پریس بھی بٹھایا اور اپنی کتابیں بھی خوب شایع کیں۔ ان کی اہلیہ کوشلیا اشک بھی افسانہ نگار تھیں۔ مجھے کوشلیا کے دو ایک افسانے پسند ہیں۔ اشک کا افسانہ ڈایے چی بھی اس زمانے میں بہت

Read more

سلام فیصل آباد

کالے کالے بادل آسمان پر چھائے ہوئے تھے، ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، موسم بہت خوش گوار تھا۔ چھٹی تھی اور میرا دل مچلا کہ لاہور گھوما جائے۔ ریاض بھائی نے کہا گاڑی کی بجائے بائیک پر چلتے ہیں۔ میں نے ان کے کان میں دو جگہیں بتائیں جہاں مجھے جانا تھا، پہلی پر وہ مسکرائے اور دوسری پر بس رو ہی دینے والے تھے کہ میں انہیں ان کی بائیک سمیت گھر سے نکال لایا۔ اپنی اپنی بائیک پر

Read more

عابد سہیل :آخری ترقی پسند

’اوہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں ٹھیک ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘ مجھے اچانک احساس ہوا، فرانز کفکا کا کردار گریگور میرے اندر داخل ہو چکا ہے۔ مگر میں کہاں ٹھیک تھا۔ سر بھاری، طبیعت بوجھل۔ اس وقت رکشہ علی گڑھ یونیورسٹی کی گلیوں سے گزر رہا تھا۔ اس طرف دور تک ا ندھیرا تھا۔ رکشہ پر میں اور عابد بھائی بیٹھے تھے۔ مجھے نہیں معلوم، اس درمیان ہم کتنی بار مل چکے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر وہ

Read more

ہندی ادب کا ”وار اینڈ پیس“ : یشپال کا ”جھوٹا سچ“

آج کے شمارہ نمبر 98۔ 99۔ 100 یعنی پورے تین شماروں میں صرف ایک ناول شایع ہوا۔ یہ مایہ ناز ہندی فکشن نگار یشپال کا ضخیم ناول ”جھوٹا سچ“ ہے۔ جسے ہندی فکشن کا وار اینڈ پیس قرار دیا گیا ہے۔ سہ ماہی آج کے برعکس اردو کے بیشتر ادبی جریدوں کو ناول کی نسبت افسانوں کی اشاعت سے رغبت خاص رہی ہے۔ ان جریدوں کے مدیروں کی جو بھی مجبوریاں رہی ہوں لیکن ان کے اس رویے کی وجہ سے ناول جیسی عظیم صنف کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

لیکن اسی صورت حال میں سہ ماہی ”آج“ اپنی اشاعت کے آغاز سے ناول جیسی فکشن کی اہم ترین صنف پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اس میں اردو اور دیگر زبانوں کے بہترین ناول تواتر کے ساتھ شایع ہوتے رہے ہیں۔ سہ ماہی ”آج“ نے نہ صرف فکشن کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے بلکہ اردو میں ناول جیسی صنف کے دوبارہ احیا میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

Read more

سعادت حسن منٹو کون تھا؟

منٹوکو کچھ لوگ ایک افسانہ نگار کہتے ہیں اور کچھ انہیں فحش نگار بھی کہتے ہیں مگر میں انہیں ”اندھوں کے شہر میں آئنہ بیچنے والا“ کہوں گا کیونکہ منٹو صاحب وہ ہستی تھے جو حقیقی افسانے لکھتے ہیں جو کہ منٹو کے لیے بھی بہت تکلیف دہ ثابت ہوئے، عدالتوں کے چکر بھی لگانے پڑے اور لوگوں سے باتیں سننیں کو ملیں۔ فتووں کا سامنا بھی رہا اور پاگل خانے بھی کچھ دن بسر کیے۔ اگر سچ پوچھیں تو

Read more

منٹو اپنے کرداروں میں آج بھی زندہ ہے

اردو ادب نے بے مثال لوگ پیدا کیے ہیں۔ میر، غالب، فیض کی شاعری ہو یا کمال مہارت سے نثر لکھتے محمد حسین آزاد، ابن انشاء، سعادت حسن منٹو، مشتاق احمد یوسفی ہوں۔ ایسے سینکڑوں نایاب ہیروں کی شاعری اور نثری تخلیقات کو اردو ادب نے اپنے اندر خوبصورتی سے سمویا ہے۔ چودھویں صدی عیسوی میں امیر خسرو سے شروع ہونے والی اردو شاعری ہو، یا ڈپٹی نذیر احمد کے میراة العروس سے شروع ہونے والا ناول کا سفر، داستان

Read more

مائنس ون: بجھی چنگاری سے شعلوں کی اُمید

اتوار کی صبح اُٹھ کر جو کالم روانی میں لکھا تھا پیر کی صبح چھپ گیا تو اس کے ردعمل میں جو پیغامات ملے انہوں نے بہت کچھ سوچنے کو مجبور کردیا۔غوروفکر کی مشق سے گزرتے ہوئے احساس یہ بھی ہوا کہ میڈیا کے ذریعے ایسے ’’اصول‘‘ بھی فروغ پاتے ہیں جو سیاست میں کامیابی کے لئے ’’کلیدی‘‘ تصور ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔عملی زندگی میں اگرچہ وہ قطعاََ لایعنی اور غیر متعلق نظر آتے ہیں۔ قومی اسمبلی کے حال ہی

Read more

سچ کی قیمت اور دانشور

حالیہ دنوں میں کچھ خبریں میڈیا میں گردش کر رہی ہیں جن کے مطابق یونیورسٹی کی جانب سے پروفیسر ہود بھائی اور عمار علی جان کا کنٹریکٹ بڑھانے سے انکار کر دیا گیا۔ بظاہر اس کی جو بھی توجیہہ پیش کی جائے لیکن حقیقت سب جانتے ہیں کہ ان کا جرم کیا تھا۔ ہمارے ہاں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔ حالانکہ ایک مہذب معاشرے میں ہمیشہ اس بات کو اہمیت دی جاتی ہے کہ دانشوروں، آرٹسٹوں، لکھاریوں، یا مفکروں کو رائے کے اظہار کی آزادی دی جائے۔

