سگمنڈ فرائڈ کے تیسرے لیکچر کی تلخیص اور ترجمہ

خواتین و حضرات! جب ہم نفسیاتی مریضاؤں کا علاج کر رہے ہوتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ مریضہ کے لاشعور میں دو متضاد طاقتیں بر سر پیکار ہوتی ہیں ایک طرف وہ طاقت ہوتی ہے جو لاشعور میں دبی اور چھپی یادوں اور باتوں کو شعور میں لانے کی کوشش کرتی ہے اور دوسری طرف وہ طاقت ہوتی ہے جو اس کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرتی ہے اور لاشعور میں چھپی اور دبی یادوں اور باتوں کو

Read more

سگمنڈ فرائڈ کے دوسرے لیکچر کی تلخیص اور ترجمہ

خواتین و حضرات! جب آسٹریا کے شہر ویانا میں ڈاکٹر جوزف برائر گفتگو سے نفسیاتی مریضاؤں کا علاج کر رہے تھے اور TALKING CURE متعارف کروا رہے تھے ان ہی دنوں فرانس کے شہر پیرس میں ایک ڈاکٹر شارکو بھی اسی طرح کی مریضاؤں کے علاج میں تحقیق کر رہے تھے۔ میں نے جب ڈاکٹر برائر کے ساتھ مل کر ہسٹیریا کے بارے میں مقالہ لکھا تو ہم نے شارکو کے تجربات و مشاہدات سے استفادہ کیا۔ اس مقالے میں

Read more

سگمنڈ فرائڈ کے پانچ لیکچر

سگمنڈ فرائڈ نے انیس سو نو 1909 میں امریکہ میں جو پانچ لیکچر دیے تھے اور انہیں جرمن زبان میں رقم کیا تھا۔ ان لیکچرز کا انگریزی ترجمہ انیس سو سترہ 1917 میں پہلی بار چھپا تھا۔ میں ان لیکچرز کا ترجمہ اور تلخیص آپ کی خدمت میں قسط وار پیش کرنا چاہتا ہوں۔ سگمنڈ فرائڈ کے تحلیل نفسی کے بارے میں پہلے لیکچر کی تلخیص اور ترجمہ خواتین و حضرات! یہ میرے لیے نیا اور حیران کن تجربہ ہے

Read more

اپنی دوست سکوگاگ جھیل سے سگمنڈ فرائڈ کی باتیں

آج کینیڈا میں موسم گرما کا پہلا دن ہے۔ سورج کی روشنی میں کسی مہربان کے جذبات کی گرمی موجود ہے۔ میں سکوگاگ جھیل سے ملنے آیا ہوں۔ یہ جھیل میری دیرینہ دوست ہے جو میرے گھر سے تیس میل شمال میں رہتی اور بہتی ہے۔ میں ہر سال گرمیوں کے موسم میں اس سے ملنے آتا ہوں اور اس کے قریب ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اس کے ساتھ ایک سہ پہر گزارتا ہوں۔ میں نے پچھلے چالیس

Read more

تنہا اور غیر شادی شدہ افراد کا مستقبل کیا ہے؟

ڈاکٹر خالد سہیل رضوانہ شیخ رضوانہ شیخ کا خط تسلیمات، ڈاکٹر خالد، امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ ہمارے درمیان سابقہ خط و کتابت کافی مثبت رہی ہے اور اس بنا پر لکھے گئے مضامین سے کئی لوگوں کو رہنمائی ملی ہو گی۔ کچھ دنوں سے میں ایک اور معاشرتی مسئلے پر غور کر رہی ہوں اور اس کے بارے میں پڑھ کر اور دیکھ کر افسوس بھی ہوا ہے۔ میرے ذاتی مشاہدے میں بھی یہ بات آئی

Read more

سپینوزا کا پرستار۔ آئزک سنگر کے افسانے کی تلخیص اور ترجمہ

( 1 ) ڈاکٹر نیہم فچلسن اپنے کمرے میں چہل قدمی کر رہے تھے۔ وہ کمرہ جس گھرکا حصہ تھا وہ وارسا کی مارکٹ سٹریٹ میں واقع تھا۔ ڈاکٹر فچلسن چھوٹے قد کے کبڑے سے انسان تھے۔ ان کی داڑھی سفید ہو رہی تھی اور سر کے بال غائب ہو رہے تھے۔ ان کی ناک کسی پرندے کی چونچ کی طرح مڑی ہوئی اور آنکھیں کسی جانور کی آنکھوں کی طرح بڑی تھیں۔ اگر چہ وہ گرمی کا موسم تھا

Read more

محبت بھری دوستی کی خوشبو

امیر حسین جعفری کا خط محترم خالد سہیل صاحب میری صحتیابی کے حوالے سے ’ہم سب‘ پر چھپی آپ کی تحریر نہ صرف قارئین کو پسند آئی بلکہ کسی سطح پر ان کی حیرت اور استعجاب کا باعث بھی قرار پائی اس استعجاب کا ایک سبب میرا خدا پرست ہونا بھی ہے۔ یقینآ ہماری دوستی شعر و ادب، انسان دوستی اور بائیں بازو کے نظریات، فلسفہ اور الہٰیات کے مطالعے کی بنیادوں پر استوار ہے۔ میرے والد جناب اختر حسین

Read more

امیر حسین جعفری کا جشن صحت

(نوٹ : یہ مضمون ایک سال پیشتر نو جون دو ہزار چوبیس کو کینیڈا کی فیمیلی آف دی ہارٹ کی ایک تقریب میں پڑھا گیا تھا۔ ) اگر آج میں اس کا چشم دید گواہ نہ ہوتا تو مجھے بالکل یقین نہ آتا کہ ذاتی منافقت اور عداوت اور ادبی چشمک اور رقابت کے اس دور میں اتنے زیادہ لوگ کسی شاعر سے نہ صرف ٹوٹ کر اتنی زیادہ محبت کر سکتے ہیں بلکہ اس محبت کا سب کے سامنے

Read more

انسانی ماؤں کا جذباتی آنول کو کاٹنا

ڈاکٹر سارہ علی کا ڈاکٹر خالد سہیل کو خط صبح کے دس گیارہ بجے کا وقت تھا میں اپنی واک اور ناشتے سے فارغ ہو کر اپنا لیپ ٹاپ کھول کر کام کر رہی تھی اور بہت الگ سا احساس ہونا شروع ہوا شاید اس لیے کہ میں اپنے جسم کی طرف زیادہ متوجہ تھی کیونکہ میں پریگننٹ تھی اور ایک ہفتہ پہلے ہی اپنے گائناکولوجسٹ سے چیک کروا کے آئی تھی اور اس نے مجھے آگاہ کیا تھا کہ

Read more

کیا فلسفی سپینوزا خدا کے منکر تھے؟

بارک سپینوزا ایک یہودی اور پرتگالی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ ان کے خاندان نے پرتگال سے ایمسٹرڈیم اس لیے ہجرت کی تھی کہ پرتگال میں یہودی ہونے کی وجہ سے ان کی جان خطرے میں تھی۔ سپینوزا 1632 میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ ابھی چھ برس کے ہی تھے کہ ان کی والدہ فوت ہو گئیں۔ چھ برس سے نو برس تک ان کی نانی نے انہیں پالا۔ اس کے بعد ان کے والد نے

Read more

ارسطو کی سائنس، سیاست اور نفسیات

بعض مورخین اور محققین کا موقف ہے کہ یونانیوں کو سقراط نے فلسفے کا اور ارسطو نے سائنس کا تحفہ دیا۔ ارسطو 384 BC یونان کے ایک متمول خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ جس ماحول میں پلے بڑھے وہاں طب اور فلسفے کے بارے میں سنجیدہ مکالمے ہوتے تھے۔ جب ارسطو کی عمر اٹھارہ برس تھی تو وہ ایتھنز چلے آئے تا کہ افلاطون کی اکیڈمی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔ وہ اتنے ذہین اور محنتی طالب علم تھے

Read more

کینیڈا کی مالٹن ویمن کونسل اور مہاجر خواتین کے نفسیاتی مسائل

کینیڈا میں عورتوں کی کامیابی اور خوشحالی، آزادی و خودمختاری کو فروغ دینے والے ادارے مالٹن ویمن کونسل نے اپنے تئیس مئی دو ہزار پچیس کے سیمینار میں مجھے دعوت دی کہ میں ان کے ساتھ اپنے تجربات اور مشاہدات پر مبنی اپنے خیالات کا اظہار کروں کیونکہ میں نے پچھلے دو سال ان کے ادارے کی نفسیاتی مسائل کا شکار مہاجر خواتین کا علاج کیا تھا اور ان کی مدد کی تھی۔ میں اپنے اس کالم میں اپنی تقریر

Read more

ڈاکٹر سنتوش کامرانی کا طلبا و اساتذہ کے لیے قیمتی ادبی تحفہ

ڈاکٹر خالد سہیل ڈاکٹر سنتوش کامرانی ڈاکٹر سنتوش کامرانی سے میرا تعارف کووڈ کی وبا کے دنوں میں ہوا جب ہم زوم پر گرین زون فلسفے کے سیمینار منعقد کر رہے تھے۔ میں شروع سے ہی ان کی قابلیت اور شخصیت سے متاثر تھا۔ دھیرے دھیرے وہ میرے دوست بن گئے۔ جب میں نے ان کے کالم ’ہم سب‘ پر پڑھے تو ان کی شخصیت کے ساتھ ان کی علمیت سے بھی متاثر ہونے لگا اور پھر ایک دن مجھے

