کہاں گیا میرا لاہور؟

لاہور شہر نہیں ہمارا عشق ہے۔ اس عشق کا اندازہ انہی کو ہو سکتا ہے، جو 1970 ء سے قبل اس شہر میں بسے تھے۔ کیا خوبصورت شہر تھا۔ اتنی آبادی نہیں ہوتی تھی۔ بھانت بھانت کے لوگ نہیں ہوتے تھے، جن سے مل کر لوگ یہ نہیں کہتے تھے، لاہوریے بڑے چالاک ہوندے نیں۔

سمن آباد، شادمان، گلبرگ، والٹن، ماڈل ٹاؤن، زمان پارک اور جی اور آر ہی پوش علاقے ہوتے تھے۔ ہر جگہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں نہیں پھیلی ہوئی تھیں۔ جو چند ایک نئی ہاؤسنگ سکیمیں بنی تھیں، وہ واپڈا ٹاؤن، جوہر ٹاؤن اور ٹاؤن شپ تھیں۔ نہر کی سڑک چھوٹی ہوتی تھی، جا بجا انڈر پاس اور اوور ہیڈ نہیں ہوتے تھے، ٹھوکر نیاز بیگ کو لاہور کی ایک اور بتی چوک کو دوسری طرف سے لاہور کی حدود شمار کیا جاتا تھا۔

Read more

گورنر کے اغوا کا منصوبہ یا امریکا میں خانہ جنگی کی تیاری

امریکا کی ریاست مشی گن کی خاتون گورنر ویٹمر کو اغوا کرنے کا منصوبہ پکڑا گیا۔ یہ منصوبہ ایک سفید فام انتہا پسند گروہ نے تیار کیا تھا۔ یہ گروہ سفید فام لوگوں کی نسلی برتری پر یقین کامل رکھتا ہے اور جو کوئی ان کے نظریات سے اختلاف کرے، اسے امریکا کا غدار سمجھتا ہے۔ ان کا منصوبہ صرف یہ نہیں تھا کہ گورنر ویٹمر کو اغوا کیا جائے۔ ان کا ارادہ تھا کہ وہ گورنر کو اغوا کر کے ان پر غداری کا مقدمہ چلائیں گے۔ یعنی وہ بیک وقت مدعی وکیل اور منصف کا کردار ادا کریں گے۔

دوسرے الفاظ میں غدار سازی کی صنعت، صرف پاکستان میں فروغ نہیں پا رہی۔ امریکا بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جہاں بہت سے بے کار احباب، گھر بیٹھ کر دوسروں کو غدار اور وطن دشمن قرار دے کر، اپنے لئے ذریعہ روزگار پیدا کرتے ہیں۔ اس منصوبے کے بارے میں تفصیلات آہستہ آہستہ سامنے آتی رہیں گی، لیکن ظاہر ہے کہ یہ سوال تو اٹھے گا کہ خاتون ہونے کے علاوہ گورنر ویٹمر نے کیا جرم کیا تھا، جو سفید فام انتہا پسندوں نے انہیں نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔

Read more

موٹروے ریپ کیس کا مرکزی ملزم عابد ملہی گرفتار، شہباز گل کی تصدیق

لاہور کے نواحی علاقے گجر پورہ کے قریب موٹروے پر خاتون کے ساتھ زیادتی کرنے والے مرکزی ملزم عابد ملہی کو فیصل آباد سے گرفتار کر لیا گیا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے تصدیق کر دی۔

خیال رہے کہ 9 ستمبر کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور کے مضافات میں ملزمان فرانسیسی شہریت رکھنے والی خاتون کو گینگ ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد ان کا اے ٹی ایم کارڈ لے گئے تھے۔

Read more

امریکہ میں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کیسے ہوتی ہے؟

امریکہ میں پولنگ اسٹیشن جائے بغیر ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے رجحان میں گزشتہ کئی انتخابات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ لیکن اس سال تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں کرونا وائرس سے بچاؤ کی تدابیر کے سبب امریکہ کی تاریخ میں ڈاک کے ذریعے ریکارڈ ووٹ ڈالے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Read more

ملکی آئین اور قومی مفاد: کون کس پر بھاری ہے

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز کاکول میں کیڈیٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے متعدد اہم باتیں کہی ہیں تاہم ان میں سے ایک بات پر اتفاق رائے کے باوجود پوچھنا پڑے گا کہ اگر آئین ملک کے تمام معاملات کی رہنمائی کرنے والی ایسی دستاویز ہے جس پر سب متفق ہیں تو قومی مفاد سے کیا مراد لی جائے گی۔ ماضی میں قومی مفاد کی اصطلاح عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے متعدد

Read more

ٹرمپ کے انتخابی اشتہار میں میرا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا: فاؤچی

امریکہ میں متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ایک اشتہار میں ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔

فاؤچی کا کہنا ہے کہ ہفتے جو جاری ہونے والے اشتہار میں ان کی مرضی کے بغیر ان کا بیان شامل کیا گیا ہے۔

Read more

ٹرمپ کے انتخابی اشتہار میں میرا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا: فاؤچی

امریکہ میں متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ایک اشتہار میں ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔

فاؤچی کا کہنا ہے کہ ہفتے جو جاری ہونے والے اشتہار میں ان کی مرضی کے بغیر ان کا بیان شامل کیا گیا ہے۔

Read more

مس شازی بنام مسمی عبدالرشید

ڈیئر عبدالرشید، سلام خلوص!

عرصے بعد تمھارا بے ہنگم جذبات سے معمور اور املا کی غلطیوں سے بھر پور مراسلہ ملا، جسے تم بڑے فخر، بلکہ ڈھٹائی سے ”محبت نامہ“ کہتے ہو۔ پڑھ کر کوئی مسرت نہیں ہوئی، بلکہ تمھاری مزید حماقتیں جان کر دھچکا پہنچا۔

رشید! خدارا، اگر خود تمھیں صحیح لکھنا نہیں آ رہا، تو کسی سے لکھوا لیا کرو۔ کم از کم مجھے تو خواندگی میں اتنا سر نہ کھپانا پڑے۔ کہتے ہیں کہ خط سے آدھی ملاقات ہو جاتی ہے، مگر تم سے یہ آدھی ملاقات اس قدر درد ناک بلکہ عبرت ناک ہوتی ہے کہ بس! میری درخواست ہے کہ اختصار نویسی اپناؤ اور خود بھی مختصر الفاظ سے اصل مدعا سمجھنے کی کوشش کیا کرو۔ میں نے لکھا تھا، ”تاریخ آنے والی ہے، اک نیا امتحان در پیش ہے، دیکھیں کیا ہوتا ہے“۔ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ ہم دونوں نے پنجاب پبلک سروس کمیشن میں لیکچرار اردو کے لیے اپلائی کر رکھا ہے۔ میری مراد صاف ظاہر تھی کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کی طرف سے لیکچرار اردو کے لیے تحریری امتحان کی تاریخ آنے والی ہے۔ مگر تم نے اپنی کج فہمی کے باعث مجھے نانیوں، دادیوں والا پند نامہ لکھ بھیجا، تاریخ کے دنوں میں ٹھنڈی چیزیں استعمال نہ کرنا، ہو سکے تو دودھ میں دیسی گھی ملا کر پینا۔ پھر گھر کی پسی ہوئی ہلدی کے خواص پر تم نے آدھا صفحہ لکھ ڈالا۔

Read more

زاہد کاظمی صاحب کا ”کتابی تحفہ“

ہری پور سے تعلق رکھنے والے زاہد کاظمی صاحب، ایک کتاب دوست آدمی ہیں۔ ان کی طرف سے تحفے میں مجھے چند ماہ قبل کچھ کتابیں موصول ہوئیں۔ ان میں سے ایک کتاب ”آغا سے آغا ناصر تک: عمر کہانی“ ہے، جو کہ آغا ناصر صاحب کی خود نوشت ہے۔ آغا ناصر صاحب نے ایک شاندار زندگی گزاری، جس کا واضح ثبوت 383 صفحات پر مشتمل ان کی دل چسپ آپ بیتی ہے۔

آغا ناصر صاحب کے حالات و واقعات زندگی پر مشتمل یہ کتاب، پورب اکادمی اسلام آباد نے شائع کی ہے۔ آغا ناصر صاحب لکھتے ہیں کہ میرے بہت سے ساتھیوں کا خیال تھا کہ کتاب کا پیش لفظ یا دیباچہ، جس نام سے بھی چاہیں آپ پکار لیں، ضروری ہے کہ اس کا حصہ ہو۔ دوست یہ بھی کہتے تھے کہ ملک کے نامور قلم کار یا نثر نگار سے یہ ابتدائیہ لکھوایا جائے گا! مگر سوچ بچار کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ابتدائیہ لکھنے کے لیے کسی بھی بڑے ادیب یا قلمکار کی کوئی ضرورت نہیں، تعارفی صفحہ کے لئے چند الفاظ میں خود ہی لکھ دوں گا۔

Read more

12 اکتوبر: جنرل مشرف کا کراچی ایئر پورٹ پر لینڈنگ سے عزیز ہم وطنوں تک

کسی سنسنی خیز فلم کی طرح دیکھنے والے کے اعصاب کو مسلسل تناؤ میں رکھنے والے اُن واقعات کا آغاز شام پانچ بجے ٹیلی ویژن کے ایک خصوصی نیوز بلیٹن سے ہوا اور یہ فلم اس وقت نقطہ عروج پر پہنچی جب جنرل پرویز مشرف کیمرے کے سامنے آئے۔

Read more

سانحۂ ہاتھرس اور مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن

ایسا لگتا ہے جیسے ہندوستان میں مسلمان ہونا کوئی بہت بڑا جرم ہو گیا ہے۔ وہ ناخوش گوار واقعہ جس کا بادی النظر میں مسلمانوں سے کوئی دور کا بھی تعلق نہ، اگر اس میں انہیں ماخوذ قرار دینے کی کوشش کی جائے اور واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دی جائے تو فطری طور پر یہی خیال ذہن پر ابھرے گا کہ کیا اب وطن عزیز میں مسلم ہونا گناہ تو نہیں ہے؟ ہاتھرس کے حالیہ واقعہ کو ہی لے لیجیے، جس میں مبینہ طور پر ریاست اترپردیش میں 14 ستمبر 2020 کو ایک دلت لڑکی کا اونچی ذات کے کچھ افراد کے ذریعے ریپ اور جنسی تشدد کا معاملہ سامنے آیا اور آخرکار یہ بچی دوران علاج چل بسی۔ اس سانحہ پر پورے ہندوستان میں احتجاج اور غم و غصہ دیکھنے کو ملا اور حکومت پر جرائم پیشہ افراد کی حمایت کا الزام لگایا گیا لیکن اس پورے ٹریجڈی میں ایک نیا موڑ تب آیا، جب انصاف پسند طبقہ کے احتجاج و اشتعال کے درمیان اس معاملے میں یوپی پولیس نے چار مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا اور ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ دنگا بھڑکانے کے لئے ہاتھرس جا رہے تھے۔

Read more

سیاحت: ایک اہم نفسیاتی ضرورت

ٹورازم یا سیاحت کے موضوع پر کافی کچھ لکھا جا چکا ہے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ سیاحت کسی بھی ملک کی معاشرتی اور اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جملہ مصنفین نے نے ان تمام پہلوؤں کو خوش اسلوبی سے اجاگر کیا۔ تاہم میرے اس کالم کا کا موضوع ایک منفرد پہلو ہے جو انسانی نفسیات اور سیاحت سے وابستہ ہے۔

