ٹیٹوال کے کتوں کے پٹے کہاں ہیں؟

ٹیٹ۔ وال کے کتے، قریہ قریہ بستی بستی ان سے آباد ہے۔ کسی گاڑی میں محو سفر ہوں، ٹرین کی چھکا چھک سے لطف اندوز ہو رہے ہوں یا ہوائی جہاز میں سوار ہوئے بادلوں کو للکار رہے ہوں، ٹیٹ۔ والیے آپ پر ٹکٹکی باندھے بیٹھے ہوں گے۔ کون کہاں جا رہا ہے، کیا کھا رہا ہے، کون سی لڑکی کالج اور یونیورسٹی میں کس سے بات کرتی ہے، موبائل فون کون سی کمپنی اور ماڈل کا رکھتی ہے، کس گاڑی یا رکشہ پر سفر کرتی ہے، الغرض ہر قسم کی معلومات اکٹھی کرنا اور اپنی ’وال‘ پر لگانا ٹیٹ۔ والیوں کی خدمات کے اہم پہلو ہیں۔

Read more

شکریہ سعادت حسن منٹو

میرے ایک قریبی دوست جو کہ گورنمنٹ سکول میں اردو کے استاد ہیں۔ جن سے ملاقات میں اکثر علمی یا معاشرتی مسائل پر بات ہوتی رہتی، ایک دن کسی ادبی موضوع پر بات سے بات نکلتے منٹو تک جا پہنچی۔ کہنے لگے کبھی منٹو کو پڑھا ہے۔ میرا جواب تھا کہ مجھے منٹو تو بہت اچھا لگتا ہے تو پوری بات سنے بغیر بولے کہ جتنا ممکن ہو دور رہو، یہ بندہ افسانہ نگار کم اور گمراہ زیادہ ہے۔ مزید

Read more

کیا سعادت حسن منٹو روایت شکن تھا؟

کچھ شاعر، دانشور اور ادیب روایات کے پجاری ہوتے ہیں اپنی ساری زندگی وہ اسی روایتی فریم آف مائنڈ میں مشغول رہ کر کچھ ادب تخلیق کر کے رخصت ہو جاتے ہیں۔ مگر کچھ دانشور اور ادیب روایتی سرکل آف لائف سے مطمئن نہیں ہوتے ایسے لوگ روایات کو چیلنج کرتے ہوئے جیتے ہیں اور ایک ایسا ادب تخلیق کر جاتے ہیں جو ان کے وقت کے لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتا اوروہ ان تصورات و ادب کو فضول

Read more

نامور ہدایت کار، مصنف اور فلمساز حسن عسکری

گزشتہ سے پیوستہ ہفتے ایور نیو فلم اسٹوڈیو لاہور میں مجھے فلمی دنیا کی ایک ایسی شخصیت سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ جس سے فلم نگری کے تمام چھوٹے بڑے بہت پیار کرتے ہیں۔ یہ مسکراتے چہرے والے ہر دل عزیز فلم ڈائریکٹر حسن عسکری ہیں۔ میں عسکری بھائی سے جب بھی ملا ہمیشہ خوش دلی سے ملتے ہیں۔ عام طور پر کسی نامور فلمی شخصیت پر لکھنے کا ایک فارمولا ہوتا ہے۔ ان کی ابتدا، فلموں میں آنا،

Read more

سعادت حسن منٹو: سماج کو آئینہ دکھانے والا

یوں تو سبھی آئینہ دیکھتے ہیں مگر سماج کو آئینہ دکھا گیا منٹو- اردو ادب کے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کو ہم سے بچھڑے 66 سال کا عرصہ بیت گیا- اپنے افسانوں میں بلا کی جدت اور بے باکی سے معاشرے میں رونما ہونے والے تلخ حقائق کو آئینہ دکھانے والے سعادت حسن منٹو 11 مئی 1912ء کو بھارتی ریاست پنجاب کے ضلع لدھیانہ میں پیدا ہوئے- خوبرو نوجوان منٹو سنہرے فریم کا چشمہ لگائے اپنے دور کے

Read more

’تم منٹو کو نہیں جانتے‘ (مکمل کالم)

’چراغوں کا دھواں‘ میں انتظار حسین نے منٹو کے متعلق ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے، انہی کی زبانی سنیئے : ”جلسہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔ لوگ رفتہ رفتہ آ رہے تھے۔ مگر منٹو صاحب پہلے سے آئے بیٹھے تھے۔ منٹو صاحب کو میں نے اس سے پہلے کبھی نہ انجمن کے جلسہ میں دیکھا تھا نہ حلقہ کے جلسے میں۔ جانے کس رو میں یہاں آ گئے تھے۔ پروگرام میں ان کا افسانہ تو تھا نہیں۔ یا شاید ہو۔

Read more

منٹو کے افسانے صرف ذہنی بالغوں کے لیے ہیں

ڈاکٹر خالد سہیل ادیب بھی ہیں اور ماہر نفسیات بھی۔ ڈاکٹر صاحب نے اس مختصر مضمون میں منٹو کے افسانوں کے بارے میں اتنی بصیرت رکھ دی ہے جس کے لئے کسی گٹھل طبع نصابی مدرس کو شاید ادبی تنقید کی اصطلاحات میں الجھی کئی کتابیں لکھنا پڑتیں۔ رند بخشے گئے قیامت میں / شیخ کہتا رہا حساب حساب

Read more

فحش نگار منٹو کی برسی

کہتے ہیں وہ فحش نگار تھا! بات کچھ سمجھ میں آتی نہیں! کیا جو اس نے لکھا وہ ہوا نہیں؟ یا جو کچھ ہوا وہ لکھا نہیں؟ کیوں تھا آخر وہ ایسا؟ ایک معما، اپنے محبت کرنے والوں کے لئے بھی، اور نفرت کرنے والوں کے لئے بھی! کہتے ہیں، کثرت شراب نوشی نے اس کا جگر چھید ڈالا! کیا محض شراب وجہ بنی یا ارد گرد پھیلا وہ ننگا سچ جسے بھلانے کے لئے وہ نشے کا سہارا لیتا

Read more

کون ہے یہ گستاخ؟ تاخ تڑاخ

اس شخص کے بارے میں لکھنا جس کے بارے میں اس کی موت کے ساٹھ برس بعد بھی یہ طے نہ ہو سکا ہو کہ وہ بڑا آدمی تھا کہ برا آدمی۔ کچھ آسان کام نہیں ہے۔ سعادت حسن منٹو کے ہم عصروں سے لے کر اس کے بعد آنے والے ادیبوں کی کئی نسلیں اس بات پر اتفاق نہیں کر سکیں کہ منٹو کو کس نام سے یاد کیا جائے۔ وہ جو کرتا ہے چھپاتا نہیں اور جو دیکھتا

Read more

منٹو کے آخری ایام

منٹو کی برسی پر ان کو یاد کرتے ہوئے ربی سنکر بل کے شاہکار ناول ”دوزخ نامہ“ سے چند صفحات ملاحظہ کیجیے جن میں منٹو مرزا غالب کو اپنے آخری ایام کا احوال بتا رہے ہیں : لاہور آ کر میری شراب نوشی حد سے تجاوز کر گئی تھی مرزا صاحب۔ کہیں کوئی دوست نہیں تھا۔ آنے والے دن بالکل تاریک دکھائی دیتے تھے۔ اگر میں مر گیا تو میرے بیوی بچے سڑک پر آ جائیں گے۔ تھوڑے تھوڑے عرصے

Read more

میں نے منٹو سے کیا سیکھا؟

چیخوف کے بارے میں یہ بات اردو کے ایک رائٹر محمد مجیب نے کہی تھی کہ اس کا دل بہت بڑا تھا، وہ انسانیت کے تمام گناہوں کو معاف کرسکتا تھا۔ منٹو کے بارے میں بھی عین یہی بات کہی جا سکتی ہے۔ آپ کہیں گے کہ رائٹر گناہوں کو معاف کرنے کا ٹھیکیدار ہے کیا؟ میرے خیال میں منٹو سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے، بلکہ ہر اس بات کا ٹھیکہ لینے کی بھی، جس کے لیے یار

Read more

منٹو کا خود پر لکھا ہوا خاکہ

یہ مضمون منٹو صاحب نے انتقال سے تقریباً تین ماہ قبل ستمبر1954ء میں رسالہ نقوش کے لئے لکھا۔ مدیر نے ’طلوع‘ (رسالے کے پیش لفظ) میں اس تحریرکے لئے ’ایک نیا سلسلہ‘ کی سُرخی کے تحت یہ نوٹ لکھا:

’’ہمارا خیال ہے خود ادیبوں سے بھی اپنی ذات کے بارے میں لکھوانا چاہیے کہ وہ خود کو کس عینک سے دیکھتے ہیں۔ اس شمارہ میں منٹو نے اپنے بارے میں کچھ فرمایا ہے۔ ان کا قلم چونکہ بڑا بے باک ہے اس لئے وہی بے باکی انہوں نے اپنے بارے میں بھی اختیار کی ہے۔ ویسے یہ بڑی ہمت کی بات ہے کہ جس طرح ان کا قلم دوسروں کے لئے ’بے لگام‘ ہے، وہی قلم اپنے لئے بھی اتنا ہی بے رحم ہے‘‘۔ (محمد طفیل )

Read more

منٹو اور عصمت چغتائی کی فحاشی: لاہور کی عدالت میں

عصمت چغتائی اپنی کتاب “کاغذی ہے پیراہن” میں دو افسانوں پہ چلنے والے مقدموں کی عدالتی کارروائی بتا رہی تھیں۔ کتاب کا پرانا ایڈیشن تھا۔ صفحے سکین کرنے سے بات نہیں بننی تھی۔ تو وہ سارے مکالمے ٹائپ کر دئیے اور ادھر آپ کی عدالت میں حاضر کر دئیے۔ فحاشی کی تعریف کا تعین کرنے میں شاید یہ بحث کچھ مددگار ثابت ہو۔ اقتباسات حاضر خدمت ہیں؛ بو کی پیشی: پیشی کے دن ہم کورٹ حاضر ہوئے اور وہ گواہ