لیکن ہمارے ہاں گنگا الٹی بہتی ہے۔ ہم سب سے زیادہ پابندی اسی طبقے پر لگاتے ہیں۔ ہم نے اکیڈیمیا تک کو قابو کیا ہوا ہے۔ جہاں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ان کے مقصد کو بڑھانے اور ان کے مطلب کی بات کہنے میں سرگرم ہوں وہاں ایسے لوگوں کے لیے حق بات کہنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ میں اکثر یہ سوچتی ہوں کہ کیا اس سب کے باوجود بھی اپنی بات پر ڈٹے رہنا ضروری ہے یا پھر اسی بھیڑ کا حصہ بن جائیں جو کم از کم آپ کو ایک پرسکون اور پر آسائش زندگی تو فراہم کرتی ہے۔ اسی تناظر میں پروفیسر نوم چومسکی لکھتے ہیں کہ ”دانشوروں کی ذمہ داری ہے وہ سچ بولیں اور جھوٹ کا پردہ چاک کریں“

Read more

کشمیر کا دکھ بتائے ، ایسا کوئی شاعر ادیب اب زندہ نہیں

سوپور کے 65سالہ بشیر احمد کو بھارتی پیرا ملٹری فورس نے گولی ماری۔ بشیر احمد کے ہمراہ تین سالہ نواسے کی تصویر دیکھ کر کوئی پتھر دل ہی ہوگا جو تڑپا نہ ہو ۔بشیر کا نواسہ رات کو نانا کے سینے کے ساتھ چمٹ کر سوتا اور اکثر ان کا کان پکڑ لیتاتھا۔ ماں نے بتایا کہ اب وہ رات کورو روکر بستر سے اٹھ جاتاہے۔نانا کی یاد اسے کسی کل چین نہیں لینے دیتی۔ نانا کی نعش پر بیٹھے

Read more

سب رنگ کہانیاں۔ سب رنگ کا عشق مشترک

سب رنگ ہم نے اس کی اشاعت کے پہلے یا شاید دوسرے سال میں پڑھنا شروع کیاتھا اور اس کی اشاعت کے آخری سال تک پڑھا۔ اس میں تب کی پڑھی ہوئی کہانیاں آج چالیس پینتالیس سال بعد بھی یاد ہیں۔ پرانی کتابوں کی الماری سے اگست 1971 کا سب رنگ کا شمارا چند دن قبل ملا تو اس میں ماں پر موپساں اور ولیم سمرسٹ ماہم کی کہانیاں پڑھ کر ماضی میں سب رنگ میں پڑھی ہوئی بہت سارے

Read more

یادیں آصف فرخی کی

میرے ہاتھ میں نوائے معانی زندگی کا مسودہ تھا اور آصف فرخی کا ایک ایک افسانوی مجموعہ میری نظروں سے گزر رہا تھا۔ شام کے سائے ڈھل چکے تھے، میں چھت پر بیٹھی سوچ رہی تھی کہ بہت دن ہوئے ڈاکٹر آصف فرخی سے بات نہیں ہوئی وہ نئے لکھے جانے والے دس افسانے کب بھیجیں گے اور میں ان کے افسانوں کا یہ مجموعہ کب مرتب کروں گی۔ انہوں نے تو 22 اپریل 2020 کو فون پر بتایا تھا

Read more

علم سے رشتہ داری

کتاب انسان کی بہترین دوست ہے۔

Today a reader , tomorrow a leader

لائبریریاں قوم کی ترقی کی ضامن ہیں۔

کتاب کی رفاقت کردار کی لیاقت کا باعث ہوتی ہے۔

اوپر درج وہ اقوال ہیں جو اکثر و بیشتر ہمیں سکولوں، کالجوں اور جامعات کے در و دیوار پر بڑے لش پش انداز میں لکھے ملتے ہیں۔ کتاب کی افادیت بیان کرتے ایسے کئی جملے اور مضامین ہمارے درسی نصاب کا بھی حصہ ہیں۔ لوگ اس طرح کے کلمات فیسبک اور واٹس ایپ سٹیٹس پر بھی پورے خشوع و خضوع سے لگاتے ہیں۔ ان اقوال کو پڑھ کے یہ تاثر ملتا ہے کہ بس کتاب تھامنے کی دیر ہے، کتاب تھامتے ہی بندہ دنیا کی ایسی کی تیسی کر دے گا۔ میرے خیال میں کتاب کی حمد کرتے یہ قول نہایت بے کار اور گھسے پٹے ہیں۔

Read more

قرة العین حیدر کی افسانوی کائنات

قرة العین حیدر پر لکھنا آسان نہیں۔ آپ پریم چند سے لے کر اردو فکشن کے 4 ستون یعنی منٹو، بیدی، کرشن چندر اور عصمت چغتائی پر صفحے کے صفحے سیاہ کر سکتے ہیں مگر قرة العین حیدر کے ادب پر لکھنے اور سوچنے کے عمل میں قلم خاموش ہوجاتا ہے۔ کیوں خاموش ہوجاتا ہے، اس کا بھی جواب ہے۔ وہ اس بات کو تسلیم کرتی تھیں کہ اردو کے نقاد انہیں سمجھ ہی نہیں پائے۔ وہ ٹامک ٹوئیاں مارتے

Read more

میر دریا ہے، سنے شعر زبانی اس کی

جب ہم میر کی بات کرتے ہیں تو صرف ایک میر نہیں بلکہ ایک صدی، ایک زمانے کی بات کرتے ہیں۔ میر ایک عہد کا نام ہے، جس میں عہد اور شاعری ناگزیر ہے۔ سب قاری اس بات پرمتفق ہوں گے کہ صدی کس کس طرح کروٹ بدلتی ہے۔ خوشحالی تو کبھی بدحالی، ساتھ تغیرات اس کا حصہ ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں میر کے ساتھ نہ انصافی (یا اس کی کوئی جمع بنا پاتا تو وہی لکھتا) یہ ہوئی

Read more

سعادت حسن منٹو؛ وہ جو تھا اک مسیحا

اردو ادب میں اگر کسی ایسے لکھنے والے کا نام پوچھا جائے جو انسانی نفسیات کے سپید و سیاہ رنگ روپ اپنے قلم کی سیاہی سے کاغذ پر منعکس کرتا رہا ہے تو میں سعادت حسن منٹو کا نام لوں گا۔ سعادت حسن منٹو کا ادب شاید آج تک متنازع نگاہوں سے پڑھا جاتا رہا ہے اور اس کی وجہ ان کی بے باکی اور صاف بیانی ہے۔ ایک ایسا افسانہ نویس جس نے انسانی شخصیت اور انسانی نفسیات کے

Read more

خواجہ احمد عباس : پروپیگنڈا نگار یا حقیقت نگار؟

خواجہ احمد عباس 7 جون 1914 کو پیدا ہوئے اور یکم جون 1967 کو انتقال کرگئے۔ 1920 سے 1960 تک کے ادب پر نظر ڈالتا ہوں تو گراہم گرین، ڈی ایچ لارنس، ژاں پال سارترے، ولیم فاکنر، سیمول بکٹ، ارٹیسٹ ہیمنگ وے، جارج آرویل، ورجینا ولف، پرل اس بک اور جیمس جوائز تک کے نام ذہن میں آ جاتے ہیں، اور بھی کئی بڑے نام ہیں۔ غور کریں تو جوائز سے سارترے اور جارج آرویل تک مغرب کا ادب محض