Read more

افلاطون کی حیات اور خدمات

افلاطون نوجوانی میں ایک سپاہی تھے۔ وہ کئی جنگوں میں شرکت کر کے بہادری کے بہت سے تمغے بھی حاصل کر چکے تھے۔ سقراط سے ان کی ملاقات ہوئی تو ان کی زندگی بدل گئی۔ وہ ایک سپاہی سے ایک فلسفی بن گئے۔ وہ اپنے استاد سقراط سے اتنے متاثر تھے کہ انہوں نے کہا مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں سقراط کے عہد میں پیدا ہوا۔ تین سو ننانوے قبل مسیح میں جب سقراط نے زہر کا

Read more

کیا آپ مشرقی مردوں کی جنسی نفسیات سے واقف ہیں؟

رضوانہ شیخ کا سوال ’ہم سب‘ پر میرا کالم ’آپ نے محبت کی قوس قزح کے کتنے رنگ دیکھے ہیں‘ چھپا تو بہت سے قارئین نے میری رومانوی نفسیات کی کتاب منگوائی اور مجھے بہت سے کمنٹ اور سوال بھیجے۔ کمنٹ کرنے والوں اور سوال پوچھنے والیوں میں ایک رضوانہ شیخ تھیں جو میری ادبی دوست بھی ہیں اور ’ہم سب‘ کی ایک ذہین اور انسانی اور نسوانی حقوق کی پاسدار کالم نگار بھی۔ انہوں نے اپنے کمنٹ میں مجھے

Read more

سقراط کے نظریات، موت اور حیات جاوید

  سقراط یونان کے عظیم دانشوروں میں سے ایک تھے۔ وہ سادہ لباس، سادہ خوراک اور سادہ طرز زندگی گزارنے والے ایک درویش منش دانشور تھے۔ یونان کے نوجوان ہر گلی، ہر بازار اور ہر چوراہے پر انہیں گھیر کر ان سے مکالمہ کرتے تھے اور سقراط ان سے ایسے چبھتے ہوئے سوال پوچھتے تھے جن سے انہیں اپنی روایات اور اعتقادات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی تحریک ہوتی تھی۔ سقراط سے شہر کے سب نوجوان خوش تھے اگر

Read more

کیا آپ ایک اچھا تھراپسٹ بننے کے سات مشوروں سے واقف ہیں؟

جب میں نے نفسیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے کینیڈا کی میموریل یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور ایک پروفیسر نے ہماری کلاس کے تیرہ طلبا و طالبات سے پوچھا کہ آپ اس کلاس میں کیسے آئے؟ تو میں یہ جان کر حیران و ششدر رہ گیا کہ میں واحد طالب علم تھا جو بڑے ذوق و شوق سے وہاں آیا تھا اور ایک ماہر نفسیات بننا چاہتا تھا۔ باقی طلبا و طالبات میں سے کوئی انٹرنسٹ بننا چاہتا

Read more

انسان کی آزادی و خود مختاری کی نفسیات

انسان اپنی روزمرہ زندگی میں کچھ سوچتا ہے کسی کام کا ارادہ کرتا ہے اور پھر اس ارادے پر عمل کرتا ہے۔ انسان ارادہ کرتا ہے مجھے ناشتہ بنانا ہے مجھے کتاب پڑھنی ہے مجھے سیر کو جانا ہے یا مجھے اپنے دوست کو فون کرنا ہے اور پھر وہ اس سوچ اس خواہش اس ارادے پر عمل کرتا ہے عام لوگوں کو یہ عمل ایک سادہ عمل دکھائی دیتا ہے لیکن ماہرین بشریات و نفسیات جانتے ہیں کہ یہ

Read more

انسانی سائیکی : روح یا ذہن؟

انسانی تاریخ کا ایک وہ دور تھا جب سائیکی کا ترجمہ روح کیا جاتا تھا۔ اس عقیدے کا آغاز ایران کے زرتشتوں سے ہوا اور پھر مشرق وسطیٰ کے یہودیوں عیسائیوں اور مسلمانوں میں یہ عقیدہ مقبول ہو گیا۔ اس عقیدے کو ماننے والے یہ ایمان رکھتے ہیں کہ انسانی روح انسانی جسم سے علیحدہ اپنا وجود رکھتی ہے۔ وہ روح حمل کے دوران بچے کے جسم میں داخل ہوتی ہے ’ساری عمر اس کے ساتھ رہتی ہے اور موت کے

Read more

وکٹر فرینکل اور زندگی میں معنی کی تلاش

وکٹر فرینکل بیسویں صدی کے وہ واحد ماہر نفسیات ہیں جنہیں امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ اس نامزدگی کی وجہ ان کی کتاب MAN ’S SEARCH FOR MEANING تھی جس کا ترجمہ بیس سے زیادہ زبانوں میں ہو چکا ہے اور جس کی پچھلی نصف صدی میں ایک کروڑ سے زیادہ کاپیاں بک چکی ہیں۔ اس کتاب میں انہوں نے نہ صرف نازی کیمپوں میں اپنے تجربات بیان کیے ہیں بلکہ اپنے نفسیاتی طریقہ علاج

Read more

کیا آپ اپنی زندگی کو بامقصد اور بامعنی بنانا چاہتے ہیں؟

کینیڈا میں پچھلے چند سالوں میں مجھے کئی ایسے مریض ملے ہیں جنہوں نے مجھ سے یہ اعتراف کیا کہ ’میری زندگی بے مقصد ہے‘ ’میری زندگی بے معنی ہو گئی ہے۔ ‘ ’میری زندگی میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے‘ ان مریضوں کی خواہش تھی کہ میں ان کی زندگی کو بامعنی اور بامقصد بنانے میں ان کی مدد کروں۔ ان مریضوں سے تھراپی کے دوران میں نے ایک سوال نامہ تیار کیا اور وہ سوالنامہ اپنے دوستوں

Read more

ڈاکٹر بلند اقبال کی ادبی جرات رندانہ کو داد

افسانچہ۔ نئی محبتیں اور جب شادی کو بیس سال گزر گئے تو ایک رات عبدالجبار کو بستر پر آنکھ بند کرتے ہی خیال آیا، اف یار پھر وہی عورت؟ کیوں نہیں اس بار کوئی اور؟ آہ، کچھ تو منہ کا مزا بدلے، کم از کم ایک بار ہی سہی؟ یہ سوچتے ہی عبدالجبار کے خیالوں میں ایک کے بعد ایک دلربا خوش شکل حسیناؤں اور پرکشش جسموں کی یلغار ہونے لگیں، کیوں نہیں وہ والی حسینہ جو آفس میں کچھ

Read more

کینیڈی، کاسترو اور مانرو کی کہانی

جب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اجازت دی ہے کہ صدر کینیڈی کے اندوہناک قتل کے اسی ہزار صفحات، جو اب تک صیغہ راز میں تھے، عوام و خواص پڑھ سکتے ہیں، صدر کینیڈی کی شخصیت، ان کی کیوبا کے فیڈل کاسترو سے سیاسی رقابت اور ایکٹریس مارلن مانرو سے رومانوی محبت کے دلچسپ واقعات دوبارہ موضوع بحث بن گئے ہیں۔ جون ایف کینیڈی اس وقت امریکہ کے صدر بنے جب ان کی عمر صرف ترتالیس برس تھی اسی لیے

Read more

بیرسٹر عبدالحمید بھاشانی بھی جہان فانی سے کوچ کر گئے

امیر جعفری کا جب پیغام آیا کہ ہمارے مشترکہ دوست بیرسٹر بھاشانی بھی جہان فانی سے کوچ کر گئے تو میں چند لمحوں کے لیے ماضی کی بھول بھلیوں میں کھو گیا اور میرے ذہن کے نہاں خانوں میں چند یادیں سرگوشیاں کرنے لگیں مجھے وہ شام یاد ہے جب میرے کامریڈ دوست سید عظیم نے مجھ سے کہا تھا "میں ایک وکیل دوست سے ملنے گیا تھا۔ ان کا نام عبدالحمید بھاشانی ہے۔ میں سمجھا تھا وہ کمیونسٹ ہوں

Read more

نثری نظم کو گود لینے والے مسعود قمر بھی رخصت ہو گئے

مجھے سویڈن سے سائیں سچا اور فریدہ کے پیغامات آئے کہ ہمارے مشترکہ شاعر دوست مسعود قمر بھی رخصت ہو گئے۔ میری مسعود قمر سے آخری ملاقات بھی سائیں سچا اور فریدہ کے گھر میں ہی ہوئی تھی جب سائیں سچا نے ایک ادبی محفل کا اہتمام کیا تھا اور جن دوستوں کو دعوت دی تھی ان میں مسعود قمر بھی شامل تھے۔ جب میں نے اور عظمیٰ عزیز نے ان کی خدمت میں اپنی مشترکہ کتاب عزیز الحق: لاہور

