برطانوی سفیر کی رہائش گاہ پر شاہ چارلس کی سالگرہ کے سلسلے میں عشائیہ میں شرکت کی جبکہ لاہور میں کچھ مغربی سفارت کار دوستوں سے چند ایام قبل ایک طویل نشست ہوئی تھی۔ مرکز گفتگو دیگر موضوعات جیسے کہ سیکورٹی، معیشت، غزہ کی صورت حال کے ساتھ ساتھ پاکستان کی مستقبل کی سیاسی حالت ہی تھا۔ ایک تصور پر ہر جگہ بات ہو رہی تھی کہ پاکستان کو درکار ہے کہ سیاسی رہنماؤں کے مابین افہام و تفہیم کی کوئی کیفیت قائم ہو جائے، معاف کر دیا جائے اور سیاست کو دشمنی کی شکل دھارنے سے مزید روک دیا جائے۔
کہنے کی حد تک تو یہ تصور بہت خوش کن ہے مگر خوابوں کا تعاقب تب ہی مناسب اقدام ہوتا ہے کہ جب اس کی تعبیر کا حصول حقیقی معنوں میں عالم امکانات میں موجود ہو۔ تجزیہ اس کا کرنا چاہیے کہ کیا پاکستان میں اس وقت ایسی مثالی سیاسی کیفیت کو وجود بخشا بھی جا سکتا ہے یا یہ نری کہانیاں ہی کہانیاں ثابت ہوں گی ۔ ماضی سے حال کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ گیارہ جنوری انیس سو ستر کو مارشل لا پابندیاں ہٹنے کے بعد شیخ مجیب الرحمن نے پلٹن میدان ڈھاکہ میں ایک بہت بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا، جلسہ کامیاب رہا۔
Read more