Read more

وصال یار ترا شوق کتنا بھاری ہے

”ایک شعر کہنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟“ میں نے ایسے ہی گفتگو جاری رکھنے کے لیے پوچھ لیا۔ ”پتر، یہ شعر جو ابھی تو نے سن کر واہ واہ کی ہے، اسے لکھنے میں تریسٹھ برس لگے ہیں۔“ میں نے حیرت سے کہا، ”بابا جی، اتنی تو آپ کی عمر بھی نہیں ہے۔ ایسی کیا خاص بات ہے اس شعر میں کہ تریسٹھ برس ہی لگ گئے۔ اقبال تو چلتے پھرتے شعر کہہ جایا کرتے تھے۔ آپ کو اگر

Read more

میرا کشمیر کہاں چلا گیا

میرے ایک دوست نے اپنی وال پر ایک سوال کیا کہ کشمیر متنازعہ یعنی ڈسپیوٹڈ ہے یا مقبوضہ یعنی آکوپائڈ، تو میرا تبصرہ یہ تھا۔۔۔ بھارت پاکستان کے لیے یہ سٹیٹ ”ڈسپیوٹڈ“ یعنی متنازع ہے اور ہم کشمیریوں کی نظر میں ”آکوپائڈ“ یعنی مقبوضہ ہے۔ ہم کشمیرہوں کے لیے بہت افسوسناک بلکہ خطرناک دور آ رہا ہے کہ ہم دن بدن قومی اتحاد سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور دنیا بھی قابض ممالک کے موقف کی طرح اس مسئلہ

Read more

”خودنمائی“ کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

ذاتی طور پر ہم نے بہت پہلے تسلیم کر لیا تھا کہ سعادت حسن منٹو ہم سے بڑے افسانہ نگار ہیں۔ اس اعتراف کی ایک وجہ یقیناً حقیقت پسندی بھی رہی ہوگی لیکن اس کی دوسری اور زیادہ بڑی وجہ یہ تھی کہ اگرچہ اس خاکسار اور جناب منٹو کا بھرپور ادبی موازنہ ہو سکتا ہے لیکن ہم نے اس حوالے سے ایک پیچیدہ اور طویل بحث سے طبعاً اجتناب برتنے کی ہی کوشش کی ہے دوسری طرف ان معاملات کے بارے میں خوف فساد خلق بھی ہمارے پیش نظر رہتا ہے بخدا ہم نہیں چاہتے کہ ہماری وجہ سے کوئی ادبی مسئلہ کھڑا ہو۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ اب ہما شما اپنے تئیں اپنے کسی ادبی مقام کی دھونس جماتے ہوئے ہمارے بالمقابل کھڑا ہو جائے۔ یہاں المیہ یہ ہے کہ عاجزی اور رواداری کا غلط مطلب نکال لیا جاتا ہے۔ کم از کم ہمارے ساتھ تو اکثر یہی ہوتا ہے۔

Read more

’جمہوریت کی آخری نشانی‘ اور آزاد عدلیہ کی ’ضرورت‘ شناس فعالیت

صدر محمد رفیق تارڑ کو ’’جمہوریت کی آخری نشانی‘‘ خود جنرل پرویز مشرف نے قرار دیا تھا۔ ابتدائے عشق کی ایک دو بےتکلف محفلوں میں جنرل صاحب نے صدر تارڑ سے کہا ’’سر صحافیوں کے شوشوں پر نہ جایا کریں۔ آپ ’جمہوریت کی آخری نشانی‘ ہیں۔ آپ کی وجہ سے ہمیں سفارتی محاذ پر بڑی مدد ملتی ہے۔ آپ کو ہم کہیں نہیں جانے دینگے‘‘۔ ایک دن اپنے دو رفقاء کی موجودگی میں جب جنرل مشرف نے تیسری بار صدر

Read more

منٹو، غالب اور فدوی – مکمل کالم

آپ کا پسندیدہ افسانہ نگار کون ہے؟ منٹو۔ ان کا پورا کیا نام کیا تھا؟ پورا نام تو یاد نہیں بس منٹو منٹو کہتے ہیں۔ اچھا کوئی بات نہیں، ان کے کچھ افسانوں کے نام بتائیے جو آپ نے پڑھے ہوں۔ افسانے تو بہت پڑھے ہیں، مگر اس وقت بس ایک آدھ نام ہی یاد ہے، ایک تو سفید شلوار تھا۔ بیٹا، سفید نہیں کالی شلوار تھا۔ اوہ سوری مجھے بس شلوار یاد رہی، رنگ بھول گیا، ویسے بھی منٹو صاحب کہہ گئے ہیں کہ رنگوں میں کیا رکھا ہے۔

برخوردار، یہ بات منٹو نے کبھی نہیں کہی۔ ارے! نہیں کہی تو انہیں کہنی چاہیے تھی نا، اتنی اچھی لائن ہے، کسی بھی افسانے میں فٹ کر دیتے۔ اور کوئی افسانہ یاد ہے منٹو کا؟ جی ہاں، رضائی، بہت دلچسپ افسانہ تھا۔ نوجوان، اس کا نام رضائی نہیں، لحاف تھا، اور وہ منٹو کا نہیں عصمت چغتائی کا افسانہ تھا۔ وہی وہی، جس کا بھی تھا بہت مزے کا تھا۔

یہ اس گفتگو کا مغز ہے جو ایک نوجوان سے کسی یونیورسٹی کی تقریب میں ہوئی تھی۔ نوجوان پر کیا بگڑتا، میں خود لڑکپن میں منٹو کو ایسے ہی چسکے لے لے کر پڑھتا تھا۔ کچھ روز پہلے کتابوں کے طاقچے میں ”پورا منٹو“ کی تین جلدوں پر نظر پڑی تو ایک مرتبہ پھر ان میں سے ایک جلد ورق گردانی کی نیت سے اٹھا لی۔ منٹو کے افسانے تو اپنی جگہ شمس الحق عثمانی کا ”مقدمہ“ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ کس عرق ریزی سے انہوں نے منٹو کے تمام افسانوں کو اکٹھا کیا۔