Read more

ایک شاعرہ دو محبوب

کینیڈا کی مایہ ناز شاعرہ اسما ناز وارثی نے نہ صرف مجھے بڑی اپنائیت سے ڈنر اور ڈائلاگ کی دعوت دی بلکہ اپنی ذہین بیٹی زرین کو بھی بلایا تا کہ وہ بھی مجھ سے مل سکے۔ ڈنر کے دوران اسما وارثی نے مجھے اپنے شعری مجموعے سخن آئینہ کا ادبی تحفہ دیا تو اس کے پہلے صفحے پر نوشتہ تھا اپنے محترم دوست جناب ڈاکٹر خالد سہیل کے نام جن سے عقائد و خیالات میں بعد المشرقین ہونے کے

Read more

مزاح نگار مرزا یاسین بیگ سے سنجیدہ ادبی دوستی کی کہانی

ڈنر اور ڈائلاگ کینیڈا کے مایہ ناز مزاح نگار سے سنجیدہ ملاقات کی خواہش نے دل میں سرگوشی کی تو میں نے انہیں ان کے شہر مسی ساگا (جسے کینیڈا کے مشرقی مہاجرین مسز آغا کے نام سے پکارتے ہیں ) کے نروانا ریسٹورانٹ میں ڈنر اور ڈائلاگ کی دعوت دی جو انہوں نے بخوشی قبول کر لی۔ اس ڈنر کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ ہماری مشترکہ ادبی دوست شکیلہ رفیق کی مغفرت کی دعا کرنے کے لیے

Read more

کیا آپ بزرگوں کی صحت کے سات سوالوں سے واقف ہیں؟

مرزا غالب بڑھاپے کے بارے میں فرماتے ہیں مضمحل ہو گئے قویٰ غالب وہ عناصر میں اعتدال کہاں ہمارے کئی بزرگ دوست جو اب ساٹھ ’ستر اور اسی کی دہائی میں داخل ہو چکے ہیں وہ خود بھی اور ان کے دوست اور رشتہ دار عزیز و اقارب بھئی ان کی جسمانی ذہنی اور سماجی صحت کے بارے میں فکرمند رہتے ہیں۔ کچھ دوست چلنے پھرنے میں دشواری محسوس کر رہے ہیں کچھ دوست عزیزوں کے نام اور اپنے پسندیدہ

Read more

دو خوش قسمت شاعر: یزدانی جالندھری اور حامد یزدانی

دو دنیائیں ہم سب انسان دو دنیاؤں میں زندگی گزارتے ہیں۔ ایک خارج کی دنیا ایک داخل کی دنیا ایک باہر کی دنیا ایک اندر کی دنیا ایک حقائق کی دنیا ایک خیالوں کی دنیا حامد یزدانی اپنی تخلیق ”سوسن کے پھول“ کا تعارف کرواتے ہوئے رقم طراز ہیں : ’ باہر بھلے کوئی سا موسم ہو میرے اندر تو ہر دم ایک ہی رت کا ڈیرہ رہتا ہے۔ میں یادوں کے رنگا رنگ موسم میں بستا ہوں‘ حامد یزدانی

Read more

کیا ایک مذہبی اور لامذہبی انسان کی دوستی ممکن ہے؟

مجھ سے میرے ایک ہیومنسٹ دوست نے پوچھا ڈاکٹر سہیل! آج کل کے شدت پسندی ’بنیاد پرستی‘ تنگ نظری اور منتقم مزاجی کے دور میں کیا ایک مذہبی اور ایک لامذہبی ایک خدا کو ماننے والے اور ایک خدا کو نہ ماننے والے انسان کی دوستی ممکن ہے؟ میں نے کہا کیوں نہیں؟ اور میں نے انہیں اپنی اور رفیع مصطفیٰ کی برسوں کی دوستی کی مثال پیش کی اور انہیں رفیع مصطفیٰ کی تازہ ترین کتاب ”پوشیدہ کائنات“ دکھائی

Read more

کیا آپ مصنوعی ذہانت کے خلاف ہیں؟

سائنس نے چاقو بنایا ایک انسان نے اس چاقو سے سیب کاٹ کر اپنی بیٹی کو کھلایا دوسرے انسان نے اس چاقو سے اپنے دشمن کا گلا کاٹا سائنس نے قلم بنایا ایک انسان نے اس سے اپنی محبوبہ کے لیے محبت بھرا شعر رقم کیا دوسرے انسان نے اس سے اپنے رقیب کے لیے نفرت بھرا خط لکھا سائنس نے کار بنائی ایک انسان نے اس میں اپنے بچوں کو دنیا کی سیر کروائی دوسرے انسان نے اس میں

Read more

ارتقا کا سفر بہت سست رو ہے

ڈاکٹر شفاعت علی کا خط محترم و مکرم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب آداب! آپ سے میرا تعارف تو ”ہم سب“ کے ذریعے ہوا مگر میرے خود سے تعارف کے جاری سفر میں آپ کی تحاریر بشمول آپ کی کتب بلامبالغہ اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ آپ ایسی علم دوست اور انسان دوست شخصیت سے میری نسبت میرے لیے باعث مسرت اور فخر ہے۔ آپ کے تحریری الفاظ کی توسط سے تو آپ کے خیالات اور نظریات سے رابطہ رہتا

Read more

انسانوں کا بچگانہ سوچ سے بالغانہ سوچ کا ارتقائی سفر

انسانوں نے صدیوں میں بچگانہ سوچ سے بالغانہ سوچ کا ارتقائی سفر طے کیا ہے۔ ماہرین سماجیات اور ماہرین نفسیات نے اس سفر کے چند سنگ میلوں کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی جانا کہ وہ سفر جو انسانوں نے اجتماعی طور پر سینکڑوں ہزاروں سالوں میں طے کیا ہے وہی سفر انسان بچپن سے جوانی تک چند سالوں میں طے کر لیتا ہے۔ ماہرین نفسیات نے ہمیں بتایا کہ بچگانہ سوچ اور بالغانہ سوچ میں ایک بنیادی

Read more

فلسفے کے راز۔ پہلی قسط۔ ول ڈورانٹ

ول ڈورانٹ نے بیسویں صدی میں فلسفے کے ثقیل اور دشوار علم کو ساری دنیا کے عوام میں اسی طرح مقبول بنایا جس طرح سٹیون ہاکنگ اور کارل ساگن نے سائنس کے پیچیدہ علم کو عام فہم زبان میں عوام تک پہنچایا۔ میں نے جب ول ڈورانٹ کی سوانح کے بارے میں تحقیق کی تو مجھے پتہ چلا کہ وہ 1885 میں میساچیوسڑس امریکہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والدین کا تعلق کینیڈا کے کیتھولک فرنچ خاندانوں سے تھا

Read more

سچ کے رشتہ دار افسانہ

پچھلے چند مہینوں میں مجھے ایک بزرگ شہر میں کئی دفعہ نظر آئے لیکن ہر دفعہ وہ افسردہ و پریشان دکھائی دیے۔ ایک جمعرات کی صبح وہ ایک مندر کے باہر دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھامے بیٹھے تھے۔ ایک جمعے کی دو پہر وہ ایک مسجد کی دیوار کا سہارا لیے کھڑے تھے۔ ایک ہفتے کی سہ پہر وہ ایک سناگاگ کے باہر رو رہے تھے اور ایک اتوار کی شام وہ ایک گرجے کے باہر آنسو بہا رہے

Read more

سات دوست اور سات فلسفہ حیات

میں اپنے آپ کو ایک خوش قسمت انسان سمجھتا ہوں کیونکہ میرے بہت سے دوست ہیں۔ دلچسپی کی بات یہ ہے آج کے شدت پسند اور تنگ نظری کے دور میں بھی وہ دوست مختلف فلسفہ حیات رکھنے کے باوجود ایک دوسرے سے عزت سے پیش آتے ہیں۔ وہ بڑی خوش دلی سے مکالمے کرتے ہیں اور اختلاف الرائے کے باوجود ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرتے ہیں۔ وہ اختلاف رائے اور ذاتی دشمنی کے فرق سے واقف ہیں۔

Read more

کیا آپ کسی نفسیاتی یا سماجی بحران کا شکار ہیں؟

(رضوانہ شیخ کا خط) ڈاکٹر خالد سہیل صاحب، تسلیمات آپ سے کافی دنوں کے بعد رابطہ ہوا ہے۔ دراصل کچھ مصروفیت ایسی ہے کہ لکھنے اور پڑھنے کے لیے وقت نکالنا مشکل ہو رہا ہے۔ آج کل وقت کی کمی میرے لیے بھی پریشانی کا باعث ہے۔ آپ سے رابطے کا مقصد دراصل اپنے اور ہم سب کے قارئین کے لیے رہنمائی لینا ہے۔ ہم سب کو زندگی میں کئی بار ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب بہت