Read more

منٹو پڑھنا منع ہے

عدالت کھچا کھچ بھری ہوئی تھی کہ منصف کے سامنے ایک ایسے انسان کا مقدمہ پیش کیا جانے والا تھا جو کہ کئی دہائیاں قبل وفات پا چکا تھا۔ مقدمے کا لبِ لباب یہ تھا کہ سعادت حسن منٹو نامی ایک مصنف طبی موت پاجانے کے باوجود اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا اور مسلسل معاشرے میں بگاڑ کا باعث بن رہا ہے۔
ہرکارے نے آواز دی۔
سعادت حسن منٹوحاضر ہو۔

دنیا نے دیکھا کہ سادہ سا لباس پہنے، خدائی عذاب میں مسلسل مبتلا رہنے کے سبب مدقوق الحال منٹو، اپنی لاش گھسیٹتا ہوا کٹہرے تک پہنچا۔ ایک نظر زمینی خدا پر ڈالی اور پھر مجمعے کی جانب دیکھنے لگا۔

Read more

مذہب، سائنس اور انسانی نفسیات

(محترمی سہیل تاج کا ڈاکٹر خالد سہیل سے ایک ادبی اور نظریاتی فورم ممتاز مفتی گروپ کے لیے انٹرنیٹ پر تین جنوری 2021ء کو مکالمہ) سہیل تاج : تعارف : ڈاکٹر خالد سہیل کی زندگی میں کئی ایک دلچسپ اتار چڑھاؤ آئے۔ ان کی امی انہیں ڈاکٹر بنانا چاہتی تھیں۔ والد کچھ سال ذہنی انتشار کا شکار ہوئے اور پھر ٹھیک ہو گئے اور ان میں ایک صوفیانہ کیفیت در آئی۔ ڈاکٹر صاحب ان تمام حالات کو اپنے اندر جذب

Read more

ہمارے ماڈرن روحانی بابے

اس مضمون کو لکھنے کا محرک سعید ابراہیم کی ایک پوسٹ ہے جو گزشتہ دنوں میری نظر سے گزری جسے پڑھ کر میری سوچ کے کئی در کھل گئے ان کا فرمانا تھا کہ ”یہ جنہیں ہم پیرفقیر سمجھتے ہیں، یہ عمومی طورپرچٹے ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی فطری ذہانت کے بل پر لوگوں کی نفسیات سے کھیلنا سیکھ جاتے ہیں اور یوں با آسانی ان کی دولت پر بے فکری کی زندگی گزارتے

Read more

سمیع چوہدری کا کالم: اگر مصباح کو گھر بھیج دیا جائے؟

یہ تو بالکل عیاں ہے کہ اگر پاکستان جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز نہ جیت سکا تو مصباح کو گھر کا رستہ دکھا دیا جائے گا مگر سوال یہ ہے کہ اس کے بعد قومی ٹیم کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں دی جائے گی؟

Read more

مطیع اللہ جان، منگو کوچوان اور نیا قانون

سینئر صحافی مطیع ﷲ جان کا 21 جولائی 2020 کواسلام آباد میں اغوا ہوا۔ تو کچھ ہی دیر میں اغوا کی سی سی ٹی وی وڈیو منظر عام پر آگئی۔ وڈیو میں دیکھا جاسکتا تھا کہ کس طرح مطیع ﷲ جان کو وفاقی دارالحکومت میں سرعام تشدد کرتے ہوئے ایک گاڑی میں بٹھا کر نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔ واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا کہ اغوا کی اس کارروائی میں باوردی پولیس اہلکار اور سادہ کپڑوں میں

Read more

منٹو، کرکٹ اور حنیف محمد

سعادت حسن منٹو کا ذکر کرکٹ کی کتاب میں پڑھ کر تھوڑی حیرت ہوئی اور وہ بھی اس کتاب میں، جسے معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو نے اپنے ایک سروے میں کرکٹ پر لکھی گئیں، بہترین کتابوں میں دوسرا نمبر دیا تھا ۔یہ بھارتی تاریخ دان رام چندر گوہا کی کتاب ’’A Corner of a Foreign Field ‘‘ ہے جس میں نہایت عمدگی سے برصغیر میں کرکٹ کے ارتقاء اور ترقی کا قصہ بیان ہوا ہے۔ اس قابل قدر

Read more

پاکستان ترقی کر سکتا ہے

1990ء کی دہائی ہمارے ملک پر بہت سخت وقت تھا۔ ہم پہ کیا کیا نہ زمانہ آیا…. چار منتخب جمہوری حکومتیں اپنی مدت مکمل نہ کر سکیں۔ تین حکومتوں پر 58 ٹو (بی) کا کلہاڑا چلا۔ ایک حکومت کو جہاز میں بیٹھ کر ہائی جیک کیا گیا۔ فرقہ وارانہ قتل و غارت بے روک ٹوک جاری تھی۔ جہاد کے نام پر تنظیمیں راتوں رات قائم ہوتی تھیں اور سب جانتے تھے کہ کوتوال کس کا دوست ہے۔ آدھا وقت افغانستان

Read more

ایک روایتی مذہبی آدمی سے مکالمہ

سوال: جو لوگ کلمہ پڑھے بغیر جنت و دوزخ کے لالچ و خوف سے ماورا ہو کر انسانی جانیں بچاتے ہیں اور اللہ کی مخلوق کو موذی بیماریوں سے بچانے کے لیے میڈیسن یا ویکسین وغیرہ دریافت کرتے ہیں ، ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: ان کی دریافت کی واہ واہ انہیں دنیا میں ایوارڈ کی صورت میں مل جاتی ہے مگر آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے بلکہ وہ جہنم کی آگ میں جلیں گے۔

سوال: کلمہ گو عبدالستار ایدھی کے بارے میں کیا خیال ہے؟

جواب: وہ نماز روزہ سے بہت دور تھا اور حرامی بچوں کا وارث بنتا تھا ، اس لیے وہ صرف نام کا مسلمان تھا اور اس کا انجام بھی کوئی اچھا نہیں ہو گا۔

Read more

پاکستان بمقابل نیوزی لینڈ دوسرا ٹیسٹ: پہلے روز پاکستان آل آؤٹ، لیکن سوشل میڈیا پر بلے بازوں کی مثبت بیٹنگ کی تعریف

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کے کھیل کے اختتام پر پاکستان کی پوری ٹیم 297 رنز پر آل آؤٹ تو ہو گئی لیکن پاکستانی بلے بازوں کی مثبت بیٹنگ پر سوشل میڈیا صارفین خاصے خوش دکھائی دے رہے ہیں۔

Read more

منٹو کا ٹھنڈا گوشت اور لاہور کی 7 سالہ مقتولہ

منٹو 1955 میں خاک کی چادر اوڑھ کر تو سو گئے تھے لیکن منٹو کو کوئی آج بتائے گا کہ آج اکیسویں صدی 2020 میں پھر ایک بار وہی کہانی دہرائی گئی، وہ جس ٹھنڈے گوشت پر منٹو  نے قلم آزمائی کی تھی وہ تو منوں مٹی کے نیچے کب کا سو گیا لیکن آج پھر ایساہی ہوا، اب کی بار جوان خوبرو دوشیزہ نہیں تھی بلکہ ایک 7 سال کی بچی تھی۔

Read more

نوجوان لکھنے والوں کو کیا پڑھنا چاہیے؟

کچھ نوجوان دوستوں نے استفسار کیا ہے کہ اردو غیر افسانوی نثر کی کون سی کتابیں پڑھنا مفید ہو گا تا کہ ان کی اپنی تحریر میں سلاست اور روانی پیدا ہو سکے۔ نیز وہ اردو نثر کے مختلف اسالیب سے آشنا ہو سکیں۔ مجھے اس سوال سے بہت خوشی ہوئی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ وسیع مطالعے کے بغیر ہمارے نوجوان اردو زبان پر کماحقہ عبور حاصل نہیں کر سکیں گے۔ اور اگر ان کی تحریر غیر مؤثر ہو

Read more

بھیشم ساہنی، انعام ندیم اور ”امرتسر آ گیا ہے“

یہ سترہ اٹھارہ سال پہلے کی بات ہے، مجھے میرے پیارے دوست آصف فرخی نے دو کتابیں ایک ساتھ عنایت کی تھیں۔ ان کتابوں میں سے ایک کانام تھا: ”اور کہاں تک جانا ہے؟“ جب کہ دوسری تھی: ”درخواب“ ۔ دونوں شاعری کے مجموعے اور دونوں شاعر میرے لیے نئے۔ تاہم آصف فرخی نے کہا تھا: ”انہیں پڑھیے ضرور آپ کو مایوسی نہیں ہوگی۔“ ان میں سے پہلی کتاب اکبر معصوم کی تھی۔ وہی اکبر معصوم جو آصف فرخی کی

Read more

عصمت چغتائی کا ”دوزخی“

بہن اور بھائی کا رشتہ بہت انو کھا، دلچسپ اور دل فریب ہوتا ہے۔ زندگی پل پل جتنے رنگ بدلتی ہے یہ رشتہ انھیں رنگوں سے ہم آمیز ہوتا چلاجاتا ہے۔ کبھی یہ رشتہ گڑ سے میٹھالگتا ہے اور کبھی سقراط کے پیالے جیسا۔ ایک بہن اپنے بھائی سے اتنی ہی محبت کرتی ہے جتنی اپنے آپ سے کر سکتی ہے اور نفرت کا پیمانہ بھی کم و بیش یہی ہے۔ محبت اور نفرت کا یہی رس اس رشتے کو

Read more

فاروقی: ایک شہنشاہ کی موت

جب رانجھا کا الوہی عکس ہیر کے پانیوں میں ظاہر ہوا تو ہیر پکار اٹھی، مجھ میں رانجھا اتنا بس چکا ہے کہ میں خود رانجھا بن چکی ہوں، اب مجھے ہیر کوئی نہ کہے۔ میں اس ذات کے الوہی عکس کے بارے میں سوچتا ہوں تو تعبیر ملتی ہے کہ اس نے اپنی چمک سے اردو ادب کو فاروقیت کے مشکیزے میں تبدیل کر دیا۔ 1960 کے بعد ایک موسم ایسا آیا جب اردو زبان کا عکس اس کے وجود میں تحلیل تھا اور ایک زمانے نے کہا، کہ میرا چہرہ شان فاروقی کی گواہی دینے کو تیار ہے۔

