اتفاق سے آج ہی میرے کلینک میں ایک تیس سالہ جوان مریضہ سنتھیا، جو اپنی ڈپریشن کا علاج کروانے کئی مہینوں سے آتی رہتی ہیں، تشریف لائیں۔ انٹرویو کے دوران بتانے لگیں کہ انہیں دو دن پہلے زندگی میں پہلی بار جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
میں نے جب انہیں تفصیل بتانے کو کہا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ ایک نرسنگ ہوم میں نرس کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اس دن جب وہ علی الصبح بس میں بیٹھ کر نرسنگ ہوم جا رہی تھیں تو بہت پرسکون تھیں۔ وہ گرمیوں کے موسم سے لطف اندوز ہو رہی تھیں اور سوچ رہی تھیں کہ وہ خوش قسمت انسان ہیں کہ کرونا وبا کے دوران بھی ان کی ملازمت برقرار ہے اور قوم کے سینئر سیٹیزنز کا خیال رکھ کر انسانیت کی خدمت کر رہی ہیں۔
سنتھیا نے یہ ضرور محسوس کیا کہ چونکہ ابھی دن پوری طرح نہیں چڑھا تھا اس لیے بس میں زیادہ مسافر نہیں تھے۔
Read more