Read more

اپنی سوانح عمری ’سالک‘ کے قارئین کے نام

جب سے سانجھ کے پبلشر امجد سلیم منہاس نے بڑے اہتمام سے میری سوانح عمری ’سالک‘ شائع کی ہے اور کینیڈا میں اس کی تقریب رونمائی ہوئی ہے مجھے بہت سے دوستوں کے ادبی محبت نامے موصول ہوئے ہیں جن میں جہاں انہوں نے داد و تحسین کے پھول نچھاور کیے ہیں وہیں چند دلچسپ سوالات بھی پوچھے ہیں۔ میں اس کالم میں ان سوالات کے جواب دینے کی کوشش کروں گا۔ دوستوں نے پوچھا ہے کہ میں نے اپنی

Read more

دو راہا

وہ نجانے کب، کہاں، کیوں اور کیسے میری زندگی میں دبے پاؤں داخل ہو گئی مجھے کچھ خبر نہیں لیکن جب سے وہ میری زندگی میں آئی ہے میں کچھ حیران کچھ پریشان سی رہتی ہوں۔ اب مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میرے سینے میں ایک دل نہیں ایک پارہ ہے جو ہیجانی کیفیت میں رہتا ہے۔ شاید اسی لیے میری طبیعت بھی سیمابی ہوتی جا رہی ہے۔ میں کہیں چین سے نہیں بیٹھ سکتی۔ بیٹھوں تو تھوڑی دیر

Read more

ایک بہتر انسان بننے کے راز – ہما دلاور کا تکریمی سوالنامہ

محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب، آداب! آپ سے ملاقات ہونا بھی ایک عجیب سرشاری میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جیسے کوئی تھکن سے چور مسافر کسی شفاف چشمے پر جا رکے، جیسے کوئی بھٹکا ہوا راہرو منزل کے نرم سائے میں آ بیٹھے یا جیسے کوئی ٹوٹا ہوا خواب دوبارہ جڑ جائے۔ ڈاکٹر صاحب! آپ نے اپنے اخلاق کی ایسی آبیاری کیسے کی کہ مجھ جیسا مسافر، جس کے پاسپورٹ پر Red Zone کی مستقل شہریت کی مہر لگی ہوئی

Read more

ادب اور مکاتب فکر

افلاطون اور شاعر افلاطون نوجوانی میں جتنا شاعری کو پسند کرتے تھے بڑھاپے میں اتنا ہی ناپسند کرتے تھے۔ بیس برس کی عمر سے افلاطون جتنا اپنے استاد سقراط اور فلسفے کے قریب آتے گئے وہ اتنا ہی شاعری سے دور ہوتے چلے گئے۔ افلاطون شاعری سے اتنا دلبرداشتہ ہو گئے کہ انہوں نے یہ موقف اپنایا کہ ایک مثالی ریاست میں ہمیں نوجوانوں کو شاعری سے دور رکھنا چاہیے۔ افلاطون ایک فلسفی تھے اور فلسفے کو سچ اور دانائی

Read more

میرا ادبی نقطہ نظر

دو ادبی تکونیں جب میں ادب کے بارے میں اپنے خیالات، تصورات اور نظریات کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں دو تکونیں ابھرتی ہیں۔ ایک چھوٹی تکون اور اس کے باہر ایک بڑی تکون چھوٹی تکون کے تین کونے ہیں۔ ادیب، ادب اور قاری۔ ادب ادیب اور قاری کے درمیان ایک ادبی پل تعمیر کرتا ہے اور دو انسانوں کے درمیان ایک تخلیقی رشتہ قائم کرتا ہے۔ میری نگاہ میں یہ رشتہ بہت اہمیت، معنویت اور افادیت

Read more

کیا آپ کے دل میں بھی کوئی تعصب چھپا بیٹھا ہے؟

میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں بعض انسان دوسرے انسانوں سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟ انہیں کم تر کیوں سمجھتے ہیں؟ ان سے تعصب سے کیوں پیش آتے ہیں؟ پھر میں سوچتا ہوں کہ کوئی بچہ بھی تو متعصب پیدا نہیں ہوتا بچے تو ماں باپ سے محبت اور دوسرے انسانوں سے پیار کرتے ہیں۔ تو پھر یہ محبت پیار کرنے والے بچے نفرت اور تعصب کرنے والے انسان کیسے بن جاتے ہیں؟ تو کیا یہ کہیں ماحول کا اثر

Read more

شکیلہ رفیق کی یاد میں

شکیلہ رفیق بائیس جنوری دو ہزار پچیس کو ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئیں۔ وہ ایک حق گو انسان تھیں اور ایک مخلص دوست۔ ان کی افسانہ نگاری اور عصمت چغتائی سے ان کے انٹرویو کے بارے میں سب جانتے ہیں لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ کبھی کبھار شاعری بھی کرتی تھیں۔ میں ان کی یاد میں آپ کے سامنے وہ مضمون پیش کرتا ہوں جو میں نے ان شاعری کے حوالے سے لکھا

Read more

جنگ بندی اور امن کا قیام: عارضی یا دائمی؟

اسرائیلی افواج اور حماس کی جو جنگ 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہوئی تھی وہ پندرہ مہینوں کے بعد 19 جنوری 2025 کو اس وقت ختم ہوئی جب اسرائیل اور حماس کے نمائندوں نے امن کے معاہدے کے کاغذات پر دستخط کیے۔ اس معاہدے میں جو کردار امریکہ نے ادا کیا اسے امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے عہد اقتدار کے آخری ہفتے کی تقریر میں اس وقت بیان کیا جب ان کے دائیں طرف نائب صدر کملا ہیرس اور

Read more

کائنات کے راز ہائے سر بستہ

1۔ تعارف میری سیکرٹری مارسیلینا نے مجھے ایک خوش خبری سنائی ڈاکٹر سہیل آپ کے لیے نئے سال کا پہلا تحفہ آیا ہے وہ کیا تحفہ ہے اور وہ کس نے بھیجا ہے؟ میں متجسس تھا ڈاکیہ آپ کے لیے ایک پارسل لایا ہے اور وہ پارسل آپ کے ہم نام سہیل زبیری نے بھیجا ہے۔ پارسل کھولا تو اس میں سے جو کتاب نکلی اس کا نام کائنات: ایک حیرت کدہ تھا۔ اس کتاب کو سانجھ کے پبلشر امجد

Read more

کیا آپ آزادی کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں؟

جب میں آزادی کے بارے میں اپنے خیالات اور تجربات کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں بچپن کی وہ یادیں ابھرتی ہیں جب میں تین چار سال کا تھا۔ ان دنوں ہم کوہاٹ کے ایک بڑے سے گھر میں رہتے تھے اور میرے پاس ایک ٹرائیسکل تھی۔ جب میں گلی میں بچوں کے کھیلنے کی آوازیں سنتا تھا تو دروازے کے پاس جاتا تھا لیکن جب اس بڑے سے دروازے پر ایک بڑی سی زنجیر دیکھتا تھا

Read more

کیا آپ ذہنی تنہائی کا شکار ہیں؟

وہ میرے لیے اجنبی تھے لیکن میں ان کے لیے اجنبی نہ تھا۔ فون پر ان سے پہلی بار بات ہوئی تو کہنے لگے ’ میرا نام فرقان ہے۔ میری عمر پچاس برس ہے اور میں پاکستان میں رہائش پذیر ہوں۔ میں کافی عرصے سے آپ کے کالم اور کتابیں پڑھ رہا ہوں۔ میری دلی خواہش تھی کہ میں کبھی آپ سے بات کروں۔ میری خوش بختی کہ مجھے آج اس کا موقع مل رہا ہے‘ ’یہ تو آپ کی

Read more

ڈاکٹر جل ٹیلر کی سٹروک کی کہانی۔ دوسری قسط

ہسپتال میں علاج ڈاکٹروں نے میری تشخیص کے بعد مجھے میساچیوسٹ جنرل ہسپتال بھیج دیا۔ اس ہسپتال کی تیز روشنی سے میری آنکھیں چندھیا گئیں۔ مجھ سے بہت سے سوال کیے گئے جو مجھے سمجھ نہ آئے اس لیے میں ان کا جواب نہ دے سکی جی چاہتا تھا کہ نرسوں اور ڈاکٹروں سے کہوں کہ آہستہ آہستہ بات کرو اور لفظوں کو چبا چبا کر بیان کرو تا کہ میں کچھ سمجھ سکوں۔ جب میں حد سے زیادہ پریشان

Read more

جب مسیحا بیمار ہو جائے : ڈاکٹر جل ٹیلر کی سٹروک کی کہانی۔ پہلی قسط

تعارف ڈاکٹر جل ٹیلر ایک سائنسدان ہیں۔ وہ انیس سو چھیانوے میں یونیورسٹی میں پڑھا بھی رہی تھیں اور دماغ کے طبی اسرار و رموز پر تحقیق بھی کر رہی تھیں۔ ان کی دماغ میں دلچسپی اس وقت پیدا ہوئی تھی جب ان کے بھائی نے اپنا ذہنی توازن کھو دیا تھا اور ڈاکٹروں نے اس کی تشخیص شیزوفرینیا کی تھی۔ ڈاکٹر جل ٹیلر اپنی تحقیق سے یہ جاننا چاہتی تھیں کہ صحتمند دماغ اور ذہنی توازن کھونے والے دماغ