1960 کے پہلے کی تاریخ گم، اور ایک نئی بوطیقا نئی روشنائی سے تحریر ہوئی جس نے ادب کی تنقید کو ایک نیا ولولہ اور ایک نئی جہت فراہم کی لیکن اس بوطیقا میں یہ بھی تحریر تھا، کہ جو اس شاہراہ کی نفی کرے، وہ ادیب کے منصب پر نہیں۔ جب سے بے نور ہوئی ہیں شمعیں۔ کھو گئی ہیں مری دونوں آنکھیں۔ پھر پئے نذر نئے دیدہ و دل لے کے چلوں۔ حسن کی مدح کروں شوق کا مضمون لکھوں۔ یہ شوق کا مضمون لکھنا مجھے نہیں آیا، اور میں زندگی میں کبھی خود کو اس الوہی طاقت کا عکس نہیں بنا پایا۔

Read more

شمس الرحمان فاروقی کی یاد میں: وہ جو چاند تھا سرِ آسماں۔۔۔

شمس الرحمان فاروقی کی علمیت اور وسعت مطالعہ حیران کن تھی، تجزیہ کاری اور ترکیب کاری کے اوصاف نے ان کی تنقید میں استدلال کا ایک منفرد انداز پیدا کر دیا تھا جس سے ان کے حریف بھی متاثر تھے۔

Read more

ملت کا پاسبان ہے محمدعلی جناحؒ

  اندھیری شب میں قدم قدم پر، چراغ اس نے جلا دیے تھے ہماری دونوں ہتھیلیوں پر، غلام لمحے سجا دیے تھے وہ جس نے صدیوں کا قرض اپنے، نحیف کندھوں پر رکھ لیا تھا وہ جس نے تنہا چٹان بن کر، عدو کے چھکے چھڑا دیے تھے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے انتقال کو ایک طویل عرصہ بیت گیا ہے۔ تاہم ان کے حسن کردار کے نقوش آج بھی تابندہ ہیں۔ قائداعظم جن ارفع و اعلیٰ

Read more

کئی چاند تھے سر آسماں : شمس الرحمٰن فاروقی سے ایک گفتگو

ممتاز ادیب اور نقاد شمس الرحمٰن فاروقی سے 2010 اور 2015 میں لاہور میں تفصیلی انٹرویو کرنے کا موقع ملا، جن میں ان کے معرکہ آرا ناول ’کئی چاند تھے سر آسماں‘ کے بارے میں جو گفتگو ہوئی، اسے یکجا کر کے پیش کرنے کا خیال، بک کارنر جہلم کی طرف سے، اس ناول کے تازہ اور دیدہ زیب ایڈیشن کی اشاعت سے آیا۔ انٹرویوز سے سوالات حذف کر کے جوابات اس انداز میں ترتیب دیے ہیں کہ ’کئی چاند

Read more

کامریڈ بھارا بھی چلے گئے

جمعرات 17 دسمبر کو پاکستان میں مظلوم، محکوم اور پسے ہوئے طبقات کے حقوق کی جدوجہد کرنے والے ایک اور روشن ستارے، پاکستان کسان کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ملک محمد علی بھارا اپنی 69 سالہ سیاسی جدوجہد اور انقلابی تحریک کے ساتھ وابستگی نبھانے کے بعد انتقال کر گئے۔ وطن عزیز کا سیاسی منظر نامہ تو قیام پاکستان سے ہی دھندلا تھا۔ نہ منزل کا تعین، نہ سفر کا آغاز، نہ کوئی منصوبہ بندی، اور نہ ہی ملک کے 22

Read more

مجھے بیٹا چاہیے

فیس بک پہ ایک مقولہ پڑھا جو کہ سعادت حسن منٹو سے منسوب تھا، اب یہ انہوں نے کہا کہ نہیں لیکن فقرے میں بہت گیرائی اور گہرائی تھی۔ مقولہ کچھ یوں ہے کہ ”بیٹی کا جو ہم پہلا حق کھا جاتے ہیں وہ اس کے پیدا ہونے کی خوشی ہے“ جب بھی کسی لڑکا لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو ان کے والدین کی دن رات یہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی جلد سے جلد اولاد ہو جائے

Read more

رحیم گل کا ناول : تن تارا را

نام بڑا اچھوتا ہے۔ کتاب کے سرورق پر ”تن تارا را“ اور ایک حسینہ پر شباب کی تصویر دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے یہ کوئی موسیقی، رقص یا شاعری کی کتاب ہو۔ مگر یہ ایک رومانوی ناول ہے اور ”تن تارارا“ اس ناول کی ہیروئن کا نام ہے۔ اگر آپ نے رحیم گل کی آپ بیتی ”داستاں چھوڑ آئے“ پڑھی ہے تو شاید میری طرح آپ بھی محسوس کر رہے ہوں گے کہ یہ ناول ایک حقیقی کہانی

Read more

مزاحمتی پنجابی ڈی این اے! تخت نہ ملدے منگے

نیا دور کے سولنگی صاحب نے چند روز قبل ایک اون لائن پروگرام میں پی ڈی ایم کی تحریک کے حوالے سے کہا کہ ایسا لگتا ہے پنجاب کا ڈی این اے بدل رہا ہے۔ چڑیا والے سیٹھی بابا نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملا دی۔ دونوں حضرات کا اشارہ میاں نواز شریف اور مریم نواز کے سیاسی بیانیے کی طرف تھا کہ پنجابی عوام میں پہلی بار اسٹبلشمنٹ کے خلاف مزاحمتی بیانیہ مقبول ہو رہا ہے۔ دونوں

Read more

نفرت! اردو پڑھنے والوں سے یا اپنی قومی زبان سے

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے میں علامہ اقبال لائبریری میں بیٹھی ممتاز مفتی کاناول ”علی پور کا ایلی“ پڑھ رہی تھی۔ میرے سامنے ایک خاتون بیٹھ کر نوٹس بنا رہی تھیں۔ وہ نوٹس بناتے بناتے کن اکھیوں سے مجھے دیکھتیں اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو جاتیں۔ تین سے چار مرتبہ یہ عمل دہرانے کے بعد آخر ان کی بے چین طبیعت نے ان کو مجھ سے سوالات کرنے پر اکسایا۔ اور وہ پوچھنے لگیں! بیٹا آپ کا

Read more

مسعودؔ مفتی کا شہر افسوس

(اردو کے ممتاز ادیب اور افسانہ نگار مسعود مفتی 10 نومبر 2020 کو اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ ذیل کا مضمون ان کی زندگی میں لکھا گیا تھا) انتظارؔحسین نے سقوط ڈھاکہ کے موضوع پر جو چند ایک کہانیاں لکھی ہیں۔ ”شہرافسوس“ ان میں سے ایک ہے۔ انتہائی فنکارانہ حسن اور بے پناہ شدت تاثر کی حامل اس کہانی کے تینوں کردار اس بستی میں اپنوں کے ظلم میں صبح کرتے ہیں جسے انہوں نے ایک مدت پہلے دارالامان

Read more

پی۔ ڈی۔ ایم جلسہ: کامیاب یا ناکام؟

13 دسمبر بروز اتوار پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے لاہور میں حکومت مخالف جلسہ کا اعلان کیا تو پنجاب حکومت نے کورونا کے پھیلنے کی وجہ سے اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا۔ مگر اپوزیشن بضد رہی کہ جلسہ ہوگا اور منٹو پارک میں ہی ہوگا۔ پنجاب حکومت نے منٹو پارک میں پانی چھوڑنے کی کوشش کی تو اس کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس سے حکومت نے پھر اس پانی کو خشک بھی کر دیا مگر

Read more

جلسہ لاہور: حکومتی ترجمان اب آگے کا سوچیں

اپوزیشن جماعتوں کے لاہور والے جلسے کو محض تماشائی کے طورپر دیکھنے کے لئے میرے اس شہر میں دو روزہ قیام کے دوران ایک ’’لطیفہ‘‘ بھی ہوا۔میرا جی اگرچہ اس سے گھبرا گیا۔ مذکورہ جلسے کی رپورٹنگ کے لئے ایک عالمی نشریاتی ادارے کے نمائندہ دوست لاہورجمخانہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ مال روڈ سے ظفر علی خان روڈ کی جانب مڑتے ہی وہاں داخل ہونے کا دروازہ لگا ہے۔ اتوار کی دوپہر انہیں کمپنی دینے وہاں چلا گیا۔ تین بجے

Read more

لاہور جلسہ میں کتنے بندے تھے ؟

اندھی نفرت وعقیدت کے موسم میں ’’صحافت‘‘ نام تھا جس کا ‘‘ عرصہ ہوا ہمارے ہاں سے ہی نہیں دُنیا بھر کے میڈیا کے ’’گھر سے‘‘ جاچکی ہے۔ 2016 کا انتخاب جیتنے کے بعد ٹرمپ نے امریکی صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا تو ایک ٹویٹ لکھ کر بڑھک لگادی کہ اس کی حلف برداری کا ’’جشن‘‘ منانے امریکی عوام کی ایک ریکارڈ ساز تعداد وائٹ ہائوس کے باہر جمع ہوگئی تھی۔اس کے مخالف ٹی وی اداروں نے بے تحاشہ

Read more

عارفہ شہزاد کا ناول: میں تمثال ہوں

مشرقی معاشرے کے ٹیبوز کو توڑنا اور عورت کے قلم سے ایسی کہانی لکھے جانا۔ شاید بہت سے لوگوں کو ہضم ہی نہ ہو پائے۔ مگر کیا کیا جائے اب تو لکھنے والی نے لکھ دیا۔ میرے سامنے اس وقت ”میں تمثال ہوں“ کے عنوان سے عارفہ شہزاد کا تحریر کردہ ناول ہے جو اپنی نوعیت، تکنیک اور موضوع کے اعتبار سے قدرے منفرد ناول ہے۔ عارفہ شہزاد اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور میں اردو کی استاد ہیں۔ فکشن کی دنیا

Read more

دس دسمبر 1948ء: جب انسانوں نے اپنے حقوق کا اعلان کیا

"یہ زندگی خواہ فاقوں سے لبریز ہے….. مگر آزاد ہے…..اپنے آقا خود آپ ہو….اگر اپنا سر بھی کاٹنا چاہو تو کوئی روکنے والا نہیں…..میں اب یہاں لیٹا آسمان کی طرف دیکھ رہا ہوں…. ستارے میری طرف دیکھ دیکھ کر آنکھیں جھپک رہے ہیں…. معلوم ہوتا ہے وہ مجھ سے کہہ رہے ہیں، کچھ فکر نہ کرو، جاؤ دنیا کی سیاحت کرو مگر دیکھو کسی کی غلامی قبول نہ کرنا…..دل کس قدر مسرور ہے” ( گورکی- مترجم منٹو) دس دسمبر کو