میرے نزدیک سیاحت صرف معاشی سماجی اور معاشی ترقی کے لئے ہی ضروری نہیں، بلکہ ایک انسان کی انتہائی اہم نفسیاتی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال ایک گفتگو میں فرماتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ذاتی وقت کا تصور ہی نہیں۔ ذاتی وقت یعنی اپنے ساتھ وقت گزارنا۔ اپنے آپ کے لیے وقت نکالنا۔ مغربی معاشرے میں اس چیز کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے کہ ہر انسان اکیلا بھی ہو اور اگر میاں بیوی ہوں، تو دونوں مہینے میں ایک بار اکیلے وقت گزارتے ہیں۔ جس کو پرسنل ہالیڈے کہا جاتا ہے۔

Read more

ٹک ٹاک پہ بین اور ذہنوں کے قفل

ابھی تو میں ٹک ٹاک پہ آئی بھی نہیں تھی کہ وہ پاکستان میں بین ہو گیا۔ یقیناً آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کیا میرا بھی مستقبل قریب میں خدا نخواستہ تیسرے درجے کے گانوں پہ اچھل کود کا پروگرام ہے؟ یا کسی گھسے پٹے لطیفے اور ڈائلاگ پہ اداکاری کا ارادہ ہے؟ تو بے فکر ہو جائیں، میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔ تفریح میں کوئی برائی نہیں، لیکن ٹک ٹاک پہ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔

مسئلہ کسی بھی ایپ کا نہیں، مسئلہ در اصل ہمارے استعمال کا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو پتا ہو گا کہ ٹک ٹاک پہ کیسی کیسی خرافات ہیں، لیکن بہت کم ہوں گے جن کو معلوم ہو گا کہ اس پہ بہت ساری معلوماتی ویڈیوز بھی موجود ہیں۔ ویڈیوز کی پتا نہیں کتنی تو مختلف اقسام ہیں۔ تفریح، کھیلوں، گانے بجانے سے صحت، طب اور ہیلتھ اور فٹنس تک اور باغ بانی، کھانا پکانے اور ڈیزائننگ سے لے کر ٹیکنالوجی، پبلک اسپیکنگ اور پریزنٹیشن تک، ہزاروں موضوعات ہیں جن کے بارے میں مختصر ویڈیو کے ذریعے بہت کچھ سیکھا، سمجھا اور بانٹا جا سکتا ہے لیکن ہم میں سے بیش تر یہ سب نہیں جانتے۔ کیوں کہ ہمارے یہاں ٹک ٹاک کا تعارف ہی بے ہنگم ڈانس، پھکڑ لطیفے اور مذاق، بے ہودہ گانے اور تیسرے درجے کی اداکاری کے جوہر ہیں۔ کیوں کہ ہماری سوچ یہیں تک ہے اور ہمارے یہاں یہی دیکھا اور پسند کیا جاتا ہے۔

Read more

بدلتا وقت اور آج کا استاد

اساتذہ کی قابلیت، ان کی مہارت و علم پر شکایت کرنے سے پہلے ان کو دی گئی، تربیت، مراعات اور ان کی زندگی کے دیگر مسائل کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایک غریب استاد، بچوں کو غریب زندگی کے تجربے بتائے گا۔ اس کی زیادہ تر گفتگو اور انہی موضوعات پر ہو گی، جن سے وہ روز نپٹتا ہے۔ ایک خوش حال اور صحت مند استاد، بچوں کے ذہن میں اسی طرح کی زندگی کے امکانات بٹھائے گا اور ان پہلووں پر بحث کرے گا، جو وہ خود جی رہا ہے۔

آج معاشرہ، ٹیکنالوجی اور جدیدیت میں مکمل طور پر جکڑ چکا ہے۔ استاد کے لئے اپنی عزت و تکریم والی جگہ بچائے رکھنا، روز ایک نیا چلینج ہے۔ بچے چوں کہ جلدی سیکھتے ہیں اور اسکول کے باہر بھی سیکھتے ہیں، تو ان معلومات کی بنیاد پر استاد کے لئے ایک چیلنج ثابت ہوتے ہیں۔ اب شاید شروع والی کلاسوں میں تو استاد، ایک استاد ہی رہتا ہے، جہاں بچوں کی بالکل نئی چیزوں سے روشناس کرتا ہے، لیکن اس کے بعد استاد ایک سہولت کار تو بن سکتا ہے، لیکن روایتی استاد والی شخصیت کے ساتھ چلنا بڑا چیلنج ثابت ہوتا ہے۔

Read more

پاکستان خدانخواستہ پائیدار جمہوریہ بن گیا تو؟

’خدانخواستہ فوج کمزور ہوئی تو پاکستان بھی شام، لیبیا، عراق، صومالیہ بن سکتا ہے۔ یہ فوج ہی ہے جس نے اس ملک کو متحد رکھا ہوا ہے۔‘ گرامر کے اعتبار سے یہ جملہ بالکل درست ہے مگر کیا حقائق کے اعتبار سے بھی مستند ہے؟ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات۔

Read more

کورونا وائرس کی وجہ سے متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے غیر ملکی لوٹنے پر مجبور

برطانوی تجزیہ کار کمپنی آکسفورڈ اکانومکس کا اندازہ ہے کہ متحدہ عرب امارات میں نو لاکھ نوکریاں ختم ہو سکتی ہیں اور ایک کروڑ سے کم آبادی والے اس ملک میں یعنی 10 فیصد تک لوگوں کو چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔

Read more

کورونا وائرس: برازیل میں ہلاکتوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سےتجاوز کر گئی

برازیل دنیا کا وہ دوسرا ملک ہے جہاں کورونا کے باعث سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے یہ دنیا میں امریکہ اور انڈیا کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔

Read more

پدرسری معاشرے کی بااختیار عورت یا دولے شاہ کی چوہیا؟

لمبوترا منہ، چھوٹا سا سر، احساس سے عاری آنکھیں، وحشت زدہ چہرہ، ڈھیلا ڈھالا پیوند زدہ لباس، گلے میں منکوں کی مالا، ہاتھ میں کشکول! یہ ہمارے بچپن میں کیے گئے سفر کی اولین یادوں میں سے ایک ہے۔ جب بھی ٹرین گجرات سٹیشن پہ رکتی، وہ گیروے لباس میں ملبوس کمپارٹمنٹ میں داخل ہو جاتا، ساتھ میں ایک بڑی بڑی مونچھوں اور دہکتی آگ سی آنکھوں والا ساتھی ہوتا جو اسے گاڑی میں چڑھاتا یا اتارتا۔ اسے دیکھتے ہی

Read more

ٹرمپ سے دوسروں میں وائرس پھیلنے کا خدشہ ختم، تقریب سے خطاب

ویب ڈیسک —  وائٹ ہاؤس کے ڈاکٹر نے تصدیق کی ہے کہ کرونا وائرس میں مبتلا امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اب دوسروں میں وائرس پھیلنے کا خدشہ ختم ہو گیا ہے جس کے بعد اُنہیں آئسولیشن ختم کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ڈاکٹر شان کونلی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ ہفتے کی صبح صدر کا دوبارہ کرونا ٹیسٹ کیا گیا جس کے بعد یہ پتا چلا کہ اب صدر کسی دوسرے میں وائرس کی منتقلی کا باعث نہیں بن سکتے اور وہ احتیاط کے ساتھ اب آئسولیشن بھی ختم کر سکتے ہیں۔

Read more

کراچی: عالم دین کے قتل کی تحقیقات جاری، نماز جنازہ ادا

ویب ڈیسک — پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں گزشتہ روز قاتلانہ حملے میں ہلاک ہونے والے دیو بند مسلک کے معروف عالم دین مولانا ڈاکٹر عادل خان اور ان کے ڈرائیور کو اتوار کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔

مولانا عادل کی نماز جنازہ اتوار کی صبح کراچی کے علاقے حب ریور روڈ پر ادا کی گئی جس میں مختلف مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

Read more

مسکراہٹ کا جادو

چند دہائیاں قبل پہلی مرتبہ ملک سے باہر جانے کا موقع ملا۔ مجھے برطانیہ میں جاب مل گئی تھی۔ اس وقت تک میں نے ساری تعلیم پاکستان ہی میں مکمل کی تھی اور خدا کے فضل سے با قاعدہ ایک سپیشلسٹ بن چکا تھا۔ میرے جیسے پینڈو نے جب ایک مہذب ملک میں پہلا قدم رکھا تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ سڑکیں یا گاڑیاں اور نت نئے مشینی آلات جہاں ایک طرف مجھے مرعوب کر رہے تھے دوسری طرف کئی طریقے سے مجھے کلچرل شاک مل رہے تھے۔ اب تو چوں کہ دنیا سکڑ کر ایک گاؤں بن چکی ہے، اس لئے ہمارے بچے بھی دنیا کے کونے کونے سے واقف ہو چکے ہیں اور مختلف ممالک کے نہ صرف انفرا سٹرکچر سے مانوس ہیں بلکہ ان کے معاشرتی عادات کے بارے میں بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ میں انٹر نیٹ سے قبل کی دنیا کا ذکر کر رہا ہوں، جب ولایت ہمارے لئے سمندر پار کا ایک جادوئی خطہ ہوتا تھا۔

پہلے چند ہفتے مجھے ایک الجھن یہ ہوتی تھی کہ میں جب کسی سے آنکھیں چار کرتا تو وہ مسکرا دیتا۔ میں فوراً اپنے لباس پر نظر دوڑاتا کہ شاید ٹائی کی گرہ غلط لگائی ہو۔ یا شرٹ کا کوئی بٹن کھلا رہ گیا ہو۔ کہیں میرے منہ پر خون تو نہیں لگا ہوا۔ اسی ادھیڑ بن میں شروع کے دن گزرتے گئے۔ ایک دن میں نے وارڈ میں نرسنگ کاؤنٹر پر دو نرسوں کی گفتگو سنی۔ کسی کے بارے میں کہہ رہی تھیں کہ وہ تو یوں منہ بسورے رکھتا ہے کہ کسی سے نظر ملاتے وقت مسکراتا تک نہیں۔ تب میں آس پاس نظر دوڑانا شروع کی تو دیکھا کہ سبھی لوگ ایک دوسرے سے نظر ملتے ہی سب سے پہلے مسکراہٹ کا تبادلہ کرتے ہیں۔ ایک جگہ تو میں نے ایک دیوار پر یہ تحریر بھی دیکھی:

Read more

موبائل فون کا استعمال، کیا ہماری زندگی سے زیادہ اہم ہے؟

اگر ہم آج اور حالیہ گزرے ہوئے وقت کی بات کریں، تو سب سے بڑا فرق جو دیکھنے میں آتا ہے، وہ موبائل فون کا استعمال ہے، جو اب بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اور مزید بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ 1990ء کی دہائی کی بات ہے، جب صرف چند لوگوں کے پاس موبائل فون ہوتا تھا، لیکن اب تقریباً ہر شخص کے پاس موبائل فون ہے۔ چاہے کمپنی کا مالک ہو یا چوکیدار، گھر کا سربراہ ہو یا باغ کا مالی، ڈاکٹر ہو یا اس کا ڈرائیور، رکشہ چلانے والا ہو یا وین چلانے والا، گھر کی صفائی کرتا ہو یا جوتے کی مرمت، غرض یہ کہ ہر حیثیت اور ہر پیش سے تعلق رکھنے والا موبائل فون کی زد پہ ہے۔ سستے موبائل ’انٹرنیٹ ڈیٹا‘ میسج اور کال پیکج نے لوگوں کی مشکل آسان کر دی ہیں۔ لوگ اب ہر وقت موبائل فون میں مصروف نظر آتے ہیں۔