Read more

کیا آپ سزائے موت کے حق میں ہیں؟

کیا آپ سزائے موت کے حق میں ہیں؟ اور اگر حق میں ہیں تو کیا اس کی بنیاد آپ کے مذہبی اعتقادات ہیں سیاسی نظریات ہیں یا سماجی روایات؟ سزائے موت کی روایت صدیوں سے چلی آ رہی ہے۔ انسانی تاریخ میں مختلف ممالک اور معاشروں میں قانونی مجرموں یا مذہبی گنہگاروں کو موت کی سزا دینے کے مختلف طریقے تھے کہیں انہیں سنگسار کیا جاتا تھا کہیں انہیں سولی پر چڑھا دیا جاتا تھا کہیں ان کا سر قلم

Read more

پامسٹری کی کرامت

یہ واقعہ آج سے چالیس سال پہلے کا واقعہ ہے۔ کینیڈا میں چند سال گزارنے کے بعد جی میں خیال آیا کہ پاکستان کی سیر کی جائے اور اپنے عزیزوں، اپنے رشتہ داروں، اپنے پیاروں اور اپنے یاروں سے ملاقات کی جائے۔ اس وقت میرے پاس دو پاسپورٹ تھے۔ ایک پاکستانی اور ایک کینیڈین پاسپورٹ لیکن اتنا وقت گزرنے کی وجہ سے میرا پاکستانی پاسپورٹ ایکسپائر ہو چکا تھا۔ اب میرے پاس پاکستان جانے کے دو راستے تھے یا تو

Read more

موت، محبت اور مزاحمت کی نظمیں

مجھے لاہور کے دانشور اور سانجھ کے پبلشر امجد سلیم منہاس نے ایک ادبی تحفہ بھیجا ہے جو ساری دنیا کے مختلف ممالک کے بیس شاعروں کی ساٹھ نظموں پر مشتمل ہے۔ ان نظموں کے مجموعے کو پاکستان کی شاعرہ رمشا اشرف نے مرتب کیا ہے۔ انہوں نے امریکہ کے دو ہزار سترہ میں لکھاریوں کے بین الاقوامی پروگرام میں خود بھی شرکت کی تھی اور اس اینتھالوجی میں ان کی اپنی معنی خیز نظمیں بھی شامل ہیں۔ اس مجموعے

Read more

دل کے رشتے

کینیڈا میں مقیم لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی کے گریجوئیٹس نے چوبیس نومبر دو ہزار چوبیس کو اپنے سیمینار میں مجھے دعوت دی کہ میں ذہنی صحت کا انسانی رشتوں سے کیا تعلق ہے؟ کے حوالے سے اپنے خیالات و نظریات کا اظہار کروں۔ میں نے وہ دعوت بخوشی قبول کی۔ میں اپنی تقریر کا خلاصہ آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ (1) ایک ماہر نفسیات نے بستر مرگ پر لیٹے ایک ہزار مردوں اور عورتوں سے پوچھا آپ

Read more

فلسطین کے قومی شاعر: محمود درویش

اکیسویں صدی میں کرہ ارض پر سینکڑوں ریاستیں موجود ہیں جن میں ان گنت قومیں بستی ہیں۔ ان ریاستوں کے پرچم بھی ہیں اور قومی ترانے بھی اور ان قوموں کی اپنی مادری زبانیں بھی ہیں اور ان زبانوں میں لکھنے والے شاعر بھی۔ ان شاعروں میں سے ایک مقبول عام خوش قسمت قومی شاعر بھی کہلاتا ہے۔ دنیا کی دیگر قوموں سے جدا فلسطینی ایک ایسی قوم کے باشندے ہیں جن میں سے بعض کو شہر بدر اور بعض

Read more

حماس کے سپہ سالار یحییٰ سنوار

غزہ کی جنگ میں جو بے نام سپاہی بین الاقوامی خوش نامی اور بدنامی کی سیڑھیاں چڑھتے چلے گئے اور جنہوں نے آخری سیڑھی پر پہنچ کر فلسطین کی آزادی کے لیے اسرائیلی فوج سے جنگ کرتے ہوئے اپنی جان کی قربانی دے دی وہ حماس کے سپہ سالار یحییٰ سنوار تھے۔ حماس کی گوریلا جنگ لڑتے ہوئے وہ ایک متنازعہ فیہ شخصیت بن گئے تھے۔ اسرائیل اور امریکہ کی نگاہ میں وہ ایک خطرناک دہشت گرد فلسطینی تھے اور

Read more

فلسطین اور اسرائیل کی جنگ کی دردناک کہانی۔ دوسری قسط

ٹونی بلنکن کی اسرائیلی رہنماؤں سے ملاقات ۔ جنگ شروع ہونے کے پانچ دن بعد بارہ اکتوبر کو امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ ٹونی بلنکن اسرائیل پہنچ گیا اور سیدھا نیتن یاہو سے ملنے چلا گیا۔ نیتن یاہو بلنکن سے اکیلے ملنے کی بجائے بلنکن کو اپنے فوجی مشیروں سے ملوانے لے گیا۔ نیتن یاہو نے میٹنگ کا آغاز کرتے ہوئے پہلے بلنکن کا تعارف کروایا اور پھر کہا ہمیں امریکہ سے تین چیزیں چاہییں۔ اسلحہ۔ اسلحہ۔ اسلحہ بلنکن نے کہا۔

Read more

اسرائیل اور فلسطین کی جنگ کی دردناک کہانی (1)

ایک سنجیدہ جرنلسٹ سنی سنائی باتوں اور سوشل میڈیا پر بے پر کی اڑائی جھوٹی خبروں پر یقین نہیں کرتا۔ وہ تحقیق کرتا ہے، پیشہ ورانہ محنت اور ریاضت سے کام لیتا ہے، اپنے سب وسائل استعمال کرتا ہے، پس پردہ جو ہو رہا ہوتا ہے اس کو تلاش کرتا ہے، اصحاب بست و کشاد کے ڈھکے چھپے تضادات کی تہہ تک پہنچتا ہے، وہ مصلحت اور منافقت کے پردے چاک کرتا ہے، وہ کسی بھی واقعے ’حادثے یا سانحے

Read more

خیبر میڈیکل کالج پشاور میں داخلے کی کہانی

مجھے ایک دن اپنے نوجوانی کے دوست اور خیبر میڈیکل کالج کے کلاس فیلو ڈاکٹر لقمان کا فون آیا۔ کہنے لگے آپ دسمبر دو ہزار چوبیس میں پشاور آئیں تا کہ میڈیکل کالج کے ہم جماعتوں کی گولڈن جوبلی کے جشن میں شریک ہو سکیں۔ میں نے عرض کی کہ میں اسی سال مارچ میں پاکستان آیا تھا اگر مجھے اس جشن کا پہلے پتہ ہوتا تو میں اپنے پروگرام کو بدل لیتا۔ ڈاکٹر لقمان سے میں نے معذرت کی

Read more

سالک کی مختصر نہایت ہی مختصر سوانح عمری

ایک کیف تھا سرور تھا انبساط تھا بے قراری تھی وارفتگی تھی سرشاری تھی جی میں آئی کہ اپنی سوانح عمری لکھوں لیکن ایسی سوانح عمری جو منفرد ہو جداگانہ ہو ایسی سوانح عمری جیسی پہلے کسی نے نہ لکھی ہو۔ یہ دو ہزار سترہ کی بات ہے جب میری عمر پینسٹھ برس تھی اور مجھے اپنے پچھلے پچاس برس کی کہانی لکھنی تھی جب سے میں نے زندگی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کیا تھا۔ میں جانتا

Read more

کاملا ہیرس، امریکہ میں پرامن انتقال اقتدار اور پاکستان

امریکی الیکشن کے بعد دوستوں کی سیاسی بیٹھک ہوئی میں نے ان سے پوچھا آپ کے خیال میں کاملا ہیرس الیکشن کیوں ہاری ہیں؟ پہلے دوست نے کہا امریکہ میں الیکشن ہارنے کے لیے عورت ہونا کافی ہے دوسرے دوست نے جواب دیا عورت تو ہنری کلنٹن بھی تھی لیکن کم از کم وہ گوری عورت تھی کاملا ہیرس تو بیچاری انڈین نژاد عورت ہے تیسرے دوست نے مسکراتے ہوئے کہا وہ ابارشن کے حق میں ہے اسے تو عیسائی

Read more

ہوچی منہ: ایک انقلابی درویش

تحریر: ڈاکٹر خالد سہیل ترجمہ نجیب کاظمی ہوچی منہ جو بظاہر منحنی قد و قامت کے ناتواں سے انسان نظر آتے تھے مگر حقیقت میں اپنے سیاسی اور نظریاتی تیقن کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی مضبوط اعصاب کے مالک انسان تھے جنہوں نے بیک وقت بیسویں صدی کی دو سپر پاورز کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ انہیں اپنے عوام اور آدرشوں پر یقین کامل تھا انہیں بھروسا تھا کہ ویت نام نہ صرف آ زادی سے ہمکنار ہو گا بلکہ