Read more

وزیر خانم کے صنم تراش شمس الرحمٰن فاروقی سے ایک مصاحبہ

ممتاز ادیب اور نقاد شمس الرحمٰن فاروقی سے 2010 اور 2015 میں لاہور میں تفصیلی انٹرویو کرنے کا موقع ملا، جن میں ان کے معرکہ آرا ناول ‘کئی چاند تھے سر آسماں’ کے بارے میں جو گفتگو ہوئی، اسے یکجا کر کے پیش کرنے کا خیال، بک کارنر جہلم کی طرف سے، اس ناول کے تازہ اور دیدہ زیب ایڈیشن کی اشاعت سے آیا۔ انٹرویوز سے سوالات حذف کر کے جوابات اس انداز میں ترتیب دیے ہیں کہ ‘کئی چاند

Read more

ڈاکٹر ریاض توحیدی کے افسانوں میں کشمیر

ایک عہد میں چند ادیب ہی ایسے پیدا ہوتے ہیں جو اپنی قابلیت اور صلاحیت کے بل پر ادب میں مشہور، فائز المرام اور قارئین کے دلوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ علم وادب کی دنیا میں اپنی منفرد اور الگ پہچان بنانا اور اپنے قارئین کا حلقہ وسیع تر کرنے میں محنت، مطالعہ، تخیل، فکروسوچ اور منفرد اسلوب چاہیے تب جاکے کامیابی و کامرانی اور تحریرات و تخلیقات ادب عالیہ میں شمار کرنے کے لائق ہوجاتی

Read more

اردو سماج اور ادب میں عورت کا کردار!

روز ازل سے انسانی معاشرے کا تانا بانا جن بنیادوں پہ بنا گیا ان میں طبقات، زبانوں اور پیشہ ورانہ شناخت کے علاوہ جسمانی ساخت کی تقسیم بھی شامل تھی جسم کی خصوصیات پر کی گئی تقسیم، انسانی جسمانی ساخت (اناٹومی) کی بنیاد پہ کی گئی تقسیم۔ یہ تقسیم ارتقائے حیات کے اس مرحلے پر ناگزیر تھی۔ ارتقا کی منزلوں میں جب انسان نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی تب اس نے معاشرے میں انصاف، اقدار، افکار اور افعال

Read more

زیاں کے دفتر میں ایک اور برس بڑھ گیا…

عرش صدیقی بھلے آدمی تھے۔ تدریس کو معاش کا پردہ کیا تھا۔ نظم اور افسانہ لکھتے تھے۔ ہماری چاک دامن تاریخ پر 1978کا برس اترا تو دور دور تک کسی امید کا امکان تک اوجھل ہو چکا تھا۔ ہم ایک ایسے عہد تعطل میں داخل ہو گئے تھے جہاں چند جنوں پرور وطن پرستوں کو چھوڑ کر معاشرے نے ریاکاری، عافیت کوشی اور جرم سے سمجھوتے کا مکھوٹا پہن لیا تھا۔ لباس کے قرینے اور زبان کے آداب تو بدلے

Read more

آنکھیں آبیاری کررہی ہیں پھر سے خوابوں کی

سچ تو یہ ہے کہ اس بار جب ڈاکٹر خالد سہیل نے اپنی کتاب آدرش مجھے عنایت فرمائی تو میں خوش ہونے کے بجائے کچھ چڑ سا گیا۔ دل جھلا سا گیا سوچا پلٹ کر پوچھ ہی لوں کہ ڈاکٹرصاحب آخر آپ کا مسئلہ کیا ہے؟ پچھلے چالیس برسوں سے آپ مسلسل لکھ رہے ہیں شاعری، افسانے، مضامین، ترجمے، نفسیاتی مسائل۔ یعنی درجنوں کتابیں آپ کی آ چکی ہیں، مگر پھر بھی طبعیت ہے کہ آپ کی بھرتی ہی نہیں۔

Read more

عورت، ذہن کی آزادی اور صنف و ذات کا تعصب

آج میں نے ایک مختصر یو ٹیوب وڈیو دیکھی جس میں ایک چھوٹا سا معصوم کتے کا پلا چھلانگیں مارتا ہوا سیڑھیاں چڑھ رہا ہے اور اس کو دیکھ کر بچے ہنس رہے ہیں۔ ایک نئی زندگی جس کو کچھ ادراک نہیں کہ اس وسیع دنیا میں اس کی کیا جگہ ہے؟ کیا وہ ایسا جانور پیدا ہوا جس کو کھانے کے لیے بڑا کیا جائے گا، لڑانے کے لیے یا پھر اس کے ساتھ دوستی کرنے کے لیے؟ اس کو کیا وسائل حاصل ہوں گے؟ کیا اس کی تمام ضروریات پوری ہو سکیں گی؟ دنیا میں آنے والا ہر بچہ اسی طرح معصوم ہوتا ہے اور فطرت کی ایک خالی سلیٹ کے ساتھ آتا ہے۔ پھر ہم سب مل کر اس کو دنیا کی اونچ نیچ جیسی بھی ہمیں پتا ہو، سکھا دیتے ہیں۔

ڈاکٹر سہیل اور ہما جمال کا کالم پڑھا۔ ہما جمال نے بہت اچھا اور حقیقت پر مبنی سوال پوچھا اور ڈاکٹر سہیل کا جواب ہمیشہ کی طرح بہت عمدہ ہے۔ ہما جمال نے بالکل ٹھیک کہا کہ شرفاء کے شریف بیٹے منافقت سیکھ لیتے ہیں۔ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ سیدھی انگلیوں سے گھی نہیں نکلتا اور یہ انگلیاں سب کے سامنے ٹیڑھی نہیں کرنی ہیں۔ اور اس منافقت میں معاشرہ ان کا ساتھ دیتا ہے۔ ان کی مائیں تک ان کا ساتھ دیتی ہیں۔ کیوں نہ دیں آخر کو یہ سپوت اس پدرانہ نظام میں اونچی ذات کے حامل ہیں۔

Read more

’میراڈونا آف ہاکی‘: شہباز احمد جن کے ساتھ پاکستانی ہاکی کا عروج بھی رخصت ہو گیا

شہباز احمد واحد ہاکی کے کھلاڑی ہیں جنھیں حکومتِ پاکستان نے ہلال امتیاز کے ایوارڈ سے نوازا ہے۔ پاکستان میں یہ ایوارڈ صرف چار کھلاڑیوں کو ملا ہے جن میں شہباز احمد کے علاوہ عمران خان، جہانگیر خان اور جان شیر خان شامل ہیں۔

Read more

بڑے لوگ پیدا ہونے سے باز نہ آویں گے

دنیا میرا ڈونا سے پہلے بھی رواں تھی۔اس کے بغیر بھی رواں ہے اور رہے گی۔میراڈونا سے پہلے بھی فٹ بال کے بہت ستارے ابھرے، اس کے ہوتے ہوئے بھی عالمی معیار کے کھلاڑیوں کی کمی نہیں تھی ، آیندہ بھی نہیں ہوگی۔ کروڑوں لوگ میراڈونا کے لیے جتنے افسردہ ہیں میں اتنا ہی پرامید ہوں۔جب تک محرومی، غربت، ذلت اور ارادے جیسی نعمتیں موجود ہیں تب تک یہ دنیا عظیم کرداروں سے خالی نہیں ہو سکتی۔ پچھلے سات ہزار

Read more

مشرقی شرفا کے بارے میں ایک خط: ڈاکٹر خالد سہیل کے نام

ہما جمال کا ادبی محبت نامہ محترم ڈاکٹر خالد سہیل! آج بہت عرصہ بعد آپ سے خط و کتابت کا خیال دل میں ابھرا۔ لوگ آپ کو خط لکھتے ہیں اور باتوں باتوں میں آپ سے نفسیاتی الجھنیں کا حل معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوچا کیوں نہ میں آپ سے ایک اہم مسئلے پر ادبی گفتگو کرلوں لیکن ڈاکٹر صاحب ادبی گفتگو میں اگر بے ادبی کی بات ہو جائے تو کیا یہ اعلیٰ ادب کہلائے گا؟ جیسے

Read more

پاکستان میں بائیں بازو کے لکھاریوں کی کتب کیوں کم چھپ رہی ہیں؟

برصغیر پاک و ہند میں مزاحمتی اور بائیں بازو کی ادبی تحاریک کی تاریخ 1947 میں ہونے والی تقسیم ہند سے بھی پرانی ہے۔ اس زمانے کے ترقی پسند مصنفین نے لکھنے کے اصول وضح کیے اور ادب برائے زندگی کو اپنا موضوع بنایا۔

1936 میں ‘انڈین پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن’ کے بانیوں میں دائیں بازو کی سوچ کے حامل سجاد ظہیر ملک، ڈاکٹر راج آنند اور ایم ڈی تاثیر اس تحریک کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل تھے۔ تاہم تقسیمِ ہند کے بعد دسمبر 1947 میں ‘آل پاکستان پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن’ کی بنیاد پڑی۔ جسے سبطِ حسن اور سعادت حسن منٹو جیسے اردو کے مصنفین کے علاوہ سندھ سے تعلق رکھنے والے لکھاریوں ابراہیم جویو اور سوبھو گیان چندانی جیسے کئی افراد نے زندہ رکھا۔

Read more

کیمیائی طور پہ جنسی نامردمی اور منٹو!