چوں کہ اب ٹیکنالوجی کا دور ہے اور جب کہ ہر سہولت ایک اینڈرائیڈ موبائل پر میسر ہے، تو زندگی آسان ہو گئی ہے۔ رہی سہی کسر کرونا وائرس نے پوری کر دی، جس نے چھوٹے بڑے سب کے ہاتھوں میں موبائل، آئی پیڈ اور لیپ ٹاپ پکڑا دیے ہیں۔ اب تو درس و تدریس بھی آن لائن ہوتی ہے، جس کی وجہ سے بچے ہر وقت مختلف ایپس کا استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ جس کے اپنے بہت سے نقصانات دیکھنے میں آرہے ہیں۔ ہر وقت موبائل کا استعمال نا صرف دماغی صلاحیتوں کو مفلوج کر سکتا ہے بلکہ بینائی پر بھی برا اثر ڈالتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کا قیمتی وقت بھی ضائع ہوتا ہے، جس کی ان کو کوئی پروا نہیں ہوتی۔

Read more

کیا کرونا کی دوسری لہر یا پی ڈی ایم کے جلسوں کا خوف؟

آج کل ایک ہی بات زبان زد عام ہے کہ کرونا پھر سے پھیل رہا ہے اور چہلم گزرتے ہی پھر سے لاک ڈاؤن یا پھر سمارٹ یا میکرو لاک ڈاؤن لگ جائے گا۔ حال ہی میں کئی ممالک میں پھر سے کرونا پھیلنے اور لاک ڈاؤن دیکھنے میں آیا ہے، جن میں برطانیہ، فرانس اور جاپان جیسے ممالک شامل ہیں۔ پچھلے ہفتے امریکا کے صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ بھی کرونا کے شکار ہو چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ کے کرونا کے ٹیسٹ مثبت آنے پر امریکا ہی میں مشکوک گردانا گیا اور اس کو صدر ٹرمپ کی جانب سے آنے والے صدارتی انتخابات میں روڑے اٹکانے کا سعی لا حاصل کہا گیا اور حال ہی میں عوامی اجتماع میں مد مقابل صدارتی امیدوار جو بائیڈن کے ساتھ مباحثے میں امنا سامنا کرنے سے فرار جیسے کلمات کا بوچھاڑ بھی اپنے سینے پر سہی ہے۔

جہاں تک امریکا کے سیاسی نظام یا آئینی نظام کا تعلق ہے تو وہ اتنا مضبوط اور غیر لچکدار ہے کہ وہ کسی کے خواہشات کے مرہون منت نہیں ہو سکتا اور نا ہی کسی شخص کو کسی ادارے پر فوقیت یا برتری حاصل ہے۔ لیکن جہاں تک ہمارے سیاسی نظام یا آئین کا تعلق ہے تو یہاں بھی لکھت پڑھت میں تو اتنی ہی سختی اور غیر لچکداری پائی جاتی ہے لیکن عملی طور پر صورت احوال اس کے بر عکس ہے۔ ہمارے یہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ آئین کو ایک شخص ببانگ دہل کاغذ کا ٹکڑا کہہ سکتا ہے۔ آئین کے مد مقابل ”پی سی او“ یا ”ایل ایف او“ کا نفاذ کر سکتا ہے۔ کسی بھی وقت ریفرنڈم کرا سکتا ہے اور ہاں یا نہیں کے ٹھپوں کا انبار لگا سکتا ہے۔ صاحب اقتدار، حزب اختلاف کے خلاف کوئی بھی رویہ اختیار کر سکتا ہے۔

Read more

سوات یونیورسٹی کی پروفیسر کا انتظامیہ پر ہراسانی کا الزام، ترجمان کا انکار

صوبہ خیبر پختونخوا میں سوات یونیورسٹی کے وویمن کیمپس کی خاتون پروفیسر نے پولیس کو اپنے ساتھ ہونے والی ہراسانی اور دھمکیوں کے خلاف درخواست جمع کروائی ہے تاہم یونیورسٹی ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

Read more

نوزائیدہ بچہ اور پتھر کا بینچ

اس کے دو بچے پہلے ہی مر چکے تھے۔ پیدا ہونے سے قبل، جب کچے ہی تھے۔ ایک حمل کے اٹھارہ ہفتے میں اور دوسرا بائیسویں ہفتے میں۔ ”نہ جانے ہماری قسمت میں کیا ہے۔“ اس نے تقریباً روہانسا ہو کر کہا تھا، ”ڈاکٹر صاحب، جو بھی علاج ممکن ہو سکے، کیجیے گا۔ میں بڑی امید لے کر آیا ہوں۔ مجھے آپ کے دوست رفیق نے بھیجا ہے۔“

اسے رفیق ہی نے بھیجا تھا۔ رفیق کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے محکمہ مالیات میں کام کرتا تھا اور وہ بھی ”کے ایم سی“ ہی میں چپراسی تھا۔ اس نے رفیق کو بتایا تھا کہ دو دفعہ اس کی بیوی کو حمل ٹھہرا اور اچھا خاصا وقت گزر گیا، مگر پانچویں چھٹے مہینے میں بچے کچے ہی تھے تو ضائع ہو گئے۔ اب پھر اس کی بیوی کو حمل ٹھہر گیا ہے اور آنے والے خوف سے وہ پریشان تھا۔ رفیق نے اسے اپنا کارڈ دے کر میرے پاس بھیجا تھا۔

وہ دونوں میاں بیوی میرے پاس ساتھ ہی آئے تھے۔ وہ ڈھائی ماہ کے حمل سے تھی اور پریشان تھی۔ پریشانی اس کے چہرے پر صاف عیاں تھی اور ایسی صورت حال میں مریضوں کا پریشان ہونا کوئی غیر معمولی بات تھی بھی نہیں۔ میں نے اسے تسلی دی تھی۔ سمجھایا تھا کہ انہیں اب میرے پاس ہر دو ہفتے بعد آنا ہو گا۔ حمل کو چودہ ہفتے گزر جائیں گے تو پھر فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے۔

Read more

ٹک ٹاک پر لگی پابندی

اگر یہ کہا جائے ٹک ٹاک پاکستان کی نئی نسل کے لئے خوراک کی طرح لازم ہو گئی تھی، تو یہ ہرگز غلط نہیں ہو گا۔ ملک کا بچہ بچہ ٹک ٹاک کے نشے میں مست نظر آتا تھا۔ ٹک ٹاک پر بہت بار حکمرانوں کی جانب سے پابندی لگانے کی خبریں گردش کرتی رہی ہیں، مگر اس پر عمل در آمد سامنے نہیں آیا۔ کہیں ماہ و سال کی تگ و دو کے بعد آخر کار حکومت ٹک ٹاک کو مکمل بند کرنے میں کامیاب ہو ہی گئی۔ ٹک ٹاک کے بند ہونے کے بعد سے ملے جلے رد عمل سامنے آ رہے ہیں۔ کہیں ایسے افراد جو اسے روزی روٹی کا ذریعہ گردانتے تھے، وہ تو انتہائی دل شکستہ اور مایوس نظر آئے۔ مگر وہ لوگ جو کہیں کہیں گھنٹے ٹک ٹاک ویڈیوز دیکھنے میں خرچ کرتے تھے، وہ بھی حکومت کے اس اقدام کو سراہ رہے ہیں۔

اگر یہ کہا جائے ٹک ٹاک وقت کا ضیاع اور فحاشی کو فروغ دینے کا ذریعہ تھی تو بھی غلط نہیں ہو گا۔ کیوں کہ گھر کی چار دیواری میں عورت کی عصمت اب محفوظ نہیں تھی۔ گھریلو خواتین بھی نک سک سے تیار ہو کر ٹک ٹاک پر گاتی اور ڈانس کرتی نظر آتی تھیں اور معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ کہ والدین اس فحاشی کو روکنے کی بجائے اپنی اولاد کا پورا پورا ساتھ دیتے تھے۔ یہی نہیں، کتنی بار بڑی عمر کے والدین کو یہ تک کہتے سنا، فلاں نام ٹک ٹاک پر سرچ کرو اور اسے فالو کرو، یہ میرا بچہ ہے۔ دیکھو کیا خوب ایکٹنگ کرتا ہے۔

Read more

اب ایک نیا میزائل ساز، اسحق ڈار ‏

بیک انجینیئرنگ کر کے امریکی میزائل ٹام ہاک کی نقل کرنے کے دعوے پر بات ختم نہیں ہو رہی تھی کہ جناب اسحق ڈار بھی دیوانہ وار میدان میں کود پڑے ہیں۔ جناب نواز شریف نے بڑے نپے تلے لہجے میں فرمایا تھا، ”ہمارے میزائل، بیک انجینئرنگ کا شاہکار ہیں۔“ وہ کہنا، ریورس انجینئرنگ چاہتے تھے۔ غالباً یہ واحد راوین ہیں، جن کا انگریزی سے بھی ہاتھ خاصا تنگ رہا ہے۔

اب سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار کچھ نئے دعوؤں کے ساتھ میدان میں آئے ہیں۔ ڈار صاحب، ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو ڈانٹتے ہوئے فرماتے ہیں، ”ڈاکٹر ثمر مبارک مند صاحب، غلط بیانی کر رہے ہیں۔ وہ سائنسدان رہیں، پروفیشنل رہیں، سیاستدان نہ بنیں (کیوں کہ سب سیاستدان جھوٹ بولتے ہیں ) ۔ وہ جھوٹ بول رہے ہیں کیوں کہ (میزائل) گرا تھا، بالکل ہمارے قبضے میں (آ گیا) تھا۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند صاحب کو یہ یاد کروا رہا ہوں کہ دسمبر 1998 ء میں وہ میرے پاس کس کا پیغام لے کر آئے تھے، جب میں فنانس منسٹر تھا ( اپنے سوال کا خود ہی جواب دیتے ہیں کہ وہ) ، جنرل مشرف کا پیغام لے کر آئے تھے۔ میزائل ٹیکنالوجی کو ڈویلپ کرنے کے لیے، کتنی دیر میں فنڈنگ ہو گی اور میری (شرط) کنڈیشن تھی کہ پوری طرح ایکسپلین (وضاحت ) کی جائے تو ہم (فنڈنگ) کریں گے۔ میرا ایک دن کی ٹوٹل وزٹ تھی (حساس اور خفیہ) جگہ پر میں نے پورا دن گزارا تھا۔ ڈاکٹر ثمر صاحب، مہربانی کر کے سیاست نہ کریں، سیاست سے دور رہیں وہ