Read more

نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو پروفیسر فتح محمد ملک

خوش قسمتی ہے کہ ہمارے درمیان علامہ محمد اقبال کے شدائی موجود ہیں۔ یہ ہماری فکری اور نظریاتی رہنمائی کر رہے ہیں۔ نئی نسل کو اقبال فراموشی سے بھی روشناس کر رہے ہیں۔ اور اقبال اور اسلام کی صحیح معنوں میں ترجمانی بھی کر رہے ہیں۔ یہ ایک روشن خیال عالم ہیں تو دوسری طرف مذہب اور اعتدال پسند پروفیسر بھی اور طبیعت ایسی کہ آپ ان کے ساتھ گھنٹوں باتیں کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ تعلیم، ادب، اسلام، پاکستان،

Read more

کرشن چندر کیوں بڑا ہے؟

بڑے ادیب کا کمال یہ بھی ہے کہ وہ خواب دیکھتا ہے اور خواب میں دوسروں کو بھی شریک کر لیتا ہے۔ غور کریں تو 05 سے زائد ناولوں اور پانچ سو سے زائد کہانیاں لکھنے والے کرشن چندر نے ساری زندگی خوابوں کے دروازے پر دستک دی۔ غلامی سے آزادی کا سفر بھی خواب تھا اور آزادی کے بعد ننگے بھوکے ہندوستان کو خوشحالی کے راستہ پر دیکھنا بھی ایک خواب۔ کرشن چندر اس خواب میں رومانیت کوشامل کر

Read more

بابو گوپی ناتھ ڈاکٹرائن اور کرنل صاحب کی پنشن

ادب اور تاریخ میں کیا فرق ہے؟ تاریخ گزری ہوئی حکایت ہے۔ اس کا انجام معلوم ہوتا ہے۔ اگر ہم ابھی تک سانس لے رہے ہیں تو تاریخ کے کردار کتاب کے صفحوں سے نکل کر ہم پر حملہ آور نہیں ہو سکتے۔ ادب ایک فتنہ پرور ہنر ہے۔ لکھنے والا نامعلوم کو معلوم میں اس طور ملا دیتا ہے کہ ماضی کے حادثے اور حال کے اندیشے گڈ مڈ ہو جاتے ہیں۔ پڑھنے والا اپنی ذات سمیت ایک ایسی

Read more

لاہور کے قدیم ترین پلازہ سینما کی مسماری شروع

منٹو کا گھر گرانے والے نے لاہور کا سب سے پہلا اور سب سے خوبصورت تھیٹر و سینما ہال بھی گرانا شروع کر دیا ہے جو ”پلازہ سینما“ کے نام سے مشہور تھا، یوں تہذیب و ثقافت کے مرکز اس شہر میں عہد فنون و ثقافت کا ایک اور باب ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہے۔ لاہور کے قلب مال روڈ اور مال کے قلب چیئرنگ کراس سے چند سو میٹر کے فاصلے پر واقع شہر کے پہلے تھیٹر

Read more

گرد میں لپٹی کتابیں اور ہوسٹل کا کمرہ

جامعہ نعیمیہ میں یہ میرا تعلیمی آخری سال تھا۔ ستمبر 2012 میں میٹرک کا امتحان مناسب نمبروں کے ساتھ پاس کرنے کے بعد والد صاحب نے مجھ سے میرے مستقبل کے بارے میں سوال کیا کہ کیا مجھے لاہور پڑھنے کے لئے بھیج دیا جائے؟ ”جی، جہاں آپ بھیجیں گے میں پڑھوں گا“ میں نے جواب دیا۔ ابا مجھے لاہور لے آئے، یہ بات نا انھیں ٹھیک سے معلوم تھی کہ وہ مجھے کہاں داخل کروائیں گے اور نا میں

Read more

سانحے سے بنتی تاریخ!

ہندوستان سے ہجرت کے وقت جب فسادات ہوئے تو شہید ہونے والے، لٹنے والے، بے سروسامانی میں سفر کرنے والے سب اس وقت اعداد تھے، اخباری خبریں تھی، دکھ تھا، الم تھا۔ کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ جن کے ساتھ وہ صدیوں سے رہتے چلے ائے ہیں وہ ہی جان کے در پر ہوں گے ۔ اس پینک میں کسی طرح لوگ پاکستان پہنچے، پھر مہاجر کیمپس کی زندگی تھی۔ مگر جب گرد تھمی تو ان اعداد سے

Read more

کہانی کس کو لکھتی ہے

انیس سو اڑتالیس میں ژاں پال سارتر کی ایک کتاب شایع ہوئی۔ ادب کیا ہے۔ سارتر نے دلائل کے ذریعے اپنے موقف کا اظہارکیا تھا۔ سارتر کے مطابق عصری ادب کو جمالیات اورلفظوں کی قلابازی سے بچنا ہوگا۔ عصری ادب نئے سماجی نظام اورنئی سیاسی صورتحال سے گریز کرہی نہیں سکتا۔ سارتر نے صاف طور پر کہا۔ ۔ ۔ ایک مصنف کے طو رپر ہمارا کام اپنے عہد کی نمائندگی کرنا ہے۔ اوراپنے ہونے کی گواہی دینا بھی ہے۔ سارتر

Read more

اپنے شاعر چچا عارف عبدالمتین کی یاد میں

یہ میری خوش بختی ہے کہ عارفؔ عبدالمتین میرے چچا تھے۔ وہ نہ صرف اردو اور پنجابی کے شاعر تھے بلکہ ایک نقاد اور دانشور بھی تھے۔ میں نے ان سے اور ان کی شاعری سے ادب اور زندگی کے بہت سے راز جانے۔ انہوں نے میری ادبی اور نظریاتی شخصیت کی نشوونما میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ مجھے نوجوانی کا وہ دور یاد ہے جب میں اپنے والدین اور اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ پشاور میں اور میرے

Read more

شاعر کے بال اور فکر و فن کی جوئیں

اس جبری فرصت اور تنہائی (لاک ڈاؤن) کو جھیلنے کے لیے اپنے اپنے گھروں میں محصور مرد حضرات کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر ایک ہی طرح کے ذائقے کی چائے پی پی کر تھوڑا اپنی زبان کا ذائقہ خراب کر بیٹھے ہیں۔ لاک ڈاؤ ن سے پہلے ہر نیا دن، نیا ذائقہ۔ بہرحال خواتین لاک ڈاؤن اور شٹر ڈاؤن کے باوجود بھی عید کی شاپنگ میں مصروف ہیں۔ ان کو لاک ڈاؤن کی کوئی پرواہ