Read more

گاندھی اور ٹیگور کی سماجی رفاقت اور نظریاتی رقابت کی کہانی

بیسویں صدی میں مشرق کی ان شخصیات کی فہرست میں، جو مغرب میں بہت مقبول ہوئیں، موہن داس گاندھی اور رابندرا ناتھ ٹیگور کے نام سنہرے حروف میں لکھے جائیں گے۔ گاندھی نے مارٹن لوتھر کنگ جونیر جیسے سیاسی رہنماؤں اور ایرک ایرکسن جیسے ماہرین نفسیات کو بہت متاثر کیا۔ ایرکسن نے گاندھی کی ذات اور نظریات پر ایک ضخیم کتاب مرتب کی جس کا نام GANDHI’S TRUTH ہے۔ رابندرا ناتھ ٹیگور وہ واحد ہندوستانی ادیب ہیں جنہیں اپنی نظموں کی

Read more

ڈرامہ نگار اور نقاد ظہیر انور کا ادبی تحفہ

آج ایک تحفہ موصول ہوا۔ ایک ادبی تحفہ جس کا نام ”بنگال میں اردو تنقید کی تاریخ“ ہے۔ میری نگاہ میں کتاب سے بہتر کوئی تحفہ نہیں جو ایک ادیب دوسرے ادیب کو بھیج سکتا ہے اور وہ بھی اپنی تخلیق کردہ کتاب اور وہ بھی ایسے دوست کی جو دوست ہی نہیں ہمراز و ہمزاد بھی ہو۔ میری خوش بختی کہ میں ظہیر انور کے تخلیقی سفر کا چار دہائیوں سے چشم دید گواہ ہوں۔ وہ ایک ہمہ جہت

Read more

میرؔ تقی میر: صاحب دیوان کی دیوانگی

ڈنمارک کے وجودی فلسفی سورن کرکیگارڈ نے ایک جگہ لکھا ہے، ”شاعر ایک ایسا دکھی انسان ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے داخلی کرب کا اظہار کرتا ہے تو اس کے درد و غم شعر و نغمہ میں ڈھل جاتے ہیں“ ۔ میر تقی میرؔ کا شعر ہے خوش ہوں دیوانگیِ میرؔ سے سب کیا جنوں کر گیا شعور میں وہ! جب ہم میرؔ تقی میرؔ کی داستان حیات کا نفسیات کے آئینے میں مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں احساس

Read more

خودکشی کا ارادہ کرنے والے شخص کی آخری امید

مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہیں جب میں ویک اینڈ پر بھی کلینک جا کر چند مریض دیکھا کرتا تھا۔ یہ وہ مریض تھے جو اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کی وجہ سے صرف و یک اینڈ کو مجھ سے ملنے آ سکتے تھے۔ ایک دن میں نے ابھی دو مریض ہی دیکھے تھے کہ میری کینیڈین سیکرٹری ڈینا نے مجھے بتایا کہ میں ایک پیغام سنوں جو میرے مریض جم نے کلینک کی آنسرنگ مشین پر چھوڑا تھا۔ وہ

Read more

جب بل نے خود کشی کرنے کی کوشش کی

میموریل یونیورسٹی کینیڈا میں ہمارے معزز و محترم پروفیسروں میں سے ایک ڈاکٹر یوجین وولف تھے جو انگلستان سے دو سال کے لیے کینیڈا تشریف لائے تھے۔ ڈاکٹر وولف ایک سائیکوتھراپسٹ تھے۔ انہوں نے جب گروپ تھراپی کا پروگرام شروع کیا تو انہیں ایک ایسے طالب علم کی ضرورت تھی جو ان کے ساتھ کام کرے۔ یہ میری خوش بختی تھی کہ انہوں نے تیرہ طلبا و طالبات میں سے مجھے چنا اور مجھے ان کے ساتھ دو سال کام

Read more

کیا آپ عورتوں کے اسقاط حمل کے حق میں ہیں؟

کینیڈا میں جب میں نفسیات کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میموریل یونیورسٹی نیوفن لینڈ آیا تو پہلے ہی دن میری ملاقات اپنے ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر ڈاکٹر جون ہونگ سے ہوئی۔ وہ مجھ سے بہت احترام سے پیش آئے اور مجھے اپنے ساتھ اپنے دفتر لے گئے۔ جب میں ان کے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا تو فرمانے لگے ’ڈاکٹر سہیل میں آپ کو کینیڈا میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ آج نو اکتوبر انیس سو ستتر ہے آپ یہاں چار سال

Read more

کیا آپ باچا خان کی خدمات سے واقف ہیں؟

جب ہم باچا خان کی خدمات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم ان کی سات دہائیوں پر پھیلی سماجی کاوشوں اور سیاسی کوششوں اور ان کی جماعت خدائی خدمتگار کی پختونوں کے لیے قربانیوں کو بڑی آسانی سے تین خانوں میں بانٹ سکتے ہیں۔ 1۔ باچا خان ایک سماجی رہنما 2۔ باچا خان تعلیم کے علم بردار 3۔ باچا خان ایک سیاسی لیڈر سماجی رہنما کی حیثیت سے باچا خان پختون سماج میں بہت سی مثبت تبدیلیوں کا محرک بنے۔

Read more

ہم اپنی دھرتی ماں کی چاہت کیسے بیچیں؟

1854 میں جب امریکی حکومت نے سرخ فام انڈین قبائل کو ان کی زمینیں بیچنے کی دعوت دی تو سوکوامش SQUAMISH قبیلے کے سردار چیف سئیٹل CHIEF SEATTLE نے مندرجہ ذیل جواب بھیجا: ، اے واشنگٹن کے سفید فام سردار! ہمیں پیغام آیا ہے کہ تم ہماری زمینیں خریدنا چاہتے ہو۔ تم نے اپنی دوستی کا ہاتھ بھی بڑھایا ہے۔ یہ تمہاری مہربانی ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تمہیں ہماری دوستی کی بہت کم ضرورت ہے۔ ہم تمہاری دعوت

Read more

مشتاق احمد یوسفی کا پہلا عشق

یوسفی نے اپنی پوری زندگی میں پانچ عشق کیے۔ ہو سکتا ہے اور بھی کیے ہوں لیکن ان کو صیغہ راز میں رکھا ہو جیسے بعض نیک اور پارسا لوگ اپنی دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کو صیغہ راز میں رکھتے ہیں کیونکہ وہ چھپ کر نکاح کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ یوسفی نے اپنی میوس سے اپنے پانچ عشقوں کا برملا اظہار اور اقرار کیا اور زندگی میں اپنے مزاحیہ خاکوں اور مضامین کے پانچ

Read more

نیتن یاہو کی اقوام متحدہ میں تقریر کا ترجمہ اور تلخیص

اقوام متحدہ میں ترکی کے صدر طیب اردگان کی تقریر: کیا فلسطینی بچے انسانی بچے نہیں ہیں؟ اقوام متحدہ میں اسرائیلی رہنما بنجامین نیٹن یاہو کی تقریر کے چند اقتباسات کا ترجمہ اور تلخیص صاحب صدر، خواتین و حضرات! میں اس دفعہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا کیونکہ میری قوم کو ایک بھیانک جنگ کا سامنا ہے لیکن جب میں نے اقوام متحدہ کے نمائندوں کی تقریریں سنیں جن میں جھوٹ بھی بولے

Read more

کیا فلسطینی بچے انسانی بچے نہیں ہیں؟

  (اقوام متحدہ میں ترکی کے صدر طیب اردگان کی تقریر کے چند اقتباسات کا ترجمہ اور تلخیص) صاحب صدر ’ریاستوں کے رہنما اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل۔ میں آپ سب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرنے کا موقع فراہم کیا۔ مجھے پوری امید ہے کہ یہ اجلاس ساری دنیا کے لیے امن اور خیر کی خبر لائے گا۔ مجھے اس اجلاس میں فلسطین

Read more

فیصلہ – فرانز کافکا کا افسانہ

وہ موسم بہار کی ایک اتوار کی صبح تھی اور ایک بیوپاری جارج بیڈیمین اپنے گھر کی پہلی منزل پر اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کا گھر ان خستہ حال گھروں میں سے ایک تھا جو دور سے اپنے حجم اور رنگ کی وجہ سے ایک جیسے ہی لگتے تھے۔ جارج اپنے ایک ایسے دوست کو خط لکھ کر فارغ ہوا تھا جو دیار غیر میں جا بسا تھا۔ اس نے بے خیالی میں خط کو لفافے میں

Read more

میری دو کمزوریاں: میٹھی چیزیں اور میٹھے لوگ

(1) میں اپنے دوستوں سے کہا کرتا تھا میری دو کمزوریاں ہیں۔ میٹھی چیزیں اور میٹھے لوگ اب میرے ڈاکٹر کوپلینڈ نے مجھے مشورہ دیا ہے کہ میں میٹھی چیزوں سے پرہیز کروں۔ اب میں اپنے دوستوں سے کہہ سکتا ہوں کہ میری ایک کمزوری کم ہو گئی ہے۔اب میری زندگی میں صرف ایسے میٹھے لوگ رہ گئے ہیں جو جانتے ہیں کہ میٹھے بول میں جادو ہے اور انسانی رشتوں کی چاشنی اسی جادو کی مرہون منت ہے۔ (2)