منٹو، عہد حاضر کا سب سے بڑا نباض! دیکھئیے کیا لکھتا ہے، ”خان بہادر کی بیوی اپنے شوہر کے کمرے میں گئی جو کہ خالی تھا مگر بتی جل رہی تھی۔ بستر پر سے چادر غائب تھی۔ فرش دھلا ہوا تھا، ایک عجیب قسم کی بو کمرے میں بسی ہوئی تھی۔ خان بہادر کی بیوی چکرا گئی کہ یہ کیا معاملہ ہے، پلنگ کے نیچے جھک کر دیکھا مگر وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ لیکن ایک چیز تھی، اس نے

Read more

جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات اور اجتماعی ذمہ داری

وطن غزیز اس وقت شدید مالی اور انتظامی بحران سے گزر رہا ہے۔ مگر سب سے بد ترین اورخطرناک بحران یہاں اخلاقی بحران ہے۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی یا بربادی کا تعلق اس ملک کے باشندوں کے اخلاقی اقدار سے بڑا تعلق رکھتا ہے۔ بڑوں سے سنا تھا، پرانے وقتوں میں حیا اور حرمت کا بہت خیال کیا جاتا تھا۔ ماؤں بہنوں کو سانجھا سمجھا جاتا تھا چاہے وہ دشمن کی ہی کیوں نہ ہوں۔ اب مجھے لگتا ہے

Read more

عمر کی نقدی ختم ہونے کو ہے (1)

گریجویشن کے امتحان سے ایک ماہ قبل جون 1978 میں والد محترم کا ایک طویل بیماری کی وجہ سے انتقال ہو گیا۔ والدہ بہت پہلے ہی وفات پا چکی تھیں اس لئے میں اب گھر میں اکیلا اور تنہا رہ گیا۔ والد بزرگوار کے کفن دفن کے بعد ان کی تعزیت کے لئے آنے جانے والوں آنا جانا لگا رہا۔ ایک ماہ گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا۔ ایسے حالات میں امتحان کی تیاری کیا ہونا تھی بس تھوڑی بہت

Read more

خادم حسین رضوی: تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ کی نمازِ جنازہ کے لیے لوگ مینار پاکستان کے اردگرد جمع

تحریک لبیک پاکستان کے بانی خادم حسین رضوی 55 سال کی عمر میں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں وفات پا گئے تھے۔

Read more

فیض احمد فیضؔ اور صحافت

فیض احمد فیضؔ ہماری تہذیبی حیات، ادبی و فکری تاریخ اور قلمی و صحافتی روایت کا زندہ اور روشن استعارہ ہیں۔ دانشور، شاعر، استاد، نقاد، مزدور انقلابی راہنما، مدیر و صحافی یہ سب ان کی ہشت پہلو شخصیت کے نمایاں پہلو ہیں۔ فیضؔ صاحب کی ہمہ جہت شخصیت کا ہر پہلو اپنے اندر ایک زندگی لیے ہوئے ہے۔ بطور شاعر وہ عہد ساز شاعر کہلاتے ہیں لیکن ان کی شخصیت کے دوسرے پہلو بھی کم متاثر کن نہیں ہیں، وہ

Read more

کرونا وائرس کی دوسری لہر کے لئے

انسانی دماغ کی یہ خاصیت ہے کہ جو شے اس میں ایک بار چپک جائے یا یہ جس موضوع میں دلچسپی لینے لگے تو دنیا مافیہا سے بے خبر اسی دھن میں مگن ہوجاتا ہے۔ بس چلتے پھرتے، سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے اسے وہی سوجھتا ہے یا یوں کہیے کہ ایک ہڑک سی اٹھتی ہے جو دیوانہ وار اسے اسی سمت سوچنے اور اسی کی ٹوہ میں سرگرداں رہنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اگر تو یہ لگن اور ہوک ترقی پسندی کی ہو اور تخلیقی آئیڈیاز سے بھرپور ہو تو سبحان اللہ۔ انسان کے وارے نیارے۔

Read more

منٹو کے کھول دو سے "کجا ہستی جان پدر” تک

کابل یونیورسٹی پر دہشت گرد حملہ جسے ہم چار دن یاد رکھنے اور فضول کا واویلا کرنے کے بعد اب ایسے بھول گئے ہیں جیسے ایسا کوئی وقوعہ کبھی ہوا نہیں۔ جہاں یہ اجتماعی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے وہیں اس بات کی بھی غماز ہے کہ اس طرح کے واقعات اب ہمارے لئے کوئی خاص اہم نہیں رہے۔ یہ روز کا معمول بن گیا ہے کہ دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں کچھ نہ کچھ غیر

Read more

نیئر مصطفیٰ : کہانی کا آگھرو دیوتا

چنیوا اچیبے نے کہا تھا، ”کسی کو یاد کرنا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ عظیم تر! کیوں؟ اس لیے کہ یہ کہانی ہوتی ہے جو جنگجو اور جنگ کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔ کہانی سب کو پچھاڑ دیتی ہے۔ کہانی ہمیں راستہ دکھاتی ہے۔ دنیا کی تاریکیوں میں قدم قدم پر موجود باڑوں اور زنجیروں کی دنیا میں کہانی ہمیں یوں تھام لیتی ہے جیسے کسی اندھے کو کوئی راستہ دکھانے والا مل جائے۔ کہانی ہمیں کانٹوں میں الجھنے سے

Read more

کھول دو

سعادت حسن منٹو بھی بڑا عجیب انسان تھا۔ وہ تازہ تازہ جنم لینے والے پاکستان کے معاشرے کی گندگی کو، بنا کسی لگی لپٹی کے، معاشرے کے منہ پر اپنے ہاتھوں سے ملنے لگ پڑا تھا۔ اب بھلا ایک شرابی، رنڈی باز کے منہ سے اور قلم سے گند کے سوا اور کچھ نکل بھی کیسے سکتا تھا؟ جب اس نے اپنے مختصر سے افسانے ”کھول دو“ میں رضاکاروں کے خلاف اپنے گندے قلم سے گند اگلا تھا تو نہ جانے کتنے ایمان والوں اور رضاکاروں کا دل دکھا ہو گا۔

Read more

منٹو کا افسانہ جو کشمور میں تجسیم ہو گیا

منٹو وہ بے رحم افسانہ نگار تھا جو مکروہ شکلوں اور سڑاند زدہ معاشرے کے قالین کے نیچے دبے گند کو دکھاتا تھا۔ اس پر مقدمے بنے، اسے فحش نگار قرار دیا گیا لیکن وہ لکھتا رہا۔ ایک مختصر افسانہ ”کھول دو“ بھی تھا۔ جس میں تقسیم ملک کے وقت اپنوں کے ہاتھوں جگہ جگہ جنسی درندگی کا شکار بنی لٹی پٹی سکینہ آزار بند کھول کے شلوار نیچے سرکا دیتی ہے۔

منٹو کی یہ کہانی اس بدبودار سماج کی کہانی ہے جس کے مکروہ چہرے پر پاکیزگی اور تقدیس کی ملمع کاری ہے۔ نام نہاد دانشور جس کے قصیدے پڑھتے نہیں تھکتے اور انہیں پورے لباس میں کھیلتی خواتین کے جنسی اعضا بے حال کیے دیتے ہیں۔ جس معاشرے کے لئے مثال دینے کو فاطمۃ الزہرا جیسی بیٹی ہے لیکن حقیقت میں اس کے اعمال میں ہر روز کوئی زینب ہے تو کوئی موٹر وے والی خاتون، بنکوں میں کام کرتی عورتیں ہیں ہسپتال میں علاج کے لئے گئی مریضائیں اور قبرستان میں دفن لاشیں ہیں اور ہاں کشمور کی ننھی کلی ہے جس نے ماں کے اشارے پہ کیمرے کے سامنے اپنی شلوار کھول کے نیچے سرکا دی ہے۔

Read more

خواتین کالم نگاروں میں زاہدہ حناکا مقام

صحافیانہ نقطہ نظر سے کالم سے مراد وہ تحریر ہوتی ہے جو کوئی لکھاری کسی بھی اخبار کے اداراتی صفحہ پر یا کسی اور صفحہ پر حالات حاضرہ، سیاست، معیشت، معاشرت، ادب، کتاب و صاحب کتاب، شاعر ادیب اور دیگر موضوعات پر مختصر تجزیہ کسی بھی ایک عنوان کے تحت قلم بند کرے۔ اس طرح کی تحریر لکھنے والا کالم نگار کہلاتا ہے۔ لمحہ موجود میں کالم کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ معروف ادیب و کالم نگار زاہدہ حنا نے اپنے کالم ”کے ایل ایف: کالم اور کالم نگار“ میں لکھا کہ ”کالموں کو جمہوری دنیا میں نہایت اہمیت دی جاتی ہے اور وہاں کے حکمران اپنے اپنے ملکوں کے اہم کالم نگاروں کو پڑھتے ہیں تاکہ اپنی پالیسیاں بنانے میں ان کی رائے کو مد نظر رکھیں کیونکہ وہ ان کی تحریروں کو زبان خلق، تصور کرتے ہیں“ ۔

اردو میں کالم نگاری کی ابتدا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 1877 ء میں اس وقت ہوئی جب ہندوستان سے سجاد حسین کی ادارت میں اخبار ”اودھ پنچ“ جاری کیا گیا۔ وہی اس کے مدیر اعلیٰ تھے۔ سجاد حسین نے اس اخبار میں فکاہیہ کالم لکھنا شروع کیے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ اردو میں کچھ فارسی کی ملاوٹ سے 1731 ء میں جعفر زٹلی نے طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے طرز پر فکاہیہ کالم لکھے۔ منشی سجاد کے علاوہ کالم نگاری کرنے والوں میں تربھون ناتھ ہجر، رتن ناتھ سرشار، مچھو بیگ، ستم ظریف، جوالا پرشاد برق، نواب سید محمد آزاد، منشی علی احمد شوق اور اکبر الہ آبادی شامل تھے۔

Read more

جاگ پنجابی جاگ

استاذی پروفیسر خالد سعید اور برادرم ڈاکٹر اختر علی سید کی ہدایت پر درویش 7 اور 8 نومبر کو ملتان لٹریری فیسٹیول میں شریک ہوا۔ استاذ الاساتذہ ڈاکٹر انوار احمد کی ہم نشینی سے سرفراز ہوا۔ ڈاکٹر مقبول گیلانی اور عزیزم علی نقوی کی دلدار میزبانی سے لطف اٹھایا۔ کشور ملتان میں رضی الدین رضی، شاکر حسین شاکر، قمر رضا شہزاد اور نوازش علی ندیم بندہ عاجز کے قدیمی مہربان ہیں، چشم گستاخ نے محبت اور علم کے ان نایاب