Read more

”میں جمہوریت، اپوزیشن ڈاکو“: امتیاز عالم کا مسترد شدہ کالم

محترم وزیراعظم عمران خان کے وکلا کے جلسے سے خطاب کی یہ سرخی ”میں جمہوریت، اپوزیشن ڈاکو“ جنگ اخبار کی ہیڈ لائن بنی۔ ذرا ذیلی سرخیوں کی جھلک بھی دیکھ لی جائے : ”فوج نے ہر جگہ ہماری مدد کی“ ، ”انہیں (یعنی اپوزیشن) ہی فوج سے مسئلہ ہوتا ہے، مجھے کیوں نہیں، کہ وہ جانتی ہے کہ میں کیسی زندگی گزار رہا ہوں“ ، ”فوج چوروں کو جانتی ہے“ ، ”ISI کو کمیشن لینے یا منی لانڈرنگ کرنے والوں

Read more

میں ہواؤں سے ہراساں اور دل گرفتہ

پاکستان کی سیاسی ہانڈی میں بہت ہی ابال لگ رہا ہے۔ اس ہانڈی میں کیا پک رہا ہے کسی کو بھی معلوم نہیں ہے۔ اس ہانڈی کو پکانے والے بہت سے لوگ ہیں۔ سب کے پاس اپنا اپنا مصالحہ ہے۔ پاکستان میں جمہوریت بھی اسی سیاسی ہانڈی کی طرح بے توقیر ہو رہی ہے، جمہوریت کا بنیادی اصول برداشت ہے جس سے ہمارے سیاسی نیتا بالکل ناآشنا سے ہیں۔ پھر معاشرے میں اصول اور قواعد بدلتے جا رہے ہیں۔ آزادی سے پہلے جب گورا صاحب کی سرکار تھی اور اصول بھی ان ہی کے چلتے تھے اس زمانے میں اچھی اور بری شہرت بڑی اہمیت کی حامل ہوتی تھی۔ اگر کسی سرکاری افسر کی شہرت کسی بھی وجہ سے خراب ہوجاتی یا داغ دار ہوتی تو ایسے سرکاری افسر کے لیے ملازمت کرنا مشکل ہوجاتا۔ ایک تو عام لوگ ایسے افسر کو منہ نہ لگاتے اور معاشرتی طور پر وہ ناپسندیدہ تصور کیا جاتا اور وہ کوشش کرتا کہ وہ کوئی کام سرانجام دے سکے جس سے اس کی خراب شہرت کی معافی تلافی ہو سکے۔ صرف خراب شہرت کی وجہ سے ترقی روک لی جاتی۔ مگر اب نہ شہرت کا معاملہ ہے اور نہ کسی کو کوئی خوف ہے کہ کیا ہوگا؟

Read more

انڈیا: کیا مزدوروں کا درجہ ملنے سے سیکس ورکرز کی زندگی بدلے گی؟

انڈیا میں انسانی حقوق کے کمیشن این ایچ آر سی نے مرکز اور ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ سیکس ورکرز کو ’غیر رسمی مزدور‘ تسلیم کریں اور سیکس ورکرز کو دستاویزات دیے جائیں تاکہ انھیں راشن سمیت دیگر سرکاری فوائد مل سکیں۔

Read more

کراچی: جامعہ فاروقیہ کے مہتمم مولانا عادل اور ان کا ڈرائیور فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک

کراچی میں دیوبند مسلک کے نامورعالم اور جامعہ فاروقیہ کے مہتمم مولانا عادل اپنے ڈرائیور سمیت موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

Read more

ارجنٹائن جینیاتی طور پر تبدیل گندم کی پیداوار کی اجازت دینے والا پہلا ملک

ویب ڈیسک۔ ارجنٹائن جینیاتی طور پر تبدیل شدہ گندم کی پیداوار اور کھپت کی اجازت دینے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔

بیونس آئیرس میں واقع وزارت زراعت کے سائنسی کمیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے گندم کی ایک ایسی قسم کی اجازت دی ہے جو خشک سالی کے دوران بھی اگ سکتی ہے۔

Read more

کشمیر: بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں میں خود کشی اور ساتھیوں کے قتل کے واقعات میں اضافہ

سرینگر — بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں تعینات سیکیورٹی فورسز میں خود کشی اور اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

محکمہ داخلہ کے ذرائع کے مطابق رواں سال اب تک 21 سیکیورٹی اہلکار خود کشی کر چکے ہیں۔ جب کہ 6 سیکیورٹی اہلکار اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ ایک تازہ واقعے میں بھارت کی فوج کے ایک سپاہی جگجیت سنگھ نے وسطی ضلع گاندربل میں واقع فوجی کیمپ میں خود کشی کی ہے۔

Read more

ہم سفر کے سنگ خوبصورت سفر

”سنو عمرہ کرنے چلو گی؟“ ہمارے شوہر محترم نے آئینے میں بالوں کو برش کرتے ہوئے، ہم سے پوچھا، تو کچھ لمحے ہم حیرانی سے ان کی شکل ہی تکتے رہے۔ اپنی سماعتوں پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔ پھر حیرت اور خوشی کے سمندر سے ابھر کر ہم نے کہا، ”واقعی؟“

”ہاں نا! دیکھو، بات تو کی ہے ٹریول ایجنٹ سے۔ پہلے ہم ابو ظہبی اور دبئی جائیں گے، پھر چار دن وہاں رک کر ان شا اللہ مکہ جائیں گے۔ بس دعا کرو ویزا لگ جائے۔

اصل میں ان کا بچپن ابو ظہبی میں گزرا ہے۔ اور جہاں بچپن گزرا ہو وہاں کی یاد اکثر و بیش تر انسان کو ستاتی رہتی ہے۔ ان کی بڑی خواہش تھی کہ ہمیں بھی ایک دفعہ ضرور وہاں لے کر جائیں اور ہمیں بھی ان گلی محلوں کی سیر کروائیں، جہاں بچپن میں وہ کھیلا کرتے تھے۔ سوری محلے تو نہیں وہاں تو بلڈنگ اور فلیٹس سسٹم ہے۔ یہ محلے وغیرہ تو ہمارے دیسی علاقوں میں ہوتے ہیں۔

Read more

خستہ حالی بہ اندر دمشق

گزشتہ چند ہفتوں سے ملکی برامدات صفر کے قریب آنے، تیل اور گیس کے ٹرمینلز کو گنجائش سے کم استعمال کرنے، تارکین وطن کے آجر ممالک میں کورونا اور دیگر اسباب سے کساد بازاری کے سبب کی جانب سے رقوم کی ترسیل میں کمی اور موجود وسائل کو فوجی بجٹ میں جھونکنے کے سبب ملک میں توانائی کا شدید بحران ہے۔ احباب خاطر جمع رکھیں، یہ خادم شام کی بات کر رہا ہے، اگرچہ یہ گمان گزرنا بعید از قیاس نہیں کہ ”بات گویا یہیں کہیں کی ہے“ ۔ سو صورت حال یہ ہے کہ پٹرول پمپوں پر کئی کئی کلو میٹر لمبی گاڑیوں کی قطاریں نظر آتی ہیں اور پٹرول راشن کے حساب سے دیا جا رہا ہے۔ چند روز میں سردی شروع ہو جائے گی تو مائع گیس کا بحران بھی رونما ہونے کا اندیشہ ہے۔

حالت حرب اپنی جگہ لیکن ایک تو پہلے ہی اس ملک پر چند عالمی طاقتوں اور ان کے حلیفوں کی جانب سے تکلیف دہ اقتصادی پابندیاں عائد تھیں۔ جو تھوڑا بہت گزارا ہمسایہ لبنان اور کسی حد تک اردن سے تجارت کے سبب ہو رہا تھا، وہ بھی بند ہو چکا ہے۔ احباب کو علم ہوگا کہ سال گزشتہ کے آخری مہینوں میں لبنان میں نوجوان طبقے کو تبدیلی اور بد عنوانی کے خاتمے کا شدید شوق چڑھا تھا۔ کسی سیاسی سمت اور واضح اہداف کی عدم موجودگی کے باعث ان احتجاجی مظاہروں اور ہڑتالوں سے اور تو کچھ حاصل نہ ہوا البتہ سرمایہ کاروں کا اعتماد جڑ سے اکھڑ گیا۔ رہی سہی کسر کورونا نے پوری کردی۔

Read more

ٹک ٹاک پر پاکستان میں پابندی سے لاکھوں فالوورز والے سوشل میڈیا سٹارز پریشان

پنجاب کے دور دراز دیہات میں بھٹے پر اینٹیں بنانے والا مزدور ہو یا قومی ائیر لائن میں کام کرنے والی فضائی میزبان، یا پھر سیاست کے ایوانوں میں ہلچل مچا دینے والی حریم شاہ ۔۔۔ پاکستان میں ٹک ٹاک کی مقبولیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔

Read more

اپنی شرطوں پر زندگی

ہر انسان دنیا میں ایک منفرد افتاد طبع لے کر آتا ہے اور اپنی شرطوں پر زندگی جینا چاہتا ہے۔ زندگی کے اس رستے میں کبھی کبھی بظاہر بہت خوبصورت موڑ آتے ہیں، جہاں سے اگلی منزلیں بہت سہل اور آسان نظر آتی ہیں، بشرطیکہ انسان اپنی شرائط پر سمجھوتا کر لے۔ بہت سے لوگ ایسا ہی کرتے ہیں اور ایک نا معلوم سی خلش دل میں لئے تا عمر سلگتے رہتے ہیں۔ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنا، صحیح بات کہنا بہت مشکل کام ہے، کیوں کہ زندگی اکثر اوقات صرف سیاہ یا سفید کے بجائے سرمئی رنگت کی حامل ہوتی ہے۔ ہر موڑ پر ملگجے اندھیرے اور نیم جاں روشنی میں کچھ پگڈنڈیاں ڈوبتی اور ابھرتی ہیں۔ ایسے میں اگر دل میں اپنی ذات پر یقین کی شمع روشن نہ ہو، تو بہت ممکن ہے کہ انسان غلط پگڈنڈی پر چل پڑے۔

کچھ عرصہ پہلے لٹل وومن نامی ایک فلم دیکھی تھی۔ اس میں اس خیال کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا گیا تھا۔ لوئیسا مے ایلکوٹ کے ناول پر بنی اس فلم میں امریکی سول وار کے زمانے میں چار بہنوں کی زندگی، خوابوں اور محبت کو بیان کیا گیا ہے۔ غریبی میں پلی ان چار بہنوں اور ان کی ماں کی یہ کہانی، ایک نئی امریکی عورت کا تصور پیش کرتی ہے۔

Read more

ستم کا شکار ہیمو فیلیا مریض

آج پھر اسے کمرے میں بند کر کہ لاتا لگا دیا گیا دیا گیا۔ اس کے گال تھپڑوں سے سرخ ہو چکے تھے۔ شاید وہ اسی لائق تھا یا زمانے کی ستم ظریفی تھی۔ امی میں کھیلنا چاہتا ہوں۔ شاید یہ ایک جملہ قتل نا حق سے بھی زیادہ گناہ اپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔ چناں چہ حسب معمول اسے کمرے میں بند کر کہ کمرے کو مقفل کر دیا گیا۔