Read more

وبا کا اداس موسم، کچھ یادیں، کچھ پچھتاوے

کچھ جی کے بہلانے کو، اور کچھ پیش بندی کے طور پر گھر کے کونے کھدروں، میز کی درازوں، بریف کیس اور لیپ ٹاپ کو کھنگالنا شروع کیا ہے۔ وبا کی اس اداس کر دینے والی شب کے اندر تاریک کونے کھدروں میں بہت کچھ ہے کہ جس کو ٹھکانے لگانا ضروری ہے۔ ریحام خان کی خود نوشت کو کئی ماہ پہلے ڈاؤن لوڈ کیا تھا، ابتدائی چالیس پچاس صفحات کے بعد مشقت کی مزید ہمت نہ ہوئی۔ اگرچہ وہ مواد کہ جس نے خود نوشت کو شہرت بخشی، اس کے بارے میں تجسس برقرار رہا اس بیچ مگر کچھ خفت، کچھ بے زاری اور کچھ احساس زیاں نے آن لیا۔ منٹو نے جج صاحب سے درخواست کی تھی کہ فحش نگاری کا الزام اس پر دھرنے کی بجائے ان سے سوال کیا جائے جو مذہبی کتابوں سے بھی لذت کشید کرتے ہیں۔

جنرل ضیا کے مارشل لا کا غالباً پہلا سال تھا کہ ایک مذہبی جماعت نے جوش صاحب کی ’یادوں کی بارات‘ کو فحش کتاب قرار دے کر اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ میری عمر یہی کوئی تیرہ چودہ برس تھی۔ اخبار میں کتاب سے لے کر کچھ اقتباسات چھاپے گئے تھے۔ وہ فقرے یا الفاظ جو ناقابل بیان سمجھے گئے، ان کو نقطوں کے ذریعے دکھایا گیا تھا۔ انگریزی محاورے کے مطابق، نقطوں کو ملانے کے لئے ضخیم کتاب میں نے چند ہی روز میں اول سے آخر تک پڑھ ڈالی۔ جوش صاحب کے پے در پے، یکسانیت کے شکار اور بظاہر بے ضرر معاشقوں سے حاصل ہونے والی شدید مایوسی کے علاوہ، مجھے تو اس کتاب سے کچھ ہاتھ نہ آیا۔

Read more

کامریڈ چوہدری فتح محمد۔۔۔ اک چراغ اور بجھا

ٹوبہ ٹیک سنگھ کی کہانی بڑی مختصر ہے۔ جس جگہ اس وقت ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ریلوے اسٹیشن ہے اس کے پاس ہی پانی کا ایک ٹوبہ ہوا کرتا تھا۔ اس پر ادھر اُدھر کے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلاتے تھے۔ خود ان کے لئے وہاں پانی کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ یہ علاقہ ابھی آباد نہیں ہوا تھا۔ ایک درویش منش بوڑھا ٹیک سنگھ اس ٹوبہ کے کنارے آبیٹھا۔ وہاں اس نے جھگی ڈالی اور رہنا شروع کر

Read more

میں ادب کیوں پڑھتا ہوں؟

ادب نے سونپی ہمیں سرمہ سائی حیرت زبان بستہ و چشم کشادہ رکھتے ہیں (غالب) ’میں مختلف طریقے سے ظاہر ہونے والی آواز ہوں۔ میں اس لا محدود کی آواز ہوں، جس کے بے شمار پہلو ہیں اور یہ پہلو مختلف نوعیت کے ہیں۔ میں اس کبھی نہ ختم ہونے والی مسرت کی آواز ہوں، جو تمام چیزوں میں جاری و ساری ہے۔ مسرت میرے تخلیق کا بنیادی نقطہ ہے اور میری زندگی کا مقصد بھی (رابندر ناتھ ٹیگور) بچپن

Read more

ڈاکٹر آصف فرخّی کا ریڈیو پاکستان کے لئے انٹرویو

ڈاکٹر آصف فرخی ایک ہمہ جہت تخلیق کار ہیں۔ انہیں ایک پختہ افسانہ نگار، سنجیدہ نقاد اور قابل مدیر کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے۔ تراجم کے میدان میں بھی انہوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ جہاں بین الاقوامی ادب کو اردو کے قالب میں ڈھالا، وہیں پاکستان کے مقامی ادب کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ ستمبر 1959 ء میں کراچی میں آنکھ کھولی۔ وہ معروف معلم اور ادیب ڈاکٹر اسلم فرخی کے صاحب زادے ہیں۔ کم سنی

Read more

آمنہ، عظمیٰ، عثمان کیس کے چند اہم پہلو اور ان کا علمی تجزیہ

ہم یہاں ان کرداروں کو جنرالائز کر کے، عمومی طور پہ اس بات کو آگے بڑھائیں گے۔ یوں تو یہ ایک روایتی تثلیث ہے۔ دو عورتیں اور ایک مرد۔ مگر اس موضوع کے تحت ہمیں معاشرے کے کئی کرداروں کے تجزیے کا موقع ملے گا۔ مثلاً ایک بیوی، ایک داشتہ، ایک شوہر، ایک ماں، ایک غاصب عورت، ایک زنا کار مرد، ایک بے شرم طوائف، اور ہنگامے سے پرے گلی میں کھڑے بہت سے کردار جو اپنے اپنے تئیں اس پہ تبصرہ کرنے میں لگے ہیں۔ میں بھی ان میں سے ایک ہوں۔

پہلو نمبر ایک : کیا کسی کے گھر پہ یوں دھاوا بولنا درست ہے؟

کوئی بھی مہذب معاشرہ اس کی اجازت نہیں دے گا۔ یعنی قانونی طور پہ ایسا کرنا قطعی درست نہیں۔ میں یہاں لارنس کوہلبرگ کے حوالے سے بات کو آگے بڑھانا چاہوں گی جو بیسویں صدی کے ایک ماہر نفسیات گزرے ہیں جنھوں نے بعد میں مورل ایجوکیشن یعنی کردار کی تعلیم کے میدان میں بہت کام کیا۔ ان کا ایک تجربہ جس کا یہاں ذکر بے حد ضروری ہے، انتہائی دلچسپی کا حامل ہے۔ وہ اس کو ہائنز ڈلیما یعنی ’ہائینز کی الجھن‘ کا نام دیتے ہیں۔

یورپ کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ ہائینز کی بیوی کو ایک خاص قسم کا جان لیوا کینسر ہو گیا جس کے علاج کے لئے ریڈیم سے بنی دوا درکار تھی۔ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ اس سے اس کی جان بچائی جا سکتی ہے۔ دوا مہنگی تھی مگر اس دوا کو خرید کر ایک دوا ساز نے اس کے دام دس گنا بڑھا دیے۔ یعنی چار سو ڈالر کی دوا وہ چار ہزار ڈالر میں بیچنے لگا۔ ادھار پکڑ کے، جیسے تیسے کر کے ہائینز نے دو ہزار ڈالر جمع کیے اور اس دوا فروش کے پاس پہنچا کہ یہ پیسے لے کر اسے دوا دے دے۔