Read more

اردو ادب کا ٹائی ٹینک ڈوب رہا ہے؟

حالات بتاتے ہیں کہ شاید اگلے پانچ سے دس سال میں دنیا میں اسکولز، کالجز اور یونیورسٹی کی عمارتیں چھوٹے چھوٹے کمپیوٹر سے سجے کیبنوں میں بدل جائیں۔ جدید ترین امیر ملکوں میں پہلے ہی آن لائن کلاسز اور سکول کالجز نئے نارمل کا حصہ بن رہے ہیں جسے جلد یا بدیر اپنانا تیسری دنیا کے چھوٹے ملکوں کے لئے مجبوری بن جائے گا۔ ایسی صورتحال میں اردو ادب کا کیا مستقبل ہے؟ اب آپ سوچیں گے آن لائن کلاسز

Read more

راجہ مہدی علی خان۔ ایک بہترین لیکن گمنام فلمی شاعر

قیام پاکستان سے قبل پنجاب کے بہت سے لوگ بمبئی کی فلم انڈسٹری میں کام کر رہے تھے۔ ان میں سے کچھ تو پاکستان بننے کے بعد واپس آ گئے لیکن کچھ نے وہیں بسیرا کرنے ارادہ کیا پھر اپنے اس ارادے پر مستحکم رہے۔ وہاں رہ کر انہوں نے بمبئی کی فلم نگری میں اپنی محنت اور خداداد صلاحیتوں سے اپنے کام کا لوہا منوایا۔ ان میں موسیقار خیام۔ گلوکار محمد رفیع اور گیت نگار راجہ مہدی علی خان سرفہرست ہیں۔

Read more

بو: منٹو کا وہ افسانہ جس پر فحاشی کا مقدمہ بنا

برسات کے یہی دن تھے۔ کھڑکی کے باہر پیپل کے پتے اسی طرح نہا رہے تھے۔ ساگوان کے اس اسپرنگ دار پلنگ پر، جو اب کھڑکی کے پاس سے تھوڑا ادھر سرکا دیا گیا تھا، ایک گھاٹن لونڈیا رندھیر کے ساتھ چمٹی ہوئی تھی۔ کھڑکی کے پاس باہر پیپل کے نہائے ہوئے پتے رات کے دودھیالے اندھیرے میں جھمکوں کی طرح تھرتھرا رہے تھے۔ اور شام کے وقت جب دن بھر ایک انگریزی اخبار کی ساری خبریں اور اشتہار پڑھنے

Read more

مجھے نوبل انعام کی خواہش نہیں مکمل کالم

مجھے پوری امید تھی کہ امسال ادب کا نوبل انعام اس فقیر کو دیا جائے گا (یہاں فقیر سے مراد فدوی اور فدوی سے مراد میں خود ہوں ) لیکن ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی مغربی اداروں نے تعصب سے کام لیتے ہوئے کسی نا معلوم امریکی شاعرہ کو ادب کا نوبل انعام دے دیا ہے۔ صاحب طرز ادیب اور کالم نگار مسعود اشعر صاحب (اس پائے کے اب چند لوگ ہی ہمارے درمیان رہ گئے ہیں ) نے اپنے تازہ کالم میں اس شاعرہ کی نظم کے ایک حصے کا ترجمہ لکھا ہے اور ساتھ ہی پاکستانی ادیبوں اور شاعروں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر نوبل انعام کمیٹی والوں کا دل جیتنا ہے تو اس قسم کی نظمیں لکھا کرو۔

Read more

جیسندا آرڈن: جس سے سیکھنے کو بہت کچھ ہے

دنیا میں لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، مگر زندہ وہی رہتے ہیں جو دنیا میں نام کمانا جانتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے کام کی وجہ سے زندہ رہتے ہیں اور لوگوں کی دلوں میں اعلیٰ مقام پیدا کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں چھوٹی تھی تو اس وقت لیڈی ڈیانا انگلینڈ کی شہزادی تھیں، وہ خوب صورتی کی مالک تھیں۔ وہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ اگر ہم اپنے ملک کی بات کریں، تو ہمارے یہاں بھی ایسی عورتیں پیدا ہوئی ہیں، جنہوں نے اپنے کام اور کردار کی وجہ سے دنیا میں نام کمایا ہے۔ رعنا لیاقت علی، محترمہ فاطمہ جناح جنہیں ہم مادر ملت کہتے ہیں۔

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں۔ جہاں عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ وہ مرد کے گلے کا ہار نہیں بننا چاہتی، مگر اسے پاؤں کی جوتی بنانے کا کسی کو بھی اختیار نہیں۔ لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں میں شعور بڑھ رہا ہے۔ اس سے قبل لڑکیوں کو پڑھانے میں کافی مسائل پیدا ہوتے تھے۔ لیکن اب تمام تر مسائل کے با وجود لڑکیاں اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ پڑھی لکھی ماں ہی ایک پڑھا لکھا معاشرہ پیدا کر سکتی ہے۔

Read more

طلبہ کو دہشت گردی پر اکسانے کا الزام، بھارتی کشمیر میں 3 اساتذہ گرفتار

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں طلبہ کو دہشت گردی پر اکسانے کے الزامات کے تحت تین اساتذہ کو ’پبلک سیفٹی ایکٹ‘ (پی ایس اے ) کے تحت حراست میں لے لیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی ضلع شوپیاں کے ایک تعلیمی ادارے جامع سراج العلوم کے تین اساتذہ کے خلاف پی ایس اے کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔ اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کو بھارتی کشمیر میں بغیر مقدمہ چلائے تین ماہ سے دو سال تک قید میں رکھا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے تحت نظر بندی کو عام عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

Read more

مرتضیٰ سولنگی‘یوٹیوب چینل اور سوالات

مرتضیٰ سولنگی مجھے بہت عزیز ہے۔ زندگی کے کئی برس موصوف نے ریڈیو کے ذریعے عوام سے رابطے کا ہنر سیکھنے کی نذر کئے ہیں۔ ’’وائس آف امریکہ‘‘ کے لئے واشنگٹن میں رہتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو نکھارا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی خواہش تھی کہ وہ پاکستان لوٹ ا ٓئیں۔ وہ اس جہاں میں نہ رہیں لیکن آصف علی زرداری کو ان کی خواہش یاد رہی۔ 2008کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو انہیں ریڈیو

Read more

سچ بولنا فحش گفتگو میں شمار ہوتا ہے

آپ رات کو سوئے ہیں۔ اچانک آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی قمیض میں کچھ سرسرا رہا ہے۔ خوف اور ڈر سے آپ چیخ مارنے لگیں تو ایک ہاتھ آپ کا منہ زور سے دبا دے۔ اور کان میں سرگوشی ہو کہ یہ میں ہوں انکل طاہر۔ سوچئیے۔ بیوی جو اس مرد کا چوتھا بچہ پیٹ میں لیے آخری دنوں پہ ہے۔ اسی کمرے میں سو رہی ہے۔ ایک کونے میں جوان سالا سو رہا ہے۔ اور سالی کی بھانجی جو اس کی بیوی کی خدمت کے لیے آئی ہے کہ چھلا کٹوا دے۔ اس پہ گندی نیت رکھ لو۔

آنٹی کو بتانے لگی تو ان کی طبیعت خراب ہو گئی۔ سوچا کہ ٹھیک ہوں گی تو بتاتی ہوں۔ مگر پتہ چلا کہ انکل نے کہہ دیا کہ نوشی رات سب کے سونے کے بعد میرے پاس آ جاتی ہے۔ کہ مجھے آپ اچھے لگتے ہیں آپ کے ساتھ سونا ہے۔ اب میں تو اسے اپنی بیٹی سمجھتا ہوں۔ تم بتاؤ کیا کیا جائے۔ سوچئیے ایک پندرہ سالہ لڑکی نے اس سازش کا کیسے مقابلہ کیا ہو گا۔ مگر نہیں آپ کہہ دیں گے کہ میں گئی ہی کیوں۔ نہ میں جاتی نہ یہ ہوتا۔ کیونکہ میں گئی تو قصور میرا ہے معاشرہ تو بہت اچھا ہے۔ اس کی بڑی روایات ہیں۔ سنئیے مزید روایات سنئیے اور سر دھنیے۔

Read more

ہنزہ کے لوگوں کا تاریخ کے روبرو استغاثہ

میر آف ہنزہ اور نگر نے 1947 ء میں اپنی ریاستوں کے الحاق کا خط لکھ کر پاکستان کو اس علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کا جواز فراہم نہ کیا ہوتا تو پاکستان اور دنیا کے حالات بھی آج مختلف ہوتے۔ 1963 ء میں پاکستان کا چین کے ساتھ سرحدی معاہدے پر میر آف ہنزہ کی رضامندی شامل نہ ہوتی تو نہ شاہراہ قراقرم کی تعمیر ہوتی اور نہ آج پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی راہداری المعروف سی پیک کا

Read more

کلبھوشن جادھو: سزائے موت کے منتظر انڈین جاسوس کا کیس کیسے آگے بڑھایا جائے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے تجاویز طلب کر لیں

اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا پاکستان کی طرف سے کلبھوشن جادھو کو وکیل کی سہولت فراہم کرنے سے عالمی عدالت انصاف کی جانب سے اس حوالے سے کیے جانے والے فیصلے پر موثر عملدرآمد ممکن ہو پائے گا؟

Read more

امریکی صدارتی انتخابات 2020 اور انکل سیم: امریکہ کے لیے ’چچا سام‘ کی اصطلاح کیسے وجود میں آئی؟

سات ستمبر 1813 کی ٹرائے (نیویارک) پوسٹ کے ایک نامہ نگار نے پہلی مرتبہ ’انکل سیم‘ کی اصطلاح امریکی حکومت کے لیے تحریر کی۔ اس کے بعد اس اصطلاح کا مطلب ہی امریکی حکومت ہو گیا اور ہر شخص اسے امریکی انتظامیہ کے مفہوم میں استعمال کرنے لگا۔

Read more

صفدر حسین سندھو کا ملال: ہم قانوناً آزاد ہیں مگر؟

ضلع کچہری شیخوپورہ کی حدود کے آخری کونے میں اک بندگلی میں ایک وکیل صاحب کا دفتر ہے۔ یہاں تک پہنچتے پہنچتے کچہری کی ساری رونق، گہما گہمی اور زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ دفتر والوں کو حال سے زیادہ مستقبل کی فکر لگتی ہے۔ سو اس دفتر کو تعمیر کرتے ہوئے اس کی ”کرسی“ بہت اونچی رکھی گئی ہے تاکہ کل کلاں فرش ”نیواں“ نہ ہو جائے۔ یہ کچھ اور اونچی اس لیے دکھائی دیتی ہے کہ گلی میں

Read more

ہم ابھی تک انسانیت بھی تلاش نہ کرسکے!