عمار محمد ارسلان کے گھر پیدا ہونے والی پہلی اولاد تھی۔ اس کے پیدا ہونے پر پورے گاؤں کو دعوت طعام دی گئی۔ عقیقہ کی سنت بھی ادا کر دی گئی۔ دیکھنے میں یہ ایک نارمل اور صحت مند سات سال کا خوب صوت بچہ ہے۔ بچپن میں دیہی نیم حکیم خطرہ جان کمپورڈر نما ڈاکٹر نے اس کی مرہم پٹی کر دی اور کامیابی سے ختنے کا عمل مکمل کرنے کی نوید سنائی، لیکن پھر بھی خون تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ گھر جانے کے بعد بھی جب خون نہ رکا تو ماسی، چچی، مامی سب نے مختلف ٹوٹکے بتائے، تمام آزمائے گئے مگر یہ خون تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔

Read more

کیا بلوچستان سے منشیات کا خاتمہ ناممکن ہے؟

اس وقت جب میں نویں اور دسویں کلاس میں پڑھتا تھا۔ میری عمر تقریباً سولہ سترہ برس کے لگ بھگ تھی۔ اسکول کے ایک دوست تھے جن سے سلام دعا رہتی تھی۔ وہ سکول کے قابل اور ذہین طالب علم تھے جو اپنی کلاس میں ہمیشہ پوزیشن لیتے تھے اور میرے ہم عمر بھی تھے پھر آہستہ آہستہ برے سوسائٹی کی وجہ سے چرس پینے کے عادی ہوچکے اور اس حد تک گئے کہ اب ذہنی طور پر بالکل صحیح نہیں۔ اب اس کی ایسی حالت ہے۔ کسی سے بات چیت یا سلام دعا تک نہیں کرتا میں جب بھی اسے دیکھتا ہو وہ سب یاد آتا ہے۔ اسکول میں انتہائی پوزیشن لینے والا نیک خوب صورت نوجوان اور سگریٹ چرس کی عادت اسے کہا سے کہا تک پہنچا چکی ہے۔ بہت دکھ بھی ہوتا ہے۔ تکلیف بھی ہوتی ہے۔ شہر کے لوگ تو اس کے نام کے ساتھ پاگل کا لفظ بھی استعمال کرتے ہیں۔

اسی طرح ہر موالی ہر ذہنی طور مفلوج انسان کے پیچھے ایک نام ایک کہانی ضرور ہوتی ہے۔ بلوچستان کے عوام جو کہ انسانی زندگی کی تمام بنیادی سہولیات صحت، تعلیم، روزگار، گیس، بجلی، پانی سمیت اس اکیسویں صدی میں بھی محروم ہیں۔ اسی طرح منشیات کے پھیلاؤ میں بہت آگے ہیں۔ یہاں صوبائی دارالحکومت کے ساتھ ساتھ ضلع تحصیل و یونین کونسل تک منشیات کے اڈے اور ہائی لیول پر اس کے کاروبار کرنے والے موجود ہیں۔ چرس اور شراب کو تو اب منشیات سمجھا ہی نہیں جاتا اور کیوں سمجھا جائے جب ہمارے معاشرے کے گلی گلی محلے محلے ہیروئن و کرسٹل میں 14 سالہ طالب علم اس زہر کا شکار ہوں وہاں تو چرس اور شراب پینا و بیچنا کچھ بھی نہیں سمجھا جائے گا۔

Read more

امریکہ: ٹرمپ اور بائیڈن کے مابین دوسرا صدارتی مباحثہ منسوخ

ویب ڈیسک۔ امریکہ میں آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل ​صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن کے درمیان ہونے والا دوسرا مباحثہ​ کرونا وائرس سے متعلق حفاظتی اقدامات پر اختلافات کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا ہے۔

صدارتی مباحثے کے کمیشن نے جمعے کو اس بات کی تصدیق کی کہ دوسرا صدارتی مباحثہ صدر ٹرمپ کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے ورچوئل کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ البتہ صدر ٹرمپ نے یہ تجویز رد کر دی تھی جس کے بعد یہ مباحثہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

Read more

WorldMentalHealthDay#: ذہنی مسائل کا علاج، جس میں پیسہ پانی کی طرح بہتا ہے

آج ایسے لوگ مل جاتے ہیں جو نفسیاتی امراض کے ماہرین کے پاس جانے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن ماہرین نفسیات کی بھاری فیسیں کہاں سے آئیں گی یہ ابھی بھی بحث کا موضوع نہیں۔

Read more

نئے کرنسی نوٹس، بلیک اکانومی اور منی لانڈرنگ: حکومتِ پاکستان اتنے نوٹ کیوں چھاپ رہی ہے؟

30 جون 2020 کو ختم ہونے والے مالی سال میں زیر گردش نوٹوں میں گزشتہ آٹھ برسوں میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا اور صرف ایک مالی سال میں گردشی نوٹوں کی تعداد میں 1.1 ٹریلین کا اضافہ دیکھا گیا۔

Read more

کثیر تعداد میں جوان خواتین اب بھی شوہر کا نام ساتھ لگانے کے لیے اپنا نام کیوں بدل لیتی ہیں؟

شوہر کا خاندانی نام اپنانے کی روایت تاریخی اعتبار سے پدرسری نظام میں پائی جاتی ہے، تو پھر اب بھی بہت سی جوان عورتیں اس روایت کو کیوں زندہ رکھے ہوئے ہیں؟

Read more

نواز شریف سے جیتنا آسان نہیں!

اپنی نوجوانی میں میاں صاحب زندگی کے ہر شعبے میں ناکام ہوتے ہوئے نظر آئے تو والد صاحب نے انہیں جنرل جیلانی کے حوالے کر دیا۔ وہ دن اور آج کا دن وطن عزیز میں آئے روز پیدا ہونے والی ہر ہیجانی صورت حال کے اندر میاں صاحب کو ایک دائمی فریق کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ میاں صاحب کہ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پرچی کے بغیر ایک جملہ ٹھیک سے نہیں بول سکتے، آدھے صفحے سے زیادہ جو تحریر پر توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں، انہی میاں صاحب نے بڑے بڑے طاقتورافراد کو ان کے مقتدر اداروں سمیت کم و بیش تین عشروں سے آگے لگا رکھا ہے۔

جنرل مشرف کو میاں صاحب کس طرح جل دینے میں کامیاب ہوئے، یہ قصہ ابھی کل کی بات ہے۔ پچھلے برس کے کسی مہینے، جسٹس کھوسہ نے جیل میں بندشدید ذہنی دباؤ کے شکار قیدی کو اسی قدر شدید انسانی ہمدردی کے جذبات سے مغلوب ہو کر کچھ ہفتے گھر گزارنے کی انوکھی رعایت عطا کی تھی۔ رہائی ملی تو عام خیال یہی تھا کہ قیدی عافیت پا کر گھر میں سستاتا ہوگا۔ کسے معلوم تھا کہ ضمانت پر رہائی کے انہی دنوں، قیدی کو سزا سنانے والے جج سے جاتی عمرہ میں معاملات طے پا رہے تھے۔

Read more

کیا باسمتی ہم سے چھن جائے گی؟

آپ کے پاس گاؤں میں رہنے کی کیا وجہ ہے؟ میں نے ایک بار اپنے دادا جی سے پوچھا۔ آپ کی ساری اولاد شہر میں بس چکی۔ باغ کی دیکھ بھال اب آپ سے ہو نہیں سکتی۔ طبیعت خراب ہو جائے تو وہی نیم حکیم، نیم ڈاکٹر۔ ان کی آنکھوں میں انار کے پھولوں جیسے رنگ بھر گئے، محبت کی ہریاول ان کے سفید دراز بالوں کے گرد حاشیہ بنا کر اتر آئی۔ بولے! تم جس راستے سے آئے ہو وہاں چاول کی فصل پکنے کو تیار ہے۔ اس کی خوشبو سے ملے؟

Read more

کورونا وائرس: ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کے مطابق وائٹ ہاؤس نے کووڈ 19 کی سپرسپریڈر تقریب منعقد کی

امریکہ میں وائرس کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے گذشتہ ماہ ایک محفل کی میزبانی کرنے پر وائٹ ہاؤس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کیونکہ ان کے خیال میں وہ محفل کووڈ 19 کے پھیلنے سے وابستہ ہے۔

Read more

ڈاکٹر عبدالحمید: میدان تعلیم کے مجاہد

معلمین کو رحمت عالمﷺ سے نسبت خاص حاصل ہے کہ وہ تعلیم و تربیت کے ارفع فرض کو پورا کرنے پر فائز ہیں۔ وہ معاشرہ سازی میں ایک ستون کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ ان کی تیار کردہ افرادی قوت نے مستقبل میں معاشرے کی باگ ڈور سنبھالنا ہوتی ہے۔ بلاشبہ ایک استاد کی طرف سے عطا کیا گیا تعلیم و تربیت کا نورانکے طلبہ کی تمام زندگی کو منور کر دیتا ہے۔ لیکن بعض اوقات استاد کی کاوشیں کمرہ

Read more

ہوا کے دوش پہ رکھے ہوئے چراغ ہیں سب

جب کسی معاشرے میں کسی بھی حوالے سے کوئی خاص صورت حال جنم لیتی ہے تو اس صورت حال میں حصہ لینے والے تمام بنیادی شرکا اسے اپنے خیالات اور تصورات کے مطابق مخصوص سمت میں لے جا کر مخصوص نتائج کے حصول کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ ایسا ہونا فطری اور منطقی بھی ہے اور سماجی روایات کے اعتبار سے، جائز بھی۔ یہاں یہ وضاحت (اور اس کی تفہیم) نہایت ضروری ہے کہ اختلاف رائے انسانی مزاج میں موجود

Read more

امریکہ کا صدارتی انتخاب 2020: ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی پاکستانی نژاد امریکی شہری انھیں کیوں پسند کرتے ہیں؟

صدر ٹرمپ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ نسل پرست، جھوٹے اور لوگوں کو تقسیم کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے پاکستانی نژاد امریکی حامی سمجھتے ہیں کہ وہ امریکہ اور پاکستان دونوں کے لیے اچھے ہیں۔

Read more

شعور و آگہی کا پیامبر: ڈاکٹر بلند اقبال

نیٹ ورکنگ اور گلوبلائزیشن کے اس دور میں بک ریڈنگ کا رجحان ماندسا پڑتا جا رہا ہے اور ای بک کلچر بڑی تیزی سے فروغ پا رہا ہے اس کی بنیادی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا ہے اور آج کا انسان اس تبدیلی سے فائدہ اٹھانے کی بھر پور کوشش کر رہا ہے اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے کیونکہ یہ انسانوں کا مشترکہ ورثہ ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ

Read more

07 اکتوبر 1958 ء کے پہلے مارشل لاء کے اسباب کا مختصر جائزہ

ممتاز ماہر عمرانیات ایرک فروم کا کہنا ہے کہ آزادی کا حصول اور اس کے حصول کے بعد اس کو قائم رکھنا ایک دشوار طلب عمل اور کشمکش ہے بعض لوگ، بعض گروہ یا قومیں اس سے گھبرا کر اپنی آزادی اپنی رضا سے ایک شخص یا جماعت کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اس طرح انھیں فیصلہ کرنے کی زحمت سے نجات مل جاتی ہے اور وہ حکم ماننے میں ایک گو نہ سکون محسوس کرتے ہیں۔ سات اکتوبر 1958