اس کی بیوی کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ مگر اس دوا فروش نے سفاکی سے انکار کر دیا۔ لہٰذا ہائینز رات کے

Read more

عینی آپا کی باون گز کی دنیا

بے شمار تجربات اور وسیع مطالعہ کی بنیاد پر آپ غور کریں تو صرف آگ کا دریا کو یہ امتیاز حاصل نہیں کہ یہ ڈھائی ہزار برسوں کا قصہ ہے، ان کی عام کہانیوں میں بھی، قصہ چاہے ایک خاندان کا کیوں نہ ہو، لیکن یہ خاندان پھیلتے پھیلتے صدیوں کی داستان میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اور یہ بات محض قصے کہانیوں تک محدود نہیں، کتابوں کے دیباچے، مقدمہ یا پیش لفظ لکھتے ہوئے بھی وہ ایک ایسی فاسٹ ٹرین میں سفر کرتی ہیں، جہاں قصے، واقعات وقت کے کسی ایک لمحہ سے جست لگا کر لا مکانوں میں گم ہو جاتے ہیں۔

Read more

گزشتہ راکھ کی چنگاریاں اور انتظار حسین

7 دسمبر 1923ء کو بلند شہر، میرٹھ میں پیدا ہونے والے انتظار حسین نے خوفناک بندروں کے اس میلے کو اتنے قریب سے دیکھا کہ ہجرت کے بعد بھی ماضی کی گٹھری اور پوٹلی سے خود کو آزاد نہ کرسکے۔ وہ ایک ایسے داستان گو تھے جس کا مکمل اثاثہ ماضی کی وہ داستانیں تھیں، جسے عمر کے آخری دور میں بھی، آخری ناول ’سنگھاسن بتیسی‘ کی تخلیق تک وہ خود سے الگ نہیں کرسکے۔ برسوں پہلے دوردرشن ٹی وی

Read more

میرا جی: نگری نگری پھرا مسافر

"چلو تم ادھر کو ہواہو جدھر کی”۔ یہ حالی کا منشور تھا۔ "اک پل میں منسوخ کیے دیتا ہوں/ اس دنیا کو اپنی انگلی کی مستانہ جنبش سے/اپنے ذہنی ساز کی بہکی لرزش سے”۔یہ میراجی تھے۔ حالی —اور ان کا زمانہ بہ قول حسن عسکری استعارے سے خوفزدہ تھا۔ استعارے کا ڈر کب پیدا ہوتا ہے؟ جب آدمی اپنی نفسی دنیا سے بیگانہ ہو جائے اور خود کو باہر کے سپرد کردے۔ شاعر اگر خود کو باہر کے سپرد کردے

Read more

میرا جی: جنسی مریض یا جینئس؟

دو ہزار دس فیض صدی تھی، دو ہزار گیارہ راشد صدی، دو ہزار بارہ منٹو صدی۔ اس دوران اردو کے ان کوہ قامت نابغوں پر درجنوں تحقیقی و تنقیدی کتابیں چھاپی گئیں، پر مغز سیمینار اور کانفرنسیں منعقد کی گئیں، الیکٹرانک میڈیا نے خصوصی پروگرام ترتیب دیے، ادبی رسالوں نے خاص نمبر چھاپے۔ لیکن اس تمام ہاؤ ہو میں کسی کو ایک نام یاد ہی نہ رہا، یا اگر یاد بھی رہا تو محض سر سے بوجھ اتارنے کی مانند۔

Read more

گھر کا راستہ بھول جانے والے کا جنم دن

میری تمہاری یہی کہانی ہے! ہمیں گوجرانوالہ سے محبت سی ہو گئی ہے، شاید کہ پرکھوں کا تعلق اس مٹی سے تھا! یہ وجہ ممکنات میں ہو سکتی ہے لیکن ہم سے پوچھیے تو اس محبت کا تار میرا جی سے جا ملتا ہے، جی وہی میرا سین والے دیوانے فرزانے میرا جی! میرا جی کی شاعری کے فسوں نے ہمیں دھیرے دھیرے اپنے حصار میں لیا۔ پھر ان کے اہلے گہلے الفاظ کی بھول بھلیوں میں کھو کے جی

Read more

1943 ء میں سندھ اسمبلی میں منظور ہونے والی قرارداد پاکستان

15 اگست 1947 ء، بمطابق 27 رمضان المبارک 1366ھ، بروز جمعة الوداع، پاکستان وجود میں آیا اور اس برس 27ویں رمضان کی رات ہم نے پاکستان کے وجود کو ہجری تقویم کے لحاظ سے پون صدی مکمل کی۔ ان 75 برسوں میں ہم نے کیا کھویا، کیا پایا۔ ۔ ۔ یہ تو ایک طویل موضوع اور بحث ہے، جس پر لگ بھگ تمام فاضل قلمکار اپنے خیالات کا وقتاً فوقتاً اظہار کرتے رہتے ہیں، مگر تاریخ قیام پاکستان میں کچھ

Read more

ادب ایک مخصوص لہجہ کی قید میں ہے

بلراج مینرا ہوں، انور سجاد، اکرام باگ ہوں یا قمراحسن، ایسے تمام لوگوں پر جدیدیت کے اثرات تو تھے مگر ایک حد تک ترقی پسندی بھی غالب تھی۔ 1960 تک آتے آتے ’انگارے‘ سرد پڑ گئے تھے۔ ترقی پسند کہانیوں کو پروپیگنڈا کہانیاں بتا کر مذاق اڑایا جا رہا تھا، مگر مذاق اڑانے والے بھول گئے تھے کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب اس دور کی کہانیاں ہی یاد رکھی جائیں گی اور 60 کی جدیدیت کے ہیرو

Read more

کورونا اور دوا پاکستان میں، دارو دہلی میں

کمبخت کورونا کی وبا کیا آئی۔ ہندوستان پاکستان دونوں ممالک میں پرانے کشکول گدائی جگمگا اٹھے۔ مانو، بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ اب یہ آج کل کے بچے کیا جانیں کہ چھینکا کیا ہوتا ہے؟ ان مظلومین کو تو ڈبے کے دودھ کی بوتل بھی فرج سے نکال کردی جاتی رہی ہے۔ چھینکا فرج سے پہلے کے زمانے میں کھانے کی ٹوکری ہوتی تھی۔ گھر میں کھانا تھوڑا اور لذیذ بنا کرتا تھا۔ بچ جاتا تو اسے کھلی ہوا میں

