رقص پابہ زنجیر ہی سہی
آج مجھے چیخنے دو، چلانے دو، دھاڑنے دو اور ہو سکے تو رونے دو کہ آج میرے وطن کا ہر جمہوریت اور امن پسند شخص ڈرے سہمے پیروں پر کھڑا معاشی، سیاسی اور سماجی زنجیر میں خود کو جکڑا محسوس کر رہا بے، جبکہ آزاد کہلائے جانے والے وطن کا ہر فرد بے یاس، بے بس و لاچار سا التجائی نظروں سے کسی درویشانہ مدد کا خواہاں ہے جبکہ ریاستی فرمان سے جاری کردہ ”پیکا“ قانون اپنی تمامتر آزادی اور
Read more









