بھلائی اور برائی برابر نہیں اگر کوئی برائی کرے تو اس کا جواب اچھائی سے دو پھر تو تیرے اور جس کے درمیان دشمنی ہے وہ ایسا ہو جائے گا گویا دوست ہے ناتے والا اور یہ بات ملتی ہے انھیں کو جنھیں صبر ہے اور یہ بات ملتی ہے اس کو جس کی بڑی قیمت ہے۔ (ترجمہ) ۔ عدم برداشت سے مراد وہ منفی رویہ ہے کہ جب کسی کی رائے سوچ رویے نقطہ نظر سے آپ کو اختلاف

Read more

بچوں والی عصمت

منٹو سے کسی نے پوچھا تھا کہ عصمت نے آپ سے شادی کیوں نہیں کی۔ منٹو اور عصمت یہ دونوں ہستیاں مل جاتیں تو الگ ہی افسانوی دنیا بس جاتی۔ میں یہی سوال اپنے عزیز دوست شعبان سے کرتا ہوں کہ عصمت نے آپ سے شادی کیوں نہیں کی؟ شعبان اور عصمت شادی کے بندھن میں بندھ جاتے دونوں کی زندگی خوشگوار ہوتی۔ یہ میری سوچ ہے کہ دونوں خوش رہتے وجہ یہ ہے کہ دونوں نے بچپن اکٹھے گزارہ،

Read more

اگلے جنم میں ونود کو کتا ہی کیجیو

کورونا کی وبا سے پہلے کے یہی دن تھے۔ (منٹو کا افسانہ "بو "یاد آگیا نا مگر ادھر میں ایسا کچھ نہیں)۔ شکاگو میں رات کا کھانا تھا۔ میزبان وہیں کی ایک گجراتی فیملی تھی۔ شام سے لانگ ویک اینڈ شروع ہوچکا تھا (ایک ساتھ کئی ایسی چھٹیاں جو ہفتے اتوار کی تعطیل سے جڑی ہوں) کچھ امریکی کے ماحول کی مناسبت سے مہمان کھانا اور شراب ساتھ لائے تھے۔ شرکت کی شرائط سادہ تھیں دین اور پاسپورٹ کی قید

Read more

میں نے ہر آب رواں گرتا ہوا دیکھا ہے

ایک عزیز کو نعش کی شناخت کے لئے ہسپتال جانا پڑا۔ سرد خانے کے دروازے پر ہی دو افراد نے اسے گھیرنے کی کوشش کی۔ پہلے نے کارڈ تھما کر کہا ہمارے ہاں قبر کشائی اور تدفین کا کام تسلی بخش کیا جاتا ہے۔ دوسرے نے کہا پھول ہم سے بہتر کوئی بھی قبروں پر نہیں چڑھاتا۔ ہم تو قبر پر معمولی پیسوں میں اتنے پھول ڈال دیتے ہیں کہ قبر کا نشان بھی نظر نہیں آتا۔ ہمیں غصہ آ

Read more

میرا بھائی، میرا دوست

یہ میرا حوصلہ ہے کہ تیرے بغیر بھی میں۔ سانس لیتا ہوں بات کرتا ہوں۔ جاوید بھائی یوں تو مجھ سے عمر میں تقریباً ساڑھے تین سال بڑے تھے لیکن ہم دونوں میں بے تکلفی ایسی تھی کہ اکثر لوگوں کو یقین ہی نہیں آتا کہ ہم سگے بھائی ہیں۔ ہم بھائی سے زیادہ دوست تھے اور ہماری محبت ضرب المثال تھی۔ ایک سکول۔ ایک کلاس اور ایک ہی بنچ پر بیٹھنا اور دوست بھی مشترکہ۔ ساتویں کلاس کے سالانہ

Read more

بھائی ویرسنگھ نانا کیسے بنے؟

جب تیسری بار میری نظر ان کے ہاتھوں پر پڑی جن میں ایک بھی انگلیاں نہیں تھیں تو وہ مسکرائے اور بولے : ’بیٹے، مجھے پتہ ہے کہ آپ کو تجسس ہو رہی ہے۔ پہلے میں ذرا چائے وائے کا انتظام کروا لوں پھر آپ کو قصہ سناتا ہوں۔‘ یہ کہہ کر وہ ملاقات کے کمرے سے اٹھے اور اندر تشریف لے گئے۔ مجھے تھوڑی شرمندگی ہوئی کہ میں بار بار ان کے ہاتھوں کو کیوں گھور رہا تھا۔ لیکن

Read more

قبر میں اکیلی کیوں لیٹی؟

باہر اکیلی کیوں نکلی؟ رات کے وقت سفر کیوں کیا؟ سر پہ دوپٹہ کیوں نہیں تھا؟ منہ حجاب سے کیوں نہیں ڈھانپا؟ جینز کیوں پہنی؟ شوخ رنگ کیوں اوڑھے؟ بھنویں کیوں ترشوائیں؟ چست لباس سے جسم کیوں نمایاں کیا؟ چادر سے جسم کے زاویے چھپائے کیوں نہیں ؟ منہ پھاڑ کے ہنسی کیوں؟ زیادہ باتیں کیوں کرتی ہے ؟ میک اپ کیوں کیا ؟ بال کیوں کٹوائے تھے؟ لڑکوں کے ساتھ تعلیم کیوں حاصل کی؟ مردوں کے ہمراہ دفتر میں

Read more

تخلیق کے معجزے

صبح سے بے چینی طاری تھی، آج تہیہ کیے بیٹھا تھا کہ کچھ لکھا جائے گا مگر دل کسی ایک موضوع پر ٹھہر نہ پا رہا تھا۔ اضطراری کیفیت میں قلم اور ڈائری ہاتھ میں لی اور اس کشمکش کو ہی کاغذ پر منتقل کرنے لگا۔ یہ اندیشہ ہونے لگا کہ شاید ذہن بنجر ہو گیا ہے اور یہ سوکھی زمین تخلیق کی کھیتی کے قابل نہ رہی تھی یہ کیفیت انسان کو ذہنی پژمردگی کا شکار بنا سکتی ہے۔

میں نے معقولیت پر مبنی سوچ کے استعمال کی شعوری کوشش کی اور بزرگ تخلیق کاروں کے بارے سوچا کہ ایک لکھاری، شاعر، مصور یا سنگ تراش کچھ لکھنے یا بنانے سے پہلے کن مراحل سے گزرتا ہو گا۔ کسی بھی فن پارے کی تخلیق سے پہلے کہ جب ابھی اس کا خیال ان کے ذہن میں وارد نہیں ہوا ہو گا، اور وہ اس کشمکش میں ہوں گے کہ ایسا کیا تخلیق کیا جائے یا لکھا جائے جو دلوں کو گرما دے، ان کی ذہنی کیفیات بھی خلجان کی سی ہوں گی۔ ہو سکتا ہے کہ اس تردد میں انہیں بھی یاسیت آن گھیرتی ہو۔

Read more

وفاقی حکومت کے ساحل کے قریب سائیکلون

سمندری طوفان سائیکلون قریب کے ساحل کے لیے تشویش کی خبر ہوتا ہے۔ سائیکلون اگر رخ تبدیل کرکے متعلقہ ساحل سے دور ہو جائے تو وہاں سکھ کا سانس لیا جاتا ہے ورنہ ریسکیو ادارے کئی روز تک ساحل پر سائیکلون کی تباہ کاری کا اندازہ لگاتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی سائیکلون کا قریب ترین ساحل وفاقی حکومت ہوتی ہے۔ اگر یہ سائیکلون سرپرستی کم ہو جانے یا سرپرستی ختم ہوجانے کے باعث دھیما پڑجائے تو حکومت فتح یابی

Read more

ایک پرانی تصویر

یہ پرانی تصویر کسی نے بھجوائی ہے تو کیا کیا یادیں بھاگی بھاگی آن پہنچی ہیں۔ یہ زندگی شروع کرتے کچھ لڑکے اکٹھے کھڑے ہیں۔ لڑکے؟ مرد؟ نوجوان؟ یہ کون ہیں، یہ تو عام سے لڑکے ہیں، گندمی رنگ، بال سنوارے، شیو بنائے، داڑھی مونچھ تراشے، عام سے لڑکے، کسی گلی کے موڑ پر کھڑے آوارہ گرد، روایتی، رواجی سے لڑکے۔ ان جیسوں سے ہر بازار بھرا پڑا ہے۔ غور سے دیکھیے، تصویر پر توجہ دیجیئے۔ کچھ نظر آیا؟ ان کی آنکھوں کی چمک دیکھئیے۔ یہ کون ہیں؟

یہ بکھری کہانیاں ہیں؟ یہ زندگی شروع کرتی کچھ کہانیاں ہیں، کہانیاں، جی کہانیاں، متوسط طبقے سے تعلق رکھتے، اپنے وطن سے ہزاروں میل دور، ایک اجنبی زبان بولتے بیگانے معاشرے میں روشن مستقبل کی آس میں اپنے گھر بار سے دور نکلے طالب علم ہیں۔ طالب علم؟ نہیں، یہ طالب علم نہیں ہیں۔ کیوں جھوٹ بولتے ہو، یہ محنت کش ہیں، مزدور، مستقبل کی اجرت کے وعدے پر پہاڑ کاٹتے تیشہ زن ہیں، یہ کان کن ہیں۔ مجھ سے مت جھوٹ بولو، یہ طالب علم نہیں ہیں۔ انہوں نے دیار غیر میں پڑھنا ہے، اپنا خرچہ نکالنا ہے، اپنی فیسیں ادا کرنی ہیں، پیچھے دیس میں منتظر خاندان کے لیے پیسے بھجوانے ہیں، اپنی گیلی آنکھیں خشک کرنی ہیں۔ مجھ سے جھوٹ مت بولو، یہ طالب علم نہیں ہیں، یہ محنت کش ہیں۔