Read more

بلیاں کمزور ہو گئی ہیں

”اس وبا نے تو بلیوں سے بھی رزق چھین لیا“ ۔ خاتون خانہ نے صاف کی ہوئی پالک کی مٹھی ایک جانب رکھی اور دکھ کے ساتھ اطلاع دی۔ گھر میں بلی کبھی ہوتی تھی، اب نہیں ہوتی۔ اس لیے بچے محلے کی بلیوں کو دودھ ڈال کر ہی خوش ہو جاتے ہیں۔ بلی گھر کی پلی ہو یا آوارہ، اس کی نفاست اور نخرے کا جواب نہیں۔ ہمارے ہاں دو بلیوں کا آنا جانا ہے، ایک سنہری اور دوسری

Read more

ماتمی جلسہ۔۔۔ منٹو کی ایک کہانی جو پرانی نہیں ہو گی

 رات رات میں یہ خبر شہر کے اس کونے تک پھیل گئی کہ اتا ترک کمال مر گیا۔ ریڈیو کی تھرتھراتی زبان سے یہ سنسنی پھیلانے والی خبر ایرانی ہوٹلوں میں سٹے بازوں نے سنی جو چائے کی پیالیاں سامنے رکھے آنے والے نمبر کے بارے میں قیاس دوڑا رہے تھے۔ اور وہ سب کچھ بھول کر کمال اتا ترک کی بڑائی میں گم ہو گئے۔ ہوٹل میں سفید پتھر والے میز کے پاس بیٹھے ہوئے ایک سٹوری نے اپنے

Read more

شاعری اور بھولے بادشاہ

یونیورسٹی کے زمانے کی بات ہے۔ اسائنمنٹ دو چار یار مل کر بنایا کرتے تھے۔ بلکہ بنانی کیا، کاپی ہی کرنی ہوتی تھی۔ سو بیک گراؤنڈ میوزک کا بندوبست لازمی قرار پاتا۔ یہ مشرف بہ ’لیپ ٹاپ‘ ہونے سے قبل کی بات ہے۔ ہمارے ایک دوست نے ’ڈنگ ٹپاؤ‘ قسم کا کمپیوٹر رکھ رکھا تھا۔ ہر بار کی طرح اس دفعہ بھی لیٹ نائٹ قلم کاغذ سے مسلح ان کے ہاں پہنچ گئے۔ کمر ے میں تناؤ کے ماحول کو

Read more

کھول دو بمقابلہ چھوڑ دو

”کھول دو“ سعادت حسن منٹو کے مقبول ترین افسانوں میں سرفہرست ہے۔ اس افسانے میں تقسیم برصغیر اور ہجرت کے دوران ایک لڑکی سکینہ کے ساتھ ہونے والے مظالم کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ جن سے اس کی ذہنی حالت اس قدر متاثر ہو جاتی ہے کہ کہ وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں جب کھڑکی کے لیے ڈاکٹر کے منہ سے کھول دو کے الفاظ سنتی یے تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس افسانے میں بری سوچ، غلط

Read more

ارطغرل اور منٹو کا ’ماتمی جلسہ‘

منٹو مرحوم پر برطانوی ہندوستان اور آزاد پاکستان میں فحاشی کے الزام میں چھ مقدمے چلائے گئے۔ پہلے پانچ مقدمات میں بری ہوئے البتہ 1953ءمیں چھٹے مقدمے میں کراچی کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مہدی علی صدیقی نے انہیں پچیس روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ بے شک پاکستان میں عدلیہ ہمیشہ قانون کی بالادستی کا روشن نشان رہی۔ دراصل ’اوپر، نیچے اور درمیان‘ کے عنوان سے منٹو نے اپنے وقت کے ایک زعیم سیاسی جوڑے کے روزگار خلوت پر روشنی ڈالی

Read more

منٹو شریف بدمعاش تھا

منٹو کو سمجھنے کے لیے صرف اس وقت کی غلامی کو ذہن میں رکھنا ہی ضروری نہیں ہے۔ اس لیے منٹو کی کہانیاں صرف تقسیم کا المیہ نہیں ہیں۔ وہ کہانی لکھتے وقت اتنا بے رحم ہو جاتا تھا کہ اس کے الفاظ سے لہو رستے دکھائی دیتے تھے۔ اس کا اظہار اس کے درد کا ترجمان بن جاتا تھا۔ منٹو کے لیے آزادی محض ایک لفظ بھر نہیں تھا۔ منٹو کے لکھنے کی کہانی ایسٹ انڈیا کمپنی کی شروعات، غلامی کے سیاہ دن اور کالا پانی کے خوفناک قصوں سے بھری ہے۔

کہتے ہیں 1857 میں کالا پانی کی سزا پانے والے ہندستانی باغیوں نے انڈمان میں ایک نیا ہندستان بنایا تھا۔ ایک ایسے ہندستان کا تصور جس کی بنیاد یکجہتی اور آپسی بھائی چارے پر رکھی گئی تھی۔ لیکن منٹو پر باتیں کرتے ہوئے اس وقت کے حالات کو سمجھنا ضروری ہے۔ سمندر سے گھرا ہوا ایک ایسا جزیرہ جہاں سے ان قیدیوں کا بھاگنا آسان نہیں۔ چاروں طرف گرجتا ہوا سمندر، دھاڑتا ہوا شور، خوفناک درختوں کے بے رحم سائے، جنگلوں میں رہنے والے دہشت گرد آدی واسی، قسم قسم کے جانور اور زہریلے کیڑے مکوڑے انگریزوں نے ملک پر ست وفادار ہندستانیوں کے لیے کالا پانی کی سزا کا انتخاب کیا تھا۔

جہاں وہ طرح طرح کی بیماریوں کے شکار ہوجائیں یا دردناک موت کے آہنی شکنجے میں پھنس کر اپنا دم توڑ دیں۔

Read more

اردو ادب پر مذہبی چھاپ: روحانیت یا کمرشل ازم؟

دنیا بھر کے ادب میں اولیت ان لکھاریوں کو دی جاتی ہے جن کا قلم تحقیق، تجربے اور تجسس کو دعوت دیتا ہو جس سے انسان کی ذہنی نشو و نما اور فکری بالیدگی کو جلا مل سکے لیکن قیام پاکستان کے بعد کے اردو ادب کی جانب نگاہ دوڑائی جائے تو چند ایک شعراء کے علاوہ تمام لکھنے والے بالخصوص نثر لکھنے والے ایک محدود نظریے پر لکھتے نظر آتے ہیں جن کی تمام تر سوچ صرف مذہب کے گرد طواف کرتی محسوس ہوتی ہے اردو نثری مضامین لکھنے والوں پر مذہب کی چھاپ نمایاں ہے۔