Read more

افغانستان کو دو طرفہ تعلقات اور عوامی روابط مستحکم بنانے کا موقع

افغانستان کے قومی مصالحت کی اعلیٰ کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے پہلی بار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے وزیراعظم عمران کی دعوت پر پاکستان کا تین روزہ دورہ کیا۔ نورخان ائربیس پر وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد، افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندہ محمد صادق، افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان اور وذرات خارجہ کی افغانستان ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل آصف میمن نے عبداللہ عبداللہ اور ان کے وفد کا استقبال کیا۔ عبداللہ

Read more

دماغی صحت کا عالمی دن اور کورونا کے اثرات

پاکستان سمیت دنیا بھر میں دماغی صحت کا بین الاقوامی دن 10 اکتوبر کو منایا جائے گا۔ عالمی ادارہ صحت اور ورلڈ فیڈریشن آف مینٹل ہیلتھ کے باہمی اشتراک سے یہ دن ہر سال 10 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ پہلی مرتبہ یہ دن 1992 ء کو دنیا بھر میں منایا گیا تھا، جس کے بعد سے اب تک ہر سال عالمی سطح پر دماغی صحت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کے منانے کا بنیادی مقصد دماغی

Read more

ہنزہ کے لوگوں کا تاریخ کے روبرو استغاثہ

میر آف ہنزہ اور نگر نے 1947 ء میں اپنی ریاستوں کے الحاق کا خط لکھ کر پاکستان کو اس علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کا جواز فراہم نہ کیا ہوتا تو پاکستان اور دنیا کے حالات بھی آج مختلف ہوتے۔ 1963 ء میں پاکستان کا چین کے ساتھ سرحدی معاہدے پر میر آف ہنزہ کی رضامندی شامل نہ ہوتی تو نہ شاہراہ قراقرم کی تعمیر ہوتی اور نہ آج پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی راہداری المعروف سی پیک کا

Read more

زندگی، کینسر اور امید

آج کیلینڈر پر نگاہ پڑی تو اندازہ ہوا کہ اکتوبر بھی شروع ہو چکا ہے۔ اکتوبر میں کیا خاص بات ہے؟ بدلتے موسم کی دستک یا کچھ اور بھی؟ جی ہاں یہ بریسٹ کینسر آگاہی کا مہینہ ہے۔ کینسر کا لفظ ہی عام انسان کو خوفزدہ کرنے کے لئے کافی ہے اور بیچاری عورت کو جہاں بہت سے تاوان اپنی صنف کی وجہ سے ادا کرنے پڑتے ہیں ان میں سر فہرست بریسٹ کینسر ہے مگر میڈیکل سائنس میں اتنی ترقی بھی ضرور ہو چکی ہے کہ بر وقت علاج سے اس پر قابو پا سکتے ہیں۔

Read more

بابا کا ڈھابہ: انڈیا میں ایک ویڈیو پیغام جس نے 80 سال کے بابا کے کاروبار کو چار چاند لگا دیے

جب لوگوں نے ویڈیو میں 80 برس کے بابا کا دکھڑا سنا جس میں وہ دھاڑیں مار کر رو کر بتا رہا ہوتا ہے کہ کیسے کورونا وبا کی وجہ سے ان کا کاروبار متاثر ہوا ہے تو اس کے بعد اب اس ڈھابے کے باہر کھانا کھانے والوں کی قطاریں بنی نظر آ رہی ہیں۔

Read more

اڈلی: کملا ہیرس کے پسندیدہ ساؤتھ انڈین پکوان کو ’پھیکا‘ کہنے والے برطانوی معلم پر سوشل میڈیا صارفین برہم

اس بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک انڈین فوڈ ڈلیوری سروس نے سوشل میڈیا پر صارفین سے رائے مانگی کہ ان کے نزدیک وہ کون سے پکوان ہیں جن کی مقبولیت کی وجہ سمجھ سے باہر ہے۔

Read more

اداروں کی غیر جانبداری پر سوالات! لمحہ فکر

ملکی سیاسی ماحول میں تلخی، نئی بات نہیں۔ یہ ہمیشہ موجود رہی ہے۔ کچھ عرصے سے مگر یہ تلخی، خطرناک حد چھوتی نظر آ رہی ہے۔ ہر گزرتے لمحے، سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے باعث خدانخواستہ کسی بڑے سانحے کا خطرہ نظر آ رہا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ آبادی کے لحاظ سے ملک کے ساٹھ فی صد حصے پر مشتمل، سب سے بڑے صوبے کی نمائندہ جماعت کے خلاف، مسلسل ایسے اقدامات ہو رہے ہیں، جس سے یہ تاثر یقین میں بدل رہا ہے کہ واقعتاً اس کا وجود مٹانے کی کوششیں ہو رہی ہے۔

مسلم لیگ نون میں خرابیاں ہو سکتی ہیں، مگر باوجود اپنی تمام تر کوتاہیوں اور جملہ خرابیوں کے، بہرحال وہ ایک ملک گیر جماعت ہے۔ ایک طرف کہا جا رہا ہے، ہمیں ففتھ جنریشن وار کا سامنا ہے اور دشمن ”خفیہ سازشی منصوبوں“ کے ذریعے ہمیں لسانی بنیادوں پر تقسیم کر کے کمزور کرنے کی کوشش میں مصروف ہے، لیکن اس نازک موڑ پر بھی احتیاط کا دامن تھامنے کی بجائے اپوزیشن کا وجود تک برداشت نہیں کیا جا رہا۔ حالاں کہ اس وقت ملک گیر جماعتوں کا وفاقی سیاست میں موجود رہنا قومی سلامتی اور وحدت کے لئے نا گزیر ہے۔

Read more

شہریوں کے حقوق اور تخفظ کی ذمہ داری

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق موٹروے پر حالیہ جنسی زیادتی کے وحشت ناک واقعہ کے بعد پاکستان میں خواتین میں اپنے تحفظ کے لیے اسلحہ اور دیگر حفاظتی ہتھیار خریدنے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ اسی ضمن میں جب پولیس کی ایس پی عائشہ بٹ سے پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا کہ ہمیں خواتین اور بچوں کو مارشل آرٹ اور کراٹے سکھانے چاہیے تا کہ وہ اپنی حفاظت خود کر سکیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کو صحت مند رہنے کے لیے جسمانی ورزش کی ضرورت ہوتی ہے، اور اس کے لئے وہ مختلف قسم کی کھیلوں میں بھی حصہ لے سکتا ہے اور کراٹے بھی سیکھ سکتا ہے۔ مگر اس بات میں کس قدر صداقت ہے کہ مارشل آرٹس سیکھنے کے بعد وہ خود اپنی حفاظت کر پائے گا اور کوئی اس کو نقصان نہیں پہنچا پائے گا، یہ معلوم نہیں۔

Read more

انسانوں کی بستی میں جانوروں کے حقوق

کراچی کے چڑیا گھر میں موجود برفانی ریچھ کی حالت زار کی خبریں، میڈیا پر آنے کے بعد ماحولیات اور جانوروں سے محبت کرنے والے افراد، اس کے تحفظ کے لئے میدان میں آ گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی پاکستان میں نایاب نسل کے اس ریچھ کے تحفظ کے لئے بھرپور مہم چلائی جا رہی ہے۔ براؤن کلر کے اس ریچھ کا نام رانو ہے، اور اس کا تعلق اردن سے بتایا جا رہا ہے، جو کہ سرد موسم میں رہنے کا عادی ہے، لیکن کراچی میں درجہ حرارت زیادہ ہونے کے باعث یہ ریچھ سست اور کمزور ہو رہا ہے۔

کراچی کے 38 شہریوں نے مشترک طور پر براؤن کلر کے اس ریچھ اور دیگر جانوروں کے تحفظ کے لئے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ برفانی ریچھ کو ایک چھوٹے سے تنگ پنجرے میں ماں باپ کے بغیر رکھا گیا ہے، جہاں اس کی صحت کا بہتر خیال نہیں رکھا جا رہا، جس سے اس کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا کہ ریچھ کے بچے کو سکردو منتقل کیا جائے، جہاں اس نسل کے دیگر جانور پائے جاتے ہیں اور وہاں کی آب و ہوا بھی ان کے لیے موافق ہے۔ اس پر عدالت نے چڑیا گھر انتظامیہ کو ریچھ کو سازگار ماحول فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

Read more

مرزاپور کے گڈو بھائی ’علی فضل‘: ’کردار کی تیاری میں ماموؤں سے متاثر ہوا‘

مرزا پور سیریز کا معروف کردار ہے گڈو پنڈت جسے دیکھنے والوں کی جانب سے کافی سراہا گیا۔ یہ کردار نبھایا ہے علی فضل نے جنھوں نے بالی وڈ کی تاریخ ساز فلموں میں سے ایک تھری ایڈیٹس سے اپنے کیریئر کی شروعات کی تھی۔

Read more

آن لائن اور ورچوئل رابطوں کے نقصانات

فون کالیں، ٹیکسٹ میسج، وٹس ایپ کال، وٹس ایپ میسج، ورچوئل اور آن لائن رابطوں اور ملاقاتوں کو ختم کریں، اور دوبارہ بالمشافہ ملاقاتوں اور ملنے ملانے کو رواج دیں۔ کیوں کہ کوئی آپ کا اپنا اور نہایت قریبی مر رہا ہے۔ جی ہاں مر رہا ہے اور آپ کو معلوم ہی نہیں ہے۔

میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ سرمایہ دارانہ نظام نے پوری دنیا میں ایسا نفسا نفسی کا ماحول پیدا کر دیا ہے کہ % 80 افراد 14 سے 16 گھنٹے محنت مزدوری کر کے مشکل سے اپنی زندگی کی بقا کی جنگ لڑی رہے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ وقت پورا کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں رہی سہی سماجیات کو بچانے کے لئے ہم ان موبائل فونوں، لیپ ٹاپ اور اس سے ملتی جلتی گیجٹس کا سہارا لیتے ہیں اور آپس میں جڑے رہنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہ ان با المشافہ ملاقاتوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتا، کیوں کہ ممکن ہے میں بالکل ٹھیک ہوں کا جواب دینے والا، اس وقت اسپتال کے کسی وارڈ میں لیٹا ہوا ہو۔ سب فٹ کا جواب لکھتے وقت اس کی آنکھوں میں کسی غم کے آنسو ہوں۔ بہترین زندگی گزر رہی ہے، کا جواب دینے والا کتنے دنوں سے فاقہ کشی سے ہو۔ معاشی پریشانی اور گھریلو الجھنوں میں ہو۔ وغیرہ۔

Read more

صدر ٹرمپ کا ورچوئل مباحثے میں شرکت سے انکار، بائیڈن تیار

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ 15 اکتوبر کو ہونے والے ورچوئل صدارتی مباحثے میں حصہ نہیں لیں گے۔ صدر ٹرمپ کا یہ بیان کرونا پازیٹو آنے کے بعد پہلے انٹرویو میں سامنے آیا ہے۔

Read more

امریکہ: مشی گن کی گورنر کو اغوا کرنے کے 6 منصوبہ ساز گرفتار

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ اس نے وسط مغربی ریاست مشی گن کی حکومت کو ختم کرنے اور اس کی گورنر گریچن وٹمر کو برطرف کرنے کے ایک منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔ یہ منصوبہ تین نومبر کو ہونے والے انتخابات سے پہلے پایہ تکمیل تک پہنچایا جانا تھا۔

Read more

کاون، ’سفید ہاتھی‘ اور برصغیر کی تاریخ میں دیے جانے والے چند دلچسپ سفارتی تحائف کی کہانی