Read more

سات سال، سات سو کالم، سات کمائیاں

میرے لیے ’ہم سب‘ پر سات سالوں میں سات سو کالم لکھنے کا تجربہ ایک خوش آئند و خوش گوار تخلیقی و سماجی تجربہ تھا۔ میں جب ان سات سالوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں نے اس عرصے میں سات چیزیں کمائیں۔ میری پہلی کمائی یہ ہے کہ میں نے اپنی تخلیقات سے اپنے قارئین اور ناقدین کا اعتماد و اعتبار حاصل کیا۔ جب میں نے لکھنا شروع کیا تھا تو میرے قارئین

Read more

جسمانی طور پر بالغ، ذہنی طور پر نابالغ

تحریر: ڈاکٹر خالد سہیل / مقدس مجید مقدس مجید کا ڈاکٹر سہیل کو خط محترم ڈاکٹر خالد سہیل! امید کرتی ہوں کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں نے آپ کی تحریروں اور آپ کی ذات سے بہت کچھ سیکھا ہے اور جب بھی آپ کے سامنے اپنے ذہن میں ابھرتے سوالات رکھتی ہوں تو آپ کی رہنمائی مجھے اپنے اندر کی الجھن کو سلجھانے میں ہمیشہ مددگار ثابت ہوتی ہے۔ آج میں ایک اور سوال پوچھنا چاہتی ہوں جو

Read more

مذہب، جنس اور موت کے بارے میں چبھتے ہوئے سوالات

  محترمی و معظمی تنویر احمد صاحب! آپ پچھلے چند ہفتوں سے جس باقاعدگی سے مجھ سے سنجیدہ مکالمہ کر رہے ہیں اور زندگی کے اہم موضوعات کے بارے میں سوال پوچھ رہے ہیں ان سے تو یوں لگتا ہے جیسے آپ ایک فلاسفر بننا چاہتے ہیں۔ آپ کی گفتگو سے بالکل نہیں لگتا کہ آپ کی طبعی عمر صرف اکیس برس ہے۔ آپ نے مجھے چند سوال بھیجے ہیں۔ میں ان کے مختصر جواب دوں گا تا کہ "ہم سب”

Read more

کیا آپ دانشور شاعر احمد فقیہ کو جانتے ہیں؟

ایک شام ایک اجنبی کا محبت بھرا پیغام آیا۔ لکھا تھا میرا نام اعجاز احمد ہے۔ میرے انکل احمد فقیہ نے آپ کے لیے ایک ادبی تحفہ بھیجا ہے۔ اعجاز احمد میرے کلینک تحفہ دینے آئے تو ایک پیالی میں اپنے باغ کی چند موتیے کی کلیاں بھی دے گئے۔ ان کلیوں کی خوشبو نے میرے کلینک اور میرے دل کی فضا کو معطر کر دیا۔ احمد فقیہ کے تحفے کا بیگ کھولا تو اس میں سے ان کے تین

Read more

کیا مذہب ایک نفسیاتی بیساکھی ہے؟

مجھے ایک دن میری ایک کینیڈین مریضہ نینسی نے کہا، میں ساری عمر مذہبی نہ تھی۔ نہ تو میں بائبل پڑھتی تھی اور نہ ہی میں اتوار کو عبادت کے لیے گرجا جایا کرتی تھی لیکن جب سے میری والدہ فوت ہوئی ہیں میں دن رات اپنی والدہ کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں۔ وہ میری والدہ ہی نہیں میری دوست بھی تھیں۔ والدہ کی وفات کے بعد نینسی نے بائبل بھی پڑھنی شروع کی اور باقاعدگی سے گرجا بھی

Read more

لاہور کے ادبی درویش زاہد ڈار سے ملاقاتیں

محترمی و معظمی حامد یزدانی صاحب! میری آپ کے شہر لاہور کے کئی شاعروں ’ادیبوں اور دانشوروں سے بہت سی ملاقاتیں ہوئیں لیکن منیر نیازی کی ملاقات کی طرح اکثر اوقات وہ ملاقاتیں مختصر تھیں لیکن آج میں آپ کو ایک ایسی شخصیت کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جن سے میری اسی کی دہائی میں تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں اور میں انہیں ایک ادبی درویش سمجھتا ہوں۔ اس ادبی درویش کا نام زاہد ڈار ہے۔ اگر کوئی اردو کا ادیب

Read more

کچھ ہم جنس پسندی اور مذہبی اخلاقیات کی باتیں

پیارے درویش وجاہت مسعود! ہمارے بہت سے مشترکہ دوست ہمارے ادبی و سماجی محبت ناموں کو بڑے ذوق و شوق سے پڑھ کر محظوظ و مسحور ہوتے ہیں۔ سلیم ملک صاحب نے تو ان کے بارے میں ایک مزاحیہ کالم بھی لکھ ڈالا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ہم دونوں کو اب عورتیں لفٹ نہیں کرواتیں اس لیے ہم ایک دوسرے کو خط لکھتے ہیں۔ آپ نے نہایت رومانوی عاجزی و انکسار کا مظاہرہ کیا۔ اپنے بارے

Read more

قیلولے کے وقت

ریل گاڑی سرنگ سے نکلی اور کیلوں کے باغات میں سے گزرنے لگی۔ ریل گاڑی کے قریب ہی سڑک پر بیل گاڑیاں بھی چل رہی تھیں۔ ہوا مرطوب تھی اور انجن کا دھواں کھڑکی سے اندر آ رہا تھا۔ ریل گاڑی سے کچھ دور شہر کے دفاتر بھی دکھائی دے رہے تھے جن میں بجلی کے پنکھے چل رہے تھے۔ صبح کے گیارہ بج رہے تھے۔ ابھی سورج کی حدت میں شدت پیدا نہیں ہوئی تھی۔ ’کھڑکی بند کر لو‘

Read more

گارسیا مارکیز کی ذات، تخلیقات اور نظریات

لاطینی زبان کے مقبول، معزز اور معتبر ناول نگار گارسیا مارکیز کا نوجوانی کا خواب تھا کہ وہ ایک معرکتہ الآرا ناول لکھیں۔ انہوں نے کئی مختصر اور طویل کہانیاں رقم بھی کیں لیکن وہ اس لمحے کا انتظار کر رہے تھے جب ایک لکھاری کسی بڑی کہانی سے حاملہ بن جاتا ہے۔ وہ لمحہ اس وقت آیا جب گارسیا مارکیز اپنے خاندان کے ساتھ ایکاپولکو کے سفر پر روانہ ہو چکے تھے۔ سفر پر آگے بڑھنے کی بجائے وہ

Read more

مذہب اور سائنس کے پرستار

مصنف: خالد سہیل قدیر قریشی خالد سہیل کا قدیر قریشی کو خط محترمی و مکرمی قدیر قریشی صاحب! آپ جس ذوق و شوق سے سائنس کی خدمت کر رہے ہیں اس کا مجھے پہلے بھی تھوڑا سا اندازہ تھا لیکن آپ کا سائنسی محبت نامہ پڑھ کر میں اور بھی متاثر ہو گیا۔ آپ کی محنت، محبت اور ریاضت قابل رشک بھی ہے اور قابل صد تحسین بھی۔ قدیر قریشی صاحب! میں جب اپنے ان دوستوں کے بارے میں سوچتا

Read more

عورتوں کی حکومت اور سیاست

مصنف: ڈاکٹر خالد سہیل، ڈاکٹر سارہ علی ڈاکٹر خالد سہیل کا خط محترمہ و معظمہ سارہ علی صاحبہ! آپ نے فون پر گفتگو کرتے ہوئے مجھ سے عالمی سیاسی پس منظر میں عورتوں کی حکومت اور سیاست کے بارے میں میری رائے پوچھی ہے۔ میں آپ سے پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ نہ تو میں کوئی سیاسی لیڈر ہوں، نہ ہی سیاسی کارکن اور نہ سیاسی تجزیہ کار۔ عالمی سیاست کے بارے میں میری رائے طالب علمانہ، امن

Read more

فرانز کافکا کا نفسیاتی و رومانوی تجزیہ

فرانز کافکا کی شخصیت اتنی الجھی ہوئی تھی کہ اس نے ان کی تخلیقیت کو بھی پراسرار بنا دیا تھا۔ بیسویں صدی کے عالمی ادب کی تاریخ میں کوئی اور ایسا ادیب نہیں ملتا جس کا نام استعاراتی اہمیت کا حامل بن گیا ہو۔ اسی لیے انگریزی زبان میں جب کوئی تحریر یا صورت حال نہایت دشوار، پیچیدہ، گنجلک اور پریشان کن ہو تو کہا جاتا ہے کہ یہ KAFKAESKE ہے۔ ادب کی دنیا میں کافکا کا نام پراسراریت کا