Read more

منٹو ایک ناکام افسانہ نگار

منٹو کے جنم دن کے موقع پر سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ جانے انجانے میں منٹو کی تصاویر اور ان کی کہی ہوئی باتیں شیئر کر رہے ہیں۔ انجانے میں کہنا اس لئے ضروری تھا کیونکہ ان میں اکثر ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو منٹو کا پورا نام تک نہیں جانتے۔ ہمارے معاشرے میں خود کو باشعور ثابت کرنے اور حالات حاضرہ سے باخبر انسان کی حیثیت حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ دوسروں کے سٹیٹس کاپی

Read more

کون سعادت حسن منٹو؟ سوری۔ ۔ یہاں تو اب ٹچ موبائل بکتے ہیں

سعادت حسن منٹو، منی شنکر آئر، ملک معراج خالد، عائشہ جلال، بیگم خورشید شاہد اور ڈاکٹر محمود ملک جیسی متعدد نامور شخصیات کے گھر ایک ایک کر کے موبائل مارکیٹ کی دکانوں میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں جس کا آغاز شاعر عوام حبیب جالب کی نظمیں عوامی جلسوں میں پڑھنے والے ایک شعبدہ باز وزیر اعلیٰ کے دور حکومت میں ہوا، جس نے پنجاب کی راجدھانی یعنی پھولوں، باغوں اور علم و ثقافت کے مرکز شہر کو سیاسی مفادات کی وجہ سے شائننگ لاہور بنانے کی کوشش میں اس تاریخی شہر سے اس کی تاریخ کے نشانات مٹا دیے اور اس کا روایتی حسن چھین لیا۔

Read more

منٹو زندہ باد

”میں اس سوسائٹی کی چولی کیا اتاروں گا جو پہلے سے ہی ننگی ہے۔ میں کالی تختی پر سفید چاک استعمال کرتا ہوں تاکہ کالی تختی اور نمایاں ہو جائے“ ۔

یہ مشہور الفاظ عظیم افسانہ نگار اور لکھاری سعادت حسن منٹو کے ہیں۔ جو 11 مئی 1912 میں پنجاب کے ضلع لدھیانہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں پاپروڈی میں پیدا ہوا تو کسے معلوم تھا کہ ایک مسلم کشمیری جج کے گھر میں پیدا ہونے والا یہ سعادت حسن بڑا ہو کر اپنی صدی کا ایک عظیم افسانہ نگار ”منٹو“ بنے گا۔ اور اپنے افسانوں اور کہانیوں سے اپنے ارد گرد پائے جانے والی سماجی برائیوں کا پردہ ایسے چاک کرے گا جس سے اس منافق سماج کی چیخیں نکل جائیں گی۔

Read more

ریشماں کا عاشق اور منٹو کا ہم پیالہ و ہم نوالہ: بلونت گارگی

میری ناقص رائے کے مطابق بلونت گارگی بھی ایک ایسا ہی تخلیق کار تھا۔ جس نے پنجابی زبان کو بہت کچھ دیا جو سراہے جانے کے قابل ہے۔ بلونت گارگی بٹھنڈا، پنجاب، انڈیا میں پیدا ہوا۔ پڑھنے کے لیے لاہور آ گیا اور پھر اسی شہر کا ہو کر رہ گیا۔

وہ لاہور میں مال روڈ کے آس پاس کسی گلی محلے کا رہنے والا تھا۔ گارگی نے ایف۔ سی۔ کالج لاہور سے ایم۔ اے انگریزی اور سیاسیات کیے اور آل انڈیا ریڈیو سے منسلک ہو گئے۔ جہاں ان کی فنکاروں ادیبوں اور شاعروں وغیرہ سے دوستی ہونا ایک فطری سی بات تھی۔ وہ استاد، افسانہ نگار، ناول نگار، تھیٹر ڈائریکٹر اور ڈرامہ بھی لکھتا تھا۔ جن کا ترجمہ دنیا کی مختلف زبانوں میں ہوا۔ وہ تھیٹر کے حوالے سے پوری دینا میں جانے جاتے تھے۔ انہوں نے دنیا کے کئی ملکوں میں جا کر تھیٹر کیا۔ ان کو 1962 میں ہندوستان سرکار کی طرف سے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ، پدما شری ایوارڈ ( 1972 ) اور سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ ( 1998 ) سے نوازا گیا۔

Read more

منٹو اور ان کا ٹائپ رائٹر

اردو کے مایہ ناز ادیب سعادت حسن منٹو جہاں ایک منجھے ہوئے صاحب اسلوب افسانہ نگار تھے وہیں وہ زمانے سے ہم آہنگ ہونے والے جدید ذہن کے مالک بھی تھے۔ نئی ایجادات کے منٹو نہ صرف مداح تھے بلکہ انہیں برتنے کا فن بھی جانتے تھے۔ اردو ادب میں متعدد جگہ منٹو کے ٹائپ رائٹر کا تذکرہ ملتا ہے اور بعض جگہ منٹو نے خود بھی اس کا تذکرہ کیا ہے۔ ”ہم سب“ پہ شائع شدہ ایک مضمون https://www.humsub.com.pk/211955/zulfiqar-khan-2/

Read more

لڑکیاں برائلر چکن ہیں

ایبٹ آباد کے گاؤں مکول کی نویں جماعت کی طالبہ عنبرین کی ہلاکت کی خبر اڑتالیس گھنٹے چھوڑ اڑتالیس منٹ بھی میڈیا پر نہ ٹکتی اگر اسے نام نہاد جرگے کی جانب سے سنائی گئی سزا پر عمل درآمد کے نتیجے میں سوزوکی کیری ڈبے میں بند کر کے جلایا نہ جاتا۔ اب تک تو پسند کی شادی، گھر سے بھاگ جانے اور مشکوک مراسم کے شبہے میں ہی لڑکیوں کے قتل کا رواج تھا مگر عنبرین کا قتل بربریت

Read more

ہیرا منڈی کے بالاخانے سے ٹیلی ویژن کے جھروکے تک

لاہور میں سنار کے کام سے وابستہ تھا؛ رنگ محل آنا جانا معمول ہوا۔ جب میں پہلی بار ‘استاد جی’ کے ساتھ اس بازار کی گلی سے گزرا تو دیکھا، جوان عورتیں بالکونی میں کھڑی ہیں، کوئی دیکھے یا اشارہ کرے، تو بجائے جھجھک کر اوٹ میں ہونے کے، مسکرا کر دیکھتی ہیں۔ استاد جی نے بتایا، اس وقت ہم جہاں سے گزر رہے ہیں، یہ ہیرا منڈی ہی ہے۔ میں ایسے گھبرایا، جیسے کسی گناہ کا مرتکب ہوا ہوں۔

Read more