حیدر آباد جیسے شہر میں مجھے بہت سے مقبرے اور سندھی ثقافت سے مزین عجائب گھر تو ملیں گے ہی لیکن ساتھ میں ایک منفرد طرز تعمیر کا حامل ایسا گھر بھی دیکھنے کو ملے گا یہ میں نے نہیں سوچا تھا۔ اگرچہ میں اپنے دوست جناب اکرم چھیپا صاحب کی تصاویر دیکھ چکا تھا لیکن اس جگہ کو خود جا کے دیکھنے کی خواہش تھی۔
بقیہ سندھ کی طرح حیدرآباد میں بھی ایک بڑا کاروباری طبقہ ہندو تھا جنہوں نے نہ صرف اس شہر کی تجارت بلکہ ثقافت اور طرز تعمیر پر بھی گہرا اثر ڈالا۔
عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ ہندو سیٹھوں اور تاجروں نے دل کھول کے اپنے اپنے ذوق کے مطابق اپنے مکان یا مندر بنوائے جو اس دور میں تعمیراتی شاہکار سمجھے جاتے تھے۔ پھر تقسیم کے بعد یہ سب ہم جیسے بے ذوق لوگوں کی جھولی میں آن گرے۔ حیدر آباد کا مکھی ہاؤس بھی انہی شاہکاروں میں سے ایک ہے۔
Read more