یہ کہانی ہے ایک 157 سالہ ترک کی جس کا نام زارو آغا تھا۔
زارو آغا 1777 ءمیں صوبہ بتلیس کے قصبے متکی کے گاؤں میدان میں پیدا ہوا اور اس کی وفات 1934 ءمیں استنبول میں ہوئی۔ اس کی قبر بھی استنبول کے ایوب سلطان قبرستان میں موجود ہے۔
جب زارو آغا کی پیدائش ہوئی تو اس وقت خلافت عثمانیہ کا دور دورہ تھا۔ سلطان عبدالحمید اول تخت نشین تھا۔ جوانی کے دور میں جب اس نے بتلیس سے استنبول ہجرت کی تو اس وقت سلطان سلیم سوئم کا دور حکومت تھا۔ زارو آغا کے سامنے عثمانی دور کی بہت سی یادگاریں تعمیر ہوئیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان تاریخی عمارتوں کی تعمیر میں زارو آغا نے خود بھی حصہ لیا۔ زارو آغا کی آنکھوں کے سامنے آج کی ترکیہ کی مشہور مساجد جسے اور تاکوئے مسجد، نصریتہ مسجد، سلیمیہ کی فوجی بیرکیں اور مشہور و معروف دولمہ باغیچہ محل بنے اور پایہ تکمیل تک پہنچے۔
Read more