Read more

درویش کی کٹیا کے نئے مہمان۔ نعیم اشرف

ڈاکٹر خالد سہیل درویش کی کٹیا میں جو درویش نئے مہمان بن کر آئے ان کا اسم گرامی نعیم اشرف ہے۔ نعیم اشرف نے دل کی باتیں سنیں بھی اور سنائیں بھی۔ انہوں نے جب مجھ سے ایک غزل سننے کی فرمائش کی تو میں نے عرض کیا ہماری ذات کے جب در کھلے ہیں کبھی اندر کبھی باہر کھلے ہیں ہمارے گھر میں وہ اپنائیت ہے یہاں آ کر کئی بے گھر کھلے ہیں بظاہر جو بہت ہی کم سخن

Read more

وجاہت مسعود کا ادبی تحفہ اور ایرانی شاعرہ فروغ فرخ زاد کا گناہِ پُرلذت

محترمی و مکرمی و معظمی وجاہت مسعود صاحب! آپ نے اپنے ادبی محبت نامے کا آغاز ابن انشا کی ایک خوبصورت نظم سے کیا تو مجھے بھی ان کی ایک ‘نظم فرض کرو’ کے چند اشعار یاد آ گئے۔ فرض کرو ہم اہل وفا ہوں ’فرض کرو دیوانے ہوں فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مچ کے میخانے ہوں فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ہم نے ڈھونڈے بہانے ہوں فرض

Read more

کیا آپ نوجوانوں کے لیے سائنسی خواب دیکھتے ہیں؟

مصنفین: ڈاکٹر خالد سہیل قدیر قریشی قدیر قریشی کے نام سائنسی محبت نامہ محترمی و معظمی قدیر قریشی صاحب! مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ انٹرنیٹ پر ”سائنس کی دنیا“ کے ساتھ ایک مدت سے وابستہ ہیں اور پاکستان کے نوجوانوں کو سائنسی سوچ سے متعارف کروا رہے ہیں۔ میرے دو اشعار ہیں حدیث کرب نہاں اب کرے بیاں کوئی سنائے جبر مسلسل کی داستاں کوئی ہمارے بچوں کی سوچوں پہ کب سے پہرے ہیں کہاں سے

Read more

گرین زون کا ایک اور مشترکہ خواب شرمندہ تعبیر ہو گیا

جب مجھے یہ خوش خبری ملی کہ میری اور ثمر اشتیاق کی مشترکہ کتاب "گرین زون کا فلسفہ: پرسکون زندگی کی طرف سات قدم” کراچی میں چھپ گئی ہے تو مجھے یہ محسوس ہوا جیسے گرین زون کا ایک اور خواب شرمندہ تعبیر ہو گیا ہو۔ جب سے میں نے ’ہم سب‘ پر نفسیاتی کالم لکھنے شروع کیے ہیں اس وقت سے بہت سے دوست مجھ سے گرین زون کی کتاب مانگتے تھے اور جب میں انہیں اپنی انگریزی کی

Read more

دانشور امبرٹو ایکو اور فاشزم کی نشانیاں

جب فاشزم کی تیزابی بارش حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے تو وہ عوام کو ہی نہیں خواص کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ لوگ بے بس اور مایوس ہونے لگتے ہیں۔ دانا وہ لوگ ہیں جو فاشزم کی موسلادھار بارش ہونے سے پہلے ہی دور سے آتے بادلوں کی نشاندہی کریں تا کہ عوام و خواص حفظ ما مقدم کے طور پر فاشزم کی روک تھام کے اقدام کر سکیں۔ بیسویں صدی میں

Read more

وجاہت مسعود کے نام محبت نامہ اور این سیکسٹن کی کہانی

قبلہ و کعبہ! مجھے آپ کے نظریات سے سو فیصد اتفاق ہے۔ انگریزی میں کہتے ہیں، WE ARE BOTH ON THE SAME PAGE۔ اور اس اتفاق رائے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم دونوں مکالمے، جمہوریت اور انسانی حقوق کا احترام کرتے ہیں اور ایک پرامن انصاف پسند معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں۔ اپنے تمام تر اتفاق رائے کے باوجود میں قدرے اختلاف کا پہلو اس لیے نکال لاتا ہوں تا کہ آپ سے ادبی مکالمے کا بہانہ ملے۔ میں

Read more

وجاہت مسعود کا ادبی محبت نامہ اور عورتوں کے مسائل

یہ میری خوش بختی ہے کہ وجاہت مسعود جیسے سنجیدہ دانشور اور تجربہ کار سماجی و سیاسی تجزیہ نگار نے میری ذات اور میرے نظریات کے حوالے سے نہ صرف ایک کالم لکھا ہے بلکہ مجھ ناچیز درویش سے ایک اہم سوال بھی پوچھا ہے۔ اس سوال سے یوں لگتا ہے جیسے ایک درویش دوسرے درویش سے سماجی مسائل پر مکالمہ کرنا چاہتا ہے۔ ’ہم سب‘ کے قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ وجاہت مسعود اور میرے انداز تحریر میں زمین

Read more

اپنی بہترویں سالگرہ پر اپنے دوستوں کے لیے ایک ادبی تحفہ

جب مجھ سے ایک روایتی اور مذہبی دوست نے پوچھا ڈاکٹر سہیل! کیسے مزاج ہیں؟ اور میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ زندگی ایک محبوبہ کی طرح مہربان ہے تو وہ خاموش ہو گئے۔ ان کی خاموشی پراسرار تھی۔ عین ممکن ہے ان کی زندگی میں جو محبوبہ آئی ہو وہ مہربان نہ ہو۔ اس نے ایک مشرقی اور روایتی محبوبہ کی طرح اپنے عشوہ و غمزہ و انداز و ادا سے بہت ظلم ڈھائے ہوں۔ ان کی محبوبہ

Read more

کیا آپ بھی نثری شاعری کے خلاف ہیں؟

ایک شام ہمارے عزیز دوستوں ہما دلاور، زبیر خواجہ اور ایڈن نے ہمیں اپنے گھر ڈنر کی دعوت دی۔ اس دعوت میں انہوں نے فیمیلی آف دی ہارٹ کے جن دیگر ممبران کو بھی مدعو کیا ان میں امیر حسین جعفری، سیمیں جاوید، عظمیٰ بنت عزیز، زہرا نقوی اور عسکری نقوی بھی شامل تھے۔ لذیذ کھانوں کے بعد ادبی گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا تو نثری شاعری پر آ کر رک گیا۔ ہما دلاور نے ہمیں بتایا کہ جب انہوں

Read more

منیر نیازی سے ایک یاد گار ملاقات

حامد یزدانی کے ادبی محبت نامے کا جواب محترمی و معظمی حامد یزدانی صاحب! آپ نے اپنے ادبی محبت نامے میں اپنے والد یزدانی جالندھری صاحب کے بارے میں مختصر مگر جامع تعارف رقم کیا ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ اس سے ’ہم سب‘ کے قارئین کو ان کی تخلیقات کا سنجیدگی سے مطالعہ کرنے کی تحریک و ترغیب ہوگی۔ یہ بات آپ کی مجھ سے بے پناہ محبت کی عکاس ہے کہ آپ کو مجھ میں اور اپنے

Read more

دیواروں پہ لٹکی تصویریں

میں نے جب پہلی دفعہ کینیڈا میں اپنے سائیکو تھراپی کلینک کی دیواروں پر قدرتی مناظر، جانوروں اور پرندوں کی تصویریں لٹکائی تھیں تو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ان کا کوئی تعلق نفسیاتی علاج سے بھی ہو سکتا ہے لیکن میری مریضہ نیٹیلی نے مجھے ان کے بارے میں نئے زاویے سے سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ویسے تو مجھے بچپن سے تصویریں اتارنے کا شوق تھا لیکن اس شوق میں اضافہ اس وقت

Read more

”صد رنگ“ میں ڈاکٹر خالد سہیل سے گفتگو (2)

آداب! آج ہماری ممتاز دانشور، شاعر، افسانہ نگار، ماہر نفسیات، سائنس دان، کالم نگار اور ادبی نقاد محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب سے دوسری نشست ہے۔ ڈاکٹر صاحب گزشتہ نشست میں جہاں پہ ہم نے گفتگو ختم کی تھی وہیں سے شروع کرتے ہیں۔ آپ نے نفسیاتی علاج کا جو طریقہ کار دریافت کیا ہے آپ اسے ‘گرین زون’ فلاسفی کہتے ہیں اور فرد کی جو بھی مختلف نفسیاتی کیفیات ہیں ان کو آپ نے سبز، پیلے اور سرخ رنگوں

Read more

امیر حسین جعفری کا جشن صحت

اگر آج میں اس کا چشم دید گواہ نہ ہوتا تو مجھے بالکل یقین نہ آتا کہ ذاتی منافقت اور عداوت اور ادبی چشمک اور رقابت کے اس دور میں اتنے زیادہ لوگ کسی شاعر سے نہ صرف ٹوٹ کر اتنی زیادہ محبت کر سکتے ہیں بلکہ اس محبت کا سب کے سامنے اظہار بھی کر سکتے ہیں۔ آج ریکسڈیل کمیونٹی سنٹر کا ہال بھرا ہوا تھا اور امیر حسین جعفری کے دوست اپنی تمام تر دلچسپیوں اور مصروفیتوں کو

Read more