پرانے زمانے کے قصے کہانیوں میں یہ اکثر ہوتا تھا کہ بادشاہ یا اس کی بیٹی شدید بیمار ہوتی۔ سرکاری طبیب، حکیم، اتائی، ٹونے ٹوٹکے سب ناکام ہو جاتے اور ایسے میں کوئی مسافر یا درویش دور دیس کی کسی جڑی بوٹی یا تریاق سے فوری شفایاب کرتا اور انعام میں کوئی وزارت یا صوبہ پاتا۔

Read more

‘نیویارک میں پی آئی اے کا روزویلٹ ہوٹل 31 اکتوبر سے بند ہو رہا ہے’

امریکہ کے شہر نیویارک میں واقع پاکستان کی قومی ائرلائن پاکستان انٹرنیشنل ائرلائن (پی آئی اے ) کا ملکیتی روز ویلٹ ہوٹل کو 31 اکتوبر سے مستقل طور پر بند کیا جا رہا ہے۔

ہوٹل انتظامیہ نے اس حوالے سے باضابطہ طور پر ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں ہوٹل کی بندش کی وجہ کرونا کی وبا سے پیدا شدہ مالی صورت حال کو قرار دیا گیا ہے۔

Read more

انڈیا، میانمار تعلقات: کیا دونوں ممالک میں قربتیں بڑھنے کی بڑی وجہ انڈیا کو چین سے درپیش خطرہ ہے؟

اگرچہ انڈیا میانمار سے تعلقات بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے تاہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ میانمار میں چین کا اثرورسوخ بہت زیادہ ہے۔ رواں برس جنوری میں چین کے صدر نے میانمار کا دورہ کیا تھا اور دونوں ممالک نے 33 معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔

Read more

شیخ عزیز: تین زبانوں کے منجھے ہوئے منفرد صحافی، محقق و مصنف

اس ملک میں صحافی تو بہت پیدا ہوئے ہیں، جن میں سے کئی ایک عظمت کے رتبوں پر بھی فائز ہوئے، مگر شیخ عزیز صاحب جیسے کثیر اللسانی، با صلاحیت اور ہمہ جہت صحافی، صاحب قلم، محقق، ماہر موسیقی اور کئی کتب کے مصنف کی صحافیانہ و قلمی خدمات کو یہ ملک ہرگز با آسانی فراموش نہیں کر سکتا۔

نامور و ممتاز صحافی اور قلم کار، شیخ عزیز نے، 9 دسمبر 1938ء کو سندھ کے دوسرے بڑے شہر اور سندھ کے ثقافتی دار الحکومت، حیدر آباد میں آنکھ کھولی۔ شیخ عزیز کا تعلق ایک علمی و ادبی خانوادے سے تھا۔ ان کے ایک بھائی، شیخ محمد اسمٰعیل، سندھی زبان و ادب کے معروف محقق تھے، جب کہ دوسرے بھائی، شیخ محمد ابراہیم، معروف براڈ کاسٹر گزرے ہیں، جو ریڈیو پاکستان حیدر آباد اور کراچی سے اپنے دور کے ڈرامے کے معروف پروڈیوسر کے طور پر جانے پہچانے گئے، اور دونوں اسٹیشنز کے ”پروگرام مینیجر“ بھی رہے۔

Read more

کرونا کے تدارک کے لئے ٹرمپ پر آزمایا نسخہ

اندھی نفرت وعقیدت پر مبنی تقسیم پاکستان کے مقابلے میں دُنیا کی واحد سپرطاقت اور ’’حقیقی‘‘ جمہوریت کی علامت شمار ہوتے امریکہ میں جنونت کی انتہائوں کو ناقابلِ برداشت حد تک چھورہی ہے۔اس ضمن میں سفاکی کا بھرپور مظاہرہ حال ہی میں امریکی صدر کے حوالے سے بھی دیکھنے کو ملا ہے۔ٹرمپ کئی حوالوں سے مجھے اپنا ’’لاہوری‘‘ محسوس ہوتا ہے۔ اس کے رویے سے لطف اندوز ہونے کے باوجود مجھے اس کی سیاسی ترجیحات سے شدید نفرت ہے۔ "America

Read more

کامران آن بائیک: سائیکل پر 50 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرنے والے لیہ کے کامران علی جن کے لیے آرام کا مطلب تھکاوٹ ہے

کامران علی ایک پاکستانی سائیکلسٹ ہیں جنھوں نے لیہ سے اپنے سائیکل کا سفر کیا شروع کیا کہ اب وہ آرام سے بیٹھنے سے تھک جاتے ہیں۔

Read more

آٹزم، سپیچ ڈیلے: اگر آپ کا بچہ تین سال کی عمر میں بھی نہ بولے تو کیا کرنا چاہیے؟

سپیچ پیتھالوجسٹ ندا زاہد کے مطابق گر آپ کا بچہ دو سال کی عمر میں الفاظ نہیں بول سکتا ہو یا پھر تین سال کی عمر میں ایک جملہ نہیں بول سکتا ہو تو معالج سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

Read more

چیف ایگزیکٹیو آفیسرز کے راز: برطانیہ میں لاک ڈاؤن کے دوران کامیاب کاروبار کھولنے والے نوجوان گریجویٹس

ہمارے چیف ایگزیکیٹو آفیسرز (سی ای او) کے رازوں کے بارے میں ہماری سیریز، جس میں ہم کاروباری افراد کو اپنی نصیحتیں بتانے کے لیے دعوت دیتے ہیں، اس میں ہم ان کاروباروں پر توجہ دے رہے ہیں جو موجودہ لاک ڈاؤن کے دوران شروع کیے گئے ہیں۔

Read more

میڈیکل کالج کے اساتذہ کی باتیں اور یادیں

5 اکتوبر: پوری دنیا میں اس دن کو ”یوم اساتذہ“ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن پوری دنیا، اساتذہ کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ میری ذاتی رائے میں، استاد سے محبت کے اظہار کے لیے کسی دن کی ضرورت نہیں، لیکن دنیا ایک گلوبل ولیج کا روپ دھاڑ چکی ہے، تو جس دن کو کسی سے منسوب کیا جاتا ہے، تو ہم سبھی اسی دن ہی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر دوستوں نے اپنے پسندیدہ اساتذہ کے بارے میں لکھا، تو دلی خوشی ہوئی۔ تو سوچا کیوں نا میں آپ کو اپنے میڈیکل کالج کے اساتذہ سے ملاؤں!

Read more

میں واپس نہیں جانا چاہتی۔ ۔

میں عورت ہوں، اپنی ذمہ دار خود ہوں، کوئی میری وکالت نہ کرے، مجھے وہ وقت بھی یاد ہے جب دنیا کے کسی کونے میں میری کوئی وقعت نہیں تھی، جو مرد آج کل ”حقوق“ کا چارا ڈال کر مجھے شکار کرنا چاہتے ہیں میں ان کی نظر میں فقط ایک ”کھلونا“ تھی، میں دن رات ان کی خدمت کرتی تھی، اگر مزدوری سے کچھ ملتا تھا تو وہ بھی انہیں دینے پر مجبور تھی، اس کے باوجود مجھے مارا

Read more

کھلی اور بند آنکھوں کے خواب

عام زبان میں خواب دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو انسان سوتے ہوئے دیکھتا ہے اور دوسرے وہ جو کھلی آنکھ سے دیکھتا ہے یعنی ان کو سوچتا ہے۔ اکثر سوچے جانے والے خواب ہی نیند میں دیکھنے والے خوابوں کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور اس کے بر عکس کبھی کبھی بند آنکھوں والے خواب کھلی آنکھوں والے خواب کو جنم دینے کا سبب بنتے ہیں۔ نفسیات کی تکنیکی زبان میں خواب صرف اسی کو کہتے ہیں جو نیند کی حالت میں آئے۔

بند آنکھوں والے خوابوں پر انسان کا کنٹرول نہیں ہوتا۔ اسی لئے وہ کبھی اس کو آسمان سے اوپر بلندیوں میں لے جاتے ہیں اور کبھی پست ترین وادیوں میں گرا دیتے ہیں۔ لیکن کھلی آنکھ والے خواب زیادہ تر انسان کی اپنی بلندی، کامیابی یا انا کی پذیرائی کے بارے میں ہوتے ہیں۔

Read more

سلام ان استادوں کو۔ ۔ ۔

سلام ان استادوں کو جو اخبار بھی ہجے کر کے پڑھتے ہیں۔ جنھیں کالم کے مضمون اور سیاق و سباق کا گھنٹہ پتہ نہیں ہوتا، بس اس میں املا کی غلطیاں ڈھونڈھ کر آپ کو گناہ صغیرہ و کبیرہ سے بچانے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں۔

سلام ان استادوں کو جو ساری قوم کے مسیحا ہوتے ہیں۔ پرانی خارش سے لے کر شوگر تک اور چنبل سے لے کر کینسر تک ہر بیماری کا علاج پوری دیانت داری سے ڈھونڈ کر شیئر کرتے ہیں۔ وہ بھی فی سبیل اللہ بنا کسی لالچ کے۔

سلام ان استادوں کو جو پاپا کی پرنسس اور بے بی ڈول کی معمولی چھینک والی پوسٹ پڑھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔ گرمیوں میں دیسی انڈے اور شہد کھانے کا قیمتی مشورہ دینے کے بعد بھی مطمئن نہیں ہوتے اور ساری رات جاگ کر ان پر غائبانہ دم کر کر کے پھونکیں مارتے رہتے ہیں۔

Read more

نوشابہ کی ڈائری 25 ادھر لیاری․․․․․ادھر کٹی پہاڑی․․․عمران فاروق شہید انقلاب قرار پائے!