Read more

کچھ فحش اور فحاشی بارے

سوشل میڈیا پر ایک عالم شخص نے استناد سے بتایا کہ موسیقی سننا حرام نہیں البتہ فحش حرام ہے چنانچہ موسیقی کی حرمت اگر ہے تو اس ضمن میں کہ اس کے ساتھ فحش عوامل بھی شامل ہوں۔ میرے ذہن میں آیا کہ عمر بیت گئی فحش اور فحاشی سے متعلق سنتے ہوئے جیسے یہ کہ ملک میں فحاشی عام ہو گئی ہے وغیرہ تو کیوں نہ اس فاضل شخص سے استدعا کی جائے کہ وہ ”فحش“ کی تعریف کر

Read more

میرا شاگرد حیات بلوچ اور اگست کا جشن ماتم

چھ یا سات سال پہلے تربت کے ایک نجی اسکول میں دوران تدریس شہید حیات بلوچ سے واقفیت ہو گئی تھی۔ اپنے کئی سال کے تدریسی تجربہ کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ یہ ہم بلوچوں کی خوش قسمتی ہے (بد قسمتی بھی کہہ لیں ) کہ ہمارے بچوں کی اکثریت اپنی ذمہ داریوں اور حالات سے واقف ہے، اس لئے جسمانی بلوغت سے کچھ پہلے ہی ذہنی طور پر بالغ ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی ذمہ دار اور ذہنی طور پر بالغ طالب علموں میں سے ایک شہید محمد حیات بلوچ تھا۔

Read more

شکیل عادل زادہ: ’’سب رنگ‘‘ کے حوالے سے

وہ شائد بیسویں صدی کی ساتویں دہائی کے آخری سال تھے۔ جب میں نے شکیل عادل زادہ کی تحریر پڑھی تھی۔ وہ بھی اس طرح کہ مکہ مکرمہ، جدہ اور مدینہ منورہ کے Aerial Survey اور Photo Grammetry کے ضمن میں سعودی عرب جانا پڑا۔ مکہ مکرمہ کی فضائی پٹی چھوٹے ہوائی جہاز کے لئے ہی تھی اور شہر سے دور تھی۔ برطانیہ کی ٹیم میں عیسائی بھی تھے اور حدود میں داخل نہ ہو سکتے تھے سو خیمے ہوائی

Read more

پاکستان کی پہلی سپر سٹار ہیروئین: صبیحہ خانم

اداکارہ اقبال بیگم المعروف بالو اسٹیج ڈراموں میں کام کرتی تھیں اور غیر منقسم ہندوستان کی فلم ”سسی پنوں“ اور بہت سی فلموں میں بھی کام کر چکی تھیں۔ ان کے والدین کا تعلق گجرات ( پاکستان ) کے کھاتے پیتے زمیندار گھرانے سے تھا۔ شومیٔ قسمت کہ ان کی شادی معاشی طور پر ایک کمزور شخص محمد علی ماہیا سے ہو گئی ’بد قسمتی‘ جس کے تعاقب میں تھی۔ یہ اپنی بیگم کے روپے پیسے کے ہوتے ہوئے کام

Read more

ذہنی مریض کی ذہنی مریضوں کے ہاتھوں سنگساری

افغانستان کا کوئی علاقہ ہے اور ایک پتھروں سے بھرا میدان، جس کے درمیان ایک شخص کو گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا ہے، ایک بڑے دائرے کی شکل میں سینکڑوں کا ہجوم ہے اور اس بیٹھے ہوئے شخص پر پتھر پھینکے جا رہے ہیں، بہت سے پتھر لگتے ہوئے وہ شخص اسی طرح بیٹھا رہتا ہے، اور پھر کچھ دیر کے بعد پتھروں کی بارش میں آگے کو گر جاتا ہے، ہجوم بدستور اس پر پتھراؤ کرتا رہتا ہے، اس

Read more

ریڈیو پاکستان کا اعلان آزادی … اصل حقائق کیا ہیں؟

چند روز سے یو ٹیوب اور سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کی دھوم مچی ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ ریڈیو پاکستان کا قیام 13 اور 14 اگست 1947ء کی درمیانی رات کو وجود میں آیا تھا۔ اس ویڈیو میں ریڈیو پاکستان کے نامور انائونسر مصطفی علی ہمدانی کی ایک ریکارڈنگ سنوائی گئی ہے جس میں وہ اعلان کرتے ہیں کہ’’السلام علیکم۔ پاکستان براڈکاسٹنگ سروس۔ ہم لاہور سے بول رہے ہیں۔ تیرہ اور چودہ اگست سن سنتالیس عیسوی

Read more

کیا آپ روایت سے بغاوت کی قیمت جانتے ہیں؟

(عادل سیماب اور راشد مغل کے زیر انتظام منعقدہ PROFESSOR، S ASSOCIATION FOR STUDENT SERVICES کے بین الاقوامی سیمینار میں 10 اگست 2020ء کو پڑھی گئی اس تحریر کا عنوان  CREATIVE MINORITY۔ ۔ ۔ TRADITIONAL MAJORITY تھا۔) ٭٭٭      ٭٭٭ آج میں تین حوالوں سے بات کروں گا۔ ذاتی حوالہ، تاریخی حوالہ اور نفسیاتی حوالہ۔ عارفؔ عبدالمتین کا شعر ہے میری عظمت کا نشاں ، میری تباہی کی دلیل میں نے حالات کے سانچوں میں نہ ڈھالا خود کو بیس

Read more

نوشابہ کی ڈائری: وہ کسی اسامہ نام کے مجاہد سے بہت متاثر ہوا

10 فروری 1988 بھابھی کے آنے سے میں خوش ہوئی تھی کہ باجی کی کمی پوری ہوگی مگر یہاں تو کچھ اور ہی کھچڑی پک رہی ہے۔ امی کبھی پڑوسن، کبھی کسی جاننے والی اور کبھی خالہ اور ممانی سے باتیں کرتے ہوئے اپنے نزدیک بڑے دھیرے سے کہہ چکی ہیں ”نوشابہ کے لیے کوئی ہو تو بتائیے گا۔“ اس ”کوئی ہو تو“ کا مطلب مجھے اچھی طرح پتا ہے۔ پچھلے جمعے کی شام جب کہا تھا ”ذرا تیار ہوجاؤ

Read more

ذوقی : دوستوئیفسکی کا احمق، جسے میں نہیں جانتا

’being‘ in ’nothingness‘ ہاں اور نہیں کے درمیان ایک راستہ ہے۔ یہ راستہ میرا راستہ ہے۔ دوستوئیفسکی کا احمق اپنے مزاحیہ ماڈل، ڈان کیخوٹے سے مشابہت رکھتا ہے۔ کیخوٹے کے کردار میں رومان اور مذہب کی پرانی شکلوں کا عکس ایک دوسرے سے ٹکراتا ہے۔ دو ستوفسکی کا احمق میشکن ایک اچھا آدمی ہے۔ مگر وہ مسکین اور بیوقوف ہے۔ رومی کے مطابق، انسانی نجات کے لئے، خدا اور اس کی مخلوق سے محبت لازمی ہے۔ میں محبت کرنے چلا،

Read more

عجمان کی بسم اللہ جان

انشا جی نے کہا تھا ، ہم گھوم چکے بستی بن میں، اک آس کی پھانس لئے من میں۔ پھانس وہی ہے مگر قبول کرنے کا یارا نہیں۔ میں جس سماج کا باسی ہوں وہاں قدم قدم پر پاکی داماں کی گواہی لازم ہے۔ اپنے اپنے تقویٰ کا ایک بازار سجا ہے اور اس پر اجداد کی عظمت رفتہ کے گیت ہیں۔ پچھلے دنوں کسی نے باندی کے لباس کا ذکر چھیڑ دیا تھا، مانو قیامت آ گئی۔ ایسے میں

Read more

مغل اعظم اور پانچ اگست

اس پانچ اگست کو بابری مسجد کے ملبے پر رام مندر کی بنیاد رکھی گئی۔ پچھلے پانچ اگست کو ڈوگرہ ریاست جموں و کشمیر کی نیم خود مختارانہ آئینی بنیاد اکھاڑ دی گئی۔ مگر آج سے ساٹھ برس پہلے پانچ اگست انیس سو ساٹھ کو مغل اعظم ریلیز ہوئی۔ برصغیر کی فلمی تاریخ میں اس سے پہلے اور نہ بعد میں ایسی عظیم الشان فلم بنی۔

ویسے تو بہت سی فلمیں ہیں جن کی ایک یا دو لائنیں نسل در نسل سفر کرتی ہیں مگر آج تک دو ہی ایسی فلمیں بنی ہیں جن کا ہر کردار لوگوں کو ازبر ہے۔ مغل اعظم اور شعلے۔ مگر مغل اعظم کیسے بنی؟ خود یہ کہانی بھی ایک بہت بڑی فلم کا مواد ہے۔

Read more

ظفر عمران کی افسانوی دنیا

اسکرپٹ رائٹر، ایکٹر، ڈائریکٹر، پروڈیوسر۔ ۔ ۔ اتنے بھاری بھرکم سابقے لاحقے سن کر آدمی ویسے ہی تعارف سے متاثرہو جاتا ہے۔ ہم جیسا مگر سہما سہما فاصلے پر رہتا ہے۔ اس لیے ظفرعمران سے فیس بک کی سلام دعا کے باوجود ہم ایک محتاط فاصلے پر ہی تھے، تاوقتیکہ ان کی افسانوی دنیا سے آشنائی نہ ہوئی۔ گلزار صاحب شاید پہلے فلم ڈائریکٹر تھے جنھوں نے اپنے افسانوں کی کتاب ’دستخط‘ کے نام سے چھاپی۔ ایک انٹرویو میں کسی

Read more

ہمارا پوسٹ، پوسٹ، پوسٹ ادبی مستقبل

سنا ہے پرانے زمانے میں شہزادہ، شہزادی کی کہانیاں عموماً happy۔ ending والی ہوا کرتی تھیں۔ اس کے بعد جب ادب میں جدیدیت یعنی ماڈرنزم کی پیدائش ہوئی تو اس نے چند اہم معاشرتی پہلوؤں سے پردہ اٹھایا، بعد ازاں مابعدجدیدیت یا پوسٹ ماڈرنزم میں قدم رکھتے ہوئے آدمی یہ دعویٰ کرتے ہوئے نظر آتا ہے کہ زندگی کی حقیقت و سچائی کو وہی لوگ بیان کرنا جانتے ہیں اور شاید تمام قیود سے بالاتر بھی وہی ہیں، اور پھر

Read more