آج چائے بناتے ہوئے ہاتھ جل گیا۔ جلن کی اذیت جھیلتے ہوئے خیال آیا، ان پر کیا گزر رہی ہوگی جن کے پورے جسم شعلوں میں گھرے تھے۔ بلدیہ ٹاؤن کی گارمنٹ فیکٹری کے سانحے کے بارے میں سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، اپنے ارد گرد تپش محسوس ہونے لگتی ہے۔ ڈھائی سو سے زیادہ مزدور زندہ جل گئے۔ زندہ جلنا! تصور بھی کتنا خوف ناک ہے، اسی لیے سب سے زیادہ جہنم کی آگ سے ڈرایا گیا ہے۔ لیکن یہ ڈراوا بھی دوسروں کی زندگی جہنم بنا کر اپنے لیے جنت تعمیر کرنے والوں کو ان کے ارادوں سے نہیں روک پاتا۔

میرا شہر بھی تو ایک جہنم ہے، مسلسل خوف کا عذاب۔ سوچتی ہوں کیا دوزخ میں اس سے بڑھ کر اذیتیں ہوں گی جو اس شہر کے باسی جھیل رہے ہیں؟ کیا باپ کے سامنے بیٹے کی سر کٹی لاش لائی جائے گی؟ یہ اطلاع کسی کا دل کرب سے بھر دے گی کہ اس کے پیارے کا جسم ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا، کوئی ماں گم شدہ بیٹے کے انتظار میں تڑپنے کی تکلیف جھیلے گی اور کیا کسی جہنمی کو یہ سوال ستائے گا کہ ”جانے کس جرم کی پائی ہے سزا؟“ خدا کتنا مہربان ہے، اس کی تو سزائیں بھی اس کے رحم کی دلیل ہیں، اور انسان کس قدر سفاک۔

Read more

یہ بھی ایک معجزہ ہے کہ ہم اب تک زندہ ہیں

کیا آپ نے اوڈری لورڈی کا نام سن رکھا ہے؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ ایک سیاہ فام امریکی شاعرہ تھیں؟

کیا آپ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ انہوں نے ساری عمر عورتوں کے حقوق کی خاطر روایتی فیمنزم ’پدر سری اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جنگ لڑی اور سیاہ فام عورتوں کی جدوجہد میں گرانقدر اضافے کیے۔

Read more

کراچی یونیورسٹی کی اندھیری سڑک پر ہراسانی کے مبینہ واقعات اور سوشل میڈیا پر ردعمل

جامعہ کراچی کے ایک طالب علم نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں اور ان کی ساتھی کو رات کے وقت کئی موٹر سائیکل سواروں نے کیمپس کے اندر ہراساں کرنے کی کوشش کی اور وہ بڑی مشکل سے اپنی جانیں بچا کر وہاں سے نکلے۔

Read more

امریکی فوج کے ایک اور سینئر افسر میں کرونا وائرس کی تصدیق

امریکہ کی فوج کی میرین کور نے کہا ہے کہ اس کے دوسرے اعلیٰ ترین افسر جنرل گیری تھامس بھی کرونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ بھی مثبت آیا ہے۔

خیال رہے کہ جنرل گیری تھامس امریکہ کی فوج کے دوسرے اعلیٰ ترین افسر ہیں جو کہ رواں ہفتے عالمی وبا سے متاثر ہوئے ہیں۔
اب خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ ان دونوں اعلیٰ افسران سے ملاقات کرنے والے پینٹاگون کے دیگر اعلیٰ حکام بھی وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

Read more

امریکی صدارتی انتخابات 2020: نائب صدر کے امیدوار مائیک پینس اور کملا ہیرس کے درمیان مباحثے میں کن موضوعات پر بات کی گئی؟

اگر نائب صدر کے امیدوار مائیک پینس اور کملا ہیرس کے اس مباحثے کو ایسے میچ کی طرح دیکھا جائے جو ڈیموکریٹک اور ریپبلکن پارٹی کے مستقبل کی عکاسی کرتا ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ اس کے لیے آنے والے چند برس انتظار کرنا ہو گا۔

Read more

امریکی نائب صدارتی امیدواروں کا مباحثہ، کرونا وائرس موضوع بحث

امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے نائب صدارتی امیدواروں کے درمیان بدھ کو صدارتی مباحثہ ہوا۔ اس مباحثے میں دونوں امیدواروں نے بیشتر وقت کرونا وائرس اور اس سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر ہی صرف کیا۔

Read more

کووڈ۔ 19 کی امکانی ویکسین کے لیے ایف ڈی اے کے رہنما اصول جاری

امریکہ کی فوڈ اور ڈرگ انتظامیہ (ایف ڈی اے ) نے کووڈ۔ 19 ویکسین کے استعمال کی اجازت کے لیے نئے رہنما اصول جاری کیے ہیں جس کے تحت دوا ساز کمپنیوں کی طرف سے آخری مرحلے کی جانچ کے دوران رضاکار کو اس ویکسین کی دوسری اور آخری خوراک دیے جانے کے بعد ان کی کم سے کم دو ماہ تک نگرانی کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

Read more

جوگندر ناتھ منڈل: پاکستان کے پہلے وزیر قانون جنھیں پاکستان میں ’غدار‘ اور انڈیا میں ’سیاسی اچھوت‘ سمجھا گیا

جوگندر ناتھ منڈل نے 70 برس قبل اُس وقت کے وزیر اعظم کو لکھے گئے اپنے استعفے میں مذہبی جنونیت کے فروغ کا ذمہ دار پاکستانی اسٹیبلیشمنٹ کی مذہب کو ایک آلہِ کار کے طور پر استعمال کرنے اور پھر اس کے سامنے جھکنے کی روش کو قرار دیا تھا۔

Read more

ڈونلڈ ٹرمپ اور کورونا وائرس: گذشتہ 24 گھنٹوں سے امریکی صدر میں کورونا وائرس کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی، معالج

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معالج نے کہا ہے کہ ٹرمپ میں گذشتہ 24 گھنٹوں سے بھی زیادہ عرصے کے دوران کووڈ 19 کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی جبکہ انھوں نے گذشتہ چار دنوں میں بخار کی شکایت بھی نہیں کی۔

Read more

ریا چکرورتی: بالی وڈ اداکارہ کو سشانت سنگھ کی ہلاکت سے منسلک منشیات کے مقدمے میں مشروط ضمانت مل گئی

جسٹس سارنگ وی کوتوالی کی بینچ نے ریا چکرورتی اور چند دیگر ملزمان کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریا منشیات فروشوں کے کسی بھی گروہ کا حصہ نہیں ہیں اور انھوں نے مبینہ طور پر حاصل کردہ منشیات کسی اور کو پیسہ بنانے یا کسی اور مقصد کے لیے نہیں دیے۔

Read more

نواز شریف کے خلاف ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس: اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے نواز شریف کی طلبی کے اشتہار جاری کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اگر اشتہار شائع ہونے کے 30 روز کے اندر نواز شریف نے عدالت کے سامنے سرنڈر نہ کیا تو انھیں اشتہاری قرار دے دیا جائے گا۔

Read more

آپ اپنے ہی دام میں

”برخوردار کبھی ہمیں بھی وقت دے دیا کرو!“

”ارے میرے پیارے دادا جی، ہمارا سارا وقت صرف آپ کے لئے ہی تو ہے۔“ ثاقب جو بیڈ پر نیم دراز موبائل فون پہ چیٹنگ میں مصروف تھا، ایک دم ہی دادا جی کے دھاوا بولنے پر اچھل کر کھڑا ہوا۔ پھر شرارتی انداز میں آنکھ مارتے ہوئے (جلال الدین صاحب یعنی) اپنے ”پیارے دادا جی“ کو جواب دیا، جنہوں نے اس وقت واقعی جلالی انداز میں ثاقب کے لتے لینے شروع کر دیے تھے۔

”لاحول ولا قوۃ۔ اب یہ چھچھورے انداز، تم ہمیں بھی دکھاؤ گے؟“ دادا جی مزید غضب ناک ہو کر بولے، تو ثاقب دروازے سے ان کا ہاتھ پکڑ کر اندر لایا۔ پھر بیڈ پر بٹھا کر، لاڈ سے ان کے کندھے پر سر ٹکا کر، گانا گانے لگا۔

Read more

ریاست مجھے خوف زدہ کیوں کر رہی ہے؟

24 ستمبر 2020ء کو، دن 2 بجے اسلام آباد کے سرکاری نمبر سے کال موصول ہوئی اور کہا گیا کہ آپ کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں درخواست آئی ہے۔ شکایت کنندہ کے مطابق آپ کے مضامین اور سوشل میڈیا پر سرگرمیاں، ریاست کے خلاف ہیں۔ دفتر طلب کیا گیا کہ صفائی دیں، بصورت دیگر یک طرفہ کارروائی کی جائے گی۔ کال سنتے ہی خوف اور پریشانی کے باعث شوگر اور بلڈ پریشر کا لیول بڑھ گیا۔ اہل خانہ سے بات چھپانا چاہتا تھا، مگر اہلیہ بات سن چکی تھی۔ بریس لگی ٹانگ گھسٹتے کمرے میں آتے ہی رونے لگی کہ تم نے ایسا کیا کر دیا ہے۔ سمجھایا کہ کچھ نہیں ہوا۔ سب ٹھیک ہے۔ بمشکل شانت کرایا اور واپس اسے اپنے کمرے میں بھیجا کہ بیٹیوں کو خبر نہ ہو۔

صحافی اور احباب کو مطلع کیا کہ یہ معاملہ ہے۔ نوجوان صحافی سبوخ سید، علی وارثی، امریکا سے حنیفہ عباسی، مریم خان، جرمنی سے عاطف توقیر اور بعد ازاں مطیع اللہ جان، رضا رومی، مرتضی سولنگی، جبران ناصر، حارث خلیق، کرنل (ر) انعام رحمن ایڈووکیٹ، ساجد تنولی ایڈووکیٹ سمیت ظفر منہاس، راجا ساجد، قریبی دوست راجا اعجاز، سوشل میڈیا کے دوستوں نے بھرپور طریقے سے سپورٹ کیا، کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ احباب کی تسلی سے حوصلہ ملا اور خوف کچھ کم ہوا ہی تھا کہ یکم اکتوبر کی صبح ایف آئی اے سائبر کرائم کی جانب سے نوٹس آ گیا۔ جس پر پوسٹ آفس کی مہر یکم اکتوبر کی تھی، مگر نوٹس میں طلبی کی تاریخ 30 ستمبر 2020ء کی درج تھی۔

Read more

معلومات کی ونڈو شاپنگ

انسان کی سب کچھ جان لینے کی خواہش اور جستجو، روز اول سے شروع ہوئی، جو آج تک قائم ہے۔ اسی خواہش نے ہمیں ایک ایسے زمانے میں لا کھڑا کیا ہے، جہاں معلومات کا خزانہ ہواؤں میں اڑتا اور سمندروں میں بہتا ہے۔ پرانے وقتوں میں کسی بھی خبر یا چیز کی معلومات نایاب ہوتی تھیں۔ جس کو حاصل کرنے کی جد و جہد، نا صرف انسان کو عمل سے جوڑتی بلکہ ذہنی سکون، قابلیت، کچھ کر دکھانے کی جستجو پیدا کرنے کا سبب بھی بنتی تھی، لیکن آج ماحول میں رچی بسی ہر قسم کی معلومات آپ کے چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی، کسی پسندیدہ یا نا پسندیدہ خوشبو کے مانند آپ تک پہنچ ہی جاتی ہے۔ چاروں طرف سے حملہ آور معلومات کا یہ وافر اور بے ہنگم خزانہ، بیماری کی شکل اختیار کر تا جا رہا ہے۔ اس کو کئی نام دیے جا سکتے ہیں، جس طرح انسومینیا کا شکار انسان، اپنی صلاحیتوں کا صحیح سے استعمال نہیں کر پاتا، ویسے ہی انفومینیا کا شکار انسان بھی، معلومات کو صحیح طور سے استعمال میں نہیں لا سکتا، نہ آگے بڑھا سکتا ہے۔

Read more

کچھ ’کہنے‘ کا بہترین طریقہ وہ ’کرنا‘ ہے

وزیر اعلی جام کمال کا جام ہونا، زبان زد عام ہے، مگر آخر کار جام وزیر اعلی نے بھی چپ کا روزہ توڑ دیا، اور ایک ماہ سے زائد جاری بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان کی جانب سے لگائے گئے احتجاجی کیمپ کے طلبا کی آواز کو سن ہی لیا، مگر تا حال عملی طور پہ حکومت کی طرف سے ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا، جس سے مطالبات حل ہوتے دکھائی دیں۔ بقول مارٹی:

’کہنے‘ کا بہترین طریقہ ’کرنا‘ ہے۔

ہم توقع رکھ سکتے ہیں کہ جام صاحب اس موقع پر، طلبا کو اب سبز باغ دکھا کر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

Read more